آخری چیز اس سلسلے میں یہ ہے کہ ہمیں اپنی تعلیم گاہوں کا پورا ماحول بدل کر اسلام کےاصول اور اسپرٹ کےمطابق بنانا ہوگا۔یہ مخلوط تعلیم،یہ فرنگیت کے مظاہر، یہ از فرق تا به قدم مغربی تہذیب و تمدن کا غلبہ،یہ کالجوں کےمباحثےاور انتخابات کے طریقےاگر یہ سب کچھ آپ کےہاں یوں ہی جاری رہے اور ان میں سےکسی چیز کو بھی آپ بدلنےکےلیےتیار نہ ہوں تو پھر ختم کیجیےاصلاح تعلیم کی ساری اس گفتگو کو،اس لیےکہ اس ذہنی و تہذیبی غلامی کےماحول میں ایک آزاد مسلم مملکت کےوہ باعزت شہری اور کارکن و کار فرما کبھی پروان نہیں چڑھ سکتےجنھیں اپنی قومی تہذیب پر فخر ہو، اور اس بےسیرتی کی آب و ہوا میں بھی اس مضبوط کردار کےلوگ پرورش نہیں پاسکتے،جو اصول اور ضمیر کےمعاملےمیں کوئی کچک کھانےکےلیےتیار نہ ہوں۔ یہ ماحول برقرار رکھنا ہوتو پھر ہمیں سرے سے یہ خیال ہی چھوڑ دینا چاہیے کہ یہاں ہمیں ایک ایمان دار اور با ضمیر قوم تیار کرنی ہے۔ آخر یہ کیا مذاق ہےکہ ایک طرف آپ خدا اور رسول ﷺ کےصریح احکام کی خلاف ورزی کر کےجوان لڑکیوں اور جوان لڑکوں کو ایک ساتھ بٹھاتے ہیں اور دوسری طرف آپ چاہتے ہیں کہ انھی لڑکوں اور لڑکیوں میں خدا کا خوف اور اخلاقی قوانین کا احترام پیدا ہو۔ایک طرف آپ اپنی تمام حرکات و سکنات اور اپنے پورے ماحول سے اپنی نئی نسلوں کے ذہن پر فرنگی تہذیب اور فرنگی طرز زندگی کا رُعب بٹھاتے ہیں اور دوسری طرف آپ چاہتےہیں کہ زبانی باتوں سے ان کے دلوں میں قومی تہذیب کی قدر پیدا ہو جائے۔ ایک طرف آپ اپنےمباحثوں میں روز اپنے نو جوانوں کو زبان اور ضمیر کا تعلق توڑنے اور ضمیر کےخلاف بولنے کی مشق کراتے ہیں اور دوسری طرف آپ چاہتے ہیں کہ ان کے اندر راست بازی اور حق پرستی پیدا ہو۔ایک طرف آپ ان کو وہ سارے انتخابی ہتھکنڈے اپنےکالجوں ہی میں برتنے کا خوگر بنا دیتےہیں، جنھوں نے ہمارے پوری سیاسی زندگی کو گندہ کر کےرکھ دیا ہے اور دوسری طرف آپ یہ امید رکھتےہیں کہ یہاں سے نکل کر وہ بڑےایمان دار اور کھرے ثابت ہوں گے۔ ایسے معجزات کا ظہور صریحاً محال ہے۔ اگر ہم اپنی قومی زندگی کو خرابیوں سے پاک کرنے کے واقعی خواہش مند ہیں تو سب سے پہلے ہمیں اپنے اسکولوں، کالجوں اور یونی ورسٹیوں کے ماحول کی تطہیر سے اس کا آغاز کرنا ہوگا۔
| کتاب | اسلامی نظام تعلیم |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |