اسلامی نظام تعلیم

رسم الخط

ان نقصانات کےمقابلےمیں آخر وہ کیا فوائد ہیں،جو رومن رسم الخط اختیار کرنےمیں نظر آتےہیں کہ ان کی خاطر ان نقصانات کو انگیز کر لیا جائے؟ اگر صرف یہ مقصود ہےکہ بنگلہ اور اردو دونوں کا ایک رسم الخط ہو جائےتو یہ عربی رسم الخط اختیار کرنےسےاچھی طرح حاصل ہوسکتا ہےکیوں کہ مشرقی پاکستان کےمسلمانوں کو قرآن کی خاطر یہ رسم الخط تو بہ ہر حال سیکھنا ہی پڑتا ہےاگر طباعت کی آسانیوں کی خاطر اس کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے تو یہ مقصد بھی خط رسخ سےبه آسانی حاصل ہو سکتا ہے۔ ایران، مصر، شام وغیرہ میں خط نسخ کی طباعت انتہائی ترقی پر پہنچ چکی ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ ہمارےہاں وہ کام یاب نہ ہو سکے۔اس کے ماسوا اگر کوئی فوائد ہیں تو وہ سامنے لائے جائیں ورنہ بہتر ہے کہ یہ بحث لپیٹ کر رکھ دی جائے۔ میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ اگر ملک میں کوئی استصواب عام کر دیا جائے تو اُردو خواں لوگوں کی آبادی میں ایک فی ہزار بھی مشکل سے ملیں گے ، جو رومن رسم الخط کے حق میں رائے دیں۔یہ تبدیلی عوام کی مرضی سے کبھی نہیں ہو سکتی۔ ہاں زبردستی کی جاسکتی ہے، جو اپنے اچھے اثرات کبھی نہیں چھوڑ کر جاسکتی۔

کتاب اسلامی نظام تعلیم
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

نامعلوم