آج مشرقی ممالک میں اور خصوصیت سے عالم اسلام میں ضبط ولادت کی تحریک کو بڑی تیزی کے ساتھ فروغ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مذہبی اور عقلی دونوں حیثیتوں سے اس پر زور وشور کے ساتھ بحث ہو رہی ہے اور فکر ونظر کے مختلف پہلو سامنے آ رہے ہیں۔ بحث کے مختلف پیار ہیں سے کسی کو اتفاق ہو یا اختلاف لیکن یہ حقیقت تو نا قابل انکار ہے کہ بحث و مباحثہ کے ذرایعه تلاش حق کا راستہ آسان ہو جاتا ہے اور دلائل کے ٹکراؤ سے صحیح بات تک پہنچنے کے غالب مواقع پیدا ہو جاتے ہیں۔ علمی مباحث کی سب سے بڑی افادیت ہی یہ ہے کہ وہ تلاش وجستجو کی راہوں کو منور کر کے فکر انسانی کے ارتقاء کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ سچا انسان وہ ہے جو اندھی تقلید کی پٹی ہوئی ڈگر اختیار کرنے کے بجائے خدا کی دئی ہوئی صلاحیتوں سے کام لے کر ایمانداری اور اخلاص کے ساتھ اپنا راستہ نکالتا ہے، دلیل کی زبان سے بات کرتا ہے اور تجربہ سے سبق سیکھتا ہے۔
بد قسمتی سے عالم میں ایک طبقہ ایسا پیدا ہو گیا ہے جس نے اپنی ذہنی اور فکری آزادی کو مغرب کی غلامی کے آستانہ پر قربان کر دیا ہے۔ جو اجتہاد کے بجائے یورپ کی اندھی تقلید اور نقالی کی روش اختیار کرتا ہے اور اپنے دماغ سے سوچنے کے بجائے مغرب کے روز مرہ پر آنکھیں بند کر کے عامل ہونا چاہتا ہے۔ تعصب، کورانہ تقلید اور اندھی نقالی محض اہل مذہب ہی کے ایک مخصوص طبقے میں نہیں پائے جاتے، یہ اوصاف جدید تعلیم و تہذیب پر فخر کرنے والے اصحاب میں بھی موجود ہیں اور مقدم الذکر گروہ سے کہیں زیادہ ہیں۔ یہ لوگ اجتہاد کا نام تو بڑے زور سے لیتےہیں ۔ مگر اس سے ان کا مقصود صرف یہ ہوتا ہے کہ اسلام کو کسی طرح مغرب کے سانچے میں ڈھالا جائے۔ حقیقی اجتہاد جس چیز کا نام ہے اس کی انہیں ہوا بھی نہیں لگی۔ یہ اپنے ذہن سے سوچنے کےبجائے مغرب کے ذہن سے سوچتے ہیں۔ مغرب کی زبان سے بولتے ہیں اور مغرب کے نقش قدم پر بے سوچے سمجھے رواں دواں ہیں۔ مغرب سے ہمیں کوئی عناد نہیں ہے۔ وہاں انھی چیزیں بھی ہیں اور بری بھی۔ اپنی آنکھیں کھول کر دیکھنا چاہیے اور اپنے ذہنوں سے کام لیتے ہوے مجتہدانہ بصیرت کے ساتھ اپنا راستہ خود نکالنا چاہیے۔ نقالی اور کورانہ تقلید کی روش ایک قوم کی ذہنی موت اور تمدنی ارتداد پر منتج ہوتی ہے۔
تقلید پر یورپ کی رضا مند ہوا تو مجھے کو تو گلہ تجھ سے ہے، یورپ سے نہیں
کر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت وہ کہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں پیرو!
دیکھے تو زمانے کو اگر اپنی نظر افلاک منور ہوں ترے نور کر سے خورشید کرے کسب ضیاء تیرے شرر سے ظاہر تری تقدیر ہو سیمائے قمر سے دریا متلاطم ہوں تری موج گہر نے شرمندہ ہو فطرت ترے اعجاز ہنر سے
اغیار کے افکار و تخیل کی گدائی! کیا تجھ کو نہیں اپنی خودی تک بھی رسائی؟
ضبط ولادت کے مسئلہ پر بھی بدقسمتی سے عالم اسلامی میں اس مقلدانہ اور مغرب زدہ ذہنیت کے ساتھ غور کیا جارہا ہے۔ ضرورت ہے کہ ہم مغرب کے رنگین شیشوں سے اپنی دنیا کو دیکھنے کےبجائے اسے اس کے حقیقی رنگ میں دیکھیں اور آزاد خیالی اور وسعتِ نظر کا ثبوت دیں۔ دلیل کےلیے ہمارا دل ہمیشہ کھلا ہو اور محض تعصب اور نقالی کے آگے ہم کسی قیمت پر بھی سپر نہ ڈالیں۔ اس لیے کہ "وہ جو نہ دلیل کو سنتا ہے اور نہ دلیل سے بات کرنا چاہتا ہے،متعصب اور کٹ حجتی ہے، اور جو دلیل کا مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتا در اصل غلام ہے، اور جو دلیل دینے کی صلاحیت ہی سےمحروم ہے وہ نبی اور احمق ہے۔“
ہماری خواہش ہے کہ مسلمان اس مسئلہ پر غلام ذہنیت کے بجائے آزادانہ طور پر غور کریں۔ہماری موجودہ پیشکش اسی سلسلہ کی ایک کوشش ہے۔
تحدید نسل کے موید آج کل اپنے استدلال کی بنیاد معاشی امور پر رکھتے ہیں اور آبادی کی کثرت سے پیدا ہونے والی معاشی وقتوں کے مقابلے کے لیے ضبط ولادت کی پالیسی تجویز کرتےہیں۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی جدید دنیا میں اس تحریک کا فروغ معاشی اسباب ہی سے ہوا ہے؟ تاریخ کے مطالعہ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ اسباب معیشت اور تحدید نسل میں قطعا کوئی تعلق نہیں رہا۔
ماہتھس (Malthus) نے آبادی کے مسئلہ کے معاشی پہلو کوضرور پیش کیا تھا اور آبادی کے اضافہ کو روکنے کا مشورہ بھی اس نے ضرور دیا تھا ( واضح رہے کہ ضبط ولادت کا مالتھس شدید مخالف تھا۔ وہ تو تحدید نسل کے لیے تجرد اور ازدواجی زندگی میں اخلاقی ضبط اختیار کرنے پر زور دیتا ) مگر اس کی زندگی میں اور اس کے بعد جو معاشی اور صنعتی انقلاب مغربی دنیا میں رونما ہوا اس نے حالات کو یکسر بدل دیا اور اس کی وجہ سے زندگی کا وہ رخ سامنے آیا جو ما نفس کی نگاہ سے اوجھل تھا۔ یعنی افزائش پیداوار کے لامحدود امکانات!
۱۷۹۸ء میں ہتھس نے وسائل کی قلت کا شوشہ اٹھایا تھا لیکن انیسویں صدی کی معاشی ترقیات کی روشنی میں اس کے بیان کیے ہوئے تمام خطرات پادر ہوا ثابت ہوئے۔
۱۸۹۸ء میں پورے سو سال بعد سرولیم کروئس، صدر برٹش ایسوسی ایشن نے پھر خطرے کی لکھنٹی بجائی اور کہا کہ ۱۹۳۱ ء تک پیداوار کی کمی خطر ناک ترین صورت اختیار کر لے گی اور انسانیت وسیع پیمانے پر قحط اور موت سے دو چار ہو گی لیکن ۱۹۳۱، میں دنیا قلت پیداوار کے بجائے کثرت پیداوار (Over Production) کے مسائل سے دو چار تھی۔ آبادی اور وسائل معاش کے متعلق آج تک جو بھی پیشین گوئیاں کی گئی ہیں ان کے بارے میں ایک ہی بات یقین سے کہی جا سکتی ہے- - - - اور وہ یہ کہ یہ ہمیشہ غلط ہی ثابت ہوئی ہیں۔
"بلاشبہ تاریخ اس (یعنی ماہتھس) نے پیش کردہ اندیٹوں کی توثیق کرنے سے انکاری ہے۔ دنیا کے کسی ایک ملک میں بھی ایسےحالات پیش نہیں آئے جن کی بنا پر اسے کثرت آبادی( Over Population )میں مبتلا سمجھا جا سکے۔ بلکہ کچھ حالتوں میں تو - - - مثلا جیسے فرانس میں - - - آبادی کا اضافہ بہت ہی سست رفتارے ہوا ہے۔ دوسرے ممالک میں اضافہ قابل ذکر ہے لیکن کہیں بھی یہ دولت کے اضافہ سے زیادہ تیز رفتار نہیں ہے_١
تاریخ کا بے اک مطالعہ اس تا قابل انکار حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ کسی بھی مغربی ملک میں نمبر ولادت کی پانی کو اس لیے اختیار نہیں کیا کیا کہ اس ملک میں، حاشی وسائل کی قلت تھی اور ملکی پیداوار آبادی کی روز افزوں ضرورتوں کے لیے ناکافی تھی۔ اس تحریک کی ترویج کا زمانہ ( انیسویں صدی کے نصف آخر سے بیسویں صدی کے اولین تھیں سال تک ) یورپ اور امریکہ کی معاشی ترقی اور اقتصادی خوشحالی کا زمانہ ہے۔ جو حضرات اس تحریک کو معاشی اسباب کی پیداوار سمجھتے ہیں وہ معاشی تاریخ سے اپنی ناواقفیت کا ثبوت فراہم کرتے ہیں ۔ مثلا مندرجہ ذیل اعداد و شمار اس افسانے کے طلسم کو اچھی طرح چاک کر دیتے ہیں کہ اس تحریک کی بنیاد معاشی ہے۔
____________________________________________________________________________ ملک زمانہ فی کس قومی پیداوار میں اضافہ ____________________________________________________________________________ انگلستان ۱۸٦۰ء تا ۱۹۳۸ء /٢٣١+ ____________________________________________________________________________ امریکہ ١٨٦٩ء تا ١٩٣٨ء /٣٨١+ ____________________________________________________________________________ فرانس ۱۸۵۰ء تا ۱۹۳۸ء / ١٣٥+ ____________________________________________________________________________ سویڈن ۱۸۶۱ء تا ۷۱۹۳۸ /٦٦١+ ____________________________________________________________________________
یہ اضافہ آبادی کے اضافہ کے ساتھ اور اس کے باوجود ہوا ہے۔ اسی طرح اگر آبادی کےاضافہ کو لینے کے بعد ان ممالک کی سالانہ رفتار ترقی دیکھی جائے تو وہ یہ تھی-
_________________________________________________________________________ ملک رفتار پیداوار میں سالانہ اضافہ _________________________________________________________________________ انگلستان % ٩ ء ٢+ _________________________________________________________________________ امریکہ % ٨ ء ٤+ _________________________________________________________________________ سویڈن % ٥ ء ٨+ _________________________________________________________________________ فرانس % ٥ ء ١+ _________________________________________________________________________
اس سے معلوم ہوا کہ ضبط ولادت پر یورپ میں اس زمانہ میں عمل ہوا جبکہ وہاں کا معیار زندگی بلند تھا اور اس میں اضافہ ہو رہا تھا اور ملکی پیداوار ہر سال تیزی کے ساتھ بڑھ رہی تھی۔دوسرے الفاظ میں اس زمانے میں کوئی معاشی خطرہ موجود نہ تھا اور اس تحریک کی کوئی حقیقی معاشی بنیاد نہیں پائی جاتی تھی۔ خود آج بھی دنیا کی صورت حال یہی ہے۔ ۱۹۴۸ء سے اب تک اور طاً غذائی پیداوار میں ۲۷ فیصدی سالانہ کا اضافہ ہو رہا ہے جو آبادی کے اضافہ کی رفتار سے دو گنا ہے۔ نیز اس زمانہ میں صنعتی پیداوار میں تقریباً ۵ فیصدی سالانہ کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ آبادی سے تین گنے سے بھی زیادہ ہے_١
اگر اس تحریک کی کوئی معاشی بنیاد نہ تھی تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کے فروغ کی اصل وجہ کیا تھی ۔ ہمارے خیال میں اصل وجہ معاشرتی اور تمدنی تھی۔ مغرب میں عورت اور مرد کی مساوات اور آزادانہ اختلاط کی بنیاد پر جو معاشرت قائم ہوئی تھی اس کا فطری اور منطقی تقاضا یہ تھا کہ ضبط ولادت کو فروغ دیا جائے تا کہ انسان حفظ نفس کی روش اختیار کرنے کے باوجود ان ذمہ داریوں سے بچ سکے جو فطرت نے مقرر کی ہیں۔ اقبال نے اس نکتہ کی طرف اشارہ کیا ہے جب وہ کہتا ہے:
مغرب کی تاریخ میں ضبط ولادت کا مسئلہ سر تا سر معاشرتی اور تمدنی حیثیت رکھتا ہے اور معیشت سے اگر اس کا کچھ تعلق ہے تو "بناؤ " کی نہیں "بگاڑ" ہی کی سمت میں ہے۔ اس لیے کہ عورت کی "تہی آغوشی" اور مرد کی "بیکاری" (n-employment ) کا بڑا قریبی تعلق ہےجسے لارڈ کینس، پروفیسر جیسن اور پروفیسر کول بینے محققین نے جدید معاشی مباحث میں واضح کیا ہے-
جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے ضبط ولادت کی نہ کوئی معاشی بنیاد پہلے تھی اور نہ آج ہے۔مغرب میں اس کا فروغ معاشرتی اور تمدنی وجوہ سے ہوا اور آج مغرب جن مقاصد کے لیے اس کی ترویج کر رہا ہے وہ اصلا سیاسی ہیں۔
تاریخ کا ہر طالب علم اس امر سے واقف ہے کہ کثرت آبادی کی سیاسی اہمیت بڑی بنیادی ہے۔ ہر تہذیب اور ہر عالمی قوت نے اپنے تعمیری اور تشکیلی دور میں آبادی بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ مشہور مؤرخ ول ڈورانٹ (Will Durant) اسے تہذیبی ترقی کا ایک اہم سبب قرار دیتا ہے۔ آرنلڈ ٹائن بی (Amold Toynbee) بھی کثرت آبادی کو ان اساسی چیلنجوں (Challengers) میں سے ایک قرار دیتا ہے جن کے جواب میں ایک تہذیب کا نشو وار تقا بروئے کار آتا ہے۔ تاریخ کی ان تمام اقوام نے جنہوں نے کوئی عظیم کارنامہ انجام دیا ہے، ہمیشہ تکثیر آبادی کی روش اختیار کی ہے۔ اس کے برعکس زوال پذیر تہذیبوں میں آبادی کی قلت کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ آبادی کی قلت بالآخر سیاسی اور اجتماعی قوت کے اضمحلال پر منتج ہوتی ہے اور وہ قوم جو اس حالت میں گرفتار ہو جائے آہستہ آہستہ گمنامی کے غار میں جا گرتی ہے۔ تہذیب کے جتنے بھی قدیم مراکز ہیں ان سب کی تاریخ اس حقیقت پر گواہی دیتی ہے۔
____________________________________________________________________________ ١- بحوالہ اے۔ زمرمین (A.Zimmerman) مقالہ اور پاپولیشن (Over-Population) در رساله (What's New) شوکا گو۔ اشاعت نمبر ۲۱۱۔ اسپر رنگ ۱۹۵۹ .
"آبادی میں عظیم اضافہ ایسا اضافہ جو بے ضبط و بے لگام تھا - - - - یورپ کی آبادی کے اس دھما کہ خیز اور غیر معمولی اضافے (Population Explosion) کی وجہ سے ملک میں نئی صنعتی معیشت کو چلانے کے لیے کارندے مل جانے کیلئے مہاجر (Emmigrants) اور ایسے سپاہی اور کار فرما ملے جو دور دراز کے علاقوں میں پھیلی ہوئی اس سلطنت کی سر براہی کر سکیں جس کے دائرہ میں دنیا کے کل رقبہ کا نصف اور کل آبادی کا ایک تہائی تھا_١
پروفیسر اور گانسکی کا خیال ہے کہ دنیا کے تمام ہی ممالک میں سب سے اچھی حالت اس ملک کی رہی ہے جس میں آبادی زیادہ ہو اور اس دور میں رہی ہے جب آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہو ۔
____________________________________________________________________________ ١-(Organski. Albrano E.K. "Population and Politics in Europe, Science Magazine, American Association of the Advancement of Science. vide Loory Stuart II. Population Explosion. Dawn Karachi July 17, 1961.)
"اہل برطانیہ نے بلند ہمتی کے ساتھ ماتھس کی باتوں کو سننے سےانکار کر دیا۔ اگر وہ ہاتھس کے آگے جھک جاتے تو آج برطانیہ بس اٹھارویں صدی کی طرز کی ایک چھوٹی سی زرعی قوم ہوتا۔امریکہ اور برطانوی دولت مشترکہ کے نشو و ارتقاء کا تو کوئی سوال ہی نہ تھا۔ پیمانہ کبیر کی صنعت کے فطری معاشی تقاضے وسیع طلب، بڑی منڈی اور نقل و حرکت کا ایک مؤثر نظام ہیں جو ایک عظیم اور بڑھتی ہوئی آبادی ہی کی صورت میں قابل حصول ہیں_١
اس وقت، نیا میں آبادوں کی تقسیم کچھ اس طرح ہے ایشیا اور عالم اسلام آبادی کے سب سےبڑے مراکز ہیں۔ ان حصوں کے مقابلے میں مغربی ممالک کی آبادی کم ہے اور آبادی کےرجحانات صاف بنارہے ہیں کہ مستقبل میں ان کے تناسب میں مزید کمی واقع ہوئی۔ گزشتہ پانچ سو سال سے مغرب کی سیاسی قیادت دیا ادق کی بنیا ، وہ سائنس اور میکانکی بررسی تھی جو اس شرقی ممالک پر حاصل تھی اور جس کی وجہ سے اس نے آبادی کی کمی کے باوجود اپنی سیاسی نگرانی قائم کرلی بلکہ استعمار کے اولیں دار نے اس ناہی نہی کو جنم دیا کہ کم آبادی کے باوجود مغرب مستقلاً اپنا تسلط قائم رکھ سکتا ہے لیکن بارات اور نئے حقائق نے اس نام نیمی نے طلسم کو چاک کر دیا ہے۔
مغربی اقوام کی آبادی کے مسلسل کم ہونے سے ان کی سیاسی طاقت میں بھی انحطاط آنا شروع ہوا اور پہیلی بانگ کے بعد یہ احساس عام ہو کیا کہ تحدید نسل کا مسلک سیاسی اور اجتماعی یثیت سے بڑا مہنگا پڑ رہا ہے۔ فرانس نے اپنی عالمی پوزیشن آہستہ آہستہ کھودی اور مارشل پتیاں نے دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر کھلم کھلا اس امر کا اعتراف کیا کہ فرانس کے زوال کا ایک بنیادی بڑا سبب بچوں کی کمی (Too Few Children) اور آبادی کی قلت ہے۔ انگلستان اور دوسرے ممالک پر بھی اس کے اثرات پڑنے شروان ہوئے اور ان نتائج کو دیکھ کر سویڈن ، جرمنی،فرانس،انگلستان اور اٹلی ، ان تمام ہی ممالک نے اپنی پالیسی پر نظر ثانی شروع کی۔ اب حالت یہ ہے کہ ان تمام ممالک میں آبادی کو کم کرنے کے بجائے آبادی بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہےلیکن ہر ممکن کوشش کے باوجود مغرب یہ توقع نہیں رکھتا کہ وہ اپنی آبادی کو اتنا بڑھا سکے گا کہ وہ اپنےسیاسی وقار کو قائم رکھ سکے اور عالمی سیادت کا تاج بدستور پہنے رہے۔ اسے صاف نظر آ رہا ہے کہ آبادی کو بڑھا کر بھی وہ مستقبل میں مشرق اور عالم اسلام کا مقابلہ نہ کر سکے گا۔
"اب اس کا کوئی امکان نہیں کہ شمالی ، مغربی یا وسطی یورپ کی کوئی قوم دنیا کو پھر چیلنج کر سکے۔ جرمنی دوسری یورپی اقوام کی طرح اس دور سے گزر چکا ہے جب وہ دنیا کی غالب طاقت بن سکے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اب فنی اور تکنیکی تہذیب ان ممالک میں بھی پہنچ رہی ہے جن کی آبادی بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔“
دراصل یورپ کی سیاسی قیادت کو بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں ایشیا اور عالم اسلام کی بڑھتی ہوئی آبادیوں سے شدید سیاسی خطرہ ہے۔ امریکی رسالہ ٹائم (Time) اپنی ١١ جنوری ۱۹۶۰ء کی اشاعت میں لکھتا ہے:
"کثرت آبادی (Over Population) امریکہ اور یورپی اقوام کی تمام بوکھلاہٹ اور ان کے سارے وعظ و نصیحت در اصل بڑی حد تک نتیجہ ہیں ان سیاسی نتائج و اثرات کے احساس کا جو نئے حالات اور ایشیاء، افریقہ اور لاطینی امریکہ کی آبادی کے بڑھنے اور غالب اکثریت حاصل کر لینے کی بناء پر متوقع ہیں _٢ ،،
" گذشتہ پچاس سال میں دنیا کی آبادی دو گئی ہو گئی ہے جس کی وجہ سے تمام دنیا کے معاشی اور عسکری توازن (Balance of Economic & Military Power ) پر ایک شدید بار (Strain) پڑ رہا ہے_٣"
"ایک نئے قسم کا سامراج ہے جس کا مقصد غیر ترقی یافتہ اقوام کو پست تر کرنا ہے- - - - خصوصیت سے سیاہ فام نسلوں کو - - - سفید فام نسلوں کی بالا دستی قائم رہے ہے_٤"
ہم مغربی مفکرین کی ایسی بے شمار تحریرات پیش کر سکتے ہیں،مگر آنکھیں کھولنے کے لیے نہیں چند شہادتیں کافی ہیں۔اس پوری بحث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مستقبل میں مناسب فوت ان ممالک کو حاصل ہوگی جن کی آبادی زیادہ ہےاور جونئی تکنیک سے بھی آراستہ ہیں۔اب اس کا تو کوئی امکان نہیں کہ نئی تکنیک سے ان ممالک کو محروم رکھا جائے۔ اس لیے مغربی سیادت و قیادت کو قائم رکھنے والی صرف ایک ہی چیز ہو سکتی ہے اور وہ ہے ان ممالک میں ضبط ولات اور تحدید نسل - یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک خود تو آبادی بڑھانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ، مگر مشرقی ممالک میں یہی اقوام پراپیگنڈے کی بہترین قوتوں کو استعمال کر کے ضبط ولادت کا پر چار کر رہی ہیں_١ اور بہت سے سادہ لوح مسلمان ہیں جو خود پیش قدمی کر کے اس جال میں پھنس رہے ہیں۔
لیکن اب بلی تھیلے سے باہر آ چکی ہے ! اگر اب بھی ہم نے دھوکا کھایا تو نتائج کی ذمہ داری خود ہم پر ہوگی اور ہمارے وہی ہمدرد جو آج پوری شفقت کے ساتھ ہمیں خاندانی منصوبہ بندی کا درس دے رہے ہیں کل ہماری کمزوری سے فائدہ اٹھا کر ہم پر اپنا کامل تسلط قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس خطرے کو علامہ اقبالؒ نے بہت پہلے محسوس کر لیا تھا اور ملت اسلامیہ کو تنبیہ کی تھی کہ اس سے ہوشیار ر ہے۔ ان کے یہ الفاظ آج بھی ہمیں دعوت فکر و عمل دے رہے ہیں:
"عام طور پر اب ہندوستان میں جو کچھ ہو رہا ہے یا ہونے والا ہے وہ یورپ کے پرو پیگنڈے کے اثرات ہیں۔اس قسم کے لٹریچر کا ایک سیلاب ہے جو ہمارے ملک میں بہہ نکلا ہے۔ بعض دوسرے وسائل بھی ان کی تشویش و ترویج کے لیے اختیار کیے جارہے ہیں۔ حالانکہ ان کےاپنے ممالک میں آبادی کو کھٹانے کے بجائے بڑھانے کی تدبیریں کی جا رہی ہیں۔ اس تحریک کی ایک بڑی غرض میرے نزدیک یہ ہے کہ یورپ کی اپنی آ یا اس کے اپنے پیدا کر دہ حالات کی بناء پر ، جو اس کے اختیار واقتدار سے باہر ہیں، بہت کم ہو رہی ہے اور اس کے مقابلے میں مشرق کی آبادی روز بروز بڑھ رہی ہے اور اس چیز کو یورپ اپنی سیانی ہستی کے لیے خطرہ عظیم سمجھتا ہے ہے۔
آبادی کی دفاعی اہمیت کے متعلق ہم مختصر اشارات کر چکے ہیں۔ پروفیسر اور گانسکی نے بڑی کچی بات کہی ہے کہ طاقت زیادہ اسی بلاک کے پاس ہوگی جس کے پاس افراد زیادہ ہوں ۔ جن لوگوں کی نگاہ حربی ترقیات پر ہے وہ اس امر سے واقف ہیں کہ ایٹمی ہتھیاروں کے بعد کثرتِ افواج اور کثرت آبادی کی دفاعی اہمیت پہلے سے بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جنگ میں آلات کے مقابلے میں انسان کی اہمیت کم ہورہی ہے اور انسانی قوت غیر موثر بنتی جارہی ہے۔ لیکن اب اس خیال کی صحت پر کم ہی لوگ اعتماد کرتے ہیں ۔ آخر کوریا کی جنگ میں چین نے محض عددی کثرت ہی کی وجہ سے امریکہ کے بہترین ہتھیاروں کو بے اثر کر دیا تھا۔ خود امریکہ کی نئی فوجی تنظیم میں بری فوج اور گوریلا فوج کو از سر نو فروغ دیا جارہا ہے۔ اس لیے آبادی کے مسئلہ پر دفاعی نقطہ نظر سے بھی غور بے محل نہ ہو گا۔
خالص دفاعی نقطۂ نظر سے پاکستان کی حیثیت بتیس دانتوں کے درمیان ایک زبان کی سی ہے۔ ہمارے ملک کے ایک طرف ہندوستان ہے۔ جس کی آبادی ہم سے پانچ گنا زیادہ ہے اور جس سے ہمارے تعلقات مختلف وجوہ کی بناء پر بڑی نازک حالت میں ہیں۔ دوسری طرف روس ہے جو عالمی اشتراکیت کے فروغ کے لیے اپنی سیاسی اور فوجی قوت برابر استعمال کر رہا ہے، نیز جس کی آبادی ہم سے تین گنا زیادہ ہے۔ تیسری طرف چین ہے جو ایشیا میں برابر اپنے دائرے کو وسیع کر رہا ہے اور جس کی آبادی ہم سے آٹھ گنا زیادہ ہے ۔ ان تینوں کی نگا میں ہمارے اوپر لگی ہوئی ہیں اور جس نظر سے یہ ہمیں دیکھ رہے ہیں اسے اچھی نظر نہیں کہا جا سکتا۔ ایسے حالات میں ہمارے دفاع کا حقیقی تقاضا کیا ہے؟ آیا یہ کہ ہم آبادی کو کم کر کے اپنی قوت کو اور بھی مضمحل کر لیں یا یہ کہ ہر ممکن ذریعے سے اپنے کو اتنا قومی اور موثر بنا لیں کہ دوسرا ہماری طرف بری نگاہ ڈالنے کی ہمت بھی نہ کر سکے؟
اسی طرح اگر پورے عالم اسلام کے نقطۂ نظر سے غور کیا جائے تو یہ حقیقت نا قابل انکار ہےکہ ہمیں تین بڑے خطرے درپیش ہیں۔ اولا ابھی ہماری جنگ مغربی استعمار سے ختم نہیں ہوئی ہے، یہ لڑائی صرف ایک نئے دور (Phase) میں داخل ہو گئی ہے۔ سوئیز اور بزرٹا کے واقعات اس بات کی یاددہانی کراتے ہیں کہ اس دنیا میں کمزور کے لیے کوئی مقام نہیں اور عالم اسلام کے اہم مقامات ابھی پوری طرح محفوظ نہیں ہیں۔ اگر ہم اپنا سر بلند رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی سیاسی اور حربی قوت کو بہت بلند معیار پر رکھنا ہوگا۔
ثانیاً ہمارا بہت بڑا مسئلہ اسرائیلی استعمار ہے۔ اسرائیل اپنی آبادی کی کثرت اولا د اور انتقال آبادی کے ذریعہ برابر بڑھانےکی پالیسی پر عامل ہے۔پوری دنیا کا یہودی سرمایہ اس کی پشت پر ہےاور فوجی اور عسکری حیثیت سے دو ہر دم اپنی طاقت کو بڑھا رہا ہے۔ اس کے مقابلے کے لیے بھی پورے عالم اسلام کے مسلمانوں کو ہر وقت تیارربنا چاہیے۔
ثالثا، اشترا کی استعمار ہے جو متعدد مقامات پر عالم اسلام سےٹکر لینے کی تیاری کر رہا ہے۔ایران، پاکستان ، عراق اور ترکی کی سرحدوں پر خصوصیت سے اس کا دباؤ بہت زیادہ ہے اور اگر اسطرف سے ذرا بھی آنکھیں بند کی گئیں تو خدا نخواستہ ہمیں وہ نقصان اٹھانا پڑے گا جس کی تلافی ممکن نہ رہے گی ۔
ان حالات میں ہمارے لیے آبادی کی دفاعی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے اور عالم اسلام کو محض مغرب کی اندھی نقالی میں کوئی ایسی روش اختیار نہ کرنی چاہیے جو اس کے لیے ملی خودکشی کے مترادف ہو۔
پھر خود مغربی اقوام کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ مشرقی فرنٹ پر عالم اسلام اس کے اور اشتراکیت کے درمیان حائل ہے۔ پورا اشترا کی بلاک آبادی کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ روس اور چین دونوں خصوصیت کے ساتھ تکثیر آبادی کی پالیسی پر عامل ہیں اور اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ اپنی موجودہ آبادی سے کئی گئی آبادی کو بھی وہ بخوبی پروان چڑھا سکتے ہیں ۔ یہی نہیں ان کا دعویٰ تو یہ بھی ہے کہ دنیا کے سارے اشترا کی نظام کے ذریعہ آبادی کو کم کیے بغیر اپنی ضرورتیں پوری کر سکتےہیں۔ تحدید آبادی کی ضرورت صرف نظام سرمایہ داری میں ہے، اشتراکیت میں نہیں۔
اسی طرح اگر یورپ کےدفاعی نظام پر غور کیا جائےتو معلوم ہوتا ہےکہ یورپ میں (روس سمیت ) اشترا کی بلاک کی آبادی ۳۲ کروڑ ۴۰لاکھ ہے اور غیر اشترا کی بلاک کی ۳۰ کروڑ ۲۰لاکھ۔ اگر پوری دنیا کو لیا جائے تو اشترا کی بلاک کی آبادی تقریباً ایک ارب اور باقی دنیا کی تقریباً پونے دو ارب ہے (جس میں غیر جانب دار بھی شامل ہیں ) یہ توازن بہت جلد بگڑ جائے گا اور مغربی ممالک کی دفاعی لائن بڑی کمزور ہو جائے گی۔ خود مغرب کو اس مسئلہ پر نفع عاجلہ کی روشنی میں غور نہیں کرنا چاہیے بلکہ دور اندیشی سے کام لے کر طویل المدت اثرات کو ٹھونا رکھتے ہوئے اپنی پوری پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
ضبط تولید کا مسئلہ اپنی اصل کے اعتبارے معاشی نہیں ہے لیکن اس کے چند پہلو ایسے ضرور ہیں جن پر معاشی نقطہ نظر سے غور کیا جا سکتا ہے۔
اس سلسلہ میں سب سے پہلی چیز تو یہ ہے کہ آبادی کی کثرت معاشی حیثیت سے بالعموم مفید ہوتی ہے۔ ہر وہ انسان جو دنیا میں آتا ہے وہ اپنے پاس صرف ایک پیٹ ہی نہیں رکھتا، دو ہاتھ ، دو پاؤں اور ایک دماغ بھی رکھتا ہے۔ پیٹ اگر احتیاجات پیش کرتا ہے تو یہ پانچوں مل کر انہیں پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور معاشی مفکرین کا ایک بڑا موثر گروہ اس رائے کا حامی ہے کہ غیر ترقی یافتہ ممالک میں ابتدائی معاشی انقلاب کے لیے بڑھتی ہوئی آبادی بڑی مفید ہے کیونکہ اس کے ذریعہ سے وافر محنت (Labour) اور موثر طلب (Effective Demand) فراہم ہوتی ہے اور ایک ترقی یافتہ معیشت میں ترقی کو قائم رکھنے اور مانگ کو وسعت دینے کے لیے ( تا کہ کساد بازاری رونما نہ ہو ) آبادی میں مسلسل اضافہ بے حد ضروری ہے۔ لارڈ کینز (J.M.Keynes)، پروفیسر مینس (A.L.Hansen)،ڈاکٹر کولن کلارک( Colin Clark )، پروفیسر جی ۔ڈی۔ ایچ کول (G.D.H. Cole) اور متعد د دوسرے مفکر یہی نقطۂ نظر پیش کرتےہیں اور معاشی تاریخ ان کے نظریات کی تائید کرتی ہے۔
دوسری چیز یہ ہے کہ پوری دنیا کے وسائل موجودہ آبادی ہی نہیں بلکہ ہرممکن التصور آبادی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں۔ وسائل ضرورت سے کہیں زیادہ ہیں اور بے کار پڑے ہیں۔کوان کلارک اس رائے کا اظہار ٹھوس حقائق کی بنیاد پر کرتا ہے کہ موجودہ آبادی سے دس گنا زیادہ آبادی کو دنیا کے صرف معلوم وسائل کے صحیح استعمال سے مغربی یورپ کے اعلیٰ معیار زندگی پر برقرار رکھا جا سکتا ہے_١ پروفیسر ہے ۔ ڈی۔ برنال (J. Bernal) بھی اپنی آزاد اور سائنٹیفک تحقیقات کے بعد یہی رائے ظاہر کرتا ہے۔
تیسری بنیادی چیز یہ ہے کہ موجودہ آبادی کے جو اعدادوشمار پیش کیے جاتے ہیں وہ تو بڑی حد تک ضرور قابل اعتماد ہیں لیکن ماضی اور مستقبل کے رجحانات کے متعلق جواندازے ان کی بنیاد پر قائم کیے جاتے ہیں ان پر گفتگو کی بڑی گنجائش ہے۔ ڈیموگرافی (Demography) کا علم ابھی بہت نیا ہے اور اس کی تحقیقات اس مقام پر نہیں پہنچی ہیں جہاں بھروسہ اور اعتماد کے ساتھ مستقبل کے متعلق کوئی اندازہ قائم کیا جاسکے۔ ہم بہت سے بہت مستقبل قریب کے متعلق کچھ کہ سکتے ہیں لیکن صدیوں بعد کی آبادی کی کیفیت کے متعلق کوئی قابلِ اعتماد اندازہ قائم نہیں کر سکتے ۔
ابھی تک ہمارے پاس وہ ذرائع معلومات نہیں ہیں جن کی بنیاد پر یقینی تخمینے پیش کیے جا سکیں۔ پھر آبادی کے رجحانات کے بہت سے اسباب ابھی تک نامعلوم ہیں۔ مثلاً ڈاکٹر آرنلڈ ٹائن بی (Dr. Arnold Toynbee) ہمیں بتاتا ہے کہ تئیس (۲۳) میں سے اکیس (۲۱) تہذیبوں میں عروج پر پہنچ کر آپ سےآپ آبادی کے اضافہ کی رفتار میں کی ہو جاتی ہے۔ اس کی توثیق آبادی کے فطری اضافے کی تاریخ سے بھی ہوتی ہے۔ مثلا رے مونڈ پرل Raymond) (Pearl اپنے ایک مضمون میں لکھتا ہے کہ:
٢- پروفیسر برتال نے بڑے سائنٹیفک انداز میں ایک نہایت تحقیقی کتاب ورلڈ ود آؤٹ وار (World Without War) اس موضوع پر لکھی ہے اور نا قابل انکار مواد کی بناء پر ثابت کیا ہے کہ دنیا کے وسائل بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے بہت کافی ہیں۔ مطبوعہ لندن ١٩٥٨ء -
"صنعتی ترقی ، شہروں کے فروغ (Urbansation) اور ان کے نتیجہ میں رونما ہونے والی آبادی کی گنجانی ایک ملک میں جتنی زیادہ ہو گی اتنی ہی اس ملک میں باروری (Fertility) اور شرح اضافہ آبادی کم ہوگی چند واضح مستثنیات کو چھوڑ کر ایسا ہی ہوا ہے ہے۔"
ڈاکٹر میڈ اور ایف۔ آر۔ایس اپنے ۱۹۵۹ء کے رتھ لیکچرز میں علم آبادی کے اندازوں کی مشکلات تفصیل سے بیان کرتےہیں_٢ اقوام متحدہ کی ایک سرکاری رپورٹ میں بھی اس بات کا اظہار کیا گیا ہےکہ یہ سمجھنا درست نہیں ہوگا کہ آئندہ صدی میں بھی اضافہ اسی رفتار سے ہوگا جس سے ماضی میں ہوا ہے۔اس رپورٹ کی رو سے یہ بات بالکل احمقانہ ہوگی کہ ہم اس وقت اپنےاندازوں کو مستقبل بعید کی دور دراز یوں تک لے جائیں ہے_٣
اس رپورٹ کے مطابق معقول اندازے اس صدی کے اخیر تک کے لیے قائم کیے جاسکتےہیں ۔ اس سے زیادہ نہیں۔ لیکن کچھ دوسرےماہرین کا خیال ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ آئندہ دس پندرہ سال تک کا اندازہ قائم کر سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ کرنا احتیاط کے منافی ہے_٤ اور ایک سوشیولوجسٹ پوری بحث کو اس طرح سمیٹتا ہے کہ:
"آبادی کے متعلق تخمینوں اور پیشین گوئیوں میں دلچسپی بڑی کم ہوگئی ہے اور اس کی وجہ اعتماد کی کمی ہے۔ تھوڑے عرصہ قبل تک غیر ماہرین آبادی (Non-Demographers) میں یہ خیال عام تھا کہ علم آبادی ایک ایسا علم ہے جس میں مستقبل کے واقعات کے بارے میں پیشین گوئی غیر معمولی طور پر درست ہوتی ہے لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا، نا امیدی بڑھتی گئی اور اب بے اعتمادی عام ہے۔
٢-ملاحظہ ہو ڈاکٹر پی ۔ بی ۔ میڈ اور (Dr. P.B. Medawar) کی کتاب ”انسان کا مستقبل" The Fiture of)" Man مطبوعہ لندن، ۱۹۶۰ ء باب اول - (The Fallibility of Predrction)۔
اس سے معلوم ہوا کہ معاشی حیثیت سے خود آبادی کے اندازے اور اس کے رجحانات پر بھی بڑی احتیاط سے غور ہونا چاہیے اور عام صحافیانہ انداز میں یہ کہ دینا کہ ۶۰۰ سال کے بعد دنیا میں کھڑے ہونے کی جگہ بھی باقی نہ رہے گی ، بے حد قابل اعتراض ہے۔
چوتھی بات یہ ہےکہ معاشی نقطہ نظر سے اگر آبادی کےمسئلہ پر غور کیا جائےتو اس کا بڑا قریبی تعلق معیشت کی تنظیمی ہیئت (Structure of the Ecnomoy) سے ہے۔ مغرب نے اپنے حالات کی مناسبت سے ایک خاص ہیئت بنائی جو پیمانہ کبیر اور سرمایہ کی مرکزیت پر مبنی تھی اور جس میں ساری کوشش محنت کے حصہ کو کم کرنے اور سرمائے کے حصہ کو بڑھانے پر صرف ہوئی۔ایسی صنعت کو معاشیات کی اصطلاح میں کیپیٹل ان ٹینسو انڈسٹری Capital Intensive) (Industry کہتے ہیں۔ اس قسم کی معاشی ہیئت میں محنت کی ضرورت برابر کم ہوتی جاتی ہے اور آبادی کے بڑھنے سے بیروزگاری کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے لیکن اگر معیشت کا ڈھانچہ کسی اور بنیاد پر تعمیر کیا جائے اور اسے کوئی دوسری ہیئت دی جائے تو آبادی کا مسئلہ اس میں پیدا نہ ہوگا۔ اس کی مثال جاپان میں ملتی ہے۔ جاپان نے اس بات کو محسوس کر لیا تھا کہ کیپیٹل ان ٹینسو Capital Intensive) صنعتی ہیئت اس کے لیے موزوں نہیں ہے۔ وہاں سرمایہ کی کمی اور محنت کی فراوانی تھی۔ اس لیے اس نے چھوٹے پیمانے کی صنعت کو بے مرکزیت (De-centralisation) کے ساتھ فروغ دیا اور اس کی کار کردگی کو اعلیٰ ترین معیار پر پہنچانے کی کوشش کی ۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ اس کی صنعت (Labour Intensive) ہو گئی اور اس میں آبادی کے غیر معمولی اضافے کے با وجود بے روزگاری یا کثرت آبادی کا مسئلہ پیدا نہ ہوا۔
جاپان کا رقبہ پاکستان کے رقبےکا تقریباً نصف ہے۔ پھر ملک کے پورے رقبے کا صرف ١٧ فیصد قابل استعمال ہے۔ باقی تمام آتش فشاں پہاڑوں کے سلسلہ کی وجہ سے بیکار ہے۔ اس طرح اس کا قابل استعمال رقبہ ہمارے رقبہ کا تقریباً بارہواں حصہ (۱۲) ہے۔ لیکن اس ملک نے ہماری آبادی سے بڑی آبادی کو بڑے اچھے معیار پر قائم رکھا اور اپنی معاشی قوت کو وہ ایسے مقام پر لے گیا کہ اس کی مصنوعات نے برطانیہ اور امریکہ کی منڈیوں پر قبضہ کر لیا حتی کہ یورپ کی ساری ترقی یافتہ اقوام مل کر بھی معاشی مدیان میں اس کا مقابلہ نہ کر سکیں ۔ نہ صرف یہ بلکہ اس کی طاقت ایک ایسے مقام تک پہنچ گئی جہاں سے اس نے خود سیاسی میدان میں بھی ساری مغربی دنیا کو چیلنج کر دیا۔
اس سے معلوم ہوا کہ آبادی کے مسئلہ کا مطالعہ محض سطحی انداز سے نہیں ہونا چاہیے۔ اگر معیشت کی تنظیمی ہیئت کو آبادی کے مناسب حال ترقی دے دی جائے تو معاشی حیثیت سے آبادی کا کوئی مسئلہ پیدا ہو جانے کا کوئی سوال نہیں۔ آج کی دنیا میں فی الواقع اگر آبادی کے لیے غربت،افلاس اور بدحالی کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی وجہ ہماری اپنی غلطیاں ہیں فطری وسائل اور اسباب اسکے ذمہ دارنہیں ہیں۔ اس سلسلہ میں بھی چند بنیادی باتیں ہم عرض کرنا چاہتے ہیں۔
(١) ہم اپنے وسائل کو ٹھیک ٹھیک استعمال نہیں کر رہے ہیں۔ وسائل موجود ہیں اور بہ افراط موجود ہیں لیکن انسان اپنی سستی اور کاہلی کی وجہ سے ان سے فائدہ نہیں اٹھا رہا ہے۔ دنیا میں غربت کا سب سے بنیادی سبب یہی ہے ۔
(ب) فطرت نے پوری دنیا میں وہ تمام وسائل ودیعت کر دئیے ہیں جو انسانیت کے لیے ضروری ہیں۔ وسائل کی تقسیم اس طرح ہے کہ پوری دنیا ایک وحدت اور اکائی کی حیثیت رکھتی ہے۔ کوئی ایک ملک بھی ایسا نہیں ہے جو اپنی ضرورت کی تمام چیزیں صرف اپنے وسائل سے حاصل کرلے۔ البتہ پوری دنیا کے تمام وسائل سب انسانوں کے لیے کافی ہیں۔انسان کو اپنی تنگ نظری کو چھوڑ کر ایسے مسائل پر عالمی بنیادوں پر غور کرنا ہوگا۔ ہم ایک ملک میں یہ ضروری نہیں سمجھتے کہ ہر ہر شہر میں اس کی ضرورت کی تمام چیزیں پیدا ہوں۔ یہی نقطہ نظر پوری دنیا کے لیے بھی اختیار کرنا ہو گا۔ تب ہی دنیا کے سارے وسائل انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال ہو سکیں گے۔
(ج) اس غلط نقطہ نظر کا نتیجہ ہے کہ اس وقت دولت کی تقسیم نہایت غلط ہے۔ جن حصوں میں پیداوار کی افراط ہے وہ وہیں ضائع ہو رہی ہے اور باقی انسانیت کی فلاح کے لیے استعمال نہیں ہورہی۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ دنیا کی پیداوار کم ہے وہ نہیں جانتے کہ مغربی دنیا کیلئےاور خصوصیت سے امریکہ کے لیے اصل مسئلہ کثرت پیداوار (Over-Production) کا ہے۔ اس کے لیے زائد پیداوار کو ٹھکانے لگانے کا مسئلہ دردسر کا باعث بنا ہوا ہے۔ امریکہ کی حکومت کو ۲۰ کروڑ سے ۴۰ کروڑ ڈالر (تقریباً ایک ارب روپیہ ) تک محض فاضل آلوؤں کو ضائع کرنے یا کم قیمت پر بیچنےپر صرف کرنے پڑتے ہیں۔ کیلیفورنیا کی کروڑوں روپے کی کشمش اور منفی سوروں کو کھلا دی جاتی ہے۔ امریکہ کی کریڈٹ کارپوریشن( US Commodity Credit Corporation )کے پاس ۱۲۰ ارب ڈالر (تقریباً ۹۰ ارب روپے) کا فاضل مال بے کار پڑا ہوا ہے۔ اس میں سے چند چیزیں یہ ہیں :
__________________________________________________________________________ روئی ۵۰ لاکھ گانٹھ تقریباً مالیت : ۷۵ کروڑ ڈالر __________________________________________________________________________ گندم ۴۰ کروڑ بشل_١ مالیت: ۹۰ کروڑ ڈالر __________________________________________________________________________ مکئی ٦۰ کروڑ بشل تقریباً مالیت: ۹۰ کروڑ ڈالر ___________________________________________________________________________ انڈے (سوکھے ہوئے) ٧ کروڑ پونڈ تقریباً مالیت: ۱۰ کروڑ ڈالر ___________________________________________________________________________ مکھن ۱۰ کروڑ پونے تقریباً مالیت : ٦ کروڑ ڈالر ____________________________________________________________________________ دودھ (سوکھا ہوا) ۲۵ کروڑ پونڈ تقریباً مالیت : ۳ کروڑ ڈالر_٣ ____________________________________________________________________________
اسی طرح (.0.F.A) کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر استعمال شدہ اسٹاک برابر بڑھ رہے ہیں، اربوں من غذائی اور دوسری اشیاء دنیا کے کچھ حصوں میں بے کار پڑی سڑرہی ہیں اور ان کی حفاظت پر کروڑوں روپیہ صرف کیا جا رہا ہے، جب کہ دنیا کے دوسرے حصوں میں فقر وفاقه کی حکمرانی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب صورت حال یہ ہے تو پھر ہم قلت کے لیے اللہ میاں اور معاشی وسائل کا رونا کیوں روئیں ۔ بقول شیکسپیئر :
یہ مغربی انسان کی خود غرضی ہےجو دنیا میں معاشی بدحالی کی باعث ہے۔مہذب انسان ایک طرف اپنی فاضل پیداوار کو مصنوعی قیمتوں کے قیام کی خاطر ضائع کر رہا ہے اور انسانیت کو اس سےمستفید نہیں ہونے دیتا۔ دوسری طرف وہ اپنے سارے وسائل کو پیداوار کے لیے استعمال نہیں کرتا بلکہ انہیں تعیش اور ضیاع کی نذر کر دیتا ہے۔ بقول پروفیسر لینڈس:
"انانیت زدہ مغربی انسان ایک ایسے مقام پر پہنچ گیا ہے جہاں وہ اپنی ساری قوتیں خوراک کی رسد کو بڑھانے کے لیے استعمال کرنے پر تیار نہیں ہے _١"
(د) مشرقی ممالک میں کاہلی اور ست رفتاری ضرور ہے لیکن ان کے وسائل سے مغرب جس طرح فائدہ اٹھا رہا ہے وہ بھی ان کے لیے ایک بہت بڑا بار ہے جس کے نتیجہ کے طور پر ان کی غربت اور معاشی پریشانی کچھ اور بھی سوا ہو گئی ہے۔ استعمار نے جس طرح ان ممالک کے وسائل کولوٹا کھسوٹا ہے اور افریقہ میں آج بھی لوٹ رہا ہے وہ بڑی تلخ داستان ہے۔آزادی کے بعد بھی سو طریقوں سے ان ممالک کا انتفاع جاری ہے۔ اس کی صرف ایک مثال قیمتوں میں عدم استحکام (Instability) ہے۔ مغربی ممالک جوان ممالک کی اشیاء کے خریدار ہیں، قیمتوں میں استحکام نہیں آنے دیتے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان ممالک کو بڑے عظیم مالی نقصان پر اپنا مال بیچنا پڑتا ہے۔ مثلاً صرف کوکو کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی کی بناء پر مغربی افریقہ کے ممالک کو صرف ایک سال (۱۹۵۶ء) میں ۶۲ کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا ۔ (۱۹۵۴ء میں قیمت ۵۷ سینٹ فی پونڈ تھی جو ۱۹۵۶ء میں ۲۶ سینٹ پر آگئی ) یار بڑ کی قیمتوں میں عدم استحکام کی وجہ سے ایک سال میں جنوب مشرقی ایشیا کو ایک ارب ۳۲ کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا ۔ (۱۹۵۱ء میں قیمت ۶۰ ۵ سینٹ فی پونڈ تھی جو ۱۹۵۴ء میں ۲۳ سینٹ رہ گئی_١)
اگر سارے حقائق کو سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی پریشانیاں خود حضرت انسان ہی کی پیدا کردہ ہیں۔ جو دو مثالیں ہم نے ' پر دی ہیں ان سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ اگر قیمتوں کو مستحکم کیا جاتا اور ان ممالک کی مجبوری سے ناجائز فائدہ نہ اٹھایا جاتا تو یہ سارا سرمایہ ان کی معاشی ترقی کے لیے استعمال ہو سکتا تھا۔ غیر ترقی یافتہ ممالک میں سرمایہ کی کمی ضرور ہے اور یہ کی معاشی ترقی کی راہ میں مانع بھی ہے لیکن خود اس کمی کے اسباب کیا ہیں؟ ان کا سررشتہ خود انہی عناصر کی کرم فرمائیوں سے جاملتا ہے جو سرمایہ کی قلت کا راگ صبح وشام الاپتے ہیں اور مشرقی لوگوں کو بچے کم پیدا کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
(ه) اسی طرح دنیا کے وسائل کا جو حصہ جنگ کی تیاری پر صرف ہورہا ہے اگر اسے یا اس کے بڑے حصہ کو معاشی تعمیر کیلئے استعمال کیا جا سکے تو دنیا کی غربت ایک محدود عرصہ میں ختم ہو سکتی ہے۔ ۵۷-۱۹۵۰ء کے اعداد وشمار کی بنیاد پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اس زمانہ میں کم از کم ۹۰ ارب ڈالرسالانہ تقریب ۴۰۰ ارب روپے سالانہ ) جنگی تیاری پر خرچ ہوا ہے_٢
"یہ رقم اس رقم سے کہیں زیادہ ہے جو دنیا کے تمام غیر ترقی یافتہ ممالک میں تیز رفتار عملی ترقی کے حصول کے لیے ضروری ہے ہےیہ_٣"۔
منجملہ اور اسباب کے یہ وہ موٹے موٹے اسباب ہیں جو دنیا میں غربت اور معاشی مفلوک الحالی کے ذمہ دار ہیں۔ آبادی کے مسئلہ کا اصلی محل ان موانع کو دور کرنے میں ہے، انسانوں کی پیدائش روکنے میں نہیں ہے۔
پھر اس تحریک کے جو نفسیاتی ، اخلاقی ، معاشرتی ، سیاسی اور معاشی نقصانات رونما ہوتے ہیں وہ بھی تباہ کن ہیں اور خود عقل اس تحریک کو ملک کے لیے منفعت بخش نہیں سمجھتی۔
یہ تمام چیزیں درست ! لیکن ہم تو یہ محسوس کرتے ہیں کہ عالم اسلام اور مشرقی ممالک میں واضح حقائق اس امر کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ یہ تحریک یہاں ایک لمبے عرصے تک کامیاب ہی نہیں ہو سکتی۔ خالص مادی بنیادوں پر بھی اس کی کامیابی کے امکانات موہوم ہیں اور بالآخر اس کی حیثیت گناہ بے لذت" سے زیادہ نہ ہو گی۔ ہم اس سلسلہ میں بھی غور و فکر کے لیے چند معروضات پیش کرتے ہیں۔
اولاً، ضبط ولادت کوئی مثبت چیز نہیں ہے۔ اس کے ذریعے حالات کا مقابلہ کرنے کےبچائے ان کے آگے سپر ڈال دینے کی روش اختیار کی جاتی ہے۔ یہ ایک منفی چیز ہے اور اس کےذریعہ کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہوتا ۔ دنیا کی ضرورت روٹی ہے، مانع حمل گولی نہیں۔ یہ پوری تحریک ایک منفی تحریک ہے اور معاشی مسئلہ کا کوئی مثبت حل پیش نہیں کرتی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اگر کامیاب ہو بھی جائے تب بھی معاشی حیثیت سے ملک کو کچھ حاصل نہیں ہوتا اور ہم وہیں رہتے ہیں جہاں تھے، بلکہ نئی پیچیدگیوں میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ اس تحریک کا نتیجہ - - - - - - - - - اگر اس پر بڑی سختی سے عمل ہو تب بھی کم از کم صدی نصف صدی کے بعد رونما ہو گا۔ خود یورپ میں اس کے نتائج خاصی مدت کے بعد رونما ہوئے تھے۔ اس لیے کوئی فوری اثر ہماری معیشت پر اس کا نہیں پڑ سکتا۔ لمبے عرصے میں شاید یہ کچھ نتائج نکالے لیکن لمبے عرصے کے متعلق، جیسا کہ لارڈ کینس نے کہا ہے ہم صرف ایک ہی چیز جانتے ہیں اور وہ یہ کہ لمبے عرصے میں ہم سب مرجائیں گے۔“
تیسری چیز یہ ہے کہ ضبط ولادت محض ایک طبی یا معاشی اسکیم نہیں ہے جسے دنیا کے ہر ملک میں جب چاہے متعارف کرا دیا جائے۔ اس کی کامیابی کے لیے ایک خاص تمدنی ماحول اور کچھ خاص اخلاقی اور معاشرتی رویے (Attitudes) ضروری ہیں اور ان کی عدم موجودگی میں یہ چل ہی نہیں سکتی۔ ہور اس بیل شا ( Horace Belshaw) کہتا ہے کہ:
"ضبط ولادت کے پروپیگنڈے سے اس بات کی توقع کی جاتی ہے کہ عام لوگوں میں بیسیوں سال (Many Decades) کے بعد شرح پیدائش کم ہوگی۔ یہ پروپیگنڈا آہستہ آہستہ رائے عامہ کی تعمیر کرے گا۔ لیکن ترتیب امور سے پتہ چلتا ہے کہ اس قسم کے پروپیگنڈے کے اس وقت تک موثر ہونے کی توقع نہیں کی جاسکتی جب تک دوسری معاشرتی اور معاشی تبدیلیوں کے ذریعہ اس کے لیے زمین ہموار نہ کی جائے ہے۔
متعدد قسم کی مزاحمتیں اور معاشی اور فنی مشکلات اتنی مضبوط اور موثر ہیں کہ تحدیدہ خاندان کے لیے تعلیم اور پروپیگنڈے کے بالواسطہ طریقے جلد نتائج نہ دے سکیں گے، جس طرح خود مغرب میں بھی وہ فوری نتائج نہ دے سکے تھے_٢
_________________________________________________________________________ ١-(Belshaw. Horace. Population Growth & Levels of consumption (with Special Reference to Countries in Asia) London 1956. p. 25.)
نتیجا ہم توازن کے ساتھ جو بات کہہ سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ لمبےعرصے میں لوگوں کے رویہ کی تبدیلی کے امکانات کے سلسلہ میں ہم بجا طور پر بڑی حد تک پرامید (Qualified Optimism)ہو سکتےہیں۔ نیز آئندہ شرح پیدائش کی ہمیں تمہیں سال میں اپنی کمی کے سلسلہ میں جو شرح اموات کی کمی کی تلافی کر دے، ہم بڑی حد تک مایوس (Qualified Pessimism) ہیں_١
اس لیے یہ مصنف مشورہ دیتا ہے کہ اصل توجہ آبادی سے ہٹ کر دوسرے ذرائع پر دینی چاہیے۔سر چارلس ڈارون جو ضبط ولادت کا متشدد حامی ہے اپنے حالیہ مضمون دی پریشرآف پاپولیشن( The Pressure of Population )میں لکھتا ہے کہ:
"خواہ کتنی ہی تیزی کے ساتھ یہ (یعنی تحریک ضبط ولادت) پھیلائی جائے۔ یہ بات بعید از قیاس معلوم ہوتی ہے کہ ایک ارب لوگوں کی عادات میں اتنا مکمل انقلاب پچاس سال کے اندر بھی آسکتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس سلسلہ کے حالیہ تجربات تو بہت ہی مایوس کن ہیں گو یہ کام اس لائق ہے کہ اس کی ضرور حوصلہ افزائی کی جائےلیکن یہ ہرگز متوقع نہیں کہ پچاس سال بعد بھی یہ دنیا کی آبادی کے ایک معمولی حصہ سے زیادہ کو متاثر کر سکے گا_٢"
"ان ممالک میں جہاں طبی خدمات بہت ہی کمیاب ہیں اور بڑے بڑے علاقوں میں بالکل ہی مفقود ہیں ضبط ولا دت نا قابل عمل ہے اور نہ اس کی کامیابی کے امکانات ہیں_٣"
"جہاں تک ضبط ولادت کے پیغام کو دیہات کے لکھوکھا افراد تک پہنچانے کا سوال ہے یہ بات کہی تو آسانی سے جاسکتی ہے لیکن عملاً اسےانجام دینا محال ہے۔ حالات یہ ہیں کہ آج ایشیا کے دیہات میں طبی سہولتوں کا قحط ہے۔ لاکھوں گھروں میں پانی کامل اور غسل خانہ تک نہیں ہے اور نہ تخلیہ ہی کا کوئی بندوست ہے۔ دیہات شفاخانوں اور مطبوں (Clinics) سے بہت دور دورہا دور ہیں اور جن مقامات پر کچھ سہولتیں موجود ہیں وہاں بھی غربت، جہالت، کمزور کا صحت اور جمود وعدم حرکت کےمشکل اور پریشان کن مسائل موجود ہیں (جو انہیں غیر مؤثر بنا دیتےہیں۔)
"یہ تو ہو ئیں عام مشکلات۔ جہاں تک خصوصی ضروریات کا سوال ہے وہ ہر ہر قوم میں مختلف ہو سکتی ہیں۔ معاشرتی اور اخلاقی زاویے، مذہبی عقائد، خاندانی تنظیم جنسی رویہ کے ضابطے، گھریلو حالات اور دوسرےبے شمار حقائق ہیں جو ضبط تولید کے لیے آمادگی یا عدم آمادگی پر اثر انداز ہوں گے۔ اور ہمیں صاف صاف اس بات کا اعتراف کر لینا چاہیے کہ دنیا کے گنجان علاقوں کی قوموں اور نسلوں کے بارے میں ان امور کے متعلق ہمیں بہت کم معلومات حاصل ہیں۔ اس لیے اس کا امکان ہے کہ ہندوستان کے ایک جھونپڑے، چین کے ایک چھپر اور جاپان یا برما کےایک دیہی مکان سے عمل جراحی، ذرائع وادو یہ ضبط تولید اور ان کے استعمال کی آمادگی ابھی صدیوں دور ہیں_١
امریکی ماہر معاشیات پروفیسر رچرڈ میئر (Richard Meier) اس رائے کا اظہار کرتا ہے کہ غیر ترقی یافتہ ممالک میں ضبط ولادت کے ذرائع کا فروغ ایک معاشی عجوبہ ہوگا۔ وہ اس کےفوری اثرات کا بالکل منکر ہے اور ایسے سات اسباب بیان کرنے کے بعد جو اس تحریک کی راہ میں مانع ہیں اور جن کو دور کیے بغیر اسے فروغ نہیں ہو سکتا ،لکھتا ہے:
"یہ وہ حالات ہیں جو کسی معاشرہ میں اسی وقت موجود ہو سکتے ہیں جب وہاں معاشی ترقی واقع ہو چکی ہو۔ دنیا میں ابھی تک کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ہے جو بتاتی ہو کہ ایک ایسی دیہی آبادی نے جس کا معیار خواندگی بہت ہو اور جو کفالت کے معیار پر زندگی گزار رہی ہو، اپنی رضا مندی سے ضبط تولید کو اختیار کیا ہو اور اسے کامیاب بھی کر لیا ہو_١"
جدید تجربہ بھی ماہرین کی مندرجہ بالا آراء کی تائید توثیق کرتا ہے۔ جاپان اور پیورٹو ریکو (Puerto Rico) میں دوسری جنگ کے بعد کروڑوں روپے کے صرف پر ضبط ولادت کی تحریک کو فروغ دیا گیا اور مانع حمل ادویہ کو پھیلایا گیا۔ لیکن دونوں جگہ یہ تحر یک ناکام رہی۔ بالآخر جاپان میں اسقاط حمل (Abortion) کو اختیار کیا گیا اور پیورٹو ریکو میں آپریشن کے ذریعہ سےبانجھ کر دینے کا طریقہ اپنالیا گیا ہے ۔٢“
اس تحریک کے ناقابل عمل ہونے کے سلسلہ میں ایک پہلو اور بھی قابل غور ہے۔ ضبط تولید کے جو ذرائع بھی آج تک دریافت ہوئے ہیں وہ سب بے حد گراں خرچ اور مسرفانہ ہیں۔
پچھلے دنوں انگلستان کے دار امراء (House of Lords) میں ضبط ولادت پر بڑی دلچسپ بحث ہوئی۔ اس بحث کے دوران ایک مقرر نے بتایا کہ ہندوستان کے تجربات اس بات پر شاہد ہیں کہ مانع حمل ذرائع کا استعمال بے حد گراں خرچ ہے اور ایک ڈاکٹر کے الفاظ میں خواہ یہ کتنا ہی حیرت انگیز کیوں نہ معلوم ہو لیکن حقیقت یہی ہے کہ دیہی علاقے میں ایک بچے کی پیدائش پر اتنا خرچ نہیں آتا جتنا مانع حمل ذرائع کے حصول پر آتا ہے۔ اسی بحث میں لارڈ کیسی( Lord Casey )نے ڈاکٹر اے۔ ایس پارکس کے حوالہ سے کہا کہ:
"نئی دریافت شدہ گولی کے لیے ضروری ہے کہ مہینہ میں ہیں گولیاں استعمال کی جائیں۔ ایشیائی دیہات کی ایک ان پڑھ خاتون کےلیے یہ کھکھیڑ بڑی پریشان کن اور نا قابل برداشت ہے۔ باقی تمام ذرائع ( منع حمل ) بھی بے کار ہیں، کیونکہ کچھ تو موٹر نہیں ، کچھ بہت مہنگے ہیں اور کچھ بہت تکلیف دو _١"
آج کل ضبط ولادت کی جن گولیوں کا بڑا چرچا ہے وہ صرف اسی صورت میں کارآمد ہوسکتیہیں جب ہر مہینے ان کا پورا کورس استعمال کیا جائے یعنی ۲۰ گولیاں۔ اگر ایک بھی دن چھوٹ جاتا ہے تو پوری دوا بے اثر ہو جاتی ہے۔ اس طرح ہر عورت کو سال میں ۲۴۰ گولیاں کھانی پڑیں گی تب وہ اولاد کے خطرے سے محفوظ ہو سکے گی۔ ایک گولی کی قیمت ۵۰ سینٹ ہے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ ہر سال ایک عورت کو ۱۲۰ ڈالر یا تقریباً ۵۴۰ روپے صرف ان گولیوں پر خرچ کرنے ہوں گے۔ اب ذرا سوچنے کہ پاکستان میں جہاں کے ایک شہری کی اوسط سالانہ آمدنی (۶۱-۱۹۲۰ء کے تازہ ترین اندازے کے مطابق ) ۲۳۴ روپے ہے ۔ ہو عورت ۵۴۰ روپے فی سال صرف ان گولیوں پر کیسے خرچ کر سکے گی؟
٢- یہ معلومات ڈون مرے (Don Marry) کے مضمون ( ?How Safe are the New Birth Control Pilis) مطبوعہ (Coronet) اکتوبر ۱۹۶۰ ء سے لی گئی ہیں۔
اس مسئلہ کو ایک دوسرے پہلو سے لیجے ۔ ہماری کل آبادی 9 کروڑ ہے۔ اس میں سےاگر بوڑھوں اور بچوں کی تعداد کو نکال دیا جائے تو ان عورتوں کی تعداد جو ماں بننے کے لائق ہیں تقریبا دو کروڑ ہوگی۔ اگر ان کا نصف بھی ان گولیوں کو استعمال کرے تو اس پر سالانہ خرچہ ۵ ارب ۴۰ کروڑ روپے ہو گا۔ واضح رہے کہ پاکستان کے پورے مرکزی بجٹ کی سالانہ آمدنی (Revenue) ایک ارب ۹۶ کروڑ روپے ہے۔ (۶۱) ۷۱۹۶۰ ) ۔ اس طرح اگر ملک میں کل ترقیاتی خرج (Development Expenditure) کو لیا جائے تو وہ ۶۱ ۔۱۹۶۰ء کے نظر ثانی شده تخمینہ کے مطابق ایک ارب اسے کروڑ تھا۔ اپنے و سائل اور اپنے ترقیاتی خرجہ کی روشنی میں ذرا غور فرمائے کہ کیا فی الحقیقت ہم ان گولیوں کو ہضم کر سکتے ہیں؟ اور آخر یہی رقم اپنے ذرائع
اس پوری بحث کے بعد فطری طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اصل حل کیا ہے؟ اس سلسلہ میں ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ اصل حل پیداوار کو بڑھانا اور معاشی تمدنی وسائل کو ترقی دینا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ معاشی ترقی اور پیداوار کے اضافے کو حل“ کہا جا سکتا ہے۔ ورنہ ضبط ولادت کے لیے"حل“ کا لفظ استعمال کرنا خود اس لفظ کی توہین ہے۔
اگر آپ تھوڑ اسا بھی غور کریں گے تو محسوس کر لیں گے کہ ضبط ولادت کی پالیسی کو اختیار کرنا راصل اپنی شکست کا اعتراف کرتا ہےاس کے معنی تو یہ ہیں کہ ہم انسان کی صلاحیتوں اور سائنس کی قوتوں سےمایوس ہو جائیں اور وسائل اور پیداوار کو بڑھانے کے بجائے انسانوں ہی کو کم کرنے لگیں۔ اگر کپڑا جسم پر راست نہیں آتا تو اس کا سائز بڑھانے کی بجائے انسانی جسم ہی کی تراش خراش شروع کر دی جائے تا کہ لباس ٹھیک آجائے۔
اگر اس نقطۂ نظر کی پشت پر کار فرما ذ ہنیت کا تجزیہ کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس میں انسان کی حیثیت اصل مقصد (End) کی نہیں بلکہ صرف ایک ذریعہ کی سی ہے۔ جس طرح اور مصنوعات کی پیداوار کوطلب کے مطابق بڑھایا اور گھٹایا جاتا ہے، اسی طرح انسانوں کی پیداوار کو بھی بڑھایا اور گھٹایا جائے۔ جس طرح گیند ہیں، بلے اور جوتے ضرورت کے مطابق تیار کیےجاتے ہیں اس طرح انسان بھی پیمائش کے مطابق تیار کیے جائیں ۔ گویا انسان کی حیثیت یہ نہیں ہے، کہ ہر چیز اس کی ضرورت کے مطابق درست کی جائے بلکہ مسیح چیز یہ ہے کہ معاشی حالات کےمطابق خود حضرت انسان ہی کو درست کر لیا جائے ۔ دوسرے الفاظ میں انسان بھی بس منجملہ دوسری اشیاء کے ایک شے (Commodity) ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔
یہ ذہنیت بڑی ہی غلط ذہنیت ہے اور اس پستی پر انسان اسی وقت اتر سکتا ہےجب وہ تمام روحانی اور اخلاقی اقدار کا پاس چھوڑ دے۔ انسان اصل مقصد ہے اور باقی تمام چیزیں اس کی ضرورت کو پورا کرنے کا ایک ذریعہ ہیں۔ اگر آپ اس ترتیب کو الٹ دیں گے تو انسان اپنے اصل مقام سے گر جائے گا اور اگر انسانیت کے مقام سے گر کر اس نے مادی خوش حالی پا بھی لی تو اس کا کیا حاصل؟ اسی ذہنیت پر تنقید کرتے ہوئے پروفیسر کولن کلارک اپنی اس رپورٹ میں جو اس نےپاکستان کی معیشت پر پیش کی تھی ،لکھتا ہے:
" کچھ لوگ کہتے ہیں معاشی وجوہ اس بات کے متقاضی ہیں کہ آبادی کے اضافے کی رفتار کو کم کیا جائے یا یہ کہ ایک قائم (Stationary) یا زوال پذیر آبادی اصل مطلوب ہے۔ مجھے ان میں سے کسی تجویز سے قطعا کوئی دلچسپی نہیں۔ میرے خیال میں معاشی مفکرین کا کام یہ ہے کہ وہ بتائیں کہ معیشت کو آبادی کی ضرورتوں کے مطابق کیونکر ڈھالا جائے ، نہ یہ کہ آبادی کو معیشت کے مطابق کس طرح تراشا خراشا جائے۔ والدین اپنے ضمیر اور اپنی پسند کے مطابق بچے پیدا کرتے ہیں اور انہیں مستقبل میں بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔کسی معاشی مفکر کو خواہ وہ کتنا ہی عالم و فاضل کیوں نہ ہو، اور کسی وزیر اعظم کو خواہ وہ کتناہی طاقتور ہو، یہ حق نہیں ہے کہ وہ والدین سے یہ کہے کہ ایسا نہ کرو۔ ہر گز نہیں! سارے حقوق دوسرے ہی پلڑے میں ہیں ۔ ہر باپ کو ضرور یہ حق ہے کہ وہ معاشین اور وزرائے اعظم سے یہ مطالبہ کرے کہ وہ معیشت کو اس طرح منتظم کریں کہ تمام لوگوں کو ان کی بنیادی ضروریات فراہم ہو جائیں_١"
| کتاب | اسلام اور ضبط ولادت |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |