بسم اللہ الرحمن الرحیم عرض ناشر سید ابو الاعلیٰ مودودی بیسویں صدی کی ایسی نابغہ روزگار شخصیت ہیں جنہوں نے ایک طرف اسلامی تعلیمات کے فروغ کے لیے علمی و عملی رہنمائی فراہم کی تو دوسری طرف باطل نظریات کو روکنے کیلئے دلائل و براہین کے بند باندھ کر مسلمانوں کو گمراہی کی تاریکیوں سے بچائے رکھا۔
مغربی دنیا اسلامی اساس کو کمزور کرنے اور مسلمانوں کو معاشی ترقی اور ماڈرن ازم کےگہرے سپنے دکھا کر ان کے عقائد کی دیوار میں مسمار کرنے کیلئے نت نئے ہتھکنڈے آزمارہی ہےایسے ہی ہتھکنڈوں میں ایک ضبط ولادت یا خاندانی منصوبہ بندی بھی ہے جس کے ذریعے وہ عالم اسلام کی عددی اکثریت کو کم کرنا چاہتی ہے۔
سید ابو الاعلیٰ مودودی نے اس حوالے سے بھی اپنی مجددانہ ذمہ داری کو بخوبی نبھایا ہے اور اسلام اور ضبط ولادت میں ضبط ولادت کی تحریک کے اخلاقی، نفسیاتی، معاشرتی اور معاشی مضمرات کو اجاگر کیا ہے اور مغربی تہذیب پر اس کے تباہ کن اثرات کا جائزہ بھی مغربی مفسرین کی تحریروں کی روشنی میں پیش کیا ہے
موجودہ حالات میں جب سرکاری و غیر سرکاری سطح پر ذرائع ابلاغ کو ضبط ولادت کی بھر پور ترغیب اور تشہیر کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اس کتاب کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے لہذا اسی ضرورت کے پیش نظر اس کتاب کو بڑے سائز میں نئے سرورق اور نئے گیٹ اپ میں پیش کیا جارہا ہے۔امید ہے قارئین اسے پسند کرنے کے ساتھ ساتھ اس سے بھر پور استفادہ کریں گے۔
یہ کتاب ابتداء اب سے ۲۶ سال پہلے لکھی گئی تھی ۔ اس کے بعد میں اس فرصت کی تلاش ہی میں رہا کہ اس کے اندر جدید معلومات کا اضافہ کروں، لیکن یہ فرصت مجھے کبھی نہ ملی۔ آخر کار میں نے پروفیسر خورشید احمد صاحب کو یہ زحمت دی کہ وہ اس کام میں میرا ہاتھ بٹائیں۔ چنانچہ اب اس کتاب کا یہ نیا ایڈیشن انہی کی مدد سے تیار ہوا ہے جس کیلئے میں ان کا بہت شکر گزار ہوں۔
کتاب کے آخر میں دو نیسے بھی شامل کر دیئے گئے ہیں۔ پہلا ضمیمہ میرے ایک مقالے پر مشتمل ہے جو حکومت پاکستان کے محکمہ قومی تعمیر نو کی دعوت پر ایک مجلس مذاکرہ میں پیش کرنے کے لیے لکھا گیا تھا۔ دوسرا ضمیمہ پروفیسر خورشید احمد صاحب کا ایک مستقل مضمون ہے جو انہوں نے اس کتاب میں شامل کرنے کیلئے دیا ہے۔
یہ مضمون ۱۳۵۴ (۱۹۳۵ء) میں لکھا گیا تھا۔ اس کے بعد سے کبھی اس پر نظر ثانی کرنے کا موقع نہ ملا۔ اگر چہ بعد میں اس موضوع سے متعلق بہت سی معلومات فراہم کرنے کا اتفاق ہوا مگر اتنی فرصت نہ مل سکی کہ ان کو جمع اور مرتب کر کے اس رسالہ میں اضافہ کر دیا جاتا۔ اسی انتظار میں یہ رسالہ کئی سال تک پڑا رہا۔ آخر کا ر اب یہ اسی طرح کتابی شکل میں شائع ہو رہا ہے۔
جس اخلاقی خطرے کو محسوس کر کے اب سے سات آٹھ برس پہلے میں نے یہ مضمون لکھا تھا وہ کم نہیں ہو رہا بلکہ روز بروز بڑھ رہا ہے اور غالبا موجودہ جنگ کے بعد اس میں اور زیادہ اضافہ ہو گا۔ اس لیے مغرب سے آئی ہوئی ہر وبا کا استقبال کرنے والوں کو سیدھی راہ دکھانے کی ضرورت اب پہلے سے بھی زیادہ شدید ہے۔اس جنگ میں ایک عظیم الشان قوم ( یعنی فرانس ) ان غلط اخلاقی و تمدنی نظریات کا نہایت عبرت ناک انجام دیکھ چکی ہے جو اٹھارویں اور انیسویں صدی کی احمقانہ حریت فکر کے زیر اثر اختیار کیے گئے تھے۔جو طاقت مدتہائے دراز تک دنیا کی اول درجہ کی طاقتوں میں شمار ہوتی رہی ہے،اب وہ ایک دوسرے بلکہ تیسرے درجہ کی طاقت بنتی نظر آتی ہے۔ اس کی وہ سلطنت جو چار براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی ہماری آنکھوں کے سامنے پارہ پارہ ہو رہی ہے۔ اس کے مدبر اعظم مارشل پیتیاں (Marshall Petaine) نے خود جون ۱۹۴۰ء کی شکست کے بعد علانیہ اس کا اعتراف کیا ہے کہ ہماری یہ ذلت ہماری اپنی نفس پرستیوں کا نتیجہ ہے اور دنیا کے اہل بصیرت نے بالا تفاق اس کی شکست کے اسباب میں سے اہم سبب اس کی شرح پیدائش کے مسلسل انحطاط کو قراردیا ہے۔ اس کے بعد دنیا کی دوسری عظیم تر قوم (یعنی برطانیہ ) کو بھی اب یہی خطرہ درپیش ہے۔ چنانچہ حال ہی میں مسٹر چرچل کے صاحبزادے مسٹر رینڈ ولف چرچل نے تقریر کرتے ہوئے کہا:
"میں نہیں سمجھتا کہ ہماری قوم بالعموم اس خطرے سے آگاہ ہو چکی ہے کہ اگر ہماری شرح پیدائش اسی طرح گرتی رہی تو ایک صدی کے اندر جزائر برطانیہ کی آبادی صرف ۳۰ لاکھ رہ جائے گی اور اتنی کم آبادی کے بل بوتے پر برطانیہ دنیا میں ایک بڑی طاقت نہ رہ سکے گا۔“
" بر طانوی لوگوں میں اپنے معاشرتی مرتبہ کا خیال بہت زیادہ ہے اور وہ نہایت مبالغہ کے ساتھ اپنے اس مرتبہ کو قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے ہاں قصداً افراد خاندان کی تعداد کم تر رکھنے کی سعی کی جاتی ہے کیونکہ بچے ایک دو سے زیادہ ہو جانے کی صورت میں انہیں خوف ہوتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو اس شان کے ساتھ مدرسے نہ بھیج سکیں گے جس کے ساتھ ان کے ہمسایوں کے بچے جاتے ہیں اور اس سے معاشرت میں ان کی حیثیت گر جائے گی۔“
یورپ کے جن دوسرے ممالک کو پچھلے دنوں جنگ کے عفریت نے پامال کیا ہے ان میں سے اکثر انہی غلط تمدنی نظریات کی بھینٹ چڑھے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی حماقت سے زندگی کے وہ طریقے اختیار کیے جنہوں نے ان کی قومی طاقت کو گھن لگا دیا لیکن جن لوگوں کو دنیا میں آنکھیں بند کر کے چلنے کی عادت ہے وہ ان واقعات سے کوئی عبرت حاصل نہیں کرتے اور ظاہر غریب سائنٹیفک زبان میں جو نظریات کاغذ پر لکھے گئے ہیں انہی کی پیروی سے چلے جاتے ہیں حالانکہ تجربہ کی کسوٹی ، جس نے آج تک کسی ملمع ساز کے ساتھ رعایت نہیں کی ہے، اس چمکدار کھوٹ کا راز کبھی کا فاش کر چکی ہے۔
میرے اس مختصر رسالہ کا موضوع اگر چہ ضبط ولادت اور اس کی فکری و عملی بنیادوں کا ابطال ہے، لیکن ضمناً اس میں تمدن و فلسفہ کے وسیع تر مسائل پر بھی اشارات آگئے ہیں جن سے اہل نظیر کو مسائل زندگی پر غور کرنے کیلئے مغرب کی پامال راہوں سے الگ ایک دوسری راہ مل سکتی ہے۔میری کتاب "پردہ" اور "حقوق الزوجین" کے ساتھ مل کر یہ رسالہ اسلام کے نظام معاشرت اور اس کی نظری اساس کو سمجھنے میں غالبا اچھا مددگار ثابت ہوگا۔ ابوالاعلیٰ دار لا سلام ۔ نز د پٹھان کوٹ ، ۹ مارچ ۱۹۴۳ء
برعظیم ہندو پاکستان میں گزشتہ ربع صدی سے ضبط ولادت (Birth Control) کی تحریک زور پکڑ رہی ہے۔ اس کی تائید میں نشر و اشاعت کرنے اور لوگوں کو اس کی طرف رغبت ولا نے اور اس کے عملی طریقوں کے متعلق معلومات بہم پہنچانے کیلئے انجمنیں قائم ہو چکی ہیں اور رسالے شائع کیے جارہے ہیں۔ پہلے لندن کے ساتھ کنٹرول انٹر نیشنل انفارمیشن سنٹر کی ڈائریکٹر مز ایڈ تھ ہو مارٹن (Mrs Adith How Martyn) نے اس تحریک کی نشر و شاعت کیلئے اس بر عظیم کا دورہ کیا۔ پھر ۱۹۳۱ء کی مردم شماری کے کمشنر ڈاکٹر بٹن (Dr. Button) نے اپنی رپورٹ میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کو خطرناک ظاہر کر کے ضبط ولادت کی ترویج پر زور دیا۔اس کے بعد متحدہ ہندوستان کی کونسل آف اسٹیٹ کے ایک مسلمان ممبر نے حکومت کو توجہ دلائی کہ وہ ہندوستان میں آبادی کی افزائش کو روکنےکیلئے عملی تدابیر اختیار کرے۔ اگر چہ حکومت ہند نے اس وقت اس تجوید کور د کر دیا تھا لیکن لکھنو میں عورتوں کی آل اعد یا انجمن نے اس کی حمایت میں ایک قرار داد پاس کر دی۔ کراچی اور بمبئی کی مجالس بلدیہ میں اس کی عملی تعلیم رائج کرنے پر بحث کی گئی۔ میسور اور مدراس اور بعض دوسرے مقامات پر اس کیلئےمطب (Clinics) کھول دیئے گئے اور صاف نظر آنے لگا کہ مغرب سے آئی ہوئی دوسری چیزوں کی طرح یہ تحریک بھی اس برعظیم میں پھیل کر رہے گی۔ اس کے بعد ہندوستان اور پاکستان دو آزاد ملک بن گئے اور کچھ زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ دونوں ملکوں کی حکومتوں نے اپنے اپنے حدود میں اس تحریک کو ایک قومی پالیسی کی حیثیت سے اختیار کر لیا۔
جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے وہ تو ایک لادینی مملکت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، اس لیےاسے اپنی کسی سرکاری پالیسی کیلئے مذہب سے سند کی ضرورت نہیں۔ لیکن پاکستان ماشاء اللہ ایک اسلامی مملکت ہے، اس لیے یہاں یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ یہ تحریک عین مطابق اسلام ہے۔ اس کے بعد اگر اسلامی قوانین کا علم رکھنے والے خاموش رہیں تو عام طور پر یہی سمجھ لیا جائے گا کہ اسلام فی الواقع اس تحریک کا حامی ہے، یا کم از کم اسے جائز رکھتا ہے۔
__________________________________________________________________________ ١- اب اس تحریک کا نیا نام " خاندانی منصوبہ بندی (Planned Parent-hood) اس نئی اصطلاح کا استعمال امریکہ میں شروع ہوا اور پھر آہستہ آہستہ تحریک کا یہی نام پڑ گیا۔ ۱۹۴۲ء میں امریکہ کی ضبط تولید کی تنظیموں کی فیڈریشن( Birth Control) (Federation of America کا نام تبدیل کر کے(Planned Parent-hood Federation of America) رکھ دیا گیا۔ (ملاحظہ ہو: انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا، ۱۹۵۵ء ۔ جلد ۳ صفحه ۶۴۷)
یہ کتاب اسی غلط نہی کو رفع کرنے کیلئے لکھی جارہی ہے لیکن قبل اس کے کہ اس مسئلہ پر اسلامی نقطۂ نظر سے بحث کی جائے، یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ ضبط ولادت کی تحریک کیا ہے؟ کس طرح شروع ہوئی ؟ کن اسباب سے اس نے ترقی کی؟ اور جن ممالک میں اس نے رواج پایا وہاں اس کے کیا نتائج رونما ہوئے؟ جب تک یہ مقدمات اچھی طرح ذہن نشین نہ ہو جائیں گے، شرع اسلام کا فتویٰ ٹھیک ٹھیک سمجھ میں نہ آئے گا، نہ دل اس پر مطمئن ہو سکیں گے۔ اس لیے سب سےپہلے ہم انہی امور پر روشنی ڈالیں گے اور آخر میں اس کے متعلق اسلامی نقطۂ نظر کی توضیح کریں گے۔ اس سلسلے میں جو مواد ان صفحات میں پیش کیا جارہا ہے، ہم توقع رکھتے ہیں کہ ملک کے تعلیم یافته اصحاب بھی، اور ہمارے حکمران بھی سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور کریں گے۔ اجتماعی زندگی کے مسائل اس قدر پیچیدہ ہوتے ہیں کہ کسی ایک ہی نقطہ نظر سے ان پر سوچنا اور ان کا ایک حل تجویز کر دینا بھی مفید نہیں ہوتا ۔ ایک اجتماعی مسئلے کو حل کرنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ اس کے تمام متعلقہ پہلوؤں پر جامعیت کے ساتھ نگاہ ڈالی جائے اور کسی وقت بھی بحث و تحقیق کا دروازہ بند نہ کیا جائے۔ اگر کسی مسئلے کے متعلق ایک قومی پالیسی بنا بھی لی گئی ہو تو اسے غور کر راور نظر ثانی سے بالاتر نہ سمجھ لینا چاہیے۔ ........✰✰✰........
ضبط ولادت کا اصل مقصد نسل کی افزائش کو روکنا ہے۔ قدیم زمانے میں اس کیلئے عزل، اسقاط حمل قبل اولا د اور برہم چرج ( یعنی ضبط نفس، خواہ وہ تجرد کی شکل میں ہو یا مقاربت سے پر ہیز کی شکل میں) کے طریقے اختیار کیے جائے تھے۔ آج کل مؤخر الذکر دونوں طریقوں کو ترک کر دیا گیا ہے اور ان کے بجائے پر طریقہ ایجاد ہوا ہے کہ مقاربت تو کی جائے مگر دواؤں یا آلات کے ذریعہ سے استقرار حمل کو روک دیا جائے۔ اسقاط حمل کا طریقہ بھی کثرت کے ساتھ یورپ اور امریکہ میں رائج ہے۔ لیکن برتھ کنٹرول کی تحریک صرف مانع حمل تدابیر پر زور دیتی ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ ان تدابیر کا علم اس قدر عام کر دیا جائے اور ان کے ذرائع اس کثرت کے ساتھ فراہم کیے جائیں کہ ہر بالغ مرد و عورت ان سے فائدہ اٹھا سکے۔
تحریک کی ابتداء:
یورپ میں اس تحریک کی ابتداء اٹھارھویں صدی عیسوی کے اواخر میں ہوئی۔ اس کا پہلا محرک غالباً انگلستان کا مشہور ماہر معاشیات مالتھوس (Malthaus) تھا۔ اس کے عہد میں انگریزی قوم کی روز افزوں خوشحالی کے سبب سے انگلستان کی آبادی تیزی کے ساتھ بڑھنی شروع ہوئی۔ آبادی کی اس تو غیر کو دیکھ کر اس نے حساب لگایا کہ زمین پر قابل سکونت جگہ محدود ہے، اور اسی طرح معیشت کے وسائل بھی محدود ہیں، لیکن نسل کی افزائش غیر محدود ہے۔ اگر نسل اپنی فطری رفتار کیساتھ بڑھتی رہے تو زمین اس کیلئے تنگ ہو جائے گی ، وسائل معاش کفایت نہ کر سکیں گے اور افزائش نسل کے ساتھ معیار زندگی پست ہوتا چلا جائے گا۔ لہذانسل انسانی کی خوش حالی ،آسائش اور فلاح و بہبود کیلئے ضروری ہے کہ اس کی افزائش، وسائل معاش کی وسعت کے ساتھ متناسب رہے اور اس سے آگے نہ بڑھنے پائے۔ اس غرض کیلئے اس نے برہم چرج کے قدیم طریقے کو رائج کرنے کا مشورہ دیا۔ یعنی بڑی عمر میں شادی کی جائے اور ازدواجی زندگی میں ضبط نفس سے کیا لیا جائے۔ یہ خیالات پہلی مرتبہ (۱۷۹ء میں اس نے اپنے ایک رسالہ ” آبادی اور معاشرے کی آئندہ ترقی پر اس کے اثرات( An Essay on Population and as it effects the furure Improvement of Society) میں پیش کیے تھے۔
اس کے بعد فرانسس پلاس (Francis Place) نے فرانس میں افزائش نسل کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔ مگر اس نے اخلاقی ذرائع کو چھوڑ کر دواؤں اور آلات کے ذریعہ سے منع حمل کی تجویز پیش کی۔ اس رائے کی تائید میں امریکہ کے ایک مشہور ڈاکٹر چارلس نوٹن( Charles Knowlton)نے ۱۸۳۳ء میں آواز بلند کی۔ اس کی کتاب ” ثمرات فلسفه“ ( The Fruits of Philosophy) غالباً پہلی کتاب ہے جس میں منع حمل کے طبی طریقوں کی تشریح کی گئی تھی اور ان کے فوائد پر زور دیا گیا تھا۔
ابتدائی تحریک کی ناکامی اور اس کا سبب:
ابتداء میں اہل مغرب نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ کی، اس لیے کہ نظر یہ اصلاً غلط تھا۔ ما تھوس حساب لگا کر یہ تو دیکھ سکتا تھا کہ آبادی کسی رفتار سے بڑھتی ہے، لیکن اس کے پاس یہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہ تھا کہ وسائل معاش کس رفتار سے بڑھتے ہیں اور زمین میں قدرت کے کتنے خزانے پوشیدہ ہیں جو علم کی ترقی عقل کی کار فرمائی اور عمل کی قوت سے نکلتے چلے آئے ہیں اور انسان کے وسائل معاش میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ اس کا تصور معاشی ترقی کے ان امکانات تک پہنچ ہی نہ سکتا تھا جو اس کی نگاہ سے پوشیدہ تھے اور اس کے بعد قوت سےفعل میں آئے۔انیسویں صدی کے ربع آخر تک یورپ کی آبادی تیزی کے ساتھ بڑھتی رہی، یہاں تک کہ ۷۵ سال کےاندر قریب قریب دو گنی ہوگئی۔خصوصاً انگلستان کی آبادی میں تو حیرت انگیز اضافہ ہوا جس کی مثال نسل انسانی کی پچھلی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ۱۷۷۹ء میں اس ملک کی آبادی ۲ ملین تھی۔۱۸۹۰ء میں ۳۸ ملین تک پہنچ گئی ۔ لیکن اس اضافہ کے ساتھ معاشی وسائل میں بھی زبردست ترقی ہوئی۔ صنعت و تجارت میں یہ ممالک تمام دنیا کے اجارہ دار بن گئے۔ ان کی زندگی کا انحصار خود اپنی زمین کی پیداوار پر نہ رہا بلکہ وہ اپنی مصنوعات کے معاوضہ میں دوسرے ممالک سے سامان غذا حاصل کرنے لگے اور نسل کی زبر دست افزائش کے باوجود ان کو کبھی یہ محسوس نہ ہوا کہ زمین ان کی بڑھتی ہوئی نسلوں کیلئے تنگ ہوگئی ہے، یا قدرت کے خزانے ان کی افزائش نسل کا ساتھ دینے سےانکار کر رہے ہیں۔
جدید تحریک:
انیسویں صدی کے ربع آخر میں ایک نئی تحریک اٹھی جو نومالتھوی تحریک (Neo-Malthusin Movement) کہلاتی ہے۔۱۸۷۲ء مسز اپنی بیسنٹ اور چارلیس بریڈ لانے ڈاکٹر نوٹن کی کتاب "شمرات فلسفہ کو انگلستان میں شائع کیا۔ حکومت نے اس پر مقدمہ چلا دیا۔ مقدمہ کی شہرت نے عوام کو اس تحریک کی طرف متوجہ کر دیا۔ ۱۸۷۷ء میں ڈاکٹر ڈریسڈیل (Drysdale) کے زیر صدارت ایک انجمن قائم ہوگئی جس نے ضبط ولادت کی تائید میں نشر و اشاعت شروع کر دی۔ اس کے دو سال بعد مسز بیسنٹ کی کتاب قانون آبادی (Law of Population) شائع ہوئی جس کے ایک لاکھ پچھتر ہزار نسخے پہلے ہی سال فروخت ہو گئے ۔۱۸۸۱ء میں یہ تحریک ہالینڈ تھیم، فرانس اور جرمنی میں پہنچی اور اس کے بعد رفتہ رفتہ یورپ اور امریکہ کے تمام متمدن ممالک میں پھیل گئی۔ باقاعدہ انجمنیں قائم ہوئیں جنہوں نے تحریر و تقریر کے ذریعہ سے لوگوں کو ضبط ولادت کے فوائد اور اس کے عملی طریقوں سے آگاہ کیا۔ اس کو اخلاقی نقطہ نظر سے جائز بلکہ مستحسن اور معاشی نقطۂ نظر سے مفید بلکہ قطعا ناگزیر بتایا گیا۔ اس کے لیے دوا ئیں ایجاد کی گئیں۔ آلات بنائے گئے عام لوگوں کی دست رس تک ان چیزوں کو پہنچانے کا انتظام کیا گیا۔ جگہ جگہ ضبط ولادت کے مطب (Brith Control Clinics) قائم کیے گئے جہاں عورتوں اور مردوں کو ضبط ولادت کے لیے ماہرانہ مشورے دیئے جانے لگے۔ اس طرح اس نئی تحریک نے بہت جلدی فروغ پالیا اور اب یہ روز بروز بڑھتی چلی جارہی ہے۔
ترقی کے اسباب:
دور جدید میں اس تحریک کے پھیلنے کی اصل وجہ وہ نہیں ہے جس کی بناء پر ابتداء میں مالتھوس نے افزائش نسل کو روکنے کا مشورہ دیا تھا۔ بلکہ دراصل یہ نتیجہ ہے مغرب کے جدید صنعتی انقلاب (Industrial Revolution) اور سرمایہ دارانہ نظام اور مادہ پرست تہذیب اور نفس پرست تمدن کا۔ آئیے اب ہم ان اسباب میں سے ایک ایک پر نظر ڈال کر دیکھیں کہ اس نے مغربی قوموں کو کس طرح ضبط ولادت پر مجبور کیا۔
ا۔ صنعتی انقلاب
یورپ میں جب مشین ایجاد ہوئی اور مشترک سرمائے سے بڑے بڑے کارخانے قائم کر کے کثیر پیداواری (Mass Production) کا سلسلہ شروع ہوا تو دیہات کی آبادیاں کھیتی باڑی کو چھوڑ کر کارخانوں میں کام کرنےکیلئے شہروں کی طرف آنے لگیں یہاں تک کہ دیہات اجڑ گئےاور بڑےبڑےعظیم الشان شہر وجود میں آئےجہاں لکھوکھا آدمی ایک محدود جگہ میں مجتمع ہو گئے۔اس چیز نےابتداء میں یورپ کی خوش حالی کو خوب بڑھایا لیکن بعد میں اس نےبےشمار معاشی مشکلات پیدا کر دیں۔ زندگی کیلئےجدو جہد بڑھ گئی،مقابلہ سخت ہو گیا،معاشرت کا معیار بلند ہوا، ضروریات زندگی نے وسعت اختیار کی اور ان کی قیمتیں اتنی بڑھ گئیں کہ محدود آمدنی رکھنے والوں کیلئے اپنی خواہشات کے مطابق اپنی معاشرت کے بلند مرتبے کو قائم رکھنا مشکل ہو گیا۔ مکانات میں جگہ کم اور کرائے زیادہ ہو گئے ۔ کمانے والوں کیلئے کھانے والوں کا وجود دو بھر ہونے لگا۔ بالوں کے لیے اولاد اور شوہروں کیلئےبیو یوں تک کی پرورش نا قابل برداشت بار بن گئی۔ہر شخص مجبور ہو گیا کہ اپنی آمدنی کو صرف اپنی ذات پر خرچ کرے اور دوسرےحصہ داروں کی تعداد جہاں تک ممکن ہو گھٹا ہے ہے۔
۲ عورتوں کا معاشی استقلال:
ان حالات میں عورتوں کو مجور اپنی کفالت آپ کرنا اور خاندان کےکمانےوالےافراد میں شامل ہونا پڑا۔معاشرت کی قدیم اور فطری تقسیم عمل،جس کی رو سےمرد کا کام کمانا اور عورت کا کام گھر کا کام کرنا تھا،باطل ہو گئی۔عورتیں کارخانوں اور دفتروں میں خدمت کرنےکیلئےپہنچ گئیں اور جب کسب معیشت کا بار ان کو سنبھالنا پڑا تو ان کے لیے مشکل ہو گیا کہ افزائش نسل اور پرورش اطفال کی اس خدمت کو بھی ساتھ ساتھ ادا کر سکیں جو فطرت نے ان کے سپرد کی تھی۔ایک عورت جس کو اپنی ضروریات فراہم کرنے یا گھر کے مشترک بجٹ میں اپنا حصہ ادا کرنے کیلئے روزانہ کام کرنا ضروری ہو، کس طرح اب بات پر آمادہ ہو سکتی ہے کہ وہ اس حالت میں بچے بھی پیدا کرے۔زمانہ حمل کی تکالیف اکثر عورتوں کو اس قابل نہیں رکھتیں کہ وہ گھر کے باہر زیادہ جسمانی یاد مافی محنت کر سکیں۔ خصوصاً حمل کے آخری زمانے میں تو ان کیلئے چھٹی لینا ضروری ہے۔ پھر وضع حمل کےزمانے میں اور اس کے بعد بھی کچھ مدت تک وہ کام کرنے کے قابل نہیں ہوسکتیں۔ اس کے بعد بچے کو دودھ پلانا اور کم از کم تین چار سال تک اس کی نگرانی، حفاظت اور تربیت کرنا ایسے حالات میں کسی طرح ممکن نہیں ہے جبکہ ماں کو باہر جا کر نوکری کرنی ہو۔ نہ تو ماں اپنے شیر خوار بچے کو دفتر یا کارخانے میں لے جا سکتی ہے، نہ اپنی قلیل معاش میں اتنی گنجائش نکال سکتی ہے کہ بچے کی تمہداشت کیلئے نوکر رکھ لے اور اگر وہ اپنے ان فطری وظائف کو انجام دینے کیلئے کافی عرصہ تک بے کا در ہے تو بھو کی مرجائے یا شوہر کیلئے نا قابل برداشت بار بن جائے۔ اس کے علاوہ جس کی وہ ملازم ہے وہ بھی گوارا نہیں کر سکتا کہ وہ بار بار کئی کئی مہینے کے لیے رخصت لیتی رہے۔ غرض ان اسباب سے عورت اپنی فطری خدمت سے اعراض کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے اور پیٹ کی ضروریات اس کے ان زبر دست جذبات کو سرد کر دیتی ہیں جو فطرت نے ماں بننے کیلئے اس کے سینے میں ودیعت کیے ہیں۔
راہ پرستی نے لوگوں میں انتہا درجے کی خود غرضی پیدا کر دی ہے۔ ہر شخص اپنی آسائش کیلئےزیادہ سے زیادہ اسباب فراہم کرنا چاہتا ہے اور پسند نہیں کرتا کہ اس کے رزق میں کوئی دوسرا حصہ لے، خواہ وہ اس کا باپ، بھائی، بہن، حتی کہ اولاد ہی کیوں نہ ہو۔ امیروں اور دولت مندوں نےنفس پرستی کیلئے عیش و عشرت کے بے شمار طریقے اور سامان ایجاد کر دیئے ہیں جن کو دیکھ دیکھ کر اوسط اور ادنی درجہ کے لوگ بھی ان کی ریس کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بہت سے اسباب عیش لوگوں کیلئے لوازم حیات بن گئے ہیں اور لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ان چیزوں کے بغیر وہ کسی طرح جی ہی نہیں سکتے۔ اس چیز نے معاشرت کے معیار کو اتنا بلند کر دیا ہے کہ ایک قلیل المعاش آدمی کے لیے اپنے ہی نفس کے تمام مطالبات کو پورا کرنا مشکل ہو جاتا ہے کجا کہ وہ بیوی اور اولاد کی ضروریات کا بھی کفیل ہو سکے ١
عورتوں میں تعلیم، آزادی اور مردوں کے ساتھ آزادانہ اختلاط نے ایک نئی ذہنیت پیدا کر دی ہے جو فطری وظائف سےان کو روز بروز منحرف کرتی چلی جارہی ہے۔وہ گھر کی خدمت اور بچوں کی پرورش کو ایک گھناؤنا کام سمجھتی اور اس سے جی چراتی ہیں۔ ان کو دنیا کی ہر چیز سے دلچسپی ہے مگر نہیں ہے تو گھر اور اس کے کام کاج اور بچوں کی نگہداشت سے۔ بیرون خانہ کے لطف چھوڑ کر اندرون خانہ کی کلفتیں برداشت کرنا وہ حماقت سمجھنے لگی ہیں۔ مردوں کیلئے جاذب نظر بننے کیلئےوه لاغر انداز ، نرم و نازک، حسین اور جوان بنی رہنا چاہتی ہیں۔ ان اغراض کیلئے وہ زہریلی دوائیں تک کھا کر جان دے سکتی ہیں ۔مگر بچے جن کر صحت خراب کرنا پسند نہیں کرتیں۔ کروڑ ہا رو پیدا اپنےبناؤ سنگھار اور اپنے لباس پر خرچ کرسکتی ہیں مگر بچوں کی پرورش کیلئے ان کے بجٹ میں گنجائش نہیں نکلتی۔
______________________________________________________________________ ١- ایک فرانسیسی مصنف لکھتا ہے کہ فرانس میں ضبط ولادت پر عمل کرنے والے جوڑوں سے جب وہ وجوہ معلوم کرنے کی کوشش کی گئی جن کی بناء پر وہ اولاد کی پیدائش روکنے کی کوشش کرتے ہیں تو پتہ چلا کہ بہت ہی کم لوگ ایسے ہیں جو کثرت عیال اور قلت مال کی بناء پر ایسا کرتے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں کے محرکات یہ ہیں:
"اپنی مالی حالت بہتر بنانا اور معیار زندگی بلند رکھنا۔ اپنی جائیداد کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم ہونے سےبچانا۔ اکلوتے بچے کو بہت اعلیٰ درجے کی تعلیم دینا اور شاندار مستقبل کیلئے تیار کرنا۔ بیوی کےحسن اور نزاکت کو حمل اور پرورش اطفال کی کھیر سے بچانا۔ اپنی سیر و تفریح کی آزادی کو محفوظ رکھنا۔ اس خطرے کی روک تھام کہ بچوں والی ہو کر بیوی بچوں ہی کی ہو کر نہ رہ جائے اور شوہر کا لطف کر کرا نہ ہو جائے ۔“
٢- کچھکچھ عرصہ قبل نیو یارک کے ہیلتھ کمشنر نے ایک تنبیہ شائع کی تھی کہ عورتیں لاغر انداز بنے کیلئے ایک دوا کثرت سے استعمال کر رہی ہیں جس کا نام (Diritrophenol) ہے۔ تجربہ سے ثابت ہوا ہے کہ یہ دوا سخت زہریلی ہے اور اب تک بہت سی عورتیں اس کی سمیت سے مرچکی ہیں ۔
تہذیب و تمدن نے انتہا درجہ کی نفس پرستی پیدا کر دی ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ زیادہ سےزیادہ لذت حاصل کریں مگر اس لذت کے ساتھ جو نتائج اور ذمہ داریاں فطرت نے مقرر کی ہیں ان سے بچے رہیں۔ زمانہ حمل اور اس کے بعد بچوں کی پرورش سے اپنے عیش کو کر کرا کرتا انہیں نا گوار ہوتا ہے۔
بچوں کی تعلیم و تربیت اور آینده زندگی میں ان کیلئےکامیابی کےمواقع پیدا کرنےکی خاطر بہت سےلوگ ( خصوصاً متوسط طبقے والے ) ضروری سمجھتے ہیں کہ ایک دو بچوں سے زیادہ پیدانہ کریں۔ ان کے معیار اور تخیلات اتنےبلند ہو گئے ہیں کہ ان کےوسائل معاش ان کےتخیلات کا ساتھ نہیں دےسکتے،اور ایسے بلند تخیلات کےمطابق زیادہ بچوں کو پرورش کرنا،تعلیم دلوانا اور زندگی میں اچھے آغاز (Start) کےمواقع بہم پہنچانا ان کیلئے محال ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ تمدن نے ذرائع تعلیم و تربیت کو نہایت گراں قیمت بھی کر دیا ہے۔
دہریت نے لوگوں کے دلوں سے خدا کا خیال ہی مٹا دیا ہے، کجا کہ وہ اس پر بھروسہ کریں اور اس کی رزاقی پر اعتماد رکھیں۔ وہ صرف اپنے موجودہ ذرائع ہی پر نظر رکھتے ہیں اور خود اپنے آپ کو اپنا اور اپنی اولا د کا رازق سمجھتے ہیں۔
یہ اسباب ہیں جن سے مغربی ممالک میں ضبط ولادت کی تحریک کو اس قدر تیزی اور وسعت کے ساتھ فروغ حاصل ہوا ۔ اگر آپ ان اسباب پر غور کی نظر ڈالیں گے تو معلوم ہوگا کہ اہل مغرب نے پہلے خود ہی غلطی کی کہ اپنے تمدن و معاشرت اور نظام معیشت کو سرمایہ داری ، مادیت اور نفس رستی کی غلط بنیادوں پر تعمیر کیا۔ پھر جب یہ تعمیر اپنے کمال کو پہنچ کر اپنے برے نتائج ظاہر کر نے لگی تو انہوں نے اس پر دوسری حماقت یہ کی کہ اس ظاہر فریب نظام معیشت و معاشرت اور طرز تہذیب و تمدن کو اعلی حالبہ برقرار رکھ کر اس کے ثمرات سے بچنے کی کوشش کی۔ اگر وہ عقل مند ہوتے تو ان اصل خرابیوں کو تلاش کرتے جن کی بدولت زندگی میں ان کے لیے یہ دشواریاں پیدا ہوئی تھیں اور اپنی زندگی میں ان کی اصلاح کیلئے کوشش کرتے لیکن انہوں نے اصلی خرابیوں کو سمجھا ہی نہیں اور اگر سمجھا بھی تو یہ ظاہر فریب تہذیب و معاشرت ان کے لیے اس قدر خوشنما ہو چکی تھی کہ انہوں نےاس کو کسی صالح تر نظام حیات سے بدلنا پسند نہ کیا۔ برعکس اس کے انہوں نے چاہا کہ اس تہذیب و تمدن اور اس نظام معیشت و معاشرت کو جوں کا توں قائم رکھ کر اپنی زندگی کی دشواریوں کو دوسرے طریقوں سے حل کریں۔ اس تلاش و تجسس میں ان کو سب سے زیادہ آسان طریقہ یہی نظر آیا کہ اپنی نسلوں کو بڑھنے سے روک دیں تا کہ اپنے وسائل معاش اور اسباب عیش سے بلا شرکت غیرے لطف اٹھانے کا موقع مل جائے اور آئندہ نسلیں ان کے ساتھ حصہ بٹانے اور ان کی زندگی کو غیر مفید اور بے لطف ذمہ داریوں سے گر انبار کرنے کیلئے پیدا ہی نہ ہوں۔ ......✩✩✩........
اب ایک نظر اس تحریک کے ان نتائج پر بھی ڈال لیجئے جو گزشتہ سو (۱۰۰) سال میں عملی تجربہ سے ظاہر ہوئے ہیں۔ ایک صدی کی مدت ایک ایسی تحریک کے حسن و قبح کا اندازہ کرنے کیلئے بالکل کافی ہے جس کو مختلف ملکوں اور قوموں میں اس قدر کثرت کے ساتھ اشاعت نصیب ہوئی ہو اور جس کے نتائج کی بار بار تحقیق کی جا چکی ہو۔
برتھ کنٹرول کرنے والے ممالک میں انگلستان اور امریکہ کو نمونے کے ممالک کی حیثیت سے لیجئے ، کیونکہ ہمارے پاس دوسرے ممالک کی بہ نسبت ان کے متعلق زیادہ ذرائع معلومات ہیں اور حالات کے اعتبار سے بھی انگلستان و امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک میں کچھ زیادہ فرق بھی نہیں ہے۔
(۱) طبقات کا عدم توازن
انگلستان کے رجسٹرار جنرل کی رپورٹوں اور نیشنل برتھ ریٹ کمیشن کی تحقیقات اور آبادی کےرائل کمیشن کی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ برتھ کنٹرول کا رواج سب سے زیادہ اعلیٰ اور اوسط طبقہ میں ہے۔ زیادہ تر اچھی تنخواہیں پانے والے کارکن،اعلی تعلیم یافتہ کاروباری لوگ، متوسط طبقہ کےذی حیثیت لوگ اور دولت مند امراء، تجار اور کارخانه دار اس تحریک پر عامل ہیں۔رہے اوئی طبقوں کے مزدور اور کام پیشہ، تو ان میں برتھ کنٹرول کا رواج، بمنزلہ صفر ہے۔نہ ان کے معیار زندگی زیادہ بلند ہوئےہیں ۔ نہ ان کے دلوں میں اونچے حو صلے ہیں اور نہ ان میں دولت مندوں کی شان دار معاشرت اختیار کرنے کی ہوس ہے۔ سب سے زیادہ یہ کہ ان کے ہاں ابھی تک وہی قدیم دستور جاری ہے کہ مرد کمائے اور عورت گھر کا انتظام کرے۔ یہی وجہ ہے کہ معاش کی قلت، وسائل زندگی کی گرانی اور مکانات کی تنگی کےباوجود وہ ضبط ولادت کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ ان میں شرح پیدائش ۴۰ فی ہزار کے قریب ہے۔ اس کے برعکس اعلیٰ اور اوسط طبقوں میں شرح پیدائش اتنی کم ہو گئی ہے کہ انگلستان کی مجموعی شرح پیدائش ۱۹۵۵ء میں صرف ۱۵۶۳افی ہزار تھی۔جسمانی محنت کرنے والوں کے خاندان بڑے بڑے ہیں اور تازہ ترین اعداد و شمار کی رو سے جن جوڑوں کی شادی ۱۹۰۰ ء اور ۱۹۳۰ء کے درمیان ہوئی تھی ان میں اوسطاً مزدوروں کے خاندان کم از کم ۴۰ فیصدی بڑے ہیں۔١
امریکی ماہر آبادی پروفیسر وارن تھامپسن انگلستان، امریکہ، جرمنی، فرانس اور سویڈن کی آبادی کی طبقاتی تقسیم کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہے۔
"اگر آبادی کی تقسیم جسمانی محنت کرنےوالوں اور سفید کالر والےملازموں کےدرمیان کی جائے تو پہلے گروہ کی باروری(Fertility) زیادہ ہے۔اگر جسمانی محنت کاروں کو بھی کسانوں اور باقی مزدوروں میں تقسیم کیا جائے تو کسانوں کی باروری زیادہ ہےغیر زرعی محنت کاروں میں اس مزدور کا خاندان بڑا ہےجو فی مہارت نہیں رکھتا اور جس کا کام سخت اور گندہ ہے اور جس کا معیار زندگی پست تر ہے....اور جب تعلیم کو معیار بنایا جائےتو معلوم ہوتا ہے کہ کم تعلیم یافتہ لوگوں کے خاندان بڑے ہیں اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کے چھوٹے اور مختصر میں ہے" ۔٢
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ضبط ولادت پر عمل کرنے والی سوسائٹی میں جسمانی محنت کرنے والےطبقے بڑھ رہے ہیں اور ان لوگوں کی تعداد روز بروز گھٹتی چلی جارہی ہے جو عقلی و ذہنی مرتبے کے لحاظ سے بلند درجہ رکھتے ہیں، جن میں کارفرمایی و رہنمائی کی صلاحیت ہے۔ یہ چیز آخر کار ایک قوم کےزوال کی موجب ہوتی ہے۔ اس لیے کہ اس کا لازمی نتیجہ قحط الرجال ہے اور قحط الرجال کے بعد کوئی قوم دنیا میں سر بلند نہیں رہ سکتی۔
با صلاحیت طبقات کی کمی ، عام ذہنی اور عقلی معیار کی پستی ، اور قحط الرجال، یہ وہ خطرات ہیں جن سے ضبط ولادت پر عمل کرنےوالےممالک آج دو چار ہو چکےہیں اور اس صورت حال سےان کے مفکرین بے حد پریشان ہیں۔ انڈس بکسلے (Aldous Huxley) اپنی تازہ ترین کتاب (Brave New World Revisited) میں کہتا ہے کہ ہمارے اعمال کی بناء پر اب یہ امر بالکل یقینی ہوتا جارہا ہے کہ ہماری تعداد میں جو اضافہ ہو وہ حیاتیاتی نقطہ نظر سے پست معیار کا ہویا_١
"نئی دواؤں اور اعلیٰ تر طریق علاج کے باوجود (اور کچھ حالات میں تو انہی کی وجہ سے ) عام آبادی کے عمومی معیار صحت میں نہ صرف یہ کہ کوئی اضافہ نہیں ہوگا بلکہ کی ہی واقع ہو گی اور صحت کا معیار گرنے کے ساتھ عام ذہنی معیار کی پستی بھی واقع ہوگی"_٢
"بحالت موجودہ بہترین طبقہ کے مقابلہ میں کمتر اور ادنی تر طبقہ زیادہ تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ تناسل انسانی کے سلسلہ میں یہ غلطی اور کجروی(Delinquency) ایک حیاتیاتی اور بنیادی حقیقت ہے۔“
شیلڈن یہ بھی بتاتا ہے کہ امریکہ میں طبی تجربات سے یہ حقیقت ظاہر ہوئی ہے کہ ۱۹۱۶ء کے مقابلہ میں عام ذہانت کا معیاراب فروتر ہے۔
انگلستان کے مشہور مفکر برٹرینڈ رسل (Bertrand Russel) نے بھی اس حالت پر بڑی تشویش کا اظہار کیا ہے (اور یہ ایک دلچسپ معاملہ ہے کہ رسل اور ہکسلے دونوں ضبط ولادت کے- - - - خصوصیت سےمشرقی ممالک میں اس کی ترویج کے... بڑنے پرزور حامی ہیں )
"فرانس میں آج آبادی عملی طور پر بالکل ٹھیری ہوئی (Stationary) ہے ( یعنی ایک حالت پر قائم ہے ) اور انگلستان میں بڑی تیزی کے ساتھ اس حالت میں آ رہی ہے۔ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ کچھ طبقات میں کمی آرہی ہے اور کچھ دوسرے طبقات بڑھ رہے ہیں اور اب جب تک کوئی بنیادی تبدیلی واقع نہ ہو، ہوگا یہ کہ جو طبقے کم ہو رہے ہیں وہ عملاً معدوم ہو جائیں گے اور آبادی صرف ان طبقوں پر مشتمل رہ جائے گی جو بڑھ رہے ہیں۔ جو طبقے کم ہو رہے ہیں وہ ہنر مند کاریگروں اور متوسط لوگوں پر مشتمل ہیں اور جو بڑھ رہے ہیں وہ غریب،جمود زدہ ، بدمست اور کند ذہن لوگ ہیں۔ جو طبقات روز بروز کم ہور ہےہیں ان میں سب سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ معدوم ہونے والے وہی ہیں جو ذہنی اعتبار سے سب سے بلند ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری ہر نسل میں سے اس کا بہترین عصر نکل جاتا ہے اور مصنوعی طور پر بانجھ کر دیا جاتا ہے۔ کم از کم ان لوگوں کے مقابلہ میں جو باقی رہ جاتے ہیں"_١
"اگر انگلستان کی آبادی میں سے بچوں کا ایک عام نمونہ (Sample) لیا جائے اور پھر ان کے والدین کے حالات کا مطالعہ کیا جائے تو یہ معلوم ہوگا کہ فہم ، قوت، عقل اور روشن خیالی میں وہ ملک کی عام آبادی کے معیار سے کم تر ہوں گے اور بے عملی کند ذہنی، حماقت اور تو ہم پرستی میں اس سے بڑھ چڑھ کر ہمیں اس سے یہ بھی معلوم ہو گا کہ جو سمجھدار، باعمل، ذہین اور روشن خیال میں وہ اپنی تعداد کے برابر تعداد تک کو جنم نہیں دے سکتے ، یعنی دوسرے الفاظ میں بالعموم ان کے ہاں اوسطاً دو بچے بھی زندہ نہیں رہتے ۔ اس کے مقابلہ میں وہ جو برعکس صفات سےمتصف ہیں اور مندرجہ بالا اعلیٰ صفات کے عین ضد ہیں ان کے ہاں دو سے زیادہ بچے ہوتے ہیں اور وہ تناسل کے ذریعے اپنی تعداد برابر بڑھا رہے ہیں ۔١"
___________________________________________________________________________ ١- (Russel. Bertrand. Principles Of Soconstruction. 1954. p. 124) ٢- یہ علم شماریات کی ایک خاص اصطلاح ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ مطالعہ کیلئے ایک نمائندہ گر وہ منتخب کر لیا جائے جس میں مجموعے کی ضروری خصوصیات موجود ہوں-
پھر اس تبدیلی کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے رسل کہتا ہے کہ آبادی کے بہترین عناصر میں جو غیر معمولی کمی واقع ہورہی ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ:
اسی سلسلے میں برٹرینڈ رسل موجودہ حالات کا مقابلہ تہذیب روما سے کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کے زوال میں بھی کچھ ایسے ہی عوامل کا ہاتھ تھا۔
"دوسری تیسری اور چوتھی صدی عیسوی میں سلطنت روما کے اندر قوت کار کردگی اور ذہانت کا جو انحطاط رونما ہوا تھاوہ ہمیشہ نا قابل فہم رہا ہے لیکن یہ رائے قائم کر لینے کے لیے قوی بنیاد میں موجود ہیں کہ اس زمانہ میں بھی وہی کچھ ہوا تھا جو آج خود ہماری تہذیب میں ہو رہا ہے، یعنی رومیوں کی ہر پشت (Generation) میں ان کے بہترین عناصر اپنی مساوی تعداد کو جنم دینے میں ناکام ہوتے رہے اور آبادی کی افزائش ان عناصر کے ذریعہ سے ہوتی رہی جن کی قوت عمل کم تھی ہے_٢"
"یہ نا قابل انکار ہے کہ اگر ہمارا موجودہ معاشی نظام اور ہمارےاخلاقی معیارات تبدیل نہیں ہوتے تو آئندہ دو تین پشتوں میں تمام مہذب ممالک کی آبادی کے کردار میں خراب ترین تبدیلی بڑی تیزی کے ساتھ آئے گی اور مہذب ترین لوگوں کی تعداد میں مؤثر کمی واقع ہو گی اگر ہم اس نتیجے سے بچنا چاہتے ہیں تو ہم کو شرح پیدائش میں اپنی مروجه منحوس انتخابیت_١ (Selectiveness) کو کسی نہ کسی طرح ختم کرنا ہوگا۔"
_________________________________________________________________________ ١- ایضا صفحہ ۱۲۵-۱۲۳ ٢- ایضا صفحہ نمبر ۱۲۶
اس طرح ضبط ولادت کی بدولت ایک طرف تو ملک کا طبقاتی توازن درہم برہم ہو جاتا ہے اور کار فرما عصر آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتا ہے۔ دوسری طرف اس کا نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ آبادی میں بچوں اور بوڑھوں کا تناسب بگڑ جاتا ہے اور اس کے معاشی و تمدنی اثرات بڑے دور رس اور بڑے پریشان کن ہوتے ہیں۔ بچوں کی تعداد اور کل آبادی میں ان کا تناسب کم اور بوڑھوں کی تعداد اور ان کا تناسب زیادہ ہوتے چلے جانے سے قوم میں نیا خون اپنی فطری رفتار سے نہیں آتا۔ بچوں کی کمی کی وجہ سے محض اشیائے صرف کی مانگ (Demand) ہی متاثر نہیں ہوتی بلکہ پوری قوم میں حرکت اور عملیت کی جگہ جمود اور کاہلی راہ پانے لگتی ہے۔ خطرہ انگیز کرنے اور سر دھڑ کی بازی لگا دینے کا جذبہ کم ہوتا جاتا ہے اور قوم کا بڑا حصہ لکیر کا فقیر بن کر رہ جاتا ہے۔ یہ چیز رفتہ رفتہ ایک قوم کو علم معیشت ، سائنس اور دوسرے میدانوں میں ان قوموں سے بہت پیچھے کر دیتی ہے جن میں نئی نسل کی افزائش فطری رفتار سے ہوتی رہتی ہے اور نو جوانوں کی کثیر تعداد پوری قوم میں امنگوں کو بلند اور عزائم کو راسخ رکھتی ہے۔
مغربی ممالک میں ضبط ولادت کی بدولت جس رفتار سے بچوں اور نو جوانوں کا تناسب برابر کم ہو رہا ہے اور بوڑھوں کا تناسب بڑھ رہا ہے اس کے فطری اثرات ظاہر ہونے شروع ہو گئے ہیں جنہیں آج ہر صاحب نظر بچشم سر دیکھ سکتا ہے۔ گزشتہ ۷۰ سال میں جو رجحان سامنے آیا ہے وہ یہ ہے:
_________________________________________________________________________ ملک سال ۱۰ سال سے کم ١٠ سے ١٩ ٥٠ سے ٦٤ ٦٤سے زیادہ عمر کے بچے سال سال _________________________________________________________________________ انگلستان اور ویلز ١٩٨٠ء % ٧ ء٢٥ % ٦ ء٢٠ % ٨ ء ٩ % ٨ ء ٤ ١٩٩٥ء % ٥ء١٥ % ٤ ء١٢ % ٨ ء ١٦ % ٩ ء١٠ _________________________________________________________________________ جرمنی ١٨٨٠ء %١ ء ٢٥ % ٧ء ١٩ % ١ء ٨ % ٩ ء ٧ ١٩٥٠ء %٥ ء ١٤ % ٣ ء ١٦ % ٤ ء١٦ % ٣ ء٩ _________________________________________________________________________ فرانس ١٨٨١ء % ٣ ء١٨ % ١ ء١٧ % ٥ ء١٤ % ٠ ء ٨ ١٩٤٦ء % ء١٤ % ٧ ء١٥ % ٤ ء١٦ % ٠ ء١١ _________________________________________________________________________ امریکہ ١٨٨٠ء % ٧ ء ٢٦ % ٤ ء ٢١ % ٤ ء ٨ % ٤ ء ٣ ١٩٥٠ء % ٥ ء ١٩ % ٤ ء ١٤ % ٣ ء ١٤ % ء ٨ ________________________________________________________________________ (بحوالہ تھامپسن ، مسائل آبادی صفحه ۹۵)
ان تمام ممالک میں بلا استثناء آبادی کی اندرونی تشکیل میں یہی تغیر واقع ہو رہا ہے۔حال ہی میں اقوام متحدہ نےآبادی کی پیرانہ سالی کےاس رجحان پر ایک تحقیقی رپورٹ شائع کی ہےجس میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کےفراہم کردہ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ آبادی میں ۶۵ سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کے تناسب میں ۱۹۰۰ء اور ۱۹۵۰ء میں مختلف ممالک میں تناسب کا انڈکس یہ تھا:
رپورٹ میں اس امر کا اظہار بھی کیا گیا ہے کہ تناسب کو تبدیل کرنے میں بڑا دخل باروری اور شرح پیدائش کی تبدیلی کو ہے۔ اس سلسلہ میں شرح اموات کی تبدیلی اتنی مؤثر نہیں رہی ہےجتنی شرح پیدائش کی تبدیلی_١
"یہ حقیقت (یعنی بوڑھوں کی تعداد کا بڑھنا ) بہت معنی خیز اور موثر ہے کیونکہ پیرانہ سال افراد کی زیادتی کے معنی یہ ہیں کہ شرح اموات بڑھے گی اور شرح پیدائش میں کمی ہوگی ، نیز بوڑھے لوگ نو جوانوں کےمقابلہ میں معاشی حیثیت سے کم مفید اور پیدآور (Productive) ہوتے ہیں_٢
معیشت کی صحت مند بنیادوں پر ترقی کرنے کے لیے ضروری ہےکہ بوڑھوں اور جوانوں میں ایک خاص تناسب قائم رہے تا کہ تمدن کی گاڑی کھینچنے والے مضبوط ہاتھ کبھی کمزور نہ پڑنے پائیں۔ قدرت نےاس کا پورا پورا بندوست کیا ہے۔ لیکن ضبط ولادت کی وجہ سے قدرت کےکام میں جو مداخلت کی جاتی ہے اس کی بدولت یہ فطری توازن بگڑ جاتا ہے۔ بوڑھوں کی تعداد تو برابر بڑھتی رہتی ہے لیکن بچوں میں مناسب رفتار سے اضافه نہیں ہوسکتا اور تناسب برابر ناموافق ہوتا جاتا ہے۔ اس کا آخری نتیجہ کارکنوں کی قلت اور قومی طاقت کا زوال اور معاشی قوت کی کمی ہے۔ پھر جب نو جوانوں کے تناسب میں کمی کے ساتھ ساتھ کارفرما عناصر کی قلت اور قحط الرجال بھی شامل ہو جاتے ہیں تو آخر کار ایک قوم حاکم سے محکوم بن جاتی ہے اور سر بلندی و سرفرازی کے مقام سے گر کر کمزوری اور باجگزاری کے درجہ پر پہنچ جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فطرت اپنے باغیوں کو کم ہی معاف کرتی ہے۔ خود اس کی بغاوت ہی کے اندر ایسےمضمرات موجود ہوتے ہیں جو بالآخر اس جرم کی سزا کا کام انجام دے ڈالتے ہیں اور دوسروں کے لیے عبرت کا سامان فراہم کر دیتے ہیں۔
ضبط ولادت سے زنا اور امراض خبیثه کو بڑا فروغ نصیب ہوا ہے۔ عورتوں کو خدا کے خوف کے علاوہ دو چیزیں اخلاق کے بلند معیار پر قائم رکھتی ہیں۔ ایک ان کی فطری حیاء۔ دوسرے یہ خوف کہ حرامی بچہ کی پیدائش ان کو سوسائٹی میں ذلیل کر دے گی۔ ان میں سے پہلی روک کو تو جدید تہذیب نے بڑی حد تک دور کر دیا۔ رقص و سرود، نائٹ کلبس اور شراب نوشی کی محفلوں میں مردو کے ساتھ آزادانہ شرکت کے بعد حیا کہاں باقی رہ سکتی ہے۔ رہا حرامی اولاد کی پیدائش کا خوف، تو ضبط ولادت کے رواج عام نے اس کو بھی باقی نہ رکھا۔ اب عورتوں اور مردوں کو زنا کا عام لائسنس مل گیا ہے اور زنا کی کثرت کے ساتھ امراض خبیثہ کا ہونا ضروری ہے۔
انگلستان کا حال یہ ہے کہ ہر سال وہاں ۸۰ ہزار سے زیادہ نا جائز بچے پیدا ہوتے ہیں۔ڈیوسیز ان کا نفرنس (Diocesan Conference) کی رپورٹ کی رو سے ۱۹۴۶ء میں ہر آٹھ میں سےایک بچہ ناجائز تھا اور ہر سال تقریباً ایک لاکھ عورتیں دائرہ نکاح کے باہر حاملہ ہوتی تھیں ۔ ڈاکٹر آز والد شوارز (Oswald Schwarz) لکھتا ہے۔
"ہر سال اوسطاً ۸۰ ہزار عورتیں نا جائز اولاد کو جنم دیتی ہیں (یعنی تمام زچگیوں کا ۱۶۳)۔محتاط اندازے کے مطابق ہر دس میں سے ایک عورت شادی کے باہر تعلق قائم کرتی ہے۔ اس فہرست میں جو عورتیں شامل ہیں ان میں سے ۴۰ فیصدی کی عمر نا جائز ولادت کے وقت ۲۰ سال سے کم ۳۰ فیصدی کی ۲۰ سال اور ۲۰ فیصدی کی ۲۱ سال تھی۔ یہ اعداد و شمار بجائے خود بڑے پریشان کن ہیں لیکن ہمیں یا درکھنا چاہیے کہ یہ صرف ان معاملات کے اعداد وشمار ہیں جن میں کچھ نہ کچھ خرابی پیدا ہو گئی تھی (یعنی ضبط ولادت کی ساری تدبیروں کے باوجود جن میں حمل ٹھہرنے کا حادثہ پیش آگیا ) اس کے معنی یہ ہیں کہ جو کچھ دراصل ہو رہا ہے یہ اعداد اس کے صرف ایک چھوٹے سے حصے ہی کو پیش کرتے ہیں_١
ڈاکٹر شوارز کے پیش کردہ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر 10 میں سے ایک عورت گناہ سے ملوث ہے لیکن تازہ ترین معلومات اس سے بھی گھناؤنی صورت حال کو پیش کرتی ہیں۔ چیسر رپورٹ (Chesser Report) جو ۱۹۵۶ء میں شائع ہوئی ہے اور جسے ۶۰۰۰ خواتین سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے یہ دعوی کرتی ہے کہ ہر تین میں سے ایک خاتون نکاح سے پہلے ہی جو ہر عصمت کھو چکی ہوتی ہے۔ اس کی توثیق ڈاکٹر چیسر اپنی حالیہ کتاب ” کیا عصمت از کار رفتہ ہے؟ میں بھی کرتا ہے_٢
امریکہ کے متعلق کنزے رپورٹ (Kinsey Report) سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں زنا اور دوسرے جنسی جرائم کی اتنی افراط ہے کہ معاشرہ کی بنیادیں ہل گئی ہیں مردوں میں سے٧ ء ٤ فیصدی اور عورتوں میں سے ۵۰ فیصدی بلا تکلف ناجائز تعلقات قائم کیےہوئےہیں۔ _٣
" شاید اس کی ضرورت نہیں کہ ہم یہ بھی بتائیں کہ اس آزاد شہوت رانی کے کیا ہمہ گیر اثرات و نتائج فرد ، سماج اور پوری قوم پر مترتب ہو رہے ہیں ۔ خواہ اس کا نام ” جنسی آزادی، رکھ دو یا جنسی انار کی یہ حقیقت تو نہیں بدل سکتی کہ اس روش کے نتائج ان تمام انقلابات کے نتائج سے بھی زیادہ دور رس ہیں جن کا مشاہدہ آج تک چشم تاریخ نے کیا ہے _١ "
کنزے کے اندازے کے مطابق امریکہ میں ناجائز بچوں کا تناسب پانچ میں ایک ہے-غیر بیاہی ماؤں سے ہونے والی اولاد کا تناسب ۴ فیصد ہے۔ اس کے علاوہ اسقاط حمل کے متعلق کچھ قابل اعتماد اندازے یہ ہیں کہ ہر چار میں سے ایک حمل ضائع کر دیا جاتا ہے بلکہ سان فرانسسکو کے متعلق تو ٹائم میگزین کے بقول ۱۹۴۵ء میں ۴۰۰، ۱۶ ولادتوں کے مقابلہ میں ۱۸۰۰۰ اسقاط ہوئے۔
اسی طرح اگر جرائم- - - - خصوصیت سے جنسی جرائم- - - - -کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہےکہ وہ روز بروز بڑھ رہے ہیں۔ انگلستان میں پولیس کے نوٹس میں جو قابل دست اندازی پولیس جرم آئے ہیں ان میں مندرجہ ذیل رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے_٣
اسی زمانے میں جنسی جرائم کا تناسب کل جرائم میں ۷ فیصد سے بڑھ کر ۳ ۶ فیصد ہو گیا ہے گی۔ امریکہ کے متعلق فیڈرل بیورو آف انوسٹی گیشن 1.1.F.B) کے فراہم کردہ اعداد وشمار سےمعلوم ہوتا ہے کہ ۳۹۔ ۱۹۳۷ء کی بہ نسبت ۱۹۵۵ء میں زنا کاری ۶۰ فیصدی بڑھ گئی ہے۔ دوسرے جرائم میں بھی ۵ فیصدی سے ۸۰ فیصدی تک اضافہ ہوا ہے۔ اگر تمام اہم اور بڑے جرائم کو لیا جائے تو ۱۹۵۸ء میں ۲۳لاکھ سے زیادہ واقعات پولیس کے نوٹس میں آئے جبکہ ۱۹۴۰ء میں یہ تعداد صرف ۱۵ لاکھ تھی_٦ نوجوانوں کی آوارگی بھی روز افزوں ہے۔ امریکہ کے ۱۴۷۳ شہروں میں ۱۹۵۷ء میں جو ۲۰ لاکھ ۹۸ ہزار افراد مختلف جرائم کے سلسلہ میں گرفتار ہوئے ان میں سے ۲لا کھ ۵۳ ہزار ۱۸ سال سے کم عمر کے تھے۔١
جنسی آزادی سے پیدا ہونے والی بیماریاں بھی برابر فروغ پارہی ہیں اور علاج کے بہترین مواقع فراہم ہونے کے باوجود ان بیماریوں کا اثر قومی صحت پر بڑا تباہ کن ہے۔ اگر صرف آتشک (Syphilis) ہی کو لیا جائے تو امریکہ کے سرجن جنرل آف پبلک ہیلتھ سروس مسٹر تھامس پیرن (Thomas Paran) کے بقول یہ خبیث مرض فالج اطفال کے مقابلہ میں سو گناہ زیادہ تباہی کا باعث ہے اور امریکہ میں اس وقت سرطان ، تپ دق، اور نمونیہ کے برابر خطرناک ہے۔ ہر چار میں سے ایک موت بلا واسطہ یا بالواسطہ آتشک ہی کی بناء پر واقع ہورہی ہے۔ پروفیسر پال لینڈس ڈاکٹر پیران کی رائے نقل کرنے کے ساتھ ہی ہم کو بتاتے ہیں:
"۱۹۴۷ء کے بعد نئی دواؤں کے فروغ اور استعمال کی وجہ سےامراض خبیثه میں کمی واقع ہورہی تھی لیکن ۱۹۵۵ء سے پھر الٹی روچل پڑی ہے۔ امریکہ کے تمام بڑے شہروں میں آتشک اور سوزاک (Gonorrhea) کے امراض تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور ان بیماریوں کا سب سے زیادہ اضافہ نو جوانوں میں ہو رہا ہے جن کی عمر میں سال سے کم ہے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ بیماریوں کی نصف تعداد نو جوانوں کے اسی گروہ میں پائی جاتی ہے_٢"
اگست ۱۹۶۱ء کے ریڈرز ڈائجسٹ میں جارج کینٹ (Kent) اور ولفرڈ گریٹوریکس (Wilfred Greatorex) کا ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں وہ بتاتے ہیں کہ برطانیہ کے بڑے شہروں، مثلا لندن، برمنگھم، لور پول و غیرہ میں امراض خبیثه از سرنو بڑے زور سے پھیل رہے ہیں۔ نئی جراثیم کش دواؤں کی بدولت کچھ مدت تک ان امراض کو دبانے میں جو کامیابی ہوئی تھی وہ نا کامی میں بدل چکی ہے۔ ۱۹۵۶ء سے ۱۹۵۹ء تک چار برس کی مدت میں مختلف اقسام کے امراض خبیثه کے اندر ۲۰ فیصدی اضافہ ہو چکا ہے۔ ۱۹۵۹ء میں صرف سوزاک کے نئےمریض ۳۱ ہزار تھے، یعنی ۱۹۵۵ء کے مقابلہ میں ۷۰ فیصدی اضافہ اور یہ اعداد صرف ان بیماروں کے ہیں جو امراض خبیثه کا علاج کرنے والے مخصوص مراکز میں آئے ہیں جو مریض عام پریکٹس کرنے والے ڈاکٹروں اور پرائیویٹ ماہرین کے پاس جاتے ہیں، یا جو سرے سے علاج کیلئےجاتے ہیں نہیں ، وہ اس تعداد میں شامل نہیں ہیں۔ پھر وہ بتاتے ہیں کہ امراض خبیثہ کی یہ وبا بڑےپیمانے پر ساری قوم میں پھیل رہی ہے اور اس کا سب سے زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ۲۰ سال سے کم عمر کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں اس کا زور بڑھ رہا ہے۔ حال ہی میں چند ڈاکٹروں نے۱۹۴۸ء سے اب تک کے اعداد و شمار کا مقابلہ کر کے یہ رپورٹ دی ہے کہ ۱۸ سے ۱۹ سال تک کی عمر کے نوجوانوں میں ایک سال کے اندر لڑکوں کے سوزاک کی تعداد ۳۶ فیصدی اور لڑکیوں کے سوزاک کی تعداد ۲۸ فیصدی بڑھ گئی۔ برطانیہ کی مرکزی کونسل برائے تعلیم صحت کے ڈائریکٹراے جے ڈیلزل وارڈ (Dalzell Ward) کا اندازہ ہے کہ ۲۰ سال سے کم عمر کے لوگوں میں امراض خبیثہ کی یہ کثرت اس سے پہلے کبھی نہ ہوئی تھی۔ لندن کے صرف ایک ہسپتال میں بیک وقت اس عمر کے ۴۹۰ مریض موجود تھے۔ اور پول میں امراض خبیثہ کے مریضوں کی نصف تعداد ۱۴ سے ۲۱ سال تک کی عمر کی تھی ۔
کم و بیش یہی حالت دوسرے ملکوں کی بھی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنا ئزیشن کی ایک حالیہ کانفرنس میں 4 ملکوں کی طرف سے یہ رپورٹ پیش کی گئی تھی کہ ان کے ہاں آتشک اور سوزاک ایک خوفناک وبا کی طرح پھیل رہے ہیں۔ اٹلی میں ۱۹۵۸ء اور ۱۹۵۹ء کے درمیان آتشک کےوبا مریض تین گنا زیادہ ہو گئے اور ڈنمارک میں دو گئے ۔
یہ حالات صاف بتا رہے ہیں کہ ضبط ولادت نے جدید دنیا کی اجتماعی زندگی میں گناہ کا جو دروازہ کھولا ہے اس سے زنا، جنسی جرائم اور امراض خبیثه کے عفریت دندناتے ہوئے داخل ہو رہے ہیں اور انہوں نے پورے سماج کو اپنی تباہ کاریوں کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
ضبط ولادت بھی ان اسباب میں سے ایک ہے جنہوں نے مغربی ممالک میں زدواجی تعلقات کی بندشوں کو کمزور کر دیا ہے۔ عورت اور مرد کے درمیان زوجی تعلق کو مضبوط کرنے میں اولاد کا بہت بڑا حصہ ہوتا ہے۔ جب اولاد نہ ہوگی تو زوجین کیلئے ایک دوسرے کو چھوڑ دینا بہت آسان ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ میں طلاق کا رواج کثرت سے پھیل رہا ہے اور طلاق حاصل کرنے والوں میں بڑی اکثریت ان جوڑوں کی پائی جاتی ہے جو بے اولاد ہیں۔ کچھ عرصہ قبل لندن کی ایک عدالت طلاق میں ڈیڑھ منٹ کے اندر ۱۵ نکاح فسخ کرائے گئے اور بلا استثناء وہ سب کے سب ایسے جوڑے تھے جن کے ہاں اولاد نہ ہوئی تھی۔
ماہرین عمرانیات بالعموم یہ کہہ رہے ہیں کہ کثرت طلاق میں بچوں کے نہ ہونے کا بہت بڑا دخل ہے بلکہ اس پر ان میں تقریباً اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ ٹالکوٹ پارسنز ( Talcott parsons) واضح اعداد وشمار دے کر اس رائے کا اظہار کرتا ہے کہ:
"بہت بڑی حد تک طلاقیں شادی کے اولین سالوں میں بے اولاد جوڑوں میں ہوتی ہیں اور ہو رہی ہیں ۔ چاہے زن وشو پہلے کے مطلقہ ہی کیوں نہ ہوں، جب ایک بارلوگوں کے اولاد ہونے لگتی ہے تو پھر ان کے متحد رہنے کے امکانات بہت زیادہ ہو جاتے ہیں _١
طلاق حاصل کرنے والے جوڑوں میں سے دو تہائی بے اولاد ہیں اور ۱/۵ کے صرف ایک بچہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ طلاق اور بے اولاد شادی میں ایک واضح اور بین تعلق ہے _٢
"ایک عام شادی شدہ جوڑے کو صاحب اولاد ہونا چاہیے۔ جولوگ اولا د کو موخر کرتے ہیں بعد میں انہیں اس پر نادم ہونا پڑتا ہے۔ لاولد شادیاں نت نئے مسائل کو جنم دیتی ہیں اور خواہ زوجین ایک دوسرے سےمطمئن ہی ہوں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان پر ایک شدید قسم کی بدمزگی اور بے کیفی مسلط ہو جاتی ہے۔ گویا کہ وہ اپنے سفر کے اختتام پر پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین عمرانیات ہمیں برابر متنبہ کر رہے ہیں کہ شرح طلاق ان گھروں میں سے زیادہ ہے جو اولاد سے محروم ہیں۔ اس کی وجہ بہت واضح ہے۔ اس صورت میں ماں اور باپ بننے کی بنیادی فطری اور جبلی خواہش پوری نہیں ہوتی۔ یہ چیز عورت کے معاملہ میں خصوصیت سے بڑی اہم ہے۔ ضبط ولادت سے اس کی مادری جہات کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے، جس سے اس کا نظام اعصاب پراگندہ ہو سکتا ہے، اس کی صحت تباہ ہو سکتی ہے اور زندگی میں اس کی تمام خوشی اور دلچسپی خاک میں مل سکتی ہے_١"
ڈاکٹر فریڈ مین اور ان کے رفقاء کی تحقیقات بھی اسی نتیجہ کی نشان دہی کرتی ہیں۔ وہ اپنی اور دوسرے لوگوں کی تحقیقات کی بنیاد پر لکھتے ہیں:
ضبط ولادت پر عامل ممالک میں جس رفتار سے طلاق میں اضافہ ہو رہا ہے وہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ انگلستان کے متعلق ڈاکٹر آز والد شوارز لکھتا ہے:
گزشتہ نصف صدی میں طلاقوں کا سیلاب جس رفتار سے بڑھ رہا ہے اس میں وبا کی سی تیزی اور زہرنا کی پائی جاتی ہے۔ ۱۹۱۴ء میں اس ملک میں ۸۵۶ طلاقیں واقع ہوئی تھیں ۔ ۱۹۲۱ء میں ان کی تعداد ۳۵۲۲ ہو گئی ۔ ۱۹۲۸ء میں چار ہزار ۔ ۱۹۴۶ء میں یہ تعداد بڑھ کر ۳۵۸۷۴ تک پہنچ گئی ۔ کیا یہ خطرے کی گھنٹی نہیں ہے جو اس امر کی خبر دیتی ہے کہ ہماری تہذیب اخلاقی ترقی کے نقطہ عروج سے گزر چکی ہے ۔
اس کے بعد طلاق کی رفتار میں کچھ کمی ہوئی جو ۱۹۵۱ء تک جاری رہی۔۱۹۵۲ء میں پھر اضافہ ہوا اور اس کے بعد سے نشیب و فراز کا سلسلہ برابر جاری ہے ۔۔٢
امریکہ کا حال یہ ہے کہ ۱۸۹۰ء میں اگر دس رشتہ ہائے ازدواج کا انقطاع موت سے ہوتا تو صرف ایک کا طلاق سے لیکن ۱۹۴۹ء میں یہ تناسب ۱۰:۱ سے کم ہوکرا: ۵۸ ءارہ گیا ہے۔شادی اور طلاق کا تناسب بھی برابر بگڑ رہا ہے جس کا اندازہ مندرجہ ذیل اعداد و شمار سے ہوسکتا ہے:
طلاق نکاح طلاق نکاح ۱۸۷۰ء ١ : ٧ء٣٣ ١٩١٥ ء ١ : ١٢ ء١٠ ١٩٤٠ء ١ : ٦ ۱۹۴۲ء ١ : ٥ ۱۹۴۴ء ١ : ٤ ١٩٤٥ ء ١ : ٣ ۱۹۵۰ء ١ : ٣ ء٤ ١٩٥٨ء ١ : ٧ ء٣
"اس کے معنی یہ ہیں کہ ۱۸۷۰ء میں اگر تقریباً ۳۴ شادیاں ہوتی تھیں تو اس کے مقابلے میں ایک طلاق ہوتی تھی۔ مگر اب ہر چار شادیوں میں ایک طلاق ہوتی ہے۔ ۱۸۹۰ء میں ۱۰۰۰ عورتوں میں سے صرف ۳ مطلقہ ہوتی تھیں ۔ مگر ۱۹۴۶ء میں ان کی تعداد ۱۷۶۸ تک پہنچ چکی تھی۔ اس سےمعلوم ہوتا ہے کہ مطلقہ خواتین کی تعداد میں تقریبا چھ گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ اسی بناء پر پروفیسر سوروکن کہتا ہے شادی کی تقدیس باضی کے مقابلہ میں آج بار بار اور پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ مجروح ہو رہی ہے اور گھر ایک مستقل قیام گاہ ہونے کے بجائے صرف ایک گاڑیٹھہرانے کی جگہ بن کر رہ گیا ہے جہاں محض ایک رات - - - - اور یہ بھی ضروری نہیں کہ پوری رات - - - - - قیام کر لیا جائے ۔“
طلاق کے ساتھ ساتھ بیویوں کو چھوڑ جانے (Desertion) کا مرض بھی برابر بڑھتا جارہا ہے اور امریکی روز مرہ میں اسے غریب آدمی کا طریق طلاق“( Poor-main' Divorce ) کہتے ہیں۔ اس وقت امریکہ میں دس لاکھ سے زیادہ خاندان اس حالت میں مبتلا ہیں ۔ مردم شماری کی رو سے امریکہ میں دس لاکھ چھیانوے ہزار مفرور بیویاں“ اور پندرہ لاکھ چھبیس ہزار ” مفرور شوہر"١ ہیں۔ سوروکن کے اندازہ کے مطابق کل شادی شدہ عورتوں کا تقریبا ٤ فیصد اس عالم میں ہےاور سرکاری خزانہ سےان خاندانوں پر تقریباً ۲۵ کروڑ ڈالر سالانہ خرچ ہو رہےہیں۔٢ طلاقوں اور فرار اور بے وفائیوں کی بناء پر امریکہ کے ۴ کروڑ ۵۰لاکھ بچوں میں سےایک کروڑ ۱۲۰ کھ ( ۲۵ فیصد سے کچھ زیادہ ) بچے والدین کے سائے سے محروم ہیں اور یہی وہ بچےہیں جن کی وجہ سے نو جوانوں کی آوارگی (Javenile Delinquency) کا مسئلہ امریکہ کےاہم ترین مسائل میں سے ایک بن چکا ہے۔
سب سے زیادہ اہم نتیجہ یہ ہے کہ جتنی قو میں اس وقت ضبط ولادت پر عمل کر رہی ہیں ان سب کی شرح پیدائش خوفناک حد تک کم ہو گئی ہے۔ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ اس تحریک کی اشاعت ۱۸۷۶ء سے شروع ہوئی ہے۔ آگے صفحہ ۳۹ پر جو نقشہ دیا جارہا ہے اس سے آپ کو معلوم ہو گا کہ اس وقت مختلف ممالک کی فی ہزار شرح پیدائش کیا تھی اور اس کے بعد سے کس طرح گھٹتی چلی گئی ہے۔
یہ نقشہ ضبط ولادت کے نتائج صاف ظاہر کر رہا ہے۔ اس تحریک کے آغاز کی تاریخ سے تمام ممالک میں بلا استثناء شرح پیدائش کا کم ہونا اور برابر کم ہوتے چلے جانا اس بات کی دلیل ہے کہ اگر ضبط ولادت اس کی تنہا وجہ نہیں تو ایک بڑی وجہ تو ضرور ہے۔ خود انگلستان کے رجسٹرار جنرل نےتسلیم کیا ہے کہ شرح پیدائش کے کم ہونے کی ۷۰ فیصدی ذمہ داری برتھ کنٹرول کے رواج پر ہے۔انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ مغربی ممالک کی شرح پیدائش کو گھٹانے میں ضبطِ ولادت کے مصنوعی ذرائع کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔
رائل کمیشن آف پاپولیشن (۱۹۴۹ء) کی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں کی شادیاں ١٩١٠ ء سے پہلے ہوئی تھیں ان میں سے صرف ۱٦ فیصدی ضبط ولادت پر عامل تھے لیکن ۱۹۴۰ء۔۱۹۴۲ء کے بعد ۴ ۷ فیصدی شادی شدہ جوڑے اس طریقے پر عمل کر رہے ہیں ۔ اسی سلسلے میں رائل کمیشن یہ صراحت کرتا ہے:
"اس ملک میں اور دوسرے ممالک میں بڑی قوی شہادت ایسی موجود ہے جو یہ ثابت کرتی ہے کہ شرح پیدائش میں کمی ضبط ولادت اور خاندان کی بالا رادہ تحدید کا نتیجہ ہے۔ یہ انہی کا اثر ہے کہ شرح پیدائش اس سے کم تر ہے جتنی ان طریقوں کے استعمال نہ کرنے کی صورت میں ہوتی_١"
امریکہ میں پہلیٹن اور کیسر (Whelpton & Kiser) کے تحقیقی جائزے کے مطابق ۹۱۰۵ فیصد جوڑے کسی نہ کسی صورت میں ضبطہ ولادت کےطریقوں پر عامل ہیں۔ فریڈ مین (Freedman) اور ان کے رفقاء کی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ بحیثیت مجموعی امریکہ میں ۷۰ فیصدی سے زیادہ جوڑے اس طریقے پر عمل کر رہے ہیں۔ یہ مستفین برطانیہ اور امریکہ کے حالات کا مطالعہ کرنے کے بعد ہمیں بتاتے ہیں:
اس سے زیادہ واضح طور پر ضبط ولادت کے نتائج معلوم کرنے کے لیے ان ممالک کی شرح مناکحت اور شرح پیدائش کا مقابلہ کیجئے۔ انگلستان میں ۱۸۷۶ء سے ۱۹۰۱ء تک شرح مناکحت میں ۳۰۶ فیصدی کی کمی واقع ہوئی لیکن شرح پیدائش ۲۱۰۵ فی صدی کم ہوگئی۔ ۱۹۰۱ء سے ۱۹۱۳ ء تک شرح مناکحت بدستور قائم رہی مگر شرح پیدائش میں ۶،۵ فیصد کمی واقع ہوئی ۔ ۱۹۱۳ء سے ۱۹۲۶ء کے درمیان مختلف ممالک میں شرح مناکحت اور شرح پیدائش کا جو تناسب پایا گیا ہے اس کا حال ذیل کے نقشے سے معلوم ہوگا:
____________________________________________________________________________ شرح مناکحت شرح پیدائش ____________________________________________________________________________ فرانس ٦ء٨ فیصدی اضافہ ٢ ء ٢٨ فیصدی کی جرمنی ٤ء ٩ " کی ٤ ء ٤٩ " " اٹلی ٨ ء ٩ " " ١ ء ٢٩ " " ہالینڈ ٢ ء ١٠ " " ٠ ء ٣٥ " " سویڈن ٣ ء ١١ " " ١ ء ٣٥ " " ڈنمارک ٣ ء ١٢ " " ٦ ء ٤٥ " " سوئٹزرلینڈ ٩ ء١٢ " " ٨ ء ٤٤ " " انگلستان اور ویلز ٣ ء ١٣ " " ٠ ء ٥١ " " ناروے ٠ ء ٢٦ " " ٠ ء ٣٨ " " ____________________________________________________________________________
اسی روش پر امریکہ بھی جا رہا ہے۔ وہاں انیسویں صدی کے اواخر میں شرح پیدائش ۴۰ فی ہزار تھی ۔ ۱۹۳۵ء میں گھٹ کر صرف ۱۸۶۷ فی ہزار رہ گئی اور اس وقت ۶ ۲۳ فی ہزار ہے ۔۔ اس کے مقابلہ میں شرح مناکحت ۱۹۰۱ء میں ۳ ۹۶ فی ہزار تھی۔ ۱۹۳۵ء میں ۴ء۱۰ فی ہزار ہوئی اور ۱۹۵۶ء میں ۴ ۹۶ فی ہزار۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ضبط ولادت پر عمل کرنے والے ممالک میں عورت اور مرد کے زوجی تعلقات روز بروز کس قدر بے نتیجہ ہوتے جارہے ہیں۔ شادیوں میں جتنی کمی ہو رہی ہے اس سے زیادہ کمی پیدائش میں ہو رہی ہے اور کچھ حالات میں تو شادیوں میں اضافہ ہوتا ہے لیکن پیدائش میں برابر کمی ہوتی رہتی ہے۔ برطانیہ کی ایک حالیہ سرکاری دستاویز میں بھی اس امر کا اعتراف کیا گیا ہے کہ:
"بیسویں صدی میں شرح مناکحت میں اضافہ کے باوجود پیدائش میں کمی ہی واقع ہوئی ہے پھر اس زمانہ میں صرف شرح مناکحت ہی نہیں بڑھی ہے بلکہ شادی کی عمر میں بھی کمی ہوئی ہے_١“
شرح پیدائش ہی میں کمی کا ایک مظہر خاندانوں کے اوسط افراد کی کمی ہے۔ مغربی ممالک میں خاندان کا سائز برابر چھوٹا ہوتا جارہا ہے اور اب بڑی تعدادان خاندانوں کی ہے جن میں کوئی اولاد نہیں یا زیادہ سے زیادہ ایک دو بچے ہیں۔ تحریک ضبط ولادت سے قبل اور بعد کے اعداد وشمار میں بڑا نمایاں فرق نظر آتا ہے۔
____________________________________________________________________________ بچوں کی تعداد مناکحت ____________________________________________________________________________ ۱۸۶۰ء ۱۹۲۵ء ____________________________________________________________________________ کوئی بچہ نہیں ٩ فیصد ١٧ فیصد ایا ۲ بچے ١١ فیصد ٥٠ فیصد ۳ یا ۴ بچے ١٧ فیصد ٢٢ فیصد ٥ سے ٩ بچے ٤٧ فیصد ١١ فیصد ٠ا یا اس سے زائد ١٦ فیصد - - ____________________________________________________________________________
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اوسط خاندان مختصر ہو رہا ہے۔ ۷۹ ۔۱۸۷۰ء میں شادی شدہ عورتوں کےہاں اوسط فی کس ۵۶۸ بچے تھی۔ ۱۹۲۵ء میں یہ اوسط صرف ۲۶۲ رہ گیا _٣ اور تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ اوسط ۲ ۲۶ سے کچھ ہی زیادہ ہے۔
امریکہ میں اوسط اولا د فی کس ۱۹۱۰ء میں ۷ ہم بچےتھی،جو ۱۹۵۵ء میں صرف ۲۶۴ بچےرہ گئی١٩١٠ء میں بےاولاد عور تیں اور ایک یا دو بچےوالیاں کل شادی شدہ عورتوں کا ۱۰ اور ۲۲ فیصد تھیں،مگر ۱۹۵۵ء میں یہ تناسب علی الترتیب ۱۶ فیصد اور ۴۷ فیصد ہو گیا۔اس کے برعکس ۱۹۱۰ء میں وہ عورتیں جن کےلےیا اس سے زیادہ بچےتھےکل شادی شدہ عورتوں کا ۳۹ فیصد تھیں مگر ۱۹۵۵ء میں یہ تناسب صرف ۶ فیصد رہ گیا_٣
شرح پیدائش کی اس روز افزوں کمی کے باوجود ان ممالک کی آبادی میں جو تھوڑا بہت اضافہ ہو رہا ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ فن طب کی ترقی اور حفظان صحت کی وسیع تدابیر نے شرح اموات کو بھی بڑی حد تک گھٹا دیا ہے۔ لیکن اب شرح اموات اور شرح پیدائش میں تھوڑا ہی فرق رہ گیا ہے اور عام طور پر خوف کیا جارہا ہے کہ عنقریب شرح پیدائش ، شرح اموات سے کم ہو جائےگی، جس کے معنی یہ ہیں کہ ان قوموں میں جتنے آدمی پیدا ہوں گے ان سے زیادہ مرجائیں گے۔فرانس، بلیجیئم اور آسٹریا ان ممالک میں سے ہیں جن میں آبادی تھوڑے تھوڑے عرصے کےبعد بڑھنے کے بجائے الٹی گھٹتی رہی ہے۔ یہ ممالک اپنے سابقہ معیار تک کو برقرار نہیں رکھ سکےہیں۔ انگلستان کی آبادی بھی کم و بیش ٹھہری ہوئی ہے۔ دوسری جنگ عظیم سے پہلے امریکہ بھی اس مصیبت میں گرفتار ہو گیا تھا۔ آسٹریا میں ۱۹۳۵ء اور ۱۹۳۸ء کے درمیان اموات کی تعداد پیدائش سے زیادہ رہی۔ فرانس میں بھی ۱۹۳۵ء اور ۱۹۳۹ء کے درمیان اموات پیدائش سے زیادہ تھیں۔اگر اس زمانے میں کثرت سے بیرونی ممالک کے لوگ ہجرت کر کے فرانس میں آباد نہ ہوئےہوتے تو اس ملک کی آبادی میں نمایاں کمی واقع ہو جاتی ۔ چنانچہ ۳۶۔۱۹۳۴ء اور ۳۹۔ ۱۹۳۸ء میں فی الواقع آبادی کم ہو گئی تھی۔
امریکہ کی شہری آبادی کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ۱۹۵۰ء تک موجودہ نسل خود اپنی تعداد کے برابر نسل پیدا کرنے میں بھی ناکام رہی۔ اس وقت تک شرح پیدائش کا جو حال تھا اسےدیکھتے ہوئے اندازہ تھا کہ اگر یہ شرح نہ بڑھی تو ایک، پشت کے بعد آبادی میں ۲۵ فیصد کمی واقع ہو جائے گی۔
٢- (Preedman and Others, Family Planning. Sterility and Population Growth. p. 5.)
انگلستان میں آبادی کمیشن کی رپورٹ (۱۹۴۹ء) کے بقول ۱۹۴۵ء کے آخر میں یہ نوبت پہنچ گئی تھی کہ غیر جسمانی محنت کرنے والے اعلیٰ طبقات میں، جن کی شادی کو سولہ سے بین سال تک ہو چکے تھے ، فی خاندان بچوں کا اوسط ۶۸ ، ا تھا۔ یہ صورتحال صاف خبر دے رہی تھی کہ یہ طبقات آہستہ آہستہ ختم ہو جانے والے ہیں۔ اس سلسلہ میں ماہرین کا اندازہ یہ ہے:
" ایسی آبادی کیلئے جس میں دو بچوں کا رواج ہو یا جس میں بالآخر ہر شادی پر دو بچے زندہ رہیں، نیست و نابود ہو جانا مقدر ہے۔ ایسی آبادی نسلا بعد نسلاً کم ہوتی چلی جائے گی اور ہر میں سال کے بعد وہ پہلے سے کم ہو جائے گی۔“
مثال کے طور پر اس کو یوں سمجھئے کہ ایسے ہزار افراد جن میں دو بچوں کا رواج ہو، پہلے تمیں سال کے بعد صرف ۶۳۱ رہ جائیں گے۔ ۶۰ سال بعد ۶ ۳۸ اور ڈیڑھ سو برس بعد صرف ۹۲ _١
ماہرین معاشیات و شماریات آبادی کے صحیح رجحانات کا اندازہ کرنے کیلئے صرف شرح پیدائش ہی کو نہیں دیکھتے بلکہ ان تمام عوامل کا مطالعہ کر کے جو آبادی میں اضافے یا کمی کے موجب ہوتے ہیں ، خالص شرح افزائش آبادی (Net Reproduction Rate) نکال لیتے ہیں۔اگر یہ شرح (۱) ہے تو آبادی ٹھہری ہوئی ہے۔ اگر (۱) سے زیادہ ہے تو آبادی بڑھ رہی ہے اور اگر (1) سے کم ہے تو گھٹ رہی ہے۔ ذیل میں ہم چند اہم مغربی ممالک کی خالص شرح افزائش دےرہے ہیں جس سے ان کی صحیح حالت کا اندازہ ہو گا۔
____________________________________________________________________________ انگلستان ۱۹۳۳ء ٧٤٧ء ٠ ۱۹۳۵ء ٨٧٠ ء ٠ ۱۹۳۷ء ٧٧٥ ء ٠ ١٩٤٠ ء ٨٢٠ ء ٠ ١٩٤٠ ء ٧٨٢ء ٠ ١٩٥٤ء ٩٤٠ ء ٠ ١٩٤٩ ء ٩٠٩ ء ٠ ناروے ١٩٣٥ء ٧٤٦ ء ٠ بيلجيئم ١٩٣٩ء ٨٥٩ ء ٠ ١٩٤٠ء ٨٥٨ ء ٠ ١٩٤٧ ء ٠٠٢ء ١ ١٩٤٥ء ٠٧٥ ء ١ فرانس ١٩٣٠ء ٩٣٠ ء ٠ ____________________________________________________________________________
یہ حالات اہل فکر و نظر کے لیے بڑے پریشان کن ثابت ہورہے ہیں اور ان کے خطرناک اثرات دیکھ دیکھ کر بہت سے وہ مفکر بھی بوکھلا اٹھے ہیں جو بظاہر ضبط ولادت کے حامی ہیں۔ جب اپنے ہی لگائے ہوئے درختوں کے پھل ان کے سامنے آئے تو یہ حیران و ششدر رہ گئے اور اب کم از کم اپنے ملکوں کی حد تک یہ حضرات پالیسی کو تبدیل کرنے کے داعی ہیں۔ مثلاً ایک ماہر عمرانیات ان حالات کی بناء پر یہ رائے ظاہر کرتا ہے:
"اگر ہاتھس آج زندہ ہوتا تو وہ غالبا اس بات کو اچھی طرح محسوس کر لیتا کہ مغربی انسان نے پیدائش کو روکنے میں کچھ ضرورت سے زیادہ ہی دور اندیشی سے کام لیا ہے بلکہ کچی بات تو یہ ہے کہ اپنی تہذیب کے مستقبل کی فکر کرنے میں وہ بہت ہی کو تاہ نظر ثابت ہوا ہے۔“
"فرانس اور بیلجییم میں تو فی الواقع وقتا فوقتا آبادی کم ہوگئی ہے، کیونکہ اموات، پیدائش سے زیادہ تھیں لیکن مغربی ، صنعتی، شہری تہذیب کی باقی تمام ہی اقوام آبادی کم ہونے کے خطرہ سے دو چار ہیں۔خود امریکہ میں ماہرین آبادی نے ۴۰۔۱۹۳۰ء کے پیدائش و اموات کے رجحانات کا مطالعہ کر کے یہ کہ دیا تھا کہ ایک ہی نسل میں آبادی گھٹنے کا خطرہ حقیقت بن جائے گا_٢
“اگر ہم آبادی کی کمی کو قائم رکھنے کی حماقت کرتے ہیں تو ہم کو جان رکھنا چاہیے کہ تقلیل آبادی، جس سے ہم دو چار ہیں، بے روزگاری کےمسئلہ کا حل نہیں ہے اور نہ اس کی وجہ سے باقی ماندہ لوگوں کا معیار زندگی ہی بلند ہوتا ہے۔ اس کے معاشی اثرات لاز ما نا خوشگوار ہوں گے۔ اس لیے کہ اس کی وجہ سے آبادی میں بوڑھے لوگوں کا تناسب بڑھ جائے گا اور پیدا کار (Producers) ریٹائر ڈ لوگوں کو برسرکا ر کھنے مجبور ہوں گے۔ اور اگر خود پیدا کاروں میں بھی ایک بڑا طبقہ بڑی عمر کے لوگوں پر مشتمل ہو تو نظام پیداوار میں وہ ایک باقی نہیں رہ سکتی جو بدلتے ہوئے حالات اور نت نے تکنیک کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے۔ ہمیں آبادی کی کمی کو روکنے کے لیے ہر وہ طریقہ اختیار کرنا چاہیے جو ممکن ہو_١"
"ایک اور طریقہ جس سے ایک مُسرف اور او باش قوم کی زندگی کو کم کر دیا جاتا ہے، وہ شرح پیدائش کی کمی ہے۔ یہ قدرت کا قانون ہے کہ جو اقوام لذت پرستی اور جنسی آلودگی میں مبتلا ہوتی ہیں وہ افزائش اطفال سے غافل رہتی ہیں اور بچوں کو اپنی آبادی اور خوش فعلی کی راہ میں مانع تصور کرتی ہے۔ یہ رویہ پرستاران جنس کو مانع حمل ذرائع کے استعمال،اسقاط حمل اور اسی نوع کی دوسری تدابیر کے اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس قوم کی آبادی پہلے تو ساکن اور متغیر ہو جاتی ہے اور پھر کم ہونے لگتی ہے حتی کہ وہ اس مقام پر پہنچ جاتی ہے جہاں وہ اپنی بنیادی ضرورتیں تک پوری کرنے کے اہل نہیں رہتی۔ یعنی نہ وہ اپنے جدا گانہ تشخص کو قائم رکھ سکتی ہے اور نہ اپنے فطری (Natural) اور انسانی دشمنوں سے اپنے آپ کو بچا سکتی ہے۔ یہ خوشی ہے اور اسےاس بانجھ پن سے مزید مددملتی ہے جو آوارہ گردی اور بدفعلی کا فطری نتیجہ ہے۔ پھر ان دونوں کا نتیجہ یہ ہے کہ ایسی قوم کا عرصہ حیات مختصر ہو جاتا ہے۔ خودکشی کے اس طریقہ نے تاریخ انسانی میں بہت سے شاہی خاندانوں، دولت مند اور اونچے طبقوں اور اجتماعی گروہوں کو حیاتیاتی اور سماجی حیثیت سے نیست و نابود کر دیا ہے اور اسی کے ذریعہ سے بہت سی تو میں زوال و انحطاط کی شکار ہوئی ہیں_١"
"مستقبل کا مؤرخ، گزری ہوئی صدیوں کے جھروکے سے دیکھ کر اہل فرانس کے انیسویں صدی کے اوائل اور اہل برطانیہ کے انیسویں صدی کے اواخر کے اس فیصلے کو کہ وہ اپنی آبادی کے اضافہ کی رفتار کو روک لیں گے اور اس کے اس نتیجے کو کہ بحیثیت ایک عالمی طاقت کے ان ممالک کے سیاسی اثر و نفوذ میں انحطاط رونما ہوگا، ہمارے دور کے اہم ترین واقعات میں شمار کر یگا_٢"
یہ ایک مختصر سا جائزہ ہے ان نتائج کا جو ضیا ولادت کو ایک قومی پالیسی اور ایک اجتماعی تحریک کی حیثیت سے اختیار کرنے کی بدولت دنیا کے مختلف ملکوں میں رونما ہو چکے ہیں ۔ یہ نتائج آج ایک مکملی کتاب کی طرح ہر صاحب نظر کے سامنے ہیں۔ جن قوموں کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے، وہ تو اپنی بہار دیکھ چکی ہیں۔ اپنے پورے عروج کو پہنچ جانے کے بعد اب وہ سنت اللہ کے مطابق تنزل کی طرف جارہی ہیں، اور ان کے تنزل کا انتظام خود ان کے اپنے ہاتھوں کرایا جارہا ہے۔ مگر کوئی قوم جو ابھی ابھی نکبت کی حالت سے نکل کر ترقی کرنے کی خواہشمند ہو، کیا اس کے لیے یہ کوئی دانش مندانہ طرز عمل ہو گا کہ ترقی کیلئے اپنی سعی و جہد کا آغاز ہی وہ ان حماقتوں سے کرے جو دوسر کا قوموں نے بام عروج پر پہنچ کر کی ہیں؟
٢- روزنامه نائمنز لندن مورخه ۱۵ مارچ ۱۹۵۹ ، مقاله "چھوٹے خاندان" (Ton Small Families) از پروفیسور کولن کلارک ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ فار ریسرچ ان ایگری کلچرل یکو نومکس ، آکسفورڈ ۔
ان حالات نے تمام مغربی قوموں کے دور اندیش لوگوں میں اضطراب پیدا کر دیا ہے۔مفکرین ان پر بے چینی اور بے اطمینانی کا اظہار کر رہے ہیں اور مدبرین اور اہل سیاست اس روش کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہر ملک میں آبادی کے مسئلہ پر کچھ نئے رجحانات ابھر رہے ہیں، کچھ نئی تحریکات رونما ہوئی ہیں اور ہورہی ہیں اور عملی مسلک بھی آہستہ آہستہ تبدیل ہونے لگا ہے۔یہاں ہم مختصر یہ بتائیں گے کہ مختلف ممالک میں ان حالات کا رد عمل کیا ہوا ہے۔
پہلی جنگ عظیم کےزمانہ (۱۹۱۶ء) میں ایک نیشنل ہرتھ ریٹ کمیشن مقرر کیا گیا جس میں۔طب، معاشیات، سائنس، عددیات (Statistics) تعلیم اور دینیات کے ۲۳ ماہرین وغیرہ شریک کیے گئے ۔ حکومت کی جانب سے ڈاکٹر اسٹیونسن (Stevenson) مہتم عددیات اور سرآرتھر نیوز ہوم (Newshome) پرنسپل میڈیکل آفیسر اس میں شریک ہوئے۔ اس کمیشن کی طرف سے متعد در پور میں شائع ہوئیں جن میں سے ایک رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ:
"برطانیہ کو اپنی شرح پیدائش کی روز افزوں کی پر نهایت درجه تشویش کی نظر کرنی چاہیے اور اس کمی کو روکنے اور حتی الوسع زیادتی کی طرف لے جانے کے لیے ایسی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں جو اس کےامکان میں ہوں۔“
سرولیم بیورج (Beveridge) لندن اسکول آف اکنامکس کے ڈائریکٹر نے اپنی ایک نشری تقریر میں کہا کہ اموات اور پیدائش کا تناسب اگر اسی رفتار سے بگڑتا رہا تو آئندہ دس سال میں انگلستان کی آبادی گھٹنی شروع ہو جائے گی اور ۳۰ سال کے اندر ۲۰ لاکھ کی کمی واقع ہوگی۔ قریب قریب یہی رائےپور پول یونیورسٹی کے پروفیسر کار سانڈرس کی تھی۔ اس خطرے کو دُور کرنے کے لیے ضبط ولادت کے خلاف تحریک شروع ہوئی اور جمعیت حیات قومی ( League of National Life ) کے نام سے ایک انجمن قائم کی گئی جس میں ممتاز مرد اور خواتین نے شرکت کی۔
دوسری جنگ عظیم میں برطانوی مدبرین نے پھر آبادی کی کمی کے نقصانات کو شدت کے ساتھ محسوس کیا۔ چنانچہ ۱۹۴۳ء میں برطانیہ کے وزیر داخلہ (Home Secretary) برطانیہ کو اپنا موجودہ معیار قائم رکھتا ہے اور آئندہ ترقی کی راہ استوار رکھنی ہے تو ہر گھر میں ۲۵ فیصدی کا اضافہ ہونا چاہیے۔ اس وقت ملک کے عام اہل فکر کا یہ احساس تھا کہ اگر انگلستان کو زندہ رہنا ہے تو اسے اپنے تحفظ کے لیے آبادی کے معاملہ میں ایک نئی اور موثر پالیسی اختیار کرنی ہوگی اور شرح پیدائش کی کمی کو فور اردو کنا پڑے گا۔ اس مقصد کے لیے مارچ ۱۹۴۴ء میں ایک رائل کمیشن قائم کیا گیا تا کہ وہ مسئلہ کے تمام پہلوؤں کا مطالعہ کر کے تجویز کرے کہ مستقبل میں قومی مفاد کی خاطر آبادی کے رُجحان کو متاثر کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں ۔‘ اس کمیشن نے مارچ ۱۹۴۹ء میں اپنی رپورٹ پیش کی اور اس میں و اشگاف یہ حقیقت بیان کر دی کہ:
اس رپورٹ میں کمیشن نے پوری تفصیل کے ساتھ بتایا ہے کہ انیسویں اور بیسویں صدی کے معاشی، سماجی اور تمدنی حالات نے بڑے خاندان کو معاشی بار بنادیا اور فیکٹری ایکٹ اور تعلیمی ان کے ساتھ مل کر گھر میں زیادہ بچوں کے وجود کو بالی خسارہ کا باعث بنادیا اور لوگوں نے ضبط تولید کےذریعہ سےخاندان کو مختصر رکھنے کی پالیسی اختیار کر لی۔ اس کے بعد کمیشن نے اس غرض کے لیےتفصیلی سفارشات پیش کی ہیں کہ گھر میں بچے معاشی بوجھ نہ بنیں اور باپ بننا ایک مالی مصیبت مول لینے کا ہم معنی نہ بن جائے ۔ کمیشن کی سفارشات یہ ہیں:
انکم ٹیکس کے قانون کو تبدیل کیا جائے۔ صاحب اولا دلوگوں پر کم ٹیکس عائد کیا جائے اور غیر شادی شدہ لوگوں سے زیادہ ٹیکس لیا جائے۔
وسیع پیمانے پر ایسے گھر تعمیر کیے جائیں جن میں تین سے زیادہ سونے کے کمرے ہوں۔صحت اور سماجی فلاح کی اسکیمیں جن کے ذریعہ بڑے خاندان کے فروغ میں مدد ملے۔
اس سلسلے میں کمیشن یہاں تک بڑھ گیا کہ اس نے آبادی بڑھانے کے لیے مصنوعی ذرائع تولید (Artificial Insemination) جیسے مکروہ اور شفیع طریقے اختیار کرنے کی بھی سفارش کر دی۔
ان سفارشات پر غور کرنے کے بعد انگلستان کے قوانین اور معاشرتی پالیسی میں اہم تبدیلیاں کی گئیں۔ اب وہاں بچوں کے لیے الاؤنس ، زچگی کے زمانے کے لیے چھٹی اور خصوصی الاؤنس اور تعلیم، صحت، مکان وغیرہ کی سہولتیں دی جارہی ہیں تا کہ لوگ زیادہ بچے پیدا کرنے سےنہ گھبرائیں۔ چنانچہ اس کے اثرات ظاہر ہونے لگے ہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اب شرح پیدائش اور آبادی میں اضافہ کی رفتار بتدریج بڑھ رہی ہے۔ ۱۹۳۱ء اور ۱۹۴۱ء کے درمیان اوسط شرح پیدائش ۱۳٫۸ فی ہزار تھی۔ ۱۹۳۱ ء اور ۱۹۵۱ء کے درمیان ۱۷٫۴ ہو گئی ۔ سالانہ اضافہ آبادی ۴۱۔ ۱۹۳۱ء کے درمیان اوسطاً ۱۰۷۰۰۰ تھا۔ ۶۰ ۔ ۱۹۵۱ء کے درمیان یہ ۲۵۰۰۰۰ ہو گیا۔ حالیہ مردم شماری کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بر طانیہ کی آبادی میں پچھلے دس سال کے اندر جو اضافہ ہوا ہے وہ گزشتہ نصف صدی میں سب سے زیادہ تیز رفتار ہے۔
حکومت کو اس خطرے کا احساس ہو گیا ہے کہ شرح پیدائش کا زوال فرانسیسی قوم کا زوال ہے۔ فرانس کے اہل بصیرت محسوس کر رہےہیں کہ اگر ای رفتار سے ان کی آبادی گھٹتی رہی تو ایک روز فرانسیسی قوم صفہ ہستی سےمٹ جائےگی۔ مردم شماری کی رپورٹوں سےمعلوم ہوتا ہے کہ 1911ء کےمقابلہ میں ۱۹۲۱ء میں فرانس کی آبادی ۲۱ لاکھ کم ہو گئی ۔ ۱۹۲۶ء میں ۱۵لاکھ کا اضافہ ہوا لیکن وہ زیادہ تر غیر ملکی لوگوں کی درآمد کا نتیجہ تھا۔ فرانس میں اجنبی قوموں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے یہاں تک کہ آبادی کا ۲ ۷۶ فیصدی حصہ اجنبی ہے۔ یہ فرانسیسی قوم کیلئے اور بھی زیادہ خطرناک ہے،کیونکہ قوم پرستی کے موجودہ دور میں اجنبی آبادی کا بڑھنا اور وطنی آبادی کا گھٹنا قومی زندگی کے لیےتباہی کا پیش خیمہ ہے۔ فرانس میں ایک زبر دست تحریک قومی اتحاد برائے افزائش آبادی (National Alliance for the Increase of Population) کے نام سے اس خطرہ کا مقابلہ کرنے کے لیے شروع ہوگئی ہے۔ حکومت نے ضبط ولادت کی تعلیم اور نشر و اشاعت کو قانونا ممنوع قرار دیا ہے۔ ضبط ولادت کے حق میں خفیہ یا اعلانیہ کوئی تقریر تجریر، یا مشورہ نہیں ہو سکتا حتی کہ ڈاکٹروں تک کے لیے پابندی ہے کہ وہ کوئی ایسا کام کھلےیا چھپے نہ کریں جو ضبط ولادت پر منتج ہوسکتا ہو ۔آبادی بڑھانے کے لیے تقریبا ایک درجن قوانین نافذ کیے گئے ہیں جن کی رو سےزیادہ بچے پیدا کرنے والے خاندانوں کو مالی امداد دی جاتی ہے ٹیکس میں کمی کی جاتی ہے ہمنوا ہیں. مزدوریاں اور پختیں زیادہ دی جاتی ہیں، ان کے لیے ریل کے کرائےکم کیےجاتے ہیں حتی کہ انہیں تمغے تک دیئے جاتے ہیں۔ دوسری طرف شادی نہ کرنے والوں یا بچے نہ رکھنے والے جوڑوں پر (Surtas) لگایا جاتا ہے۔ گویا بعد از خرابی بسیار اب فرانسیسی قوم کی آنکھ کھلی ہے اور وہ اس گناہ کا کفارہ ادا کر رہی ہے جو اس نے قوانین فطرت سے انحراف کر کے ضبط ولادت کی صورت میں کیا تھا۔
سال شرح پیدائش فی ہزار ٤٠ - ١٩٣٦ء ٥ ء١٤ ٤٥ - ١٩٤١ء ١ ء ١٥ ١٩٤٦ء ٦ ء٢٠ ١٩٤٧ء ٠ ء٢٠ ١٩٥٨ء ٢ ء١٨
نازی جماعت نے بر سر اقتدار آنے کے بعد آبادی کے بڑھتے ہوئے زوال کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا اور اس کے تدارک کی کوشش کی ۔ ایک نازی اخبار نے لکھا ہے کہ:
"اگر ہماری شرح پیدائش اسی طرح گھٹی رہی تو خوف ہے کہ ایک وقت ہماری قوم بالکل بانجھ ہو جائے گی اور موجودہ نسل کے کاموں کو سنبھالنے کے لیے نئی نسلیں اٹھنی بند ہو جائیں گی۔"
اس حالت کی اصلاح کیلئے حکومت نے ضبط ولادت کی تعلیم وتر و پیج کو قانو نا روک دیا،عورتوں کو کارخانوں اور دفتروں سے خارج کرنا شروع کر دیا، نوجوانوں کو نکاح کی طرف رغبت دلانے کیلئے قرضہ شادی (Marrage Loan) کے نام سے رقمیں دیں، بن بیاہوں اور بے اولادوں پر ٹیکس لگائے، اور زیادہ بچے پیدا کرنے والوں پر ٹیکس کم کر دیئے ۔۱۹۳۴ء میں ایک کروڑ پونڈ کے قرضہ ہائے شادی دیئے گئے جن سے ۶ لاکھ مردوں اور عورتوں نے فائدہ اٹھایا۔ ۱۹۳۵ء کے لئے قانون کی رو سے لے کیا گیا کہ ایک بچہ پیدا ہونے پر انکم ٹیکس میں ۱۵ فیصدی ۲۰ بچوں پر ۳۵ فیصدی ۱۲۰ ر ۵۵ فیصدی ۴۰ پر ۷۵ فیصدی ، ۵ پر ۹۵ فی صدی کمی کی جائے اور جب ۶ بچے ہو جائیں تو پورا انکم ٹیکس معاف کر دیا جائے ۔ ان تدابیر کی وجہ سے نازی جرمنی میں شرح پیدائش فوراً برائی شروع ہو گئی۔ ۳۵-۱۹۳۱ء میں شرح ۱۶۰۶ فی ہزار تھی۔ ۴۰ ۱۹۳۶ء میں بڑھ کر ۶ ۱۹۰ فی ہزار ہوگئی۔
مسولینی کی حکومت نے ۱۹۳۳ء کے بعد سے آبادی بڑھانے کی طرف خاص توجہ شروع کر دی۔ ضبط ولادت کی نشر و اشاعت قانونا ممنوع کر دی گئی۔ نکاح اور تناسل کی ترغیب کیلئے وہ تمام تدابیر اختیار کی گئیں جو جر منی اور فرانس کے حالات میں بیان کی گئی ہیں۔ اٹلی کے قانون میں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ ہر وہ فعل یا تقریر یا پرو پیگنڈا جو ضبط ولادت کے حق میں ہو جرم قابل دست اندازی پولیس ہے اور اس کے مرتکب کو ایک سال کی قید اور جرمانہ یا دونوں کی سزادی جاسکتی ہے۔ عام حالت میں یہ قانون ڈاکٹروں پر بھی نافذ ہوتا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے سویڈن کے ایک سابق وزیر ٹرائی گر (Trigger) نے پارلیمنٹ (Ricksdag) میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر سویڈش قوم خودکشی نہیں کرنا چاہتی تو شرح پیدائش کی روز افزوں کمی کو روکنے کیلئے فوری تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ۱۹۲۱ء سے شرح پیدائش کی کمی خوفناک ہو گئی ہے اور آبادی میں اضافہ بند ہو گیا ہے۔“ اس تنبیہہ کا یہ اثر ہوا کہ سویڈش پارلیمنٹ نے مئی ۱۹۳۵ء میں ایک کمیشن مقرر کیا جس نے اپنی تعظیم رپورٹوں کے ذریعہ ایک نئی پالیسی تجویز کی ۔ کمیشن نے خاندان کے سائز کو بڑھانے کا مشورہ دیا اور ہر خاندان کیلئےتین یا چار بچوں کی تعداد تجویز کی۔ اس کمیشن کی سفارشات پر جو اہم اقدامات کیے گئے وہ یہ ہیں:
تین یا تین سے زیادہ بچوں کی صورت میں تدریجی سالانہ ری بیٹ (Rebate)۔ تحفظ صحت - - - خصوصاً بچوں کی صحت کے لیے دست نت دونوں کی فرا ہمی _١
سال شرح پیدائش فی ہزار ۱۹۳۵ء۔۱۹۳۱ء ١ ء ١٨ ۱۹۴۰ء۱۹۳۶ء ٧ ء ١٨ ۱۹۴۴ء۔ ۱۹۴۱ء ٧ ء ١٩
اب آپ برتھ کنٹرول سے کافی روشناس ہو چکے ہیں ۔ آپ کو معلوم ہو چکا ہے کہ اس تحریک کی حقیقت کیا ہے؟ کن وجوہ سے پیدا ہوئی ؟ کن اسباب سے اس نے ترقی کی؟ جن ممالک میں رائج ہوئی وہاں اس کے کیا نتائج رونما ہوئے ؟ اور جنہوں نے اس کا اچھی طرح تجربہ کر لیا ہے اور وہ اب اس کو کس نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ اس کے بعد ہمیں امید ہے کہ برتھ کنٹرول کے متعلق اسلام کا موقف زیادہ آسانی کے ساتھ آپ کی سمجھ میں آجائے گا، زیادہ گہرائی کے ساتھ ذہن نشین ہو گا اور اس کی مصلحتیں زیادہ روشنی کے ساتھ آپ پر واضح ہوں گی۔
صفحات گزشتہ میں تحریک ضبط ولادت کی ترقی کے اسباب اور اس کے نتائج کا جو تفصیلی بیان پیش کیا گیا ہے اس کو بنظر غائر ملاحظہ کرنے سے دو اہم حقیقتیں منکشف ہوتی ہیں۔
ایک یہ کہ اہلِ مغرب میں ضبط ولادت کی خواہش کا پیدا ہونا اور اس تحریک کا اس کثرت سے ان کے افراد میں رائج ہو جانا کچھ اس وجہ سے نہیں ہے کہ ان کی فطرت ہی توالد و تناسل سے پر ہیز کا اقتضاء کرتی ہے بلکہ اس کی اصلی وجہ یہ ہے کہ دوصدیوں سے ان کے ہاں تمدن و تہذیب اور معیشت و معاشرت کا جو نظام رائج ہے اس نے ایسے حالات پیدا کر دیئے ہیں جن میں وہ اولاد سے بچنے اور توالد و تناسل سے نفرت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اگر یہ حالات نہ ہوتے تو وہ اب بھی اسی طرح ضبط ولادت سے بیگانہ رہتے جس طرح انیسویں صدی عیسوی کے وسط میں تھے۔کیونکہ ان کی جو فطرت اس زمانے میں اولاد کی محبت اور توالد و تناسل کی جانب رغبت کا اقتضا،کرتی تھی ، وہی فطرت اب بھی موجود ہے۔ اس صدی کے اندراس میں کوئی انقلاب رونما نہیں ہوا ہے۔
دوسرے یہ کہ ضبط ولادت کے رواج سے مغربی قو میں جن خطرات و مشکلات میں گھر گئی ہیں ، انہوں نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ یہ تحریک قوانین فطرت میں جو ترمیم کرنا چاہتی ہے وہ انسان کیلئے سخت نقصان دہ ہے، اور در حقیقت فطرت کے قوانین لائق ترمیم نہیں ہیں بلکہ وہ نظام تمدن و تہذیب اور نظام معیشت و معاشرت بدل دینے کے لائق ہے جو انسان کو قو نمین فطرت کی خلاف ورزی پر مجبور کر کے ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے۔
مغربی تجربہ کے یہ دو سبق ہم کو اصول اسلام سے بہت قریب لے آتے ہیں۔ اسلام دین فطرت ہے اور اس نے شخصی و اجتماعی طرز عمل کیلئے جتنے طریقے مقرر کیے ہیں وہ سب اس قاعدہ کلیہ پر مبنی ہیں کہ انسان ان قوانین قدرت کی پیروی کرے جن پر کائنات کا یہ سارا نظام چل رہا ہے اور کوئی ایسا طرز زندگی اختیار نہ کرے جو تو انہین فطرت کی خلاف ورزی پر اس کو مجبور کرتا ہو۔ قرآن مجید ہم کو بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا کر کے اس کی جبلت میں اس طریقہ کی تعلیم بھی ودیعت فرمادی ہے جس پر چل کر وہ چیز نظام وجود میں اپنے حصہ کا کام ٹھیک ٹھیک انجام دے سکتی ہے۔
"ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شے کو اس کی خاص بناوٹ عطا کی پھر اس کو ان اغراض کے پورا کرنے کی راہ بھی بتادی جن کیلئے وہ پیدا کی گئی ہے۔“
کائنات کی تمام چیزیں بے چون و چرا اس ہدایت کی پیروی کر رہی ہے،اس لیےکہ اللہ نے ان کیلئے جو راستہ مقرر فرمادیا ہےاس سےبہٹنےکی ان میں قدرت ہی نہیں ہے۔البتہ انسان کو یہ قدرت دی گئی ہےکہ وہ اس راستہ سے ہٹ سکتا ہے،اس پر چلنےسےانکار کر سکتا ہےاپنی عقل اور ذہانت سےغلط کام لےکر اس کے خلاف دوسرے راستے نکال سکتا ہے اور کوشش کر کے ان پر چل بھی سکتا ہے لیکن ہر وہ راستہ جسے انسان خدا کے بنائے ہوئے راستہ کو چھوڑ کر اپنی ہوائے نفس کے اتباع میں ایجاد و اختیار کرتا ہے، نیڑ ھا راستہ ہے اور اس کی پیروی گمراہی ہے:
به گمراہی خواہ ظاہر میں کتنی ہی مفید نظر آئے لیکن در حقیقت جو انسان اللہ کے بنائے ہوئے راستہ کو چھوڑتا ہے اور اس کی مقرر کی ہوئی حدود سے تجاوز کرتا ہے وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتا ہے کیونکہ انجام کار میں اس کی غلط کاری خود اس کے لیے نقصان دہ اور موجب ہلاکت ثابت ہوتی ہے۔
قرآن کہتا ہے کہ خدا کی بنائی ہوئی ساخت کو بدلنا اور ان قوانین فطرت کو توڑنا جنہیں اللہ تعالٰی نے اس کائنات میں جاری کیا ہے دراصل ایک شیطانی فعل ہے اور شیطان ہی اس فعل کی تعلیم دیتا ہے۔
پس اسلام نے جس قاعدے پر اپنے نظامِ تمدن و تہذیب اور نظام معیشت و معاشرت کی بنیاد رکھی ہے، وہ یہ ہے کہ انسان انفرادی اور مجموعی حیثیت سے اپنی فطرت کے تمام مقتضیات کو ٹھیک ٹھیک قوانین فطرت کے مطابق پورا کرنے اور اللہ کی دی ہوئی تمام قوتوں سے اس طریقہ پر کام لے جس کی ہدایت خود اللہ نے دی ہے۔ نہ کسی قوت کو معطل و بے کار بنائے ، نہ کسی قوت کےاستعمال میں اللہ کی بخشی ہوئی ہدایت سے انحراف کرے اور نہ شیطانی تحریص و ترغیب سےگمراہ ہو کر اپنی فلاح و بہبود ان طریقوں میں تلاش کرے جو فطرت کی سیدھی راہ سے ہٹ کر نکلتے ہیں۔
اس قاعدے کو پیش نظر رکھ کر جب آپ اسلام پر نگاہ ڈالیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ اسلامی نظام تمدن نے سرے سے ان اسباب و دوائی کا ہی استیصال کر دیا ہے جن کی وجہ سے انسان اپنی فطرت کے اس اہم اقتضاء یعنی توالد و تناسل سے پر ہیز کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ یہ آپ کو معلوم ہو چکا ہے کہ انسان کو انسان ہونے کی حیثیت سے برتھ کنٹرول کی ضرورت نہیں ہوتی ، اور نہ اس کی و بہبود کی خاطر اپنی آئندہ نسل کا سلسلہ منقطع کر دے، یا اس کو بڑی حد تک گھٹانے کی کوشش کرے۔اس سے آپ خود نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ اگر کوئی تمدن اس خاص طرز پر قائم ہو اور اس میں وہ مخصوص قسم کے حالات پیدا ہی نہ ہوں تو سرے سے وہ مشکلات اور وہ دوائی وجود ہی میں نہ آئیں گے جو انسان کو اللہ کی بناوٹ کے بدلنے اور اس کی حدود سے تجاوز کر نے اور قوانین فطرت کے مقتضیات سے انحراف کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔
اس کے نظام معاشی نے سرمایہ داری کی جڑ کاٹ دی ہے۔ وہ سود کو حرام کرتا ہے، اجارہ داری کو روکتا ہے، جوئے اور سٹے کو نا جائز قرار دیتا ہے، مال جمع کرنے سے منع کرتا ہے اور زکوٰۃ وراثت کے طریقے جاری کرتا ہے۔ یہ احکام ان بہت سی خرابیوں کا استیصال کر دیتے ہیں جنہوں نے مغرب کی معاشی زندگی کو سرمایه داروں کے سوا اور سب کیلئے ایک مستقل عذاب بنا دیا ہے_١
اسلام کے نظامِ معاشرت نے عورت کو وراثت کے حقوق دیئے ہیں، مرد کی کمائی میں اس کا حق مقرر کیا ہے، مرد و عورت کے دائرہ عمل کو فطری حدود میں تقسیم کیا ہے، عورتوں اور مردوں کے آزادانہ اختلاط کو حجاب شرعی کے ذریعہ سے روک دیا ہے اور اس طرح معیشت و معاشرت کی ان بہت سی خرابیوں کو دور کر دیا جن کی وجہ سےعورت اپنےفطری فرض افزائشِ نسل و تربیت اولاد سےانحراف کرنے پر آمادہ یا مجبور ہوتی ہے_2
اسلام کی اخلاقی تعلیمات انسان کو سادہ اور پرہیز گارانہ زندگی بسر کرنا سکھاتی ہیں۔ وہ زنا کاری اور شراب خوری کو حرام کرتا ہے، بہت سے ان تفریحی مشاغل اور عیش پسندانہ تفریحات کے اسباب میں کفایت شعاری برتنے کی تاکید کرتا ہے اور اس بداخلاقی ،اسراف اور حد سے بڑھی ہوئی لذت پرستی کا استیصال کر دیتا ہے جو مغربی ممالک میں برتھ کنٹرول کی ترویج کے اہم اسباب میں سے ہے۔ اس کے ساتھ اسلام آپس کی ہمدردی اور امداد باہمی کی تعلیم دیتا ہے، صلہ رحمی کی تاکید کرتا ہے، ہمسایوں کی مدد اور غریب و نادار ابنائے نوع پر انفاق فی سبیل اللہ کا حکم دیتا ہے اور خود غرضی و نفس پرستی سے روکتا ہے۔ یہ سب چیزیں ایک طرف ہر شخص میں منفرد اور دوسری طرف سوسائٹی میں مجتمعا ایک ایسا اخلاقی ماحول پیدا کر دیتی ہیں جس میں ضبط ولادت کے داعیات پیدا ہی نہیں ہو سکتے ۔
سب سے بڑی بات یہ ہےکہ اسلام نےخدا پرستی کی تعلیم دی ہے۔وہ خدا پر بھروسہ کرنا سکھاتا ہے اور یہ حقیقت انسان کے ذہن نشین کر دیتا ہے کہ اس کا اور ہر جاندار کا اصلی رازق حق تعالی ہے۔ یہ چیز انسان میں وہ ذہنیت پیدا ہی نہیں ہونے دیتی جس سے وہ اپنی زندگی میں صرف اپنے ذرائع اور اپنی ہی کوشش پر بھروسا کرنے لگتا ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ اسلام کے اجتماعی قوانین اور اس کی اخلاقی تعلیمات اور روحانی تربیت نے ان اسباب وداعی میں سے ہر سب کو اور ہر داعیہ کو مٹا دیا ہے جو مغربی تمدن و تہذیب میں ضبط ولادت کیلئے باعث تحریک ہوئے ہیں۔ اگر انسان ذہنی و عملی حیثیت سے ایک سچا مسلمان ہو تو نہ کبھی اس کے نفس میں ضبط ولادت کی خواہش پیدا ہوسکتی ہےاور نہ اس کی زندگی میں ایسےحالات پیش آسکتےہیں جو اس کو فطرت کے سیدھے راستے سے منحرف ہونے پر مجبور کر دیں۔
یہ تو مسئلہ کا سلبی (Negative) پہلو تھا۔ اب ہم کو ایجابی (Positive) پہلو سے دیکھنا چاہیے کہ ضبط ولادت کے متعلق اسلام کا فتویٰ کیا ہے۔
قرآن مجید میں ایک جگہ یہ قاعدہ کلیہ بیان کیا گیا ہے کہ تغیر علق اللہ (اللہ کی بنائی ہوئی ساخت کو بدلنا ) شیطان فعل ہے ۔ وَلَا مُرَنَّهُمْ فَلْيُغَيِّرَنَّ خَلْقَ اللَّهِ . ( النساء: ١١٩) ۔
اس آیت میں تغییر خلق اللہ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو جس غرض کیلئے بنایا ہے اس کو اس غرض اصلی سےپھیر کر کسی دوسری غرض کیلئے استعمال کیا جائے،یا اس طور پر اس سے کام لیا جائےکہ غرض اصلی فوت ہو جائے ۔ اس قاعدہ کلیہ کے تحت ہم کو دیکھنا چاہیے کہ عورت اور مرد کے زوجی تعلق میں ” خلق اللہ (یعنی اس تعلق کی فطری غرض) کیا ہے اور ضبط ولادت سےتغییر خلق اللہ لازم آتی ہے یا نہیں۔ خود قرآن مجید اس سوال سے حل میں ہماری رہنمائی کرتا ہےوہ عورت اور مرد کے زوجی تعلق کی دوغرضیں بتاتا ہے۔
"تمہاری عورتیں تمہارے لیے کھیتیاں ہیں۔ پس تم جس طرح چاہو اپنی کھیتیوں میں جاؤ اور اپنے لیے آئندہ کا بندوبست کرو۔ (البقرہ ۲۲۳)
"اور اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑے پیدا کیے تا کہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور اس نے تمہارے درمیان محبت و رحمت پیدا کی ۔“
پہلی آیت میں عورتوں کو "کھیتی" کہہ کر ایک حیاتی حقیقت ( Biological Fact ) کا اظہار کیا گیا ہے۔ حیاتیات کے نقطہ نظر سےمرد کی حیثیت کاشت کار کی ہے اور عورت کی حیثیت کھیتی کی ، اور ان دونوں کے تعلق سے فطرت کی اولین غرض بقائے نوع ہے۔ اس غرض میں انسان اور حیوان اور نباتات سب مشترک ہیں_١
___________________________________________________________________________ ١- ایک صاحب نے اس آیت سے ضبط ولادت کے حق میں استدلال کرتے ہو ۔ ۔ ۔ لانکتہ پیدا کیا ہے کہ کھیتی کے ساتھ کسان کا تعلق صرف پیداوار کی خاطر ہے۔ جب ملک کو پیداوار کی ضرورت ہو تو کسانوں کو کھیتی میں جانا چاہیے۔ جب پیداوار کی ضرورت ہی نہ ہو تو ان کو سرے سے اپنی کھیتوں میں جانے کا حق ہی نہ ہونا چاہیے۔ نیز ، بتنی پیدا وار درکار ہو،بس اسی حد تک کسانوں کو کاشت کرنی چاہیے، اس سے زیادہ نہیں ۔
اس عجیب و غریب تغییر کی رو سے اول تو بانجھ مرد یا بانجھ بیوی کی باهم مقاربت حرام قرار پاتی ہے۔ ثانیا استقرار حمل کے بعد زوجین کی باہمی مقاربت اس وقت تک کیلئے حرام ہو جاتی ہے جب تک پھر ایک بچے کی ولادت مطلوب نہ ہو ۔ ثالث میاں اور بیوی کا تعلق زوجیت بھی ریاست کے کنٹرول میں چلا جاتا ہے۔ جب ریاست اعلان کر دے کہ اب ہمیں بچوں کی ضرورت نہیں ہے تو تمام مرد اپنی اپنی بیویوں سے الگ ہو جائیں اور جو نہی ایک سرکاری اعلان شائع ہو کہ اب بچوں کی ضرورت ہے،تو یک لخت شوہروں اور بیویوں کےدرمیان رابطہ قائم ہو جائے۔ پھر حکومت کو رپورٹ دی جاتی رہنی چاہیے کہ کتنی عور تیں حاملہ ہو چکی ہیں۔مطلوبہ تعداد میں حمل قرار پاتے ہی حکومت سرخ جھنڈی ہلائے گی اور شوہروں کیلئے بیویوں کے پاس جانا ممنوع ہو جائے گا۔
یہ "نظام "ربوبیت" کی ہمہ گیر منصوبہ بندی کا وہ نقشہ ہے جو ابھی تک کمیونسٹوں کو بھی نہیں سوجھا ہے اور لطف یہ ہے کہ یہ بھی قرآن سے برآمد کر لیا گیا۔ حالانکہ اگر زوجین کے باہمی تعلق کیلئے کسان اور کھیتی کی تشبیہ کو تشبیہ نام ہی مان لیا جائے ، تب بھی آج تک کسی صاحب عقل آدمی کے دماغ میں یہ خیال کبھی نہیں آیا ہے کہ تخم ریزی کے بعد کسان کا کھیتی میں جانا حرام ہو جاتا ہے۔
دوسری آیت میں اس تعلق کی ایک اور غرض بھی بیان کی گئی ہے اور وہ قیام تمدن ہے، جس کی بنیادشوہر اور بیوی کے باہم مل کر رہنے سے پڑتی ہے۔ یہ غرض انسان کیلئے مخصوص ہے اور انسان کی مخصوص بناوٹ ہی میں ایسے داعیات پیدا کر دیئے گئے ہیں جو اس غرض کی تکمیل کیلئے اسےابھارتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کے کارخانے کو چلانے کیلئے منجملہ بہت سے انتظامات کے دو زبر دست انتظام کیے ہیں۔ ایک تغذیہ، دوسرے تولید - تغذیہ کا مقصود یہ ہے کہ جو انواع اس وقت موجود ہیں وہ ایک مدت معینہ تک زندہ رہ کر اس کا رخانہ کو چلاتی رہیں۔ اس کیلئے رب العالمین نے غذا کا وافر سامان مہیا کیا ، اجسام نامیہ (Organic Bodies) میں غذا کو جذب کرنے اور اس کو اپنا جز بنانےکی قابلیت پیدا کی اور ان میں غذا کی طرف ایک طبیعی خواہش پیدا کر دی جوان کو غذا حاصل کرنےپر مجبور کرتی ہےاگر یہ نہ ہو تو تمام اجسام نامیہ ( خواہ نباتات ہوں یا حیوانات یا انسان) ہلاک ہو جائیں اور اس کارخانہ عالم میں کوئی رونق باقی نہ رہے۔لیکن فطرت النبیہ کےنزد یک اشخاص و افراد کےبقاء کی بہ نسبت انواع و اجناس کا بقاء زیادہ اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اشخاص کیلئے زندگی کی ایک بہت ہی قلیل مدت ہے اور اس کارخانہ کو چلانے کیلئے ضروری ہے کہ اشخاص کے مرنے سے پہلے دوسرے اشخاص ان کی جگہ لینے کیلئے پیدا ہو جائیں۔ اس دوسری اعلیٰ اور اشرف ضرورت کو پورا کرنے کے لیے فطرت نے تولید کا انتظام کیا ہے۔ انواع میں نر اور مادہ کی تقسیم، نرومادہ کے اجسام کی جدا گانہ ساخت، دونوں میں ایک دوسرے کی جانب میلان اور زوجی تعلق کیلئے دونوں میں ایک زبردست خواہش کا موجود ہونا یہ سب کچھ اسی غرض کیلئے ہے کہ دونوں مل کر اپنی موت سے پہلے اپنے جیسے افراد اللہ تعالیٰ کے اس کارخانہ کو چلانے کیلئے مہیا کر دیں۔ اگر یہ فرض نہ ہوتی تو سرے سے نر و مادہ یا مرد و عورت کی علیحدہ علیحدہ اصناف پیدا کرنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔
پھر دیکھئے کہ جو انواع کثیر الاولاد ہوتی ہیں ان میں فطرت نے اولاد کی محبت کا کوئی خاص جذبہ پیدا نہیں کیا کہ وہ اپنے بچوں کی نگرانی اور حفاظت کریں۔ اس لیے یہ انواع محض اپنی کثرتِ تناسل کے بل پر قائم رہتی ہیں لیکن جن انواع کی اولاد کم ہوتی ہے ان میں اولاد کی محبت زیادہ پیدا کی گئی ہے اور ماں باپ کو مجبور کیا گیا ہے کہ وہ ایک کافی عرصہ تک اپنی اولاد کی نگرانی و حفاظت کریں۔ یہاں تک کہ وہ خود اپنی حفاظت کے قابل ہو جا ئیں ۔ اس معاملہ میں انسان کا بچہ سب سے زیادہ کمزور ہوتا ہے اور زیادہ مدت تک ماں باپ کی نگرانی کا محتاج رہتا ہے۔دوسری طرف انواع حیوانی میں شہوت کا جذبہ یا تو موسمی ہوتا ہے، یا جبلی مطالبات کے تحت محدود ہوتا ہے لیکن انسان میں یہ جذبہ نہ تو موسمی ہے اور نہ جبلت نے اس کو محدود کیا ہے۔ اس لیے نوع انسانی میں عورت اور مرد ایک دوسرے کے ساتھ دائمی تعلق رکھنے پر مجبور ہیں۔ یہ یہی دونوں چیزیں انسان کو مدنی الطبع بناتی ہیں، یہیں سے گھر کی بنیاد پڑتی ہے اور گھر سے خاندان اور خاندان سے قبیلے بنتے ہیں اور آخر کار اسی بنیاد پر تمدن کی عمارت قائم ہوتی ہے۔
اس کے بعد انسانی ساخت پر غور کیجئے۔ حیاتیات کے مطالعہ سے ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے جسم کی بناوٹ میں شخصی مفاد پر نوعی مفاد کو ترجیح دی گئی ہے اور انسان کو جو کچھ دیا کیا ہےوہ اس کی ذات سے زیادہ اس کی نوع کے مفاد کیلئے ہے۔ انسان کے جسم میں اس کے صنفی غدود (Sexual Glands) سب سے زیادہ اہم خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ غدے ایک طرف انسان کے جسم کو وہ ماء الحیات (Hormon) بہم پہنچاتے ہیں جو اس میں حسن و جمال ، رواق و تازگی،ذہانت اور تیزی، توانائی اور قوت عمل پیدا کرتے ہیں اور دوسری طرف یہی غدے انسان میں تولید کی قوت پیدا کرتے ہیں جو عورت اور مرد کو تناسل کے لیے باہم ملنے پر مجبور کرتی ہے۔جس عمر میں انسان نوعی خدمت کیلئے مستعد ہوتا ہے، وہ زمانہ اس کے شباب اور حسن اور عمل کا بھی ہوتا ہے اور جب وہ نوعی خدمت کے قابل نہیں رہتا وہی زمانہ اس کے ضعف اور بڑھاپے کا ہوتا ہے۔ زوجی فعلیت کا کمزور ہونا ہی دراصل آدمی کیلئے موت کا پیغام ہے۔ اگر انسان کے جسم سےاس کے صنفی غدود نکال دیئےجائیں تو جس طرح وہ نوعی خدمت کےقابل نہیں رہتا اسی طرح شخصی خدمت کیلئےبھی اس کی قابلیت بہت کم ہو جاتی ہے۔ اس لیے کہ ان غدوں کے بغیر اس کی دماغی اور جسمانی قوتیں نہایت کمزور ہوتی ہیں۔
عورت کےجسم میں نوعی مفاد کی خدمت کو مرد سےبہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔معلوم ایسا ہوتا ہےکہ عورت کےجسم کی ساری مشین بھی اس غرض کیلئے بنائی گئی ہے کہ وہ بقائے نوع کی خدمت انجام دے۔ وہ جب اپنے شباب کو پہنچتی ہے تو ایام ماہواری کا دور شروع ہو جاتا ہے۔ جو ہر مہینےاس کو استقرار حمل کیلئے تیار کرتا رہتا ہے۔ پھر جب نطفہ قرار پاتا ہے تو اس کے پورے نظامِ جسمانی میں ایک انقلاب پیدا ہوتا ہے۔ بچے کا مفاد اس کے تمام جسم پر حکمرانی کرنے لگتا ہے۔ اس کی قوت کا اتنا حصہ اس کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے جتنا اس کی زندگی کے لیے ناگزیر ہے، باقی ساری قوت بچے کی نشو و نما میں صرف ہوتی ہے۔ یہی چیز ہے جو عورت کی فطرت میں محبت ، قربانی اور ایثار ( Altruism) پیدا کرتی ہے اور اسی لیے پدریت کا رابطہ اتنا گہرا نہیں ہے جتنامادریت کا رابطہ ہے۔ وضع حمل کے بعد عورت کے جسم میں ایک دوسرا انقلاب رونما ہوتا ہے جو اسے رضاعت کیلئے تیار کرتا ہے۔ اس زمانہ میں غد و در ضاعت ماں کے خون سے بہترین اجزاء جذب کر کے بچے کیلئے دودھ مہیا کر تے ہیں اور یہاں فطرت الہیہ پھر عورت کو نوعی مفاد کیلئے قربانی پر مجبور کرتی ہے۔ رضاعت کے بعد عورت کا جسم از سر نو ایک دوسرے استقرار حمل کے لیے تیار کیا جاتا ہے اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک وہ اس نوعی خدمت کیلئے مستعد رہتی ہے۔جہاں اس کی یہ استعداد ختم ہوتی، اس کا قدم موت کی طرف بڑھا۔سن یاس شروع ہوتے ہی اس کا حسن و جمال رخصت ہو جاتا ہے، اس کی شگفتگی ، اس کی جولانی طبع ، اس کی جاذبیت کافور ہو جاتی ہے اور اس کیلئے جسمانی تکالیف اور نفسانی افسردگی کے ایک ایسے دور کا آغاز ہوتا ہے جو صرف موت ہی کے ساتھ ختم ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عورت کیلئے بہترین زمانہ وہ ہے، جب وہ نوع کی خدمت کیلئے جیتی ہے اور جب وہ صرف اپنے لیے بیتی ہے تو بری طرح جیتی ہے۔
اس موضوع پر ایک روسی مصنف آنتن نیمی لاف (Anton Nemilov) نے ایک بہترین کتاب لکھی ہے جس کا نام Biological Tragady of Woman) ہے۔۱۹۳۲ء میں اس کا انگریزی ترجمہ لندن سے شائع ہوا ہے۔ اس کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کی پیدائش ہی بقائے نوع کی خدمت کیلئے ہوئی ہے۔ یہی حقیقت دوسرے محققین و ماہرین نے بھی بیان کی ہے۔ مثلاً نوبل پرائز یافتہ مصنف ڈاکٹر الیکٹوس کارل ( Dr. Alixis ) اپنی کتاب "Man The Unknown" میں اس نقطۂ نظر کو پیش کرتے ہوئے کہتا ہے کہ:
"عورت کیلئے وظائف تولید جو اہمیت رکھتے ہیں ان کا ابھی تک پورا شعور پیدا نہیں ہوا ہے۔ اس وظیفہ کی انجام دہی عورت کی معیاری تکمیل کیلئے ناگزیر ہے۔ پس یہ ایک اتقانہ فعل ہے کہ عورتوں کو تولید اور زچگی سے برگشتہ کیا جائے ۔“
ایک مشہور ماہر جنسیات ڈاکٹر آزوالد شواز (Oswald Schwarz) اپنی کتاب "نفسیات جنس" (The Psychology of Sex) میں لکھا ہے:
"جذبہ جنسی آخر کس چیز کا غماز ہے اور کس مقصد کے حصول کیلئےہے؟ یہ بات کہ اس کا تعلق افزائشِ نسل سے ہے بالکل واضح ہے۔حیاتیات ( بیالوجی ) کا علم اس معاملے کو سمجھنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ یہ ایک ثابت شدہ حیاتیاتی قانون ہے کہ جسم کا ہر عضو اپنا خاص وظیفہ انجام دینا چاہتا ہے اور اس کام کو پورا کرنا چاہتا ہے جو فطرت نے اس کے سپرد کیا ہے، نیز یہ کہ اگر اسے اپنا کام کرنے سے روک دیا جائے تو لازماً الجھنیں اور مشکلات پیدا ہو کر رہتی ہیں ۔ عورت کے جسم کا بڑا حصہ بنایا ہی گیا ہے استقرار حمل اور تولید کیلئے ۔ اگر ایک عورت کو اپنے جسمانی اور دینی نظام کا یہ اقتضاء پورا کرنے سے روکا جائے گا تو و و اضمحلال اور شکستگی کا شکار ہو جائے گی۔ اس کے برعکس ماں بننے میں وہ ایک نیاحسن .... ایک روحانی بالیدگی... پالیتی ہے جو اس جسمانی اضمحلال پر غالب آ جاتی ہے جس سے زچگی کے باعث عورت دو چار ہوتی ہے ہے_١
"ہمارے جسم کا ہر عضو کام کرنا چاہتا ہے اور کسی عضو کو بھی اپنےوظیفہ کی انجام دہی سے روکا جائے گا تو پورے نظام کا تو ازن درہم برہم ہو جائے گا۔ ایک عورت کو اولاد کی ضرورت صرف اسی بناء پر نہیں ہے کہ یہ اس کی جبلت مادر بیت کا تقاضا ہے یا یہ کہ اس خدمت کی انجام دہی کو وہ اوپر سےعائد کردہ ایک اخلاقی ضابطے کی بناء پر اپنا فرض سمجھتی ہے، بلکہ در اصل اسے اس کی ضرورت اس لیے ہے کہ اس کا سارا نظام جسمانی بنا ہی اس کام کیلئے ہے۔ اگر اسے اپنے جسم کے اس مقصد تخلیق ہی کو پورا کرنے سے محروم رکھا جائے گا تو اس کی پوری شخصیت بے کیفی اور محرومی اور شکست سے متاثر ہوگی ۔“
اس بحث سے قرآن مجید کے اس ارشاد کی حقیقت اچھی طرح معلوم ہو جاتی ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان زوجی تعلق پیدا کرنے سے فطرت کا اصل مقصد بقائے نوع ہے اور اس کےساتھ دوسرا مقصد یہ ہے کہ انسان عائلی زندگی (Family Life) اختیار کر کے تمدن کی بنیاد رکھے۔ اللہ تعالیٰ نے عورت اور مرد کے درمیان جو کشش رکھی ہے اور ان دونوں کے زوجی تعلق میں جو لذت پیدا کی ہے وہ صرف اس لیے کہ انسان اپنی طبیعی رغبت سے ان مقاصد کو پورا کرے۔ اب جو شخص محض اس لذت کو حاصل کرنا چاہتا ہے مگر ان مقاصد کی خدمت بجالانے سے انکار کر دیتا ہے، یہ یقینا خلق اللہ کو بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ ان اعضاء اور ان قوتوں کو جو اللہ تعالی نےبقائے نوع کیلئے عطا کیے ہیں ان کی غرض اصلی کے خلاف محض اپنی نفسانی غرض کیلئے استعمال کرتا ہے۔ اس کی مثال ایسے شخص کی سی ہے جو محض زبان کی لذت حاصل کرنے کیلئے عمدہ عمدہ غذاؤں کے نوالے منہ میں چہائے مگر حلق کے نیچے اتارنے کے بجائے ان کو تھوک دے۔ جس طرح ایسا شخص خود کشی کا ارتکاب کرتا ہے اسی طرح وہ شخص جو زوجی تعلق سے محض لذت حاصل کرتا ہے اور بجائے نسل کے مقصد کو پورا نہیں ہونے دیتا نسل کشی کا ارتکاب کرتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ وہ فطرت کے ساتھ دغا بازی کر رہا ہے۔ فطرت نے اس فعل میں جو لذت رکھی ہےوہ دراصل معاوضہ ہے اس خدمت کا جو فطرت کے ایک مقصد کو پورا کرنے کیلئے وہ بجالاتا ہے لیکن یہ شخص معاوضہ تو پورا لے لیتا ہے اور خدمت بجالانے سے انکار کر دیتا ہے۔کیا یہ دغا بازی نہیں؟
آئیے اب ہم دیکھیں کہ جولوگ فطرت کے ساتھ یہ دغا بازی کرتے ہیں، کیا فطرت ان کو سزاد یئے بغیر چھوڑ دیتی ہے یا اس کی کچھ سزا بھی دیتی ہے؟ قرآن مجید کہتا ہے کہ اس کی سزا ضرور دی جاتی ہے اور وہ سزا یہ ہے کہ ایسے لوگ خود ہی اپنے آپ کو نقصان میں مبتلا کرتے ہیں۔
"وہ لوگ ٹوٹے میں پڑ گئے جنہوں نے اپنی اولا د کو نادانی سے بغیر سمجھے بوجھے قتل کیا اور اس نعمت کو جو اللہ نے ان کو عطا کی تھی اللہ پر افترا باندھ کر اپنے اوپر حرام کر لیا ۔
اس آیت میں قتل اولاد کے ساتھ نعمت تناسل کو اپنے لیے حرام کر لینے کا نتیجہ بھی خسران بتایاگیا ہے۔ دیکھنا چاہیے کہ یہ خسر ان کن کن صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے۔
توالد و تناسل کا معاملہ چونکہ براہ راست انسان کے جسم اور نفس سے تعلق رکھتا ہے اس لیےہم کو سب سے پہلے ضبط ولادت کے ان اثرات کی تحقیق کرنی چاہیے جو انسان کے نفس اور جسم پر مترتب ہوتے ہیں۔
ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ انواع میں نر و مادہ کی دو الگ الگ صنفیں بنانے سے فطرت کا اصل مقصد ہی توالد و تناسل اور بقائے انواع ہے۔ یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ نر و مادہ کی عین فطرت اس کا اقتضاء کرتی ہے کہ وہ اولاد پیدا کریں اور خصوصاً نوع انسانی میں تو عورت کے اندر طبعا اولاد کی خواہش اور محبت کا ایک زبردست داعیہ پیدا کیا گیا ہے۔ نیز یہ بھی آپکو معلوم ہو چکا ہے کہ انسان کے جسم میں اس کے منفی غدود کا کتنا قوی اور گہرا اثر ہے اور کس طرح یہ غدے انسان کو نوع کی خدمت پر ابھارنے اور اس میں حسن ، توانائی عملی سرگرمی اور ذہنی قوت پیدا کرنے کے دوہرے فرائض انجام دیتے ہیں۔ خصوصاً عورت کے متعلق آپ کو معلوم ہو چکا ہے کہ اس کے جسم کی پوری مشین ہی خدمت بقائے نوع کے لیے بنائی گئی ہے، اس کی تخلیق کا اہم ترین مقصد یہی ہے، اور اس لیے اس کی مین فطرت اس سے اس خدمت کا مطالبہ کرتی ہے۔ ان سب امور کو پیش نظر رکھ کر آپ کی عقل خود اس نتیجہ پر پہنچ سکتی ہے کہ جب انسانی زوجی تعلق سے محض لذت حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تو اس مقصد کو پورا کرنے سے انکار کر دے گا جس کی طلب اس کے جسم کے ریشہ ریشہ میں اس قدر گہرائی کے ساتھ پیوست کر دی گئی ہے، تو ممکن نہیں ہے کہ اس کے نظام عصبی اور اس کے صنفی غدد کی فعلیت پر اس حرکت کے بُرے اثرات مترتب نہ ہوں اور ان اثرات سے اس کا نفس محفوظ رہ سکے۔
____________________________________________________________________________ ١- قدیم مفسرین نے حَرَّمُوا مَارَزَقَهُمُ الله کا مطلب صرف یہ بیان کیا ہے کہ وہ حلال غذاؤں کو اپنے اوپر حرام کر لیتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے زمانے میں ضبط ولادت کی تحریک کا کوئی وجود نہ تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے جس کا علم ان تمام چیزوں پر حاوی ہے جو ہو چکی ہیں اور ہونے والی ہیں ، ایسے وسیع الفاظ استعمال فرمائے ہیں جو صرف حلال غذاؤں کی تحریم ہی کو نہیں بلکہ ہر اس نعمت کی تحریم کو شامل کرتے ہیں جو اللہ کی طرف سے عطا کی جاتی ہے۔ لغت اور محاورے کے اعتبار سے رزق صرف سامان خوراک ہی کیلئے نہیں بولا جاتا . بلکہ ہر علیہ پر لفظ رزق کا اطلاق ہوتا ہے جس میں اولاد کا عطیہ بھی شامل ہے اور چونکہ یہاں قتل اولاد کے بعد ہی تحریم رزق کا ذکر کیا گیا ہے اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جس طرح وہ لوگ ٹوٹے میں ہیں جو اولاد کو پیدا : ونے کے بعد قتل کر دیتے ہیں اسی طرح وہ لوگ بھی ٹوٹے میں ہیں جو اولاد کی پیدائش ہی کو اپنے اوپر حرام کر لیتے ہیں۔
تجربہ اس عقلی نتیجہ کی تائید کرتا ہے۔ ۱۹۲۷ء میں برطانیہ عظمیٰ کے نیشنل برتھ ریٹ کمیشن (National Birth Rate Commission) ضبط ولادت کے مسئلہ پر طبی نقطہ نظر سے جور پورٹ شائع کی تھی اس میں لکھا ہے:
"مانع حمل وسائل کے استعمال سے مردوں کے نظامِ جسمانی میں براہمی پیدا ہو سکتی ہے، عارضی طور پر ان میں مردانہ کمزوری یا نا مردی بھی پیدا ہو سکتی ہے، لیکن مجموعی حیثیت سے کہا جاسکتا ہے کہ ان وسائل کا کوئی زیادہ نیا اثر مرد کی صحت پر نہیں پڑتا ۔ البتہ اس بات کا ہمیشہ خطرہ ہے کہ مانع حمل وسائل کے استعمال سے جب مرد کو زوجی تعلق میں اپنی خواہشات کی تسکین حاصل نہ ہوگی تو اس کی عائلی زندگی کی مسرتیں غارت ہو جائیں گی اور دوسرے ذرائع سے تسکین حاصل کرنے کی کوشش کرے گا جو اس کی صحت کو برباد کر دیں گے اور ممکن ہے کہ اسے امراض خبیثه میں مبتلا کر دیں۔“
"جہاں طبی لحاظ سے منع حمل نا گزیر ہو، جہاں بچوں کی پیدائش حد سے زیادہ ہو، وہاں تو منع حمل کی تدابیر عورت کی صحت پر بلاشبہ اچھا اثر ڈالتی ہیں لیکن جہاں ان میں سے کوئی ضرورت داعی نہ ہو، وہاں منبع حمل تدابیر کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عورت کے نظام عصبی میں سخت برہمی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس میں بدمزاجی اور چڑ چڑا پن پیدا ہو جاتا ہے۔ جب اس کے جذبات کی تسکین نہیں ہوتی تو شوہر کے ساتھ اس کے تعلقات خراب ہو جاتے ہیں۔ خصوصیت کے ساتھ یہ نتائج ان لوگوں میں زیادہ نمایاں دیکھے گئے ہیں۔ جو عزمل (Coitus Interruptus) کا طریقہ اختیار کرتے ہیں ۔“
"ضبط ولادت کے طریقے خواہ فرز جے (Pessuries) ہوں، یا جراثیم کش دوائیں، یار برکی ٹوپیاں اور لفافے ، بہر حال ان کے استعمال سے کوئی فوری نمایاں نقصان تو نہیں ہوتا لیکن ایک عرصہ تک ان کو استعمال کرتے رہنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ادھیڑ عمر تک پہنچتے پہنچتے صورت میں عصبی ناهمواری (Nervous Instability) پیدا ہو جاتی ہے۔ پز مردگی،شگفتگی کا فقدان،افسرده دلی ، طبیعت کا چڑ چڑا پن اور اشتعال پذیری،غمگین خیالات کا ہجوم، بے خوابی ، پریشان خیالی ، دل و دماغ کی کمزوری،دوران خون کی کمی ، ہاتھ پاؤں کا سن ہو جانا، جسم میں کہیں کہیں ٹیسیں اٹھنا، ایام ماہواری کی بے قاعدگی، یہ ان طریقوں کے لازمی اثرات ہیں۔
__________________________________________________________________________ ١- عزل کا مطلب یہ ہے کہ مباشرت میں جب آدمی انزال کے قریب پہنچے تو عضو باہر نکال لے اور اپنا مادہ منویہ عورت کے اندر نہ جانے-
بعض دوسرے ڈاکٹروں نے بیان کیا ہے کہ اعوجاج رحم Falling of the)(Womb حافظه کی خرابی اور بسا اوقات مراق، خفقان اور جنون جیسے عوارض بھی ان طریقوں کے استعمال سے پیدا ہو جاتے ہیں۔ نیز یہ کہ زیادہ عرصہ تک جس عورت کے ہاں بچہ نہیں ہوتا اس کے اعضائے تناسل میں ایسے تغیرات واقع ہوتے ہیں جن سے اس کی قابلیت تولید متاثر ہو جاتی ہے اور اگر کبھی وہ حاملہ ہو جائے تو اس کو زمانہ حمل اور وضع حمل میں سخت تکلیف اٹھانی پڑتی ہے_١
"بلوغ کے وقت عورت کے جسم میں جتنے تغیرات ہوتے ہیں سب تناسل کے مقصد ہی کیلئے ہوتے ہیں ۔ ایام ماہواری کے دورے اسی غرض کیلئے ہوتے ہیں کہ بار بار عورت کو استقرار حمل کے لیے تیار کریں۔ ایک نا کند اعورت میں، جو اپنے آپ کو استقرار عمل سے روکتی ہے، ایام کا ہر دورہ ان تمام اعضاء کی نا امیدی کے ساتھ ختم ہوتا ہے جو اس دورہ میں عمل کے لیے تیار کیے گئے تھے۔ اس اقتضائے طبیعی کے پورا نہ ہونے اور تناسلی اعضاء کے معطل رہنے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ تناسلی اعضاء کی فعلیت میں برہمی و بدنظمی پیدا ہو، ایام ماہواری تکلیف اور بے قاعدگی کے ساتھ آنے لگیں، چھاتیاں ڈھلک جائیں۔ چہرے کی رونق اور خوبصورتی رخصت ہو جائے اور مزاج میں اشتعال پذیری یا افسردگی پیدا ہو جائے۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ انسان کی زندگی میں اس کے صنفی غدد کا بڑا اثر ہے۔ جو ندے زوجی قوت پیدا کرتے ہیں ، وہی انسان میں تو انائی، حسن اور چستی بھی پیدا کرتے ہیں۔ انہی سے انسان میں کیرکٹر کی بہت سے خصوصیات پیدا ہوتی ہیں۔ زمانہ بلوغ کے قریب جب ان غدوں کا عمل تیز ہو جاتا ہے تو جس طرح انسان میں تناسل کی استعداد پیدا ہوتی ہے، اسی طرح اس میں خوبصورتی شگفتگی، دہنی قوت، جسمانی قوت ، جوانی اور عملی سرگرمی بھی پیدا ہوتی ہے۔ اگر ان غدوں کے فطری مقصد کو پورا نہ کیا جائے گا تو یہ اپنے ضمنی فعل یعنی تقویت کو بھی چھوڑ دیں گے۔ خصوصاً عورت کو استقرارِ حمل سے روکنا دراصل اس کی پوری مشین کو معطل اور بے مقصد بنانا ہے۔“
" یہ ایک ثابت شدہ حیاتیاتی قانون ہے کہ جسم کا ہر عضو اپنا خاص وظیفہ انجام دینا چاہتا ہے اور اس کام کو پورا کرنا چاہتا ہے جو فطرت نے اس کے سپرد کیا ہے۔ نیز یہ کہ اگر اسے اپنا کام کرنے سے روکا جائے گا تو لازما الجھنیں اور مشکلات پیدا ہوں گی ۔ عورت کا جسم استقرار عمل اور تولید ہی کیلئے بنایا گیا ہے۔ اگر ایک عورت کو اپنے جسمانی اور ذہنی نظام کے اس اقتضاء کو پورا کرنے سے روکا جائے گا تو وہ اضمحلال اور شکستگی کا شکار ہو جائے گی۔ اس کے برعکس مادر یت میں وہ ایک نیا حسن .... ایک روحانی بالیدگی پالتی ہے جو اس جسمانی فرسودگی پر غالب آجاتی ہے جس سے ( زچگی کے باعث ) عورت دو چار ہوتی ہے_١
یہ ایک نا قابل انکار حقیقت ہے کہ ضبط ولادت عورت پر ایک صریح ظلم ہے۔ یہ اسے اپنی فطرت سے برسر پیکار کر دیتا ہے اور اس کے نتیجے میں اس کا پورا جسمانی اور اعصابی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔
اول تو ضبط ولادت فی نفسه انسان کے فطری نظام کے خلاف ایک بغاوت ہے اور اس کی مضر تیں بے پناہ ہیں۔ پھر ضبط ولادت کےجو طریقےاختیار کیے جاتے ہیں وہ مرد اور عورت دونوں پر اور خصوصیت سے عورت پر ایسے اثرات چھوڑتے ہیں جو اس کی پوری زندگی کو متاثر کر دیتے ہیں اور اس کی شخصیت کی چولیں ہلا دیتے ہیں۔
ضبط ولادت کا بہت پرانا اور بڑا اہم ذریعه اسقاط حمل (Abortion) ہے۔ مانع حمل ذرائع (Contraceptives) کے فروغ کے باوجود آج بھی دنیا میں اس پر بکثرت عمل ہو رہا ہے اور بعض ممالک میں صرف اسقاط حمل ہی کیلئے با قاعدہ کلب اور مطب قائم ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مانع حمل ذرائع میں سے کوئی بھی سو فیصدی موثر نہیں ہے۔ ان کے استعمال کے باوجود بسا اوقات حمل قرار پا جاتا ہے، اور اپنی نسل سے بیزار لوگ اس کا علاج یہ کرتے ہیں کہ پیدا ہونے سے پہلے ہی اس بچے کو قتل کر ڈالتے ہیں جو ان کی مرضی کے خلاف دنیا میں آنا چاہتا ہے۔ ضبط ولادت کے حامی بالعموم یہ دعوی کرتے ہیں کہ " خاندانی منصوبہ بندی“ کی وجہ سے اسقاط حمل میں بڑی کمی آجاتی ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ امریکہ میں تازہ ترین اعداد و شمار کی رو سے بقول پروفیسر پال گیب ہارڈ (Paul H Gebhard) آج بھی ۸ فیصدی عورتیں شادی سے پہلے اور ۲۰ سے ۲۵ فیصدی شادی کے بعد اسقاط حمل کا طریقہ اختیار کرتی ہیں۔ جاپان میں دوسری جنگ کے بعد امریکی سپریم کمانڈر کے زیر نگرانی ضبط تولید کی تحریک کو بڑے زور وشور کے ساتھ فروغ دیا گیا لیکن حالات کا گہری نظر سے مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں اس تحریک کی بدولت اسقاط حمل میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ۔ ۱۹۵۰ء میں اس کا رواج / ۲۹ فیصدی آبادی مین تھا۔ ۱۹۵۵ء میں بڑھ کر ۵۲ فیصد تک پہنچ گیا۔ پروفیسر سودے (Sauvy) کے اندازے کےمطابق جاپان میں ہر سال ۱۲ لاکھ اسقاط ہوتے ہیں، اور اگر غیر قانونی اسقاط کو بھی لے لیا جائے ( جو لاکھ سے کم نہیں ) تو تعداد کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے_١
جاپان کے مشہور روز نامہ مینی چی (Mainichi) کے منعقد کردہ سروے کی رو سے جن خاندانوں میں ضبط ولادت پر عمل ہوتا ہے ان میں اسقاط حمل کا طریقہ غیر عامل خاندانوں کےمقابلہ میں چھ گنا زیادہ استعمال ہو رہا ہے۔
انگلستان کے متعلق رائل کمیشن بھی اس نتیجہ پر پہنچا تھا کہ ضبط ولادت پر عامل خاندانوں میں استقاط حمل کا رواج ۸۶۲۷ گنا زیادہ ہے۔ امریکہ کی پرنسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر ایرین ٹوئیر (Irene B Taeuber) کی وسیع تحقیقات بھی اسی نتیجہ پر منتج ہوئیں کہ مانع حمل ذرائع کی آمد کے ساتھ اسقاط حمل میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اب اس کا رواج صرف شادی شدہ خواتین ہی تک محدود نہیں بلکہ ۲۰ سال سے کم عمر کی لڑکیوں میں بھی یہ عام ہے_٢
اور اس امرپر بیشتر ماہرین علوم طبیہ کا اتفاق ہے کہ اسقاط حمل عورت کی صحت اور اس کےنظام اعصاب کیلئے مہلک ہے۔ ہم یہاں صرف ڈاکٹر فریڈرک ٹانگ کی رائے نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں جنہوں نے اس موضوع پر طبی معلومات کا نچوڑ پیش کر دیا ہے:
” جب حمل کو اس کی تکمیل سے پہلے ہی خارج کر دیا جاتا ہے.... جسے اصطلاح میں اسقاط حمل(Abortion) کہا جاتا ہے.....نونسلِ انسانی کو اس کی وجہ سے تین طرح کے نقصان برداشت کرنے پڑتے ہیں۔
ثالثا، اسقاط کی وجہ سے بہت بڑی تعداد میں ایسے مریضانہ (Pathological) اثرات مترتب ہوتے ہیں جو آئندہ تولید کے امکانات کو بری طرح مجروح کر دیتے ہیں_٣
٣-(Taussing, Fredrick j, "The Abortion Problem," Proceedings of the conference of National committee on Maternal Health, Baltimore 1944.p.39.)
"گو یہ ابھی کچھ قبل از وقت ہے کہ اس گولی کے متعلق بالکل مستند طبی رائے دی جائے لیکن یہ بہر حال واضح ہے کہ یہ منع حمل کا ایک قطعی اور یقینی ذریعہ نہیں ہو سکتی اور یہ کہ بعد میں اس کے بُرے اثرات عورت کی زندگی پر مترتب ہو سکتے ہیں۔ یہ گولی افزائش بیضہ (Ovultion) کو روک کر اپنا عمل کرتی ہے اور اس طرح ناگزیر ہو کہ یہ عورت کے ایام ماہواری(Menstrual Cycle) میں مخل ہے۔ جب صورت یہ ہےتو یہ بات کسی طرح نہیں مانی جا سکتی کہ عورت کے اتنے اہم عددی نظام میں تبدیلی بلا کسی دوسرے نا خوشگوار اثر کے ممکن ہے_١
ان گولیوں کے متعلق برٹش انسائیکلو پیڈیا آف میڈیکل پریکٹس کے ضمیمہ میں ہم کو ایک اور مستند رائے ملتی ہے۔ ڈاکٹر جی۔ آئی۔ سوئیر (G.I.Swyer) اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ:
"طویل المدت نقصان دہ اثرات کے امکان سے ہم اس وقت انکار نہیں کر سکتے ۔ اس طریقہ کی بڑی خرابیاں یہ ہیں کہ اس میں بیسیوں گولیاں کامل تسلسل کے ساتھ اور مجوزہ پلان کے مطابق استعمال کرنی ہوتی ہیں، نیز گولیوں کی اونچی قیمت اور نا موافق اثرات کی بہت مریض کے لیے اس طریق علاج کی مقبولیت کو بہت کم کر دیتی ہے ہے_٢"
تازہ اخباری اطلاع یہ ہے کہ لندن کے مشہور ڈاکٹر رینیل ڈیوکس کی رائے میں ضبط ولادت کی یہ گولیاں خطرناک نتائج کی حامل ہیں۔ ان سے دور ان سر اور اعصابی تکالیف ہی نہیں، سرطان (Cancer) جیسے موذی مرض کے پیدا ہونے کا بھی اندیشہ ہے_١
٢- امریکہ میں ایک گولی کی قیمت ۵۰ سینٹ یعنی تقریباً سوا دو روپے ہے جو ہمارے ملک تک پہنچ کر کچھ اور بھی مہنگی ہو جائے گی ۔ ہر فرد کو ان گولیوں پر ہر سال ۱۲۰ الریعنی ۵۴۰ روپے خرچ کرنے ہوں گے ۔ (رسالہ کو رونیٹ ماہ اکتو بر ۶۰ ، صفحہ 11) پاکستان میں، جہاں فی کس سالانہ آمدنی اوسطا ڈھائی سوروپے ہے، یہ مہنگا نسخہ آخر کتنے لوگ استعمال کر سکتے ہیں؟ اگر ہم اپنے ملک کی کم از کم ۵۰لا کھ عورتوں کو یہ گولیاں استعمال کرائیں تو ہمیں اس پر پر ارب سے کروڑ روپیہ سالانہ خرچ کرنا ہوگا۔
یہ تو ہے ان طریقوں کی مضرت انگیزی کا عالم لیکن یہ خطرات انگیز کرنے کے بعد بھی یہ یقین نہیں ہے کہ یہ فی الحقیقت مانع حمل ثابت ہوں گے۔ اس لیے کہ انگلش کمیشن آن اسٹیریلائزیشن (Commission of Sterilisation) کی رپورٹ کے الفاظ میں مانع حمل ذرائع پریشان کن حد تک غیر یقینی ہیں۔ سویڈن میں ڈاکٹر ایم ایکیبالڈ (Dr.M.Ekbald) کےتجربات سے بھی یہی معلوم ہوا ہے کہ ۴۷۹ خواتین میں سے ۳۸ فیصدی کو مانع حمل ذرائع استعمال کرنے کے باوجود حمل ٹھہر گیا۔_٢ یعنی ہر قسم کی مضرتیں برداشت کرنے کے بعد بھی آپ پورےیقین کے ساتھ اولاد کے خطرے سے محفوظ نہیں ہو سکتے۔
ان مضرتوں کے علاوہ ایک بڑی مضرت یہ بھی ہے کہ ضبط ولادت کے طریقے استعمال کر کے جب استقرار حمل کی طرف سے بے فکری ہو جاتی ہے تو شہوانی جذبات قابو میں نہیں رہتے ۔ عورت پر مرد کے شہوانی مطالبات جب اعتدال سے بڑھ جاتے ہیں اور زوجین کے درمیان ایک خالص بیمی تعلق باقی رہ جاتا ہے جس میں تمام تر شہوانی میلانات ہی کا غلبہ ہوتا ہے۔
” مرد کی زوجیت کا رخ اگر کلیۂ خواهشات نفس کی بندگی کی طرف پھر جائے اور اس کو قابو میں رکھنے کے لیے کوئی قوت ضابطہ نہ رہے تو اس سے جو حالت پیدا ہوگی وہ اپنی نجاست و دنائت اور زہر یلے نتائج میں ہر اس نقصان سے کہیں زیادہ ہوگی جو بے حد و حساب بچے پیدا کرنے سےرونما ہوسکتی ہے۔“
عائلی زندگی میں ضبط ولادت کے جو مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں ان کی طرف اوپر ضمناً اشارہ کیا جا چکا ہے۔ شوہر اور بیوی کے تعلقات پر اس کا پہلا اور فوری اثر یہ ہوتا ہے کہ جب دونوں کے داعیات فطرت کی تکمیل نہیں ہوتی تو ایک غیر محسوس طریقہ پر دونوں میں ایک طرح کی اجنبیت پیدا ہونے لگتی ہے جو بعد میں مودت ورحمت کی کمی، سرد مہری اور آخر کار نفرت و بیزاری تک پہنچ جاتی ہے۔ خصوصاً عورت میں ان طریقوں کی مداومت سے جو عصبی ہیجان اور چڑ چڑا پن پیدا ہوتا ہے وہ خانگی زندگی کی ساری مسرتوں کو غارت کر دیتا ہے۔
لیکن اس کے علاوہ ایک اور بڑا نقصان بھی ہے جو مادی اسباب سے زیادہ روحانی اسباب کی بدولت رونما ہوتا ہے۔ جسمانی حیثیت سے تو عورت اور مرد کا تعلق محض ایک بہیمی تعلق ہے جیسا جانوروں میں ہوتا ہے۔ مگر جو چیز اس تعلق کو ایک اعلیٰ درجہ کا روحانی تعلق بناتی ہے اور اس کو مودت ورحمت کے ایک گہرے رابطہ میں تبدیل کر دیتی ہے وہ اولاد کی تربیت میں دونوں کی شرکت اور معاونت ہے۔ ضبط ولادت اس مضبوط روحانی رابطہ کو وجود میں آنے سے روکتا ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان کوئی گہرا اور متحکم تعلق پیدا نہیں ہوتا اور ان کے تعلقاتِ ہمیت کے درجہ سے آگے بڑھنے نہیں پاتے۔ اس ہیمیت کا خاصہ یہ ہے کہ کچھ مدت تک ایک دوسرے سے لطف اندوز ہونے کے بعد دونوں کا دل ایک دوسرے سے بھر جاتا ہے۔ پھر اس ہیمیت کے تعلق میں ہر مرد و عورت کے لیے ہر مرد و عورت یکساں ہے۔ اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ ایک جوڑا ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے کا ہو کر رہ جائے۔ وہ اولا دہی ہے جوز وجین کو ایک دوسرے کے ساتھ ہمیشہ کے لیے وابستہ رہنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ جب وہ نہ ہو تو ان کا باہم جڑ کر رہنا سخت مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ اور امریکہ میں زوجی تعلقات نہایت ضعیف ہوتے چلے جارہے ہیں اور ضبط ولادت کی تحریک کے ساتھ ساتھ طلاق کا رواج اس تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے کہ درحقیقت وہاں عائلی زندگی اور خاندانی نظام کا سارا تارو پود بکھرتا نظر آتا ہے۔
(١) عورت اور مرد کو زنا کا لائسنس مل جاتا ہے۔ حرامی اولاد کی پیدائش سے سیرت پر بدنامی وذلت کا بدنما داغ لگ جانےکا کوئی خوف باقی نہیں رہتا۔ اس لیےناجائز تعلقات پیدا کرنے میں دونوں کی ہمت افزائی ہوتی ہے۔
(۲) لذت پرستی اور بندگی نفس حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہے اور اس سے ایک عام اخلاقی انحطاط وبائی مرض کی طرح پھیل جاتا ہے۔
(۳) جن زوجین کے ہاں اولاد نہیں ہوتی ان میں بہت سے وہ اخلاقی خصائص پیدا ہی نہیں ہوتےجو صرف تربیت اطفال ہی سے پیدا ہوا کرتے ہیں۔ یہ ایک حقیت ہے کہ جس طرح ماں باپ بچوں کی تربیت کرتے ہیں اسی طرح بچے بھی ماں باپ کی تربیت کرتے ہیں۔بچوں کی پرورش سے ماں باپ میں محبت، ایثار اور قربانی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ وہ عاقبت اندیشی، صبر و تحمل اور ضبط نفس کی مشق بہم پہنچاتے ہیں۔ سادہ معاشرت اختیار کرنے پر مجبور ہوتےہیں اور محض اپنی ذاتی آسائش کے پیچھےاندھےنہیں ہو سکتے۔ضبط ولادت ان تمام اخلاقی فوائد کا دروازہ بند کر دیتا ہے۔ توالد و تناسل کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اپنی صفت تخلیق در بوبیت کا ایک حصہ انسان کو عطا کرتا ہے اور اس طرح یہ انسان کے لیے متخلق باخلاق اللہ ہونے کا ایک بڑا وسیلہ ہے۔ ضبط ولادت پر عمل کرنے سے انسان اس بڑی نعمت کو بھی کھو دیتا ہے۔
(۴) ضبط ولادت سے بچوں کی اخلاقی تربیت نامکمل رہ جاتی ہے۔ جس بچے کو چھوٹے اور بڑے بھائی بہنوں کے ساتھ رہنےسہنے، کھیلنے کودنےاور معاملت کرنےکا موقع نہیں ملتا وہ بہت سےاعلیٰ اخلاقی خصائص سے محروم رہ جاتا ہے۔ بچوں کی تربیت صرف ماں باپ ہی نہیں کرتے بلکہ وہ خود بھی ایک دوسرے کی تربیت کرتے ہیں۔ ان کا آپس میں رہنا ان کےاندر ملنساری ، محبت و ایثار ، تعاون و رفاقت اور ایسے ہی بہت سے اوصاف پیدا کرتا ہے اور وہ ایک دوسرے پر نکتہ چینی کر کے خود ہی اپنے بہت سے اخلاقی عیوب کو دور کر لیتے ہیں۔جو لوگ ضبط ولادت پر عمل کر کے اپنی اولاد کو صرف ایک بچے تک محدود کر لیتے ہیں یا دو بچےاس طرح پیدا کرتے ہیں کہ ان میں عمر کا بہت زیادہ تفاوت ہوتا ہے وہ دراصل اپنی اولاد کو ایک بہتر اخلاقی تربیت سےمحروم کر دیتے ہیں_١
مانع حمل ذرائع کا علم ہو سکتا ہے کہ شرح مناکحت کو بڑھا دے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ) یہ بیرون نکاح (Extra Matrimonial Intercourse) جنسی تعلق کے مواقع کو بھی عام کر دیتا ہے۔ جن کا عام چلن Great) (Ferequency خود ہمارے اپنے زمانے میں شادی کے تنگ و تاریک مستقبل کا ایک اور مظہر سمجھا جاتا ہے۔“
یہ تو وہ نقصانات تھے جو محض افراد کو ان کی انفرادی حیثیت میں اٹھانے پڑتے ہیں۔ اب دیکھئے کہ اس تحریک کے رواج عام سے نسلوں اور قوموں کو بحیثیت مجموعی کس قدر شدید نقصان پہنچتا ہے-
تخلیق انسان کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو ز بر دست انتظام کیا ہے اس میں خود انسان کا حصہ صرف اس قدر ہے کہ مرد اپنا نطفہ عورت کے جسم میں پہنچا دے۔ اس کے بعد کوئی چیز انسان کےاختیار میں نہیں ہے، سب کچھ اللہ تعالیٰ کی حکمت و مصلحت اور اس کے ارادے پر منحصر ہے۔ ہر مرتبہ جب مرد عورت سے ملتا ہے تو مرد کے جسم سے ۳۰-۴۰ کروڑ جراثیم حیات (Sperm) عورت کےجسم میں داخل ہوتے ہیں اور عورت کے بیضی خلیے (Egg Cell) سے ملنے کے لیے دوڑ لگاتےہیں۔ ان جراثیم میں سے ہر ایک جداگانہ موروثی اور شخصی خصوصیات کا حامل ہوتا ہے۔ انہی میں کند ذہن اور احمق بھی ہوتے ہیں اور عقلاء و حکماء بھی۔ ان میں ارسطو اور ابن سینا بھی ہوتے ہیں اور چنگیز اور نپولین بھی شیکسپیر اور حافظ بھی، میر جعفر اور میر صادق بھی اور اخلاق و وفا کے پہلے بھی۔ یہ بات انسان کے اختیار میں نہیں ہے کہ کسی خصوصیت کے جرثومہ کو کسی ایک خصوصیت رکھنے والےبیضی خلیہ سے ملا کر اپنے انتخاب سے ایک خاص قسم کا انسان پیدا کر دے۔ یہاں صرف اللہ تعالی کا ارادہ و انتخاب بھی کام کرتا ہے اور وہی یہ فیصلہ کرتا ہے کہ کس وقت کس قوم میں کسی قسم کے آدمی بھیجے۔ انسان جو اپنے عمل کے نتائج سے بالکل بے خبر ہے اگر اللہ تعالیٰ کے اس انتظام میں دخل دے گا تو اس کی مثال ایسی ہوگی جیسے کوئی شخص اندھیرے میں لکڑی تھمائے۔ وہ نہیں جانتا کہ اس کی لکڑی کسی سانپ یا بچھو کو مارے گی یا کسی انسان کا سر پھوڑے گی، یا کسی قیمتی شے کو توڑ پھینکے گی۔بہت ممکن ہے کہ ضبط ولادت پر عمل کرنے والا انسان اپنی قوم ایک بہترین جنرل یا مد بر یا حکیم کی پیدائش کو روک دینے کا سبب بن جائے اور اپنی حد سے گزر کر اللہ تعالی کے فعل میں دخل دینے کی سزا اس کو اس صورت میں ملے کہ اس کی نسل میں احمق یا بے ایمان اور غدار پیدا ہوں۔ خصوصاً جس قوم میں یہ مداخلت عام ہو جائے وہ تو بالیقین اپنے آپ کو قحط الرجال کے خطرے میں مبتلا کرتی ہے۔
پروفیسر آرنلڈ گرین اس مسئلہ پر ایکدوسرے زاویہ نظر سے روشنی ڈالتے ہوئے کہتا ہے کہ قریب العمر بھائیوں اور ساتھیوں کی کمی منجمله اور چیزوں کے بچے کو مشکلات میں جتلا کردیتی ہے اور وہ چیخنے چلانے یا تخریبی نوعیت کے کام کرنے میں لگ جاتا ہے۔ ملاحظہ ہو
مقاله (The Middle Class Male Child & Neurosis) by (Arnold Green) اور Modern 4) (ntroduction to Family مرتبه تار من بیل اور از را دو گل - مطبوعه لندن ۱۹۷۱ صفحه ۵۶۸ -
پھر تجربہ یہ بھی بتاتا ہے کہ وہ خاندان زیادہ کامیاب ہیں جو کثیر الاولاد ہیں۔کم اولا در کھنےوالے خاندان ان کے مقابلہ میں نسبتا نا کام پائے گئے ہیں ۔ پروفیسر کو لن کلارک لکھتا ہے:
"اگر چہ ایک بڑے خاندان کو تعلیم دینے کے مسائل بلاشبہ خاصےگراں بار ہیں لیکن یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ ایک نئے بچے کا اضافہ کر کےماں باپ اپنے موجود بچوں کے مفاد کو مجروح کرتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب خود والدین بھی وجدانی طور پر اس حقیقت کو محسوس کرنے لگےہیں جو فرانس کے مسٹر بریارڈ نے بڑی تحقیق کے بعد دریافت کی ہے۔موصوف نے تجار اور دوسرے اعلی پیشوں والے بے شمار کثیر الاولاد خاندانوں کے نشو و ارتقاء اور ذرائع معاش (Careers) کا مطالعہ کیا اور ان کے حالات کا موازنہ ایسے خاندانوں کے بچوں کی زندگی اور معاش سے کیا جن میں اولاد کم تھی تو وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ کثیر الاولا د خاندانوں کے بچے مختصر خاندان والے بچوں کے مقابلے میں آخر کار زندگی کے میدان میں کہیں زیادہ کامیاب رہے ہیں_١"
ضبط ولادت کی عام تحریک میں ہر شخص اپنے ذاتی حالات اور خواہشات وضروریات پر نظر رکھ کر فیصلہ کرتا ہے کہ وہ کتنی اولاد پیدا کرے،بلکہ سرے سے پیدا کرے بھی یا نہیں۔ اس فیصلہ میں اس کے پیش نظر یہ سوال ہی نہیں ہوتا کہ قوم کو اپنی آبادی برقرار رکھنےکیلئےکم از کم کتنےبچوں کی ضرورت ہےاشخاص نہ اس کا صحیح اندازہ کر سکتےہیں اور نہ شخصی ضروریات کے ساتھ وہ قومی ضروریات کا لحاظ کرنےپر قادر ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جدید نسل کی پیدائش سراسر افراد قوم کی خود غرضی پر منحصر ہو جاتی ہے اور شرح پیدائش اس طرح مٹتی چلی جاتی ہے کہ اس کو کسی حد پر روکنا قوم کے اختیار میں نہیں ہوتا۔ اگر افراد میں خود غرضی بڑھتی رہےاور وہ خراب حالات جو ان کو ضبط ولادت پر ابھارتے ہیں خراب تر ہوتے رہیں تو یقیناً ایسے افراد اپنی اغراض پر قوم کی زندگی کو قربان کر دیں گے حتی کہ ایک روز قوم کا خاتمہ ہی ہو جائے گا۔
ضبط ولادت کی عام تحریک سے جس قوم کی آبادی گھٹنے لگتی ہے وہ ہر وقت تباہی کے سرے پر ہوتی ہے۔ اگر کوئی عام وبا پھیل جائے، یا کوئی بڑی جنگ چھڑ جائے جس میں کثرت سے آدمی مرنے لگیں تو ایسی قوم میں دفعتا آدمیوں کا کال رونما ہو جائے گا اور وہ کسی ذریعہ سے بھی اتنےآدمی فراہم نہ کر سکے گی جو مرنے والوں کی جگہ لے سکیں_ ٢ یہی چیز اب سے دو ہزار سال پہلےیونان کو تباہ کر چکی ہے۔ یونان میں اسقاط حمل اور قتل اولا د کا رواج جڑ پکڑ گیا تھا آبادی گھٹتی چلی جا رہی تھی۔ اسی زمانہ میں خانہ جنگیاں برپا ہو گئیں جنہوں نے قوم کے بکثرت افراد کو ہلاک کر دیا۔ اس دوہرے نقصان نے یونانی قوم کا ایسا زور توڑا کہ پھر وہ نہ سنبھل سکی اور آخر کار اپنے گھر میں دوسروں کی غلام بن کر رہی۔ ٹھیک ٹھیک اسی خطرہ میں آج مغربی ممالک اپنے آپ کو مبتلا کر رہے ہیں۔ ممکن ہےکہ اللہ تعالی کا منشا یہی ہو کہ ان سے خود کشی کرائے ۔ مگر ہم کیوں ان کی اندھی تقلید کر کے اپنی شامت کو اپنے ہاتھوں دعوت دیں؟
٢- اس خطرے کو اب موجودہ زمانے کے ایٹمی ہتھیاروں نے اور بھی زیادہ سخت کر دیا ہے۔هیروشیما میں جوانیم بم استعمال کیا گیا تھا وہ میں ہزارٹن ٹی این ٹی کی طاقت کا تھا اور اس سے ۷۸،۱۵۰ ۔ جاپانی ہلاک ۴۲۵، ۳۷ زخمی اور ۱۳۲۰۸۳لا پتہ ہو گئے ۔ آج دس کروڑ ٹن نی این ٹی کے بم بنائے جار ہے ہیں جو ہیروشیما والے ہم سے ۵ ہزار گناہ زیادہ طاقت رکھتےہیں اگر خدا نخواسته کسی وقت دنیا میں ان تباہ کن ہتھیاروں سےکوئی جنگ لڑی گئی تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جنگ کی لپیٹ میں آنے والے ملکوں کی آبادی آنا فانا کس قدر گھٹ جائے گا۔
تجربے اور تحقیق سے یہ خیال غلط ثابت ہو چکا ہے کہ ضبط ولادت معاشی حیثیت سے مفید ہے۔ اب معاشیات کےماہرین میں یہ خیال روز بروز ترقی کرتا جارہا ہے کہ آبادی کی تفصیل معاشی انحطاط (Economic Depression) کے نہایت قوی اسباب میں سے ہے۔ اس لیے کہ شرح پیدائش کے گھٹنےسے پیدا آور آبادی (Producing Population) کم ہو جاتی ہے اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ پیدا آور آبادی میں بے کاری بڑھتی چلی جائے۔ پید اور آبادی صرف جوانوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ برعکس اس کے خرچ کرنے والی آبادی میں بوڑھے، بچے اور معذور لوگ بھی شامل ہوتے ہیں جن کا پیدآوری میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ اگر ان کی تعداد گھٹ جائے تو مجموعی طور پر خرچ کرنے والوں میں بھی کمی واقع ہو گی۔ مال کے خریدار کم ہو جائیں گے تو اسی نسبت سے مال تیار کرنے والوں کو کم کام ملے گا۔ اسی وجہ سے جرمنی اور اٹلی کے ماہرین معاشیات کا ایک موثر گروہ خاص طور پر تو غیر آبادی کے لیے زور دیتا رہا ہے۔
اور اب برطانوی ارامریکی ماہرین میں سے بھی اک طبقہ اس رائے کو پیش کر رہا ہے۔ اس سلسلہ میں لارڈ کینز (Lord Keynes) اور پروفیسر ایچ ہینسن (Alvin H Hansen) پروفیسر کولن کلارک اور پروفیسر جی۔ ڈی۔ ایچ ۔ کول (G.D.H. Cole) کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
"پس معلوم ہوا کہ آبادی میں تیز رفتار اضافہ (Upsurge) معاشی سرگرمی کو تیز تر کر دیتا ہے، خصوصیت سے اس حالت میں جب کہ وسعت اختیار کرنے والی قوتیں (Expansive Forces) سکڑنےوالی قوتوں (Contractive Forces) کے مقابلہ میں زیادہ قوی ہوں، نیز یہی چیز برعکس حالت میں بھی ہوگی... ایسا معلوم ہوتا ہےکہ کینس اور ہینسن کی یہ دلیل (Thesis) کہ نیم بے روزگاری میں اضافہ رفتار شرح اضافہ آبادی میں مسلسل کمی کا نتیجہ ہے اب کافی قبولیت عامہ حاصل کر چکی ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ اضافہ آبادی کے حجم میں مستقل کسی نے ایک طرف اس سرمایہ کاری (Investment) کی ضرورت میں کمی کی موجب ہوگی جو اضافہ آبادی کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیےہوتی ہے اور دوسری طرف اور بھی متعدد سرمایه کارانه سرگرمیوں پر برا اثر ڈالے گی۔ جیسے جیسے شرح اضافہ آبادی گرتا ہے۔ اُس شرح سے سرمایہ کاری میں بھی کمی واقع ہوتی چلی جاتی ہے جو معیاری روزگار (Full Employment ) سے وابستہ ہے۔“
"جدیدہ معاشرہ میں بیشتر صنعتیں غالباً اضافہ آبادی سے ہی مستفید ہوں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ معاشی ادارے کچھ اس طرح کام کر رہے ہیں کہ اگر آبادی میں اضافہ ہو اور مارکیٹ کا سائز بڑھ جائے تو تنظیم کچھ زیادہ کفایت شعارا نہ ہو جائے گی اور فی کس پیداوار بڑھ جائے گی، کم نہیں ہوگی۔ اگر شمالی امریکہ اور مغربی یورپ کی کثیر اور گنجان آبادی نہ ہوتی تو جدید صنعتوں کا ایک بڑا حصہ سخت مشکلات سے دو چار ہوتا اور مصارف پیداوار بہت بڑھ جاتے - - - - بلکہ یہ بھی حل نظر ہے کہ ان حالات میں یہ سو یہ صنعتیں وجود میں بھی آتیں_١
___________________________________________________________________________ ١- یہاں اصل لفظ (Taperine) ہے جو خر ولی شکل کے لیے مستعمل ہوتا ہے یعنی ایک چیز او پرسے موٹی ہواور برابر نیچے تک پتلی ہوتی چلی جائے، جیسے یہ شکل: V
١- (Spengler. Joseph J: "Population Theory." A Survey of Contemporary Economics. Vol. II Illinois. 1952. P16)
١- (Spengler. Joseph J: "Population Theory." A Survey of Contemporary Economics. Vol. II Illinois. 1952. P16)
مباحث مذکورہ بالا کو پیش نظر رکھ کر آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حرث (کھیتی ) اور نسل کی بر بادی کو فساد فی الارض سے کیوں تعبیر فرمایا ہے۔ پھر اس بحث سے آپ اس آیت کا مفہوم بھی خوب سمجھ سکتے ہیں کہ جس میں ارشاد ہوا ہے کہ :
" اور تم اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو ۔ ان کو رزق دینے والے بھی ہم ہی ہیں اور تم کو بھی۔ ان کو قتل کرنا ایک بڑی خطا ہے۔"
اس کے بعد ہم کو ان دلائل سے بحث کرنی ہے جو ضبط ولادت کی تائید میں پیش کیے جاتے ہیں ۔ اس ضمن میں ہم ان احادیث کی صحیح تفسیر بھی بیان کریں گے جن سے ضبط ولادت کے موافقت میں استدلال کیا جاسکتا ہے۔
ضبط ولادت کی تائید میں جو دلائل پیش کیےجاتےہیں ان میں سےاکثر و بیشتر ان حالات پر بنی ہیں جو مغربی تہذیب و تمدن نےپیدا کیےہیں۔حامیان ضبط ولادت کا طریق فکر یه ہےکہ تمدن و معاشرت کےیہ اطوار اور تہذیب کے یہ طریقے ، اور معیشت کے یہ اصول تو ناقابل تغیر ہیں ، البته ان سے جو مشکلات پیدا ہوتی ہیں ان کو ضرور حل کرنا چاہیے، اور ان کا آسان حل یہی ہے که افزائش نسل کو روک دیا جائے لیکن ہم کہتے ہیں کہ تم تمدن و تہذیب کے اسلامی اصول اور معیشت و معاشرت کے اسلامی قوانین اختیار کر کے ان مشکلات ہی کو پیش آنے سے روک دو جنہیں حل کرنے کے لیے تم کو قوانین فطرت کے خلاف جنگ کرنی پڑتی ہے۔
اس مسئلہ پر گزشتہ صفحات میں کافی بحث کی جاچکی ہے۔ لهذا اب ہم صرف ان دلائل سےبحث کریں گے جو مخصوص حالات پر نہیں بلکہ عام انسانی حالات پر نظر کر کے حامیان ضبط ولادت نے اپنی کتابوں اور تقریروں میں بیان کیے ہیں۔
"زمین میں قابل سکونت جگہ محدود ہے، انسان کے لیے وسائل معاش بھی محدود ہیں، لیکن انسانی نسلوں میں افزائش کی قابلیت غیر محدود ہے۔زمین میں ایک اچھےمعیار زندگی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ پانچ ہزار ملین آدمی سما سکتے ہیں۔ اس وقت زمین کی آبادی تقریبا تین ہزار ملین تک پہنچ چکی ہے اور اگر حالات مناسب ہوں تو تمہیں سال کےاندر یہ آبادی دگنی ہو سکتی ہے۔ لہذا یہ اندیشہ بالکل بجا ہے کہ ۵۰ سال کے اندر زمین آدمیوں سے بھر جائے گی اور اس کے بعد نسلوں میں جو اضافہ ہو گا وہ اولاد آدمی کے معیار زندگی کو گراتا چلا جائے گا، یہاں تک کہ ان کے لیےبھلے آدمیوں کی طرح زندگی گزارنا مشکل ہو جائے گا۔ پس انسانیت کو اس خطرہ سے بچانے کے لیے تحدید نسل (Birth Limitation) کےطریقے اختیار کر کے نسلوں کی افزائش کو ایک حد مناسب کے اندر محدودکر دیا جائے۔"
یہ در اصل خدا کے انتظام پر نکتہ چینی ہے۔ جس بات کو یہ لوگ خود حساب لگا کر اس قدر آسانی کے ساتھ معلوم کر سکتے ہیں، ان کا گمان ہے کہ خدا اس سے بے خبر ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ اس کی زمین میں کس قدر گنجائش ہے اور اسے یہاں کتنے انسان پیدا کرنے چاہئیں جو اس میں سما سکتے
میں سے ہر ایک اپنے اندر ایک انسان بن جانے کی پوری استعداد رکھتا ہے، بشرطیکہ اسے کسی عورت کے بیضی خلیے (Egg Cell Oxum) میں داخل ہو جانے کا موقع مل جائے ۔ ان میں سے ہر جرثومہ آبائی خصوصیات اور انفرادی اوصاف کے ایک جداگانہ امتزاج کا حامل ہوتا ہے جس سے ایک منفرد شخصیت بن سکتی ہے۔ دوسری طرف ہر بالغ عورت کے خصیتین (Ovaries) میں تقریباً ۴ لاکھ نا پختہ انڈے موجود رہتے ہیں۔ مگر ان میں سے ایک طہر کی مدت میں صرف ایک انڈا پختہ ہو کر کسی وقت (بالعموم حیض کی آمد سے ۱۴ دن پہلے ) برآمد ہوتا ہے اور زیادہ سے زیادہ ۲۴ گھنٹے تک اس کے لیے تیار رہتا ہے کہ اگر مرد کا کوئی جرثومہ آکر اس میں داخل ہو جائے تو استقرار حمل واقع ہو جائے ۔ ۱۲ برس کی عمر سے ۴۸ برس کی عمر تک ۳۶ سال کی مدت میں ایک عورت کے خصیتین اوسطاً ۴۳۰ پختہ انڈے خارج کرتے ہیں جو بارو ر ہو سکتے ہیں۔ ان انڈوں میں سے بھی ہر ایک کے اندر سلسلہ مادری کی موروثی خصوصیات اور انفرادی اوصاف کا ایک جداگانہ احتراج ہوتا ہے جس سے ایک منفرد شخصیت وجود میں آسکتی ہے۔ مرد اور عورت کی ہر مواصلت کےموقع پر مرد کے جسم سے کروڑوں جرثومے نکل کر عورت کے انڈے کی تلاش میں دوڑ لگاتے ہیں، مگر یا تو وہاں انڈا موجود نہیں ہوتا یا وہ سب اس تک پہنچنے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح عورت کےہر طہر میں ایک وقت خاص پر ایک انڈا نکلتا ہے اور ایک شب و روز تک مردانہ جرثومے کا منتظر رہتا ہے۔ مگر اس دوران میں یا تو مواصلت ہی نہیں ہوتی ، یا ہوتی ہے تو کسی جرثومے کی رسائی اس انڈے تک نہیں ہوتی ۔ یوں بیسیوں مواصلتیں ، بلکہ بعض جوڑوں کی عمر بھر کی مواصلتیں بے نتیجہ گزر جاتی ہیں۔ مرد کے اربوں جرثومے ضائع ہوتے رہتے ہیں جب مرد کے ایک جرثومے کو عورت کے ایک انڈے کے اندر داخل ہونے کا موقع مل جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں استقرار تمل واقع ہوتا ہے۔
یہ ہے وہ نظام جس کے تحت انسان پیدا ہوتا ہے۔ اس نظام پر ایک سرسری نگاہ ڈال کر ہی آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ اس کے اندر ہماری منصوبہ بندی کے لیے کتنی گنجائش ہے۔ کسی ماں کسی باپ، کسی ڈاکٹر اور کسی حکومت کا اس امر کےفیصلےمیں ذرہ برابر بھی کوئی دخل نہیں ہے کہ ایک جوڑے کی بہت سی مواصلتوں میں سےکس مواصلت میں استقرار حمل واقع ہو۔مرد کے اربوں جرثوموں میں سے کس خاص جرثومے کو عورت کے سینکڑوں انڈوں میں سےکس انڈے کےساتھ لےجا کر ملایا جائےاور ان دونوں کےملاپ سےکس قسم کی شخصیت پیدا کی جائےفیصلہ کرنا تو در کنار کسی کو یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ فی الواقع کب تاریک عورت کے رحم میں استقرار حمل ہوا ہے اور اس میں کن اوصاف اور کس قابلیت کے انسان کی بنا ڈالی گئی ہے۔ یہ سب کچھ اس مدیر کےاشارے سےہوتا ہے جو انسانی ارادوں سے بالا تر ہے اور اس کارخانہ خلق و ایجاد کا سارا منصوبہ بلا شرکت غیرے بنا اور چلا رہا ہے۔وہی استقرار حمل کی ساعت مقرر کرتا ہے۔ وہی اس خاص جرثومے اور اس کے خاص انڈے کا انتخاب کرتا ہے جنہیں ایک دوسرے سے ملانا ہے۔ اور وہی یہ طے کرتا ہے کہ ان کے امتزاج سے لڑ کا پیدا کیا جائے یا لڑ کی صحیح و سالم انسان پیدا ہو یا ناقص الاعضاء، خوبصورت پیدا ہو یا بدصورت، ذہین پیدا ہو یا بلید، لائق پیدا ہو یا نالائق ، اس سارےمنصوبے میں جو کام انسان کے سپرد کیا گیا ہے وہ اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ مرد اور عورت اپنی فطرت کی مانگ پوری کرنے کے لیے باہم ملیں اور تناسل کی مشین کو بس حرکت دے دیں۔ اس کے بعد سب کچھ خالق کے اختیار میں ہے۔
انسانی آبادی کی حقیقی منصوبہ بندی دراصل تخلیق کا یہی نظام کر رہا ہے۔ آپ ذرا غور فرمائیں، ایک طرف آدمی کی قوت توالد و تناسل کا یہ حال ہے کہ ایک مرد کے جسم سے صرف ایک وقت میں جو نطفہ خارج ہوتا ہے وہ پاکستان کی آبادی سے کئی گنا زیادہ آبادی پیدا کر سکتا ہے ،لیکن دوسری طرف اس زبر دست قوت پیداوار کو کسی بالاتر اقتدار نے اتنا محدود کر رکھا ہے کہ ابتدائےآفرینش سے آج تک ہزار ہا سال کی مدت میں انسانی نسل صرف تین ارب کی تعداد تک پہنچ سکی ہے۔ آپ خود حساب لگا کر دیکھیں لیں۔ تین ہزار برس قبل مسیح سے اگر صرف ایک مرد و عورت کی اولاد کو طبیعی رفتار پر بڑھنے کا موقع مل جاتا اور وہ ہر ۳۰ سال یا ۳۵ سال میں دوگنی ہوتی چلی جاتی تو آج صرف ای ایک جوڑے کی اولا د اتنی بڑی تعداد میں ہوتی کہ اسے لکھنے کے لیے ۲۶ ہند سےدرکار ہوتے۔ سوال یہ ہے کہ نوع انسانی کی جو آبادی اس رفتار سے بڑھ سکتی تھی آخر خالق کے اپنےمنصوبے کے سوا اور کس کے منصوبے نے آج تک اس کو قابو میں رکھتا ہے؟ در حقیقت اس کا غالب منصو بہ انسان کو دنیا میں لایا ہے۔ وہی یہ طے کرتا ہے کہ کس وقت کتنے آدمی پیدا کرے اور کس رفتار سے آدم کی اولاد کو بڑھائے یا گھٹائے ۔ وہی ایک ایک شخص ، ایک ایک مرد اور ایک ایک عورت کےمتعلق یہ طے کرتا ہے کہ وہ کس شکل میں کن قوتوں اور استعدادوں کے ساتھ پیدا ہو، کن حالات میں پرورش پائے ، اور کتنا کچھ کام کرنےکا موقع اس کو دیا جائے۔وہی یہ طےکرتا ہے کہ کس وقت کس قوم میں کیسے آدمی پیدا کیے جائیں اور کیسے نہ کیے جائیں، کس قوم کو کتنا بڑھنے دیا جائے اور کہاں جا کر اسے روک دیا جائے یا پیچھے پھینک دیا جائے ۔ اس کی اس منصوبہ بندی کو نہ ہم سمجھ سکتےہیں، نہ ہم میں اسے معطل کر دینے کی طاقت ہے۔ ہم اس میں دخل انداز ہونے کی کوشش کریں گے بھی تو یہ اندھیرے میں تیر چلانے کا ہم معنی ہوگا، کیونکہ اس کارخانے کو جس عظیم حکمت کےساتھ چلایا جارہا ہے اس کے ظاہر کو بھی ہم پوری طرح نہیں دیکھ رہے ہیں، کجا کہ اس کے باطن تک ہماری نگاہ پہنچ سکے اور ہم سارے متعلقہ حقائق کو جان کر کوئی منصوبہ بناسکیں۔
ممکن ہے کوئی صاحب میری اس بات کو مذہبیت کی ایک ترنگ قرار دے کر نظر انداز کر دینے کی کوشش فرما ئیں،اور پورے زور کےساتھ یہ سوال پیش کر دیں کہ اپنی آبادی کو اپنی معیشت کی چادر کا طول و عرض دیکھ کر آخر ہم کیوں نہ خود متعین کریں، خصوصاً جب کہ خدا نے ہم کو ایسے علمی اور فی ذرائع دے دیئے ہیں جن سے ہم آبادی بڑھانے اور گھٹانے پر قادر ہو گئے ہیں؟ اس لیےاب میں ذرا وضاحت کے ساتھ یہ بتاؤں گا کہ آبادی کی پیدائش اور افزائش کےفطری انتظام میں ہماری مداخلت کےنتائج کیا ہو سکتےہیں اور عملاً جہاں یہ مداخلت کی گئی ہے وہاں کیا نتائج فی الواقع برآمد ہوئے ہیں۔
اس سلسلے میں پہلی بات جسے اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے، یہ ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی کےحق میں معاشیات کی بنیاد پر جتنے دلائل دیئے جاتے ہیں وہ درحقیقت خاندانی منصوبہ بندی (Family Planning) کا نہیں بلکہ آبادی کی منصوبہ بندی( Population Planning )کا تقاضا کرتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، ان دلائل کا اقتضا یہ ہے کہ ہم ایک طرف اپنے ملک کے وسائل معیشت کا ٹھیک ٹھیک حساب لگائیں اور دوسری طرف یہ طے کریں کہ ان وسائل کے تناسب سے اس ملک کی آبادی اتنی ہونی چاہیے اور اس رفتار سے اس میں مرنے والوں کی جگہ نئے آدمی آنے چاہئیں۔ لیکن فی الواقع اس طرح کی منصوبہ بندی اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک نکاح اور خاندان کے اداروں کو بالکل ختم کر کے تمام مردوں اور تمام عورتوں کو حکومت کا مزدور نہ بنا لیا جائے، اور ایسا انتظام نہ کر دیا جائے کہ دونوں صنفوں کے ان مزدوروں کو ایک مقرر منصوبے کے تحت صرف پیدا آوری (Production) کے لیے سرکاری ڈیوٹی کے طور پر ایک دوسرے سے ملایا جاتا رہے اور مطلوبہ تعداد میں عورتوں کے حاملہ ہو جانےکے بعد ان کو ایک دوسرےسےالگ کر دیا جایا کرے۔ یا پھر یہ منصوبہ بندی اس صورت میں ہوسکتی ہےکہ عورتوں اور مردوں کی براہ راست مواصلت بالکل ممنوع ٹھہرا دی جائے ،خون کے بینکوں کی طرح منی بینک قائم کر دیئے جائیں، اور پچکاریوں کے ذریعہ سے گائے بھینسوں اور گھوڑیوں کی طرح عورتوں کو بھی ایک مخصوص طے شدہ تعداد میں گیا بھن کیا جاتا رہے۔ ان دو صورتوں کےسوا کوئی تیسری صورت ایسی نہیں ہو سکتی جس سے ایک منصوبے کے مطابق ملک کے وسائل معیشت اور اس کی آبادی کے درمیان توازن قائم کیا جاسکے۔
چونکہ انسان ابھی تک اس تنزل کے لیے تیار نہیں ہے، اس لیے مجبوراً آبادی کی منصوبہ بندی کی بجائے خاندانی منصوبہ بندی کا طریقہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ یعنی یہ کہ آدمی کے بچے پیدا تو انہی چھوٹے چھوٹے آزاد کارخانوں میں ہوں جن کا نام "گھر“ ہے اور ان کی پیدائش کا انتظام بھی صرف ایک ایک ماں اور ایک ایک باپ کے ہاتھوں ہی میں رہے، لیکن ان آزاد کارخانہ داروں کو اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ بطور خود پیداوار کم کردیں۔
اس بحث کے بعد میرے لیے یہ بتانا بہت آسان ہو گیا ہے کہ جس دین فطرت کے ہم پیرو ہیں وہ اس مسئلے میں ہماری کیا رہنمائی کرتا ہےعام طور پر ضبط ولادت کےحامی حضرات جن احادیث سےعزل (Coitus Interruptus) کا جواز نکال کر دکھاتے ہیں وہ اس امر واقعہ کو نظر انداز کر جاتے ہیں کہ احادیث کے پس منظر میں تحدید نسل کی کوئی عام تحریک موجود نہ تھی۔اس زمانےمیں سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کےسامنےکوئی شخص یہ فتوئی پوچھنے کےلیےنہیں گیا تھا کہ حضور ہم ایسی کوئی تحریک چلا سکتے ہیں یا نہیں بلکہ وہاں تو مختلف اوقات میں بعض افراد نے محض اپنے انفرادی حالات پیش کر کے یہ دریافت کیا تھا کہ اس صورت حال میں ایک مسلمان کے لیے عزل کرنا جائز ہے یا نہیں۔ ان متفرق سائلوں کو حضور نے جو جوابات دیے تھےان میں سے بعض میں آپ نے اس سے منع فرمایا، بعض میں اسے ایک فضول حرکت قرار دیا، اور آپ کے بعض جوابات سے یا آپ کےسکوت سے جواز کا پہلو بھی نکلتا ہے۔ ان مختلف جوابات میں سے اگر صرف انہی جوابات کو چھانٹ لیا جائے جو جواز پر دلالت کرتے ہیں، تب بھی ان کو بس انفرادی ضبط ولادت ہی کے لیے دلیل بنایا جا سکتا ہے۔ اس کی بنیاد پر ایک عمومی تحریک جاری کر دینے کا جواز ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ یہ بات میں ابھی آپ سےعرض کر چکا ہوں کہ انفرادی ضبط ولادت ہی کےلیے دلیل بنایا جا سکتا ہے۔ اس کی بنیاد پر ایک عمومی تحریک جاری کر دینے کا جواز ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ یہ بات میں ابھی آپ سے عرض کر چکا ہوں کہ انفرادی ضبط ولادت اور اس کی اجتماعی تحریک میں کتنا عظیم فرق ہے۔ اس فرق کو فراموش کر کے ایک کے جواز کو دوسرے کےجواز کی دلیل بنانا قیاس مع الفارق ہے۔
رہی تحدید نسل کی اجتماعی تحریک ، تو اس کی بنیادی فکر سے لے کر اس کے طریق کار تک اور اس کے عملی نتائج تک، ہر چیز اسلام سے قطعی طور پر متصادم ہے۔ اس کی بنیادی فکر آخر اس کے سوا کیا ہے کہ آبادی بڑھے گی تو رزق کم ہو جائے گا اور جینے کے لالے پڑ جائیں گے۔ لیکن قرآن سرے سے اس انداز فکر ہی کو غلط قرار دیتا ہے۔ وہ بار بار مختلف طریقوں سے یہ بات انسان کےذہن نشین کرتا ہے کہ رزق دینا اس کی ذمہ داری ہے جس نے پیدا کیا ہے۔ وہ تخلیق کا کام اندھا دھند طریقے سے نہیں کر رہا ہے کہ آنکھیں بند کر کے بس پیدا کرتا چلا جائے اور یہ نہ دیکھے کہ جس زمین میں وہ اس مخلوق کو لا لا کر ڈال رہا ہے یہاں اس کی روزی کا سامان بھی ہے یا نہیں۔ یہ کام اس نے کسی اور پر نہیں چھوڑا ہے کہ پیدا تو وہ کر دے اور رزق رسانی کی فکر کوئی دوسرا کرے۔ وہ محض خالق ہی نہیں، رازق بھی ہے اور اپنے کام کو وہ خود زیادہ جانتا ہے۔ اس مضمون کو اس کثرت سے قرآن میں بیان کیا گیا ہے کہ اگر میں اس سلسلے کی ساری آیات آپ کو سناؤں تو بات لمبی ہو جائے گی۔ میں یہاں صرف نمونے کی چند آیات پیش کرتا ہوں:
"آسمانوں اور زمین کے خزانے اس کے اختیار میں ہیں، جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔“
"اور ہم نے زمین میں تمہارے لیے بھی معیشت کا سامان فراہم کیا ہے اور ان دوسروں کے لیے بھی جن کے رازق تم نہیں ہو۔ کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں۔ اور ہم ( ان خزانوں میں سے ) جو چیز بھی نازل کرتے ہیں ایک سوچے سمجھے اندازے سےنازل کرتے ہیں۔“
ان حقائق کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ انسان کے ذمے جو کام ڈالتا ہے وہ یہ ہے کہ اس کے ان خزانوں سے وہ اپنا رزق تلاش کرنے کی سعی کرے۔ بالفاظ دیگر رزق دینا اللہ کا کام ہے اور ڈھونڈ نا انسان کا کام:
اسی بنیاد پر قرآن متعدد مقامات پر ان لوگوں کو ملامت کرتا ہے جو زمانہ جاہلیت میں رزق کی کمی کے اندیشے سے اپنی اولاد کو قتل کر دیتے تھے۔
ان آیات میں ملامت ایک ہی غلطی پر نہیں ہے بلکہ دو غلطیوں پر ہے۔ ایک غلطی یہ کہ وہ اپنی اولاد کو قتل کر دیتے تھے اور دوسری غلطی یہ کہ وہ اولاد کی پیدائش کو اپنے لیے مفلسی کا سبب سمجھتےتھےاس لیے دوسری غلطی کی اصلاح یہ کہہ کر فرمائی گئی کہ آنے والے انسانوں کی رزق رسانی کا ذمہ دار تم نے اپنے آپ کو کیوں سمجھ لیا ہے، تم کو بھی ہم رزق دیتے ہیں ، ان کا رزق بھی ہمارے ہی ذمہ ہے۔ اب اگر افزائش نسل کو روکنے کے لیے بچوں کو قتل نہ کیا جائے بلکہ ایسے ذرائع استعمال کیسےجانے لگیں جن سے استقرار مل ہی نہ ہونے پائے تو یہ صرف پہلی غلطی سے اجتناب ہوگا۔ دوسری غلطی پھر بھی باقی رہ جائے گی جبکہ معیشت کے تنگ ہو جانے کا خطرہ ہی اولاد کی پیدائش روکنے کا اصل محرک ہو۔
یہ تو ہے قرآن کا نقطہ نظر اس انداز فکر کے بارے میں جس کی بناء پر تحدید نسل کا خیال دنیا میں پہلے بھی پیدا ہوتا رہا ہے اور آج بھی پیدا ہورہا ہے۔ اب ان نتائج پر ایک نگاہ ڈالیے جو اس تخیل کو ایک اجتماعی تحریک کی شکل دینے سے لا ز ما رونما ہوتے ہیں اور خود غور کیجئے کہ کیا دین اسلام ان میں سے کسی نتیجے کو بھی گوارا کر سکتا ہے۔ جو دین زنا کو بدترین اخلاقی جرم سمجھتا ہو اور اس کےجس کے پھیلنےسے معاشرے میں اس فعل شنیع کی وبا پھوٹ پڑنے کا خطرہ ہو؟ جو دین انسانی معاشرے میں صلہ رحمی اور ایثار و ہمدردی کے اوصاف کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتا ہے، کیا آپ امید رکھتے ہیں کہ وہ اس خود غرضانہ ذہنیت کے نشو و نما کو برداشت کرے گا جو تحدید نسل کی تبلیغ سے لازماً پیدا ہوتی ہے؟ پھر جس دین کو امت مسلمہ کی سلامتی سب سے بڑھ کر عزیز ہے، کیا آپ یہ گمان کر سکتے ہیں کہ وہ کسی ایسی تحریک کو برداشت کرلے گا جس کی بدولت کثیر التعداد دشمنوں کے درمیان گھرے ہوئے مٹھی بھر مسلمانوں کی تعداد اور بھی کم ہو جائے اور ان کا دفاع خطرے میں پڑ جائے ۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب عقل عام (Common Sense) خود دے سکتی ہے۔ ان کیلئے آیات اور احادیث لانے کی حاجت نہیں ہے۔
آج مشرقی ممالک میں اور خصوصیت سے عالم اسلام میں ضبط ولادت کی تحریک کو بڑی تیزی کے ساتھ فروغ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مذہبی اور عقلی دونوں حیثیتوں سے اس پر زور وشور کے ساتھ بحث ہو رہی ہے اور فکر ونظر کے مختلف پہلو سامنے آ رہے ہیں۔ بحث کے مختلف پیار ہیں سے کسی کو اتفاق ہو یا اختلاف لیکن یہ حقیقت تو نا قابل انکار ہے کہ بحث و مباحثہ کے ذرایعه تلاش حق کا راستہ آسان ہو جاتا ہے اور دلائل کے ٹکراؤ سے صحیح بات تک پہنچنے کے غالب مواقع پیدا ہو جاتے ہیں۔ علمی مباحث کی سب سے بڑی افادیت ہی یہ ہے کہ وہ تلاش وجستجو کی راہوں کو منور کر کے فکر انسانی کے ارتقاء کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ سچا انسان وہ ہے جو اندھی تقلید کی پٹی ہوئی ڈگر اختیار کرنے کے بجائے خدا کی دئی ہوئی صلاحیتوں سے کام لے کر ایمانداری اور اخلاص کے ساتھ اپنا راستہ نکالتا ہے، دلیل کی زبان سے بات کرتا ہے اور تجربہ سے سبق سیکھتا ہے۔
بد قسمتی سے عالم میں ایک طبقہ ایسا پیدا ہو گیا ہے جس نے اپنی ذہنی اور فکری آزادی کو مغرب کی غلامی کے آستانہ پر قربان کر دیا ہے۔ جو اجتہاد کے بجائے یورپ کی اندھی تقلید اور نقالی کی روش اختیار کرتا ہے اور اپنے دماغ سے سوچنے کے بجائے مغرب کے روز مرہ پر آنکھیں بند کر کے عامل ہونا چاہتا ہے۔ تعصب، کورانہ تقلید اور اندھی نقالی محض اہل مذہب ہی کے ایک مخصوص طبقے میں نہیں پائے جاتے، یہ اوصاف جدید تعلیم و تہذیب پر فخر کرنے والے اصحاب میں بھی موجود ہیں اور مقدم الذکر گروہ سے کہیں زیادہ ہیں۔ یہ لوگ اجتہاد کا نام تو بڑے زور سے لیتےہیں ۔ مگر اس سے ان کا مقصود صرف یہ ہوتا ہے کہ اسلام کو کسی طرح مغرب کے سانچے میں ڈھالا جائے۔ حقیقی اجتہاد جس چیز کا نام ہے اس کی انہیں ہوا بھی نہیں لگی۔ یہ اپنے ذہن سے سوچنے کےبجائے مغرب کے ذہن سے سوچتے ہیں۔ مغرب کی زبان سے بولتے ہیں اور مغرب کے نقش قدم پر بے سوچے سمجھے رواں دواں ہیں۔ مغرب سے ہمیں کوئی عناد نہیں ہے۔ وہاں انھی چیزیں بھی ہیں اور بری بھی۔ اپنی آنکھیں کھول کر دیکھنا چاہیے اور اپنے ذہنوں سے کام لیتے ہوے مجتہدانہ بصیرت کے ساتھ اپنا راستہ خود نکالنا چاہیے۔ نقالی اور کورانہ تقلید کی روش ایک قوم کی ذہنی موت اور تمدنی ارتداد پر منتج ہوتی ہے۔
تقلید پر یورپ کی رضا مند ہوا تو مجھے کو تو گلہ تجھ سے ہے، یورپ سے نہیں
کر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت وہ کہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں پیرو!
دیکھے تو زمانے کو اگر اپنی نظر افلاک منور ہوں ترے نور کر سے خورشید کرے کسب ضیاء تیرے شرر سے ظاہر تری تقدیر ہو سیمائے قمر سے دریا متلاطم ہوں تری موج گہر نے شرمندہ ہو فطرت ترے اعجاز ہنر سے
اغیار کے افکار و تخیل کی گدائی! کیا تجھ کو نہیں اپنی خودی تک بھی رسائی؟
ضبط ولادت کے مسئلہ پر بھی بدقسمتی سے عالم اسلامی میں اس مقلدانہ اور مغرب زدہ ذہنیت کے ساتھ غور کیا جارہا ہے۔ ضرورت ہے کہ ہم مغرب کے رنگین شیشوں سے اپنی دنیا کو دیکھنے کےبجائے اسے اس کے حقیقی رنگ میں دیکھیں اور آزاد خیالی اور وسعتِ نظر کا ثبوت دیں۔ دلیل کےلیے ہمارا دل ہمیشہ کھلا ہو اور محض تعصب اور نقالی کے آگے ہم کسی قیمت پر بھی سپر نہ ڈالیں۔ اس لیے کہ "وہ جو نہ دلیل کو سنتا ہے اور نہ دلیل سے بات کرنا چاہتا ہے،متعصب اور کٹ حجتی ہے، اور جو دلیل کا مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتا در اصل غلام ہے، اور جو دلیل دینے کی صلاحیت ہی سےمحروم ہے وہ نبی اور احمق ہے۔“
ہماری خواہش ہے کہ مسلمان اس مسئلہ پر غلام ذہنیت کے بجائے آزادانہ طور پر غور کریں۔ہماری موجودہ پیشکش اسی سلسلہ کی ایک کوشش ہے۔
تحدید نسل کے موید آج کل اپنے استدلال کی بنیاد معاشی امور پر رکھتے ہیں اور آبادی کی کثرت سے پیدا ہونے والی معاشی وقتوں کے مقابلے کے لیے ضبط ولادت کی پالیسی تجویز کرتےہیں۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی جدید دنیا میں اس تحریک کا فروغ معاشی اسباب ہی سے ہوا ہے؟ تاریخ کے مطالعہ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ اسباب معیشت اور تحدید نسل میں قطعا کوئی تعلق نہیں رہا۔
ماہتھس (Malthus) نے آبادی کے مسئلہ کے معاشی پہلو کوضرور پیش کیا تھا اور آبادی کے اضافہ کو روکنے کا مشورہ بھی اس نے ضرور دیا تھا ( واضح رہے کہ ضبط ولادت کا مالتھس شدید مخالف تھا۔ وہ تو تحدید نسل کے لیے تجرد اور ازدواجی زندگی میں اخلاقی ضبط اختیار کرنے پر زور دیتا ) مگر اس کی زندگی میں اور اس کے بعد جو معاشی اور صنعتی انقلاب مغربی دنیا میں رونما ہوا اس نے حالات کو یکسر بدل دیا اور اس کی وجہ سے زندگی کا وہ رخ سامنے آیا جو ما نفس کی نگاہ سے اوجھل تھا۔ یعنی افزائش پیداوار کے لامحدود امکانات!
۱۷۹۸ء میں ہتھس نے وسائل کی قلت کا شوشہ اٹھایا تھا لیکن انیسویں صدی کی معاشی ترقیات کی روشنی میں اس کے بیان کیے ہوئے تمام خطرات پادر ہوا ثابت ہوئے۔
۱۸۹۸ء میں پورے سو سال بعد سرولیم کروئس، صدر برٹش ایسوسی ایشن نے پھر خطرے کی لکھنٹی بجائی اور کہا کہ ۱۹۳۱ ء تک پیداوار کی کمی خطر ناک ترین صورت اختیار کر لے گی اور انسانیت وسیع پیمانے پر قحط اور موت سے دو چار ہو گی لیکن ۱۹۳۱، میں دنیا قلت پیداوار کے بجائے کثرت پیداوار (Over Production) کے مسائل سے دو چار تھی۔ آبادی اور وسائل معاش کے متعلق آج تک جو بھی پیشین گوئیاں کی گئی ہیں ان کے بارے میں ایک ہی بات یقین سے کہی جا سکتی ہے- - - - اور وہ یہ کہ یہ ہمیشہ غلط ہی ثابت ہوئی ہیں۔
"بلاشبہ تاریخ اس (یعنی ماہتھس) نے پیش کردہ اندیٹوں کی توثیق کرنے سے انکاری ہے۔ دنیا کے کسی ایک ملک میں بھی ایسےحالات پیش نہیں آئے جن کی بنا پر اسے کثرت آبادی( Over Population )میں مبتلا سمجھا جا سکے۔ بلکہ کچھ حالتوں میں تو - - - مثلا جیسے فرانس میں - - - آبادی کا اضافہ بہت ہی سست رفتارے ہوا ہے۔ دوسرے ممالک میں اضافہ قابل ذکر ہے لیکن کہیں بھی یہ دولت کے اضافہ سے زیادہ تیز رفتار نہیں ہے_١
تاریخ کا بے اک مطالعہ اس تا قابل انکار حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ کسی بھی مغربی ملک میں نمبر ولادت کی پانی کو اس لیے اختیار نہیں کیا کیا کہ اس ملک میں، حاشی وسائل کی قلت تھی اور ملکی پیداوار آبادی کی روز افزوں ضرورتوں کے لیے ناکافی تھی۔ اس تحریک کی ترویج کا زمانہ ( انیسویں صدی کے نصف آخر سے بیسویں صدی کے اولین تھیں سال تک ) یورپ اور امریکہ کی معاشی ترقی اور اقتصادی خوشحالی کا زمانہ ہے۔ جو حضرات اس تحریک کو معاشی اسباب کی پیداوار سمجھتے ہیں وہ معاشی تاریخ سے اپنی ناواقفیت کا ثبوت فراہم کرتے ہیں ۔ مثلا مندرجہ ذیل اعداد و شمار اس افسانے کے طلسم کو اچھی طرح چاک کر دیتے ہیں کہ اس تحریک کی بنیاد معاشی ہے۔
____________________________________________________________________________ ملک زمانہ فی کس قومی پیداوار میں اضافہ ____________________________________________________________________________ انگلستان ۱۸٦۰ء تا ۱۹۳۸ء /٢٣١+ ____________________________________________________________________________ امریکہ ١٨٦٩ء تا ١٩٣٨ء /٣٨١+ ____________________________________________________________________________ فرانس ۱۸۵۰ء تا ۱۹۳۸ء / ١٣٥+ ____________________________________________________________________________ سویڈن ۱۸۶۱ء تا ۷۱۹۳۸ /٦٦١+ ____________________________________________________________________________
یہ اضافہ آبادی کے اضافہ کے ساتھ اور اس کے باوجود ہوا ہے۔ اسی طرح اگر آبادی کےاضافہ کو لینے کے بعد ان ممالک کی سالانہ رفتار ترقی دیکھی جائے تو وہ یہ تھی-
_________________________________________________________________________ ملک رفتار پیداوار میں سالانہ اضافہ _________________________________________________________________________ انگلستان % ٩ ء ٢+ _________________________________________________________________________ امریکہ % ٨ ء ٤+ _________________________________________________________________________ سویڈن % ٥ ء ٨+ _________________________________________________________________________ فرانس % ٥ ء ١+ _________________________________________________________________________
اس سے معلوم ہوا کہ ضبط ولادت پر یورپ میں اس زمانہ میں عمل ہوا جبکہ وہاں کا معیار زندگی بلند تھا اور اس میں اضافہ ہو رہا تھا اور ملکی پیداوار ہر سال تیزی کے ساتھ بڑھ رہی تھی۔دوسرے الفاظ میں اس زمانے میں کوئی معاشی خطرہ موجود نہ تھا اور اس تحریک کی کوئی حقیقی معاشی بنیاد نہیں پائی جاتی تھی۔ خود آج بھی دنیا کی صورت حال یہی ہے۔ ۱۹۴۸ء سے اب تک اور طاً غذائی پیداوار میں ۲۷ فیصدی سالانہ کا اضافہ ہو رہا ہے جو آبادی کے اضافہ کی رفتار سے دو گنا ہے۔ نیز اس زمانہ میں صنعتی پیداوار میں تقریباً ۵ فیصدی سالانہ کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ آبادی سے تین گنے سے بھی زیادہ ہے_١
اگر اس تحریک کی کوئی معاشی بنیاد نہ تھی تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کے فروغ کی اصل وجہ کیا تھی ۔ ہمارے خیال میں اصل وجہ معاشرتی اور تمدنی تھی۔ مغرب میں عورت اور مرد کی مساوات اور آزادانہ اختلاط کی بنیاد پر جو معاشرت قائم ہوئی تھی اس کا فطری اور منطقی تقاضا یہ تھا کہ ضبط ولادت کو فروغ دیا جائے تا کہ انسان حفظ نفس کی روش اختیار کرنے کے باوجود ان ذمہ داریوں سے بچ سکے جو فطرت نے مقرر کی ہیں۔ اقبال نے اس نکتہ کی طرف اشارہ کیا ہے جب وہ کہتا ہے:
مغرب کی تاریخ میں ضبط ولادت کا مسئلہ سر تا سر معاشرتی اور تمدنی حیثیت رکھتا ہے اور معیشت سے اگر اس کا کچھ تعلق ہے تو "بناؤ " کی نہیں "بگاڑ" ہی کی سمت میں ہے۔ اس لیے کہ عورت کی "تہی آغوشی" اور مرد کی "بیکاری" (n-employment ) کا بڑا قریبی تعلق ہےجسے لارڈ کینس، پروفیسر جیسن اور پروفیسر کول بینے محققین نے جدید معاشی مباحث میں واضح کیا ہے-
جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے ضبط ولادت کی نہ کوئی معاشی بنیاد پہلے تھی اور نہ آج ہے۔مغرب میں اس کا فروغ معاشرتی اور تمدنی وجوہ سے ہوا اور آج مغرب جن مقاصد کے لیے اس کی ترویج کر رہا ہے وہ اصلا سیاسی ہیں۔
تاریخ کا ہر طالب علم اس امر سے واقف ہے کہ کثرت آبادی کی سیاسی اہمیت بڑی بنیادی ہے۔ ہر تہذیب اور ہر عالمی قوت نے اپنے تعمیری اور تشکیلی دور میں آبادی بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ مشہور مؤرخ ول ڈورانٹ (Will Durant) اسے تہذیبی ترقی کا ایک اہم سبب قرار دیتا ہے۔ آرنلڈ ٹائن بی (Amold Toynbee) بھی کثرت آبادی کو ان اساسی چیلنجوں (Challengers) میں سے ایک قرار دیتا ہے جن کے جواب میں ایک تہذیب کا نشو وار تقا بروئے کار آتا ہے۔ تاریخ کی ان تمام اقوام نے جنہوں نے کوئی عظیم کارنامہ انجام دیا ہے، ہمیشہ تکثیر آبادی کی روش اختیار کی ہے۔ اس کے برعکس زوال پذیر تہذیبوں میں آبادی کی قلت کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ آبادی کی قلت بالآخر سیاسی اور اجتماعی قوت کے اضمحلال پر منتج ہوتی ہے اور وہ قوم جو اس حالت میں گرفتار ہو جائے آہستہ آہستہ گمنامی کے غار میں جا گرتی ہے۔ تہذیب کے جتنے بھی قدیم مراکز ہیں ان سب کی تاریخ اس حقیقت پر گواہی دیتی ہے۔
____________________________________________________________________________ ١- بحوالہ اے۔ زمرمین (A.Zimmerman) مقالہ اور پاپولیشن (Over-Population) در رساله (What's New) شوکا گو۔ اشاعت نمبر ۲۱۱۔ اسپر رنگ ۱۹۵۹ .
"آبادی میں عظیم اضافہ ایسا اضافہ جو بے ضبط و بے لگام تھا - - - - یورپ کی آبادی کے اس دھما کہ خیز اور غیر معمولی اضافے (Population Explosion) کی وجہ سے ملک میں نئی صنعتی معیشت کو چلانے کے لیے کارندے مل جانے کیلئے مہاجر (Emmigrants) اور ایسے سپاہی اور کار فرما ملے جو دور دراز کے علاقوں میں پھیلی ہوئی اس سلطنت کی سر براہی کر سکیں جس کے دائرہ میں دنیا کے کل رقبہ کا نصف اور کل آبادی کا ایک تہائی تھا_١
پروفیسر اور گانسکی کا خیال ہے کہ دنیا کے تمام ہی ممالک میں سب سے اچھی حالت اس ملک کی رہی ہے جس میں آبادی زیادہ ہو اور اس دور میں رہی ہے جب آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہو ۔
____________________________________________________________________________ ١-(Organski. Albrano E.K. "Population and Politics in Europe, Science Magazine, American Association of the Advancement of Science. vide Loory Stuart II. Population Explosion. Dawn Karachi July 17, 1961.)
"اہل برطانیہ نے بلند ہمتی کے ساتھ ماتھس کی باتوں کو سننے سےانکار کر دیا۔ اگر وہ ہاتھس کے آگے جھک جاتے تو آج برطانیہ بس اٹھارویں صدی کی طرز کی ایک چھوٹی سی زرعی قوم ہوتا۔امریکہ اور برطانوی دولت مشترکہ کے نشو و ارتقاء کا تو کوئی سوال ہی نہ تھا۔ پیمانہ کبیر کی صنعت کے فطری معاشی تقاضے وسیع طلب، بڑی منڈی اور نقل و حرکت کا ایک مؤثر نظام ہیں جو ایک عظیم اور بڑھتی ہوئی آبادی ہی کی صورت میں قابل حصول ہیں_١
اس وقت، نیا میں آبادوں کی تقسیم کچھ اس طرح ہے ایشیا اور عالم اسلام آبادی کے سب سےبڑے مراکز ہیں۔ ان حصوں کے مقابلے میں مغربی ممالک کی آبادی کم ہے اور آبادی کےرجحانات صاف بنارہے ہیں کہ مستقبل میں ان کے تناسب میں مزید کمی واقع ہوئی۔ گزشتہ پانچ سو سال سے مغرب کی سیاسی قیادت دیا ادق کی بنیا ، وہ سائنس اور میکانکی بررسی تھی جو اس شرقی ممالک پر حاصل تھی اور جس کی وجہ سے اس نے آبادی کی کمی کے باوجود اپنی سیاسی نگرانی قائم کرلی بلکہ استعمار کے اولیں دار نے اس ناہی نہی کو جنم دیا کہ کم آبادی کے باوجود مغرب مستقلاً اپنا تسلط قائم رکھ سکتا ہے لیکن بارات اور نئے حقائق نے اس نام نیمی نے طلسم کو چاک کر دیا ہے۔
مغربی اقوام کی آبادی کے مسلسل کم ہونے سے ان کی سیاسی طاقت میں بھی انحطاط آنا شروع ہوا اور پہیلی بانگ کے بعد یہ احساس عام ہو کیا کہ تحدید نسل کا مسلک سیاسی اور اجتماعی یثیت سے بڑا مہنگا پڑ رہا ہے۔ فرانس نے اپنی عالمی پوزیشن آہستہ آہستہ کھودی اور مارشل پتیاں نے دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر کھلم کھلا اس امر کا اعتراف کیا کہ فرانس کے زوال کا ایک بنیادی بڑا سبب بچوں کی کمی (Too Few Children) اور آبادی کی قلت ہے۔ انگلستان اور دوسرے ممالک پر بھی اس کے اثرات پڑنے شروان ہوئے اور ان نتائج کو دیکھ کر سویڈن ، جرمنی،فرانس،انگلستان اور اٹلی ، ان تمام ہی ممالک نے اپنی پالیسی پر نظر ثانی شروع کی۔ اب حالت یہ ہے کہ ان تمام ممالک میں آبادی کو کم کرنے کے بجائے آبادی بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہےلیکن ہر ممکن کوشش کے باوجود مغرب یہ توقع نہیں رکھتا کہ وہ اپنی آبادی کو اتنا بڑھا سکے گا کہ وہ اپنےسیاسی وقار کو قائم رکھ سکے اور عالمی سیادت کا تاج بدستور پہنے رہے۔ اسے صاف نظر آ رہا ہے کہ آبادی کو بڑھا کر بھی وہ مستقبل میں مشرق اور عالم اسلام کا مقابلہ نہ کر سکے گا۔
"اب اس کا کوئی امکان نہیں کہ شمالی ، مغربی یا وسطی یورپ کی کوئی قوم دنیا کو پھر چیلنج کر سکے۔ جرمنی دوسری یورپی اقوام کی طرح اس دور سے گزر چکا ہے جب وہ دنیا کی غالب طاقت بن سکے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اب فنی اور تکنیکی تہذیب ان ممالک میں بھی پہنچ رہی ہے جن کی آبادی بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔“
دراصل یورپ کی سیاسی قیادت کو بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں ایشیا اور عالم اسلام کی بڑھتی ہوئی آبادیوں سے شدید سیاسی خطرہ ہے۔ امریکی رسالہ ٹائم (Time) اپنی ١١ جنوری ۱۹۶۰ء کی اشاعت میں لکھتا ہے:
"کثرت آبادی (Over Population) امریکہ اور یورپی اقوام کی تمام بوکھلاہٹ اور ان کے سارے وعظ و نصیحت در اصل بڑی حد تک نتیجہ ہیں ان سیاسی نتائج و اثرات کے احساس کا جو نئے حالات اور ایشیاء، افریقہ اور لاطینی امریکہ کی آبادی کے بڑھنے اور غالب اکثریت حاصل کر لینے کی بناء پر متوقع ہیں _٢ ،،
" گذشتہ پچاس سال میں دنیا کی آبادی دو گئی ہو گئی ہے جس کی وجہ سے تمام دنیا کے معاشی اور عسکری توازن (Balance of Economic & Military Power ) پر ایک شدید بار (Strain) پڑ رہا ہے_٣"
"ایک نئے قسم کا سامراج ہے جس کا مقصد غیر ترقی یافتہ اقوام کو پست تر کرنا ہے- - - - خصوصیت سے سیاہ فام نسلوں کو - - - سفید فام نسلوں کی بالا دستی قائم رہے ہے_٤"
ہم مغربی مفکرین کی ایسی بے شمار تحریرات پیش کر سکتے ہیں،مگر آنکھیں کھولنے کے لیے نہیں چند شہادتیں کافی ہیں۔اس پوری بحث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مستقبل میں مناسب فوت ان ممالک کو حاصل ہوگی جن کی آبادی زیادہ ہےاور جونئی تکنیک سے بھی آراستہ ہیں۔اب اس کا تو کوئی امکان نہیں کہ نئی تکنیک سے ان ممالک کو محروم رکھا جائے۔ اس لیے مغربی سیادت و قیادت کو قائم رکھنے والی صرف ایک ہی چیز ہو سکتی ہے اور وہ ہے ان ممالک میں ضبط ولات اور تحدید نسل - یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک خود تو آبادی بڑھانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ، مگر مشرقی ممالک میں یہی اقوام پراپیگنڈے کی بہترین قوتوں کو استعمال کر کے ضبط ولادت کا پر چار کر رہی ہیں_١ اور بہت سے سادہ لوح مسلمان ہیں جو خود پیش قدمی کر کے اس جال میں پھنس رہے ہیں۔
لیکن اب بلی تھیلے سے باہر آ چکی ہے ! اگر اب بھی ہم نے دھوکا کھایا تو نتائج کی ذمہ داری خود ہم پر ہوگی اور ہمارے وہی ہمدرد جو آج پوری شفقت کے ساتھ ہمیں خاندانی منصوبہ بندی کا درس دے رہے ہیں کل ہماری کمزوری سے فائدہ اٹھا کر ہم پر اپنا کامل تسلط قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس خطرے کو علامہ اقبالؒ نے بہت پہلے محسوس کر لیا تھا اور ملت اسلامیہ کو تنبیہ کی تھی کہ اس سے ہوشیار ر ہے۔ ان کے یہ الفاظ آج بھی ہمیں دعوت فکر و عمل دے رہے ہیں:
"عام طور پر اب ہندوستان میں جو کچھ ہو رہا ہے یا ہونے والا ہے وہ یورپ کے پرو پیگنڈے کے اثرات ہیں۔اس قسم کے لٹریچر کا ایک سیلاب ہے جو ہمارے ملک میں بہہ نکلا ہے۔ بعض دوسرے وسائل بھی ان کی تشویش و ترویج کے لیے اختیار کیے جارہے ہیں۔ حالانکہ ان کےاپنے ممالک میں آبادی کو کھٹانے کے بجائے بڑھانے کی تدبیریں کی جا رہی ہیں۔ اس تحریک کی ایک بڑی غرض میرے نزدیک یہ ہے کہ یورپ کی اپنی آ یا اس کے اپنے پیدا کر دہ حالات کی بناء پر ، جو اس کے اختیار واقتدار سے باہر ہیں، بہت کم ہو رہی ہے اور اس کے مقابلے میں مشرق کی آبادی روز بروز بڑھ رہی ہے اور اس چیز کو یورپ اپنی سیانی ہستی کے لیے خطرہ عظیم سمجھتا ہے ہے۔
آبادی کی دفاعی اہمیت کے متعلق ہم مختصر اشارات کر چکے ہیں۔ پروفیسر اور گانسکی نے بڑی کچی بات کہی ہے کہ طاقت زیادہ اسی بلاک کے پاس ہوگی جس کے پاس افراد زیادہ ہوں ۔ جن لوگوں کی نگاہ حربی ترقیات پر ہے وہ اس امر سے واقف ہیں کہ ایٹمی ہتھیاروں کے بعد کثرتِ افواج اور کثرت آبادی کی دفاعی اہمیت پہلے سے بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جنگ میں آلات کے مقابلے میں انسان کی اہمیت کم ہورہی ہے اور انسانی قوت غیر موثر بنتی جارہی ہے۔ لیکن اب اس خیال کی صحت پر کم ہی لوگ اعتماد کرتے ہیں ۔ آخر کوریا کی جنگ میں چین نے محض عددی کثرت ہی کی وجہ سے امریکہ کے بہترین ہتھیاروں کو بے اثر کر دیا تھا۔ خود امریکہ کی نئی فوجی تنظیم میں بری فوج اور گوریلا فوج کو از سر نو فروغ دیا جارہا ہے۔ اس لیے آبادی کے مسئلہ پر دفاعی نقطہ نظر سے بھی غور بے محل نہ ہو گا۔
خالص دفاعی نقطۂ نظر سے پاکستان کی حیثیت بتیس دانتوں کے درمیان ایک زبان کی سی ہے۔ ہمارے ملک کے ایک طرف ہندوستان ہے۔ جس کی آبادی ہم سے پانچ گنا زیادہ ہے اور جس سے ہمارے تعلقات مختلف وجوہ کی بناء پر بڑی نازک حالت میں ہیں۔ دوسری طرف روس ہے جو عالمی اشتراکیت کے فروغ کے لیے اپنی سیاسی اور فوجی قوت برابر استعمال کر رہا ہے، نیز جس کی آبادی ہم سے تین گنا زیادہ ہے۔ تیسری طرف چین ہے جو ایشیا میں برابر اپنے دائرے کو وسیع کر رہا ہے اور جس کی آبادی ہم سے آٹھ گنا زیادہ ہے ۔ ان تینوں کی نگا میں ہمارے اوپر لگی ہوئی ہیں اور جس نظر سے یہ ہمیں دیکھ رہے ہیں اسے اچھی نظر نہیں کہا جا سکتا۔ ایسے حالات میں ہمارے دفاع کا حقیقی تقاضا کیا ہے؟ آیا یہ کہ ہم آبادی کو کم کر کے اپنی قوت کو اور بھی مضمحل کر لیں یا یہ کہ ہر ممکن ذریعے سے اپنے کو اتنا قومی اور موثر بنا لیں کہ دوسرا ہماری طرف بری نگاہ ڈالنے کی ہمت بھی نہ کر سکے؟
اسی طرح اگر پورے عالم اسلام کے نقطۂ نظر سے غور کیا جائے تو یہ حقیقت نا قابل انکار ہےکہ ہمیں تین بڑے خطرے درپیش ہیں۔ اولا ابھی ہماری جنگ مغربی استعمار سے ختم نہیں ہوئی ہے، یہ لڑائی صرف ایک نئے دور (Phase) میں داخل ہو گئی ہے۔ سوئیز اور بزرٹا کے واقعات اس بات کی یاددہانی کراتے ہیں کہ اس دنیا میں کمزور کے لیے کوئی مقام نہیں اور عالم اسلام کے اہم مقامات ابھی پوری طرح محفوظ نہیں ہیں۔ اگر ہم اپنا سر بلند رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی سیاسی اور حربی قوت کو بہت بلند معیار پر رکھنا ہوگا۔
ثانیاً ہمارا بہت بڑا مسئلہ اسرائیلی استعمار ہے۔ اسرائیل اپنی آبادی کی کثرت اولا د اور انتقال آبادی کے ذریعہ برابر بڑھانےکی پالیسی پر عامل ہے۔پوری دنیا کا یہودی سرمایہ اس کی پشت پر ہےاور فوجی اور عسکری حیثیت سے دو ہر دم اپنی طاقت کو بڑھا رہا ہے۔ اس کے مقابلے کے لیے بھی پورے عالم اسلام کے مسلمانوں کو ہر وقت تیارربنا چاہیے۔
ثالثا، اشترا کی استعمار ہے جو متعدد مقامات پر عالم اسلام سےٹکر لینے کی تیاری کر رہا ہے۔ایران، پاکستان ، عراق اور ترکی کی سرحدوں پر خصوصیت سے اس کا دباؤ بہت زیادہ ہے اور اگر اسطرف سے ذرا بھی آنکھیں بند کی گئیں تو خدا نخواستہ ہمیں وہ نقصان اٹھانا پڑے گا جس کی تلافی ممکن نہ رہے گی ۔
ان حالات میں ہمارے لیے آبادی کی دفاعی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے اور عالم اسلام کو محض مغرب کی اندھی نقالی میں کوئی ایسی روش اختیار نہ کرنی چاہیے جو اس کے لیے ملی خودکشی کے مترادف ہو۔
پھر خود مغربی اقوام کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ مشرقی فرنٹ پر عالم اسلام اس کے اور اشتراکیت کے درمیان حائل ہے۔ پورا اشترا کی بلاک آبادی کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ روس اور چین دونوں خصوصیت کے ساتھ تکثیر آبادی کی پالیسی پر عامل ہیں اور اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ اپنی موجودہ آبادی سے کئی گئی آبادی کو بھی وہ بخوبی پروان چڑھا سکتے ہیں ۔ یہی نہیں ان کا دعویٰ تو یہ بھی ہے کہ دنیا کے سارے اشترا کی نظام کے ذریعہ آبادی کو کم کیے بغیر اپنی ضرورتیں پوری کر سکتےہیں۔ تحدید آبادی کی ضرورت صرف نظام سرمایہ داری میں ہے، اشتراکیت میں نہیں۔
اسی طرح اگر یورپ کےدفاعی نظام پر غور کیا جائےتو معلوم ہوتا ہےکہ یورپ میں (روس سمیت ) اشترا کی بلاک کی آبادی ۳۲ کروڑ ۴۰لاکھ ہے اور غیر اشترا کی بلاک کی ۳۰ کروڑ ۲۰لاکھ۔ اگر پوری دنیا کو لیا جائے تو اشترا کی بلاک کی آبادی تقریباً ایک ارب اور باقی دنیا کی تقریباً پونے دو ارب ہے (جس میں غیر جانب دار بھی شامل ہیں ) یہ توازن بہت جلد بگڑ جائے گا اور مغربی ممالک کی دفاعی لائن بڑی کمزور ہو جائے گی۔ خود مغرب کو اس مسئلہ پر نفع عاجلہ کی روشنی میں غور نہیں کرنا چاہیے بلکہ دور اندیشی سے کام لے کر طویل المدت اثرات کو ٹھونا رکھتے ہوئے اپنی پوری پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
ضبط تولید کا مسئلہ اپنی اصل کے اعتبارے معاشی نہیں ہے لیکن اس کے چند پہلو ایسے ضرور ہیں جن پر معاشی نقطہ نظر سے غور کیا جا سکتا ہے۔
اس سلسلہ میں سب سے پہلی چیز تو یہ ہے کہ آبادی کی کثرت معاشی حیثیت سے بالعموم مفید ہوتی ہے۔ ہر وہ انسان جو دنیا میں آتا ہے وہ اپنے پاس صرف ایک پیٹ ہی نہیں رکھتا، دو ہاتھ ، دو پاؤں اور ایک دماغ بھی رکھتا ہے۔ پیٹ اگر احتیاجات پیش کرتا ہے تو یہ پانچوں مل کر انہیں پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور معاشی مفکرین کا ایک بڑا موثر گروہ اس رائے کا حامی ہے کہ غیر ترقی یافتہ ممالک میں ابتدائی معاشی انقلاب کے لیے بڑھتی ہوئی آبادی بڑی مفید ہے کیونکہ اس کے ذریعہ سے وافر محنت (Labour) اور موثر طلب (Effective Demand) فراہم ہوتی ہے اور ایک ترقی یافتہ معیشت میں ترقی کو قائم رکھنے اور مانگ کو وسعت دینے کے لیے ( تا کہ کساد بازاری رونما نہ ہو ) آبادی میں مسلسل اضافہ بے حد ضروری ہے۔ لارڈ کینز (J.M.Keynes)، پروفیسر مینس (A.L.Hansen)،ڈاکٹر کولن کلارک( Colin Clark )، پروفیسر جی ۔ڈی۔ ایچ کول (G.D.H. Cole) اور متعد د دوسرے مفکر یہی نقطۂ نظر پیش کرتےہیں اور معاشی تاریخ ان کے نظریات کی تائید کرتی ہے۔
دوسری چیز یہ ہے کہ پوری دنیا کے وسائل موجودہ آبادی ہی نہیں بلکہ ہرممکن التصور آبادی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں۔ وسائل ضرورت سے کہیں زیادہ ہیں اور بے کار پڑے ہیں۔کوان کلارک اس رائے کا اظہار ٹھوس حقائق کی بنیاد پر کرتا ہے کہ موجودہ آبادی سے دس گنا زیادہ آبادی کو دنیا کے صرف معلوم وسائل کے صحیح استعمال سے مغربی یورپ کے اعلیٰ معیار زندگی پر برقرار رکھا جا سکتا ہے_١ پروفیسر ہے ۔ ڈی۔ برنال (J. Bernal) بھی اپنی آزاد اور سائنٹیفک تحقیقات کے بعد یہی رائے ظاہر کرتا ہے۔
تیسری بنیادی چیز یہ ہے کہ موجودہ آبادی کے جو اعدادوشمار پیش کیے جاتے ہیں وہ تو بڑی حد تک ضرور قابل اعتماد ہیں لیکن ماضی اور مستقبل کے رجحانات کے متعلق جواندازے ان کی بنیاد پر قائم کیے جاتے ہیں ان پر گفتگو کی بڑی گنجائش ہے۔ ڈیموگرافی (Demography) کا علم ابھی بہت نیا ہے اور اس کی تحقیقات اس مقام پر نہیں پہنچی ہیں جہاں بھروسہ اور اعتماد کے ساتھ مستقبل کے متعلق کوئی اندازہ قائم کیا جاسکے۔ ہم بہت سے بہت مستقبل قریب کے متعلق کچھ کہ سکتے ہیں لیکن صدیوں بعد کی آبادی کی کیفیت کے متعلق کوئی قابلِ اعتماد اندازہ قائم نہیں کر سکتے ۔
ابھی تک ہمارے پاس وہ ذرائع معلومات نہیں ہیں جن کی بنیاد پر یقینی تخمینے پیش کیے جا سکیں۔ پھر آبادی کے رجحانات کے بہت سے اسباب ابھی تک نامعلوم ہیں۔ مثلاً ڈاکٹر آرنلڈ ٹائن بی (Dr. Arnold Toynbee) ہمیں بتاتا ہے کہ تئیس (۲۳) میں سے اکیس (۲۱) تہذیبوں میں عروج پر پہنچ کر آپ سےآپ آبادی کے اضافہ کی رفتار میں کی ہو جاتی ہے۔ اس کی توثیق آبادی کے فطری اضافے کی تاریخ سے بھی ہوتی ہے۔ مثلا رے مونڈ پرل Raymond) (Pearl اپنے ایک مضمون میں لکھتا ہے کہ:
٢- پروفیسر برتال نے بڑے سائنٹیفک انداز میں ایک نہایت تحقیقی کتاب ورلڈ ود آؤٹ وار (World Without War) اس موضوع پر لکھی ہے اور نا قابل انکار مواد کی بناء پر ثابت کیا ہے کہ دنیا کے وسائل بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے بہت کافی ہیں۔ مطبوعہ لندن ١٩٥٨ء -
"صنعتی ترقی ، شہروں کے فروغ (Urbansation) اور ان کے نتیجہ میں رونما ہونے والی آبادی کی گنجانی ایک ملک میں جتنی زیادہ ہو گی اتنی ہی اس ملک میں باروری (Fertility) اور شرح اضافہ آبادی کم ہوگی چند واضح مستثنیات کو چھوڑ کر ایسا ہی ہوا ہے ہے۔"
ڈاکٹر میڈ اور ایف۔ آر۔ایس اپنے ۱۹۵۹ء کے رتھ لیکچرز میں علم آبادی کے اندازوں کی مشکلات تفصیل سے بیان کرتےہیں_٢ اقوام متحدہ کی ایک سرکاری رپورٹ میں بھی اس بات کا اظہار کیا گیا ہےکہ یہ سمجھنا درست نہیں ہوگا کہ آئندہ صدی میں بھی اضافہ اسی رفتار سے ہوگا جس سے ماضی میں ہوا ہے۔اس رپورٹ کی رو سے یہ بات بالکل احمقانہ ہوگی کہ ہم اس وقت اپنےاندازوں کو مستقبل بعید کی دور دراز یوں تک لے جائیں ہے_٣
اس رپورٹ کے مطابق معقول اندازے اس صدی کے اخیر تک کے لیے قائم کیے جاسکتےہیں ۔ اس سے زیادہ نہیں۔ لیکن کچھ دوسرےماہرین کا خیال ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ آئندہ دس پندرہ سال تک کا اندازہ قائم کر سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ کرنا احتیاط کے منافی ہے_٤ اور ایک سوشیولوجسٹ پوری بحث کو اس طرح سمیٹتا ہے کہ:
"آبادی کے متعلق تخمینوں اور پیشین گوئیوں میں دلچسپی بڑی کم ہوگئی ہے اور اس کی وجہ اعتماد کی کمی ہے۔ تھوڑے عرصہ قبل تک غیر ماہرین آبادی (Non-Demographers) میں یہ خیال عام تھا کہ علم آبادی ایک ایسا علم ہے جس میں مستقبل کے واقعات کے بارے میں پیشین گوئی غیر معمولی طور پر درست ہوتی ہے لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا، نا امیدی بڑھتی گئی اور اب بے اعتمادی عام ہے۔
٢-ملاحظہ ہو ڈاکٹر پی ۔ بی ۔ میڈ اور (Dr. P.B. Medawar) کی کتاب ”انسان کا مستقبل" The Fiture of)" Man مطبوعہ لندن، ۱۹۶۰ ء باب اول - (The Fallibility of Predrction)۔
اس سے معلوم ہوا کہ معاشی حیثیت سے خود آبادی کے اندازے اور اس کے رجحانات پر بھی بڑی احتیاط سے غور ہونا چاہیے اور عام صحافیانہ انداز میں یہ کہ دینا کہ ۶۰۰ سال کے بعد دنیا میں کھڑے ہونے کی جگہ بھی باقی نہ رہے گی ، بے حد قابل اعتراض ہے۔
چوتھی بات یہ ہےکہ معاشی نقطہ نظر سے اگر آبادی کےمسئلہ پر غور کیا جائےتو اس کا بڑا قریبی تعلق معیشت کی تنظیمی ہیئت (Structure of the Ecnomoy) سے ہے۔ مغرب نے اپنے حالات کی مناسبت سے ایک خاص ہیئت بنائی جو پیمانہ کبیر اور سرمایہ کی مرکزیت پر مبنی تھی اور جس میں ساری کوشش محنت کے حصہ کو کم کرنے اور سرمائے کے حصہ کو بڑھانے پر صرف ہوئی۔ایسی صنعت کو معاشیات کی اصطلاح میں کیپیٹل ان ٹینسو انڈسٹری Capital Intensive) (Industry کہتے ہیں۔ اس قسم کی معاشی ہیئت میں محنت کی ضرورت برابر کم ہوتی جاتی ہے اور آبادی کے بڑھنے سے بیروزگاری کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے لیکن اگر معیشت کا ڈھانچہ کسی اور بنیاد پر تعمیر کیا جائے اور اسے کوئی دوسری ہیئت دی جائے تو آبادی کا مسئلہ اس میں پیدا نہ ہوگا۔ اس کی مثال جاپان میں ملتی ہے۔ جاپان نے اس بات کو محسوس کر لیا تھا کہ کیپیٹل ان ٹینسو Capital Intensive) صنعتی ہیئت اس کے لیے موزوں نہیں ہے۔ وہاں سرمایہ کی کمی اور محنت کی فراوانی تھی۔ اس لیے اس نے چھوٹے پیمانے کی صنعت کو بے مرکزیت (De-centralisation) کے ساتھ فروغ دیا اور اس کی کار کردگی کو اعلیٰ ترین معیار پر پہنچانے کی کوشش کی ۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ اس کی صنعت (Labour Intensive) ہو گئی اور اس میں آبادی کے غیر معمولی اضافے کے با وجود بے روزگاری یا کثرت آبادی کا مسئلہ پیدا نہ ہوا۔
جاپان کا رقبہ پاکستان کے رقبےکا تقریباً نصف ہے۔ پھر ملک کے پورے رقبے کا صرف ١٧ فیصد قابل استعمال ہے۔ باقی تمام آتش فشاں پہاڑوں کے سلسلہ کی وجہ سے بیکار ہے۔ اس طرح اس کا قابل استعمال رقبہ ہمارے رقبہ کا تقریباً بارہواں حصہ (۱۲) ہے۔ لیکن اس ملک نے ہماری آبادی سے بڑی آبادی کو بڑے اچھے معیار پر قائم رکھا اور اپنی معاشی قوت کو وہ ایسے مقام پر لے گیا کہ اس کی مصنوعات نے برطانیہ اور امریکہ کی منڈیوں پر قبضہ کر لیا حتی کہ یورپ کی ساری ترقی یافتہ اقوام مل کر بھی معاشی مدیان میں اس کا مقابلہ نہ کر سکیں ۔ نہ صرف یہ بلکہ اس کی طاقت ایک ایسے مقام تک پہنچ گئی جہاں سے اس نے خود سیاسی میدان میں بھی ساری مغربی دنیا کو چیلنج کر دیا۔
اس سے معلوم ہوا کہ آبادی کے مسئلہ کا مطالعہ محض سطحی انداز سے نہیں ہونا چاہیے۔ اگر معیشت کی تنظیمی ہیئت کو آبادی کے مناسب حال ترقی دے دی جائے تو معاشی حیثیت سے آبادی کا کوئی مسئلہ پیدا ہو جانے کا کوئی سوال نہیں۔ آج کی دنیا میں فی الواقع اگر آبادی کے لیے غربت،افلاس اور بدحالی کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی وجہ ہماری اپنی غلطیاں ہیں فطری وسائل اور اسباب اسکے ذمہ دارنہیں ہیں۔ اس سلسلہ میں بھی چند بنیادی باتیں ہم عرض کرنا چاہتے ہیں۔
(١) ہم اپنے وسائل کو ٹھیک ٹھیک استعمال نہیں کر رہے ہیں۔ وسائل موجود ہیں اور بہ افراط موجود ہیں لیکن انسان اپنی سستی اور کاہلی کی وجہ سے ان سے فائدہ نہیں اٹھا رہا ہے۔ دنیا میں غربت کا سب سے بنیادی سبب یہی ہے ۔
(ب) فطرت نے پوری دنیا میں وہ تمام وسائل ودیعت کر دئیے ہیں جو انسانیت کے لیے ضروری ہیں۔ وسائل کی تقسیم اس طرح ہے کہ پوری دنیا ایک وحدت اور اکائی کی حیثیت رکھتی ہے۔ کوئی ایک ملک بھی ایسا نہیں ہے جو اپنی ضرورت کی تمام چیزیں صرف اپنے وسائل سے حاصل کرلے۔ البتہ پوری دنیا کے تمام وسائل سب انسانوں کے لیے کافی ہیں۔انسان کو اپنی تنگ نظری کو چھوڑ کر ایسے مسائل پر عالمی بنیادوں پر غور کرنا ہوگا۔ ہم ایک ملک میں یہ ضروری نہیں سمجھتے کہ ہر ہر شہر میں اس کی ضرورت کی تمام چیزیں پیدا ہوں۔ یہی نقطہ نظر پوری دنیا کے لیے بھی اختیار کرنا ہو گا۔ تب ہی دنیا کے سارے وسائل انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال ہو سکیں گے۔
(ج) اس غلط نقطہ نظر کا نتیجہ ہے کہ اس وقت دولت کی تقسیم نہایت غلط ہے۔ جن حصوں میں پیداوار کی افراط ہے وہ وہیں ضائع ہو رہی ہے اور باقی انسانیت کی فلاح کے لیے استعمال نہیں ہورہی۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ دنیا کی پیداوار کم ہے وہ نہیں جانتے کہ مغربی دنیا کیلئےاور خصوصیت سے امریکہ کے لیے اصل مسئلہ کثرت پیداوار (Over-Production) کا ہے۔ اس کے لیے زائد پیداوار کو ٹھکانے لگانے کا مسئلہ دردسر کا باعث بنا ہوا ہے۔ امریکہ کی حکومت کو ۲۰ کروڑ سے ۴۰ کروڑ ڈالر (تقریباً ایک ارب روپیہ ) تک محض فاضل آلوؤں کو ضائع کرنے یا کم قیمت پر بیچنےپر صرف کرنے پڑتے ہیں۔ کیلیفورنیا کی کروڑوں روپے کی کشمش اور منفی سوروں کو کھلا دی جاتی ہے۔ امریکہ کی کریڈٹ کارپوریشن( US Commodity Credit Corporation )کے پاس ۱۲۰ ارب ڈالر (تقریباً ۹۰ ارب روپے) کا فاضل مال بے کار پڑا ہوا ہے۔ اس میں سے چند چیزیں یہ ہیں :
__________________________________________________________________________ روئی ۵۰ لاکھ گانٹھ تقریباً مالیت : ۷۵ کروڑ ڈالر __________________________________________________________________________ گندم ۴۰ کروڑ بشل_١ مالیت: ۹۰ کروڑ ڈالر __________________________________________________________________________ مکئی ٦۰ کروڑ بشل تقریباً مالیت: ۹۰ کروڑ ڈالر ___________________________________________________________________________ انڈے (سوکھے ہوئے) ٧ کروڑ پونڈ تقریباً مالیت: ۱۰ کروڑ ڈالر ___________________________________________________________________________ مکھن ۱۰ کروڑ پونے تقریباً مالیت : ٦ کروڑ ڈالر ____________________________________________________________________________ دودھ (سوکھا ہوا) ۲۵ کروڑ پونڈ تقریباً مالیت : ۳ کروڑ ڈالر_٣ ____________________________________________________________________________
اسی طرح (.0.F.A) کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر استعمال شدہ اسٹاک برابر بڑھ رہے ہیں، اربوں من غذائی اور دوسری اشیاء دنیا کے کچھ حصوں میں بے کار پڑی سڑرہی ہیں اور ان کی حفاظت پر کروڑوں روپیہ صرف کیا جا رہا ہے، جب کہ دنیا کے دوسرے حصوں میں فقر وفاقه کی حکمرانی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب صورت حال یہ ہے تو پھر ہم قلت کے لیے اللہ میاں اور معاشی وسائل کا رونا کیوں روئیں ۔ بقول شیکسپیئر :
یہ مغربی انسان کی خود غرضی ہےجو دنیا میں معاشی بدحالی کی باعث ہے۔مہذب انسان ایک طرف اپنی فاضل پیداوار کو مصنوعی قیمتوں کے قیام کی خاطر ضائع کر رہا ہے اور انسانیت کو اس سےمستفید نہیں ہونے دیتا۔ دوسری طرف وہ اپنے سارے وسائل کو پیداوار کے لیے استعمال نہیں کرتا بلکہ انہیں تعیش اور ضیاع کی نذر کر دیتا ہے۔ بقول پروفیسر لینڈس:
"انانیت زدہ مغربی انسان ایک ایسے مقام پر پہنچ گیا ہے جہاں وہ اپنی ساری قوتیں خوراک کی رسد کو بڑھانے کے لیے استعمال کرنے پر تیار نہیں ہے _١"
(د) مشرقی ممالک میں کاہلی اور ست رفتاری ضرور ہے لیکن ان کے وسائل سے مغرب جس طرح فائدہ اٹھا رہا ہے وہ بھی ان کے لیے ایک بہت بڑا بار ہے جس کے نتیجہ کے طور پر ان کی غربت اور معاشی پریشانی کچھ اور بھی سوا ہو گئی ہے۔ استعمار نے جس طرح ان ممالک کے وسائل کولوٹا کھسوٹا ہے اور افریقہ میں آج بھی لوٹ رہا ہے وہ بڑی تلخ داستان ہے۔آزادی کے بعد بھی سو طریقوں سے ان ممالک کا انتفاع جاری ہے۔ اس کی صرف ایک مثال قیمتوں میں عدم استحکام (Instability) ہے۔ مغربی ممالک جوان ممالک کی اشیاء کے خریدار ہیں، قیمتوں میں استحکام نہیں آنے دیتے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان ممالک کو بڑے عظیم مالی نقصان پر اپنا مال بیچنا پڑتا ہے۔ مثلاً صرف کوکو کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی کی بناء پر مغربی افریقہ کے ممالک کو صرف ایک سال (۱۹۵۶ء) میں ۶۲ کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا ۔ (۱۹۵۴ء میں قیمت ۵۷ سینٹ فی پونڈ تھی جو ۱۹۵۶ء میں ۲۶ سینٹ پر آگئی ) یار بڑ کی قیمتوں میں عدم استحکام کی وجہ سے ایک سال میں جنوب مشرقی ایشیا کو ایک ارب ۳۲ کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا ۔ (۱۹۵۱ء میں قیمت ۶۰ ۵ سینٹ فی پونڈ تھی جو ۱۹۵۴ء میں ۲۳ سینٹ رہ گئی_١)
اگر سارے حقائق کو سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی پریشانیاں خود حضرت انسان ہی کی پیدا کردہ ہیں۔ جو دو مثالیں ہم نے ' پر دی ہیں ان سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ اگر قیمتوں کو مستحکم کیا جاتا اور ان ممالک کی مجبوری سے ناجائز فائدہ نہ اٹھایا جاتا تو یہ سارا سرمایہ ان کی معاشی ترقی کے لیے استعمال ہو سکتا تھا۔ غیر ترقی یافتہ ممالک میں سرمایہ کی کمی ضرور ہے اور یہ کی معاشی ترقی کی راہ میں مانع بھی ہے لیکن خود اس کمی کے اسباب کیا ہیں؟ ان کا سررشتہ خود انہی عناصر کی کرم فرمائیوں سے جاملتا ہے جو سرمایہ کی قلت کا راگ صبح وشام الاپتے ہیں اور مشرقی لوگوں کو بچے کم پیدا کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
(ه) اسی طرح دنیا کے وسائل کا جو حصہ جنگ کی تیاری پر صرف ہورہا ہے اگر اسے یا اس کے بڑے حصہ کو معاشی تعمیر کیلئے استعمال کیا جا سکے تو دنیا کی غربت ایک محدود عرصہ میں ختم ہو سکتی ہے۔ ۵۷-۱۹۵۰ء کے اعداد وشمار کی بنیاد پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اس زمانہ میں کم از کم ۹۰ ارب ڈالرسالانہ تقریب ۴۰۰ ارب روپے سالانہ ) جنگی تیاری پر خرچ ہوا ہے_٢
"یہ رقم اس رقم سے کہیں زیادہ ہے جو دنیا کے تمام غیر ترقی یافتہ ممالک میں تیز رفتار عملی ترقی کے حصول کے لیے ضروری ہے ہےیہ_٣"۔
منجملہ اور اسباب کے یہ وہ موٹے موٹے اسباب ہیں جو دنیا میں غربت اور معاشی مفلوک الحالی کے ذمہ دار ہیں۔ آبادی کے مسئلہ کا اصلی محل ان موانع کو دور کرنے میں ہے، انسانوں کی پیدائش روکنے میں نہیں ہے۔
پھر اس تحریک کے جو نفسیاتی ، اخلاقی ، معاشرتی ، سیاسی اور معاشی نقصانات رونما ہوتے ہیں وہ بھی تباہ کن ہیں اور خود عقل اس تحریک کو ملک کے لیے منفعت بخش نہیں سمجھتی۔
یہ تمام چیزیں درست ! لیکن ہم تو یہ محسوس کرتے ہیں کہ عالم اسلام اور مشرقی ممالک میں واضح حقائق اس امر کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ یہ تحریک یہاں ایک لمبے عرصے تک کامیاب ہی نہیں ہو سکتی۔ خالص مادی بنیادوں پر بھی اس کی کامیابی کے امکانات موہوم ہیں اور بالآخر اس کی حیثیت گناہ بے لذت" سے زیادہ نہ ہو گی۔ ہم اس سلسلہ میں بھی غور و فکر کے لیے چند معروضات پیش کرتے ہیں۔
اولاً، ضبط ولادت کوئی مثبت چیز نہیں ہے۔ اس کے ذریعے حالات کا مقابلہ کرنے کےبچائے ان کے آگے سپر ڈال دینے کی روش اختیار کی جاتی ہے۔ یہ ایک منفی چیز ہے اور اس کےذریعہ کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہوتا ۔ دنیا کی ضرورت روٹی ہے، مانع حمل گولی نہیں۔ یہ پوری تحریک ایک منفی تحریک ہے اور معاشی مسئلہ کا کوئی مثبت حل پیش نہیں کرتی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اگر کامیاب ہو بھی جائے تب بھی معاشی حیثیت سے ملک کو کچھ حاصل نہیں ہوتا اور ہم وہیں رہتے ہیں جہاں تھے، بلکہ نئی پیچیدگیوں میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ اس تحریک کا نتیجہ - - - - - - - - - اگر اس پر بڑی سختی سے عمل ہو تب بھی کم از کم صدی نصف صدی کے بعد رونما ہو گا۔ خود یورپ میں اس کے نتائج خاصی مدت کے بعد رونما ہوئے تھے۔ اس لیے کوئی فوری اثر ہماری معیشت پر اس کا نہیں پڑ سکتا۔ لمبے عرصے میں شاید یہ کچھ نتائج نکالے لیکن لمبے عرصے کے متعلق، جیسا کہ لارڈ کینس نے کہا ہے ہم صرف ایک ہی چیز جانتے ہیں اور وہ یہ کہ لمبے عرصے میں ہم سب مرجائیں گے۔“
تیسری چیز یہ ہے کہ ضبط ولادت محض ایک طبی یا معاشی اسکیم نہیں ہے جسے دنیا کے ہر ملک میں جب چاہے متعارف کرا دیا جائے۔ اس کی کامیابی کے لیے ایک خاص تمدنی ماحول اور کچھ خاص اخلاقی اور معاشرتی رویے (Attitudes) ضروری ہیں اور ان کی عدم موجودگی میں یہ چل ہی نہیں سکتی۔ ہور اس بیل شا ( Horace Belshaw) کہتا ہے کہ:
"ضبط ولادت کے پروپیگنڈے سے اس بات کی توقع کی جاتی ہے کہ عام لوگوں میں بیسیوں سال (Many Decades) کے بعد شرح پیدائش کم ہوگی۔ یہ پروپیگنڈا آہستہ آہستہ رائے عامہ کی تعمیر کرے گا۔ لیکن ترتیب امور سے پتہ چلتا ہے کہ اس قسم کے پروپیگنڈے کے اس وقت تک موثر ہونے کی توقع نہیں کی جاسکتی جب تک دوسری معاشرتی اور معاشی تبدیلیوں کے ذریعہ اس کے لیے زمین ہموار نہ کی جائے ہے۔
متعدد قسم کی مزاحمتیں اور معاشی اور فنی مشکلات اتنی مضبوط اور موثر ہیں کہ تحدیدہ خاندان کے لیے تعلیم اور پروپیگنڈے کے بالواسطہ طریقے جلد نتائج نہ دے سکیں گے، جس طرح خود مغرب میں بھی وہ فوری نتائج نہ دے سکے تھے_٢
_________________________________________________________________________ ١-(Belshaw. Horace. Population Growth & Levels of consumption (with Special Reference to Countries in Asia) London 1956. p. 25.)
نتیجا ہم توازن کے ساتھ جو بات کہہ سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ لمبےعرصے میں لوگوں کے رویہ کی تبدیلی کے امکانات کے سلسلہ میں ہم بجا طور پر بڑی حد تک پرامید (Qualified Optimism)ہو سکتےہیں۔ نیز آئندہ شرح پیدائش کی ہمیں تمہیں سال میں اپنی کمی کے سلسلہ میں جو شرح اموات کی کمی کی تلافی کر دے، ہم بڑی حد تک مایوس (Qualified Pessimism) ہیں_١
اس لیے یہ مصنف مشورہ دیتا ہے کہ اصل توجہ آبادی سے ہٹ کر دوسرے ذرائع پر دینی چاہیے۔سر چارلس ڈارون جو ضبط ولادت کا متشدد حامی ہے اپنے حالیہ مضمون دی پریشرآف پاپولیشن( The Pressure of Population )میں لکھتا ہے کہ:
"خواہ کتنی ہی تیزی کے ساتھ یہ (یعنی تحریک ضبط ولادت) پھیلائی جائے۔ یہ بات بعید از قیاس معلوم ہوتی ہے کہ ایک ارب لوگوں کی عادات میں اتنا مکمل انقلاب پچاس سال کے اندر بھی آسکتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس سلسلہ کے حالیہ تجربات تو بہت ہی مایوس کن ہیں گو یہ کام اس لائق ہے کہ اس کی ضرور حوصلہ افزائی کی جائےلیکن یہ ہرگز متوقع نہیں کہ پچاس سال بعد بھی یہ دنیا کی آبادی کے ایک معمولی حصہ سے زیادہ کو متاثر کر سکے گا_٢"
"ان ممالک میں جہاں طبی خدمات بہت ہی کمیاب ہیں اور بڑے بڑے علاقوں میں بالکل ہی مفقود ہیں ضبط ولا دت نا قابل عمل ہے اور نہ اس کی کامیابی کے امکانات ہیں_٣"
"جہاں تک ضبط ولادت کے پیغام کو دیہات کے لکھوکھا افراد تک پہنچانے کا سوال ہے یہ بات کہی تو آسانی سے جاسکتی ہے لیکن عملاً اسےانجام دینا محال ہے۔ حالات یہ ہیں کہ آج ایشیا کے دیہات میں طبی سہولتوں کا قحط ہے۔ لاکھوں گھروں میں پانی کامل اور غسل خانہ تک نہیں ہے اور نہ تخلیہ ہی کا کوئی بندوست ہے۔ دیہات شفاخانوں اور مطبوں (Clinics) سے بہت دور دورہا دور ہیں اور جن مقامات پر کچھ سہولتیں موجود ہیں وہاں بھی غربت، جہالت، کمزور کا صحت اور جمود وعدم حرکت کےمشکل اور پریشان کن مسائل موجود ہیں (جو انہیں غیر مؤثر بنا دیتےہیں۔)
"یہ تو ہو ئیں عام مشکلات۔ جہاں تک خصوصی ضروریات کا سوال ہے وہ ہر ہر قوم میں مختلف ہو سکتی ہیں۔ معاشرتی اور اخلاقی زاویے، مذہبی عقائد، خاندانی تنظیم جنسی رویہ کے ضابطے، گھریلو حالات اور دوسرےبے شمار حقائق ہیں جو ضبط تولید کے لیے آمادگی یا عدم آمادگی پر اثر انداز ہوں گے۔ اور ہمیں صاف صاف اس بات کا اعتراف کر لینا چاہیے کہ دنیا کے گنجان علاقوں کی قوموں اور نسلوں کے بارے میں ان امور کے متعلق ہمیں بہت کم معلومات حاصل ہیں۔ اس لیے اس کا امکان ہے کہ ہندوستان کے ایک جھونپڑے، چین کے ایک چھپر اور جاپان یا برما کےایک دیہی مکان سے عمل جراحی، ذرائع وادو یہ ضبط تولید اور ان کے استعمال کی آمادگی ابھی صدیوں دور ہیں_١
امریکی ماہر معاشیات پروفیسر رچرڈ میئر (Richard Meier) اس رائے کا اظہار کرتا ہے کہ غیر ترقی یافتہ ممالک میں ضبط ولادت کے ذرائع کا فروغ ایک معاشی عجوبہ ہوگا۔ وہ اس کےفوری اثرات کا بالکل منکر ہے اور ایسے سات اسباب بیان کرنے کے بعد جو اس تحریک کی راہ میں مانع ہیں اور جن کو دور کیے بغیر اسے فروغ نہیں ہو سکتا ،لکھتا ہے:
"یہ وہ حالات ہیں جو کسی معاشرہ میں اسی وقت موجود ہو سکتے ہیں جب وہاں معاشی ترقی واقع ہو چکی ہو۔ دنیا میں ابھی تک کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ہے جو بتاتی ہو کہ ایک ایسی دیہی آبادی نے جس کا معیار خواندگی بہت ہو اور جو کفالت کے معیار پر زندگی گزار رہی ہو، اپنی رضا مندی سے ضبط تولید کو اختیار کیا ہو اور اسے کامیاب بھی کر لیا ہو_١"
جدید تجربہ بھی ماہرین کی مندرجہ بالا آراء کی تائید توثیق کرتا ہے۔ جاپان اور پیورٹو ریکو (Puerto Rico) میں دوسری جنگ کے بعد کروڑوں روپے کے صرف پر ضبط ولادت کی تحریک کو فروغ دیا گیا اور مانع حمل ادویہ کو پھیلایا گیا۔ لیکن دونوں جگہ یہ تحر یک ناکام رہی۔ بالآخر جاپان میں اسقاط حمل (Abortion) کو اختیار کیا گیا اور پیورٹو ریکو میں آپریشن کے ذریعہ سےبانجھ کر دینے کا طریقہ اپنالیا گیا ہے ۔٢“
اس تحریک کے ناقابل عمل ہونے کے سلسلہ میں ایک پہلو اور بھی قابل غور ہے۔ ضبط تولید کے جو ذرائع بھی آج تک دریافت ہوئے ہیں وہ سب بے حد گراں خرچ اور مسرفانہ ہیں۔
پچھلے دنوں انگلستان کے دار امراء (House of Lords) میں ضبط ولادت پر بڑی دلچسپ بحث ہوئی۔ اس بحث کے دوران ایک مقرر نے بتایا کہ ہندوستان کے تجربات اس بات پر شاہد ہیں کہ مانع حمل ذرائع کا استعمال بے حد گراں خرچ ہے اور ایک ڈاکٹر کے الفاظ میں خواہ یہ کتنا ہی حیرت انگیز کیوں نہ معلوم ہو لیکن حقیقت یہی ہے کہ دیہی علاقے میں ایک بچے کی پیدائش پر اتنا خرچ نہیں آتا جتنا مانع حمل ذرائع کے حصول پر آتا ہے۔ اسی بحث میں لارڈ کیسی( Lord Casey )نے ڈاکٹر اے۔ ایس پارکس کے حوالہ سے کہا کہ:
"نئی دریافت شدہ گولی کے لیے ضروری ہے کہ مہینہ میں ہیں گولیاں استعمال کی جائیں۔ ایشیائی دیہات کی ایک ان پڑھ خاتون کےلیے یہ کھکھیڑ بڑی پریشان کن اور نا قابل برداشت ہے۔ باقی تمام ذرائع ( منع حمل ) بھی بے کار ہیں، کیونکہ کچھ تو موٹر نہیں ، کچھ بہت مہنگے ہیں اور کچھ بہت تکلیف دو _١"
آج کل ضبط ولادت کی جن گولیوں کا بڑا چرچا ہے وہ صرف اسی صورت میں کارآمد ہوسکتیہیں جب ہر مہینے ان کا پورا کورس استعمال کیا جائے یعنی ۲۰ گولیاں۔ اگر ایک بھی دن چھوٹ جاتا ہے تو پوری دوا بے اثر ہو جاتی ہے۔ اس طرح ہر عورت کو سال میں ۲۴۰ گولیاں کھانی پڑیں گی تب وہ اولاد کے خطرے سے محفوظ ہو سکے گی۔ ایک گولی کی قیمت ۵۰ سینٹ ہے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ ہر سال ایک عورت کو ۱۲۰ ڈالر یا تقریباً ۵۴۰ روپے صرف ان گولیوں پر خرچ کرنے ہوں گے۔ اب ذرا سوچنے کہ پاکستان میں جہاں کے ایک شہری کی اوسط سالانہ آمدنی (۶۱-۱۹۲۰ء کے تازہ ترین اندازے کے مطابق ) ۲۳۴ روپے ہے ۔ ہو عورت ۵۴۰ روپے فی سال صرف ان گولیوں پر کیسے خرچ کر سکے گی؟
٢- یہ معلومات ڈون مرے (Don Marry) کے مضمون ( ?How Safe are the New Birth Control Pilis) مطبوعہ (Coronet) اکتوبر ۱۹۶۰ ء سے لی گئی ہیں۔
اس مسئلہ کو ایک دوسرے پہلو سے لیجے ۔ ہماری کل آبادی 9 کروڑ ہے۔ اس میں سےاگر بوڑھوں اور بچوں کی تعداد کو نکال دیا جائے تو ان عورتوں کی تعداد جو ماں بننے کے لائق ہیں تقریبا دو کروڑ ہوگی۔ اگر ان کا نصف بھی ان گولیوں کو استعمال کرے تو اس پر سالانہ خرچہ ۵ ارب ۴۰ کروڑ روپے ہو گا۔ واضح رہے کہ پاکستان کے پورے مرکزی بجٹ کی سالانہ آمدنی (Revenue) ایک ارب ۹۶ کروڑ روپے ہے۔ (۶۱) ۷۱۹۶۰ ) ۔ اس طرح اگر ملک میں کل ترقیاتی خرج (Development Expenditure) کو لیا جائے تو وہ ۶۱ ۔۱۹۶۰ء کے نظر ثانی شده تخمینہ کے مطابق ایک ارب اسے کروڑ تھا۔ اپنے و سائل اور اپنے ترقیاتی خرجہ کی روشنی میں ذرا غور فرمائے کہ کیا فی الحقیقت ہم ان گولیوں کو ہضم کر سکتے ہیں؟ اور آخر یہی رقم اپنے ذرائع
اس پوری بحث کے بعد فطری طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اصل حل کیا ہے؟ اس سلسلہ میں ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ اصل حل پیداوار کو بڑھانا اور معاشی تمدنی وسائل کو ترقی دینا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ معاشی ترقی اور پیداوار کے اضافے کو حل“ کہا جا سکتا ہے۔ ورنہ ضبط ولادت کے لیے"حل“ کا لفظ استعمال کرنا خود اس لفظ کی توہین ہے۔
اگر آپ تھوڑ اسا بھی غور کریں گے تو محسوس کر لیں گے کہ ضبط ولادت کی پالیسی کو اختیار کرنا راصل اپنی شکست کا اعتراف کرتا ہےاس کے معنی تو یہ ہیں کہ ہم انسان کی صلاحیتوں اور سائنس کی قوتوں سےمایوس ہو جائیں اور وسائل اور پیداوار کو بڑھانے کے بجائے انسانوں ہی کو کم کرنے لگیں۔ اگر کپڑا جسم پر راست نہیں آتا تو اس کا سائز بڑھانے کی بجائے انسانی جسم ہی کی تراش خراش شروع کر دی جائے تا کہ لباس ٹھیک آجائے۔
اگر اس نقطۂ نظر کی پشت پر کار فرما ذ ہنیت کا تجزیہ کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس میں انسان کی حیثیت اصل مقصد (End) کی نہیں بلکہ صرف ایک ذریعہ کی سی ہے۔ جس طرح اور مصنوعات کی پیداوار کوطلب کے مطابق بڑھایا اور گھٹایا جاتا ہے، اسی طرح انسانوں کی پیداوار کو بھی بڑھایا اور گھٹایا جائے۔ جس طرح گیند ہیں، بلے اور جوتے ضرورت کے مطابق تیار کیےجاتے ہیں اس طرح انسان بھی پیمائش کے مطابق تیار کیے جائیں ۔ گویا انسان کی حیثیت یہ نہیں ہے، کہ ہر چیز اس کی ضرورت کے مطابق درست کی جائے بلکہ مسیح چیز یہ ہے کہ معاشی حالات کےمطابق خود حضرت انسان ہی کو درست کر لیا جائے ۔ دوسرے الفاظ میں انسان بھی بس منجملہ دوسری اشیاء کے ایک شے (Commodity) ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔
یہ ذہنیت بڑی ہی غلط ذہنیت ہے اور اس پستی پر انسان اسی وقت اتر سکتا ہےجب وہ تمام روحانی اور اخلاقی اقدار کا پاس چھوڑ دے۔ انسان اصل مقصد ہے اور باقی تمام چیزیں اس کی ضرورت کو پورا کرنے کا ایک ذریعہ ہیں۔ اگر آپ اس ترتیب کو الٹ دیں گے تو انسان اپنے اصل مقام سے گر جائے گا اور اگر انسانیت کے مقام سے گر کر اس نے مادی خوش حالی پا بھی لی تو اس کا کیا حاصل؟ اسی ذہنیت پر تنقید کرتے ہوئے پروفیسر کولن کلارک اپنی اس رپورٹ میں جو اس نےپاکستان کی معیشت پر پیش کی تھی ،لکھتا ہے:
" کچھ لوگ کہتے ہیں معاشی وجوہ اس بات کے متقاضی ہیں کہ آبادی کے اضافے کی رفتار کو کم کیا جائے یا یہ کہ ایک قائم (Stationary) یا زوال پذیر آبادی اصل مطلوب ہے۔ مجھے ان میں سے کسی تجویز سے قطعا کوئی دلچسپی نہیں۔ میرے خیال میں معاشی مفکرین کا کام یہ ہے کہ وہ بتائیں کہ معیشت کو آبادی کی ضرورتوں کے مطابق کیونکر ڈھالا جائے ، نہ یہ کہ آبادی کو معیشت کے مطابق کس طرح تراشا خراشا جائے۔ والدین اپنے ضمیر اور اپنی پسند کے مطابق بچے پیدا کرتے ہیں اور انہیں مستقبل میں بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔کسی معاشی مفکر کو خواہ وہ کتنا ہی عالم و فاضل کیوں نہ ہو، اور کسی وزیر اعظم کو خواہ وہ کتناہی طاقتور ہو، یہ حق نہیں ہے کہ وہ والدین سے یہ کہے کہ ایسا نہ کرو۔ ہر گز نہیں! سارے حقوق دوسرے ہی پلڑے میں ہیں ۔ ہر باپ کو ضرور یہ حق ہے کہ وہ معاشین اور وزرائے اعظم سے یہ مطالبہ کرے کہ وہ معیشت کو اس طرح منتظم کریں کہ تمام لوگوں کو ان کی بنیادی ضروریات فراہم ہو جائیں_١"
| کتاب | اسلام اور ضبط ولادت |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |