اسلام اور ضبط ولادت

نتائج

اب ایک نظر اس تحریک کے ان نتائج پر بھی ڈال لیجئے جو گزشتہ سو (۱۰۰) سال میں عملی تجربہ سے ظاہر ہوئے ہیں۔ ایک صدی کی مدت ایک ایسی تحریک کے حسن و قبح کا اندازہ کرنے کیلئے بالکل کافی ہے جس کو مختلف ملکوں اور قوموں میں اس قدر کثرت کے ساتھ اشاعت نصیب ہوئی ہو اور جس کے نتائج کی بار بار تحقیق کی جا چکی ہو۔

برتھ کنٹرول کرنے والے ممالک میں انگلستان اور امریکہ کو نمونے کے ممالک کی حیثیت سے لیجئے ، کیونکہ ہمارے پاس دوسرے ممالک کی بہ نسبت ان کے متعلق زیادہ ذرائع معلومات ہیں اور حالات کے اعتبار سے بھی انگلستان و امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک میں کچھ زیادہ فرق بھی نہیں ہے۔

(۱) طبقات کا عدم توازن

انگلستان کے رجسٹرار جنرل کی رپورٹوں اور نیشنل برتھ ریٹ کمیشن کی تحقیقات اور آبادی کےرائل کمیشن کی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ برتھ کنٹرول کا رواج سب سے زیادہ اعلیٰ اور اوسط طبقہ میں ہے۔ زیادہ تر اچھی تنخواہیں پانے والے کارکن،اعلی تعلیم یافتہ کاروباری لوگ، متوسط طبقہ کےذی حیثیت لوگ اور دولت مند امراء، تجار اور کارخانه دار اس تحریک پر عامل ہیں۔رہے اوئی طبقوں کے مزدور اور کام پیشہ، تو ان میں برتھ کنٹرول کا رواج، بمنزلہ صفر ہے۔نہ ان کے معیار زندگی زیادہ بلند ہوئےہیں ۔ نہ ان کے دلوں میں اونچے حو صلے ہیں اور نہ ان میں دولت مندوں کی شان دار معاشرت اختیار کرنے کی ہوس ہے۔ سب سے زیادہ یہ کہ ان کے ہاں ابھی تک وہی قدیم دستور جاری ہے کہ مرد کمائے اور عورت گھر کا انتظام کرے۔ یہی وجہ ہے کہ معاش کی قلت، وسائل زندگی کی گرانی اور مکانات کی تنگی کےباوجود وہ ضبط ولادت کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ ان میں شرح پیدائش ۴۰ فی ہزار کے قریب ہے۔ اس کے برعکس اعلیٰ اور اوسط طبقوں میں شرح پیدائش اتنی کم ہو گئی ہے کہ انگلستان کی مجموعی شرح پیدائش ۱۹۵۵ء میں صرف ۱۵۶۳افی ہزار تھی۔جسمانی محنت کرنے والوں کے خاندان بڑے بڑے ہیں اور تازہ ترین اعداد و شمار کی رو سے جن جوڑوں کی شادی ۱۹۰۰ ء اور ۱۹۳۰ء کے درمیان ہوئی تھی ان میں اوسطاً مزدوروں کے خاندان کم از کم ۴۰ فیصدی بڑے ہیں۔١

امریکی ماہر آبادی پروفیسر وارن تھامپسن انگلستان، امریکہ، جرمنی، فرانس اور سویڈن کی آبادی کی طبقاتی تقسیم کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہے۔

"اگر آبادی کی تقسیم جسمانی محنت کرنےوالوں اور سفید کالر والےملازموں کےدرمیان کی جائے تو پہلے گروہ کی باروری(Fertility) زیادہ ہے۔اگر جسمانی محنت کاروں کو بھی کسانوں اور باقی مزدوروں میں تقسیم کیا جائے تو کسانوں کی باروری زیادہ ہےغیر زرعی محنت کاروں میں اس مزدور کا خاندان بڑا ہےجو فی مہارت نہیں رکھتا اور جس کا کام سخت اور گندہ ہے اور جس کا معیار زندگی پست تر ہے....اور جب تعلیم کو معیار بنایا جائےتو معلوم ہوتا ہے کہ کم تعلیم یافتہ لوگوں کے خاندان بڑے ہیں اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کے چھوٹے اور مختصر میں ہے" ۔٢

اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ضبط ولادت پر عمل کرنے والی سوسائٹی میں جسمانی محنت کرنے والےطبقے بڑھ رہے ہیں اور ان لوگوں کی تعداد روز بروز گھٹتی چلی جارہی ہے جو عقلی و ذہنی مرتبے کے لحاظ سے بلند درجہ رکھتے ہیں، جن میں کارفرمایی و رہنمائی کی صلاحیت ہے۔ یہ چیز آخر کار ایک قوم کےزوال کی موجب ہوتی ہے۔ اس لیے کہ اس کا لازمی نتیجہ قحط الرجال ہے اور قحط الرجال کے بعد کوئی قوم دنیا میں سر بلند نہیں رہ سکتی۔

با صلاحیت طبقات کی کمی ، عام ذہنی اور عقلی معیار کی پستی ، اور قحط الرجال، یہ وہ خطرات ہیں جن سے ضبط ولادت پر عمل کرنےوالےممالک آج دو چار ہو چکےہیں اور اس صورت حال سےان کے مفکرین بے حد پریشان ہیں۔ انڈس بکسلے (Aldous Huxley) اپنی تازہ ترین کتاب (Brave New World Revisited) میں کہتا ہے کہ ہمارے اعمال کی بناء پر اب یہ امر بالکل یقینی ہوتا جارہا ہے کہ ہماری تعداد میں جو اضافہ ہو وہ حیاتیاتی نقطہ نظر سے پست معیار کا ہویا_١

___________________________________________________________________________ ١-(Britain: An oricial Handbook. 1954.p.8.) ٢-(Thompson. Warren S Population Propblems. New York, 1953. pp.194-195)


"نئی دواؤں اور اعلیٰ تر طریق علاج کے باوجود (اور کچھ حالات میں تو انہی کی وجہ سے ) عام آبادی کے عمومی معیار صحت میں نہ صرف یہ کہ کوئی اضافہ نہیں ہوگا بلکہ کی ہی واقع ہو گی اور صحت کا معیار گرنے کے ساتھ عام ذہنی معیار کی پستی بھی واقع ہوگی"_٢

"بحالت موجودہ بہترین طبقہ کے مقابلہ میں کمتر اور ادنی تر طبقہ زیادہ تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ تناسل انسانی کے سلسلہ میں یہ غلطی اور کجروی(Delinquency) ایک حیاتیاتی اور بنیادی حقیقت ہے۔“

شیلڈن یہ بھی بتاتا ہے کہ امریکہ میں طبی تجربات سے یہ حقیقت ظاہر ہوئی ہے کہ ۱۹۱۶ء کے مقابلہ میں عام ذہانت کا معیاراب فروتر ہے۔

انگلستان کے مشہور مفکر برٹرینڈ رسل (Bertrand Russel) نے بھی اس حالت پر بڑی تشویش کا اظہار کیا ہے (اور یہ ایک دلچسپ معاملہ ہے کہ رسل اور ہکسلے دونوں ضبط ولادت کے- - - - خصوصیت سےمشرقی ممالک میں اس کی ترویج کے... بڑنے پرزور حامی ہیں )

رسل لکھتا ہے:

"فرانس میں آج آبادی عملی طور پر بالکل ٹھیری ہوئی (Stationary) ہے ( یعنی ایک حالت پر قائم ہے ) اور انگلستان میں بڑی تیزی کے ساتھ اس حالت میں آ رہی ہے۔ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ کچھ طبقات میں کمی آرہی ہے اور کچھ دوسرے طبقات بڑھ رہے ہیں اور اب جب تک کوئی بنیادی تبدیلی واقع نہ ہو، ہوگا یہ کہ جو طبقے کم ہو رہے ہیں وہ عملاً معدوم ہو جائیں گے اور آبادی صرف ان طبقوں پر مشتمل رہ جائے گی جو بڑھ رہے ہیں۔ جو طبقے کم ہو رہے ہیں وہ ہنر مند کاریگروں اور متوسط لوگوں پر مشتمل ہیں اور جو بڑھ رہے ہیں وہ غریب،جمود زدہ ، بدمست اور کند ذہن لوگ ہیں۔ جو طبقات روز بروز کم ہور ہےہیں ان میں سب سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ معدوم ہونے والے وہی ہیں جو ذہنی اعتبار سے سب سے بلند ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری ہر نسل میں سے اس کا بہترین عصر نکل جاتا ہے اور مصنوعی طور پر بانجھ کر دیا جاتا ہے۔ کم از کم ان لوگوں کے مقابلہ میں جو باقی رہ جاتے ہیں"_١



"اگر انگلستان کی آبادی میں سے بچوں کا ایک عام نمونہ (Sample) لیا جائے اور پھر ان کے والدین کے حالات کا مطالعہ کیا جائے تو یہ معلوم ہوگا کہ فہم ، قوت، عقل اور روشن خیالی میں وہ ملک کی عام آبادی کے معیار سے کم تر ہوں گے اور بے عملی کند ذہنی، حماقت اور تو ہم پرستی میں اس سے بڑھ چڑھ کر ہمیں اس سے یہ بھی معلوم ہو گا کہ جو سمجھدار، باعمل، ذہین اور روشن خیال میں وہ اپنی تعداد کے برابر تعداد تک کو جنم نہیں دے سکتے ، یعنی دوسرے الفاظ میں بالعموم ان کے ہاں اوسطاً دو بچے بھی زندہ نہیں رہتے ۔ اس کے مقابلہ میں وہ جو برعکس صفات سےمتصف ہیں اور مندرجہ بالا اعلیٰ صفات کے عین ضد ہیں ان کے ہاں دو سے زیادہ بچے ہوتے ہیں اور وہ تناسل کے ذریعے اپنی تعداد برابر بڑھا رہے ہیں ۔١"

___________________________________________________________________________ ١- (Russel. Bertrand. Principles Of Soconstruction. 1954. p. 124) ٢- یہ علم شماریات کی ایک خاص اصطلاح ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ مطالعہ کیلئے ایک نمائندہ گر وہ منتخب کر لیا جائے جس میں مجموعے کی ضروری خصوصیات موجود ہوں-

پھر اس تبدیلی کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے رسل کہتا ہے کہ آبادی کے بہترین عناصر میں جو غیر معمولی کمی واقع ہورہی ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ:




اسی سلسلے میں برٹرینڈ رسل موجودہ حالات کا مقابلہ تہذیب روما سے کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کے زوال میں بھی کچھ ایسے ہی عوامل کا ہاتھ تھا۔

"دوسری تیسری اور چوتھی صدی عیسوی میں سلطنت روما کے اندر قوت کار کردگی اور ذہانت کا جو انحطاط رونما ہوا تھاوہ ہمیشہ نا قابل فہم رہا ہے لیکن یہ رائے قائم کر لینے کے لیے قوی بنیاد میں موجود ہیں کہ اس زمانہ میں بھی وہی کچھ ہوا تھا جو آج خود ہماری تہذیب میں ہو رہا ہے، یعنی رومیوں کی ہر پشت (Generation) میں ان کے بہترین عناصر اپنی مساوی تعداد کو جنم دینے میں ناکام ہوتے رہے اور آبادی کی افزائش ان عناصر کے ذریعہ سے ہوتی رہی جن کی قوت عمل کم تھی ہے_٢"


"یہ نا قابل انکار ہے کہ اگر ہمارا موجودہ معاشی نظام اور ہمارےاخلاقی معیارات تبدیل نہیں ہوتے تو آئندہ دو تین پشتوں میں تمام مہذب ممالک کی آبادی کے کردار میں خراب ترین تبدیلی بڑی تیزی کے ساتھ آئے گی اور مہذب ترین لوگوں کی تعداد میں مؤثر کمی واقع ہو گی اگر ہم اس نتیجے سے بچنا چاہتے ہیں تو ہم کو شرح پیدائش میں اپنی مروجه منحوس انتخابیت_١ (Selectiveness) کو کسی نہ کسی طرح ختم کرنا ہوگا۔"

_________________________________________________________________________ ١- ایضا صفحہ ۱۲۵-۱۲۳ ٢- ایضا صفحہ نمبر ۱۲۶

اس طرح ضبط ولادت کی بدولت ایک طرف تو ملک کا طبقاتی توازن درہم برہم ہو جاتا ہے اور کار فرما عصر آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتا ہے۔ دوسری طرف اس کا نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ آبادی میں بچوں اور بوڑھوں کا تناسب بگڑ جاتا ہے اور اس کے معاشی و تمدنی اثرات بڑے دور رس اور بڑے پریشان کن ہوتے ہیں۔ بچوں کی تعداد اور کل آبادی میں ان کا تناسب کم اور بوڑھوں کی تعداد اور ان کا تناسب زیادہ ہوتے چلے جانے سے قوم میں نیا خون اپنی فطری رفتار سے نہیں آتا۔ بچوں کی کمی کی وجہ سے محض اشیائے صرف کی مانگ (Demand) ہی متاثر نہیں ہوتی بلکہ پوری قوم میں حرکت اور عملیت کی جگہ جمود اور کاہلی راہ پانے لگتی ہے۔ خطرہ انگیز کرنے اور سر دھڑ کی بازی لگا دینے کا جذبہ کم ہوتا جاتا ہے اور قوم کا بڑا حصہ لکیر کا فقیر بن کر رہ جاتا ہے۔ یہ چیز رفتہ رفتہ ایک قوم کو علم معیشت ، سائنس اور دوسرے میدانوں میں ان قوموں سے بہت پیچھے کر دیتی ہے جن میں نئی نسل کی افزائش فطری رفتار سے ہوتی رہتی ہے اور نو جوانوں کی کثیر تعداد پوری قوم میں امنگوں کو بلند اور عزائم کو راسخ رکھتی ہے۔

مغربی ممالک میں ضبط ولادت کی بدولت جس رفتار سے بچوں اور نو جوانوں کا تناسب برابر کم ہو رہا ہے اور بوڑھوں کا تناسب بڑھ رہا ہے اس کے فطری اثرات ظاہر ہونے شروع ہو گئے ہیں جنہیں آج ہر صاحب نظر بچشم سر دیکھ سکتا ہے۔ گزشتہ ۷۰ سال میں جو رجحان سامنے آیا ہے وہ یہ ہے:


آبادی کا تناسب

_________________________________________________________________________ ملک سال ۱۰ سال سے کم ١٠ سے ١٩ ٥٠ سے ٦٤ ٦٤سے زیادہ عمر کے بچے سال سال _________________________________________________________________________ انگلستان اور ویلز ١٩٨٠ء % ٧ ء٢٥ % ٦ ء٢٠ % ٨ ء ٩ % ٨ ء ٤ ١٩٩٥ء % ٥ء١٥ % ٤ ء١٢ % ٨ ء ١٦ % ٩ ء١٠ _________________________________________________________________________ جرمنی ١٨٨٠ء %١ ء ٢٥ % ٧ء ١٩ % ١ء ٨ % ٩ ء ٧ ١٩٥٠ء %٥ ء ١٤ % ٣ ء ١٦ % ٤ ء١٦ % ٣ ء٩ _________________________________________________________________________ فرانس ١٨٨١ء % ٣ ء١٨ % ١ ء١٧ % ٥ ء١٤ % ٠ ء ٨ ١٩٤٦ء % ء١٤ % ٧ ء١٥ % ٤ ء١٦ % ٠ ء١١ _________________________________________________________________________ امریکہ ١٨٨٠ء % ٧ ء ٢٦ % ٤ ء ٢١ % ٤ ء ٨ % ٤ ء ٣ ١٩٥٠ء % ٥ ء ١٩ % ٤ ء ١٤ % ٣ ء ١٤ % ء ٨ ________________________________________________________________________ (بحوالہ تھامپسن ، مسائل آبادی صفحه ۹۵)

ان تمام ممالک میں بلا استثناء آبادی کی اندرونی تشکیل میں یہی تغیر واقع ہو رہا ہے۔حال ہی میں اقوام متحدہ نےآبادی کی پیرانہ سالی کےاس رجحان پر ایک تحقیقی رپورٹ شائع کی ہےجس میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کےفراہم کردہ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ آبادی میں ۶۵ سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کے تناسب میں ۱۹۰۰ء اور ۱۹۵۰ء میں مختلف ممالک میں تناسب کا انڈکس یہ تھا:

نیوزی لینڈ ٢٣٦ امریکہ ٢٠٠ برطانیہ ٢٣١ جرمنی ١٩٠




آسٹریا ٢١٢ بیلئجم ١٧٣ فرانس ١٤٤

رپورٹ میں اس امر کا اظہار بھی کیا گیا ہے کہ تناسب کو تبدیل کرنے میں بڑا دخل باروری اور شرح پیدائش کی تبدیلی کو ہے۔ اس سلسلہ میں شرح اموات کی تبدیلی اتنی مؤثر نہیں رہی ہےجتنی شرح پیدائش کی تبدیلی_١


"یہ حقیقت (یعنی بوڑھوں کی تعداد کا بڑھنا ) بہت معنی خیز اور موثر ہے کیونکہ پیرانہ سال افراد کی زیادتی کے معنی یہ ہیں کہ شرح اموات بڑھے گی اور شرح پیدائش میں کمی ہوگی ، نیز بوڑھے لوگ نو جوانوں کےمقابلہ میں معاشی حیثیت سے کم مفید اور پیدآور (Productive) ہوتے ہیں_٢

معیشت کی صحت مند بنیادوں پر ترقی کرنے کے لیے ضروری ہےکہ بوڑھوں اور جوانوں میں ایک خاص تناسب قائم رہے تا کہ تمدن کی گاڑی کھینچنے والے مضبوط ہاتھ کبھی کمزور نہ پڑنے پائیں۔ قدرت نےاس کا پورا پورا بندوست کیا ہے۔ لیکن ضبط ولادت کی وجہ سے قدرت کےکام میں جو مداخلت کی جاتی ہے اس کی بدولت یہ فطری توازن بگڑ جاتا ہے۔ بوڑھوں کی تعداد تو برابر بڑھتی رہتی ہے لیکن بچوں میں مناسب رفتار سے اضافه نہیں ہوسکتا اور تناسب برابر ناموافق ہوتا جاتا ہے۔ اس کا آخری نتیجہ کارکنوں کی قلت اور قومی طاقت کا زوال اور معاشی قوت کی کمی ہے۔ پھر جب نو جوانوں کے تناسب میں کمی کے ساتھ ساتھ کارفرما عناصر کی قلت اور قحط الرجال بھی شامل ہو جاتے ہیں تو آخر کار ایک قوم حاکم سے محکوم بن جاتی ہے اور سر بلندی و سرفرازی کے مقام سے گر کر کمزوری اور باجگزاری کے درجہ پر پہنچ جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فطرت اپنے باغیوں کو کم ہی معاف کرتی ہے۔ خود اس کی بغاوت ہی کے اندر ایسےمضمرات موجود ہوتے ہیں جو بالآخر اس جرم کی سزا کا کام انجام دے ڈالتے ہیں اور دوسروں کے لیے عبرت کا سامان فراہم کر دیتے ہیں۔


(۲) زنا اور امراض خبیثه کی کثرت

ضبط ولادت سے زنا اور امراض خبیثه کو بڑا فروغ نصیب ہوا ہے۔ عورتوں کو خدا کے خوف کے علاوہ دو چیزیں اخلاق کے بلند معیار پر قائم رکھتی ہیں۔ ایک ان کی فطری حیاء۔ دوسرے یہ خوف کہ حرامی بچہ کی پیدائش ان کو سوسائٹی میں ذلیل کر دے گی۔ ان میں سے پہلی روک کو تو جدید تہذیب نے بڑی حد تک دور کر دیا۔ رقص و سرود، نائٹ کلبس اور شراب نوشی کی محفلوں میں مردو کے ساتھ آزادانہ شرکت کے بعد حیا کہاں باقی رہ سکتی ہے۔ رہا حرامی اولاد کی پیدائش کا خوف، تو ضبط ولادت کے رواج عام نے اس کو بھی باقی نہ رکھا۔ اب عورتوں اور مردوں کو زنا کا عام لائسنس مل گیا ہے اور زنا کی کثرت کے ساتھ امراض خبیثہ کا ہونا ضروری ہے۔

انگلستان کا حال یہ ہے کہ ہر سال وہاں ۸۰ ہزار سے زیادہ نا جائز بچے پیدا ہوتے ہیں۔ڈیوسیز ان کا نفرنس (Diocesan Conference) کی رپورٹ کی رو سے ۱۹۴۶ء میں ہر آٹھ میں سےایک بچہ ناجائز تھا اور ہر سال تقریباً ایک لاکھ عورتیں دائرہ نکاح کے باہر حاملہ ہوتی تھیں ۔ ڈاکٹر آز والد شوارز (Oswald Schwarz) لکھتا ہے۔

"ہر سال اوسطاً ۸۰ ہزار عورتیں نا جائز اولاد کو جنم دیتی ہیں (یعنی تمام زچگیوں کا ۱۶۳)۔محتاط اندازے کے مطابق ہر دس میں سے ایک عورت شادی کے باہر تعلق قائم کرتی ہے۔ اس فہرست میں جو عورتیں شامل ہیں ان میں سے ۴۰ فیصدی کی عمر نا جائز ولادت کے وقت ۲۰ سال سے کم ۳۰ فیصدی کی ۲۰ سال اور ۲۰ فیصدی کی ۲۱ سال تھی۔ یہ اعداد و شمار بجائے خود بڑے پریشان کن ہیں لیکن ہمیں یا درکھنا چاہیے کہ یہ صرف ان معاملات کے اعداد وشمار ہیں جن میں کچھ نہ کچھ خرابی پیدا ہو گئی تھی (یعنی ضبط ولادت کی ساری تدبیروں کے باوجود جن میں حمل ٹھہرنے کا حادثہ پیش آگیا ) اس کے معنی یہ ہیں کہ جو کچھ دراصل ہو رہا ہے یہ اعداد اس کے صرف ایک چھوٹے سے حصے ہی کو پیش کرتے ہیں_١


ڈاکٹر شوارز کے پیش کردہ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر 10 میں سے ایک عورت گناہ سے ملوث ہے لیکن تازہ ترین معلومات اس سے بھی گھناؤنی صورت حال کو پیش کرتی ہیں۔ چیسر رپورٹ (Chesser Report) جو ۱۹۵۶ء میں شائع ہوئی ہے اور جسے ۶۰۰۰ خواتین سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے یہ دعوی کرتی ہے کہ ہر تین میں سے ایک خاتون نکاح سے پہلے ہی جو ہر عصمت کھو چکی ہوتی ہے۔ اس کی توثیق ڈاکٹر چیسر اپنی حالیہ کتاب ” کیا عصمت از کار رفتہ ہے؟ میں بھی کرتا ہے_٢

امریکہ کے متعلق کنزے رپورٹ (Kinsey Report) سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں زنا اور دوسرے جنسی جرائم کی اتنی افراط ہے کہ معاشرہ کی بنیادیں ہل گئی ہیں مردوں میں سے٧ ء ٤ فیصدی اور عورتوں میں سے ۵۰ فیصدی بلا تکلف ناجائز تعلقات قائم کیےہوئےہیں۔ _٣


_________________________________________________________________________ نکاح سے قبل جنسی تعلق عورتیں : ۷ سے ۵۰ فیصد مرد : ۲۷ سے ۷ ۸ فیصد ________________________________________________________________________ نکاح کے بعد نا جائز تعلقات عورتیں ۵ سے ۲۶ فیصد مرد: ۱۰ سے ۴۵ فیصد ________________________________________________________________________ ناجائز اولاد ۱۹۴۷ء ہر ۱۰۰۰ میں٢٨ ۱۹۲۷ء ہر ۱۰۰۰ میں ٧ ء ٣٨ ________________________________________________________________________ اسقاط سالانه ۳۳۳۰۰ سے ۱۰۰۰۰۰۰ تک _______________________________________________________________________






" شاید اس کی ضرورت نہیں کہ ہم یہ بھی بتائیں کہ اس آزاد شہوت رانی کے کیا ہمہ گیر اثرات و نتائج فرد ، سماج اور پوری قوم پر مترتب ہو رہے ہیں ۔ خواہ اس کا نام ” جنسی آزادی، رکھ دو یا جنسی انار کی یہ حقیقت تو نہیں بدل سکتی کہ اس روش کے نتائج ان تمام انقلابات کے نتائج سے بھی زیادہ دور رس ہیں جن کا مشاہدہ آج تک چشم تاریخ نے کیا ہے _١ "

کنزے کے اندازے کے مطابق امریکہ میں ناجائز بچوں کا تناسب پانچ میں ایک ہے-غیر بیاہی ماؤں سے ہونے والی اولاد کا تناسب ۴ فیصد ہے۔ اس کے علاوہ اسقاط حمل کے متعلق کچھ قابل اعتماد اندازے یہ ہیں کہ ہر چار میں سے ایک حمل ضائع کر دیا جاتا ہے بلکہ سان فرانسسکو کے متعلق تو ٹائم میگزین کے بقول ۱۹۴۵ء میں ۴۰۰، ۱۶ ولادتوں کے مقابلہ میں ۱۸۰۰۰ اسقاط ہوئے۔

اسی طرح اگر جرائم- - - - خصوصیت سے جنسی جرائم- - - - -کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہےکہ وہ روز بروز بڑھ رہے ہیں۔ انگلستان میں پولیس کے نوٹس میں جو قابل دست اندازی پولیس جرم آئے ہیں ان میں مندرجہ ذیل رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے_٣

___________________________________________________________________________ ۱۹۳۸ء ۲۸۳۰۰۰ ۱۹۵۵ء ۴۳۸۰۰۰ ___________________________________________________________________________

اسی زمانے میں جنسی جرائم کا تناسب کل جرائم میں ۷ فیصد سے بڑھ کر ۳ ۶ فیصد ہو گیا ہے گی۔ امریکہ کے متعلق فیڈرل بیورو آف انوسٹی گیشن 1.1.F.B) کے فراہم کردہ اعداد وشمار سےمعلوم ہوتا ہے کہ ۳۹۔ ۱۹۳۷ء کی بہ نسبت ۱۹۵۵ء میں زنا کاری ۶۰ فیصدی بڑھ گئی ہے۔ دوسرے جرائم میں بھی ۵ فیصدی سے ۸۰ فیصدی تک اضافہ ہوا ہے۔ اگر تمام اہم اور بڑے جرائم کو لیا جائے تو ۱۹۵۸ء میں ۲۳لاکھ سے زیادہ واقعات پولیس کے نوٹس میں آئے جبکہ ۱۹۴۰ء میں یہ تعداد صرف ۱۵ لاکھ تھی_٦ نوجوانوں کی آوارگی بھی روز افزوں ہے۔ امریکہ کے ۱۴۷۳ شہروں میں ۱۹۵۷ء میں جو ۲۰ لاکھ ۹۸ ہزار افراد مختلف جرائم کے سلسلہ میں گرفتار ہوئے ان میں سے ۲لا کھ ۵۳ ہزار ۱۸ سال سے کم عمر کے تھے۔١







جنسی آزادی سے پیدا ہونے والی بیماریاں بھی برابر فروغ پارہی ہیں اور علاج کے بہترین مواقع فراہم ہونے کے باوجود ان بیماریوں کا اثر قومی صحت پر بڑا تباہ کن ہے۔ اگر صرف آتشک (Syphilis) ہی کو لیا جائے تو امریکہ کے سرجن جنرل آف پبلک ہیلتھ سروس مسٹر تھامس پیرن (Thomas Paran) کے بقول یہ خبیث مرض فالج اطفال کے مقابلہ میں سو گناہ زیادہ تباہی کا باعث ہے اور امریکہ میں اس وقت سرطان ، تپ دق، اور نمونیہ کے برابر خطرناک ہے۔ ہر چار میں سے ایک موت بلا واسطہ یا بالواسطہ آتشک ہی کی بناء پر واقع ہورہی ہے۔ پروفیسر پال لینڈس ڈاکٹر پیران کی رائے نقل کرنے کے ساتھ ہی ہم کو بتاتے ہیں:

"۱۹۴۷ء کے بعد نئی دواؤں کے فروغ اور استعمال کی وجہ سےامراض خبیثه میں کمی واقع ہورہی تھی لیکن ۱۹۵۵ء سے پھر الٹی روچل پڑی ہے۔ امریکہ کے تمام بڑے شہروں میں آتشک اور سوزاک (Gonorrhea) کے امراض تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور ان بیماریوں کا سب سے زیادہ اضافہ نو جوانوں میں ہو رہا ہے جن کی عمر میں سال سے کم ہے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ بیماریوں کی نصف تعداد نو جوانوں کے اسی گروہ میں پائی جاتی ہے_٢"

اگست ۱۹۶۱ء کے ریڈرز ڈائجسٹ میں جارج کینٹ (Kent) اور ولفرڈ گریٹوریکس (Wilfred Greatorex) کا ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں وہ بتاتے ہیں کہ برطانیہ کے بڑے شہروں، مثلا لندن، برمنگھم، لور پول و غیرہ میں امراض خبیثه از سرنو بڑے زور سے پھیل رہے ہیں۔ نئی جراثیم کش دواؤں کی بدولت کچھ مدت تک ان امراض کو دبانے میں جو کامیابی ہوئی تھی وہ نا کامی میں بدل چکی ہے۔ ۱۹۵۶ء سے ۱۹۵۹ء تک چار برس کی مدت میں مختلف اقسام کے امراض خبیثه کے اندر ۲۰ فیصدی اضافہ ہو چکا ہے۔ ۱۹۵۹ء میں صرف سوزاک کے نئےمریض ۳۱ ہزار تھے، یعنی ۱۹۵۵ء کے مقابلہ میں ۷۰ فیصدی اضافہ اور یہ اعداد صرف ان بیماروں کے ہیں جو امراض خبیثه کا علاج کرنے والے مخصوص مراکز میں آئے ہیں جو مریض عام پریکٹس کرنے والے ڈاکٹروں اور پرائیویٹ ماہرین کے پاس جاتے ہیں، یا جو سرے سے علاج کیلئےجاتے ہیں نہیں ، وہ اس تعداد میں شامل نہیں ہیں۔ پھر وہ بتاتے ہیں کہ امراض خبیثہ کی یہ وبا بڑےپیمانے پر ساری قوم میں پھیل رہی ہے اور اس کا سب سے زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ۲۰ سال سے کم عمر کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں اس کا زور بڑھ رہا ہے۔ حال ہی میں چند ڈاکٹروں نے۱۹۴۸ء سے اب تک کے اعداد و شمار کا مقابلہ کر کے یہ رپورٹ دی ہے کہ ۱۸ سے ۱۹ سال تک کی عمر کے نوجوانوں میں ایک سال کے اندر لڑکوں کے سوزاک کی تعداد ۳۶ فیصدی اور لڑکیوں کے سوزاک کی تعداد ۲۸ فیصدی بڑھ گئی۔ برطانیہ کی مرکزی کونسل برائے تعلیم صحت کے ڈائریکٹراے جے ڈیلزل وارڈ (Dalzell Ward) کا اندازہ ہے کہ ۲۰ سال سے کم عمر کے لوگوں میں امراض خبیثہ کی یہ کثرت اس سے پہلے کبھی نہ ہوئی تھی۔ لندن کے صرف ایک ہسپتال میں بیک وقت اس عمر کے ۴۹۰ مریض موجود تھے۔ اور پول میں امراض خبیثہ کے مریضوں کی نصف تعداد ۱۴ سے ۲۱ سال تک کی عمر کی تھی ۔




کم و بیش یہی حالت دوسرے ملکوں کی بھی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنا ئزیشن کی ایک حالیہ کانفرنس میں 4 ملکوں کی طرف سے یہ رپورٹ پیش کی گئی تھی کہ ان کے ہاں آتشک اور سوزاک ایک خوفناک وبا کی طرح پھیل رہے ہیں۔ اٹلی میں ۱۹۵۸ء اور ۱۹۵۹ء کے درمیان آتشک کےوبا مریض تین گنا زیادہ ہو گئے اور ڈنمارک میں دو گئے ۔

یہ حالات صاف بتا رہے ہیں کہ ضبط ولادت نے جدید دنیا کی اجتماعی زندگی میں گناہ کا جو دروازہ کھولا ہے اس سے زنا، جنسی جرائم اور امراض خبیثه کے عفریت دندناتے ہوئے داخل ہو رہے ہیں اور انہوں نے پورے سماج کو اپنی تباہ کاریوں کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

(۳) طلاق کی کثرت

ضبط ولادت بھی ان اسباب میں سے ایک ہے جنہوں نے مغربی ممالک میں زدواجی تعلقات کی بندشوں کو کمزور کر دیا ہے۔ عورت اور مرد کے درمیان زوجی تعلق کو مضبوط کرنے میں اولاد کا بہت بڑا حصہ ہوتا ہے۔ جب اولاد نہ ہوگی تو زوجین کیلئے ایک دوسرے کو چھوڑ دینا بہت آسان ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ میں طلاق کا رواج کثرت سے پھیل رہا ہے اور طلاق حاصل کرنے والوں میں بڑی اکثریت ان جوڑوں کی پائی جاتی ہے جو بے اولاد ہیں۔ کچھ عرصہ قبل لندن کی ایک عدالت طلاق میں ڈیڑھ منٹ کے اندر ۱۵ نکاح فسخ کرائے گئے اور بلا استثناء وہ سب کے سب ایسے جوڑے تھے جن کے ہاں اولاد نہ ہوئی تھی۔

ماہرین عمرانیات بالعموم یہ کہہ رہے ہیں کہ کثرت طلاق میں بچوں کے نہ ہونے کا بہت بڑا دخل ہے بلکہ اس پر ان میں تقریباً اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ ٹالکوٹ پارسنز ( Talcott parsons) واضح اعداد وشمار دے کر اس رائے کا اظہار کرتا ہے کہ:

"بہت بڑی حد تک طلاقیں شادی کے اولین سالوں میں بے اولاد جوڑوں میں ہوتی ہیں اور ہو رہی ہیں ۔ چاہے زن وشو پہلے کے مطلقہ ہی کیوں نہ ہوں، جب ایک بارلوگوں کے اولاد ہونے لگتی ہے تو پھر ان کے متحد رہنے کے امکانات بہت زیادہ ہو جاتے ہیں _١


طلاق حاصل کرنے والے جوڑوں میں سے دو تہائی بے اولاد ہیں اور ۱/۵ کے صرف ایک بچہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ طلاق اور بے اولاد شادی میں ایک واضح اور بین تعلق ہے _٢




"ایک عام شادی شدہ جوڑے کو صاحب اولاد ہونا چاہیے۔ جولوگ اولا د کو موخر کرتے ہیں بعد میں انہیں اس پر نادم ہونا پڑتا ہے۔ لاولد شادیاں نت نئے مسائل کو جنم دیتی ہیں اور خواہ زوجین ایک دوسرے سےمطمئن ہی ہوں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان پر ایک شدید قسم کی بدمزگی اور بے کیفی مسلط ہو جاتی ہے۔ گویا کہ وہ اپنے سفر کے اختتام پر پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین عمرانیات ہمیں برابر متنبہ کر رہے ہیں کہ شرح طلاق ان گھروں میں سے زیادہ ہے جو اولاد سے محروم ہیں۔ اس کی وجہ بہت واضح ہے۔ اس صورت میں ماں اور باپ بننے کی بنیادی فطری اور جبلی خواہش پوری نہیں ہوتی۔ یہ چیز عورت کے معاملہ میں خصوصیت سے بڑی اہم ہے۔ ضبط ولادت سے اس کی مادری جہات کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے، جس سے اس کا نظام اعصاب پراگندہ ہو سکتا ہے، اس کی صحت تباہ ہو سکتی ہے اور زندگی میں اس کی تمام خوشی اور دلچسپی خاک میں مل سکتی ہے_١"

ڈاکٹر فریڈ مین اور ان کے رفقاء کی تحقیقات بھی اسی نتیجہ کی نشان دہی کرتی ہیں۔ وہ اپنی اور دوسرے لوگوں کی تحقیقات کی بنیاد پر لکھتے ہیں:


ضبط ولادت پر عامل ممالک میں جس رفتار سے طلاق میں اضافہ ہو رہا ہے وہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ انگلستان کے متعلق ڈاکٹر آز والد شوارز لکھتا ہے:

گزشتہ نصف صدی میں طلاقوں کا سیلاب جس رفتار سے بڑھ رہا ہے اس میں وبا کی سی تیزی اور زہرنا کی پائی جاتی ہے۔ ۱۹۱۴ء میں اس ملک میں ۸۵۶ طلاقیں واقع ہوئی تھیں ۔ ۱۹۲۱ء میں ان کی تعداد ۳۵۲۲ ہو گئی ۔ ۱۹۲۸ء میں چار ہزار ۔ ۱۹۴۶ء میں یہ تعداد بڑھ کر ۳۵۸۷۴ تک پہنچ گئی ۔ کیا یہ خطرے کی گھنٹی نہیں ہے جو اس امر کی خبر دیتی ہے کہ ہماری تہذیب اخلاقی ترقی کے نقطہ عروج سے گزر چکی ہے ۔




١٩٣٦ء ۴۰۵۷ ١٩٣٩ء ۷۹۵۵ ۱۹۴۷ء ٦۰۷۵۴

اس کے بعد طلاق کی رفتار میں کچھ کمی ہوئی جو ۱۹۵۱ء تک جاری رہی۔۱۹۵۲ء میں پھر اضافہ ہوا اور اس کے بعد سے نشیب و فراز کا سلسلہ برابر جاری ہے ۔۔٢

امریکہ کا حال یہ ہے کہ ۱۸۹۰ء میں اگر دس رشتہ ہائے ازدواج کا انقطاع موت سے ہوتا تو صرف ایک کا طلاق سے لیکن ۱۹۴۹ء میں یہ تناسب ۱۰:۱ سے کم ہوکرا: ۵۸ ءارہ گیا ہے۔شادی اور طلاق کا تناسب بھی برابر بگڑ رہا ہے جس کا اندازہ مندرجہ ذیل اعداد و شمار سے ہوسکتا ہے:

طلاق نکاح طلاق نکاح ۱۸۷۰ء ١ : ٧ء٣٣ ١٩١٥ ء ١ : ١٢ ء١٠ ١٩٤٠ء ١ : ٦ ۱۹۴۲ء ١ : ٥ ۱۹۴۴ء ١ : ٤ ١٩٤٥ ء ١ : ٣ ۱۹۵۰ء ١ : ٣ ء٤ ١٩٥٨ء ١ : ٧ ء٣

"اس کے معنی یہ ہیں کہ ۱۸۷۰ء میں اگر تقریباً ۳۴ شادیاں ہوتی تھیں تو اس کے مقابلے میں ایک طلاق ہوتی تھی۔ مگر اب ہر چار شادیوں میں ایک طلاق ہوتی ہے۔ ۱۸۹۰ء میں ۱۰۰۰ عورتوں میں سے صرف ۳ مطلقہ ہوتی تھیں ۔ مگر ۱۹۴۶ء میں ان کی تعداد ۱۷۶۸ تک پہنچ چکی تھی۔ اس سےمعلوم ہوتا ہے کہ مطلقہ خواتین کی تعداد میں تقریبا چھ گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ اسی بناء پر پروفیسر سوروکن کہتا ہے شادی کی تقدیس باضی کے مقابلہ میں آج بار بار اور پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ مجروح ہو رہی ہے اور گھر ایک مستقل قیام گاہ ہونے کے بجائے صرف ایک گاڑیٹھہرانے کی جگہ بن کر رہ گیا ہے جہاں محض ایک رات - - - - اور یہ بھی ضروری نہیں کہ پوری رات - - - - - قیام کر لیا جائے ۔“




طلاق کے ساتھ ساتھ بیویوں کو چھوڑ جانے (Desertion) کا مرض بھی برابر بڑھتا جارہا ہے اور امریکی روز مرہ میں اسے غریب آدمی کا طریق طلاق“( Poor-main' Divorce ) کہتے ہیں۔ اس وقت امریکہ میں دس لاکھ سے زیادہ خاندان اس حالت میں مبتلا ہیں ۔ مردم شماری کی رو سے امریکہ میں دس لاکھ چھیانوے ہزار مفرور بیویاں“ اور پندرہ لاکھ چھبیس ہزار ” مفرور شوہر"١ ہیں۔ سوروکن کے اندازہ کے مطابق کل شادی شدہ عورتوں کا تقریبا ٤ فیصد اس عالم میں ہےاور سرکاری خزانہ سےان خاندانوں پر تقریباً ۲۵ کروڑ ڈالر سالانہ خرچ ہو رہےہیں۔٢ طلاقوں اور فرار اور بے وفائیوں کی بناء پر امریکہ کے ۴ کروڑ ۵۰لاکھ بچوں میں سےایک کروڑ ۱۲۰ کھ ( ۲۵ فیصد سے کچھ زیادہ ) بچے والدین کے سائے سے محروم ہیں اور یہی وہ بچےہیں جن کی وجہ سے نو جوانوں کی آوارگی (Javenile Delinquency) کا مسئلہ امریکہ کےاہم ترین مسائل میں سے ایک بن چکا ہے۔

(۴) شرح پیدائش کی کمی

سب سے زیادہ اہم نتیجہ یہ ہے کہ جتنی قو میں اس وقت ضبط ولادت پر عمل کر رہی ہیں ان سب کی شرح پیدائش خوفناک حد تک کم ہو گئی ہے۔ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ اس تحریک کی اشاعت ۱۸۷۶ء سے شروع ہوئی ہے۔ آگے صفحہ ۳۹ پر جو نقشہ دیا جارہا ہے اس سے آپ کو معلوم ہو گا کہ اس وقت مختلف ممالک کی فی ہزار شرح پیدائش کیا تھی اور اس کے بعد سے کس طرح گھٹتی چلی گئی ہے۔



یہ نقشہ ضبط ولادت کے نتائج صاف ظاہر کر رہا ہے۔ اس تحریک کے آغاز کی تاریخ سے تمام ممالک میں بلا استثناء شرح پیدائش کا کم ہونا اور برابر کم ہوتے چلے جانا اس بات کی دلیل ہے کہ اگر ضبط ولادت اس کی تنہا وجہ نہیں تو ایک بڑی وجہ تو ضرور ہے۔ خود انگلستان کے رجسٹرار جنرل نےتسلیم کیا ہے کہ شرح پیدائش کے کم ہونے کی ۷۰ فیصدی ذمہ داری برتھ کنٹرول کے رواج پر ہے۔انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ مغربی ممالک کی شرح پیدائش کو گھٹانے میں ضبطِ ولادت کے مصنوعی ذرائع کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔

رائل کمیشن آف پاپولیشن (۱۹۴۹ء) کی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں کی شادیاں ١٩١٠ ء سے پہلے ہوئی تھیں ان میں سے صرف ۱٦ فیصدی ضبط ولادت پر عامل تھے لیکن ۱۹۴۰ء۔۱۹۴۲ء کے بعد ۴ ۷ فیصدی شادی شدہ جوڑے اس طریقے پر عمل کر رہے ہیں ۔ اسی سلسلے میں رائل کمیشن یہ صراحت کرتا ہے:

"اس ملک میں اور دوسرے ممالک میں بڑی قوی شہادت ایسی موجود ہے جو یہ ثابت کرتی ہے کہ شرح پیدائش میں کمی ضبط ولادت اور خاندان کی بالا رادہ تحدید کا نتیجہ ہے۔ یہ انہی کا اثر ہے کہ شرح پیدائش اس سے کم تر ہے جتنی ان طریقوں کے استعمال نہ کرنے کی صورت میں ہوتی_١"

امریکہ میں پہلیٹن اور کیسر (Whelpton & Kiser) کے تحقیقی جائزے کے مطابق ۹۱۰۵ فیصد جوڑے کسی نہ کسی صورت میں ضبطہ ولادت کےطریقوں پر عامل ہیں۔ فریڈ مین (Freedman) اور ان کے رفقاء کی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ بحیثیت مجموعی امریکہ میں ۷۰ فیصدی سے زیادہ جوڑے اس طریقے پر عمل کر رہے ہیں۔ یہ مستفین برطانیہ اور امریکہ کے حالات کا مطالعہ کرنے کے بعد ہمیں بتاتے ہیں:




اس سے زیادہ واضح طور پر ضبط ولادت کے نتائج معلوم کرنے کے لیے ان ممالک کی شرح مناکحت اور شرح پیدائش کا مقابلہ کیجئے۔ انگلستان میں ۱۸۷۶ء سے ۱۹۰۱ء تک شرح مناکحت میں ۳۰۶ فیصدی کی کمی واقع ہوئی لیکن شرح پیدائش ۲۱۰۵ فی صدی کم ہوگئی۔ ۱۹۰۱ء سے ۱۹۱۳ ء تک شرح مناکحت بدستور قائم رہی مگر شرح پیدائش میں ۶،۵ فیصد کمی واقع ہوئی ۔ ۱۹۱۳ء سے ۱۹۲۶ء کے درمیان مختلف ممالک میں شرح مناکحت اور شرح پیدائش کا جو تناسب پایا گیا ہے اس کا حال ذیل کے نقشے سے معلوم ہوگا:

____________________________________________________________________________ شرح مناکحت شرح پیدائش ____________________________________________________________________________ فرانس ٦ء٨ فیصدی اضافہ ٢ ء ٢٨ فیصدی کی جرمنی ٤ء ٩ " کی ٤ ء ٤٩ " " اٹلی ٨ ء ٩ " " ١ ء ٢٩ " " ہالینڈ ٢ ء ١٠ " " ٠ ء ٣٥ " " سویڈن ٣ ء ١١ " " ١ ء ٣٥ " " ڈنمارک ٣ ء ١٢ " " ٦ ء ٤٥ " " سوئٹزرلینڈ ٩ ء١٢ " " ٨ ء ٤٤ " " انگلستان اور ویلز ٣ ء ١٣ " " ٠ ء ٥١ " " ناروے ٠ ء ٢٦ " " ٠ ء ٣٨ " " ____________________________________________________________________________

اسی روش پر امریکہ بھی جا رہا ہے۔ وہاں انیسویں صدی کے اواخر میں شرح پیدائش ۴۰ فی ہزار تھی ۔ ۱۹۳۵ء میں گھٹ کر صرف ۱۸۶۷ فی ہزار رہ گئی اور اس وقت ۶ ۲۳ فی ہزار ہے ۔۔ اس کے مقابلہ میں شرح مناکحت ۱۹۰۱ء میں ۳ ۹۶ فی ہزار تھی۔ ۱۹۳۵ء میں ۴ء۱۰ فی ہزار ہوئی اور ۱۹۵۶ء میں ۴ ۹۶ فی ہزار۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ضبط ولادت پر عمل کرنے والے ممالک میں عورت اور مرد کے زوجی تعلقات روز بروز کس قدر بے نتیجہ ہوتے جارہے ہیں۔ شادیوں میں جتنی کمی ہو رہی ہے اس سے زیادہ کمی پیدائش میں ہو رہی ہے اور کچھ حالات میں تو شادیوں میں اضافہ ہوتا ہے لیکن پیدائش میں برابر کمی ہوتی رہتی ہے۔ برطانیہ کی ایک حالیہ سرکاری دستاویز میں بھی اس امر کا اعتراف کیا گیا ہے کہ:



"بیسویں صدی میں شرح مناکحت میں اضافہ کے باوجود پیدائش میں کمی ہی واقع ہوئی ہے پھر اس زمانہ میں صرف شرح مناکحت ہی نہیں بڑھی ہے بلکہ شادی کی عمر میں بھی کمی ہوئی ہے_١“

شرح پیدائش ہی میں کمی کا ایک مظہر خاندانوں کے اوسط افراد کی کمی ہے۔ مغربی ممالک میں خاندان کا سائز برابر چھوٹا ہوتا جارہا ہے اور اب بڑی تعدادان خاندانوں کی ہے جن میں کوئی اولاد نہیں یا زیادہ سے زیادہ ایک دو بچے ہیں۔ تحریک ضبط ولادت سے قبل اور بعد کے اعداد وشمار میں بڑا نمایاں فرق نظر آتا ہے۔


____________________________________________________________________________ بچوں کی تعداد مناکحت ____________________________________________________________________________ ۱۸۶۰ء ۱۹۲۵ء ____________________________________________________________________________ کوئی بچہ نہیں ٩ فیصد ١٧ فیصد ایا ۲ بچے ١١ فیصد ٥٠ فیصد ۳ یا ۴ بچے ١٧ فیصد ٢٢ فیصد ٥ سے ٩ بچے ٤٧ فیصد ١١ فیصد ٠ا یا اس سے زائد ١٦ فیصد - - ____________________________________________________________________________

اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اوسط خاندان مختصر ہو رہا ہے۔ ۷۹ ۔۱۸۷۰ء میں شادی شدہ عورتوں کےہاں اوسط فی کس ۵۶۸ بچے تھی۔ ۱۹۲۵ء میں یہ اوسط صرف ۲۶۲ رہ گیا _٣ اور تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ اوسط ۲ ۲۶ سے کچھ ہی زیادہ ہے۔




امریکہ میں اوسط اولا د فی کس ۱۹۱۰ء میں ۷ ہم بچےتھی،جو ۱۹۵۵ء میں صرف ۲۶۴ بچےرہ گئی١٩١٠ء میں بےاولاد عور تیں اور ایک یا دو بچےوالیاں کل شادی شدہ عورتوں کا ۱۰ اور ۲۲ فیصد تھیں،مگر ۱۹۵۵ء میں یہ تناسب علی الترتیب ۱۶ فیصد اور ۴۷ فیصد ہو گیا۔اس کے برعکس ۱۹۱۰ء میں وہ عورتیں جن کےلےیا اس سے زیادہ بچےتھےکل شادی شدہ عورتوں کا ۳۹ فیصد تھیں مگر ۱۹۵۵ء میں یہ تناسب صرف ۶ فیصد رہ گیا_٣

شرح پیدائش کی اس روز افزوں کمی کے باوجود ان ممالک کی آبادی میں جو تھوڑا بہت اضافہ ہو رہا ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ فن طب کی ترقی اور حفظان صحت کی وسیع تدابیر نے شرح اموات کو بھی بڑی حد تک گھٹا دیا ہے۔ لیکن اب شرح اموات اور شرح پیدائش میں تھوڑا ہی فرق رہ گیا ہے اور عام طور پر خوف کیا جارہا ہے کہ عنقریب شرح پیدائش ، شرح اموات سے کم ہو جائےگی، جس کے معنی یہ ہیں کہ ان قوموں میں جتنے آدمی پیدا ہوں گے ان سے زیادہ مرجائیں گے۔فرانس، بلیجیئم اور آسٹریا ان ممالک میں سے ہیں جن میں آبادی تھوڑے تھوڑے عرصے کےبعد بڑھنے کے بجائے الٹی گھٹتی رہی ہے۔ یہ ممالک اپنے سابقہ معیار تک کو برقرار نہیں رکھ سکےہیں۔ انگلستان کی آبادی بھی کم و بیش ٹھہری ہوئی ہے۔ دوسری جنگ عظیم سے پہلے امریکہ بھی اس مصیبت میں گرفتار ہو گیا تھا۔ آسٹریا میں ۱۹۳۵ء اور ۱۹۳۸ء کے درمیان اموات کی تعداد پیدائش سے زیادہ رہی۔ فرانس میں بھی ۱۹۳۵ء اور ۱۹۳۹ء کے درمیان اموات پیدائش سے زیادہ تھیں۔اگر اس زمانے میں کثرت سے بیرونی ممالک کے لوگ ہجرت کر کے فرانس میں آباد نہ ہوئےہوتے تو اس ملک کی آبادی میں نمایاں کمی واقع ہو جاتی ۔ چنانچہ ۳۶۔۱۹۳۴ء اور ۳۹۔ ۱۹۳۸ء میں فی الواقع آبادی کم ہو گئی تھی۔

امریکہ کی شہری آبادی کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ۱۹۵۰ء تک موجودہ نسل خود اپنی تعداد کے برابر نسل پیدا کرنے میں بھی ناکام رہی۔ اس وقت تک شرح پیدائش کا جو حال تھا اسےدیکھتے ہوئے اندازہ تھا کہ اگر یہ شرح نہ بڑھی تو ایک، پشت کے بعد آبادی میں ۲۵ فیصد کمی واقع ہو جائے گی۔


٢- (Preedman and Others, Family Planning. Sterility and Population Growth. p. 5.)

انگلستان میں آبادی کمیشن کی رپورٹ (۱۹۴۹ء) کے بقول ۱۹۴۵ء کے آخر میں یہ نوبت پہنچ گئی تھی کہ غیر جسمانی محنت کرنے والے اعلیٰ طبقات میں، جن کی شادی کو سولہ سے بین سال تک ہو چکے تھے ، فی خاندان بچوں کا اوسط ۶۸ ، ا تھا۔ یہ صورتحال صاف خبر دے رہی تھی کہ یہ طبقات آہستہ آہستہ ختم ہو جانے والے ہیں۔ اس سلسلہ میں ماہرین کا اندازہ یہ ہے:

" ایسی آبادی کیلئے جس میں دو بچوں کا رواج ہو یا جس میں بالآخر ہر شادی پر دو بچے زندہ رہیں، نیست و نابود ہو جانا مقدر ہے۔ ایسی آبادی نسلا بعد نسلاً کم ہوتی چلی جائے گی اور ہر میں سال کے بعد وہ پہلے سے کم ہو جائے گی۔“

مثال کے طور پر اس کو یوں سمجھئے کہ ایسے ہزار افراد جن میں دو بچوں کا رواج ہو، پہلے تمیں سال کے بعد صرف ۶۳۱ رہ جائیں گے۔ ۶۰ سال بعد ۶ ۳۸ اور ڈیڑھ سو برس بعد صرف ۹۲ _١

ماہرین معاشیات و شماریات آبادی کے صحیح رجحانات کا اندازہ کرنے کیلئے صرف شرح پیدائش ہی کو نہیں دیکھتے بلکہ ان تمام عوامل کا مطالعہ کر کے جو آبادی میں اضافے یا کمی کے موجب ہوتے ہیں ، خالص شرح افزائش آبادی (Net Reproduction Rate) نکال لیتے ہیں۔اگر یہ شرح (۱) ہے تو آبادی ٹھہری ہوئی ہے۔ اگر (۱) سے زیادہ ہے تو آبادی بڑھ رہی ہے اور اگر (1) سے کم ہے تو گھٹ رہی ہے۔ ذیل میں ہم چند اہم مغربی ممالک کی خالص شرح افزائش دےرہے ہیں جس سے ان کی صحیح حالت کا اندازہ ہو گا۔

____________________________________________________________________________ انگلستان ۱۹۳۳ء ٧٤٧ء ٠ ۱۹۳۵ء ٨٧٠ ء ٠ ۱۹۳۷ء ٧٧٥ ء ٠ ١٩٤٠ ء ٨٢٠ ء ٠ ١٩٤٠ ء ٧٨٢ء ٠ ١٩٥٤ء ٩٤٠ ء ٠ ١٩٤٩ ء ٩٠٩ ء ٠ ناروے ١٩٣٥ء ٧٤٦ ء ٠ بيلجيئم ١٩٣٩ء ٨٥٩ ء ٠ ١٩٤٠ء ٨٥٨ ء ٠ ١٩٤٧ ء ٠٠٢ء ١ ١٩٤٥ء ٠٧٥ ء ١ فرانس ١٩٣٠ء ٩٣٠ ء ٠ ____________________________________________________________________________


یہ حالات اہل فکر و نظر کے لیے بڑے پریشان کن ثابت ہورہے ہیں اور ان کے خطرناک اثرات دیکھ دیکھ کر بہت سے وہ مفکر بھی بوکھلا اٹھے ہیں جو بظاہر ضبط ولادت کے حامی ہیں۔ جب اپنے ہی لگائے ہوئے درختوں کے پھل ان کے سامنے آئے تو یہ حیران و ششدر رہ گئے اور اب کم از کم اپنے ملکوں کی حد تک یہ حضرات پالیسی کو تبدیل کرنے کے داعی ہیں۔ مثلاً ایک ماہر عمرانیات ان حالات کی بناء پر یہ رائے ظاہر کرتا ہے:

"اگر ہاتھس آج زندہ ہوتا تو وہ غالبا اس بات کو اچھی طرح محسوس کر لیتا کہ مغربی انسان نے پیدائش کو روکنے میں کچھ ضرورت سے زیادہ ہی دور اندیشی سے کام لیا ہے بلکہ کچی بات تو یہ ہے کہ اپنی تہذیب کے مستقبل کی فکر کرنے میں وہ بہت ہی کو تاہ نظر ثابت ہوا ہے۔“

"فرانس اور بیلجییم میں تو فی الواقع وقتا فوقتا آبادی کم ہوگئی ہے، کیونکہ اموات، پیدائش سے زیادہ تھیں لیکن مغربی ، صنعتی، شہری تہذیب کی باقی تمام ہی اقوام آبادی کم ہونے کے خطرہ سے دو چار ہیں۔خود امریکہ میں ماہرین آبادی نے ۴۰۔۱۹۳۰ء کے پیدائش و اموات کے رجحانات کا مطالعہ کر کے یہ کہ دیا تھا کہ ایک ہی نسل میں آبادی گھٹنے کا خطرہ حقیقت بن جائے گا_٢

معاشی نقطۂ نظر کو ایک مشہور ماہر معاشیات کی زبان سے سنیے :



“اگر ہم آبادی کی کمی کو قائم رکھنے کی حماقت کرتے ہیں تو ہم کو جان رکھنا چاہیے کہ تقلیل آبادی، جس سے ہم دو چار ہیں، بے روزگاری کےمسئلہ کا حل نہیں ہے اور نہ اس کی وجہ سے باقی ماندہ لوگوں کا معیار زندگی ہی بلند ہوتا ہے۔ اس کے معاشی اثرات لاز ما نا خوشگوار ہوں گے۔ اس لیے کہ اس کی وجہ سے آبادی میں بوڑھے لوگوں کا تناسب بڑھ جائے گا اور پیدا کار (Producers) ریٹائر ڈ لوگوں کو برسرکا ر کھنے مجبور ہوں گے۔ اور اگر خود پیدا کاروں میں بھی ایک بڑا طبقہ بڑی عمر کے لوگوں پر مشتمل ہو تو نظام پیداوار میں وہ ایک باقی نہیں رہ سکتی جو بدلتے ہوئے حالات اور نت نے تکنیک کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے۔ ہمیں آبادی کی کمی کو روکنے کے لیے ہر وہ طریقہ اختیار کرنا چاہیے جو ممکن ہو_١"


"ایک اور طریقہ جس سے ایک مُسرف اور او باش قوم کی زندگی کو کم کر دیا جاتا ہے، وہ شرح پیدائش کی کمی ہے۔ یہ قدرت کا قانون ہے کہ جو اقوام لذت پرستی اور جنسی آلودگی میں مبتلا ہوتی ہیں وہ افزائش اطفال سے غافل رہتی ہیں اور بچوں کو اپنی آبادی اور خوش فعلی کی راہ میں مانع تصور کرتی ہے۔ یہ رویہ پرستاران جنس کو مانع حمل ذرائع کے استعمال،اسقاط حمل اور اسی نوع کی دوسری تدابیر کے اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس قوم کی آبادی پہلے تو ساکن اور متغیر ہو جاتی ہے اور پھر کم ہونے لگتی ہے حتی کہ وہ اس مقام پر پہنچ جاتی ہے جہاں وہ اپنی بنیادی ضرورتیں تک پوری کرنے کے اہل نہیں رہتی۔ یعنی نہ وہ اپنے جدا گانہ تشخص کو قائم رکھ سکتی ہے اور نہ اپنے فطری (Natural) اور انسانی دشمنوں سے اپنے آپ کو بچا سکتی ہے۔ یہ خوشی ہے اور اسےاس بانجھ پن سے مزید مددملتی ہے جو آوارہ گردی اور بدفعلی کا فطری نتیجہ ہے۔ پھر ان دونوں کا نتیجہ یہ ہے کہ ایسی قوم کا عرصہ حیات مختصر ہو جاتا ہے۔ خودکشی کے اس طریقہ نے تاریخ انسانی میں بہت سے شاہی خاندانوں، دولت مند اور اونچے طبقوں اور اجتماعی گروہوں کو حیاتیاتی اور سماجی حیثیت سے نیست و نابود کر دیا ہے اور اسی کے ذریعہ سے بہت سی تو میں زوال و انحطاط کی شکار ہوئی ہیں_١"





"مستقبل کا مؤرخ، گزری ہوئی صدیوں کے جھروکے سے دیکھ کر اہل فرانس کے انیسویں صدی کے اوائل اور اہل برطانیہ کے انیسویں صدی کے اواخر کے اس فیصلے کو کہ وہ اپنی آبادی کے اضافہ کی رفتار کو روک لیں گے اور اس کے اس نتیجے کو کہ بحیثیت ایک عالمی طاقت کے ان ممالک کے سیاسی اثر و نفوذ میں انحطاط رونما ہوگا، ہمارے دور کے اہم ترین واقعات میں شمار کر یگا_٢"

یہ ایک مختصر سا جائزہ ہے ان نتائج کا جو ضیا ولادت کو ایک قومی پالیسی اور ایک اجتماعی تحریک کی حیثیت سے اختیار کرنے کی بدولت دنیا کے مختلف ملکوں میں رونما ہو چکے ہیں ۔ یہ نتائج آج ایک مکملی کتاب کی طرح ہر صاحب نظر کے سامنے ہیں۔ جن قوموں کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے، وہ تو اپنی بہار دیکھ چکی ہیں۔ اپنے پورے عروج کو پہنچ جانے کے بعد اب وہ سنت اللہ کے مطابق تنزل کی طرف جارہی ہیں، اور ان کے تنزل کا انتظام خود ان کے اپنے ہاتھوں کرایا جارہا ہے۔ مگر کوئی قوم جو ابھی ابھی نکبت کی حالت سے نکل کر ترقی کرنے کی خواہشمند ہو، کیا اس کے لیے یہ کوئی دانش مندانہ طرز عمل ہو گا کہ ترقی کیلئے اپنی سعی و جہد کا آغاز ہی وہ ان حماقتوں سے کرے جو دوسر کا قوموں نے بام عروج پر پہنچ کر کی ہیں؟


٢- روزنامه نائمنز لندن مورخه ۱۵ مارچ ۱۹۵۹ ، مقاله "چھوٹے خاندان" (Ton Small Families) از پروفیسور کولن کلارک ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ فار ریسرچ ان ایگری کلچرل یکو نومکس ، آکسفورڈ ۔

کتاب اسلام اور ضبط ولادت
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

birth-control