"زمین میں قابل سکونت جگہ محدود ہے، انسان کے لیے وسائل معاش بھی محدود ہیں، لیکن انسانی نسلوں میں افزائش کی قابلیت غیر محدود ہے۔زمین میں ایک اچھےمعیار زندگی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ پانچ ہزار ملین آدمی سما سکتے ہیں۔ اس وقت زمین کی آبادی تقریبا تین ہزار ملین تک پہنچ چکی ہے اور اگر حالات مناسب ہوں تو تمہیں سال کےاندر یہ آبادی دگنی ہو سکتی ہے۔ لہذا یہ اندیشہ بالکل بجا ہے کہ ۵۰ سال کے اندر زمین آدمیوں سے بھر جائے گی اور اس کے بعد نسلوں میں جو اضافہ ہو گا وہ اولاد آدمی کے معیار زندگی کو گراتا چلا جائے گا، یہاں تک کہ ان کے لیےبھلے آدمیوں کی طرح زندگی گزارنا مشکل ہو جائے گا۔ پس انسانیت کو اس خطرہ سے بچانے کے لیے تحدید نسل (Birth Limitation) کےطریقے اختیار کر کے نسلوں کی افزائش کو ایک حد مناسب کے اندر محدودکر دیا جائے۔"
یہ در اصل خدا کے انتظام پر نکتہ چینی ہے۔ جس بات کو یہ لوگ خود حساب لگا کر اس قدر آسانی کے ساتھ معلوم کر سکتے ہیں، ان کا گمان ہے کہ خدا اس سے بے خبر ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ اس کی زمین میں کس قدر گنجائش ہے اور اسے یہاں کتنے انسان پیدا کرنے چاہئیں جو اس میں سما سکتے
میں سے ہر ایک اپنے اندر ایک انسان بن جانے کی پوری استعداد رکھتا ہے، بشرطیکہ اسے کسی عورت کے بیضی خلیے (Egg Cell Oxum) میں داخل ہو جانے کا موقع مل جائے ۔ ان میں سے ہر جرثومہ آبائی خصوصیات اور انفرادی اوصاف کے ایک جداگانہ امتزاج کا حامل ہوتا ہے جس سے ایک منفرد شخصیت بن سکتی ہے۔ دوسری طرف ہر بالغ عورت کے خصیتین (Ovaries) میں تقریباً ۴ لاکھ نا پختہ انڈے موجود رہتے ہیں۔ مگر ان میں سے ایک طہر کی مدت میں صرف ایک انڈا پختہ ہو کر کسی وقت (بالعموم حیض کی آمد سے ۱۴ دن پہلے ) برآمد ہوتا ہے اور زیادہ سے زیادہ ۲۴ گھنٹے تک اس کے لیے تیار رہتا ہے کہ اگر مرد کا کوئی جرثومہ آکر اس میں داخل ہو جائے تو استقرار حمل واقع ہو جائے ۔ ۱۲ برس کی عمر سے ۴۸ برس کی عمر تک ۳۶ سال کی مدت میں ایک عورت کے خصیتین اوسطاً ۴۳۰ پختہ انڈے خارج کرتے ہیں جو بارو ر ہو سکتے ہیں۔ ان انڈوں میں سے بھی ہر ایک کے اندر سلسلہ مادری کی موروثی خصوصیات اور انفرادی اوصاف کا ایک جداگانہ احتراج ہوتا ہے جس سے ایک منفرد شخصیت وجود میں آسکتی ہے۔ مرد اور عورت کی ہر مواصلت کےموقع پر مرد کے جسم سے کروڑوں جرثومے نکل کر عورت کے انڈے کی تلاش میں دوڑ لگاتے ہیں، مگر یا تو وہاں انڈا موجود نہیں ہوتا یا وہ سب اس تک پہنچنے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح عورت کےہر طہر میں ایک وقت خاص پر ایک انڈا نکلتا ہے اور ایک شب و روز تک مردانہ جرثومے کا منتظر رہتا ہے۔ مگر اس دوران میں یا تو مواصلت ہی نہیں ہوتی ، یا ہوتی ہے تو کسی جرثومے کی رسائی اس انڈے تک نہیں ہوتی ۔ یوں بیسیوں مواصلتیں ، بلکہ بعض جوڑوں کی عمر بھر کی مواصلتیں بے نتیجہ گزر جاتی ہیں۔ مرد کے اربوں جرثومے ضائع ہوتے رہتے ہیں جب مرد کے ایک جرثومے کو عورت کے ایک انڈے کے اندر داخل ہونے کا موقع مل جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں استقرار تمل واقع ہوتا ہے۔
یہ ہے وہ نظام جس کے تحت انسان پیدا ہوتا ہے۔ اس نظام پر ایک سرسری نگاہ ڈال کر ہی آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ اس کے اندر ہماری منصوبہ بندی کے لیے کتنی گنجائش ہے۔ کسی ماں کسی باپ، کسی ڈاکٹر اور کسی حکومت کا اس امر کےفیصلےمیں ذرہ برابر بھی کوئی دخل نہیں ہے کہ ایک جوڑے کی بہت سی مواصلتوں میں سےکس مواصلت میں استقرار حمل واقع ہو۔مرد کے اربوں جرثوموں میں سے کس خاص جرثومے کو عورت کے سینکڑوں انڈوں میں سےکس انڈے کےساتھ لےجا کر ملایا جائےاور ان دونوں کےملاپ سےکس قسم کی شخصیت پیدا کی جائےفیصلہ کرنا تو در کنار کسی کو یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ فی الواقع کب تاریک عورت کے رحم میں استقرار حمل ہوا ہے اور اس میں کن اوصاف اور کس قابلیت کے انسان کی بنا ڈالی گئی ہے۔ یہ سب کچھ اس مدیر کےاشارے سےہوتا ہے جو انسانی ارادوں سے بالا تر ہے اور اس کارخانہ خلق و ایجاد کا سارا منصوبہ بلا شرکت غیرے بنا اور چلا رہا ہے۔وہی استقرار حمل کی ساعت مقرر کرتا ہے۔ وہی اس خاص جرثومے اور اس کے خاص انڈے کا انتخاب کرتا ہے جنہیں ایک دوسرے سے ملانا ہے۔ اور وہی یہ طے کرتا ہے کہ ان کے امتزاج سے لڑ کا پیدا کیا جائے یا لڑ کی صحیح و سالم انسان پیدا ہو یا ناقص الاعضاء، خوبصورت پیدا ہو یا بدصورت، ذہین پیدا ہو یا بلید، لائق پیدا ہو یا نالائق ، اس سارےمنصوبے میں جو کام انسان کے سپرد کیا گیا ہے وہ اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ مرد اور عورت اپنی فطرت کی مانگ پوری کرنے کے لیے باہم ملیں اور تناسل کی مشین کو بس حرکت دے دیں۔ اس کے بعد سب کچھ خالق کے اختیار میں ہے۔
انسانی آبادی کی حقیقی منصوبہ بندی دراصل تخلیق کا یہی نظام کر رہا ہے۔ آپ ذرا غور فرمائیں، ایک طرف آدمی کی قوت توالد و تناسل کا یہ حال ہے کہ ایک مرد کے جسم سے صرف ایک وقت میں جو نطفہ خارج ہوتا ہے وہ پاکستان کی آبادی سے کئی گنا زیادہ آبادی پیدا کر سکتا ہے ،لیکن دوسری طرف اس زبر دست قوت پیداوار کو کسی بالاتر اقتدار نے اتنا محدود کر رکھا ہے کہ ابتدائےآفرینش سے آج تک ہزار ہا سال کی مدت میں انسانی نسل صرف تین ارب کی تعداد تک پہنچ سکی ہے۔ آپ خود حساب لگا کر دیکھیں لیں۔ تین ہزار برس قبل مسیح سے اگر صرف ایک مرد و عورت کی اولاد کو طبیعی رفتار پر بڑھنے کا موقع مل جاتا اور وہ ہر ۳۰ سال یا ۳۵ سال میں دوگنی ہوتی چلی جاتی تو آج صرف ای ایک جوڑے کی اولا د اتنی بڑی تعداد میں ہوتی کہ اسے لکھنے کے لیے ۲۶ ہند سےدرکار ہوتے۔ سوال یہ ہے کہ نوع انسانی کی جو آبادی اس رفتار سے بڑھ سکتی تھی آخر خالق کے اپنےمنصوبے کے سوا اور کس کے منصوبے نے آج تک اس کو قابو میں رکھتا ہے؟ در حقیقت اس کا غالب منصو بہ انسان کو دنیا میں لایا ہے۔ وہی یہ طے کرتا ہے کہ کس وقت کتنے آدمی پیدا کرے اور کس رفتار سے آدم کی اولاد کو بڑھائے یا گھٹائے ۔ وہی ایک ایک شخص ، ایک ایک مرد اور ایک ایک عورت کےمتعلق یہ طے کرتا ہے کہ وہ کس شکل میں کن قوتوں اور استعدادوں کے ساتھ پیدا ہو، کن حالات میں پرورش پائے ، اور کتنا کچھ کام کرنےکا موقع اس کو دیا جائے۔وہی یہ طےکرتا ہے کہ کس وقت کس قوم میں کیسے آدمی پیدا کیے جائیں اور کیسے نہ کیے جائیں، کس قوم کو کتنا بڑھنے دیا جائے اور کہاں جا کر اسے روک دیا جائے یا پیچھے پھینک دیا جائے ۔ اس کی اس منصوبہ بندی کو نہ ہم سمجھ سکتےہیں، نہ ہم میں اسے معطل کر دینے کی طاقت ہے۔ ہم اس میں دخل انداز ہونے کی کوشش کریں گے بھی تو یہ اندھیرے میں تیر چلانے کا ہم معنی ہوگا، کیونکہ اس کارخانے کو جس عظیم حکمت کےساتھ چلایا جارہا ہے اس کے ظاہر کو بھی ہم پوری طرح نہیں دیکھ رہے ہیں، کجا کہ اس کے باطن تک ہماری نگاہ پہنچ سکے اور ہم سارے متعلقہ حقائق کو جان کر کوئی منصوبہ بناسکیں۔
ممکن ہے کوئی صاحب میری اس بات کو مذہبیت کی ایک ترنگ قرار دے کر نظر انداز کر دینے کی کوشش فرما ئیں،اور پورے زور کےساتھ یہ سوال پیش کر دیں کہ اپنی آبادی کو اپنی معیشت کی چادر کا طول و عرض دیکھ کر آخر ہم کیوں نہ خود متعین کریں، خصوصاً جب کہ خدا نے ہم کو ایسے علمی اور فی ذرائع دے دیئے ہیں جن سے ہم آبادی بڑھانے اور گھٹانے پر قادر ہو گئے ہیں؟ اس لیےاب میں ذرا وضاحت کے ساتھ یہ بتاؤں گا کہ آبادی کی پیدائش اور افزائش کےفطری انتظام میں ہماری مداخلت کےنتائج کیا ہو سکتےہیں اور عملاً جہاں یہ مداخلت کی گئی ہے وہاں کیا نتائج فی الواقع برآمد ہوئے ہیں۔
اس سلسلے میں پہلی بات جسے اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے، یہ ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی کےحق میں معاشیات کی بنیاد پر جتنے دلائل دیئے جاتے ہیں وہ درحقیقت خاندانی منصوبہ بندی (Family Planning) کا نہیں بلکہ آبادی کی منصوبہ بندی( Population Planning )کا تقاضا کرتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، ان دلائل کا اقتضا یہ ہے کہ ہم ایک طرف اپنے ملک کے وسائل معیشت کا ٹھیک ٹھیک حساب لگائیں اور دوسری طرف یہ طے کریں کہ ان وسائل کے تناسب سے اس ملک کی آبادی اتنی ہونی چاہیے اور اس رفتار سے اس میں مرنے والوں کی جگہ نئے آدمی آنے چاہئیں۔ لیکن فی الواقع اس طرح کی منصوبہ بندی اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک نکاح اور خاندان کے اداروں کو بالکل ختم کر کے تمام مردوں اور تمام عورتوں کو حکومت کا مزدور نہ بنا لیا جائے، اور ایسا انتظام نہ کر دیا جائے کہ دونوں صنفوں کے ان مزدوروں کو ایک مقرر منصوبے کے تحت صرف پیدا آوری (Production) کے لیے سرکاری ڈیوٹی کے طور پر ایک دوسرے سے ملایا جاتا رہے اور مطلوبہ تعداد میں عورتوں کے حاملہ ہو جانےکے بعد ان کو ایک دوسرےسےالگ کر دیا جایا کرے۔ یا پھر یہ منصوبہ بندی اس صورت میں ہوسکتی ہےکہ عورتوں اور مردوں کی براہ راست مواصلت بالکل ممنوع ٹھہرا دی جائے ،خون کے بینکوں کی طرح منی بینک قائم کر دیئے جائیں، اور پچکاریوں کے ذریعہ سے گائے بھینسوں اور گھوڑیوں کی طرح عورتوں کو بھی ایک مخصوص طے شدہ تعداد میں گیا بھن کیا جاتا رہے۔ ان دو صورتوں کےسوا کوئی تیسری صورت ایسی نہیں ہو سکتی جس سے ایک منصوبے کے مطابق ملک کے وسائل معیشت اور اس کی آبادی کے درمیان توازن قائم کیا جاسکے۔
چونکہ انسان ابھی تک اس تنزل کے لیے تیار نہیں ہے، اس لیے مجبوراً آبادی کی منصوبہ بندی کی بجائے خاندانی منصوبہ بندی کا طریقہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ یعنی یہ کہ آدمی کے بچے پیدا تو انہی چھوٹے چھوٹے آزاد کارخانوں میں ہوں جن کا نام "گھر“ ہے اور ان کی پیدائش کا انتظام بھی صرف ایک ایک ماں اور ایک ایک باپ کے ہاتھوں ہی میں رہے، لیکن ان آزاد کارخانہ داروں کو اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ بطور خود پیداوار کم کردیں۔
اس بحث کے بعد میرے لیے یہ بتانا بہت آسان ہو گیا ہے کہ جس دین فطرت کے ہم پیرو ہیں وہ اس مسئلے میں ہماری کیا رہنمائی کرتا ہےعام طور پر ضبط ولادت کےحامی حضرات جن احادیث سےعزل (Coitus Interruptus) کا جواز نکال کر دکھاتے ہیں وہ اس امر واقعہ کو نظر انداز کر جاتے ہیں کہ احادیث کے پس منظر میں تحدید نسل کی کوئی عام تحریک موجود نہ تھی۔اس زمانےمیں سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کےسامنےکوئی شخص یہ فتوئی پوچھنے کےلیےنہیں گیا تھا کہ حضور ہم ایسی کوئی تحریک چلا سکتے ہیں یا نہیں بلکہ وہاں تو مختلف اوقات میں بعض افراد نے محض اپنے انفرادی حالات پیش کر کے یہ دریافت کیا تھا کہ اس صورت حال میں ایک مسلمان کے لیے عزل کرنا جائز ہے یا نہیں۔ ان متفرق سائلوں کو حضور نے جو جوابات دیے تھےان میں سے بعض میں آپ نے اس سے منع فرمایا، بعض میں اسے ایک فضول حرکت قرار دیا، اور آپ کے بعض جوابات سے یا آپ کےسکوت سے جواز کا پہلو بھی نکلتا ہے۔ ان مختلف جوابات میں سے اگر صرف انہی جوابات کو چھانٹ لیا جائے جو جواز پر دلالت کرتے ہیں، تب بھی ان کو بس انفرادی ضبط ولادت ہی کے لیے دلیل بنایا جا سکتا ہے۔ اس کی بنیاد پر ایک عمومی تحریک جاری کر دینے کا جواز ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ یہ بات میں ابھی آپ سےعرض کر چکا ہوں کہ انفرادی ضبط ولادت ہی کےلیے دلیل بنایا جا سکتا ہے۔ اس کی بنیاد پر ایک عمومی تحریک جاری کر دینے کا جواز ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ یہ بات میں ابھی آپ سے عرض کر چکا ہوں کہ انفرادی ضبط ولادت اور اس کی اجتماعی تحریک میں کتنا عظیم فرق ہے۔ اس فرق کو فراموش کر کے ایک کے جواز کو دوسرے کےجواز کی دلیل بنانا قیاس مع الفارق ہے۔
رہی تحدید نسل کی اجتماعی تحریک ، تو اس کی بنیادی فکر سے لے کر اس کے طریق کار تک اور اس کے عملی نتائج تک، ہر چیز اسلام سے قطعی طور پر متصادم ہے۔ اس کی بنیادی فکر آخر اس کے سوا کیا ہے کہ آبادی بڑھے گی تو رزق کم ہو جائے گا اور جینے کے لالے پڑ جائیں گے۔ لیکن قرآن سرے سے اس انداز فکر ہی کو غلط قرار دیتا ہے۔ وہ بار بار مختلف طریقوں سے یہ بات انسان کےذہن نشین کرتا ہے کہ رزق دینا اس کی ذمہ داری ہے جس نے پیدا کیا ہے۔ وہ تخلیق کا کام اندھا دھند طریقے سے نہیں کر رہا ہے کہ آنکھیں بند کر کے بس پیدا کرتا چلا جائے اور یہ نہ دیکھے کہ جس زمین میں وہ اس مخلوق کو لا لا کر ڈال رہا ہے یہاں اس کی روزی کا سامان بھی ہے یا نہیں۔ یہ کام اس نے کسی اور پر نہیں چھوڑا ہے کہ پیدا تو وہ کر دے اور رزق رسانی کی فکر کوئی دوسرا کرے۔ وہ محض خالق ہی نہیں، رازق بھی ہے اور اپنے کام کو وہ خود زیادہ جانتا ہے۔ اس مضمون کو اس کثرت سے قرآن میں بیان کیا گیا ہے کہ اگر میں اس سلسلے کی ساری آیات آپ کو سناؤں تو بات لمبی ہو جائے گی۔ میں یہاں صرف نمونے کی چند آیات پیش کرتا ہوں:
"آسمانوں اور زمین کے خزانے اس کے اختیار میں ہیں، جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔“
"اور ہم نے زمین میں تمہارے لیے بھی معیشت کا سامان فراہم کیا ہے اور ان دوسروں کے لیے بھی جن کے رازق تم نہیں ہو۔ کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں۔ اور ہم ( ان خزانوں میں سے ) جو چیز بھی نازل کرتے ہیں ایک سوچے سمجھے اندازے سےنازل کرتے ہیں۔“
ان حقائق کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ انسان کے ذمے جو کام ڈالتا ہے وہ یہ ہے کہ اس کے ان خزانوں سے وہ اپنا رزق تلاش کرنے کی سعی کرے۔ بالفاظ دیگر رزق دینا اللہ کا کام ہے اور ڈھونڈ نا انسان کا کام:
اسی بنیاد پر قرآن متعدد مقامات پر ان لوگوں کو ملامت کرتا ہے جو زمانہ جاہلیت میں رزق کی کمی کے اندیشے سے اپنی اولاد کو قتل کر دیتے تھے۔
ان آیات میں ملامت ایک ہی غلطی پر نہیں ہے بلکہ دو غلطیوں پر ہے۔ ایک غلطی یہ کہ وہ اپنی اولاد کو قتل کر دیتے تھے اور دوسری غلطی یہ کہ وہ اولاد کی پیدائش کو اپنے لیے مفلسی کا سبب سمجھتےتھےاس لیے دوسری غلطی کی اصلاح یہ کہہ کر فرمائی گئی کہ آنے والے انسانوں کی رزق رسانی کا ذمہ دار تم نے اپنے آپ کو کیوں سمجھ لیا ہے، تم کو بھی ہم رزق دیتے ہیں ، ان کا رزق بھی ہمارے ہی ذمہ ہے۔ اب اگر افزائش نسل کو روکنے کے لیے بچوں کو قتل نہ کیا جائے بلکہ ایسے ذرائع استعمال کیسےجانے لگیں جن سے استقرار مل ہی نہ ہونے پائے تو یہ صرف پہلی غلطی سے اجتناب ہوگا۔ دوسری غلطی پھر بھی باقی رہ جائے گی جبکہ معیشت کے تنگ ہو جانے کا خطرہ ہی اولاد کی پیدائش روکنے کا اصل محرک ہو۔
یہ تو ہے قرآن کا نقطہ نظر اس انداز فکر کے بارے میں جس کی بناء پر تحدید نسل کا خیال دنیا میں پہلے بھی پیدا ہوتا رہا ہے اور آج بھی پیدا ہورہا ہے۔ اب ان نتائج پر ایک نگاہ ڈالیے جو اس تخیل کو ایک اجتماعی تحریک کی شکل دینے سے لا ز ما رونما ہوتے ہیں اور خود غور کیجئے کہ کیا دین اسلام ان میں سے کسی نتیجے کو بھی گوارا کر سکتا ہے۔ جو دین زنا کو بدترین اخلاقی جرم سمجھتا ہو اور اس کےجس کے پھیلنےسے معاشرے میں اس فعل شنیع کی وبا پھوٹ پڑنے کا خطرہ ہو؟ جو دین انسانی معاشرے میں صلہ رحمی اور ایثار و ہمدردی کے اوصاف کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتا ہے، کیا آپ امید رکھتے ہیں کہ وہ اس خود غرضانہ ذہنیت کے نشو و نما کو برداشت کرے گا جو تحدید نسل کی تبلیغ سے لازماً پیدا ہوتی ہے؟ پھر جس دین کو امت مسلمہ کی سلامتی سب سے بڑھ کر عزیز ہے، کیا آپ یہ گمان کر سکتے ہیں کہ وہ کسی ایسی تحریک کو برداشت کرلے گا جس کی بدولت کثیر التعداد دشمنوں کے درمیان گھرے ہوئے مٹھی بھر مسلمانوں کی تعداد اور بھی کم ہو جائے اور ان کا دفاع خطرے میں پڑ جائے ۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب عقل عام (Common Sense) خود دے سکتی ہے۔ ان کیلئے آیات اور احادیث لانے کی حاجت نہیں ہے۔
| کتاب | اسلام اور ضبط ولادت |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |