ان حالات نے تمام مغربی قوموں کے دور اندیش لوگوں میں اضطراب پیدا کر دیا ہے۔مفکرین ان پر بے چینی اور بے اطمینانی کا اظہار کر رہے ہیں اور مدبرین اور اہل سیاست اس روش کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہر ملک میں آبادی کے مسئلہ پر کچھ نئے رجحانات ابھر رہے ہیں، کچھ نئی تحریکات رونما ہوئی ہیں اور ہورہی ہیں اور عملی مسلک بھی آہستہ آہستہ تبدیل ہونے لگا ہے۔یہاں ہم مختصر یہ بتائیں گے کہ مختلف ممالک میں ان حالات کا رد عمل کیا ہوا ہے۔
پہلی جنگ عظیم کےزمانہ (۱۹۱۶ء) میں ایک نیشنل ہرتھ ریٹ کمیشن مقرر کیا گیا جس میں۔طب، معاشیات، سائنس، عددیات (Statistics) تعلیم اور دینیات کے ۲۳ ماہرین وغیرہ شریک کیے گئے ۔ حکومت کی جانب سے ڈاکٹر اسٹیونسن (Stevenson) مہتم عددیات اور سرآرتھر نیوز ہوم (Newshome) پرنسپل میڈیکل آفیسر اس میں شریک ہوئے۔ اس کمیشن کی طرف سے متعد در پور میں شائع ہوئیں جن میں سے ایک رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ:
"برطانیہ کو اپنی شرح پیدائش کی روز افزوں کی پر نهایت درجه تشویش کی نظر کرنی چاہیے اور اس کمی کو روکنے اور حتی الوسع زیادتی کی طرف لے جانے کے لیے ایسی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں جو اس کےامکان میں ہوں۔“
سرولیم بیورج (Beveridge) لندن اسکول آف اکنامکس کے ڈائریکٹر نے اپنی ایک نشری تقریر میں کہا کہ اموات اور پیدائش کا تناسب اگر اسی رفتار سے بگڑتا رہا تو آئندہ دس سال میں انگلستان کی آبادی گھٹنی شروع ہو جائے گی اور ۳۰ سال کے اندر ۲۰ لاکھ کی کمی واقع ہوگی۔ قریب قریب یہی رائےپور پول یونیورسٹی کے پروفیسر کار سانڈرس کی تھی۔ اس خطرے کو دُور کرنے کے لیے ضبط ولادت کے خلاف تحریک شروع ہوئی اور جمعیت حیات قومی ( League of National Life ) کے نام سے ایک انجمن قائم کی گئی جس میں ممتاز مرد اور خواتین نے شرکت کی۔
دوسری جنگ عظیم میں برطانوی مدبرین نے پھر آبادی کی کمی کے نقصانات کو شدت کے ساتھ محسوس کیا۔ چنانچہ ۱۹۴۳ء میں برطانیہ کے وزیر داخلہ (Home Secretary) برطانیہ کو اپنا موجودہ معیار قائم رکھتا ہے اور آئندہ ترقی کی راہ استوار رکھنی ہے تو ہر گھر میں ۲۵ فیصدی کا اضافہ ہونا چاہیے۔ اس وقت ملک کے عام اہل فکر کا یہ احساس تھا کہ اگر انگلستان کو زندہ رہنا ہے تو اسے اپنے تحفظ کے لیے آبادی کے معاملہ میں ایک نئی اور موثر پالیسی اختیار کرنی ہوگی اور شرح پیدائش کی کمی کو فور اردو کنا پڑے گا۔ اس مقصد کے لیے مارچ ۱۹۴۴ء میں ایک رائل کمیشن قائم کیا گیا تا کہ وہ مسئلہ کے تمام پہلوؤں کا مطالعہ کر کے تجویز کرے کہ مستقبل میں قومی مفاد کی خاطر آبادی کے رُجحان کو متاثر کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں ۔‘ اس کمیشن نے مارچ ۱۹۴۹ء میں اپنی رپورٹ پیش کی اور اس میں و اشگاف یہ حقیقت بیان کر دی کہ:
اس رپورٹ میں کمیشن نے پوری تفصیل کے ساتھ بتایا ہے کہ انیسویں اور بیسویں صدی کے معاشی، سماجی اور تمدنی حالات نے بڑے خاندان کو معاشی بار بنادیا اور فیکٹری ایکٹ اور تعلیمی ان کے ساتھ مل کر گھر میں زیادہ بچوں کے وجود کو بالی خسارہ کا باعث بنادیا اور لوگوں نے ضبط تولید کےذریعہ سےخاندان کو مختصر رکھنے کی پالیسی اختیار کر لی۔ اس کے بعد کمیشن نے اس غرض کے لیےتفصیلی سفارشات پیش کی ہیں کہ گھر میں بچے معاشی بوجھ نہ بنیں اور باپ بننا ایک مالی مصیبت مول لینے کا ہم معنی نہ بن جائے ۔ کمیشن کی سفارشات یہ ہیں:
انکم ٹیکس کے قانون کو تبدیل کیا جائے۔ صاحب اولا دلوگوں پر کم ٹیکس عائد کیا جائے اور غیر شادی شدہ لوگوں سے زیادہ ٹیکس لیا جائے۔
وسیع پیمانے پر ایسے گھر تعمیر کیے جائیں جن میں تین سے زیادہ سونے کے کمرے ہوں۔صحت اور سماجی فلاح کی اسکیمیں جن کے ذریعہ بڑے خاندان کے فروغ میں مدد ملے۔
اس سلسلے میں کمیشن یہاں تک بڑھ گیا کہ اس نے آبادی بڑھانے کے لیے مصنوعی ذرائع تولید (Artificial Insemination) جیسے مکروہ اور شفیع طریقے اختیار کرنے کی بھی سفارش کر دی۔
ان سفارشات پر غور کرنے کے بعد انگلستان کے قوانین اور معاشرتی پالیسی میں اہم تبدیلیاں کی گئیں۔ اب وہاں بچوں کے لیے الاؤنس ، زچگی کے زمانے کے لیے چھٹی اور خصوصی الاؤنس اور تعلیم، صحت، مکان وغیرہ کی سہولتیں دی جارہی ہیں تا کہ لوگ زیادہ بچے پیدا کرنے سےنہ گھبرائیں۔ چنانچہ اس کے اثرات ظاہر ہونے لگے ہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اب شرح پیدائش اور آبادی میں اضافہ کی رفتار بتدریج بڑھ رہی ہے۔ ۱۹۳۱ء اور ۱۹۴۱ء کے درمیان اوسط شرح پیدائش ۱۳٫۸ فی ہزار تھی۔ ۱۹۳۱ ء اور ۱۹۵۱ء کے درمیان ۱۷٫۴ ہو گئی ۔ سالانہ اضافہ آبادی ۴۱۔ ۱۹۳۱ء کے درمیان اوسطاً ۱۰۷۰۰۰ تھا۔ ۶۰ ۔ ۱۹۵۱ء کے درمیان یہ ۲۵۰۰۰۰ ہو گیا۔ حالیہ مردم شماری کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بر طانیہ کی آبادی میں پچھلے دس سال کے اندر جو اضافہ ہوا ہے وہ گزشتہ نصف صدی میں سب سے زیادہ تیز رفتار ہے۔
حکومت کو اس خطرے کا احساس ہو گیا ہے کہ شرح پیدائش کا زوال فرانسیسی قوم کا زوال ہے۔ فرانس کے اہل بصیرت محسوس کر رہےہیں کہ اگر ای رفتار سے ان کی آبادی گھٹتی رہی تو ایک روز فرانسیسی قوم صفہ ہستی سےمٹ جائےگی۔ مردم شماری کی رپورٹوں سےمعلوم ہوتا ہے کہ 1911ء کےمقابلہ میں ۱۹۲۱ء میں فرانس کی آبادی ۲۱ لاکھ کم ہو گئی ۔ ۱۹۲۶ء میں ۱۵لاکھ کا اضافہ ہوا لیکن وہ زیادہ تر غیر ملکی لوگوں کی درآمد کا نتیجہ تھا۔ فرانس میں اجنبی قوموں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے یہاں تک کہ آبادی کا ۲ ۷۶ فیصدی حصہ اجنبی ہے۔ یہ فرانسیسی قوم کیلئے اور بھی زیادہ خطرناک ہے،کیونکہ قوم پرستی کے موجودہ دور میں اجنبی آبادی کا بڑھنا اور وطنی آبادی کا گھٹنا قومی زندگی کے لیےتباہی کا پیش خیمہ ہے۔ فرانس میں ایک زبر دست تحریک قومی اتحاد برائے افزائش آبادی (National Alliance for the Increase of Population) کے نام سے اس خطرہ کا مقابلہ کرنے کے لیے شروع ہوگئی ہے۔ حکومت نے ضبط ولادت کی تعلیم اور نشر و اشاعت کو قانونا ممنوع قرار دیا ہے۔ ضبط ولادت کے حق میں خفیہ یا اعلانیہ کوئی تقریر تجریر، یا مشورہ نہیں ہو سکتا حتی کہ ڈاکٹروں تک کے لیے پابندی ہے کہ وہ کوئی ایسا کام کھلےیا چھپے نہ کریں جو ضبط ولادت پر منتج ہوسکتا ہو ۔آبادی بڑھانے کے لیے تقریبا ایک درجن قوانین نافذ کیے گئے ہیں جن کی رو سےزیادہ بچے پیدا کرنے والے خاندانوں کو مالی امداد دی جاتی ہے ٹیکس میں کمی کی جاتی ہے ہمنوا ہیں. مزدوریاں اور پختیں زیادہ دی جاتی ہیں، ان کے لیے ریل کے کرائےکم کیےجاتے ہیں حتی کہ انہیں تمغے تک دیئے جاتے ہیں۔ دوسری طرف شادی نہ کرنے والوں یا بچے نہ رکھنے والے جوڑوں پر (Surtas) لگایا جاتا ہے۔ گویا بعد از خرابی بسیار اب فرانسیسی قوم کی آنکھ کھلی ہے اور وہ اس گناہ کا کفارہ ادا کر رہی ہے جو اس نے قوانین فطرت سے انحراف کر کے ضبط ولادت کی صورت میں کیا تھا۔
سال شرح پیدائش فی ہزار ٤٠ - ١٩٣٦ء ٥ ء١٤ ٤٥ - ١٩٤١ء ١ ء ١٥ ١٩٤٦ء ٦ ء٢٠ ١٩٤٧ء ٠ ء٢٠ ١٩٥٨ء ٢ ء١٨
نازی جماعت نے بر سر اقتدار آنے کے بعد آبادی کے بڑھتے ہوئے زوال کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا اور اس کے تدارک کی کوشش کی ۔ ایک نازی اخبار نے لکھا ہے کہ:
"اگر ہماری شرح پیدائش اسی طرح گھٹی رہی تو خوف ہے کہ ایک وقت ہماری قوم بالکل بانجھ ہو جائے گی اور موجودہ نسل کے کاموں کو سنبھالنے کے لیے نئی نسلیں اٹھنی بند ہو جائیں گی۔"
اس حالت کی اصلاح کیلئے حکومت نے ضبط ولادت کی تعلیم وتر و پیج کو قانو نا روک دیا،عورتوں کو کارخانوں اور دفتروں سے خارج کرنا شروع کر دیا، نوجوانوں کو نکاح کی طرف رغبت دلانے کیلئے قرضہ شادی (Marrage Loan) کے نام سے رقمیں دیں، بن بیاہوں اور بے اولادوں پر ٹیکس لگائے، اور زیادہ بچے پیدا کرنے والوں پر ٹیکس کم کر دیئے ۔۱۹۳۴ء میں ایک کروڑ پونڈ کے قرضہ ہائے شادی دیئے گئے جن سے ۶ لاکھ مردوں اور عورتوں نے فائدہ اٹھایا۔ ۱۹۳۵ء کے لئے قانون کی رو سے لے کیا گیا کہ ایک بچہ پیدا ہونے پر انکم ٹیکس میں ۱۵ فیصدی ۲۰ بچوں پر ۳۵ فیصدی ۱۲۰ ر ۵۵ فیصدی ۴۰ پر ۷۵ فیصدی ، ۵ پر ۹۵ فی صدی کمی کی جائے اور جب ۶ بچے ہو جائیں تو پورا انکم ٹیکس معاف کر دیا جائے ۔ ان تدابیر کی وجہ سے نازی جرمنی میں شرح پیدائش فوراً برائی شروع ہو گئی۔ ۳۵-۱۹۳۱ء میں شرح ۱۶۰۶ فی ہزار تھی۔ ۴۰ ۱۹۳۶ء میں بڑھ کر ۶ ۱۹۰ فی ہزار ہوگئی۔
مسولینی کی حکومت نے ۱۹۳۳ء کے بعد سے آبادی بڑھانے کی طرف خاص توجہ شروع کر دی۔ ضبط ولادت کی نشر و اشاعت قانونا ممنوع کر دی گئی۔ نکاح اور تناسل کی ترغیب کیلئے وہ تمام تدابیر اختیار کی گئیں جو جر منی اور فرانس کے حالات میں بیان کی گئی ہیں۔ اٹلی کے قانون میں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ ہر وہ فعل یا تقریر یا پرو پیگنڈا جو ضبط ولادت کے حق میں ہو جرم قابل دست اندازی پولیس ہے اور اس کے مرتکب کو ایک سال کی قید اور جرمانہ یا دونوں کی سزادی جاسکتی ہے۔ عام حالت میں یہ قانون ڈاکٹروں پر بھی نافذ ہوتا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے سویڈن کے ایک سابق وزیر ٹرائی گر (Trigger) نے پارلیمنٹ (Ricksdag) میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر سویڈش قوم خودکشی نہیں کرنا چاہتی تو شرح پیدائش کی روز افزوں کمی کو روکنے کیلئے فوری تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ۱۹۲۱ء سے شرح پیدائش کی کمی خوفناک ہو گئی ہے اور آبادی میں اضافہ بند ہو گیا ہے۔“ اس تنبیہہ کا یہ اثر ہوا کہ سویڈش پارلیمنٹ نے مئی ۱۹۳۵ء میں ایک کمیشن مقرر کیا جس نے اپنی تعظیم رپورٹوں کے ذریعہ ایک نئی پالیسی تجویز کی ۔ کمیشن نے خاندان کے سائز کو بڑھانے کا مشورہ دیا اور ہر خاندان کیلئےتین یا چار بچوں کی تعداد تجویز کی۔ اس کمیشن کی سفارشات پر جو اہم اقدامات کیے گئے وہ یہ ہیں:
تین یا تین سے زیادہ بچوں کی صورت میں تدریجی سالانہ ری بیٹ (Rebate)۔ تحفظ صحت - - - خصوصاً بچوں کی صحت کے لیے دست نت دونوں کی فرا ہمی _١
سال شرح پیدائش فی ہزار ۱۹۳۵ء۔۱۹۳۱ء ١ ء ١٨ ۱۹۴۰ء۱۹۳۶ء ٧ ء ١٨ ۱۹۴۴ء۔ ۱۹۴۱ء ٧ ء ١٩
اب آپ برتھ کنٹرول سے کافی روشناس ہو چکے ہیں ۔ آپ کو معلوم ہو چکا ہے کہ اس تحریک کی حقیقت کیا ہے؟ کن وجوہ سے پیدا ہوئی ؟ کن اسباب سے اس نے ترقی کی؟ جن ممالک میں رائج ہوئی وہاں اس کے کیا نتائج رونما ہوئے ؟ اور جنہوں نے اس کا اچھی طرح تجربہ کر لیا ہے اور وہ اب اس کو کس نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ اس کے بعد ہمیں امید ہے کہ برتھ کنٹرول کے متعلق اسلام کا موقف زیادہ آسانی کے ساتھ آپ کی سمجھ میں آجائے گا، زیادہ گہرائی کے ساتھ ذہن نشین ہو گا اور اس کی مصلحتیں زیادہ روشنی کے ساتھ آپ پر واضح ہوں گی۔
| کتاب | اسلام اور ضبط ولادت |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |