اسلام اور ضبط ولادت

تحریک ضبط ولادت کا مقصد اور پس منظر

ضبط ولادت کا اصل مقصد نسل کی افزائش کو روکنا ہے۔ قدیم زمانے میں اس کیلئے عزل، اسقاط حمل قبل اولا د اور برہم چرج ( یعنی ضبط نفس، خواہ وہ تجرد کی شکل میں ہو یا مقاربت سے پر ہیز کی شکل میں) کے طریقے اختیار کیے جائے تھے۔ آج کل مؤخر الذکر دونوں طریقوں کو ترک کر دیا گیا ہے اور ان کے بجائے پر طریقہ ایجاد ہوا ہے کہ مقاربت تو کی جائے مگر دواؤں یا آلات کے ذریعہ سے استقرار حمل کو روک دیا جائے۔ اسقاط حمل کا طریقہ بھی کثرت کے ساتھ یورپ اور امریکہ میں رائج ہے۔ لیکن برتھ کنٹرول کی تحریک صرف مانع حمل تدابیر پر زور دیتی ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ ان تدابیر کا علم اس قدر عام کر دیا جائے اور ان کے ذرائع اس کثرت کے ساتھ فراہم کیے جائیں کہ ہر بالغ مرد و عورت ان سے فائدہ اٹھا سکے۔

تحریک کی ابتداء:

یورپ میں اس تحریک کی ابتداء اٹھارھویں صدی عیسوی کے اواخر میں ہوئی۔ اس کا پہلا محرک غالباً انگلستان کا مشہور ماہر معاشیات مالتھوس (Malthaus) تھا۔ اس کے عہد میں انگریزی قوم کی روز افزوں خوشحالی کے سبب سے انگلستان کی آبادی تیزی کے ساتھ بڑھنی شروع ہوئی۔ آبادی کی اس تو غیر کو دیکھ کر اس نے حساب لگایا کہ زمین پر قابل سکونت جگہ محدود ہے، اور اسی طرح معیشت کے وسائل بھی محدود ہیں، لیکن نسل کی افزائش غیر محدود ہے۔ اگر نسل اپنی فطری رفتار کیساتھ بڑھتی رہے تو زمین اس کیلئے تنگ ہو جائے گی ، وسائل معاش کفایت نہ کر سکیں گے اور افزائش نسل کے ساتھ معیار زندگی پست ہوتا چلا جائے گا۔ لہذانسل انسانی کی خوش حالی ،آسائش اور فلاح و بہبود کیلئے ضروری ہے کہ اس کی افزائش، وسائل معاش کی وسعت کے ساتھ متناسب رہے اور اس سے آگے نہ بڑھنے پائے۔ اس غرض کیلئے اس نے برہم چرج کے قدیم طریقے کو رائج کرنے کا مشورہ دیا۔ یعنی بڑی عمر میں شادی کی جائے اور ازدواجی زندگی میں ضبط نفس سے کیا لیا جائے۔ یہ خیالات پہلی مرتبہ (۱۷۹ء میں اس نے اپنے ایک رسالہ ” آبادی اور معاشرے کی آئندہ ترقی پر اس کے اثرات( An Essay on Population and as it effects the furure Improvement of Society) میں پیش کیے تھے۔

اس کے بعد فرانسس پلاس (Francis Place) نے فرانس میں افزائش نسل کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔ مگر اس نے اخلاقی ذرائع کو چھوڑ کر دواؤں اور آلات کے ذریعہ سے منع حمل کی تجویز پیش کی۔ اس رائے کی تائید میں امریکہ کے ایک مشہور ڈاکٹر چارلس نوٹن( Charles Knowlton)نے ۱۸۳۳ء میں آواز بلند کی۔ اس کی کتاب ” ثمرات فلسفه“ ( The Fruits of Philosophy) غالباً پہلی کتاب ہے جس میں منع حمل کے طبی طریقوں کی تشریح کی گئی تھی اور ان کے فوائد پر زور دیا گیا تھا۔

ابتدائی تحریک کی ناکامی اور اس کا سبب:

ابتداء میں اہل مغرب نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ کی، اس لیے کہ نظر یہ اصلاً غلط تھا۔ ما تھوس حساب لگا کر یہ تو دیکھ سکتا تھا کہ آبادی کسی رفتار سے بڑھتی ہے، لیکن اس کے پاس یہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہ تھا کہ وسائل معاش کس رفتار سے بڑھتے ہیں اور زمین میں قدرت کے کتنے خزانے پوشیدہ ہیں جو علم کی ترقی عقل کی کار فرمائی اور عمل کی قوت سے نکلتے چلے آئے ہیں اور انسان کے وسائل معاش میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ اس کا تصور معاشی ترقی کے ان امکانات تک پہنچ ہی نہ سکتا تھا جو اس کی نگاہ سے پوشیدہ تھے اور اس کے بعد قوت سےفعل میں آئے۔انیسویں صدی کے ربع آخر تک یورپ کی آبادی تیزی کے ساتھ بڑھتی رہی، یہاں تک کہ ۷۵ سال کےاندر قریب قریب دو گنی ہوگئی۔خصوصاً انگلستان کی آبادی میں تو حیرت انگیز اضافہ ہوا جس کی مثال نسل انسانی کی پچھلی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ۱۷۷۹ء میں اس ملک کی آبادی ۲ ملین تھی۔۱۸۹۰ء میں ۳۸ ملین تک پہنچ گئی ۔ لیکن اس اضافہ کے ساتھ معاشی وسائل میں بھی زبردست ترقی ہوئی۔ صنعت و تجارت میں یہ ممالک تمام دنیا کے اجارہ دار بن گئے۔ ان کی زندگی کا انحصار خود اپنی زمین کی پیداوار پر نہ رہا بلکہ وہ اپنی مصنوعات کے معاوضہ میں دوسرے ممالک سے سامان غذا حاصل کرنے لگے اور نسل کی زبر دست افزائش کے باوجود ان کو کبھی یہ محسوس نہ ہوا کہ زمین ان کی بڑھتی ہوئی نسلوں کیلئے تنگ ہوگئی ہے، یا قدرت کے خزانے ان کی افزائش نسل کا ساتھ دینے سےانکار کر رہے ہیں۔

جدید تحریک:

انیسویں صدی کے ربع آخر میں ایک نئی تحریک اٹھی جو نومالتھوی تحریک (Neo-Malthusin Movement) کہلاتی ہے۔۱۸۷۲ء مسز اپنی بیسنٹ اور چارلیس بریڈ لانے ڈاکٹر نوٹن کی کتاب "شمرات فلسفہ کو انگلستان میں شائع کیا۔ حکومت نے اس پر مقدمہ چلا دیا۔ مقدمہ کی شہرت نے عوام کو اس تحریک کی طرف متوجہ کر دیا۔ ۱۸۷۷ء میں ڈاکٹر ڈریسڈیل (Drysdale) کے زیر صدارت ایک انجمن قائم ہوگئی جس نے ضبط ولادت کی تائید میں نشر و اشاعت شروع کر دی۔ اس کے دو سال بعد مسز بیسنٹ کی کتاب قانون آبادی (Law of Population) شائع ہوئی جس کے ایک لاکھ پچھتر ہزار نسخے پہلے ہی سال فروخت ہو گئے ۔۱۸۸۱ء میں یہ تحریک ہالینڈ تھیم، فرانس اور جرمنی میں پہنچی اور اس کے بعد رفتہ رفتہ یورپ اور امریکہ کے تمام متمدن ممالک میں پھیل گئی۔ باقاعدہ انجمنیں قائم ہوئیں جنہوں نے تحریر و تقریر کے ذریعہ سے لوگوں کو ضبط ولادت کے فوائد اور اس کے عملی طریقوں سے آگاہ کیا۔ اس کو اخلاقی نقطہ نظر سے جائز بلکہ مستحسن اور معاشی نقطۂ نظر سے مفید بلکہ قطعا ناگزیر بتایا گیا۔ اس کے لیے دوا ئیں ایجاد کی گئیں۔ آلات بنائے گئے عام لوگوں کی دست رس تک ان چیزوں کو پہنچانے کا انتظام کیا گیا۔ جگہ جگہ ضبط ولادت کے مطب (Brith Control Clinics) قائم کیے گئے جہاں عورتوں اور مردوں کو ضبط ولادت کے لیے ماہرانہ مشورے دیئے جانے لگے۔ اس طرح اس نئی تحریک نے بہت جلدی فروغ پالیا اور اب یہ روز بروز بڑھتی چلی جارہی ہے۔

ترقی کے اسباب:

دور جدید میں اس تحریک کے پھیلنے کی اصل وجہ وہ نہیں ہے جس کی بناء پر ابتداء میں مالتھوس نے افزائش نسل کو روکنے کا مشورہ دیا تھا۔ بلکہ دراصل یہ نتیجہ ہے مغرب کے جدید صنعتی انقلاب (Industrial Revolution) اور سرمایہ دارانہ نظام اور مادہ پرست تہذیب اور نفس پرست تمدن کا۔ آئیے اب ہم ان اسباب میں سے ایک ایک پر نظر ڈال کر دیکھیں کہ اس نے مغربی قوموں کو کس طرح ضبط ولادت پر مجبور کیا۔

ا۔ صنعتی انقلاب

یورپ میں جب مشین ایجاد ہوئی اور مشترک سرمائے سے بڑے بڑے کارخانے قائم کر کے کثیر پیداواری (Mass Production) کا سلسلہ شروع ہوا تو دیہات کی آبادیاں کھیتی باڑی کو چھوڑ کر کارخانوں میں کام کرنےکیلئے شہروں کی طرف آنے لگیں یہاں تک کہ دیہات اجڑ گئےاور بڑےبڑےعظیم الشان شہر وجود میں آئےجہاں لکھوکھا آدمی ایک محدود جگہ میں مجتمع ہو گئے۔اس چیز نےابتداء میں یورپ کی خوش حالی کو خوب بڑھایا لیکن بعد میں اس نےبےشمار معاشی مشکلات پیدا کر دیں۔ زندگی کیلئےجدو جہد بڑھ گئی،مقابلہ سخت ہو گیا،معاشرت کا معیار بلند ہوا، ضروریات زندگی نے وسعت اختیار کی اور ان کی قیمتیں اتنی بڑھ گئیں کہ محدود آمدنی رکھنے والوں کیلئے اپنی خواہشات کے مطابق اپنی معاشرت کے بلند مرتبے کو قائم رکھنا مشکل ہو گیا۔ مکانات میں جگہ کم اور کرائے زیادہ ہو گئے ۔ کمانے والوں کیلئے کھانے والوں کا وجود دو بھر ہونے لگا۔ بالوں کے لیے اولاد اور شوہروں کیلئےبیو یوں تک کی پرورش نا قابل برداشت بار بن گئی۔ہر شخص مجبور ہو گیا کہ اپنی آمدنی کو صرف اپنی ذات پر خرچ کرے اور دوسرےحصہ داروں کی تعداد جہاں تک ممکن ہو گھٹا ہے ہے۔

۲ عورتوں کا معاشی استقلال:

ان حالات میں عورتوں کو مجور اپنی کفالت آپ کرنا اور خاندان کےکمانےوالےافراد میں شامل ہونا پڑا۔معاشرت کی قدیم اور فطری تقسیم عمل،جس کی رو سےمرد کا کام کمانا اور عورت کا کام گھر کا کام کرنا تھا،باطل ہو گئی۔عورتیں کارخانوں اور دفتروں میں خدمت کرنےکیلئےپہنچ گئیں اور جب کسب معیشت کا بار ان کو سنبھالنا پڑا تو ان کے لیے مشکل ہو گیا کہ افزائش نسل اور پرورش اطفال کی اس خدمت کو بھی ساتھ ساتھ ادا کر سکیں جو فطرت نے ان کے سپرد کی تھی۔ایک عورت جس کو اپنی ضروریات فراہم کرنے یا گھر کے مشترک بجٹ میں اپنا حصہ ادا کرنے کیلئے روزانہ کام کرنا ضروری ہو، کس طرح اب بات پر آمادہ ہو سکتی ہے کہ وہ اس حالت میں بچے بھی پیدا کرے۔زمانہ حمل کی تکالیف اکثر عورتوں کو اس قابل نہیں رکھتیں کہ وہ گھر کے باہر زیادہ جسمانی یاد مافی محنت کر سکیں۔ خصوصاً حمل کے آخری زمانے میں تو ان کیلئے چھٹی لینا ضروری ہے۔ پھر وضع حمل کےزمانے میں اور اس کے بعد بھی کچھ مدت تک وہ کام کرنے کے قابل نہیں ہوسکتیں۔ اس کے بعد بچے کو دودھ پلانا اور کم از کم تین چار سال تک اس کی نگرانی، حفاظت اور تربیت کرنا ایسے حالات میں کسی طرح ممکن نہیں ہے جبکہ ماں کو باہر جا کر نوکری کرنی ہو۔ نہ تو ماں اپنے شیر خوار بچے کو دفتر یا کارخانے میں لے جا سکتی ہے، نہ اپنی قلیل معاش میں اتنی گنجائش نکال سکتی ہے کہ بچے کی تمہداشت کیلئے نوکر رکھ لے اور اگر وہ اپنے ان فطری وظائف کو انجام دینے کیلئے کافی عرصہ تک بے کا در ہے تو بھو کی مرجائے یا شوہر کیلئے نا قابل برداشت بار بن جائے۔ اس کے علاوہ جس کی وہ ملازم ہے وہ بھی گوارا نہیں کر سکتا کہ وہ بار بار کئی کئی مہینے کے لیے رخصت لیتی رہے۔ غرض ان اسباب سے عورت اپنی فطری خدمت سے اعراض کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے اور پیٹ کی ضروریات اس کے ان زبر دست جذبات کو سرد کر دیتی ہیں جو فطرت نے ماں بننے کیلئے اس کے سینے میں ودیعت کیے ہیں۔

__________________________________________________________________________ 1- ایک جدید اہل قلم پر وفیسر پال لینڈس نے بڑے معنی خیز انداز میں اس کا اعتراف کیا ہے:

"صنعتی معاشرہ میں انسان توالد و تناسل، خاندان اور باروری (Fertility) کے معاملہ میں بے حد غلط کار اور مغالطوں کا شکار ہو گیا ہے۔ حتی کہ اب جنس کا تعلق تولید سے منقطع کر دیا گیا ہے۔ یعنی جن کا اصل وظیفہ اب افزائش نسل (Procreation) نہیں بلکہ محض لذت نفس (Recreation ) بن گیا ہے۔"

جدید تہذیب و تمدن


راہ پرستی نے لوگوں میں انتہا درجے کی خود غرضی پیدا کر دی ہے۔ ہر شخص اپنی آسائش کیلئےزیادہ سے زیادہ اسباب فراہم کرنا چاہتا ہے اور پسند نہیں کرتا کہ اس کے رزق میں کوئی دوسرا حصہ لے، خواہ وہ اس کا باپ، بھائی، بہن، حتی کہ اولاد ہی کیوں نہ ہو۔ امیروں اور دولت مندوں نےنفس پرستی کیلئے عیش و عشرت کے بے شمار طریقے اور سامان ایجاد کر دیئے ہیں جن کو دیکھ دیکھ کر اوسط اور ادنی درجہ کے لوگ بھی ان کی ریس کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بہت سے اسباب عیش لوگوں کیلئے لوازم حیات بن گئے ہیں اور لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ان چیزوں کے بغیر وہ کسی طرح جی ہی نہیں سکتے۔ اس چیز نے معاشرت کے معیار کو اتنا بلند کر دیا ہے کہ ایک قلیل المعاش آدمی کے لیے اپنے ہی نفس کے تمام مطالبات کو پورا کرنا مشکل ہو جاتا ہے کجا کہ وہ بیوی اور اولاد کی ضروریات کا بھی کفیل ہو سکے ١

عورتوں میں تعلیم، آزادی اور مردوں کے ساتھ آزادانہ اختلاط نے ایک نئی ذہنیت پیدا کر دی ہے جو فطری وظائف سےان کو روز بروز منحرف کرتی چلی جارہی ہے۔وہ گھر کی خدمت اور بچوں کی پرورش کو ایک گھناؤنا کام سمجھتی اور اس سے جی چراتی ہیں۔ ان کو دنیا کی ہر چیز سے دلچسپی ہے مگر نہیں ہے تو گھر اور اس کے کام کاج اور بچوں کی نگہداشت سے۔ بیرون خانہ کے لطف چھوڑ کر اندرون خانہ کی کلفتیں برداشت کرنا وہ حماقت سمجھنے لگی ہیں۔ مردوں کیلئے جاذب نظر بننے کیلئےوه لاغر انداز ، نرم و نازک، حسین اور جوان بنی رہنا چاہتی ہیں۔ ان اغراض کیلئے وہ زہریلی دوائیں تک کھا کر جان دے سکتی ہیں ۔مگر بچے جن کر صحت خراب کرنا پسند نہیں کرتیں۔ کروڑ ہا رو پیدا اپنےبناؤ سنگھار اور اپنے لباس پر خرچ کرسکتی ہیں مگر بچوں کی پرورش کیلئے ان کے بجٹ میں گنجائش نہیں نکلتی۔

______________________________________________________________________ ١- ایک فرانسیسی مصنف لکھتا ہے کہ فرانس میں ضبط ولادت پر عمل کرنے والے جوڑوں سے جب وہ وجوہ معلوم کرنے کی کوشش کی گئی جن کی بناء پر وہ اولاد کی پیدائش روکنے کی کوشش کرتے ہیں تو پتہ چلا کہ بہت ہی کم لوگ ایسے ہیں جو کثرت عیال اور قلت مال کی بناء پر ایسا کرتے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں کے محرکات یہ ہیں:

"اپنی مالی حالت بہتر بنانا اور معیار زندگی بلند رکھنا۔ اپنی جائیداد کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم ہونے سےبچانا۔ اکلوتے بچے کو بہت اعلیٰ درجے کی تعلیم دینا اور شاندار مستقبل کیلئے تیار کرنا۔ بیوی کےحسن اور نزاکت کو حمل اور پرورش اطفال کی کھیر سے بچانا۔ اپنی سیر و تفریح کی آزادی کو محفوظ رکھنا۔ اس خطرے کی روک تھام کہ بچوں والی ہو کر بیوی بچوں ہی کی ہو کر نہ رہ جائے اور شوہر کا لطف کر کرا نہ ہو جائے ۔“


٢- کچھکچھ عرصہ قبل نیو یارک کے ہیلتھ کمشنر نے ایک تنبیہ شائع کی تھی کہ عورتیں لاغر انداز بنے کیلئے ایک دوا کثرت سے استعمال کر رہی ہیں جس کا نام (Diritrophenol) ہے۔ تجربہ سے ثابت ہوا ہے کہ یہ دوا سخت زہریلی ہے اور اب تک بہت سی عورتیں اس کی سمیت سے مرچکی ہیں ۔

تہذیب و تمدن نے انتہا درجہ کی نفس پرستی پیدا کر دی ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ زیادہ سےزیادہ لذت حاصل کریں مگر اس لذت کے ساتھ جو نتائج اور ذمہ داریاں فطرت نے مقرر کی ہیں ان سے بچے رہیں۔ زمانہ حمل اور اس کے بعد بچوں کی پرورش سے اپنے عیش کو کر کرا کرتا انہیں نا گوار ہوتا ہے۔

بچوں کی تعلیم و تربیت اور آینده زندگی میں ان کیلئےکامیابی کےمواقع پیدا کرنےکی خاطر بہت سےلوگ ( خصوصاً متوسط طبقے والے ) ضروری سمجھتے ہیں کہ ایک دو بچوں سے زیادہ پیدانہ کریں۔ ان کے معیار اور تخیلات اتنےبلند ہو گئے ہیں کہ ان کےوسائل معاش ان کےتخیلات کا ساتھ نہیں دےسکتے،اور ایسے بلند تخیلات کےمطابق زیادہ بچوں کو پرورش کرنا،تعلیم دلوانا اور زندگی میں اچھے آغاز (Start) کےمواقع بہم پہنچانا ان کیلئے محال ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ تمدن نے ذرائع تعلیم و تربیت کو نہایت گراں قیمت بھی کر دیا ہے۔

دہریت نے لوگوں کے دلوں سے خدا کا خیال ہی مٹا دیا ہے، کجا کہ وہ اس پر بھروسہ کریں اور اس کی رزاقی پر اعتماد رکھیں۔ وہ صرف اپنے موجودہ ذرائع ہی پر نظر رکھتے ہیں اور خود اپنے آپ کو اپنا اور اپنی اولا د کا رازق سمجھتے ہیں۔

یہ اسباب ہیں جن سے مغربی ممالک میں ضبط ولادت کی تحریک کو اس قدر تیزی اور وسعت کے ساتھ فروغ حاصل ہوا ۔ اگر آپ ان اسباب پر غور کی نظر ڈالیں گے تو معلوم ہوگا کہ اہل مغرب نے پہلے خود ہی غلطی کی کہ اپنے تمدن و معاشرت اور نظام معیشت کو سرمایہ داری ، مادیت اور نفس رستی کی غلط بنیادوں پر تعمیر کیا۔ پھر جب یہ تعمیر اپنے کمال کو پہنچ کر اپنے برے نتائج ظاہر کر نے لگی تو انہوں نے اس پر دوسری حماقت یہ کی کہ اس ظاہر فریب نظام معیشت و معاشرت اور طرز تہذیب و تمدن کو اعلی حالبہ برقرار رکھ کر اس کے ثمرات سے بچنے کی کوشش کی۔ اگر وہ عقل مند ہوتے تو ان اصل خرابیوں کو تلاش کرتے جن کی بدولت زندگی میں ان کے لیے یہ دشواریاں پیدا ہوئی تھیں اور اپنی زندگی میں ان کی اصلاح کیلئے کوشش کرتے لیکن انہوں نے اصلی خرابیوں کو سمجھا ہی نہیں اور اگر سمجھا بھی تو یہ ظاہر فریب تہذیب و معاشرت ان کے لیے اس قدر خوشنما ہو چکی تھی کہ انہوں نےاس کو کسی صالح تر نظام حیات سے بدلنا پسند نہ کیا۔ برعکس اس کے انہوں نے چاہا کہ اس تہذیب و تمدن اور اس نظام معیشت و معاشرت کو جوں کا توں قائم رکھ کر اپنی زندگی کی دشواریوں کو دوسرے طریقوں سے حل کریں۔ اس تلاش و تجسس میں ان کو سب سے زیادہ آسان طریقہ یہی نظر آیا کہ اپنی نسلوں کو بڑھنے سے روک دیں تا کہ اپنے وسائل معاش اور اسباب عیش سے بلا شرکت غیرے لطف اٹھانے کا موقع مل جائے اور آئندہ نسلیں ان کے ساتھ حصہ بٹانے اور ان کی زندگی کو غیر مفید اور بے لطف ذمہ داریوں سے گر انبار کرنے کیلئے پیدا ہی نہ ہوں۔ ......✩✩✩........

کتاب اسلام اور ضبط ولادت
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

birth-control