صفحات گزشتہ میں تحریک ضبط ولادت کی ترقی کے اسباب اور اس کے نتائج کا جو تفصیلی بیان پیش کیا گیا ہے اس کو بنظر غائر ملاحظہ کرنے سے دو اہم حقیقتیں منکشف ہوتی ہیں۔
ایک یہ کہ اہلِ مغرب میں ضبط ولادت کی خواہش کا پیدا ہونا اور اس تحریک کا اس کثرت سے ان کے افراد میں رائج ہو جانا کچھ اس وجہ سے نہیں ہے کہ ان کی فطرت ہی توالد و تناسل سے پر ہیز کا اقتضاء کرتی ہے بلکہ اس کی اصلی وجہ یہ ہے کہ دوصدیوں سے ان کے ہاں تمدن و تہذیب اور معیشت و معاشرت کا جو نظام رائج ہے اس نے ایسے حالات پیدا کر دیئے ہیں جن میں وہ اولاد سے بچنے اور توالد و تناسل سے نفرت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اگر یہ حالات نہ ہوتے تو وہ اب بھی اسی طرح ضبط ولادت سے بیگانہ رہتے جس طرح انیسویں صدی عیسوی کے وسط میں تھے۔کیونکہ ان کی جو فطرت اس زمانے میں اولاد کی محبت اور توالد و تناسل کی جانب رغبت کا اقتضا،کرتی تھی ، وہی فطرت اب بھی موجود ہے۔ اس صدی کے اندراس میں کوئی انقلاب رونما نہیں ہوا ہے۔
دوسرے یہ کہ ضبط ولادت کے رواج سے مغربی قو میں جن خطرات و مشکلات میں گھر گئی ہیں ، انہوں نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ یہ تحریک قوانین فطرت میں جو ترمیم کرنا چاہتی ہے وہ انسان کیلئے سخت نقصان دہ ہے، اور در حقیقت فطرت کے قوانین لائق ترمیم نہیں ہیں بلکہ وہ نظام تمدن و تہذیب اور نظام معیشت و معاشرت بدل دینے کے لائق ہے جو انسان کو قو نمین فطرت کی خلاف ورزی پر مجبور کر کے ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے۔
مغربی تجربہ کے یہ دو سبق ہم کو اصول اسلام سے بہت قریب لے آتے ہیں۔ اسلام دین فطرت ہے اور اس نے شخصی و اجتماعی طرز عمل کیلئے جتنے طریقے مقرر کیے ہیں وہ سب اس قاعدہ کلیہ پر مبنی ہیں کہ انسان ان قوانین قدرت کی پیروی کرے جن پر کائنات کا یہ سارا نظام چل رہا ہے اور کوئی ایسا طرز زندگی اختیار نہ کرے جو تو انہین فطرت کی خلاف ورزی پر اس کو مجبور کرتا ہو۔ قرآن مجید ہم کو بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا کر کے اس کی جبلت میں اس طریقہ کی تعلیم بھی ودیعت فرمادی ہے جس پر چل کر وہ چیز نظام وجود میں اپنے حصہ کا کام ٹھیک ٹھیک انجام دے سکتی ہے۔
"ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شے کو اس کی خاص بناوٹ عطا کی پھر اس کو ان اغراض کے پورا کرنے کی راہ بھی بتادی جن کیلئے وہ پیدا کی گئی ہے۔“
کائنات کی تمام چیزیں بے چون و چرا اس ہدایت کی پیروی کر رہی ہے،اس لیےکہ اللہ نے ان کیلئے جو راستہ مقرر فرمادیا ہےاس سےبہٹنےکی ان میں قدرت ہی نہیں ہے۔البتہ انسان کو یہ قدرت دی گئی ہےکہ وہ اس راستہ سے ہٹ سکتا ہے،اس پر چلنےسےانکار کر سکتا ہےاپنی عقل اور ذہانت سےغلط کام لےکر اس کے خلاف دوسرے راستے نکال سکتا ہے اور کوشش کر کے ان پر چل بھی سکتا ہے لیکن ہر وہ راستہ جسے انسان خدا کے بنائے ہوئے راستہ کو چھوڑ کر اپنی ہوائے نفس کے اتباع میں ایجاد و اختیار کرتا ہے، نیڑ ھا راستہ ہے اور اس کی پیروی گمراہی ہے:
به گمراہی خواہ ظاہر میں کتنی ہی مفید نظر آئے لیکن در حقیقت جو انسان اللہ کے بنائے ہوئے راستہ کو چھوڑتا ہے اور اس کی مقرر کی ہوئی حدود سے تجاوز کرتا ہے وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتا ہے کیونکہ انجام کار میں اس کی غلط کاری خود اس کے لیے نقصان دہ اور موجب ہلاکت ثابت ہوتی ہے۔
قرآن کہتا ہے کہ خدا کی بنائی ہوئی ساخت کو بدلنا اور ان قوانین فطرت کو توڑنا جنہیں اللہ تعالٰی نے اس کائنات میں جاری کیا ہے دراصل ایک شیطانی فعل ہے اور شیطان ہی اس فعل کی تعلیم دیتا ہے۔
پس اسلام نے جس قاعدے پر اپنے نظامِ تمدن و تہذیب اور نظام معیشت و معاشرت کی بنیاد رکھی ہے، وہ یہ ہے کہ انسان انفرادی اور مجموعی حیثیت سے اپنی فطرت کے تمام مقتضیات کو ٹھیک ٹھیک قوانین فطرت کے مطابق پورا کرنے اور اللہ کی دی ہوئی تمام قوتوں سے اس طریقہ پر کام لے جس کی ہدایت خود اللہ نے دی ہے۔ نہ کسی قوت کو معطل و بے کار بنائے ، نہ کسی قوت کےاستعمال میں اللہ کی بخشی ہوئی ہدایت سے انحراف کرے اور نہ شیطانی تحریص و ترغیب سےگمراہ ہو کر اپنی فلاح و بہبود ان طریقوں میں تلاش کرے جو فطرت کی سیدھی راہ سے ہٹ کر نکلتے ہیں۔
اس قاعدے کو پیش نظر رکھ کر جب آپ اسلام پر نگاہ ڈالیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ اسلامی نظام تمدن نے سرے سے ان اسباب و دوائی کا ہی استیصال کر دیا ہے جن کی وجہ سے انسان اپنی فطرت کے اس اہم اقتضاء یعنی توالد و تناسل سے پر ہیز کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ یہ آپ کو معلوم ہو چکا ہے کہ انسان کو انسان ہونے کی حیثیت سے برتھ کنٹرول کی ضرورت نہیں ہوتی ، اور نہ اس کی و بہبود کی خاطر اپنی آئندہ نسل کا سلسلہ منقطع کر دے، یا اس کو بڑی حد تک گھٹانے کی کوشش کرے۔اس سے آپ خود نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ اگر کوئی تمدن اس خاص طرز پر قائم ہو اور اس میں وہ مخصوص قسم کے حالات پیدا ہی نہ ہوں تو سرے سے وہ مشکلات اور وہ دوائی وجود ہی میں نہ آئیں گے جو انسان کو اللہ کی بناوٹ کے بدلنے اور اس کی حدود سے تجاوز کر نے اور قوانین فطرت کے مقتضیات سے انحراف کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔
اس کے نظام معاشی نے سرمایہ داری کی جڑ کاٹ دی ہے۔ وہ سود کو حرام کرتا ہے، اجارہ داری کو روکتا ہے، جوئے اور سٹے کو نا جائز قرار دیتا ہے، مال جمع کرنے سے منع کرتا ہے اور زکوٰۃ وراثت کے طریقے جاری کرتا ہے۔ یہ احکام ان بہت سی خرابیوں کا استیصال کر دیتے ہیں جنہوں نے مغرب کی معاشی زندگی کو سرمایه داروں کے سوا اور سب کیلئے ایک مستقل عذاب بنا دیا ہے_١
اسلام کے نظامِ معاشرت نے عورت کو وراثت کے حقوق دیئے ہیں، مرد کی کمائی میں اس کا حق مقرر کیا ہے، مرد و عورت کے دائرہ عمل کو فطری حدود میں تقسیم کیا ہے، عورتوں اور مردوں کے آزادانہ اختلاط کو حجاب شرعی کے ذریعہ سے روک دیا ہے اور اس طرح معیشت و معاشرت کی ان بہت سی خرابیوں کو دور کر دیا جن کی وجہ سےعورت اپنےفطری فرض افزائشِ نسل و تربیت اولاد سےانحراف کرنے پر آمادہ یا مجبور ہوتی ہے_2
اسلام کی اخلاقی تعلیمات انسان کو سادہ اور پرہیز گارانہ زندگی بسر کرنا سکھاتی ہیں۔ وہ زنا کاری اور شراب خوری کو حرام کرتا ہے، بہت سے ان تفریحی مشاغل اور عیش پسندانہ تفریحات کے اسباب میں کفایت شعاری برتنے کی تاکید کرتا ہے اور اس بداخلاقی ،اسراف اور حد سے بڑھی ہوئی لذت پرستی کا استیصال کر دیتا ہے جو مغربی ممالک میں برتھ کنٹرول کی ترویج کے اہم اسباب میں سے ہے۔ اس کے ساتھ اسلام آپس کی ہمدردی اور امداد باہمی کی تعلیم دیتا ہے، صلہ رحمی کی تاکید کرتا ہے، ہمسایوں کی مدد اور غریب و نادار ابنائے نوع پر انفاق فی سبیل اللہ کا حکم دیتا ہے اور خود غرضی و نفس پرستی سے روکتا ہے۔ یہ سب چیزیں ایک طرف ہر شخص میں منفرد اور دوسری طرف سوسائٹی میں مجتمعا ایک ایسا اخلاقی ماحول پیدا کر دیتی ہیں جس میں ضبط ولادت کے داعیات پیدا ہی نہیں ہو سکتے ۔
سب سے بڑی بات یہ ہےکہ اسلام نےخدا پرستی کی تعلیم دی ہے۔وہ خدا پر بھروسہ کرنا سکھاتا ہے اور یہ حقیقت انسان کے ذہن نشین کر دیتا ہے کہ اس کا اور ہر جاندار کا اصلی رازق حق تعالی ہے۔ یہ چیز انسان میں وہ ذہنیت پیدا ہی نہیں ہونے دیتی جس سے وہ اپنی زندگی میں صرف اپنے ذرائع اور اپنی ہی کوشش پر بھروسا کرنے لگتا ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ اسلام کے اجتماعی قوانین اور اس کی اخلاقی تعلیمات اور روحانی تربیت نے ان اسباب وداعی میں سے ہر سب کو اور ہر داعیہ کو مٹا دیا ہے جو مغربی تمدن و تہذیب میں ضبط ولادت کیلئے باعث تحریک ہوئے ہیں۔ اگر انسان ذہنی و عملی حیثیت سے ایک سچا مسلمان ہو تو نہ کبھی اس کے نفس میں ضبط ولادت کی خواہش پیدا ہوسکتی ہےاور نہ اس کی زندگی میں ایسےحالات پیش آسکتےہیں جو اس کو فطرت کے سیدھے راستے سے منحرف ہونے پر مجبور کر دیں۔
یہ تو مسئلہ کا سلبی (Negative) پہلو تھا۔ اب ہم کو ایجابی (Positive) پہلو سے دیکھنا چاہیے کہ ضبط ولادت کے متعلق اسلام کا فتویٰ کیا ہے۔
قرآن مجید میں ایک جگہ یہ قاعدہ کلیہ بیان کیا گیا ہے کہ تغیر علق اللہ (اللہ کی بنائی ہوئی ساخت کو بدلنا ) شیطان فعل ہے ۔ وَلَا مُرَنَّهُمْ فَلْيُغَيِّرَنَّ خَلْقَ اللَّهِ . ( النساء: ١١٩) ۔
اس آیت میں تغییر خلق اللہ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو جس غرض کیلئے بنایا ہے اس کو اس غرض اصلی سےپھیر کر کسی دوسری غرض کیلئے استعمال کیا جائے،یا اس طور پر اس سے کام لیا جائےکہ غرض اصلی فوت ہو جائے ۔ اس قاعدہ کلیہ کے تحت ہم کو دیکھنا چاہیے کہ عورت اور مرد کے زوجی تعلق میں ” خلق اللہ (یعنی اس تعلق کی فطری غرض) کیا ہے اور ضبط ولادت سےتغییر خلق اللہ لازم آتی ہے یا نہیں۔ خود قرآن مجید اس سوال سے حل میں ہماری رہنمائی کرتا ہےوہ عورت اور مرد کے زوجی تعلق کی دوغرضیں بتاتا ہے۔
"تمہاری عورتیں تمہارے لیے کھیتیاں ہیں۔ پس تم جس طرح چاہو اپنی کھیتیوں میں جاؤ اور اپنے لیے آئندہ کا بندوبست کرو۔ (البقرہ ۲۲۳)
"اور اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑے پیدا کیے تا کہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور اس نے تمہارے درمیان محبت و رحمت پیدا کی ۔“
پہلی آیت میں عورتوں کو "کھیتی" کہہ کر ایک حیاتی حقیقت ( Biological Fact ) کا اظہار کیا گیا ہے۔ حیاتیات کے نقطہ نظر سےمرد کی حیثیت کاشت کار کی ہے اور عورت کی حیثیت کھیتی کی ، اور ان دونوں کے تعلق سے فطرت کی اولین غرض بقائے نوع ہے۔ اس غرض میں انسان اور حیوان اور نباتات سب مشترک ہیں_١
___________________________________________________________________________ ١- ایک صاحب نے اس آیت سے ضبط ولادت کے حق میں استدلال کرتے ہو ۔ ۔ ۔ لانکتہ پیدا کیا ہے کہ کھیتی کے ساتھ کسان کا تعلق صرف پیداوار کی خاطر ہے۔ جب ملک کو پیداوار کی ضرورت ہو تو کسانوں کو کھیتی میں جانا چاہیے۔ جب پیداوار کی ضرورت ہی نہ ہو تو ان کو سرے سے اپنی کھیتوں میں جانے کا حق ہی نہ ہونا چاہیے۔ نیز ، بتنی پیدا وار درکار ہو،بس اسی حد تک کسانوں کو کاشت کرنی چاہیے، اس سے زیادہ نہیں ۔
اس عجیب و غریب تغییر کی رو سے اول تو بانجھ مرد یا بانجھ بیوی کی باهم مقاربت حرام قرار پاتی ہے۔ ثانیا استقرار حمل کے بعد زوجین کی باہمی مقاربت اس وقت تک کیلئے حرام ہو جاتی ہے جب تک پھر ایک بچے کی ولادت مطلوب نہ ہو ۔ ثالث میاں اور بیوی کا تعلق زوجیت بھی ریاست کے کنٹرول میں چلا جاتا ہے۔ جب ریاست اعلان کر دے کہ اب ہمیں بچوں کی ضرورت نہیں ہے تو تمام مرد اپنی اپنی بیویوں سے الگ ہو جائیں اور جو نہی ایک سرکاری اعلان شائع ہو کہ اب بچوں کی ضرورت ہے،تو یک لخت شوہروں اور بیویوں کےدرمیان رابطہ قائم ہو جائے۔ پھر حکومت کو رپورٹ دی جاتی رہنی چاہیے کہ کتنی عور تیں حاملہ ہو چکی ہیں۔مطلوبہ تعداد میں حمل قرار پاتے ہی حکومت سرخ جھنڈی ہلائے گی اور شوہروں کیلئے بیویوں کے پاس جانا ممنوع ہو جائے گا۔
یہ "نظام "ربوبیت" کی ہمہ گیر منصوبہ بندی کا وہ نقشہ ہے جو ابھی تک کمیونسٹوں کو بھی نہیں سوجھا ہے اور لطف یہ ہے کہ یہ بھی قرآن سے برآمد کر لیا گیا۔ حالانکہ اگر زوجین کے باہمی تعلق کیلئے کسان اور کھیتی کی تشبیہ کو تشبیہ نام ہی مان لیا جائے ، تب بھی آج تک کسی صاحب عقل آدمی کے دماغ میں یہ خیال کبھی نہیں آیا ہے کہ تخم ریزی کے بعد کسان کا کھیتی میں جانا حرام ہو جاتا ہے۔
دوسری آیت میں اس تعلق کی ایک اور غرض بھی بیان کی گئی ہے اور وہ قیام تمدن ہے، جس کی بنیادشوہر اور بیوی کے باہم مل کر رہنے سے پڑتی ہے۔ یہ غرض انسان کیلئے مخصوص ہے اور انسان کی مخصوص بناوٹ ہی میں ایسے داعیات پیدا کر دیئے گئے ہیں جو اس غرض کی تکمیل کیلئے اسےابھارتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کے کارخانے کو چلانے کیلئے منجملہ بہت سے انتظامات کے دو زبر دست انتظام کیے ہیں۔ ایک تغذیہ، دوسرے تولید - تغذیہ کا مقصود یہ ہے کہ جو انواع اس وقت موجود ہیں وہ ایک مدت معینہ تک زندہ رہ کر اس کا رخانہ کو چلاتی رہیں۔ اس کیلئے رب العالمین نے غذا کا وافر سامان مہیا کیا ، اجسام نامیہ (Organic Bodies) میں غذا کو جذب کرنے اور اس کو اپنا جز بنانےکی قابلیت پیدا کی اور ان میں غذا کی طرف ایک طبیعی خواہش پیدا کر دی جوان کو غذا حاصل کرنےپر مجبور کرتی ہےاگر یہ نہ ہو تو تمام اجسام نامیہ ( خواہ نباتات ہوں یا حیوانات یا انسان) ہلاک ہو جائیں اور اس کارخانہ عالم میں کوئی رونق باقی نہ رہے۔لیکن فطرت النبیہ کےنزد یک اشخاص و افراد کےبقاء کی بہ نسبت انواع و اجناس کا بقاء زیادہ اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اشخاص کیلئے زندگی کی ایک بہت ہی قلیل مدت ہے اور اس کارخانہ کو چلانے کیلئے ضروری ہے کہ اشخاص کے مرنے سے پہلے دوسرے اشخاص ان کی جگہ لینے کیلئے پیدا ہو جائیں۔ اس دوسری اعلیٰ اور اشرف ضرورت کو پورا کرنے کے لیے فطرت نے تولید کا انتظام کیا ہے۔ انواع میں نر اور مادہ کی تقسیم، نرومادہ کے اجسام کی جدا گانہ ساخت، دونوں میں ایک دوسرے کی جانب میلان اور زوجی تعلق کیلئے دونوں میں ایک زبردست خواہش کا موجود ہونا یہ سب کچھ اسی غرض کیلئے ہے کہ دونوں مل کر اپنی موت سے پہلے اپنے جیسے افراد اللہ تعالیٰ کے اس کارخانہ کو چلانے کیلئے مہیا کر دیں۔ اگر یہ فرض نہ ہوتی تو سرے سے نر و مادہ یا مرد و عورت کی علیحدہ علیحدہ اصناف پیدا کرنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔
پھر دیکھئے کہ جو انواع کثیر الاولاد ہوتی ہیں ان میں فطرت نے اولاد کی محبت کا کوئی خاص جذبہ پیدا نہیں کیا کہ وہ اپنے بچوں کی نگرانی اور حفاظت کریں۔ اس لیے یہ انواع محض اپنی کثرتِ تناسل کے بل پر قائم رہتی ہیں لیکن جن انواع کی اولاد کم ہوتی ہے ان میں اولاد کی محبت زیادہ پیدا کی گئی ہے اور ماں باپ کو مجبور کیا گیا ہے کہ وہ ایک کافی عرصہ تک اپنی اولاد کی نگرانی و حفاظت کریں۔ یہاں تک کہ وہ خود اپنی حفاظت کے قابل ہو جا ئیں ۔ اس معاملہ میں انسان کا بچہ سب سے زیادہ کمزور ہوتا ہے اور زیادہ مدت تک ماں باپ کی نگرانی کا محتاج رہتا ہے۔دوسری طرف انواع حیوانی میں شہوت کا جذبہ یا تو موسمی ہوتا ہے، یا جبلی مطالبات کے تحت محدود ہوتا ہے لیکن انسان میں یہ جذبہ نہ تو موسمی ہے اور نہ جبلت نے اس کو محدود کیا ہے۔ اس لیے نوع انسانی میں عورت اور مرد ایک دوسرے کے ساتھ دائمی تعلق رکھنے پر مجبور ہیں۔ یہ یہی دونوں چیزیں انسان کو مدنی الطبع بناتی ہیں، یہیں سے گھر کی بنیاد پڑتی ہے اور گھر سے خاندان اور خاندان سے قبیلے بنتے ہیں اور آخر کار اسی بنیاد پر تمدن کی عمارت قائم ہوتی ہے۔
اس کے بعد انسانی ساخت پر غور کیجئے۔ حیاتیات کے مطالعہ سے ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے جسم کی بناوٹ میں شخصی مفاد پر نوعی مفاد کو ترجیح دی گئی ہے اور انسان کو جو کچھ دیا کیا ہےوہ اس کی ذات سے زیادہ اس کی نوع کے مفاد کیلئے ہے۔ انسان کے جسم میں اس کے صنفی غدود (Sexual Glands) سب سے زیادہ اہم خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ غدے ایک طرف انسان کے جسم کو وہ ماء الحیات (Hormon) بہم پہنچاتے ہیں جو اس میں حسن و جمال ، رواق و تازگی،ذہانت اور تیزی، توانائی اور قوت عمل پیدا کرتے ہیں اور دوسری طرف یہی غدے انسان میں تولید کی قوت پیدا کرتے ہیں جو عورت اور مرد کو تناسل کے لیے باہم ملنے پر مجبور کرتی ہے۔جس عمر میں انسان نوعی خدمت کیلئے مستعد ہوتا ہے، وہ زمانہ اس کے شباب اور حسن اور عمل کا بھی ہوتا ہے اور جب وہ نوعی خدمت کے قابل نہیں رہتا وہی زمانہ اس کے ضعف اور بڑھاپے کا ہوتا ہے۔ زوجی فعلیت کا کمزور ہونا ہی دراصل آدمی کیلئے موت کا پیغام ہے۔ اگر انسان کے جسم سےاس کے صنفی غدود نکال دیئےجائیں تو جس طرح وہ نوعی خدمت کےقابل نہیں رہتا اسی طرح شخصی خدمت کیلئےبھی اس کی قابلیت بہت کم ہو جاتی ہے۔ اس لیے کہ ان غدوں کے بغیر اس کی دماغی اور جسمانی قوتیں نہایت کمزور ہوتی ہیں۔
عورت کےجسم میں نوعی مفاد کی خدمت کو مرد سےبہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔معلوم ایسا ہوتا ہےکہ عورت کےجسم کی ساری مشین بھی اس غرض کیلئے بنائی گئی ہے کہ وہ بقائے نوع کی خدمت انجام دے۔ وہ جب اپنے شباب کو پہنچتی ہے تو ایام ماہواری کا دور شروع ہو جاتا ہے۔ جو ہر مہینےاس کو استقرار حمل کیلئے تیار کرتا رہتا ہے۔ پھر جب نطفہ قرار پاتا ہے تو اس کے پورے نظامِ جسمانی میں ایک انقلاب پیدا ہوتا ہے۔ بچے کا مفاد اس کے تمام جسم پر حکمرانی کرنے لگتا ہے۔ اس کی قوت کا اتنا حصہ اس کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے جتنا اس کی زندگی کے لیے ناگزیر ہے، باقی ساری قوت بچے کی نشو و نما میں صرف ہوتی ہے۔ یہی چیز ہے جو عورت کی فطرت میں محبت ، قربانی اور ایثار ( Altruism) پیدا کرتی ہے اور اسی لیے پدریت کا رابطہ اتنا گہرا نہیں ہے جتنامادریت کا رابطہ ہے۔ وضع حمل کے بعد عورت کے جسم میں ایک دوسرا انقلاب رونما ہوتا ہے جو اسے رضاعت کیلئے تیار کرتا ہے۔ اس زمانہ میں غد و در ضاعت ماں کے خون سے بہترین اجزاء جذب کر کے بچے کیلئے دودھ مہیا کر تے ہیں اور یہاں فطرت الہیہ پھر عورت کو نوعی مفاد کیلئے قربانی پر مجبور کرتی ہے۔ رضاعت کے بعد عورت کا جسم از سر نو ایک دوسرے استقرار حمل کے لیے تیار کیا جاتا ہے اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک وہ اس نوعی خدمت کیلئے مستعد رہتی ہے۔جہاں اس کی یہ استعداد ختم ہوتی، اس کا قدم موت کی طرف بڑھا۔سن یاس شروع ہوتے ہی اس کا حسن و جمال رخصت ہو جاتا ہے، اس کی شگفتگی ، اس کی جولانی طبع ، اس کی جاذبیت کافور ہو جاتی ہے اور اس کیلئے جسمانی تکالیف اور نفسانی افسردگی کے ایک ایسے دور کا آغاز ہوتا ہے جو صرف موت ہی کے ساتھ ختم ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عورت کیلئے بہترین زمانہ وہ ہے، جب وہ نوع کی خدمت کیلئے جیتی ہے اور جب وہ صرف اپنے لیے بیتی ہے تو بری طرح جیتی ہے۔
اس موضوع پر ایک روسی مصنف آنتن نیمی لاف (Anton Nemilov) نے ایک بہترین کتاب لکھی ہے جس کا نام Biological Tragady of Woman) ہے۔۱۹۳۲ء میں اس کا انگریزی ترجمہ لندن سے شائع ہوا ہے۔ اس کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کی پیدائش ہی بقائے نوع کی خدمت کیلئے ہوئی ہے۔ یہی حقیقت دوسرے محققین و ماہرین نے بھی بیان کی ہے۔ مثلاً نوبل پرائز یافتہ مصنف ڈاکٹر الیکٹوس کارل ( Dr. Alixis ) اپنی کتاب "Man The Unknown" میں اس نقطۂ نظر کو پیش کرتے ہوئے کہتا ہے کہ:
"عورت کیلئے وظائف تولید جو اہمیت رکھتے ہیں ان کا ابھی تک پورا شعور پیدا نہیں ہوا ہے۔ اس وظیفہ کی انجام دہی عورت کی معیاری تکمیل کیلئے ناگزیر ہے۔ پس یہ ایک اتقانہ فعل ہے کہ عورتوں کو تولید اور زچگی سے برگشتہ کیا جائے ۔“
ایک مشہور ماہر جنسیات ڈاکٹر آزوالد شواز (Oswald Schwarz) اپنی کتاب "نفسیات جنس" (The Psychology of Sex) میں لکھا ہے:
"جذبہ جنسی آخر کس چیز کا غماز ہے اور کس مقصد کے حصول کیلئےہے؟ یہ بات کہ اس کا تعلق افزائشِ نسل سے ہے بالکل واضح ہے۔حیاتیات ( بیالوجی ) کا علم اس معاملے کو سمجھنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ یہ ایک ثابت شدہ حیاتیاتی قانون ہے کہ جسم کا ہر عضو اپنا خاص وظیفہ انجام دینا چاہتا ہے اور اس کام کو پورا کرنا چاہتا ہے جو فطرت نے اس کے سپرد کیا ہے، نیز یہ کہ اگر اسے اپنا کام کرنے سے روک دیا جائے تو لازماً الجھنیں اور مشکلات پیدا ہو کر رہتی ہیں ۔ عورت کے جسم کا بڑا حصہ بنایا ہی گیا ہے استقرار حمل اور تولید کیلئے ۔ اگر ایک عورت کو اپنے جسمانی اور دینی نظام کا یہ اقتضاء پورا کرنے سے روکا جائے گا تو و و اضمحلال اور شکستگی کا شکار ہو جائے گی۔ اس کے برعکس ماں بننے میں وہ ایک نیاحسن .... ایک روحانی بالیدگی... پالیتی ہے جو اس جسمانی اضمحلال پر غالب آ جاتی ہے جس سے زچگی کے باعث عورت دو چار ہوتی ہے ہے_١
"ہمارے جسم کا ہر عضو کام کرنا چاہتا ہے اور کسی عضو کو بھی اپنےوظیفہ کی انجام دہی سے روکا جائے گا تو پورے نظام کا تو ازن درہم برہم ہو جائے گا۔ ایک عورت کو اولاد کی ضرورت صرف اسی بناء پر نہیں ہے کہ یہ اس کی جبلت مادر بیت کا تقاضا ہے یا یہ کہ اس خدمت کی انجام دہی کو وہ اوپر سےعائد کردہ ایک اخلاقی ضابطے کی بناء پر اپنا فرض سمجھتی ہے، بلکہ در اصل اسے اس کی ضرورت اس لیے ہے کہ اس کا سارا نظام جسمانی بنا ہی اس کام کیلئے ہے۔ اگر اسے اپنے جسم کے اس مقصد تخلیق ہی کو پورا کرنے سے محروم رکھا جائے گا تو اس کی پوری شخصیت بے کیفی اور محرومی اور شکست سے متاثر ہوگی ۔“
اس بحث سے قرآن مجید کے اس ارشاد کی حقیقت اچھی طرح معلوم ہو جاتی ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان زوجی تعلق پیدا کرنے سے فطرت کا اصل مقصد بقائے نوع ہے اور اس کےساتھ دوسرا مقصد یہ ہے کہ انسان عائلی زندگی (Family Life) اختیار کر کے تمدن کی بنیاد رکھے۔ اللہ تعالیٰ نے عورت اور مرد کے درمیان جو کشش رکھی ہے اور ان دونوں کے زوجی تعلق میں جو لذت پیدا کی ہے وہ صرف اس لیے کہ انسان اپنی طبیعی رغبت سے ان مقاصد کو پورا کرے۔ اب جو شخص محض اس لذت کو حاصل کرنا چاہتا ہے مگر ان مقاصد کی خدمت بجالانے سے انکار کر دیتا ہے، یہ یقینا خلق اللہ کو بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ ان اعضاء اور ان قوتوں کو جو اللہ تعالی نےبقائے نوع کیلئے عطا کیے ہیں ان کی غرض اصلی کے خلاف محض اپنی نفسانی غرض کیلئے استعمال کرتا ہے۔ اس کی مثال ایسے شخص کی سی ہے جو محض زبان کی لذت حاصل کرنے کیلئے عمدہ عمدہ غذاؤں کے نوالے منہ میں چہائے مگر حلق کے نیچے اتارنے کے بجائے ان کو تھوک دے۔ جس طرح ایسا شخص خود کشی کا ارتکاب کرتا ہے اسی طرح وہ شخص جو زوجی تعلق سے محض لذت حاصل کرتا ہے اور بجائے نسل کے مقصد کو پورا نہیں ہونے دیتا نسل کشی کا ارتکاب کرتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ وہ فطرت کے ساتھ دغا بازی کر رہا ہے۔ فطرت نے اس فعل میں جو لذت رکھی ہےوہ دراصل معاوضہ ہے اس خدمت کا جو فطرت کے ایک مقصد کو پورا کرنے کیلئے وہ بجالاتا ہے لیکن یہ شخص معاوضہ تو پورا لے لیتا ہے اور خدمت بجالانے سے انکار کر دیتا ہے۔کیا یہ دغا بازی نہیں؟
| کتاب | اسلام اور ضبط ولادت |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |