آئیے اب ہم دیکھیں کہ جولوگ فطرت کے ساتھ یہ دغا بازی کرتے ہیں، کیا فطرت ان کو سزاد یئے بغیر چھوڑ دیتی ہے یا اس کی کچھ سزا بھی دیتی ہے؟ قرآن مجید کہتا ہے کہ اس کی سزا ضرور دی جاتی ہے اور وہ سزا یہ ہے کہ ایسے لوگ خود ہی اپنے آپ کو نقصان میں مبتلا کرتے ہیں۔
"وہ لوگ ٹوٹے میں پڑ گئے جنہوں نے اپنی اولا د کو نادانی سے بغیر سمجھے بوجھے قتل کیا اور اس نعمت کو جو اللہ نے ان کو عطا کی تھی اللہ پر افترا باندھ کر اپنے اوپر حرام کر لیا ۔
اس آیت میں قتل اولاد کے ساتھ نعمت تناسل کو اپنے لیے حرام کر لینے کا نتیجہ بھی خسران بتایاگیا ہے۔ دیکھنا چاہیے کہ یہ خسر ان کن کن صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے۔
توالد و تناسل کا معاملہ چونکہ براہ راست انسان کے جسم اور نفس سے تعلق رکھتا ہے اس لیےہم کو سب سے پہلے ضبط ولادت کے ان اثرات کی تحقیق کرنی چاہیے جو انسان کے نفس اور جسم پر مترتب ہوتے ہیں۔
ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ انواع میں نر و مادہ کی دو الگ الگ صنفیں بنانے سے فطرت کا اصل مقصد ہی توالد و تناسل اور بقائے انواع ہے۔ یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ نر و مادہ کی عین فطرت اس کا اقتضاء کرتی ہے کہ وہ اولاد پیدا کریں اور خصوصاً نوع انسانی میں تو عورت کے اندر طبعا اولاد کی خواہش اور محبت کا ایک زبردست داعیہ پیدا کیا گیا ہے۔ نیز یہ بھی آپکو معلوم ہو چکا ہے کہ انسان کے جسم میں اس کے منفی غدود کا کتنا قوی اور گہرا اثر ہے اور کس طرح یہ غدے انسان کو نوع کی خدمت پر ابھارنے اور اس میں حسن ، توانائی عملی سرگرمی اور ذہنی قوت پیدا کرنے کے دوہرے فرائض انجام دیتے ہیں۔ خصوصاً عورت کے متعلق آپ کو معلوم ہو چکا ہے کہ اس کے جسم کی پوری مشین ہی خدمت بقائے نوع کے لیے بنائی گئی ہے، اس کی تخلیق کا اہم ترین مقصد یہی ہے، اور اس لیے اس کی مین فطرت اس سے اس خدمت کا مطالبہ کرتی ہے۔ ان سب امور کو پیش نظر رکھ کر آپ کی عقل خود اس نتیجہ پر پہنچ سکتی ہے کہ جب انسانی زوجی تعلق سے محض لذت حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تو اس مقصد کو پورا کرنے سے انکار کر دے گا جس کی طلب اس کے جسم کے ریشہ ریشہ میں اس قدر گہرائی کے ساتھ پیوست کر دی گئی ہے، تو ممکن نہیں ہے کہ اس کے نظام عصبی اور اس کے صنفی غدد کی فعلیت پر اس حرکت کے بُرے اثرات مترتب نہ ہوں اور ان اثرات سے اس کا نفس محفوظ رہ سکے۔
____________________________________________________________________________ ١- قدیم مفسرین نے حَرَّمُوا مَارَزَقَهُمُ الله کا مطلب صرف یہ بیان کیا ہے کہ وہ حلال غذاؤں کو اپنے اوپر حرام کر لیتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے زمانے میں ضبط ولادت کی تحریک کا کوئی وجود نہ تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے جس کا علم ان تمام چیزوں پر حاوی ہے جو ہو چکی ہیں اور ہونے والی ہیں ، ایسے وسیع الفاظ استعمال فرمائے ہیں جو صرف حلال غذاؤں کی تحریم ہی کو نہیں بلکہ ہر اس نعمت کی تحریم کو شامل کرتے ہیں جو اللہ کی طرف سے عطا کی جاتی ہے۔ لغت اور محاورے کے اعتبار سے رزق صرف سامان خوراک ہی کیلئے نہیں بولا جاتا . بلکہ ہر علیہ پر لفظ رزق کا اطلاق ہوتا ہے جس میں اولاد کا عطیہ بھی شامل ہے اور چونکہ یہاں قتل اولاد کے بعد ہی تحریم رزق کا ذکر کیا گیا ہے اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جس طرح وہ لوگ ٹوٹے میں ہیں جو اولاد کو پیدا : ونے کے بعد قتل کر دیتے ہیں اسی طرح وہ لوگ بھی ٹوٹے میں ہیں جو اولاد کی پیدائش ہی کو اپنے اوپر حرام کر لیتے ہیں۔
تجربہ اس عقلی نتیجہ کی تائید کرتا ہے۔ ۱۹۲۷ء میں برطانیہ عظمیٰ کے نیشنل برتھ ریٹ کمیشن (National Birth Rate Commission) ضبط ولادت کے مسئلہ پر طبی نقطہ نظر سے جور پورٹ شائع کی تھی اس میں لکھا ہے:
"مانع حمل وسائل کے استعمال سے مردوں کے نظامِ جسمانی میں براہمی پیدا ہو سکتی ہے، عارضی طور پر ان میں مردانہ کمزوری یا نا مردی بھی پیدا ہو سکتی ہے، لیکن مجموعی حیثیت سے کہا جاسکتا ہے کہ ان وسائل کا کوئی زیادہ نیا اثر مرد کی صحت پر نہیں پڑتا ۔ البتہ اس بات کا ہمیشہ خطرہ ہے کہ مانع حمل وسائل کے استعمال سے جب مرد کو زوجی تعلق میں اپنی خواہشات کی تسکین حاصل نہ ہوگی تو اس کی عائلی زندگی کی مسرتیں غارت ہو جائیں گی اور دوسرے ذرائع سے تسکین حاصل کرنے کی کوشش کرے گا جو اس کی صحت کو برباد کر دیں گے اور ممکن ہے کہ اسے امراض خبیثه میں مبتلا کر دیں۔“
"جہاں طبی لحاظ سے منع حمل نا گزیر ہو، جہاں بچوں کی پیدائش حد سے زیادہ ہو، وہاں تو منع حمل کی تدابیر عورت کی صحت پر بلاشبہ اچھا اثر ڈالتی ہیں لیکن جہاں ان میں سے کوئی ضرورت داعی نہ ہو، وہاں منبع حمل تدابیر کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عورت کے نظام عصبی میں سخت برہمی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس میں بدمزاجی اور چڑ چڑا پن پیدا ہو جاتا ہے۔ جب اس کے جذبات کی تسکین نہیں ہوتی تو شوہر کے ساتھ اس کے تعلقات خراب ہو جاتے ہیں۔ خصوصیت کے ساتھ یہ نتائج ان لوگوں میں زیادہ نمایاں دیکھے گئے ہیں۔ جو عزمل (Coitus Interruptus) کا طریقہ اختیار کرتے ہیں ۔“
"ضبط ولادت کے طریقے خواہ فرز جے (Pessuries) ہوں، یا جراثیم کش دوائیں، یار برکی ٹوپیاں اور لفافے ، بہر حال ان کے استعمال سے کوئی فوری نمایاں نقصان تو نہیں ہوتا لیکن ایک عرصہ تک ان کو استعمال کرتے رہنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ادھیڑ عمر تک پہنچتے پہنچتے صورت میں عصبی ناهمواری (Nervous Instability) پیدا ہو جاتی ہے۔ پز مردگی،شگفتگی کا فقدان،افسرده دلی ، طبیعت کا چڑ چڑا پن اور اشتعال پذیری،غمگین خیالات کا ہجوم، بے خوابی ، پریشان خیالی ، دل و دماغ کی کمزوری،دوران خون کی کمی ، ہاتھ پاؤں کا سن ہو جانا، جسم میں کہیں کہیں ٹیسیں اٹھنا، ایام ماہواری کی بے قاعدگی، یہ ان طریقوں کے لازمی اثرات ہیں۔
__________________________________________________________________________ ١- عزل کا مطلب یہ ہے کہ مباشرت میں جب آدمی انزال کے قریب پہنچے تو عضو باہر نکال لے اور اپنا مادہ منویہ عورت کے اندر نہ جانے-
بعض دوسرے ڈاکٹروں نے بیان کیا ہے کہ اعوجاج رحم Falling of the)(Womb حافظه کی خرابی اور بسا اوقات مراق، خفقان اور جنون جیسے عوارض بھی ان طریقوں کے استعمال سے پیدا ہو جاتے ہیں۔ نیز یہ کہ زیادہ عرصہ تک جس عورت کے ہاں بچہ نہیں ہوتا اس کے اعضائے تناسل میں ایسے تغیرات واقع ہوتے ہیں جن سے اس کی قابلیت تولید متاثر ہو جاتی ہے اور اگر کبھی وہ حاملہ ہو جائے تو اس کو زمانہ حمل اور وضع حمل میں سخت تکلیف اٹھانی پڑتی ہے_١
"بلوغ کے وقت عورت کے جسم میں جتنے تغیرات ہوتے ہیں سب تناسل کے مقصد ہی کیلئے ہوتے ہیں ۔ ایام ماہواری کے دورے اسی غرض کیلئے ہوتے ہیں کہ بار بار عورت کو استقرار حمل کے لیے تیار کریں۔ ایک نا کند اعورت میں، جو اپنے آپ کو استقرار عمل سے روکتی ہے، ایام کا ہر دورہ ان تمام اعضاء کی نا امیدی کے ساتھ ختم ہوتا ہے جو اس دورہ میں عمل کے لیے تیار کیے گئے تھے۔ اس اقتضائے طبیعی کے پورا نہ ہونے اور تناسلی اعضاء کے معطل رہنے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ تناسلی اعضاء کی فعلیت میں برہمی و بدنظمی پیدا ہو، ایام ماہواری تکلیف اور بے قاعدگی کے ساتھ آنے لگیں، چھاتیاں ڈھلک جائیں۔ چہرے کی رونق اور خوبصورتی رخصت ہو جائے اور مزاج میں اشتعال پذیری یا افسردگی پیدا ہو جائے۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ انسان کی زندگی میں اس کے صنفی غدد کا بڑا اثر ہے۔ جو ندے زوجی قوت پیدا کرتے ہیں ، وہی انسان میں تو انائی، حسن اور چستی بھی پیدا کرتے ہیں۔ انہی سے انسان میں کیرکٹر کی بہت سے خصوصیات پیدا ہوتی ہیں۔ زمانہ بلوغ کے قریب جب ان غدوں کا عمل تیز ہو جاتا ہے تو جس طرح انسان میں تناسل کی استعداد پیدا ہوتی ہے، اسی طرح اس میں خوبصورتی شگفتگی، دہنی قوت، جسمانی قوت ، جوانی اور عملی سرگرمی بھی پیدا ہوتی ہے۔ اگر ان غدوں کے فطری مقصد کو پورا نہ کیا جائے گا تو یہ اپنے ضمنی فعل یعنی تقویت کو بھی چھوڑ دیں گے۔ خصوصاً عورت کو استقرارِ حمل سے روکنا دراصل اس کی پوری مشین کو معطل اور بے مقصد بنانا ہے۔“
" یہ ایک ثابت شدہ حیاتیاتی قانون ہے کہ جسم کا ہر عضو اپنا خاص وظیفہ انجام دینا چاہتا ہے اور اس کام کو پورا کرنا چاہتا ہے جو فطرت نے اس کے سپرد کیا ہے۔ نیز یہ کہ اگر اسے اپنا کام کرنے سے روکا جائے گا تو لازما الجھنیں اور مشکلات پیدا ہوں گی ۔ عورت کا جسم استقرار عمل اور تولید ہی کیلئے بنایا گیا ہے۔ اگر ایک عورت کو اپنے جسمانی اور ذہنی نظام کے اس اقتضاء کو پورا کرنے سے روکا جائے گا تو وہ اضمحلال اور شکستگی کا شکار ہو جائے گی۔ اس کے برعکس مادر یت میں وہ ایک نیا حسن .... ایک روحانی بالیدگی پالتی ہے جو اس جسمانی فرسودگی پر غالب آجاتی ہے جس سے ( زچگی کے باعث ) عورت دو چار ہوتی ہے_١
یہ ایک نا قابل انکار حقیقت ہے کہ ضبط ولادت عورت پر ایک صریح ظلم ہے۔ یہ اسے اپنی فطرت سے برسر پیکار کر دیتا ہے اور اس کے نتیجے میں اس کا پورا جسمانی اور اعصابی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔
اول تو ضبط ولادت فی نفسه انسان کے فطری نظام کے خلاف ایک بغاوت ہے اور اس کی مضر تیں بے پناہ ہیں۔ پھر ضبط ولادت کےجو طریقےاختیار کیے جاتے ہیں وہ مرد اور عورت دونوں پر اور خصوصیت سے عورت پر ایسے اثرات چھوڑتے ہیں جو اس کی پوری زندگی کو متاثر کر دیتے ہیں اور اس کی شخصیت کی چولیں ہلا دیتے ہیں۔
ضبط ولادت کا بہت پرانا اور بڑا اہم ذریعه اسقاط حمل (Abortion) ہے۔ مانع حمل ذرائع (Contraceptives) کے فروغ کے باوجود آج بھی دنیا میں اس پر بکثرت عمل ہو رہا ہے اور بعض ممالک میں صرف اسقاط حمل ہی کیلئے با قاعدہ کلب اور مطب قائم ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مانع حمل ذرائع میں سے کوئی بھی سو فیصدی موثر نہیں ہے۔ ان کے استعمال کے باوجود بسا اوقات حمل قرار پا جاتا ہے، اور اپنی نسل سے بیزار لوگ اس کا علاج یہ کرتے ہیں کہ پیدا ہونے سے پہلے ہی اس بچے کو قتل کر ڈالتے ہیں جو ان کی مرضی کے خلاف دنیا میں آنا چاہتا ہے۔ ضبط ولادت کے حامی بالعموم یہ دعوی کرتے ہیں کہ " خاندانی منصوبہ بندی“ کی وجہ سے اسقاط حمل میں بڑی کمی آجاتی ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ امریکہ میں تازہ ترین اعداد و شمار کی رو سے بقول پروفیسر پال گیب ہارڈ (Paul H Gebhard) آج بھی ۸ فیصدی عورتیں شادی سے پہلے اور ۲۰ سے ۲۵ فیصدی شادی کے بعد اسقاط حمل کا طریقہ اختیار کرتی ہیں۔ جاپان میں دوسری جنگ کے بعد امریکی سپریم کمانڈر کے زیر نگرانی ضبط تولید کی تحریک کو بڑے زور وشور کے ساتھ فروغ دیا گیا لیکن حالات کا گہری نظر سے مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں اس تحریک کی بدولت اسقاط حمل میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ۔ ۱۹۵۰ء میں اس کا رواج / ۲۹ فیصدی آبادی مین تھا۔ ۱۹۵۵ء میں بڑھ کر ۵۲ فیصد تک پہنچ گیا۔ پروفیسر سودے (Sauvy) کے اندازے کےمطابق جاپان میں ہر سال ۱۲ لاکھ اسقاط ہوتے ہیں، اور اگر غیر قانونی اسقاط کو بھی لے لیا جائے ( جو لاکھ سے کم نہیں ) تو تعداد کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے_١
جاپان کے مشہور روز نامہ مینی چی (Mainichi) کے منعقد کردہ سروے کی رو سے جن خاندانوں میں ضبط ولادت پر عمل ہوتا ہے ان میں اسقاط حمل کا طریقہ غیر عامل خاندانوں کےمقابلہ میں چھ گنا زیادہ استعمال ہو رہا ہے۔
انگلستان کے متعلق رائل کمیشن بھی اس نتیجہ پر پہنچا تھا کہ ضبط ولادت پر عامل خاندانوں میں استقاط حمل کا رواج ۸۶۲۷ گنا زیادہ ہے۔ امریکہ کی پرنسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر ایرین ٹوئیر (Irene B Taeuber) کی وسیع تحقیقات بھی اسی نتیجہ پر منتج ہوئیں کہ مانع حمل ذرائع کی آمد کے ساتھ اسقاط حمل میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اب اس کا رواج صرف شادی شدہ خواتین ہی تک محدود نہیں بلکہ ۲۰ سال سے کم عمر کی لڑکیوں میں بھی یہ عام ہے_٢
اور اس امرپر بیشتر ماہرین علوم طبیہ کا اتفاق ہے کہ اسقاط حمل عورت کی صحت اور اس کےنظام اعصاب کیلئے مہلک ہے۔ ہم یہاں صرف ڈاکٹر فریڈرک ٹانگ کی رائے نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں جنہوں نے اس موضوع پر طبی معلومات کا نچوڑ پیش کر دیا ہے:
” جب حمل کو اس کی تکمیل سے پہلے ہی خارج کر دیا جاتا ہے.... جسے اصطلاح میں اسقاط حمل(Abortion) کہا جاتا ہے.....نونسلِ انسانی کو اس کی وجہ سے تین طرح کے نقصان برداشت کرنے پڑتے ہیں۔
ثالثا، اسقاط کی وجہ سے بہت بڑی تعداد میں ایسے مریضانہ (Pathological) اثرات مترتب ہوتے ہیں جو آئندہ تولید کے امکانات کو بری طرح مجروح کر دیتے ہیں_٣
٣-(Taussing, Fredrick j, "The Abortion Problem," Proceedings of the conference of National committee on Maternal Health, Baltimore 1944.p.39.)
"گو یہ ابھی کچھ قبل از وقت ہے کہ اس گولی کے متعلق بالکل مستند طبی رائے دی جائے لیکن یہ بہر حال واضح ہے کہ یہ منع حمل کا ایک قطعی اور یقینی ذریعہ نہیں ہو سکتی اور یہ کہ بعد میں اس کے بُرے اثرات عورت کی زندگی پر مترتب ہو سکتے ہیں۔ یہ گولی افزائش بیضہ (Ovultion) کو روک کر اپنا عمل کرتی ہے اور اس طرح ناگزیر ہو کہ یہ عورت کے ایام ماہواری(Menstrual Cycle) میں مخل ہے۔ جب صورت یہ ہےتو یہ بات کسی طرح نہیں مانی جا سکتی کہ عورت کے اتنے اہم عددی نظام میں تبدیلی بلا کسی دوسرے نا خوشگوار اثر کے ممکن ہے_١
ان گولیوں کے متعلق برٹش انسائیکلو پیڈیا آف میڈیکل پریکٹس کے ضمیمہ میں ہم کو ایک اور مستند رائے ملتی ہے۔ ڈاکٹر جی۔ آئی۔ سوئیر (G.I.Swyer) اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ:
"طویل المدت نقصان دہ اثرات کے امکان سے ہم اس وقت انکار نہیں کر سکتے ۔ اس طریقہ کی بڑی خرابیاں یہ ہیں کہ اس میں بیسیوں گولیاں کامل تسلسل کے ساتھ اور مجوزہ پلان کے مطابق استعمال کرنی ہوتی ہیں، نیز گولیوں کی اونچی قیمت اور نا موافق اثرات کی بہت مریض کے لیے اس طریق علاج کی مقبولیت کو بہت کم کر دیتی ہے ہے_٢"
تازہ اخباری اطلاع یہ ہے کہ لندن کے مشہور ڈاکٹر رینیل ڈیوکس کی رائے میں ضبط ولادت کی یہ گولیاں خطرناک نتائج کی حامل ہیں۔ ان سے دور ان سر اور اعصابی تکالیف ہی نہیں، سرطان (Cancer) جیسے موذی مرض کے پیدا ہونے کا بھی اندیشہ ہے_١
٢- امریکہ میں ایک گولی کی قیمت ۵۰ سینٹ یعنی تقریباً سوا دو روپے ہے جو ہمارے ملک تک پہنچ کر کچھ اور بھی مہنگی ہو جائے گی ۔ ہر فرد کو ان گولیوں پر ہر سال ۱۲۰ الریعنی ۵۴۰ روپے خرچ کرنے ہوں گے ۔ (رسالہ کو رونیٹ ماہ اکتو بر ۶۰ ، صفحہ 11) پاکستان میں، جہاں فی کس سالانہ آمدنی اوسطا ڈھائی سوروپے ہے، یہ مہنگا نسخہ آخر کتنے لوگ استعمال کر سکتے ہیں؟ اگر ہم اپنے ملک کی کم از کم ۵۰لا کھ عورتوں کو یہ گولیاں استعمال کرائیں تو ہمیں اس پر پر ارب سے کروڑ روپیہ سالانہ خرچ کرنا ہوگا۔
یہ تو ہے ان طریقوں کی مضرت انگیزی کا عالم لیکن یہ خطرات انگیز کرنے کے بعد بھی یہ یقین نہیں ہے کہ یہ فی الحقیقت مانع حمل ثابت ہوں گے۔ اس لیے کہ انگلش کمیشن آن اسٹیریلائزیشن (Commission of Sterilisation) کی رپورٹ کے الفاظ میں مانع حمل ذرائع پریشان کن حد تک غیر یقینی ہیں۔ سویڈن میں ڈاکٹر ایم ایکیبالڈ (Dr.M.Ekbald) کےتجربات سے بھی یہی معلوم ہوا ہے کہ ۴۷۹ خواتین میں سے ۳۸ فیصدی کو مانع حمل ذرائع استعمال کرنے کے باوجود حمل ٹھہر گیا۔_٢ یعنی ہر قسم کی مضرتیں برداشت کرنے کے بعد بھی آپ پورےیقین کے ساتھ اولاد کے خطرے سے محفوظ نہیں ہو سکتے۔
ان مضرتوں کے علاوہ ایک بڑی مضرت یہ بھی ہے کہ ضبط ولادت کے طریقے استعمال کر کے جب استقرار حمل کی طرف سے بے فکری ہو جاتی ہے تو شہوانی جذبات قابو میں نہیں رہتے ۔ عورت پر مرد کے شہوانی مطالبات جب اعتدال سے بڑھ جاتے ہیں اور زوجین کے درمیان ایک خالص بیمی تعلق باقی رہ جاتا ہے جس میں تمام تر شہوانی میلانات ہی کا غلبہ ہوتا ہے۔
” مرد کی زوجیت کا رخ اگر کلیۂ خواهشات نفس کی بندگی کی طرف پھر جائے اور اس کو قابو میں رکھنے کے لیے کوئی قوت ضابطہ نہ رہے تو اس سے جو حالت پیدا ہوگی وہ اپنی نجاست و دنائت اور زہر یلے نتائج میں ہر اس نقصان سے کہیں زیادہ ہوگی جو بے حد و حساب بچے پیدا کرنے سےرونما ہوسکتی ہے۔“
عائلی زندگی میں ضبط ولادت کے جو مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں ان کی طرف اوپر ضمناً اشارہ کیا جا چکا ہے۔ شوہر اور بیوی کے تعلقات پر اس کا پہلا اور فوری اثر یہ ہوتا ہے کہ جب دونوں کے داعیات فطرت کی تکمیل نہیں ہوتی تو ایک غیر محسوس طریقہ پر دونوں میں ایک طرح کی اجنبیت پیدا ہونے لگتی ہے جو بعد میں مودت ورحمت کی کمی، سرد مہری اور آخر کار نفرت و بیزاری تک پہنچ جاتی ہے۔ خصوصاً عورت میں ان طریقوں کی مداومت سے جو عصبی ہیجان اور چڑ چڑا پن پیدا ہوتا ہے وہ خانگی زندگی کی ساری مسرتوں کو غارت کر دیتا ہے۔
لیکن اس کے علاوہ ایک اور بڑا نقصان بھی ہے جو مادی اسباب سے زیادہ روحانی اسباب کی بدولت رونما ہوتا ہے۔ جسمانی حیثیت سے تو عورت اور مرد کا تعلق محض ایک بہیمی تعلق ہے جیسا جانوروں میں ہوتا ہے۔ مگر جو چیز اس تعلق کو ایک اعلیٰ درجہ کا روحانی تعلق بناتی ہے اور اس کو مودت ورحمت کے ایک گہرے رابطہ میں تبدیل کر دیتی ہے وہ اولاد کی تربیت میں دونوں کی شرکت اور معاونت ہے۔ ضبط ولادت اس مضبوط روحانی رابطہ کو وجود میں آنے سے روکتا ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان کوئی گہرا اور متحکم تعلق پیدا نہیں ہوتا اور ان کے تعلقاتِ ہمیت کے درجہ سے آگے بڑھنے نہیں پاتے۔ اس ہیمیت کا خاصہ یہ ہے کہ کچھ مدت تک ایک دوسرے سے لطف اندوز ہونے کے بعد دونوں کا دل ایک دوسرے سے بھر جاتا ہے۔ پھر اس ہیمیت کے تعلق میں ہر مرد و عورت کے لیے ہر مرد و عورت یکساں ہے۔ اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ ایک جوڑا ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے کا ہو کر رہ جائے۔ وہ اولا دہی ہے جوز وجین کو ایک دوسرے کے ساتھ ہمیشہ کے لیے وابستہ رہنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ جب وہ نہ ہو تو ان کا باہم جڑ کر رہنا سخت مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ اور امریکہ میں زوجی تعلقات نہایت ضعیف ہوتے چلے جارہے ہیں اور ضبط ولادت کی تحریک کے ساتھ ساتھ طلاق کا رواج اس تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے کہ درحقیقت وہاں عائلی زندگی اور خاندانی نظام کا سارا تارو پود بکھرتا نظر آتا ہے۔
(١) عورت اور مرد کو زنا کا لائسنس مل جاتا ہے۔ حرامی اولاد کی پیدائش سے سیرت پر بدنامی وذلت کا بدنما داغ لگ جانےکا کوئی خوف باقی نہیں رہتا۔ اس لیےناجائز تعلقات پیدا کرنے میں دونوں کی ہمت افزائی ہوتی ہے۔
(۲) لذت پرستی اور بندگی نفس حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہے اور اس سے ایک عام اخلاقی انحطاط وبائی مرض کی طرح پھیل جاتا ہے۔
(۳) جن زوجین کے ہاں اولاد نہیں ہوتی ان میں بہت سے وہ اخلاقی خصائص پیدا ہی نہیں ہوتےجو صرف تربیت اطفال ہی سے پیدا ہوا کرتے ہیں۔ یہ ایک حقیت ہے کہ جس طرح ماں باپ بچوں کی تربیت کرتے ہیں اسی طرح بچے بھی ماں باپ کی تربیت کرتے ہیں۔بچوں کی پرورش سے ماں باپ میں محبت، ایثار اور قربانی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ وہ عاقبت اندیشی، صبر و تحمل اور ضبط نفس کی مشق بہم پہنچاتے ہیں۔ سادہ معاشرت اختیار کرنے پر مجبور ہوتےہیں اور محض اپنی ذاتی آسائش کے پیچھےاندھےنہیں ہو سکتے۔ضبط ولادت ان تمام اخلاقی فوائد کا دروازہ بند کر دیتا ہے۔ توالد و تناسل کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اپنی صفت تخلیق در بوبیت کا ایک حصہ انسان کو عطا کرتا ہے اور اس طرح یہ انسان کے لیے متخلق باخلاق اللہ ہونے کا ایک بڑا وسیلہ ہے۔ ضبط ولادت پر عمل کرنے سے انسان اس بڑی نعمت کو بھی کھو دیتا ہے۔
(۴) ضبط ولادت سے بچوں کی اخلاقی تربیت نامکمل رہ جاتی ہے۔ جس بچے کو چھوٹے اور بڑے بھائی بہنوں کے ساتھ رہنےسہنے، کھیلنے کودنےاور معاملت کرنےکا موقع نہیں ملتا وہ بہت سےاعلیٰ اخلاقی خصائص سے محروم رہ جاتا ہے۔ بچوں کی تربیت صرف ماں باپ ہی نہیں کرتے بلکہ وہ خود بھی ایک دوسرے کی تربیت کرتے ہیں۔ ان کا آپس میں رہنا ان کےاندر ملنساری ، محبت و ایثار ، تعاون و رفاقت اور ایسے ہی بہت سے اوصاف پیدا کرتا ہے اور وہ ایک دوسرے پر نکتہ چینی کر کے خود ہی اپنے بہت سے اخلاقی عیوب کو دور کر لیتے ہیں۔جو لوگ ضبط ولادت پر عمل کر کے اپنی اولاد کو صرف ایک بچے تک محدود کر لیتے ہیں یا دو بچےاس طرح پیدا کرتے ہیں کہ ان میں عمر کا بہت زیادہ تفاوت ہوتا ہے وہ دراصل اپنی اولاد کو ایک بہتر اخلاقی تربیت سےمحروم کر دیتے ہیں_١
مانع حمل ذرائع کا علم ہو سکتا ہے کہ شرح مناکحت کو بڑھا دے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ) یہ بیرون نکاح (Extra Matrimonial Intercourse) جنسی تعلق کے مواقع کو بھی عام کر دیتا ہے۔ جن کا عام چلن Great) (Ferequency خود ہمارے اپنے زمانے میں شادی کے تنگ و تاریک مستقبل کا ایک اور مظہر سمجھا جاتا ہے۔“
یہ تو وہ نقصانات تھے جو محض افراد کو ان کی انفرادی حیثیت میں اٹھانے پڑتے ہیں۔ اب دیکھئے کہ اس تحریک کے رواج عام سے نسلوں اور قوموں کو بحیثیت مجموعی کس قدر شدید نقصان پہنچتا ہے-
تخلیق انسان کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو ز بر دست انتظام کیا ہے اس میں خود انسان کا حصہ صرف اس قدر ہے کہ مرد اپنا نطفہ عورت کے جسم میں پہنچا دے۔ اس کے بعد کوئی چیز انسان کےاختیار میں نہیں ہے، سب کچھ اللہ تعالیٰ کی حکمت و مصلحت اور اس کے ارادے پر منحصر ہے۔ ہر مرتبہ جب مرد عورت سے ملتا ہے تو مرد کے جسم سے ۳۰-۴۰ کروڑ جراثیم حیات (Sperm) عورت کےجسم میں داخل ہوتے ہیں اور عورت کے بیضی خلیے (Egg Cell) سے ملنے کے لیے دوڑ لگاتےہیں۔ ان جراثیم میں سے ہر ایک جداگانہ موروثی اور شخصی خصوصیات کا حامل ہوتا ہے۔ انہی میں کند ذہن اور احمق بھی ہوتے ہیں اور عقلاء و حکماء بھی۔ ان میں ارسطو اور ابن سینا بھی ہوتے ہیں اور چنگیز اور نپولین بھی شیکسپیر اور حافظ بھی، میر جعفر اور میر صادق بھی اور اخلاق و وفا کے پہلے بھی۔ یہ بات انسان کے اختیار میں نہیں ہے کہ کسی خصوصیت کے جرثومہ کو کسی ایک خصوصیت رکھنے والےبیضی خلیہ سے ملا کر اپنے انتخاب سے ایک خاص قسم کا انسان پیدا کر دے۔ یہاں صرف اللہ تعالی کا ارادہ و انتخاب بھی کام کرتا ہے اور وہی یہ فیصلہ کرتا ہے کہ کس وقت کس قوم میں کسی قسم کے آدمی بھیجے۔ انسان جو اپنے عمل کے نتائج سے بالکل بے خبر ہے اگر اللہ تعالیٰ کے اس انتظام میں دخل دے گا تو اس کی مثال ایسی ہوگی جیسے کوئی شخص اندھیرے میں لکڑی تھمائے۔ وہ نہیں جانتا کہ اس کی لکڑی کسی سانپ یا بچھو کو مارے گی یا کسی انسان کا سر پھوڑے گی، یا کسی قیمتی شے کو توڑ پھینکے گی۔بہت ممکن ہے کہ ضبط ولادت پر عمل کرنے والا انسان اپنی قوم ایک بہترین جنرل یا مد بر یا حکیم کی پیدائش کو روک دینے کا سبب بن جائے اور اپنی حد سے گزر کر اللہ تعالی کے فعل میں دخل دینے کی سزا اس کو اس صورت میں ملے کہ اس کی نسل میں احمق یا بے ایمان اور غدار پیدا ہوں۔ خصوصاً جس قوم میں یہ مداخلت عام ہو جائے وہ تو بالیقین اپنے آپ کو قحط الرجال کے خطرے میں مبتلا کرتی ہے۔
پروفیسر آرنلڈ گرین اس مسئلہ پر ایکدوسرے زاویہ نظر سے روشنی ڈالتے ہوئے کہتا ہے کہ قریب العمر بھائیوں اور ساتھیوں کی کمی منجمله اور چیزوں کے بچے کو مشکلات میں جتلا کردیتی ہے اور وہ چیخنے چلانے یا تخریبی نوعیت کے کام کرنے میں لگ جاتا ہے۔ ملاحظہ ہو
مقاله (The Middle Class Male Child & Neurosis) by (Arnold Green) اور Modern 4) (ntroduction to Family مرتبه تار من بیل اور از را دو گل - مطبوعه لندن ۱۹۷۱ صفحه ۵۶۸ -
پھر تجربہ یہ بھی بتاتا ہے کہ وہ خاندان زیادہ کامیاب ہیں جو کثیر الاولاد ہیں۔کم اولا در کھنےوالے خاندان ان کے مقابلہ میں نسبتا نا کام پائے گئے ہیں ۔ پروفیسر کو لن کلارک لکھتا ہے:
"اگر چہ ایک بڑے خاندان کو تعلیم دینے کے مسائل بلاشبہ خاصےگراں بار ہیں لیکن یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ ایک نئے بچے کا اضافہ کر کےماں باپ اپنے موجود بچوں کے مفاد کو مجروح کرتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب خود والدین بھی وجدانی طور پر اس حقیقت کو محسوس کرنے لگےہیں جو فرانس کے مسٹر بریارڈ نے بڑی تحقیق کے بعد دریافت کی ہے۔موصوف نے تجار اور دوسرے اعلی پیشوں والے بے شمار کثیر الاولاد خاندانوں کے نشو و ارتقاء اور ذرائع معاش (Careers) کا مطالعہ کیا اور ان کے حالات کا موازنہ ایسے خاندانوں کے بچوں کی زندگی اور معاش سے کیا جن میں اولاد کم تھی تو وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ کثیر الاولا د خاندانوں کے بچے مختصر خاندان والے بچوں کے مقابلے میں آخر کار زندگی کے میدان میں کہیں زیادہ کامیاب رہے ہیں_١"
ضبط ولادت کی عام تحریک میں ہر شخص اپنے ذاتی حالات اور خواہشات وضروریات پر نظر رکھ کر فیصلہ کرتا ہے کہ وہ کتنی اولاد پیدا کرے،بلکہ سرے سے پیدا کرے بھی یا نہیں۔ اس فیصلہ میں اس کے پیش نظر یہ سوال ہی نہیں ہوتا کہ قوم کو اپنی آبادی برقرار رکھنےکیلئےکم از کم کتنےبچوں کی ضرورت ہےاشخاص نہ اس کا صحیح اندازہ کر سکتےہیں اور نہ شخصی ضروریات کے ساتھ وہ قومی ضروریات کا لحاظ کرنےپر قادر ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جدید نسل کی پیدائش سراسر افراد قوم کی خود غرضی پر منحصر ہو جاتی ہے اور شرح پیدائش اس طرح مٹتی چلی جاتی ہے کہ اس کو کسی حد پر روکنا قوم کے اختیار میں نہیں ہوتا۔ اگر افراد میں خود غرضی بڑھتی رہےاور وہ خراب حالات جو ان کو ضبط ولادت پر ابھارتے ہیں خراب تر ہوتے رہیں تو یقیناً ایسے افراد اپنی اغراض پر قوم کی زندگی کو قربان کر دیں گے حتی کہ ایک روز قوم کا خاتمہ ہی ہو جائے گا۔
ضبط ولادت کی عام تحریک سے جس قوم کی آبادی گھٹنے لگتی ہے وہ ہر وقت تباہی کے سرے پر ہوتی ہے۔ اگر کوئی عام وبا پھیل جائے، یا کوئی بڑی جنگ چھڑ جائے جس میں کثرت سے آدمی مرنے لگیں تو ایسی قوم میں دفعتا آدمیوں کا کال رونما ہو جائے گا اور وہ کسی ذریعہ سے بھی اتنےآدمی فراہم نہ کر سکے گی جو مرنے والوں کی جگہ لے سکیں_ ٢ یہی چیز اب سے دو ہزار سال پہلےیونان کو تباہ کر چکی ہے۔ یونان میں اسقاط حمل اور قتل اولا د کا رواج جڑ پکڑ گیا تھا آبادی گھٹتی چلی جا رہی تھی۔ اسی زمانہ میں خانہ جنگیاں برپا ہو گئیں جنہوں نے قوم کے بکثرت افراد کو ہلاک کر دیا۔ اس دوہرے نقصان نے یونانی قوم کا ایسا زور توڑا کہ پھر وہ نہ سنبھل سکی اور آخر کار اپنے گھر میں دوسروں کی غلام بن کر رہی۔ ٹھیک ٹھیک اسی خطرہ میں آج مغربی ممالک اپنے آپ کو مبتلا کر رہے ہیں۔ ممکن ہےکہ اللہ تعالی کا منشا یہی ہو کہ ان سے خود کشی کرائے ۔ مگر ہم کیوں ان کی اندھی تقلید کر کے اپنی شامت کو اپنے ہاتھوں دعوت دیں؟
٢- اس خطرے کو اب موجودہ زمانے کے ایٹمی ہتھیاروں نے اور بھی زیادہ سخت کر دیا ہے۔هیروشیما میں جوانیم بم استعمال کیا گیا تھا وہ میں ہزارٹن ٹی این ٹی کی طاقت کا تھا اور اس سے ۷۸،۱۵۰ ۔ جاپانی ہلاک ۴۲۵، ۳۷ زخمی اور ۱۳۲۰۸۳لا پتہ ہو گئے ۔ آج دس کروڑ ٹن نی این ٹی کے بم بنائے جار ہے ہیں جو ہیروشیما والے ہم سے ۵ ہزار گناہ زیادہ طاقت رکھتےہیں اگر خدا نخواسته کسی وقت دنیا میں ان تباہ کن ہتھیاروں سےکوئی جنگ لڑی گئی تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جنگ کی لپیٹ میں آنے والے ملکوں کی آبادی آنا فانا کس قدر گھٹ جائے گا۔
تجربے اور تحقیق سے یہ خیال غلط ثابت ہو چکا ہے کہ ضبط ولادت معاشی حیثیت سے مفید ہے۔ اب معاشیات کےماہرین میں یہ خیال روز بروز ترقی کرتا جارہا ہے کہ آبادی کی تفصیل معاشی انحطاط (Economic Depression) کے نہایت قوی اسباب میں سے ہے۔ اس لیے کہ شرح پیدائش کے گھٹنےسے پیدا آور آبادی (Producing Population) کم ہو جاتی ہے اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ پیدا آور آبادی میں بے کاری بڑھتی چلی جائے۔ پید اور آبادی صرف جوانوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ برعکس اس کے خرچ کرنے والی آبادی میں بوڑھے، بچے اور معذور لوگ بھی شامل ہوتے ہیں جن کا پیدآوری میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ اگر ان کی تعداد گھٹ جائے تو مجموعی طور پر خرچ کرنے والوں میں بھی کمی واقع ہو گی۔ مال کے خریدار کم ہو جائیں گے تو اسی نسبت سے مال تیار کرنے والوں کو کم کام ملے گا۔ اسی وجہ سے جرمنی اور اٹلی کے ماہرین معاشیات کا ایک موثر گروہ خاص طور پر تو غیر آبادی کے لیے زور دیتا رہا ہے۔
اور اب برطانوی ارامریکی ماہرین میں سے بھی اک طبقہ اس رائے کو پیش کر رہا ہے۔ اس سلسلہ میں لارڈ کینز (Lord Keynes) اور پروفیسر ایچ ہینسن (Alvin H Hansen) پروفیسر کولن کلارک اور پروفیسر جی۔ ڈی۔ ایچ ۔ کول (G.D.H. Cole) کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
"پس معلوم ہوا کہ آبادی میں تیز رفتار اضافہ (Upsurge) معاشی سرگرمی کو تیز تر کر دیتا ہے، خصوصیت سے اس حالت میں جب کہ وسعت اختیار کرنے والی قوتیں (Expansive Forces) سکڑنےوالی قوتوں (Contractive Forces) کے مقابلہ میں زیادہ قوی ہوں، نیز یہی چیز برعکس حالت میں بھی ہوگی... ایسا معلوم ہوتا ہےکہ کینس اور ہینسن کی یہ دلیل (Thesis) کہ نیم بے روزگاری میں اضافہ رفتار شرح اضافہ آبادی میں مسلسل کمی کا نتیجہ ہے اب کافی قبولیت عامہ حاصل کر چکی ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ اضافہ آبادی کے حجم میں مستقل کسی نے ایک طرف اس سرمایہ کاری (Investment) کی ضرورت میں کمی کی موجب ہوگی جو اضافہ آبادی کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیےہوتی ہے اور دوسری طرف اور بھی متعدد سرمایه کارانه سرگرمیوں پر برا اثر ڈالے گی۔ جیسے جیسے شرح اضافہ آبادی گرتا ہے۔ اُس شرح سے سرمایہ کاری میں بھی کمی واقع ہوتی چلی جاتی ہے جو معیاری روزگار (Full Employment ) سے وابستہ ہے۔“
"جدیدہ معاشرہ میں بیشتر صنعتیں غالباً اضافہ آبادی سے ہی مستفید ہوں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ معاشی ادارے کچھ اس طرح کام کر رہے ہیں کہ اگر آبادی میں اضافہ ہو اور مارکیٹ کا سائز بڑھ جائے تو تنظیم کچھ زیادہ کفایت شعارا نہ ہو جائے گی اور فی کس پیداوار بڑھ جائے گی، کم نہیں ہوگی۔ اگر شمالی امریکہ اور مغربی یورپ کی کثیر اور گنجان آبادی نہ ہوتی تو جدید صنعتوں کا ایک بڑا حصہ سخت مشکلات سے دو چار ہوتا اور مصارف پیداوار بہت بڑھ جاتے - - - - بلکہ یہ بھی حل نظر ہے کہ ان حالات میں یہ سو یہ صنعتیں وجود میں بھی آتیں_١
___________________________________________________________________________ ١- یہاں اصل لفظ (Taperine) ہے جو خر ولی شکل کے لیے مستعمل ہوتا ہے یعنی ایک چیز او پرسے موٹی ہواور برابر نیچے تک پتلی ہوتی چلی جائے، جیسے یہ شکل: V
١- (Spengler. Joseph J: "Population Theory." A Survey of Contemporary Economics. Vol. II Illinois. 1952. P16)
١- (Spengler. Joseph J: "Population Theory." A Survey of Contemporary Economics. Vol. II Illinois. 1952. P16)
مباحث مذکورہ بالا کو پیش نظر رکھ کر آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حرث (کھیتی ) اور نسل کی بر بادی کو فساد فی الارض سے کیوں تعبیر فرمایا ہے۔ پھر اس بحث سے آپ اس آیت کا مفہوم بھی خوب سمجھ سکتے ہیں کہ جس میں ارشاد ہوا ہے کہ :
" اور تم اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو ۔ ان کو رزق دینے والے بھی ہم ہی ہیں اور تم کو بھی۔ ان کو قتل کرنا ایک بڑی خطا ہے۔"
اس کے بعد ہم کو ان دلائل سے بحث کرنی ہے جو ضبط ولادت کی تائید میں پیش کیے جاتے ہیں ۔ اس ضمن میں ہم ان احادیث کی صحیح تفسیر بھی بیان کریں گے جن سے ضبط ولادت کے موافقت میں استدلال کیا جاسکتا ہے۔
ضبط ولادت کی تائید میں جو دلائل پیش کیےجاتےہیں ان میں سےاکثر و بیشتر ان حالات پر بنی ہیں جو مغربی تہذیب و تمدن نےپیدا کیےہیں۔حامیان ضبط ولادت کا طریق فکر یه ہےکہ تمدن و معاشرت کےیہ اطوار اور تہذیب کے یہ طریقے ، اور معیشت کے یہ اصول تو ناقابل تغیر ہیں ، البته ان سے جو مشکلات پیدا ہوتی ہیں ان کو ضرور حل کرنا چاہیے، اور ان کا آسان حل یہی ہے که افزائش نسل کو روک دیا جائے لیکن ہم کہتے ہیں کہ تم تمدن و تہذیب کے اسلامی اصول اور معیشت و معاشرت کے اسلامی قوانین اختیار کر کے ان مشکلات ہی کو پیش آنے سے روک دو جنہیں حل کرنے کے لیے تم کو قوانین فطرت کے خلاف جنگ کرنی پڑتی ہے۔
اس مسئلہ پر گزشتہ صفحات میں کافی بحث کی جاچکی ہے۔ لهذا اب ہم صرف ان دلائل سےبحث کریں گے جو مخصوص حالات پر نہیں بلکہ عام انسانی حالات پر نظر کر کے حامیان ضبط ولادت نے اپنی کتابوں اور تقریروں میں بیان کیے ہیں۔
| کتاب | اسلام اور ضبط ولادت |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |