انسان نے خود اپنی تلاش و جستجو سے جتنے طریقے یا مذ ا ہب ایجاد کیے ہیں ان سب کو دو قسموں پر تقسیم کیا جا سکتا ہے- ایک قسم ان مذ ا ہب کی ہے جو تخیل کی بلند پر وازیوں سے پیدا ہوئے ہیں اور انسان کی اعجوبہ پسندی کو اپیل کرتے ہیں- دوسری قسم ان طریقوں کی ہے جو خواہشات اور اہواء نفس سے پیدا ہوئے ہیں اور انسان کے حواس کو اپیل کرتے ہیں- اگرچہ ان دونوں قسم کے طریقوں میں عقل اور استعداد علمی سے کام لیا گیا ہے لیکن نہ عقل ان کی محرک ہے نہ وہ عقل کی اپیل کرتے ہیں، نہ عقلی نتائج کا حصول ان کا نتہائے مقصود ہے- عقل اور استعداد علمی ان کے پاس محض ایک آلہ کے طور پر ہے جس سے وہ ادنی درجہ کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے کام لیتے ہیں- ایک عالم مادی سے قطع نظر کر کے عالم باطنی کی طرف توجہ کرتا ہے اور علم و عقل کی تمام قوتوں کو ایسے ذرائع دریافت کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے جن سے وہ نفس کی باطنی قوتوں کو مادی قیود سے آزاد کرکے مکا شفات اور لذات روحانی اور خوارق عادت کے حصول پر قادر ہو جائے – اس کے مقا بلہ میں دوسرا عالم باطنی سے قطع نظر کر کے اپنی تمام توجہ عالم مادی کی طرف پھیر دیتا ہے اور یہاں وہ علم و عقل کی ساری طاقتوں کو ان طریقوں کے دریا فت کرنے میں استعمال کرتا ہے جن سے مادی اسباب و وسائل سے زیادہ سے زیادہ انتفاع کر کے اپنے جسم کے لیے زیادہ سے زیادہ آسائش اور اپنے حواس کے لیے زیادہ سے زیا دہ لذتیں حاصل کر سکے – غرض علم و عقل ان طریقوں کے خادم ضرور ہیں، مگر بجائے خود ان کی بنا جہل اور نادانی پر ہے –
ا ن کے مقا بلہ میں ایک مذہب وہ ہے جو خدا نے اپنے رسولوں کے ذریعہ بھیجا ہے ا
یہ مذہب خالص علم سے پیدا ہئوا ہے، سراسر عقل کو اپیل کرتا ہے، اور اس کا اصل مقصد انسان کو جہالت کی تاریکی سے نکال کر علم کی روشنی میں لانا ہے تا کہ وہ کائنات میں اپنی اصلی حیثیت سے واقف ہو- موجودات کے ساتھ تعلق کی حقیقی نوعیت کو سمجھے، اور علم و فہم کی روشنی میں اپنی تمام ظاہری و باطنی قوتوں اور مادی روحانی وسائل کو اس مقصد تک پہنچنے میں استعمال کرے جو درحقیقت انسانی زندگی کا اصلی مقصد ہے_________ یعنی اس دنیا میں اس خدمت کا ٹھیک ٹھیک حق ادا کرنا جو اللہ تعالی نے انسان کو اپنا خلیفہ بنا کر اس کے سپرد کی ہے، اور آخرت میں اپنے مالک کی خوشنودی سے سرفراز ہونا جو ادائے فرض کا لازمی نتیجہ ہے-
یہ مذہب انسان کی کسی قوت کو بیکار نہیں کرتا بلکہ ہر ایک کو صرف کرنے کا صحیح راستہ بتاتا ہے- وہ انسان کی کسی خواہش کو پامال نہیں کرتا بلکہ ہر ایک کے لیے ایک جائز اور معقول حد مقرر کر دیتا ہے- وہ تخیل کو بلند پروازی سے روکتا نہیں بلکہ اس کی پرواز کے لیے ایک بہتر فضا اور ایک صحیح رخ متعین کرتا ہے- وہ انسان کی عملی قوتوں کو مادی اسباب و وسائل کے اکتشاف اور ان سے انتفاع کرنے سے باز نہیں رکھتا ، بلکہ اس اکتشاف و انتفاع کو صحیح مقاصد کی طرف موڑ دیتا ہے- وہ ہر شخص کو اسی کام میں لگاتا ہے جس کی اہلیت لے کر وہ پیدا ہوا ہے ، خواہ اس کا میلان روحانیت کی طرف ہو یا مادیت کی طرف ، لیکن ان دونوں قسم کے انسانوں کو وہ ایسے علم اور ایسے تعقل سے بہرہ درکر دینا چاہتا ہے جس کی مدد سے وہ افراط تفریط کوچھوڑ کر ایک صراط مستقیم پر چل سکیں، انسان ہونے کی حیثیت سے اپنے فرائض کو سمجھیں اور بجا لائیں، ان کی ذات پر خدا اور مخلوقات اور خود ان کے اپنے نفس کے جو حقوق ہیں ان کو جانیں اور ادا کریں ، روحانیات کی طرف جائیں تو ان میں اس قدر گم نہ ہو جائیں کہ تمام تر مکاشفات اور لذات روحانی ہی ان کی جد وجہد کا محور بن کر رہ جائیں، اور مادیت کی طرف متوجہ ہوں تو ادھر بھی ان کا انہماک اس قدر نہ بڑھ جائے کہ وہ بالکل حسی لذتوں اور جسمانی آسائشوں اور مادی کامیابیوں ہی کو اپنا کعبئہ مقصود بنالیں-
یہ سراسر علمی و عقلی مذ ہب ہے، اس لیے اس کا صحیح اتباع بھی علم اور عقل کے بغیر نہیں ہو سکتا – یہاں ہر قدم پر تفقہ اور تدبر کی ضرورت ہے- جو شخص اس مذہب کی روح سے آشناہو، اس کی حکمتوں سے نا واقف ہو، اس کے اصول کو نہ سمجھتا ہو، اس کی تعلیم میں غور و فکر کرتا ہو، وہ اس راہ راست پر استقامت کے ساتھ چل ہی نہیں سکتا جس کی طرف یہ مذہب رہنمائی کر رہا ہے- اس کا عقیدہ بے قیمت ہے جبتک کہ وہ زبانی اقرار سے گذر کر فکر و شعورپر حاوی نہ ہو گیا ہو- اس کا عمل بے اثر ہے جب تک کہ وہ علم اور فہم کی روح سے معمورنہ ہو جائے – اس کا اتباع قانون بے معنی ہے جب تک کہ قانون کی سپرٹ اس کے جوارح سے گذر کر اس کے دل و دماغ پر چھا نہ گئی ہو- اگر محض تقلید کی راہ سے وہ بغیر سمجھے بوجھے اس مذہب کی صداقت پر ایمان رکھتا ہو اور اس کا اتباع کر رہا ہو ، تو اس کا ایمان اور اتباع بالکل ایک ریت کے تودے کی طرح ہو گا جسے ہوا کا ہر جھونکا اپنی جگہ سے ہٹاکر دوسری جگہ جما سکتا ہے- ایسے جاہل کے ایمان اور اندھے کے اتباع میں کوئی پائیداری نہیں ہو سکتی- ہر گمراہ کرنے والا اس کو صحیح مرکز سے ہٹا سکتا ہے- ہر خوش نما راستہ اس کو اپنی طرف مائل کر سکتا ہے- ہر توہم ، ہرمفروضہ ، ہر نظریہ اس کے اعتقاد کی بنیادوں کو متزلزل کر سکتا ہے- ہوائے نفس کی ہر لہر اور ضلا لت عام کی ہر رواس کو بہا کر کہیں سے کہیں لے جا سکتی ہے- اگر وہ قداقت پسند ہو گا تو اعتقاد اور عمل کی ہر اس گمراہی پر اصرار کرے گا جو آباؤ اجداد سے اس کو میراث میں ملی ہو- اگر تجدد کا ذوق رکھتا ہو گا تو خواہشات نفس کو اپنا خدا بنا کر ہر اس نئے راستہ پر بھٹکتا پھرے گا جسے اس کے نفس کا شیطان اس کے سامنے مزین بنا کر پیش کر دے- اگر کمزور طبیعت کا ہو گا تو ہر اس راہرد کے پیچھے چل کھڑا ہو گا جو اسے زندگی کے راستے پر کسی حیثیت سے کامیابی کے ساتھ قطع منازل کرتا نظرآئے- اگر خود اپنے اجتہاد سے کوئی راہ نکالنے کی اس میں صلا حیت ہو گی تو دین میں صحیح بصیرت نہ رکھنے اور الہی قانون کے اصول سے ناواقف ہونے کی وجہ سے زندگی کے سفر میں ہر دورا ہے پر پہنچ کر وہ علم کے بجائے ظن و تخمین سے کام لے گا- اور آخر کہیں
نہ کہیں جا کر سیدھے راستے سے بھٹک ہی جائے گا- غرض اس خدائی مذہب کا صحیح اتباع اور اس اتباع میں استقا مت ، جہل اور نا فہمی کے ساتھ ممکن ہی نہیں ہے اس کے لیے علم اور سمجھ بوجھ اور غور و فکر نا گزیر ہے ، اور انہی چیزوں کے کمال پر کمال درجات مترتب ہوتے ہیں-
اس مذہب کی تاریخ پر نگاہ ڈالیے تو ہمارے اس بیان کی صد اقت آپ کے سامنے نمایاں ہو جائے گی- جتنے انبیاء علہیم السلام اللہ کی طرف سے آئے وہ صرف ایک قانون اور ایک کتاب ہی لے کر نہیں آئے بلکہ اس کے ساتھ حکمت بھی لائے، تا کہ لوگ ان کی تعلیم کو سمجھیں اور علی وجہ البصیرت اس قانون کی پیروی کریں جو ان کے ذریعہ سے بھیجا گیا تھا- (النساء :54) (آل عمران :48) (ص :20) (الزخرف : 63) یہ حکمت کیا چیز تھی؟ دین کی سمجھ ، علم کی روشنی ، بصیرت کا نور ، تدبر کی صلاحیت ، اور تفقہ کی قا بلیت جب کبھی کوئی نبی آیا اس نے اپنے پیرووں کو کتاب کے ساتھ یہ چیز بھی دی اور اسی کی مدد سے لوگ سیدھے رستے پر قائم رہے – اس کے بعد ایک دور جہالت اور اندھی تقلید کا آیا جس میں حکمت غائب ہوگئی اور کتاب باقی رہ گئی – کچھ عرصہ تک لوگ محض کتاب کو لیے ہوئے اس ڈگر پر چلتے رہے جس پر ان کے اسلاف انہیں چلا گئے تھے- مگر اب ان میں گمراہیوں کو قبول کرنے کی صلا حیت پیدا ہو گئی ، کیو نکہ وہ چیز ان میں ابقی نہیں رہی تھی جس سے وہ کتاب کو سمجھتے اور ہد ایت کو ضلا لت سے ممتاز کر سکتے- رفتہ رفتہ ان کے قدم راہ راست سے ہٹنے شروع ہوئے- کسی نے ہوائے نفس کا اتباع کیا کسی نے ظن و تخمین کی پیروی کی- کسی نے گمراہ قوموں کے اثرات قبول کیے کسی نے جھوٹے رہنماؤں کو ارباب من دون اللہ بنایا – آخر کار حکمت کے ساتھ کتاب بھی رخصت ہو گئی- اور خدا کے بھیجے ہوئے دین کو مسخ کر کے ادہام اور خرافات اور فکر و عمل کی گمراہیوں کا مجموعہ بنا دیا گیا-
اس طرح بار بار دین الہی کے مسخ ہونے ، اور کتب آسمانی کے گم یا محرف ہو جانے اور امتوں میں ہدایت کے بعد ضلا لت کے پھیل جانے کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ دین الہی میں اصل چیز الفاظ کتاب کی تلاوت اور رسوم مذ ہب کی بجاآوری نہیں ہے، بلکہ تمام تردارومدار کتاب کے صحیح علم و فہم پر ہے- جب تک لوگوں میں حکمت رہی اور وہ آیات الہی میں تدبر کرتے رہے اور انبیاء کی بتائی ہوئی راہ مستقیم پر نور بصیرت کے ساتھ چلتے رہے، اس وقت تک کوئی چیز ان کو گمراہ نہ کر سکی- اور جب یہ چیز ان سے مفقود ہوگئی تو گویا ان میں بیماریوں کی استعداد پیدا ہو گئی – ان کے اندر بھی امراض پیدا ہوئے اور باہر سے بھی وبائی جراثیم نے ان پر حملہ کیا یہاں تک کہ دین اور کتاب اور قانون سب کچھ کھو کر وہ ضلا لت کے ہزارہا راستوں میں بھٹک گئے-
انبیاء سابقین کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی کتاب اور ایسی ہدایت دے کر بھیجا گیا جس کو پچھلی کتابوں کی طرح مسخ اور محرف ہونے کا تو کوئی خطرہ نہیں کیونکہ اللہ تعالی نے اس کو صحیح صورت میں باقی رکھنے کا ایسا انتظام کر دیا ہے کہ اگر انسان اس کو بدلنے اور مٹانے کی کوشش بھی کرے تو کامیاب نہیں ہو سکتا – لیکن اب بھی اس کتاب اور اس ہدایت سے فائدہ اٹھانے ، اور دین کے سیدھے راستے پر قائم رہنے اور اعتقاد و عمل کی گمراہیوں سے بچنے کا انحصار کلیتہ'' اسی چیز پر ہے جس پر ابتدا سے دین الہی کی بنا رکھی گئی ہے ، یعنی علم اور عقل خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت ہر زمانے اور ہر حال میں بہترین رہنما ہے، مگر ان کے لیے جو علم اور عقل رکھتے ہوں، اللہ اور اس کے رسول کی ہدایت کو سمجھیں ، اس میں غور و خوض کریں، اس سے اکتساب نور کریں ، اور زندگی کی ہرراہ میں اس نور کو ے کر چلیں- رہے وہ لوگ جو تفقہ و تدبر کی نعمت کھو چکے ہیں اور صرف اس لیے مسلمان ہیں کہ ان کے باپ دادا ان کو مسلمان چھوڑ گئے ہیں، تو در حقیقت ان کے لیے دین میں کوئی استقامت ہے ہی نہیں- وہ ہروقت گمراہی کے خطرہ میں ہیں- گمراہی ان کے اندر سے بھی پھوٹ سکتی ہے اور باہر سے بھی حملہ کر سکتی ہے- ممکن ہے کہ ان کی اپنی جہالت اور نا فہمی ان کو راہ راست سے بھٹکا دے- اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے گرد و پیش جو ضلا لتیں پھیلی ہوئی ہیں ان میں سے کسی کے پیچھے وہ بغیر جانے بوجھے لگ چلیں – کیونکہ ان کے پاس وہ چیز ہے ہی نہیں جوان کو دین کے سیدھے رستے پر مضبوطی کے ساتھ قائم رکھ سکتی ہے- قرآن مجید میں انسان کی گمراہی کا اصل سبب صرف ایک چیز کو قرار دیا گیا ہے اور وہ آیات الہی کو نہ سمجھنا ہے ، چنانچہ وہ بار بار اس پر متنبہ کرتا ہے اور نہایت شدت کے ساتھ اس کی ندمت کرتا ہے-
(الانفال : 22)
(اعراف :179)
(اعراف :179)
(توبہ:127)
( الحشر :13)
( محمد : 24)
( مومنون :68)
اس عدم تد بر اور نا فہمی کے نتائج دو مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتے ہیں اوروہ دونوں گمراہی کی بد ترین صورتیں ہیں-
ایک صورت یہ ہے کہ انسان بغیر سمجھے بوجھے اپنے دین و ایمان کو دوسروں پر چھوڑ دیتا ہے-خواہ وہ اس کو نجات کے رستے پر لے جائیں یا ہلا کت کے رسننے پر-
( التوبہ : 31)
( احزاب :66-67)
دوسری صورت یہ ہے کہ انسان خدا کی بخشی ہوئی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی رائے پر اعتماد کرتا ہے- اس راہ میں اول تو یقین نہیں ہوتا (جو راہ راست پر چلنے کا یقینی ذریعہ ہے) بلکہ زیادہ تر ظن و گمان ہوتا ہے، دوسرے بڑا خطرہ اس میں یہ ہے کہ انسان کی عقل پر نفس کی خواہشات غالب آجاتی ہیں اور اس کو اعتدال کے خط مسنتقیم سے ہٹا کر افراط و تفریط کی جانب لے جاتی ہیں- جب انسان اس رستے پر چلتا ہے تو اس کی مثال ایسی ہوتی ہے جیسے کوئی گھٹا ٹوپ اندھیرے میں گامزن ہو، کہیں علم صحیح اور عقل سلیم کی بجلی اتفاق سے چمک گئی تو راستہ نظر آگیا اور کچھ چل لیے کلما اضاء لھم مشوا فیہ ،ورنہ حیران ہو کر کھڑے ہو گئے، واذا اظلم علیھم قاموا ، یا چلے تو کسی خارزار میں جا پھنسے یا کسی گڑھے میں گر گئے-
( یونس :36)
( الفرقان : 43- 44)
( قصص :50)
( کہف :28)
( جاثیہ : 18)
یہ نتائج ہیں آیات الہی میں غور و خوض نہ کرنے اور تد بروتفقہ سے کام نہ لینے کے جو لوگ آیات کی تلا وت کرتے ہیں مگر ان کو نہیں سمجھتے، کتاب رکھتے ہیں مگر خود اس کی تعلیم میں بصیرت حاصل کرنے اور اس کے احکام کو معلوم کرنے کی کوشش نہیں کرتے، رسول کی صد ا قت پر ایمان رکھتے ہیں مگر اس ہد ایت کی طرف سے اندھے ہیں جو رسول نے پیش کی ہے، اسلام کی حقا نیت پر اعتقاد رکھتے ہیں مگر اس کے اصول اور اس کی روح سے نا واقف ہیں، ان کے لیے ہر ہر قدم پر یہ خطرہ ہے کہ گمراہی کی ان دونوں صورتوں میں سے کسی صورت میں مبتلا ہو جائیں – اسی لیے اللہ اور اس کے رسول نے مسلمانوں کو بار بار تاکید کی ہے کہ دین میں بصیرت پیدا کریں ، اس کی تعلیم اور اس کے احکام کو سمجھیں، کم از کم ان میں سے ایک گروہ ہمیشہ ایسا رہے جو تفقہ فی الدین حاصل کرنے کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دے تا کہ اپنے دوسرے بھائیوں کی صحیح رہنمائی کر سکے-
فرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے :
( ص :29)
( انعام : 98)
( آل عمران :164)
( بقرہ :269)
( توبہ :122)
اس باب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بکثرت ہد ایات فرمائی ہیں – مثال کے طور پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :-
ایک دوسری حدیث میں ہے
اس وقت مسلمانوں کی سب سے بڑی بلکہ اصلی مصیبت یہی ہے کہ ان میں تفقہ فی الدین اور تد بر فی الکتب وابستہ نہیں ہے- اسی چیز کے فقدان نے ان کے اعتقادات کو کھوکھلا ، ان کی عبادت کو بے روح ، ان کی مساعی کو پراگندہ و پریشان اور ان کی زندگیوں کو بے ضا بطہ و بدنظم کر دیا ہے- اسلام کے شیدائی ان میں بہت ہیں، مگر اسلام کو سمجھنے والے بہت ہی کم ہیں- قرآن ور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر مٹنے والوں کی کمی نہیں، مگر قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جس دین کو پیش کیا ہے اس کی روح اور اس کے اصول کو سمجھنے والے آٹے میں نمک کے برابر ہیں بلکہ اتنے بھی نہیں- یہ اسی نا فہمی کے نتائج ہیں کہ جو لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے اور سمجھتے ہیں ان میں بد ترین قسم کے توہمات اور مشرکانہ عقائد سے لے کر الحاد، دہریت اور کفر کی حد کو پہنچے ہوئے خیالات تک پائے جاتے ہیں اور ان کو اس بات کا احساس تک نہیں کہ جس اسلام کی پیروی کے وہ مدعی ہیں اس میں اور ان خیالات میں کلی تباین ہے- اس سے بد تر حالت ا خلاقی و عملی زندگی کی ہے – بت پرستانہ رسوم و رواجات سے لے کر جد ید مغربی تہذ یب کے بد ترین ثمرات تک ہر قسم کے اطوار اس قوم میں رائج ہیں جو اپنے آپ کو اسلام کا پیروکہتی ہے- اور الا ماشاء اللہ کسی گروہ یہ احساس تک نہیں کہ وہ کہاں کہاں اس قانون کے اصول اور قواعد سے صریح انحراف کر گئی ہے جس پر ایمان رکھنے کا اس کو ھعوی ہے- ہر غلط خیال اور غلط طریقہ جو کہیں سے آتا ہے ان میں رواج پا جاتا ہے اور یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام میں اس کی بھی گنجائش ہے- ہر گمراہ کن شخص جو کسی خوش آیند طریقہ پر چل رہا ہے، بآسانی ان کا رہنما بن جاتا ہے اور یہ سمجھتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم اس کی پیروی بھی کر سکتے ہیں- ہر چیز جو غیر اسلام ہے وہ بے تکلف اسلام کے ساتھ ایک ہی دماغ اور ایک ہی زندگی میں جمع کرلی جاتی ہے ، کیونکہ اسلام اور غیر اسلام کا امبیاز علم و فہم پر موقوف ہے ، اور اسی کا یہاں فقدان ہے- جو شخص مشرق اور مغرب کا فرق جانتا ہو وہ کبھی اس حماقت میں مبتلا نہیں ہو سکتا کہ مشرق کی
طرف چل رہا ہواور یہ سمجھے کہ مغرب کی سمت جارہا ہوں- یہ فعل صرف ایک جاہل ہی کا ہو سکتا ہے، اور یہی جہا لت ہم ایک نہایت قلیل جماعت کے سوا مشرق سے لے کر مغرب تک مسلمانوں میں عام دیکھ رہے ہیں، خواہ وہ ان پڑھ عوام ہوں، یا دستاربند علماء یا خرقہ پوش مشائخ ، یا کالجوں اور یونیورسٹیوں کے تعلیم یا فتہ حضرات – ان سب کے خیالات اور طور طریقے ایک دوسرے سے بدرجہا مختلف ہیں، مگر اسلام کی حقیقت اور اس کی روح سے نا واقف ہونے میں یہ سب یکساں ہیں-
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک نہایت ہی حکیمانہ ارشاد ہے کہ:-
مسلمانوں کی تاریخ کا ہر باب اس ارشاد نبوی کی صد ا قت پر گواہ ہے- اور سب سے زیادہ آج ہم اس کی صداقت کو نمایاں دیکھ رہے ہیں- اگر ہمارے حکمرانوں اور علماء میں تقوی اور دین کا صحیح علم ہوتا تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی ، اور آج بھی اگر مسلمان قوموں کو ایسے رہنما میسر آجائیں تو حالات کے اس درجہ بگڑ جانے پر بھی اصلاح سے مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں-
(ترجمان القرآن - شوال 54ھ – جنوری 36ء)
| کتاب | تفہیمات، اول |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | اسلامک پبلی کیشنز(پرائیویٹ) لمیٹیڈ |
| ٹیگ |