تفہیمات، اول

دیباچہ طبع اول

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دیباچئہ طبع اول

اس سے قبل میرے مضامین کا ایک مجموعہ ''تنقیحات '' کے نام سے شائع ہو چکا ہے- وہ ان مباحث پر مشتمل تھا جن میں موجودہ مغربی نظریات و عملیات کی الجھنوں سے دماغوں کو صاف کرنے کی کوشش کی گئی تھی- اب یہ دوسرا مجموعہ ایک دوسری نوعیت کے مضامین پر مشتمل ہے- اس میں اسلام کے ان مہمات مسائل کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے جن کے متعلق آج کل عموما'' لوگوں میں غلط فہمیاں پھیلی ہوئی ہیں- اسی مناسبت سے اس مجموعہ کا نام '' تفہیمات '' رکھا گیا ہے- ان مضامین کی مقدار توقع سے بہت زیادہ نکلی اس لیے مجبورا'' انہیں تین حصوں پر تقسیم کر دینا پڑا، ورنہ ابتداء یہی خیال تھا کہ یہ ایک ہی مجلد میں سما جائیں گے-

ابو الاعلی

30محرم 59ھ – مارچ 1940ء

دیباچہ طبع ششم

دیباچہ طبع ششم

یہ کتاب اس سے پہلے پانچ مرتبہ طبع ہو چکی ہے- اب یہ چھٹی مرتبہ پریس میں جا رہی ہے- اس موقع پر میں نے نظرثانی کرتے ہوئے نہ صرف یہ کہ بعض جزوی ترمیمات اور کچھ ضروری اضافے کیے ہیں، بلکہ ایک نیا مضمون بھی اس میں بڑھا دیا ہے جس کا عنوان ہے______________''رسول کی حیثیت شخصی اور حیثیت نبوی''-

ابوالاعلی

لاہور-6 نومبر 61ھ(27جمادی الاولی 1381ھ)

عقل کا فیصلہ

بڑے بڑے شہروں میں ہم دیکھتے ہیں کہ سینکڑوں کارخانے بجلی کی قوت سے چل رہے ہیں، ریلیں اور ٹرام گاڑیاں رواں دواں ہیں- شام کے وقت دفتعہ ہزاروں قمقمے روشن ہو جاتے ہیں-گرمی کے زمانہ میں گھر گھر پنکھے چلتے ہیں- مگر ان واقعات سے نہ تو ہمارے اندر حیرت و استعجاب کی کوئی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور نہ ان چیزوں کے روشن یا متحرک ہونے کی علت میں کسی قسم کا اختلاف ہمارے درمیان واقع ہوتا ہے- یہ کیوں؟ اس لیے ان قممقوں کا تعلق جن تاروں سے ہے ان کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں- ان تاروں کا تعلق جس بجلی گھر سے ہے اس کا حال بھی ہم کو معلوم ہے- اس بجلی گھر میں جو لوگ کام کرتے ہیں ان کے وجود کا بھی ہم کو علم ہے- ان کام کرنے والوں پر جو انجینر نگرانی کر رہا ہے اس کو بھی ہم جانتے ہیں – ہم کو یہ بھی معلوم ہے کہ وہ انجینر بجلی بنانے کے کام سے واقف ہے، اس کے پاس بہت سی کلیں ہیں اور ان کلوں کو حرکت دے کر وہ اس قوت کو پیدا کر رہا ہے جس کے جلوے ہم کو قمقموں کی روشنی ، پنکھوں کی گردش ،ریلوں اور ٹرام گاڑیوں کی سیر ، چکپیوں اور کارخانوں میں نظر آتے ہیں – پس بجلی کے آثار کو دیکھ کر اس کے اسباب کے متعلق ہمارے درمیان اختلاف رائے واقع نہ ہونے کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان اسباب کا پورا سلسلہ ہمارے محسوسات میں داخل ہے اور ہم اس کا مشاہدہ کرچکے ہیں-

فرض کیجیے کا یہی قمقمے روشن ہوتے ، اسی طرح پنکھے گردش کرتے ، یونہی ریلیں اور ٹرام گاڑیاں چلپتیں ، چکیاں اور مشینیں حرکت کرتیں، مگر وہ تار جن سے بجلی ان میں پہنچتی ہے ہماری نظروں سے پوشیدہ ہوتے بجلی گھربھی ہمارے محسوسات کے دائرے سے خارج ہوتا بجلی گھر میں کام کرنے والوں کا بھی ہم کو کچھ علم نہ ہوتا اور یہ بھی معلوم نہ ہوتا کہ اس کا رخانہ کا کوئی انجینئر ہے جو اپنے علم اور اپنی قدرت سے اس کو چلا رہا ہے، کیا اس وقت بھی بجلی کے ان آثار کو دیکھ کر ہمارے دل ایسے ہی مطمئن ہوتے ؟ کیا اس وقت بھی ہم اسی طرح ان مظاہر کی علتوں میں اختلاف نہ کرتے ؟ ظاہر ہے کہ آپ اس کا جواب نفی میں دیں گے – کیوں ؟ اس لیے کہ جب آثار کے اسباب پوشیدہ ہوں اور مظاہر کی علتیں غیر معلوم ہوں تو دلوں میں حیرت کے ساتھ بے اطمینانی کا پیدا ہونا ، دماغوں کا اس راز سر بستہ کی جستجومیں لگ جانا ، اور اس راز کے متعلق قیاسات وآراء کا مختلف ہونا ایک بات ہے-

اب ذرا اسی مفروضہ پر سلسلہ کلام کو آگے بڑھائیے – مان لیجیے کہ یہ جو کچھ فرض کیا گیا ہے حقیقت عالم واقعہ میں موجود ہے – ہز اروں لاکھوں قمقمے روشن ہیں، لاکھوں پنکھے چل رہے ہیں، گاڑیاں دوڑرہی ہیں ، کارخانے حرکت کر رہے ہیں اور ہمارے پاس یہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ ان میں کونسی قوت کام کر رہی ہے اور کہاں سے آتی ہے- لوگ ان مظاہر و آثار کو دیکھ کر حیران و ششدر میں- ہر شخص ان کے اسباب کی جستجومیں عقل کے گھوڑے دوڑارہا ہے- کوئی کہتا ہے کہ یہ سب چیزیں آپ سے روشن یا متحرک ہیں- ان کے اپنے وجود سے خارج کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو انہیں روشنی یا حرکت بخشنے والی ہو- کوئی کہتا ہے کہ یہ چیزیں جن مادوں سے بنی ہوئی ہیں انہی کی ترکیب نے ان کے اندر روشنی اور حرکت کی کیفیتیں پیدا کر دی ہیں – کوئی کہتا ہے کہ اس عالم مادہ سے ماوراء چند دیوتا ہیں جن میں سے کوئی قمقمے روشن کرتا ہے ، کوئی ٹرام اور ریلیں چلاتا ہے، کوئی پنکھوں کو گردش دیتا ہے اور کوئی کارخانوں اور چکیوں کا محرک ہے- بعض لوگ ایسے ہیں جو سونچتے سونچتے تھک گئے ہیں اور آخر میں عاجز ہو کر کہنے لگے ہیں کہ ہماری عقل اس طلسم کی کنہ تک نہیں پہنچ سکتی ہم صرف اتنا ہی جانتے ہیں جتنا دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں، اس سے زیادہ کچھ ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور جو کچھ ہماری سمجھ میں نہ آئے اس کی نہ ہم تصدیق کر سکتے ہیں اور نہ تکذیب-

یہ سب گروہ ایک دوسرے سے لڑرہے ہیں- مگر اپنے خیال کی تائید اور دوسرے خیالات کی تکذیب کے لیے ان میں سے کسی کے پاس بھی قیاس اور ظن و تخمین کے سوا کوئی ذریعئہ علم نہیں ہے-

اس دوران میں کہ یہ اختلافات برپا ہیں، ایک شخص آتا ہے اور کہتا ہے کہ بھائیو، میرے پاس علم کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو تمہارے پاس نہیں ہے- اس ذریعہ سے مجھے معلوم ہئوا ہے کہ ان سب قمقموں ، پنکھوں، گاڑیوں، کارخانوں اور چکپیوں کا تعلق چند مخفی تاروں سے ہے جن کو تم محسوس نہیں کرتے –ان تاروں میں ایک بہت بڑے بجلی گھر سے وہ قوت آتی ہے جس کا ظہور روشنی اور حرکت کی شکل میں ہوتا ہے- اس بجلی گھر میں بڑی بڑی عظیم الشان کلیں ہیں جہنیں بشیمار اشخاص چلا رہے ہیں – یہ سب اشخاص ایک بڑے انجینئر کے تابع ہیں، اور وہی انجینئر ہے جس کے علم اور قدرت نے اس پورے نظام کو قائم کیا ہے- اسی کی ہدایت اور نگرانی میں یہ سب کام ہو رہے ہیں-

یہ شخص پوری قوت سے اپنے اس دعوے کو پیش کرتا ہے- لوگ اس کو جھٹلاتے ہیں، سب گروہ مل کر اس کی مخالفت کرتے ہیں ، ایسے دیوار قرار دیتے ہیں، اس کو مارتے ہیں ، تکلیفیں دیتے ہیں ، گھر سے نکال دیتے ہیں، مگر وہ ان سب روحانی اور جسمانی مصیبتوں کے باوجود اپنے دعوی پر قائم رہتا ہے – کسی خوف یا لالچ سے اپنے قول میں ذرہ برابر ترمیم نہیں کرتا – کسی مصیبت سے اس کے دعوے میں کمزوری نہیں آتی- اس کی ہر ہر بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کو اپنے قول کی صداقت پر کامل یقین ہے-

اس کے بعد ایک دوسرا شخص آتا ہے اور وہ بھی بجنسہ یہی قول اسی دعوی کے ساتھ پیش کرتا ہے ، پھر تیسرا ، چوتھا ، پانچواں آتا ہے اور وہی بات کہتا ہے جو اس کے پیشردوں نے کہی تھی – اس کے بعد آنے والوں کا ایک تانتا بندھ جاتا ہے – یہاں تک کہ ان کی تعداد سینکڑوں اور ہزاروں سے متجاوز ہو جاتی ہے، اور یہ سب اسی ایک قول کو اسی ایک دعوی کے ساتھ پیش کرتے ہیں- زمان و مکان اور حالات کے اختلاف کے باوجود ان کے قول میں کوئی اختلاف نہیں ہوتا- سب کہتے ہیں کہ ہمارے پاس علم کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو عام لوگوں کے پاس نہیں ہے- سب کو دیوانہ قرار دیا جاتا ہے، ہر طرح کے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، ہر طریقہ سے ان کو مجبور کیا جاتا ہے کہ اپنے قول سے باز آجائیں، مگر سب کے سب اپنی بات پر قائم رہتے ہیں اور دنیا کی کوئی قوت ان کو اپنے مقام سے ایک انچ نہیں ہٹا سکتی- اس عزم و استقامت کے ساتھ ان لوگوں کی نمایاں خصوصیات یہ ہیں کہ ان میں سے کوئی جھوٹا ، چور خائن، بدکار ، ظالم اور حرام خور نہیں ہے ، ان کے دشمنوں اور مخالفوں کو بھی اس کا اعتراف ہے- ان سب کے اخلاق پاکیزہ ہیں، سیرتیں انتہا درجہ کی نیک ہیں، اور حسن خلق میں یہ اپنے دوسرے ابنائے نوع سے ممتاز ہیں – پھر ان کے اندر جنوں کا بھی کوئی اثر نہیں پایا جاتا – بلکہ اس کے برعکس وہ تہذیب اخلاق ، تزکیہ نفس ، اور دنیوی معاملات کی اصلاح کے لیے ایسی ایسی تعلیمات پیش کرتے اور ایسے ایسے قوانین بناتے ہیں جن کے مشل بنانا تو درکنار بڑے بڑے علماء و عقلاء کو ان کی باریکیاں سمجھنے میں پوری پوری عمریں صرف کر دینی پڑتی ہیں-

ایک طرف وہ مختلف الخیال مکذبین ہیں ، اور دوسری طرف یہ متحد الخیال مدعی دونوں کا معاملہ عقل سلیم کی عدالت میں پیش ہوتا ہے – جج کی حیثیت سے عقل کا فرض ہے کہ پہلے اپنی پوزیشن کو خوب سمجھ لے، پھر فریقین کی پوزیشن کو سمجھے، اور دونوں کا موازنہ کرنے کے بعد فیصلہ کرے کہ کس کی بات قابل ترجیح ہے-

جج کی اپنی پوزیشن یہ ہے کہ خود اس کے پاس امرواقعی کو معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے- وہ خود حقیقت کا علم نہیں رکھتا – اس کے سامنے صرف فریقین کے بیانات ، ان کے دلائل ، ان کے ذاتی حالات اور خارجی آثار و قرائن ہیں- انہی پر تحقیق کی نظر ڈال کر اسے فیصلہ کرنا ہے کہ کس کا برحق ہونا اغلب ہے – مگر اغلبیت سے بڑھ کر بھی وہ کوئی حکم نہیں لگا سکتا ، کیونکہ مسل پر جو کچھ مواد ہے اس کی بنا پر یہ کہنا اس کے لیے مشکل ہے کہ امرواقعی کیا ہے- وہ فریقین میں سے ایک کو ترجیح دے سکتا ہے ، لیکن قطعیت اور یقین کے ساتھ کسی کی تصدیق یا تکذیب نہیں کر سکتا-

مکذبین کی پوزیشن یہ ہے:

.1 حقیقت کے متعلق ان کے نظریے مختلف ہیں- اور کسی ایک نکتہ میں بھی ان کے درمیان اتفاق نہیں ہے حتی کہ ایک ہی گروہ کے افرادمیں بسا اوقات اختلاف پایا گیا ہے-

.2 وہ خوداقرارکرتے ہیں کہ ان کے پاس علم کا کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہے جو دوسروں کے پاس نہ ہو- ان میں سے کوئی گروہ اس سے زیادہ کسی چیز کا مدعی نہیں ہے کہ ہمارے قیاسات دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ وزنی ہیں، مگر اپنے قیاسات کا قیاسات ہونا سب کو تسلیم ہے

.3 - اپنے قیاسات پر ان کا اعتقاد ، ایمان و یقین اور غیر متزلزل و ثوق کی حد تک نہیں پہنچا ہے- ان میں تبدیلی رائے کی مثالیں بکثرت ملتی ہیں- بار ہادیکھا گیا ہے کہ ان میں کا ایک شخص کل تک جس نظریہ کو پورے زور کے ساتھ پیش کر رہا ہے ، آج خود اسی نے اپنے پچھلے نظریہ کی تردید کر دی اورایک دوسرا نظریہ پیش کر دیا – عمر ، عقل ، علم اور تجبربے کی ترقی کے ساتھ ساتھ اکثر ان کے نظریات بدلتے رہتے ہیں-

.4 مدعیوں کی تکذیب کے لیے ان کے پاس بجز اس کے اور کوئی دلیل نہیں ہے کہ انہوں نے اپنی صداقت کا کوئی یقینی ثبوت نہیں پیش کیا، انہوں نے وہ مخفی تارہم کو نہیں دکھا ئے جن کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ قمقموں اور پنکھوں وغیرہ کا تعلق انہی سے ہے ، نہ انہوں نے بجلی کا وجود تجربہ اور مشاہدہ سے ثابت کیا ، نہ بجلی گھر کی ہمیں سیر کرائی ، نہ اس کی کلوں اور مشینوں کا معاینہ کرایا ، نہ اس کے کارندوں میں سے کسی سے ہماری ملاقات کرائی، نہ کبھی انجنیئر سے ہم کو ملایا ، پھر ہم یہ کیسے مان لیں کہ یہ سب کچھ حقائق ہیں؟

مدعیوں کی پوزیشن یہ ہے-

.1 وہ سب آپس میں متفق القول ہیں- دعوی کے جتنے بنیادی نکات ہیں ان سب میں ان کے درمیان کامل اتفاق ہے

.2 ان سب کا متفقہ دعوی یہ ہے کہ ہمارے پاس علم کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو عام لوگوں کے پاس نہیں ہے-

.3 ان میں سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ ہم اپنے قیاس یا گمان کی بنا پر ایسا کہتے ہیں بلکہ سب نے بالاتفاق کہا ہے کہ انجنیئر سے ہمارے خاص تعلقات ہیں- اس کے کارندے ہمارے پاس آتے ہیں، اس نے اپنے کارخانے کی سیر بھی ہم کو کرائی ہے اور ہم جو کچھ کہتے ہیں علم و یقین کی بنا پر کہتے ہیں- ظن و تخمین کی بنا پر نہیں کہتے-

.4 ان میں ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ کسی نے اپنے بیان میں ذرہ برابر بھی تغیرو تبدل کیا ہو- ایک ہی بات ہے جو ان کا ہر شخص دعوی کے آغاز سے زندگی کے آخری سانس تک کہتا رہا ہے-

.5 ان کی سیرتیں انتہا درجہ کی پاکیزہ ہیں – جھوٹ ، فریب ، مکاری ، دغا بازی کا کہیں شائبہ تک نہیں ہے- اور کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ جو لوگ زندگی کے تمام معاملات میں سچے اور کھرے ہوں ، وہ خاص اسی معاملہ میں بالاتفاق کیوں جھوٹ بولیں-

.6 اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ دعوی پیش کرنے سے ان کے پیش نظر کوئی ذاتی فائدہ تھا- برعکس اس کے یہ ثابت ہے کہ ان میں سے اکثر و بشیتر نے اس دعوے کی خاطر انتہائی درجہ کے مصائب برداشت کیے ہیں ، جسمانی تکلیفیں سہیں، قید کیے گئے ، مارے اور پیٹے گئے ، جلاوطن کیے گئے- بعض قتل کر دیئے گئے – حتی کہ بعض کو آرے سے چیرڈالا گیا، اور چند کے سوا کسی کو بھی خوش حالی وفارغ البالی کی زندگی میسر نہ ہوئی – لہذا کسی ذاتی غرض کا الزام ان پر نہیں لگایا جا سکتا – بلکہ ان کا ایسے حالات میں اپنے دعوی تر قائم رہنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کو اپنی صداقت پر انتہا درجہ کا یقین تھا، ایسا یقین کہ اپنی جان بچانے کے لیے بھی ان میں سے کوئی اپنے دعوے سے باز نہ آیا-

.7 ان کے متعلق مجنون یا فاتر العقل ہونے کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے- زندگی کے تمام معاملات میں وہ سب کے سب غایت درجہ کے دانشمند اور سلیم العقل پائے گئے ہیں- ان کے مخالفین نے بھی اکثر ان کی دانشمندی کا لوہا مانا ہے- پھر یہ کیسے باور کیا جا سکتا ہے کہ ان سب کو اسی خاص معاملہ میں جنون لاحق ہو گیا ہو؟ اور وہ معاملہ بھی کیسا؟ جو ان کے لیے زندگی اور موت کا سوال بن گیا ہو- جس کے لیے انہوں نے دنیا بھر کا مقابلہ کیا ہو- جس کی خاطر وہ سالہا سال دنیا سے لڑتے رہے ہوں- جو ان کی ساری عاقلانہ تعلیمات کا دجن کے عاقلانہ ہونے کا بہت سے تکذبین کو بھی اعتراف ہے اصل الاصول ہو-

.8 انہوں نے خود بھی یہ نہیں کہا کہ ہم انجنیئر یا اس کے کارندوں سے تمہاری ملاقات کر ا سکتے ہیں یا اس کا مخفی کارخانہ تمہیں دکھا سکتے ہیں یا تجربہ اور مشاہدہ سے اپنے دعوی کو ثابت کو سکتے ہیں- وہ خود ان تمام امور کو '' غیب'' سے تعبیر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ہم پر اعتماد کرو اور جو کچھ ہم بتاتے ہیں اسے مان لو-

فریقین کی پوزیشن اور ان کے بیانات پر غور کرنے کے بعد اب عقل کی عرالت اپنا فیصلہ صادر کرتی ہے-

وہ کہتی ہے کہ چند مظاہر و آثار کو دیکھ کر ان کے باطنی اسباب و علل کی جستجو دونوں فریقوں نے کی ہے اور ہر ایک نے اپنے اپنے نظریات پیش کیے ہیں – باوی النظر میں سب کے نظریات اس لحاظ سے یکساں ہیں کہ اولا ان میں سے کسی میں استحالہ عقلی نہیں ہے، یعنی قوانین عقلی کے لحاظ سے کسی نظریہ کے متعلق نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا صحیح ہونا غیر ممکن ہے ثانیا ان میں سے کسی کی صحت تجربے یا مشاہدے سے ثابت نہیں کی جا سکتی – نہ فریق اول میں سے کوئی گووہ اپنے نظریات کا ایسا سا ئنٹفک ثبوت دے سکتا ہے جو ہر شخص کو یقین کرنے پر مجبور کر دے – اور نہ فریق ثانی اس پر قادر یا اس کا مدعی ہے-لیکن مزید غور و تحقیق کے بعد چند امور ایسے نظر آتے ہیں جن کی بنا پر تمام نظریات میں سے فریق ثانی کا نظریہ قابل ترجیح قرار پاتا ہے-

اولا ، کسی دوسرے نظریہ کی تائید اتنے کیثر التعداد عاقل ، پاک سیرت ، صادق القول آدمیوں نے متفق ہو کر اتنی قوت اور اتنے یقین و ایمان کے ساتھ نہیں کی ہے-

ثانیا'، ایسے پاکیزہ کیرکڑ اور اتنے کثیر التعداد لوگوں کا مختلف زمانوں اور مختلف مقامات میں اس دعوی پر متفق ہو جانا کہ ان سب کے پاس ایک غیر معمولی ذریعہ علم ہے، اور ان سب نے اس ذریعہ سے خارجی مظاہر کے باطنی اسباب کو معلوم کر لیا ہے ہم کو اس دعوی کی تصدیق پر مائل کر دیتا ہے ، خصوصا اس وجہ سے کہ اپنی معلومات کے متعلق ان کے بیانات میں کوئی اختلاف نہیں ہے، جو معلومات انہوں نے بیان کی ہیں ان میں کوئی استحالئہ عقلی بھی نہیں ہے اور نہ یہ بات قوانین عقلی کی بنا پر محال قرار دی جا سکتی ہے کہ بعض انسانوں میں کچھ ایسی غیر معمولی قوتیں ہوں جو عام طور پر دوسرے انسانوں میں نہ پائی جاتی ہوں-

ثالثا'' ، خارجی مظاہر کی حالت پر غور کرنے سے بھی اغلب یہی معلوم ہوتا ہے کہ فریق ثانی کا نظریہ صحیح ہو- اس لیے کہ قمقمے ، پنکھے ، گاڑیاں، کارخانے وغیرہ تو آپ سے آپ روشن اور متحرک ہیں ، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو ان کا روشن اور متحرک ہونا ان کے اپنے اختیار میں ہوتا ، حالانکہ ایسا نہیں ہے – نہ ان کی روشنی و حرکت ان کے مادہ جسمی کی نرلعیب کا نتیجہ ہے، کیو نکہ جب وہ متحرک اور روشن نہیں ہوتے اس وقت بھی یہی ترکیب جسمی موجود رہتی ہے- نہ ان کا الگ الگ قوتوں کے زیراثر ہونا صحیح معلوم ہوتا ہے ، کیونکہ بسا اوقات جب قمقموں میں روشنی نہیں ہوتی تو پنکھے بھی بند ہوتے ہیں ، ٹرام کاریں بھی موقوف ہو جاتی ہیں اور کارخانے بھی نہیں چلتے – لہذا خارجی مظاہر کی توجیہ میں فریق اول کی طرف سے جتنے نظریات پیش کیے گئے ہیں وہ سب بعیداز عقل وقیاس ہیں- زیادہ صحیح یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ ان تمام مظاہر میں کوئی ایک قوت کارفرماہو اور اس کا سر رشتہ کسی ایسے حکیم و توانا کے ہاتھ میں ہو جو ایک مقررہ نظام کے تحت اس قوت کو مختلف مظاہر میں صرف کر رہا ہو-

باقی رہا مشککین کا یہ قول کہ یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی ، اور جو بات ہماری سمجھ میں نہ آئے اس کی تصدیق یا تکذ یب ہم نہیں کر سکتے ، تو حاکم عقل اس کو بھی درست نہیں سمجھتا کیو نکہ کسی واقعہ کا واقعہ ہونا اس کا محتاج نہیں ہے کہ وہ سننے والوں کی سمجھ میں بھی آجائے – اس کے وقوع کو تسلیم کرنے کے لیے معتبر اور متواتر شہادت کافی ہے – اگر ہم سے چند معتبر آدمی آکر کہیں کہ ہم نے زمین مغرب میں آدمیوں کو لوہے کی گاڑیوں میں بیٹھ کر ہوا پر اڑتے دیکھا ہے ، اور ہم اپنے کانوں سے لندن میں بیٹھ کر امریکہ کا گانا سن آئے ہیں، تو ہم صرف یہ دیکھیں گے کہ یہ لوگ جھوٹے اور مسخرے تو نہیں ہیں؟ ایسا بیان کرنے میں ان کی کوئی ذاتی غرض تو نہیں ہے ؟ ان کے دماغ میں کوئی فتور تو نہیں ہے؟ اگر ثابت ہو گیا کہ وہ جھوٹے ہیں نہ مسخرے، نہ دیوانے ، نہ ان کا کوئی مفاد اس روایت سے وابستہ ہے، اور اگر ہم نے دیکھا کہ اس کو بلا اختلاف بہت سے سچے اور عقلمند لوگ پوری سنجیدگی کے ساتھ بیان کر رہے ہیں تو ہم یقینا'' اس کو تسلیم کر لیں گے خواہ لوہے کی گاڑیوں کا ہوا پر اڑنا اور کسی مادی واسطہ کے بغیر ایک جگہ کا گانا کئی ہزار میل کے فاصلہ پر سنائی دینا کسی طرح ہماری سمجھ میں نہ آتا ہو-

یہ اس معا ملہ میں عقل کا فیصلہ ہے – مگر تصدیق و یقین کی کیفیت جس کا نام '' ایمان'' ہے اس سے پیدا نہیں ہوتی – اس کے لیے وجدان کی ضرورت ہے- اس کے لیے ضرورت ہے کہ اندر سے ایک آواز آئے جو تکذ یب ، شک اور تذ بذ ب کی تمام کیفیتوں کا خاتمہ کر دے اور صاف کہہ دے کہ لوگوں کی قیاس آرئیاں باطل ہیں، سچ وہی ہے جو سچے لوگوں نے قیاس سے نہیں بلکہ علم و بصیرت کی رو سے بیان کیا ہے –

(ترجمان القرآن – رجب 52ھ - دسمبر 1933ء)

کوتہ نظری

''ایک دوسال کا خوبصورت بچہ بخار اور درد قولنج میں مبتلا تھا- اس کی تکلیف اور اضطراب کو سخت سے سخت دل انسان بھی نہیں دیکھ سکتا تھا – رفع تکلیف کے لیے کبھی وہ اپنے ماں باپ کی صرف دیکھتا اور کبھی ڈاکٹر کے سامنے کڑوی کسیلی دواکے لیے منہ کھولتا – اسی تکلیف میں ایک دن رات رہ کر ہمیشہ کے لیے اپنے ماں باپ سے رخصت ہو گیا – اس کو کرب اور نزع کی حالت میں دیکھ کر دل میں سوال پیدا ہئوا کہ رب رحیم و کریم جو افت اور شفقت کا منبع ہے ، چھوٹے اور معصوم بچوں پر مصائب اور تکا لیف کیوں وارد کرتا ہے؟ حالانکہ وہ خود کہتا ہے کہ ما انا بظلام للعبید ''-

یہ ایک کرم فرما کے خط کا اقتباس ہے جو سوال ان کے دل میں پیدا ہئوا ہے، قریب قریب وہی سوال مختلف صورتوں میں ہر ایسے موقعہ پر لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے جب وہ موت اور بمیاری اور نزول آفات کا مشاہدہ کرتے ہیں – وبا میں ہزاروں آدمیوں کا انتہائی بے کسی کی موت مرنا، زلزلہ میں ہزار ہا گھروں کا تباہ ہونا ، سیلا ب میں لوگوں کا بے اندازہ مصائب و شدائد سے دو چار ہونا ، مختلف قسم کی موذی بیماریوں میں لوگوں کا سخت کرب و اذ یت کے ساتھ تڑپنا ، غرض مصیبت اور دردو الم کا ہر نظارہ انسان کے دل میں آپ سے آپ یہ سوال پیدا کر دیتا ہے کہ وہ خدا جو رؤف و رحیم ہے ،اور وہ خدا جو اپنی ربو بیت اور اپنے فضل و کرم پر ناز رکھتا ہے، اور وہ خدا جو خود کہتا ہے کہ میں ظالم نہیں ہوں، آخر وہ اپنے بندوں پر یہ سختیاں کیوں نازل کرتا ہے ؟ خود اپنی ہی بنائی ہوئی مخلوق کو، جسے خود اسی نے دردو الم کا احساس

دیا ہے ، اس طرح مصائب و آلام میں کس لیے مبتلا کرتا ہے ؟ بعض لوگ تو اس مسئلہ میں یہاں تک بڑھ جاتے ہیں کہ قہر خدا و ندی کے ان آثار کر حق تعالی کی صفت رافت و رحمت کے منافی سمجھنے لگتے ہیں اور انہیں گمان ہونے لگتا ہے کہ معاذ اللہ خدا ایک اندھی طاقت ( ) ہے جس کو کسی کی راحت و اذ یت کا کچھ علم نہیں- وہ یونہی بلا کسی علم کے بنانے اور توڑنے پھوڑنے میں مشغول ہے-

جن لوگوں نے کائنات کے نظم اور ملکوت ارض و سما ء پر غور کیا ہے وہ اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ کائنات علیحدہ علیحدہ مستقل الوداجزاء پر مشتمل نہیں ہے بلکہ ایک کل ہے جس کے تمام اجزاء ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں – زمین کا ایک ذرہ مریخ اور عطا رو کے ذرات سے ویسا ہی تعلق رکھتا ہے جیسا میرے سر کا ایک بال میرے ہاتھ کے ایک رونگٹے سے رکھتا ہے – گویا پوری کائنات ایک جسد واحد ہے اور اس کے اجزاء میں باہم ویسا ہی ربطہ ہے جیسا ایک جسم کے اجزاء میں ہوتا ہے- پھر جس طرح کائنات کے اجزاء میں ربطہ اور تسلسل ہے اسی طرح ان واقعات میں بھی ربطہ و تسلسل ہے جو اس کائنات میں پیش آتے ہیں- دنیا کا کوئی چھوٹا یا بڑا واقعہ بجائے خود ایک مستقل واقعہ نہیں ہے- بلکہ وہ تمام کائنات کے سلسلہ واقعات کی ایک کڑی ہے اور کلی مصلحت کے تحت صادر ہوتا ہے جس کو پیش نظر رکھ کر خدا وندعالم اپنی اس غیر محدود سلطنت کو چلارہا ہے- اب یہ امر قابل غور ہے کہ جس شخص کی نظر پوری کائنات پر نہیں بلکہ اس کے ایک نہایت ہی حقیر حصے پر ہے جس کو کل کے ساتھ اتنی نسبت بھی نہیں جتنی ایک ذرہ کو آفتاب کے ساتھ ہوتی ہے، اور جس شخص کے سامنے واقعات عالم کا پورا سلسلہ نہیں ہے بلکہ اس سلسلہ کی بے حدو حساب کڑیوں میں سے محض ایک یا دو یا چند کڑیاں ہیں اور جو شخص کائنات کے اس حقیر حصے اور واقعات کی ان چند کڑیوں میں بھی صرف ظاہری سطح کو دیکھ رہا ہے ، باطنی حقائق تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ اس کے پاس نہیں ہے ، کیا ایسا شخص کسی جزئی واقعے کو دیکھ کر اس کی حکمت و مصلحت کے متعلق کوئی رائے قائم کرنے کا اہل ہو سکتا ہے ؟ اور اگر وہ کوئی رائے قائم کرنے کی جرات کرے تو کیا اس کی رائے صحیح ہو سکتی ہے؟

کائنات کا نظام اورخدا کی خدائی تو خیر اس قدر وسیع ہے کہ اس کے تصور ہی سے ہمارا ذہن تھک جاتا ہے – آپ ایک چھوٹے پیمانہ پر کسی انسانی سلطنت ہی کو لے لیجیئے- جو شخص کرسی وزارت یا تخت شاہی پر بیٹھا ہئوا ایک بڑی سلطنت کا انتظام کر رہا ہے وہ بھی اگرچہ ہماری ہی طرح کا ایک انسان ہے، اور فطری استعداد کے لحاظ سے ہمارے اور اس کے درمیان کچھ زیادہ فرق نہیں ہے ، نیزاس کے جتنے معاملات ہیں ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس کو سمجھنے اور انجام دینے کی قوت و استعداد ہم میں نہ ہو ، لیکن محض یہ فرق کہ وہ کرسئی حکومت پر سے تمام سلطنت کے نظم و نسق کو دیکھ رہا ہے اور ہم ایک گوشے میں اس نظم سے یک گونہ بے تعلق بیٹھے ہوئے ہیں، ہمارے اور اس کے درمیان اتنا عظیم تفادت پیدا کر دیتا ہے کہ ہم با لفعل اس کے معاملات کو نہیں سمجھ سکتے اور اگر کوئی جزئی واقعہ ہمارے سامنے آتا ہے تو ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کی غایت و مصلحت کیا ہے- پھر جب انسان اور انسان کے درمیان محض پوزیشن کے فرق سے اتنا تفاوت واقع ہو جاتا ہے، تو غور کیجے کہ انسان اور خدا کے درمیان کتنا تفاوت ہو گا ، دراں حالیکہ یہاں پوزیشن کا نہیں حقیقت کا فرق عظیم ہے- وہ تمام عالم پر سلطنت کر رہا ہے اور ہم اس کی سلطنت کے ایک نہایت ہی حقیر گوشے میں بیٹھے ہیں- اس کی دانش و بنیش سارے عالم پر حاوی ہے ، اور ہماری دانش و بنیش کی رسائی خود اپنے جسم کی باطنی حقیقتوں تک بھی نہیں – اس کی طاقتیں بے پایاں ہیں اور ہمارے پاس ان میں سے کوئی طاقت بھی نہیں – اگر اس تفاوت عظیم کے باوجود اس کے کاموں پر ہم تنقید کریں اور ان کی حکمت و مصلحت کے متعلق کوئی رائے قائم کریں تو کیا یہ تنقید اس تنقید سے کروڑدرجہ زیادہ جاہلا نہ ہو گی جو ایک گنواراپنی جھونپڑی میں بیٹھ کر سلطنت کے معاملات پر کرتا ہے-

اس سے زیادہ واضح ایک اور مثال لیجیے – فرض کیجیے کہ آپ ایک باغیان ہیں – جو باغ آپ نے بڑی محنت سے لگایا ہے اور جس کی ترتیب و تزئین میں آپ نے اپنی پوری مہارت صرف کر دہی ہے، اس کے درختوں اور پودوں اور بیلوں سے یقینا'' آپ کو محبت ہو گی-

آپ ان کی حفاظت میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھیں گے- ان کو بے ضرورت کاٹنا ، چھانٹنا یا اکھاڑ پھنیکنا آپ کبھی پسند نہ کریں گے اور اگر کوئی غیر آکر ان پر تیشہ چلائے تو آپ کو سخت ناگوار ہوگا – پھر آپ کو علمی طریق سے یہ بھی معلوم ہے کہ نباتات میں راحت اور اذیت ، رنج اور خوشی کا احساس ہوتا ہے ، اور آپ جانتے ہیں کہ درختوں اور پودوں پر قینچی یا کلہاڑی چلائی جائے تو ان کو بھی تکلیف ہوتی ہے اپنے اعضاء کے کٹنے اور اپنے بچوں (پھلوں)سے جدا ہو جانے کا انہیں بھی رنج ہوتا ہے لیکن اس محبت اور علم کے باوجود آپ ضرورت اور باغ کی کلی مصلحت کا لحاظ کر کے اپنے باغ میں تراش خراش کرتے ہیں، پتیوں اور شاخوں کو کاٹتے چھانٹتے ہیں – پودوں کو تراش کر قلمیں لگاتے ہیں، سبزی کو کاٹ کر ہموار کرتے ہیں ،کچے اور پکے پھل حسب ضرورت اتار لیتے ہیں ، کھلے اور بن کھلے پھول توڑلیتے ہیں، غیر ضروری پوروں کو اکھا ڑتے ہیں، سوکھے ہوئے درختوں کو کاٹ پھینکتے ہیں-

اگر درختوں اور پودوں اوربیل بوٹوں کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ سب کچھ سرا سر ظلم ہے-اگر ان میں گویائی ہوتی تو وہ کہتے کہ یہ باغبان کیسا بے دردادرظالم ہے- ہمارے اعضاء کی قطع دبرید کرتا ہے- ہمارے بچوں کو ہم سے چھین لیتا ہے چھوٹے چھوٹے پودوں کو جہنوں نے ابھی زندگی کی ایک بہار بھی نہیں دیکھی تھی، اکھاڑ پھینکتا ہے – ننھی ننھی کلیوں کو توڑے جاتا ہے- بوڑھوں کو دیکھتا ہے نہ بچوں اور جوانوں کو بس کاٹنے سے کام ہے- اور کبھی تو ظالم ایک مشین لے کر اس طرح پھراتا ہے کہ ہماری برادری کے ہزاروں افراد کا بیک وقت صفایا کرڈالتا ہے- کیا ایسا شخص شفیق و مہربان ہو سکتا ہے ؟ اس کے دل میں محبت اور رحمت ورافت کے پاکیزہ جذبات ہو سکتے ہیں؟ ہم تو اس کاٹ چھانٹ اور اکھیڑ پچھاڑمیں کوئی مصلحت بھی نہیں دیکھتے – ہمیں تو یہ ایک اندھا، بے حس ، سنگدل وجود معلوم ہوتا ہے جو بغیر کسی علم و حکمت اور غرض وغایت کے کبھی ہم کو پانی دیتا ہے اور کبھی ہم پر قینچی چلاتا ہے، کبھی ہم کو کھاد بہم پہنچاتا ہے اور کبھی ہمیں کلہاڑی سے کاٹ پھنیکتا ہے، کبھی دوسروں سے ہماری حفاظت کرتا ہے اور کبھی

ہمیں خود اپنے ہاتھوں اکھاڑڈالتا ہے، کبھی بیماریوں میں ہمارا مدادا کرتا ہے اور کبھی خود ایک مشین لے کر ہمارا قتل عام کر دیتا ہے-

اگر درخت آپ کے انتظام پر نکتہ چینی کریں تو آپ کیا کہیں گے ؟ یہی نا کہ ان کی نظر محدود ہے، وہ صرف اپنے وجوداور اپنے قریبی متعلقات کو دیکھتے ہیں،مگر میری نظر وسیع ہے، میں باغ کی کلی مصلحت کو دیکھتا ہوں- وہ صرف اپنے پھل پھول ، پتوں اور شاخوں سے دلچسپی رکھتے ہیں- بہت بڑھے تو آس پاس کے پودوں اوردرختوں سے محبت اور ہمدردی کے تعلقات پیدا کر لیے- مگر میرے پیش نظر پورے باغ کی بہتری ہے اور میں مجموعی طور پر سب کی اصلاح حال کے لیے عمل کررہا ہرں – ہر نادان درخت اور بیوقوف پودا یہ سمجھ رہا ہے کہ سارا باغ اسی کی ذات اور اس کے دوستوں اور عزیزوں کے لیے لگایا گیا ہے اور اس باغ میں اسی کا مفاد قابل لحاظ ہے- لیکن میں نے دراصل ان کو باغ کے لیے لگایا ہے- ان کی ذات سے مجھ کو جو کچھ دلچسپی ہے اپنے باغ کی خاطر ہے- جس حد تک باغ کی بہتری کے لیے مناسب اور ضروری ہے میں ہر درخت اور ہر پودے اور ہر بیل بوٹے کی حفاظت اور پرورش کرتا ہوں- مگر جب باغ کی مصلحت متقاضی ہوتی ہے تو میں اس میں کاٹ چھانٹ ،تراش خراش ، اور اکھاڑ پچھاڑ سب کچھ کرتا ہوں ، کیونکہ باغ کا مجموعی مفاد میرے نزدیک ایک ایک پودے اور ایک ایک درخت اور بیل بوٹے کے شخصی مفاد سے زیادہ قیمت رکھتا ہے- یہ گمان کرتے ہیں کہ میں دشمنی کی راہ سے ان پر ہاتھ صاف کرتا ہوں لیکن یہ محض ان کی نادائی اور تنگ خیالی ہے- ان میں یہ صلاحیت نہیں کہ باغ کے معاملات اور اس کے مصالح کو سمجھ سکیں- ان کے پاس صرف اپنی تکلیف کا احساس اور اپنی راحت اور زندگی کی خواہش ہے- جب ان کی خواہشات اور احساسات کو صدمہ پہنچتا ہے تویہ بے صبر ہو جاتے ہیں اور مجھ پر ظالم ہونے کا شبہ کرنے لگتے ہیں- مگر حقیقت ان کے گمان کے تابع نہیں ہے- ان کے سمجھنے سے میں درحقیقت ظالم نہیں ہو سکتا اور ان کی خاطر میں اپنے باغ کے انتظام کو بھی نہیں بدل سکتا-

اس چھوٹی سی مثال کو جب آپ پھیلا کر دیکھیں گے تو آپ کو اپنے بہت سے گلوں شکووں کا جواب مل جائے گا-

کائنات کے نظم پر جب ہم غور کرتے ہیں تو ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ اس زبردست کارخانے کو بنانے اور چلانے والا یقینا'' ایک ایسا وجود ہونا چاہیے جو کمال درجہ حکیم و دانا اور علیم و خبیر ہو- جس نے ہم میں خواہشات پیدا کی ہیں ممکن نہیں کہ وہ خواہشات سے بے خبر ہو- جس نے ہم میں احساسات پیدا کیے ہیں، ممکن نہیں کہ وہ ہمارے احساسات سے ناواقف ہو- جس نے بچے کو پیدا کیا ہے اور بچے کی پرورش کے لیے ماں باپ کے دل میں محبت پیدا کی ہے ، وہ ضرور جانتا ہے کہ بیماری اور موت سے بچے کو کیا تکلیف ہوتی ہے- اور ماں باپ کے دل کو کیسا صدمہ پہنچتا ہے- لیکن جب یہ سب کچھ جاننے اور ہم سے زیادہ جاننے کے باوجود اس نے بچے اور ماں اور باپ کو یہ اذیت دینا گوارا کیا ، جب ہمارے احساسات سے با خبر ہونے کے باوجود اس نے ان کو پا مال کرنا پسند کیا ، جب ہماری خواہشات کا علم رکھنے کے باوجود اس نے ان کو پورا کرنے سے انکار کیا، تو ہم کو سمجھنا چاہیے کہ ایسا کرنا یقینا'' نا گزیر ہی ہو گا ، اور اس عظیم و خبیر کے علم میں اس سے بہتر کوئی صورت نہ ہو گی، ورنہ وہ اس بہتر صورت ہی کو اختیار کرتا ، کیونکہ وہ حکیم ہے ، اور حکیم کے حق میں یہ گمان نہیں کیا جا سکتا کہ اگر بہتر تدبیر ممکن ہو تو وہ اسے چھوڑ کر بدتر تدبیر اختیار کرے گا________ اس میں شک نہیں کہ اس کی حکمتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور نہیں آسکتیں، اس لیے کہ ہماری نظر پورے نظام عالم پر نہیں ہے، اور ہم نہیں جان سکتے کہ نظام عالم کے مصالح کیا ہیں ، اور ان کے لیے کس وقت کونسی تدبیر ضروری ہے- لیکن اگر اجمالی طور پر ہم اللہ تعالی کی حکمت و دانائی اور اس کے علم کامل پر صحیح اعتقاد رکھتے ہوں تو ہر آفت کے نزول پر ہم سمجھ لیں گے کہ اللہ تعالی کی حکمت اسی کی متقاضی ہو گی اور اس کے علم میں ایسا ہی مناسب ہو گا اور ہمارے لیے بجز تسلیم و رضا کے اور کوئی چارہ نہیں-

پھر ایک دوسری بات جو غور و فکر سے ہم کو معلوم ہوتی ہے ، یہ سب کہ جو ہستی کائنات کے اس نظام کو چلا رہی ہے، اس کے پیش نظر خیر کلی ہے- اس کے کاموں میں جو امور ہم کو شر اور فساد نظر آتے ہیں وہ دراصل اعتباری شرورہیں، یعنی افراد و اشخاص

کی طرف قیاس کرتے ہوئے ان کو شر ورکہا جاسکتا ہے- مگر حقیقت میں وہ سب کلی ہی کے لیے ہیں، اور ان کا وقوع دراصل خیر کلی کے حصول کا ایک نا گزیر وسیلہ ہے- اگر یہ شرورناگزیر ہوتے اور ان کے بغیر خیر کلی کا حصول ممکن ہوتا تو خدائے حکیم و علیم ان کو اختیار نہ کرتا اور کوئی دوسرا نظام تجویز کرتا – خود ہم اپنی کمزوریوں اور نارسائیوں کے باوجود جب گہری نظر سے دیکھتے ہیں تو ہماری عقل حکم لگاتی ہے کہ اس کائنات کے لیے اس سے بہتر نظام ممکن نہیں ہے- کوئی دوسرا نظام ایسا تجویز نہیں کیا جا سکتا جو ان جژوی و اعتباری شرورسے یکسر خالی ہو- بلکہ اگر یہ شرورواقع نہ ہوں تو حقیقت میں ان کا عدم ایک بڑا شرہوگا کیونکہ وہ ایک خیر جزئی کی خاطر بہت سے خیرات کے حصول کو روک دیگا- مثال کے طور پر موت ہی کو لے لیجیے جس پر انسان سب سے زیادہ واویلا کرتا ہے- ایک شخص کی موت کتنے اشخاص کے لیے زندگی کا راستہ صاف کرتی ہے- اگر ایک شخص کو زندگی کا پروانہ دے دیا جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ بہت سے اشخاص پر زندگی کا دروازہ بند کر دیا گیا – اس کی دائمی زندگی اگر خیر ہے تو صرف اس کی ذات کے لیے ہے- لیکن خیر کلی کے لیے وہ شر ہوگی – بخلاف اس کے اس خاص شخص کی موت صرف اس کے لیے ایک جز‏ئی شر ہے- لیکن یہی شربہت سے جزئی خیرات کے حصول کا بھی ذریعہ ہے- رہا خیر کلی تو اس شخص کے مر جانے سے اس میں کوئی نقص واقع نہیں ہوتا کیونکہ نظام عالم میں اس کی موت سے کوئی خلل نہیں آتا-

اسی مثال پر قیاس کر کے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اشخاص پر جتنے مصائب نازل ہوتے ہیں وہ سب ایک اعتبار سے شر ہیں اور دوسرے اعتبار سے وسیلہ خیر، اور خیر کلی کے لیے ان کا وقوع نا گزیر ہے- بسا اوقات ہم خود غور کر کے ان کے وسیلہ خیر ہونے کی جہت کو سمجھ لیتے ہیں- اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ تجربہ سے ہم پر ثابت ہو جاتا ہے کہ جس چیز کو ہم نے شر سمجھاتھا وہ حقیقت میں سبب خیر تھی- لیکن اگر کبھی کسی شر کی جہت خیر ہماری سمجھ میں نہ آئے، تب بھی ہم کو مجملا'' اس حقیقت پر ایمان رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالی جو کچھ کرتا ہے بہتر کرتا ہے، اور ہماری خیریت اسی میں ہے کہ اس کی قضا کے آگے سرجھکا دیں خواہ اس کے فعل کی لم ہماری سمجھ میں آئے یا نہ آئے-

(ترجمان القرآن – ربیع الاول 54ھ - جون 35ء)

ہدایت وضلا لت کا راز

کچھ مدت ہوئی کہ اسلام کے متعلق مسٹر جارج برناڈشا کے خیالات جرائد میں شائع ہوئے تھے – حال میں جب انہوں نے مشرق کا سفر کیا تو اس کے دوران میں سنگاپور کےعربی اخبار '' الہدی'' کا نامہ نگار ان سے ملا اور اس سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے پھر ایک مرتبہ اسلام کی خوبیوں کا اعتراف کیا- انہوں نے کہا کہ اسلام آزادی اور دستوری و ذہنی حریت کا دین ہے- احتماعی نقطئہ نظر سے مسحیت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی – کسی مذ ہب کا نظام اجتماعی اتنا مکمل نہیں ہے جتنا اسلام کا نظام ہے دنیائے اسلام کا تنزل اسلام سے دور ہٹ جانے کی بدولت ہے- مسلمان جب صرف اسلام کی بنیادوں پر جد و جہد کریں گے تو عالم اسلامی کا خواب ، بیداری سے بدل جائے گا-

ان خیالات کے سننے کے بعد نامہ نگار نے سوال کیا کہ جب آپ اسلام کو اچھا سمجھتے ہیں تو پھر اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کیوں نہیں کردیتے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو فطری طور پر ان بیانات کے بعد پیدا ہوتا ہے- کیونکہ ایک سلیم الطبع آدمی کے لیے کسی چیز کے اعتراف قبح اوراس کو ترک کر دینے اور کسی چیز کے اعتراف حسن اور اس کو قبول و تسلیم کر لینے میں کوئی حد فاصل نہیں ہو سکتی- لیکن مسٹر شانے جو کچھ جواب دیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ قبول اسلام کے لیے تیار نہیں ہیں، اور ایسا نہ کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی دلیل بھی نہیں ہے، بلکہ صرف اس چیز کی کمی ہے جس کو شرح صدر کہتے ہیں-

ایک مسٹر شاہی پر موقوف نہیں ہے، بہت سے اہل فکر و نظر پہلے بھی گزر چکے ہیں اور اب بھی موجود ہیں جہنوں نے اسلام کی خوبیوں کا اعتراف کیا، اس کی دنیوی یا دینی یا دونوں حیثیتوں سے مفید ہونے کا اقرار کیا، اس کی تہذ یب ، اس کے نظام اجتماعی اس کی علمی صداقت اور اس کی عملی قوت کی برتری تسلیم کی، مگر جب ایمان لانے اور دائرۂ اسلام میں داخل ہو جانے کا سوال سامنے آیا تو کسی چیزنے ان کو قدم آگے بڑھانے سے روک دیا، اور وہ اسلام کی سرحد پر پہنچ کربرعکس اس کے بہت سے آدمی ایسے بھی ہو گزرے ہیں جہنوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ اسلام کی مخالفت اور اس کی دشمنی میں صرف کر دیا ، لیکن اسی مخالفت کے سلسلہ میں اسلام کا مطالعہ کرتے ہوئے حقیقت اسلام ان پر منکشف ہو گئی اور اس انکشاف کے بعد کوئی چیز ان کو ایمان لانے سے نہ روک سکی-

حقیقت یہ ہے کہ ہدایت و ضلالت کا راز بھی ایک عجیب راز ہے – ایک ہی بات ہے جو ہزاروں آدمیوں کے سامنے کہی جاتی ہے، مگر کوئی اس کی طرف توجہ ہی نہیں کرتا ، کوئی توجہ کرتا ہے لیکن وہ اس کے پردہ گوش پر سے اچٹ کر چلی جاتی ہے ، کوئی اس کو سنتا اور سمجھتا ہے مگر مانتا نہیں ، کوئی اس کی تعریف و تحسین کرتا ہے مگر قبول و تسلیم نہیں کرتا، اور کسی کے دل میں وہ گھر کر جاتی ہے اور وہ اس کی صداقت پر ایمان لے آتا ہے-

ہمارا شب و روز کا مشاہدہ ہے کہ ایک شخص کو بازار میں چوٹ لگ کر گرتے ہوئے سینکڑوں آدمی دیکھتے ہیں۔ بہت سے اس کو معمولی واقعہ سمجھ کر یونہی بس دیکھتے ہوئے گزر جاتے ہیں- بہتوں کے دل میں رحم آتا ہے مگر افسوس کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں- بہت سے اس کا تماشا دیکھنے کے لیے جمع ہو جاتے ہیں- اور بعض اللہ کے بندے ایسے نکلتے ہیں جو بڑھ کر اسے اٹھاتے ہیں، اس سے ہمدردی کرتے ہیں اور اس کو مدد پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں _________ ایک مجرم کو پابہ زنجیر جاتے ہوئے بہت سے آدمی دیکھتے ہیں کوئی اس کی طرف التفات ہی نہیں کرتا، کوئی اس پر حقارت کی نظر ڈالتا ہے، کوئی اس پر ترس کھاتا ہے، کوئی اس کی ہنسی اڑاتا ہے ، کوئی اس کے انجام پر خوش ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے

کہ جیسا کیا ویسا بھرا، اورکوئی اس کے انجام سے عبرت حاصل کرتا ہے اور جرم سے بچنے کی خواہش اس کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے-

یہ تو مختلف لوگوں کی مختلف نفسی کیفیات و تاثرات ہیں، جن کا اختلاف زیادہ تعجب خیز نہیں- اس سے بڑھ کر عجیب بات یہ ہے کہ ایک ہی شخص کے تاثر اور اس پر ہی چیز کے اثر کی نوعیت مختلف اوقات میں مختلف ہوتی ہے- وہی ایک بات ہے جس کو ایک شخص ہزاروں مرتبہ سنتا ہے اور نہیں مانتا، مگر ایک ایسا موقع آتا ہے کہ یکایک اس کے دل کا بند کھل جاتا ہے ، جو بات کان کے پردے میں اٹک کر رہ جاتی تھی وہ سیدھی دل تک پہنچ جاتی ہے، اور وہ خود حیران ہوتا ہے کہ یہی بات میں پہلے بھی بار ہا سن چکا ہوں ، پھر آج یہ کیا ماجراہوگیا کہ یہ خود بخود دل میں اتری چلی جارہی ہے؟ ایک ہی شخص کو بار ہا آفت رسیدہ آدمیوں کے دیکھنے کا اتفاق ہوتا ہے اور وہ ان کی طرف التفات بھی نہیں کرتا – لیکن ایک موقعہ پر کسی شخص کی مصیبت دیکھ کر دفعتہ '' اس کا دل بھر آتا ہے، قسادت کا پردہ چاک چاک ہو جاتا ہے اور وہ سب سے زیادہ ہمدرد ، رحیم اور نرم دل بن جاتا ہے- ایک شخص کو اپنی عمر میں بے شمار عبرتناک مناظردیکھنے کا اتفاق ہوتا ہے کبھی وہ ان کو تماشا سمجھ کر دیکھتا ہے ، کبھی ایک حسرت و افسوس کی نگاہ ڈالتا ہے اور کبھی ایک معمولی نظر سے اس پر ایسا اثر پڑتا ہے کہ دل پر ایک مستقل نقش بیٹھ جاتاہے-

یہی حال ہدایت و ضلالت کا بھی ہے- وہی ایک قرآن تھا- وہی ایک اس کی تعلیم تھی- وہی ایک اس کو سنانے والی زبان تھی- ابوجہل اور ابولہب تمام عمر اس کو سنتے رہے مگر کبھی وہ ان کے کانوں سے آگے نہ بڑھ سکا- خدیجہ الکبری رضی اللہ ، ابوبکر رضی اللہ اور علی رضی اللہ بن ابی طالب نے سنا اور پہلے ہی لمحہ میں اس پر ایمان لے آئے بغیر اس کے کہ ان کے دل میں شک کا شائبہ بھی گزرتا- عمر ابن الخطاب نے بیسیوں مرتبہ اس کو سنا اور صرف یہی نہیں کہ تسلیم نہ کیا بلکہ جوں جوں سنتے رہے مخالف اور دشمن ہوتے چلے گئے، لیکن ایک مرتبہ انہی کانوں نے اس چیز کو سنا تو کان اور دل کے درمیان جتنی مضبوط دیواریں چنی ہوئی تھیں ، یکایک منہدم ہو گئیں اور اس چیز نے ان کے دل میں ایسا اثر کیا کہ ان کہ ان کی زندگی کی بالکل کا یا پلٹ گئی-

ہرچند نقطئہ نظر سے اس اختلاف کیفیت اور اختلاف اثر و تاثر کی بہت سی توجیہیں کی جا سکتی ہیں اور وہ سب اپنی اپنی جگہ درست بھی ہیں- مگر اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جو چیز چشم و گوش اور دل و دماغ کے درمیان کہیں ایک مدت تک حجاب بنی رہتی ہے اور ایک نفسیاتی موقع پر خود بخود چاک ہو جاتی ہے، کہیں سرے سے حجاب بنتی ہی نہیں ، کہیں کسی بات کے لیے حجاب بنتی ہے اور کسی بات کے لیے نہیں بنتی ، وہ بالکل انسان کے ارادۂ و اختیار کے تابع نہیں ہے، بلکہ فطری و جبلی طور پر خود بخود انسان میں پیدا ہوتی ہے-

یہی نکتہ ہے جس کو قرآن مجید میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ :-

ایک اورموقع پر اس کو یوں ادا کیا گیا ہے کہ :-

پھر اس ہدایت کی کیفیت کو یوں بیان کیا ہے کہ :-

اور ضلالت کی کیفیت اس طرح بیان کی ہے کہ :-

ان آیات میں اس فطری کیفیت کو جو ایک حق بات سن کر اسے قبول کر لینے کے لیے اضطراری طور پر دل میں پیدا ہوتی ہے اور جو آخر کار انسان کو ایمان کی طرف کھینچ لاتی ہے ، خدائی ہدایت اور اس کے پیدا کرنے کو '' شرح صدر'' سے تعبیر کیا ہے – اور اس ہدایت کے برعکس انسان کے دل میں حق سے انکار اور اعراض کرنے پر آمادگی کی جو کیفیت پیدا ہوتی ہے ، اس کو اللہ کی طرف سے مسلط کی ہوئی گمراہی قرار دیا گیا ہے، اور'' شرح صدر'' کے مقابل جو انقباضی کیفیت دل میں پیدا ہوتی ہے اسے ''ضیق صدر'' سے تعبیر کیا گیا ہے- پھر اس ''ہدایت و ضلالت'' اور ''شرح صدر'' و ''ضیق صدر'' کے پیدا ہونے کا سبب یہ بتایا ہے کہ انسان جب ایک مرتبہ خدا کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے تو اس کو خود بخود وہ راستہ دکھائی دینے لگتا ہے جو اسے سیدھا خدا کی جانب لے جاتا ہے اور جو شخص سرے سے یہ احساس ہی نہیں رکھتا کہ مجھے کبھی خدا کے حضور میں حاضر ہونا اور اپنے قلب و جوارح کے افعال کا حساب دینا ہے، اس کو لاکھ کوئی شخص کلمہ حق سنائے اور وعظ و تلقین کرے، کوئی بات اس کے دل میں نہیں اترتی اور وہ کسی طرح راہ راست پر نہیں آتا-

یہاں پھر دوباتیں مل گئی ہیں جن کو الگ الگ سمجھ لینے سے قرآن مجید کے وہ مقامات بآسانی حل ہو جاتے ہیں جن میں یہ مضمون مختلف پیرایوں سے بیان کیا گیا ہے-

ایک طرف ہدایت و شرح صدر اور ضلالت و ضیق صدر کی کیفیت کو اللہ تعالی کی طرف منسوب کیا ہے دوسری طرف اس ہدایت و شرح صدر کے عطا کرنے کے لیے یہ شرط لگائی ہے کہ انسان

خدا کی طرف رجوع اور توجہ کرے، اور ضلا لت و ضیق صدر کے مسلط کردینے کا سبب یہ بتایا گیا ہے کہ گمراہ شخص خداکی طرف متوجہ نہیں ہوتا اور اس کے سامنے مسئوں و جوابدہ ہونے کا احساس نہیں رکھتا-

ان دونوں چیزوں کے باہمی تعلق کو یوں سمجھو کہ انسان کی فطرت میں خدا نے ایک ایسی قوت رکھ دی ہے جو اس حق و باطل کے امتیاز اور صحیح و غلط کا فرق سمجھنے میں مدد دیتی ہے اور اس کے ساتھ ہی اسے حق کی طرف بڑھنے اور باطل سے احتراز کرنے پر مائل کرتی ہے- یہی قوت وہ فطری ہدایت ہے جسے خدا اپنی طرف منسوب کرتا ہے اور جس کی طرف ارشاد خدا وندی فطرۂ اللہ التی فطر الناس علیہا میں اشارہ کیا گیا ہے- اس کے خلاف ایک اور قوت بھی انسان میں کام کر رہی ہے جو باطل کو اس کے سامنے مزین کر کے پیش کرتی ہے – ان دونوں کے ساتھ بہت سی خارجی اور داخلی قوتیں ایسی ہیں جن میں سے بعض ہدایت کی قوت کو مدد پہنچانے والی ہوتی ہیں اور بعض ضلا لت کی قوت کو – اکتساب علم اور اس کے مختلف مدارج ، تربیت اور اس کی مختلف کیفیات ، سوسائٹی اور اس کے مختلف احوال ، یہ وہ چیزیں ہیں جو باہر سے اس پر اثر انداز ہوتی ہیں اور ترازو کے دونوں پلڑوں میں سے کسی ایک میں اپنا وزن ڈالتی رہتی ہیں- اور انسان کا اپنے اختیار تمیزی، اپنی فہم و فراست ، اپنی عقل و بصیرت ، اپنے ذرائع اکتساب علم سے صحیح یا غلط کام لینا ، اور اپنی قوت فیصلہ کو بجایا بے جا استعمال کرنا ، یہ وہ چیز ہے جو خود اس کے ارادہ کے تابع ہے اور جس سے وہ ہدایت و ضلا لت کی متضاد قوتوں کے درمیان فیصلہ کرتا ہے-

اب ہوتا یہ ہے کہ خدا کی بخشی ہوئی ہدایت اور اس کی مسلط کی ہوئی ضلالت دونوں غیر محسوس طور پر عمل کرتی رہتی ہیں- ہدایت کی قوت اسے راہ راست کی طرف لطیف اشارے کیا کرتی ہے اور ضلا لت کی قوت اسے باطل کے ملمع پر رجھائے جاتی ہے- مگر کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان غلط اثرات سے متاثر ہو کر اور خود اپنی اختیاری قوتوں کو غلط طریقے سے استعمال کر کے ضلا لت کے پھندے میں گرفتار ہو جاتا ہے اور ہدایت کی پکار پر کان ہی نہیں دھرتا کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ غلط راستے پر چل رہا ہوتا ہے اور اس دوران میں کچھ بیرونی اثرات اور کچھ خود اس کی اپنی عقل و بصیرت ، دونوں مل جل کر اسے گمراہی سے بیزار کر دیتے ہیں اور اس وقت ہدایت کی وہی روشنی جو پہلے مدھم تھی دفتعہ تیز ہو کر اس کی آنکھیں کھول دیتی ہے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک مدت تک انسان ہدایت اور ضلا لت کے درمیان مذ بذ ب رہتا ہے ، کبھی ادھر کھنچتا ہے کبھی ادھر، قوت فیصلہ اتنی قوی نہیں ہوتی کہ بالکل کسی ایک طرف کا ہو جائے بعض بد قسمت اسی تذ بذ ب کے عالم میں دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں ، بعض کا آخری فیصلہ ضلا لت کے حق میں ہوتا ہے اور بعض ایک طویل کشمکش کے بعد ہدایت الہی کا اشارہ پالیتے ہیں- مگر سب سے زیادہ خوش قسمت وہ سلیم الفطرت ، صحیح القلب ، اور سدید النظر لوگ ہوتے ہیں جوخدا کی دی ہوئی عقل ، اس کی عطا کی ہوئی آنکھوں ، اس کے بخشے ہوئے کانوں اور اس کی وولعیت کی ہوئی قوتوں سے ٹھیک ٹھیک کام لیتے ہیں، مشاہدات اور تجربات سے درست نتائج اخذ کرتے ہیں- آیات الہی کو دیکھ کر ان سے صحیح سبق حاصل کرتے ہیں- باطل کی زنیت ان کو رجھانے میں ناکام ہوتی ہے- جھوٹ کا فریب ان کو اپنا گرویدہ نہیں بنا سکتا – ضلا لت کی کج راہیوں کو دیکھتے ہی وہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ آدمی کے چلنے کے قا بل نہیں ہیں- پھر جونہی کہ وہ حق کی طرف رجوع کرتے اور اس کی طلب میں آگے بڑھتے ہیں،حق ان کے استقبال کو آتا ہے ، ہدایت کا نور ان کے سامنے چمکنے لگتا ہے اور حق کو حق سمجھ لینے اور باطل کو باطل جان لینے کے بعد پھر دنیا کی کوئی قوت ان کو راہ راست سے پھیرنے اور گمراہی کی طرف لگانے میں کامیاب نہیں ہوتی-

ایک اور بات بھی اس سلسلہ میں قابل بیان ہے اور ضرورت ہے کہ مسلمان اس کو ذہن نشین کر لیں- عام طور پر جب غیر مسلم مشاہیر کی جانب سے اسلام کے متعلق کچھ اچھے خیالات کا اظہار ہوتا ہے تو مسلمان بڑے فخر سے ان خیالات کو شہرت

دیتے ہیں گویا ان کا اسلام کو اچھا سمجھنا اسلام کے لیے کوئی سرٹیفکیٹ ہے- لیکن یہ حقیقت فراموش نہ کرنی چاہیے کہ اسلام کی صداقت و حقانیت اس سے بے نیاز ہے کہ کوئی اس کا اعتراف کرے- جس طرح آفتاب کا روشن ہونا اس کا محتاج نہیں کہ کوئی اس کو روشن کہے اور جس طرح آگ کا گرم ہونا اور پانی کا سیال ہونا اس کا محتاج نہیں کہ کوئی اس کی گرمی اور اس کے سیلان کو تسلیم کرے، اسی طرح اسلام کا بر حق ہونا اس کا حاجتمند نہیں کہ کوئی اس کے برحق ہونے کو مان لے- خصوصا'' ایسے لوگوں کی تحسین اور مدح تو کوئی بھی وقعت نہیں رکھتی جن کے دل ان کی زبانوں کا ساتھ نہیں دیتے اور جو خود اپنے اعراض و انکار سے اپنی مدح و تحسین کی تکذ یب کرتے ہیں- اگر حقیقت میں وہ اسلام کی خوبی کے متعرف ہوتے تو اس پر ایمان لے آتے لیکن جب انہوں نے زبانی اعتراف کے باو جود ایمان لانے سے انکار کر دیا تو اہل عقل کی نگاہ میں ان کی حیثیت بالکل اس شخص کی سی ہے جو طبیب کی صداقت کو تسلیم کرے، اس کے تجویز کر دہ نسخہ کی صحت کا اعتراف کرے مگر اپنی بیماری کا علاج کسی عطائی طبیب سے کرائے-

مسلمانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ کسی بڑے سے بڑے غیر مسلم کا اعتراف بھی اسلام کے لیے قا بل فخر نہیں ہے- اس کے لیے ایک ہی فخر کافی ہے- اور وہ ان الدین عند اللہ الا سلام (آل عمران :19) اور (رضیت لکم الا سلام دینا (المائدہ :3) کا فخر ہے-

(ترجمان القرآن – محرم 52ھ - مئی 33ء)

اسلام ایک علمی و عقلی مذ ہب

انسان نے خود اپنی تلاش و جستجو سے جتنے طریقے یا مذ ا ہب ایجاد کیے ہیں ان سب کو دو قسموں پر تقسیم کیا جا سکتا ہے- ایک قسم ان مذ ا ہب کی ہے جو تخیل کی بلند پر وازیوں سے پیدا ہو‏ئے ہیں اور انسان کی اعجوبہ پسندی کو اپیل کرتے ہیں- دوسری قسم ان طریقوں کی ہے جو خواہشات اور اہواء نفس سے پیدا ہوئے ہیں اور انسان کے حواس کو اپیل کرتے ہیں- اگرچہ ان دونوں قسم کے طریقوں میں عقل اور استعداد علمی سے کام لیا گیا ہے لیکن نہ عقل ان کی محرک ہے نہ وہ عقل کی اپیل کرتے ہیں، نہ عقلی نتائج کا حصول ان کا نتہائے مقصود ہے- عقل اور استعداد علمی ان کے پاس محض ایک آلہ کے طور پر ہے جس سے وہ ادنی درجہ کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے کام لیتے ہیں- ایک عالم مادی سے قطع نظر کر کے عالم باطنی کی طرف توجہ کرتا ہے اور علم و عقل کی تمام قوتوں کو ایسے ذرائع دریافت کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے جن سے وہ نفس کی باطنی قوتوں کو مادی قیود سے آزاد کرکے مکا شفات اور لذات روحانی اور خوارق عادت کے حصول پر قادر ہو جائے – اس کے مقا بلہ میں دوسرا عالم باطنی سے قطع نظر کر کے اپنی تمام توجہ عالم مادی کی طرف پھیر دیتا ہے اور یہاں وہ علم و عقل کی ساری طاقتوں کو ان طریقوں کے دریا فت کرنے میں استعمال کرتا ہے جن سے مادی اسباب و وسائل سے زیادہ سے زیادہ انتفاع کر کے اپنے جسم کے لیے زیادہ سے زیادہ آسائش اور اپنے حواس کے لیے زیادہ سے زیا دہ لذتیں حاصل کر سکے – غرض علم و عقل ان طریقوں کے خادم ضرور ہیں، مگر بجائے خود ان کی بنا جہل اور نادانی پر ہے –


ا ن کے مقا بلہ میں ایک مذہب وہ ہے جو خدا نے اپنے رسولوں کے ذریعہ بھیجا ہے ا


یہ مذہب خالص علم سے پیدا ہئوا ہے، سراسر عقل کو اپیل کرتا ہے، اور اس کا اصل مقصد انسان کو جہالت کی تاریکی سے نکال کر علم کی روشنی میں لانا ہے تا کہ وہ کائنات میں اپنی اصلی حیثیت سے واقف ہو- موجودات کے ساتھ تعلق کی حقیقی نوعیت کو سمجھے، اور علم و فہم کی روشنی میں اپنی تمام ظاہری و باطنی قوتوں اور مادی روحانی وسائل کو اس مقصد تک پہنچنے میں استعمال کرے جو درحقیقت انسانی زندگی کا اصلی مقصد ہے_________ یعنی اس دنیا میں اس خدمت کا ٹھیک ٹھیک حق ادا کرنا جو اللہ تعالی نے انسان کو اپنا خلیفہ بنا کر اس کے سپرد کی ہے، اور آخرت میں اپنے مالک کی خوشنودی سے سرفراز ہونا جو ادائے فرض کا لازمی نتیجہ ہے-

یہ مذہب انسان کی کسی قوت کو بیکار نہیں کرتا بلکہ ہر ایک کو صرف کرنے کا صحیح راستہ بتاتا ہے- وہ انسان کی کسی خواہش کو پامال نہیں کرتا بلکہ ہر ایک کے لیے ایک جا‏‏ئز اور معقول حد مقرر کر دیتا ہے- وہ تخیل کو بلند پروازی سے روکتا نہیں بلکہ اس کی پرواز کے لیے ایک بہتر فضا اور ایک صحیح رخ متعین کرتا ہے- وہ انسان کی عملی قوتوں کو مادی اسباب و وسائل کے اکتشاف اور ان سے انتفاع کرنے سے باز نہیں رکھتا ، بلکہ اس اکتشاف و انتفاع کو صحیح مقاصد کی طرف موڑ دیتا ہے- وہ ہر شخص کو اسی کام میں لگاتا ہے جس کی اہلیت لے کر وہ پیدا ہوا ہے ، خواہ اس کا میلان روحانیت کی طرف ہو یا مادیت کی طرف ، لیکن ان دونوں قسم کے انسانوں کو وہ ایسے علم اور ایسے تعقل سے بہرہ درکر دینا چاہتا ہے جس کی مدد سے وہ افراط تفریط کوچھوڑ کر ایک صراط مستقیم پر چل سکیں، انسان ہونے کی حیثیت سے اپنے فرائض کو سمجھیں اور بجا لائیں، ان کی ذات پر خدا اور مخلوقات اور خود ان کے اپنے نفس کے جو حقوق ہیں ان کو جانیں اور ادا کریں ، روحانیات کی طرف جائیں تو ان میں اس قدر گم نہ ہو جائیں کہ تمام تر مکاشفات اور لذات روحانی ہی ان کی جد وجہد کا محور بن کر رہ جائیں، اور مادیت کی طرف متوجہ ہوں تو ادھر بھی ان کا انہماک اس قدر نہ بڑھ جائے کہ وہ بالکل حسی لذتوں اور جسمانی آسائشوں اور مادی کامیابیوں ہی کو اپنا کعبئہ مقصود بنالیں-

یہ سراسر علمی و عقلی مذ ہب ہے، اس لیے اس کا صحیح اتباع بھی علم اور عقل کے بغیر نہیں ہو سکتا – یہاں ہر قدم پر تفقہ اور تدبر کی ضرورت ہے- جو شخص اس مذہب کی روح سے آشناہو، اس کی حکمتوں سے نا واقف ہو، اس کے اصول کو نہ سمجھتا ہو، اس کی تعلیم میں غور و فکر کرتا ہو، وہ اس راہ راست پر استقامت کے ساتھ چل ہی نہیں سکتا جس کی طرف یہ مذہب رہنمائی کر رہا ہے- اس کا عقیدہ بے قیمت ہے جبتک کہ وہ زبانی اقرار سے گذر کر فکر و شعورپر حاوی نہ ہو گیا ہو- اس کا عمل بے اثر ہے جب تک کہ وہ علم اور فہم کی روح سے معمورنہ ہو جائے – اس کا اتباع قانون بے معنی ہے جب تک کہ قانون کی سپرٹ اس کے جوارح سے گذر کر اس کے دل و دماغ پر چھا نہ گئی ہو- اگر محض تقلید کی راہ سے وہ بغیر سمجھے بوجھے اس مذہب کی صداقت پر ایمان رکھتا ہو اور اس کا اتباع کر رہا ہو ، تو اس کا ایمان اور اتباع بالکل ایک ریت کے تودے کی طرح ہو گا جسے ہوا کا ہر جھونکا اپنی جگہ سے ہٹاکر دوسری جگہ جما سکتا ہے- ایسے جاہل کے ایمان اور اندھے کے اتباع میں کوئی پائیداری نہیں ہو سکتی- ہر گمراہ کرنے والا اس کو صحیح مرکز سے ہٹا سکتا ہے- ہر خوش نما راستہ اس کو اپنی طرف مائل کر سکتا ہے- ہر توہم ، ہرمفروضہ ، ہر نظریہ اس کے اعتقاد کی بنیادوں کو متزلزل کر سکتا ہے- ہوائے نفس کی ہر لہر اور ضلا لت عام کی ہر رواس کو بہا کر کہیں سے کہیں لے جا سکتی ہے- اگر وہ قداقت پسند ہو گا تو اعتقاد اور عمل کی ہر اس گمراہی پر اصرار کرے گا جو آباؤ اجداد سے اس کو میراث میں ملی ہو- اگر تجدد کا ذوق رکھتا ہو گا تو خواہشات نفس کو اپنا خدا بنا کر ہر اس نئے راستہ پر بھٹکتا پھرے گا جسے اس کے نفس کا شیطان اس کے سامنے مزین بنا کر پیش کر دے- اگر کمزور طبیعت کا ہو گا تو ہر اس راہرد کے پیچھے چل کھڑا ہو گا جو اسے زندگی کے راستے پر کسی حیثیت سے کامیابی کے ساتھ قطع منازل کرتا نظرآئے- اگر خود اپنے اجتہاد سے کوئی راہ نکالنے کی اس میں صلا حیت ہو گی تو دین میں صحیح بصیرت نہ رکھنے اور الہی قانون کے اصول سے ناواقف ہونے کی وجہ سے زندگی کے سفر میں ہر دورا ہے پر پہنچ کر وہ علم کے بجائے ظن و تخمین سے کام لے گا- اور آخر کہیں

نہ کہیں جا کر سیدھے راستے سے بھٹک ہی جائے گا- غرض اس خدائی مذہب کا صحیح اتباع اور اس اتباع میں استقا مت ، جہل اور نا فہمی کے ساتھ ممکن ہی نہیں ہے اس کے لیے علم اور سمجھ بوجھ اور غور و فکر نا گزیر ہے ، اور انہی چیزوں کے کمال پر کمال درجات مترتب ہوتے ہیں-

اس مذہب کی تاریخ پر نگاہ ڈالیے تو ہمارے اس بیان کی صد اقت آپ کے سامنے نمایاں ہو جائے گی- جتنے انبیاء علہیم السلام اللہ کی طرف سے آئے وہ صرف ایک قانون اور ایک کتاب ہی لے کر نہیں آئے بلکہ اس کے ساتھ حکمت بھی لائے، تا کہ لوگ ان کی تعلیم کو سمجھیں اور علی وجہ البصیرت اس قانون کی پیروی کریں جو ان کے ذریعہ سے بھیجا گیا تھا- (النساء :54) (آل عمران :48) (ص :20) (الزخرف : 63) یہ حکمت کیا چیز تھی؟ دین کی سمجھ ، علم کی روشنی ، بصیرت کا نور ، تدبر کی صلاحیت ، اور تفقہ کی قا بلیت جب کبھی کوئی نبی آیا اس نے اپنے پیرووں کو کتاب کے ساتھ یہ چیز بھی دی اور اسی کی مدد سے لوگ سیدھے رستے پر قائم رہے – اس کے بعد ایک دور جہالت اور اندھی تقلید کا آیا جس میں حکمت غائب ہوگئی اور کتاب باقی رہ گئی – کچھ عرصہ تک لوگ محض کتاب کو لیے ہوئے اس ڈگر پر چلتے رہے جس پر ان کے اسلاف انہیں چلا گئے تھے- مگر اب ان میں گمراہیوں کو قبول کرنے کی صلا حیت پیدا ہو گئی ، کیو نکہ وہ چیز ان میں ابقی نہیں رہی تھی جس سے وہ کتاب کو سمجھتے اور ہد ایت کو ضلا لت سے ممتاز کر سکتے- رفتہ رفتہ ان کے قدم راہ راست سے ہٹنے شروع ہوئے- کسی نے ہوائے نفس کا اتباع کیا کسی نے ظن و تخمین کی پیروی کی- کسی نے گمراہ قوموں کے اثرات قبول کیے کسی نے جھوٹے رہنماؤں کو ارباب من دون اللہ بنایا – آخر کار حکمت کے ساتھ کتاب بھی رخصت ہو گئی- اور خدا کے بھیجے ہوئے دین کو مسخ کر کے ادہام اور خرافات اور فکر و عمل کی گمراہیوں کا مجموعہ بنا دیا گیا-

اس طرح بار بار دین الہی کے مسخ ہونے ، اور کتب آسمانی کے گم یا محرف ہو جانے اور امتوں میں ہدایت کے بعد ضلا لت کے پھیل جانے کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ دین الہی میں اصل چیز الفاظ کتاب کی تلاوت اور رسوم مذ ہب کی بجاآوری نہیں ہے، بلکہ تمام تردارومدار کتاب کے صحیح علم و فہم پر ہے- جب تک لوگوں میں حکمت رہی اور وہ آیات الہی میں تدبر کرتے رہے اور انبیاء کی بتائی ہوئی راہ مستقیم پر نور بصیرت کے ساتھ چلتے رہے، اس وقت تک کوئی چیز ان کو گمراہ نہ کر سکی- اور جب یہ چیز ان سے مفقود ہوگئی تو گویا ان میں بیماریوں کی استعداد پیدا ہو گئی – ان کے اندر بھی امراض پیدا ہوئے اور باہر سے بھی وبائی جراثیم نے ان پر حملہ کیا یہاں تک کہ دین اور کتاب اور قانون سب کچھ کھو کر وہ ضلا لت کے ہزارہا راستوں میں بھٹک گئے-

انبیاء سابقین کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی کتاب اور ایسی ہدایت دے کر بھیجا گیا جس کو پچھلی کتابوں کی طرح مسخ اور محرف ہونے کا تو کوئی خطرہ نہیں کیونکہ اللہ تعالی نے اس کو صحیح صورت میں باقی رکھنے کا ایسا انتظام کر دیا ہے کہ اگر انسان اس کو بدلنے اور مٹانے کی کوشش بھی کرے تو کامیاب نہیں ہو سکتا – لیکن اب بھی اس کتاب اور اس ہدایت سے فائدہ اٹھانے ، اور دین کے سیدھے راستے پر قائم رہنے اور اعتقاد و عمل کی گمراہیوں سے بچنے کا انحصار کلیتہ'' اسی چیز پر ہے جس پر ابتدا سے دین الہی کی بنا رکھی گئی ہے ، یعنی علم اور عقل خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت ہر زمانے اور ہر حال میں بہترین رہنما ہے، مگر ان کے لیے جو علم اور عقل رکھتے ہوں، اللہ اور اس کے رسول کی ہدایت کو سمجھیں ، اس میں غور و خوض کریں، اس سے اکتساب نور کریں ، اور زندگی کی ہرراہ میں اس نور کو ے کر چلیں- رہے وہ لوگ جو تفقہ و تدبر کی نعمت کھو چکے ہیں اور صرف اس لیے مسلمان ہیں کہ ان کے باپ دادا ان کو مسلمان چھوڑ گئے ہیں، تو در حقیقت ان کے لیے دین میں کوئی استقامت ہے ہی نہیں- وہ ہروقت گمراہی کے خطرہ میں ہیں- گمراہی ان کے اندر سے بھی پھوٹ سکتی ہے اور باہر سے بھی حملہ کر سکتی ہے- ممکن ہے کہ ان کی اپنی جہالت اور نا فہمی ان کو راہ راست سے بھٹکا دے- اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے گرد و پیش جو ضلا لتیں پھیلی ہوئی ہیں ان میں سے کسی کے پیچھے وہ بغیر جانے بوجھے لگ چلیں – کیونکہ ان کے پاس وہ چیز ہے ہی نہیں جوان کو دین کے سیدھے رستے پر مضبوطی کے ساتھ قائم رکھ سکتی ہے- قرآن مجید میں انسان کی گمراہی کا اصل سبب صرف ایک چیز کو قرار دیا گیا ہے اور وہ آیات الہی کو نہ سمجھنا ہے ، چنانچہ وہ بار بار اس پر متنبہ کرتا ہے اور نہایت شدت کے ساتھ اس کی ندمت کرتا ہے-

اس عدم تد بر اور نا فہمی کے نتائج دو مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتے ہیں اوروہ دونوں گمراہی کی بد ترین صورتیں ہیں-

ایک صورت یہ ہے کہ انسان بغیر سمجھے بوجھے اپنے دین و ایمان کو دوسروں پر چھوڑ دیتا ہے-خواہ وہ اس کو نجات کے رستے پر لے جائیں یا ہلا کت کے رسننے پر-

دوسری صورت یہ ہے کہ انسان خدا کی بخشی ہوئی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی رائے پر اعتماد کرتا ہے- اس راہ میں اول تو یقین نہیں ہوتا (جو راہ راست پر چلنے کا یقینی ذریعہ ہے) بلکہ زیادہ تر ظن و گمان ہوتا ہے، دوسرے بڑا خطرہ اس میں یہ ہے کہ انسان کی عقل پر نفس کی خواہشات غالب آجاتی ہیں اور اس کو اعتدال کے خط مسنتقیم سے ہٹا کر افراط و تفریط کی جانب لے جاتی ہیں- جب انسان اس رستے پر چلتا ہے تو اس کی مثال ایسی ہوتی ہے جیسے کوئی گھٹا ٹوپ اندھیرے میں گامزن ہو، کہیں علم صحیح اور عقل سلیم کی بجلی اتفاق سے چمک گئی تو راستہ نظر آگیا اور کچھ چل لیے کلما اضاء لھم مشوا فیہ ،ورنہ حیران ہو کر کھڑے ہو گئے، واذا اظلم علیھم قاموا ، یا چلے تو کسی خارزار میں جا پھنسے یا کسی گڑھے میں گر گئے-

یہ نتائج ہیں آیات الہی میں غور و خوض نہ کرنے اور تد بروتفقہ سے کام نہ لینے کے جو لوگ آیات کی تلا وت کرتے ہیں مگر ان کو نہیں سمجھتے، کتاب رکھتے ہیں مگر خود اس کی تعلیم میں بصیرت حاصل کرنے اور اس کے احکام کو معلوم کرنے کی کوشش نہیں کرتے، رسول کی صد ا قت پر ایمان رکھتے ہیں مگر اس ہد ایت کی طرف سے اندھے ہیں جو رسول نے پیش کی ہے، اسلام کی حقا نیت پر اعتقاد رکھتے ہیں مگر اس کے اصول اور اس کی روح سے نا واقف ہیں، ان کے لیے ہر ہر قدم پر یہ خطرہ ہے کہ گمراہی کی ان دونوں صورتوں میں سے کسی صورت میں مبتلا ہو جائیں – اسی لیے اللہ اور اس کے رسول نے مسلمانوں کو بار بار تاکید کی ہے کہ دین میں بصیرت پیدا کریں ، اس کی تعلیم اور اس کے احکام کو سمجھیں، کم از کم ان میں سے ایک گروہ ہمیشہ ایسا رہے جو تفقہ فی الدین حاصل کرنے کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دے تا کہ اپنے دوسرے بھائیوں کی صحیح رہنمائی کر سکے-

فرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے :

اس باب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بکثرت ہد ایات فرمائی ہیں – مثال کے طور پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :-

ایک دوسری حدیث میں ہے

اس وقت مسلمانوں کی سب سے بڑی بلکہ اصلی مصیبت یہی ہے کہ ان میں تفقہ فی الدین اور تد بر فی الکتب وابستہ نہیں ہے- اسی چیز کے فقدان نے ان کے اعتقادات کو کھوکھلا ، ان کی عبادت کو بے روح ، ان کی مساعی کو پراگندہ و پریشان اور ان کی زندگیوں کو بے ضا بطہ و بدنظم کر دیا ہے- اسلام کے شیدائی ان میں بہت ہیں، مگر اسلام کو سمجھنے والے بہت ہی کم ہیں- قرآن ور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر مٹنے والوں کی کمی نہیں، مگر قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جس دین کو پیش کیا ہے اس کی روح اور اس کے اصول کو سمجھنے والے آٹے میں نمک کے برابر ہیں بلکہ اتنے بھی نہیں- یہ اسی نا فہمی کے نتائج ہیں کہ جو لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے اور سمجھتے ہیں ان میں بد ترین قسم کے توہمات اور مشرکانہ عقائد سے لے کر الحاد، دہریت اور کفر کی حد کو پہنچے ہوئے خیالات تک پائے جاتے ہیں اور ان کو اس بات کا احساس تک نہیں کہ جس اسلام کی پیروی کے وہ مدعی ہیں اس میں اور ان خیالات میں کلی تباین ہے- اس سے بد تر حالت ا خلاقی و عملی زندگی کی ہے – بت پرستانہ رسوم و رواجات سے لے کر جد ید مغربی تہذ یب کے بد ترین ثمرات تک ہر قسم کے اطوار اس قوم میں رائج ہیں جو اپنے آپ کو اسلام کا پیروکہتی ہے- اور الا ماشاء اللہ کسی گروہ یہ احساس تک نہیں کہ وہ کہاں کہاں اس قانون کے اصول اور قواعد سے صریح انحراف کر گئی ہے جس پر ایمان رکھنے کا اس کو ھعوی ہے- ہر غلط خیال اور غلط طریقہ جو کہیں سے آتا ہے ان میں رواج پا جاتا ہے اور یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام میں اس کی بھی گنجائش ہے- ہر گمراہ کن شخص جو کسی خوش آیند طریقہ پر چل رہا ہے، بآسانی ان کا رہنما بن جاتا ہے اور یہ سمجھتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم اس کی پیروی بھی کر سکتے ہیں- ہر چیز جو غیر اسلام ہے وہ بے تکلف اسلام کے ساتھ ایک ہی دماغ اور ایک ہی زندگی میں جمع کرلی جاتی ہے ، کیونکہ اسلام اور غیر اسلام کا امبیاز علم و فہم پر موقوف ہے ، اور اسی کا یہاں فقدان ہے- جو شخص مشرق اور مغرب کا فرق جانتا ہو وہ کبھی اس حماقت میں مبتلا نہیں ہو سکتا کہ مشرق کی

طرف چل رہا ہواور یہ سمجھے کہ مغرب کی سمت جارہا ہوں- یہ فعل صرف ایک جاہل ہی کا ہو سکتا ہے، اور یہی جہا لت ہم ایک نہایت قلیل جماعت کے سوا مشرق سے لے کر مغرب تک مسلمانوں میں عام دیکھ رہے ہیں، خواہ وہ ان پڑھ عوام ہوں، یا دستاربند علماء یا خرقہ پوش مشائخ ، یا کالجوں اور یونیورسٹیوں کے تعلیم یا فتہ حضرات – ان سب کے خیالات اور طور طریقے ایک دوسرے سے بدرجہا مختلف ہیں، مگر اسلام کی حقیقت اور اس کی روح سے نا واقف ہونے میں یہ سب یکساں ہیں-

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک نہایت ہی حکیمانہ ارشاد ہے کہ:-

مسلمانوں کی تاریخ کا ہر باب اس ارشاد نبوی کی صد ا قت پر گواہ ہے- اور سب سے زیادہ آج ہم اس کی صداقت کو نمایاں دیکھ رہے ہیں- اگر ہمارے حکمرانوں اور علماء میں تقوی اور دین کا صحیح علم ہوتا تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی ، اور آج بھی اگر مسلمان قوموں کو ایسے رہنما میسر آجائیں تو حالات کے اس درجہ بگڑ جانے پر بھی اصلاح سے مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں-

(ترجمان القرآن - شوال 54ھ – جنوری 36ء)

اسلام میں عبادت کا تصور [ نامکمل ]

جہاد فی سبیل اللہ [ نامکمل ]

آزادی کا اسلامی تصور [ نامکمل ]

رواداری [ نامکمل ]

اسلامی قومیت کا حقیقی مفہوم

زمانہ حال میں مسلمانوں کی جماعت کے لیےلفظ ''قوم'' کا استعمال بڑی کثرت کے ساتھ کیا گیا ہے اور عموما'' یہی اصطلاح ہماری اجتماعی حیثیت کو ظاہر کرنے کے لیے رائج ہو چکی ہے- لیکن یہ ایک حقیقت ہے، اور بعض حلقوں کی طرف سے اس کا نا جائز فائدہ اٹھانے کی بھی کوشش کی گئی ہے کہ قرآن اور حدیث میں مسلمانوں کے لیے لفظ قوم (یا نیشن کے معنی میں کسی دوسرے لفظ کو ) اصطلاح کے طور پر استعمال نہیں کیا گیا – میں مختصرا'' یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان الفاظ میں اصلی قباحت کیا ہے جس کی وجہ سے اسلام میں ان سے پرہیز کیا گیا اور وہ دوسرے الفاظ کون سے ہیں جن کو قرآن اور حدیث میں استعمال کیا گیا ہے، یہ محض ایک علمی بحث نہیں ہے- بلکہ اس سے ہمارے بہت سے ان تصورات کی غلطی واضح ہو جاتی ہے جن کی بدولت زندگی میں ہمارا رویہ بنیادی طور پر غلط ہو کر رہ گیا ہے-

لفظ ''قوم '' اور اس کا ہم معنی انگریزی لفظیہ دونوں د راصل جاہلیت کی اصطلاحیں ہیں- اہل جاہلیت نے قومیت کو کبھی خالص تہذیبی بنیادوں پر قائم نہیں کیا ، نہ قدیم جاہلیت کے دور میں اور نہ جد ید جاہلیت کے دور میں- ان کےد ل و دماغ کے ریشوں میں نسلی اور روایتی علائق کی محبت کچھ اس طرح پلادی گئی ہے کہ نسلی روابط اور تاریخی روایات کی رابستگی سے قومیت کے تصور کو کبھی پاک نہ کر سکے- جس طرح قدیم عرب میں قوم کا لفظ عموما'' ایک نسل یا ایک قبیلہ کے لوگوں پر بولا جاتا تھا اسی طرح آج بھی لفظ ''نیشن'' کے مفہوم میں مشترک جنسیت کا تصورلازمی طور پر شامل ہے ، اور یہ چیز چونکہ بنیادی طور پر اسلامی تصور اجتماع کے خلاف ہے اس وجہ سے قرآن میں لفظ قوم اوراس کے ہم معنی دوسرے عربی الفاظ مثلا'' شعب وغیرہ کو مسلمانوں کی جماعت کے لیے اصطلاح کے طور پر استعمال نہیں کیا گیا – ظاہر ہے کہ ایسی اصطلاح اس جماعت کے لیے کیونکر استعمال کی جا سکتی ہے جس کے اجتماع کی اساس میں خون اور خاک اور رنگ اور اسی نوع کی دوسری چیزوں کا قطعا'' کوئی دخل نہ تھا، جس کی تالیف و ترکیب محض اصول اور مسلک کی بنیاد پر کی گئی تھی، اور جس کا آغاز ہی ہجرت اور قطع نسب اور ترک علائق مادی سے ہئوا تھا-

قرآن نے جو لفظ مسلمانوں کی جماعت کے لیے استعمال کیا ہے وہ ''حزب'' ہے جس کے معنی پارٹی کے ہیں- قومیں نسل و نسب کی بنیاد پر اٹھتی ہیں اور پارٹیاں اصول و مسلک کی بنیاد پر- اس لحاظ سے مسلمان حقیقت میں قوم نہیں بلکہ ایک پارٹی ہیں- ان کو تمام دنیا سے الگ اور ایک دوسرے سے وابستہ صرف اس بنا پر کیا گیا ہے کہ یہ ایک اصول اور مسلک کے معتقد اور پیرو ہیں- جن لوگوں سے ان کا اصول و مسلک میں اشتراک ہے وہ خواہ کسی ملک اور کسی قوم و نسل سے تعلق رکھتے ہوں ان میں شامل ہو جاتے ہیں- اور جن سے اس چیز میں ان کا اشتراک نہیں ہے وہ خواہ ان سے قریب ترین مادی رشتے ہی کیوں نہ رکھتے ہوں، ان کے ساتھ ان کا کوئی میل نہیں ہے قرآن روئے زمین کی اس پوری آبادی میں صرف دوہی پارٹیاں دیکھتا ہے، ایک اللہ کی پارٹی (حزب اللہ) دوسری شیطان کی پارٹی (حزب الشیطان) – شیطان کی پارٹی میں خواہ باہم اصول اور مسلک کے اعتبار سے کتنے ہی اختلافات ہوں، قرآن سب کو ایک سمجھتا ہے کیونکہ ان کا طریق فکر اور طریق عمل بہر حال اسلام نہیں ہے اور جزئی اختلافات کے باوجود بہر حال وہ سب شیطان کے اتباع پر متفق ہیں- قرآن کہتا ہے :-

برعکس اس کے اللہ کی پارٹی والے خواہ نسل اور وطن اور زبان اور تاریخی روایات کے اعتبار سے باہم کتنے ہی مختلف ہوں، بلکہ چاہے ان کے آباواجداد میں باہم خونی عدادتیں ہی کیوں نہ رہ چکی ہوں ،جب وہ خدا کے بتائے ہوئے طریق فکر اور مسلک حیات میں متفق ہو گئے تو گویا یا الہی رشتے (حبل اللہ) سے باہم جڑگئے اور اس نئی پارٹی میں داخل ہوتے ہی ان کے تمام تعلقات حزب الشیطان والوں سے کٹ گئے-

پارٹی کا یہ اختلاف باپ اور بیٹے تک کا تعلق توڑ دیتا ہے، حتی کہ بیٹا باپ کی وراثت تک نہیں پا سکتا- حدیث کے الفاظ ہیں لا یتوارث اھل ملتین دو مختلف ملتوں کے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہو سکتے-

پارٹی کا یہ اختلاف بیوی کو شوہر سے جدا کر دیتا ہے حتی کہ اختلاف رونما ہوتے ہی دونوں پر ایک دوسرے کی مواصلت حرام ہو جاتی ہے محض اس لیے کہ دونوں کی زندگی کے راستے جدا ہو چکے قرآن میں ہے لاھن حل لھم ولا ھم یحلون لھن، نہ وہ ان کے لیے حلال نہ یہ ان کے لیے حلال-

پارٹی کا یہ اختلاف ایک برادری ، ایک خاندان کے آدمیوں میں پورا معاشرتی مقاطعہ کرا دیتا ہے حتی کہ حزب اللہ والے کے لیے خود اپنی نسلی برادری کے ان لوگوں میں شادی بیاہ کرنا حرام ہو جاتا ہے جو حزب الشیطان سے تعلق رکھتے ہوں- قرآن کہتا ہے ''مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں- مومن لونڈی مشرک خاتون سے بہتر ہے خواہ وہ تمہیں کتنی ہی پسند ہو-اور اپنی عورتوں کے نکاح بھی مشرک مردوں سے نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں- مومن غلام مشرک آزاد شخص سے بہتر ہے چاہے وہ تمہیں کتنا ہی پسند ہو-''

پارٹی کا یہ اختلاف نسلی و وطنی قومیت کا تعلق صرف کاٹ ہی نہیں دیتا بلکہ دونوں میں ایک مستقل نزاع قائم کر دیتا ہے جو دائما قائم رہتی ہے تا و قتیکہ وہ اللہ کی پارٹی کے اصول تسلیم نہ کر لیں- قرآن کہتا ہے :

پارٹی کا یہ اختلاف ایک خاندان والوں اور قریب ترین رشتہ داروں کے د رمیان بھی محبت کا تعلق حرام کر دیتا ہے- حتی کہ اگر باپ اور بھائی اور بیٹے بھی حزب الشیطان میں شامل ہوں تو حزب اللہ والا اپنی پارٹی سے غداری کریگا اگر ان سے محبت رکھے – قرآن میں ارشاد ہے-

دوسرا لفظ جو پارٹی ہی کے معنی میں قرآن نے مسلمانوں کے لیے استعمال کیا ہے وہ لفظ '' امت '' ہے – حدیث میں بھی یہ لفظ کثرت سے مستعمل ہوا ہے- امت اس جماعت کو کہتے ہیں جس کو امر جامع نے مجتمع کیا ہو- جن افراد کے د رمیان کوئی اصل مشترک موجود ہو ان کو اسی اصل کے لحاظ سے ''امت'' کہا جاتا ہے مثلا'' ایک زمانہ کے لوگ بھی ''امت'' کہے جاتے ہیںس – ایک نسل یا ایک ملک کے لوگ بھی امت کہے جاتے ہیں- مسلمانوں کو جس امر مشترک کی بنا پر امت کہا گیا ہے وہ نسل یا وطن یا معاشی اغراض نہیں ہیں بلکہ وہ ان کی زندگی کا مشن اور ان کی پارٹی کا اصول اور مسلک ہے- چنا نچہ قرآن کہتا ہے :-


1 -لفظ وسط کے معنی متوسط اور د رمیانی کے ہیں اور اسی معنی سے اعلی اور اشرفکا مفہوم بھی پیدا ہوا ہے-
2 - شہید کے معنی گواہ کے بھی ہیں اور نگران کے بھی اور یہ دونوں مفہوم ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں-

ان آیات پر غور کیجیے ''بیچ کی امت '' سے مراد یہ ہے کہ ''مسلمان'' ایک بین الا قوامی جماعت ہے دنیا کی ساری قوموں میں سے ان اشخاص کو چھانٹ کر نکالا گیا ہے جو ایک خاص اصول کو ماننے ، ایک خاص پروگرام کو عمل میں لانے اور ایک خاص مشن کو انجام دینے کے لیے تیار ہوں یہ لوگ چونکہ ہر قوم میں سے نکلے ہیں اور ایک پارٹی بن جانے کے بعد کسی قوم سے بھی ان کا تعلق نہیں رہا ہے، اس لیے یہ بیچ کی امت ہیں- لیکن ہر ہر قوم سے تعلق توڑنے کے بعد سب قوموں سے ان کا ایک دوسرا تعلق قائم ہو گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ دنیا میں خدائی فوجدار کے فرائض سر انجام دیں ''تم نوع انسانی پر نگران ہو'' کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ مسلمان خدا کی طرف سے دنیا میں فوجدار مقرر کیا گیا ہے- ''اور نوع انسانی کے لیے نکالا گیا ہے ''- کا فقرہ صاف کہہ رہا ہے کہ مسلمان کا مشن ایک عالمگیر مشن ہے- اس مشن کا خلاصہ یہ ہے کہ ''حزب اللہ '' کے لیڈر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو فکر و عمل کا جو ضابطہ خدانے دیا تھا اس کو تمام ذہنی ، اخلاقی اور مادی طاقتوں سے کام لے کر دنیا میں نافذ کیا جائے اور اس کے مقابلہ میں ہر دوسرے طریقہ کو مغلوب کر دیا جائے، یہ ہے وہ چیزجس کی بنیاد پر مسلمان ایک امت بنائے گئے ہیں-

تیسرا اصطلاحی لفظ جو مسلمانوں کی اجتماعی حیثیت ظاہر کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکثرت استعمال کیا ہے وہ لفظ ''جماعت'' ہے اور یہ لفظ بھی ''حزب '' کی طرح بالکل پارٹی کا ہم معنی ہے (علیکم با لجماعۂ اوید اللہ علی الجمعۂ) اور ایسی ہی بکثرت احادیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ ''قوم'' یا ''شعب'' یا اس کے ہم معنی دوسرے الفاظ استعمال کرنے سے قصدا احتراز فرمایا اور ان کے بجائے ''جماعت'' ہی کی اصطلاح استعمال کی- آپ نے کبھی نہ فرمایا کہ '' ہمیشہ قوم کے ساتھ رہو'' یا ''قوم پر خدا کا ہاتھ ہے ''بلکہ ایسے تمام مواقع پر آپ جماعت ہی کا لفظ استعمال فرماتے تھے- اس کی وجہ صرف یہ ہے اور یہی ہو سکتی ہے کہ مسلمانوں کے اجتماع کی نوعیت ظاہر کرنے کے لیے'' قوم '' کے بجائے جماعت ، حزب اور پارٹی کے الفاظ ہی زیادہ مناسب ہیں- قوم کا لفظ جن معنوں میں عموما'' مستعمل ہوتا ہے ان کے لحاظ سے ایک شخص خواہ وہ کسی مسلک اور کسی اصول کا پیرو ہو ، ایک قوم میں شامل رہ سکتا ہے جبکہ وہ اس قوم میں پیدا ہوا ہوا ور اپنے نام ، طرز زندگی اور معاشرتی تعلقات کے اعتبار سے اس قوم کے ساتھ منسلک ہو- لیکن پارٹی جماعت اور حزب کے الفاظ جن معنوں میں مستعمل ہوتے ہیں، ان کے لحاظ سے اصول و مسلک ہی پر پارٹی میں شامل ہونے یا اس سے خارج ہونے کا مدار ہوتا ہے – آپ ایک پارٹی کے اصول و مسلک سے ہٹ جانے کے بعد ہر گز اس میں شامل نہیں رہ سکتے ، نہ اس کا نام استعمال کر سکتے ہیں ،نہ اس کے نمائندے بن سکتے ہیں، نہ اس کے مفاد کے محافظ بن کر نمودار ہو سکتے ہیں، اور نہ پارٹی والوں سے آپ کا کسی طور پر تعاون ہو سکتا ہے- اگر آپ یہ کہیں کہ میں پارٹی کے اصول و مسلک سے تو متفق نہیں ہوں، لیکن میرے والدین اس پارٹی کے ممبررہ چکے ہیں اور میرا نام اس کے ممبروں سے ملتا جلتا ہے اس لیے مجھے ممبروں کے سے حقوق ملنے چاہییں ، تو آپ کا یہ استدلال اتنا مضحکہ خیز ہو گا کہ شاید سننے والوں کو آپ کی دماغی حالت پر شبہ ہونے لگے گا – لیکن پارٹی کے تصور کو قوم کے تصور سے بدل ڈالیے- اس کے بعد یہ سب حرکات کرنے کی گنجائش نکل آتی ہے-

اسلام نے اپنی بین الا قوامی پارٹی کے ارکان میں یک جہتی اور ان کی معاشرتی زندگی میں یکسانی پیدا کرنے کے لیے اور ان کی ایک سوسائٹی بنا دینے کے لیے حکم دیا تھا کہ آپس ہی میں شادی بیاہ کرو- اس کے ساتھ ہی ان کی اولاد کے لیے تعلیم و تربیت کا ایسا انتظام تجویز کیا گیا تھا کہ وہ خود بخود پارٹی کے اصول و مسلک کے پیروبن کر اٹھیں اور تبلیغ کے ساتھ ساتھ افزائش نسل سے بھی پارٹی کی قوت بڑھتی رہے – یہیں سے اس پارٹی کے قوم بننے کی ابتدا ہوتی ہے- بعد میں مشترک معاشرت ، نسلی تعلقات اور تاریخی روایات نے اس قومیت کو زیادہ مستحکم کر دیا-

اس حد تک تو جو کچھ ہئوا درست ہئوا لیکن رفتہ رفتہ مسلمان اس حقیقت کو بھولتے گئے کہ وہ د راصل ایک پارٹی ہیں اور پارٹی ہونے کی حیثیت ہی پر ان کی قومیت کی اساس رکھی گئی ہے – یہ بھلاوا بڑھتے بڑھتے اب یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ پارٹی کا تصور قومیت کے تصور میں بالکل ہی گم ہو گیا – مسلمان اب صرف ایک ''قوم '' بن کر وہ گئے ہیں، اسی طرح کی قوم جیسی کہ جرمن ایک قوم ہے یا جاپانی ایک قوم ہے ، یا انگریز ایک قوم ہے- وہ بھول گئے ہیں کہ اصل چیز وہ اصول اور مسلک ہے جس پر اسلام نے ان کو ایک امت بنایا تھا ، وہ مشن ہے جس کو پورا کرنے کے لیے اس نے اپنے پیروں کو ایک پارٹی کی صورت میں منظم کیا تھا – اس حقیقت کو فراموش کر کے انہوں نے غیر مسلم قوموں سے ''قومیت'' کا جاہلی تصور لے لیا ہے- یہ ایسی بنیادی غلطی ہے اور اس کے قبیح اثرات اتنے پھیل گئے ہیں کہ احیائے اسلام کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھ سکتا جب تک کہ اس غلطی کو مٹا نہ دیا جائے-

ایک پارٹی کے ارکان میں باہمی محبت ، رفاقت اور معاونت جو کچھ بھی ہوتی ہے- شخصی یا خاندانی حیثیت سے نہیں ہوتی ، بلکہ صرف اس بنا پر ہوتی ہے کہ وہ سب ایک اصول کے معتقد اور ایک مسلک کے پیرو ہوتے ہیں- پارٹی کا ایک رکن اگر جماعتی اصول اور مسلک سے ہٹ کر کوئی کام کرے تو صرف یہی نہیں کہ اس کی مدد کرنا پارٹی والوں کا فرض نہیں ہوتا ، بلکہ اس کے برعکس پارٹی والوں کا فرض یہ ہوتا ہے کہ اس کو ایسے غدارانہ طرز عمل سے روکیں ، نہ مانے تو اس کے خلاف جماعتی ضوابط کے تحت سخت کارروائی کریں، پھر بھی نہ مانے تو جماعت سے نکال باہر کریں- ایسی مثالیں بھی دنیا میں نا پیدنہیں ہیں کہ جو شخص پارٹی کے مسلک سے انحراف کرتا ہے اسے قتل کر دیا جاتا ہے 1- لیکن ذرا مسلمانوں کا حال دیکھیے کہ اپنے آپ کو پارٹی کے بجائے ''قوم '' سمجھنے کی وجہ سے یہ کیسی شد ید غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے ہیں- ان میں سے جب کوئی شخص اپنے فائدے کے لیے غیر اسلامی اصولوں پر کام کرتا ہے تو دوسرے مسلمانوں سے توقع رکھتا ہے کہ اس کی مد د کریں گے – اگر مد د نہیں کی جاتی تو شکایت کرتا ہے کہ دیکھو مسلمان مسلمان کے کام نہیں آتے – سفارش کرنے والے اس کی سفارش ان الفاظ میں کرتے ہیں کہ ایک مسلمان بھائی کا بھلا ہوتا ہے اس کی مدد کرو – مدد کرنے والے بھی اگر اس کی مدد کرتے ہیں تو اپنے اس فعل کو اسلامی ہمدردی سے موسوم کرتے ہیں- اس سارے معاملہ میں ہر ایک کی زبان پر اسلامی ہمدردی ، اسلامی برادری ، اسلام کے رشتہ دینی کا نام بار بار آتا ہے- حالانکہ درحقیقت اسلام کے خلاف عمل کرنے میں خود اسلام ہی کا حوالہ دینا اور اس کے نام سے ہمدردی کرنا صریح لغوبات ہے، جس اسلام کا یہ لوگ نام لیتے ہیں اگر حقیقت میں وہ ان کے اندر زندہ ہو تو جو نہی کہ ان کے علم میں یہ بات آئے کہ اسلامی جماعت کا کوئی شخص کوئی کام اسلامی نظریہ کے خلاف کر رہا ہے ، یہ اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہو جائیں اور اس سے توبہ کرکے چھوڑیں – کسی کا مدد چاہنا اور کسی کی سفارش کرنا تو د ر کنار ، ایک زندہ اسلامی سوسائٹی میں تو کوئی شخص اصول اسلام کی خلاف ورزی کا نام تک زبان پر نہیں لا سکتا- لیکن آپ کی اس سوسائٹی میں رات دن یہی معاملہ ہو رہا ہے اور اس کی وجہ بجز اس کے کچھ نہیں کہ آپ کے اندر جاہلی قومیت آگئی ہے جس چیز کو آپ اسلامی اخوت کہہ رہے ہیں یہ د راصل جاہلی قومیت کا رشتہ ہے جو آپ نے غیر مسلموں سے لے لیا ہے-


1- اسلام میں قتل مرتد کی یہی بنا ہے – روسی اشتراکی بھی اشتراکیت سے مرتد ہونے کی یہی سزا دیتے ہیں-

اسی جاہلیت کا ایک کوشمہ یہ ہے کہ آپ کے اندر ''قومی مفاد'' کا ایک عجیب تصور پیدا ہو گیا ہے اور آپ اس کو بے تکلف '' اسلامی مفاد'' بھی کہہ دیا کرتے ہیں – یہ نام نہاد اسلامی مفاد یا قومی مفاد کیا چیز ہے؟ یہ کہ جو لوگ '' مسلمان '' کہلاتے ہیں ان کا بھلا ہو ، ان کے پاس دولت آئے، ان کی عزت بڑھے ، ان کو اقتدار نصیب ہو، اور کسی نہ کسی طرح ان کی دنیا بن جائے بلا لحاظ اس کے کہ یہ سب فائدے اسلامی نظریہ اور اسلامی اصول کی پیروی کرتے ہوئے حاصل ہوں یا خلاف ورزی کرتے ہوئے – پیدائشی مسلمان یا خاندانی مسلمان کو آپ '' مسلمان '' کہتے ہیں چاہیے اس کے خیالات اور اس کے طرز عمل میں اسلام کی صفت کہیں ڈھونڈے نہ ملتی ہو- گویا آپ کے نزدیک مسلمان روح کا نام نہیں بلکہ جسم کا نام ہے اور صفت اسلام سے قطع نظر کر کے بھی ایک شخص کو مسلمان کہا جا سکتا ہے – اس غلط تصور کے ساتھ جن جسموں کا اسم ذات آپ نے مسلمان رکھ چھوڑ ہے- ان کی حکومت کو آپ اسلامی حکومت ، ان کی ترقی کو آپ اسلام کی ترقی ، ان کے فائدے کو آپ اسلامی مفاد قرار دیتے ہیں، خواہ یہ حکومت اور یہ ترقی اور یہ مفاد سراسر اسلام کے منافی ہی کیوں نہ ہو- جس طرح جونیت کسی اصول کا نام نہیں، محض ایک قومیت کا نام ہے اور جس طرح ایک جرمن قوم پرست صرف جرمنوں کی سر بلندی چاہتا ہے خواہ کسی طریقہ سے ہو، اسی طرح آپ نے بھی '' مسلمانیت'' کو محض ایک قومیت بنالیا ہے- اور آپ کے مسلمان قوم پرست محض اپنی قوم کی سر بلندی چاہتے ہیں خواہ یہ سر بلندی اصولا'' اور عملا'' اسلام کے بالکل برعکس طریقوں کی پیروی کا نتیجہ ہو- کیا یہ جاہلیت نہیں ہے ؟ کیا د رحقیقت آپ اس بات کوبھول نہیں گئے ہیں کہ مسلمان صرف اس بین الاقوامی پارٹی کا نام تھا جو دنیا میں انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے ایک خاص نظریہ اور ایک عملی پروگرام لے کر اٹھی تھی؟ اس نظریہ اور پروگرام کو الگ کر دینے کے بعد محض اپنی شخصی یا اجتماعی حیثیت سے جو لوگ کسی دوسرے نظریہ اور پروگرام پر کام کرتے ہیں ان کے کاموں کو آپ ''اسلامی '' کیسے کہہ سکتے ہیں؟ کیا آپ نے کبھی سنا ہے کہ جو شخص سرمایہ داری کے اصول پر کام کرتا ہو اسے اشتراکی کے نام سے یاد کیا جائے؟ کیا سرمایہ دارا نہ حکومت کو کبھی آپ اشتراکی حکومت کہتے ہیں؟ کیا فا ششی طرز ا دارہ کو آپ جمہوری طرز ادارہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں؟ اگر کوئی شخص اس طرح اصطلاحوں کو بے جا استعمال کرے تو آپ شاید اسے جاہل اور بے وقوف کہتے ہیں ذرا تامل نہیں کریں گے – مگر یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام اورمسلمان کی اصطلاح کو بالکل بے جا استعمال کیا جا رہا ہے اور اس میں کسی کو جاہلیت کی بو تک محسوس نہیں ہوتی-

مسلمان لفظ خود ظاہر کررہا ہے کہ یہ ''اسم ذات'' نہیں بلکہ'' اسم صفت'' ہی ہو سکتا ہے- اور ''پیرواسلام'' کے سوا اس کا کوئی دوسرا مفہوم سرے سے ہے ہی نہیں – یہ انسان کی اس خاص ذہنی ، اخلاقی اور عملی صفت کو ظاہر کرتا ہے جس کا نام ''اسلام'' ہے – لہذا آپ اس لفظ کو شخص مسلمان کے لیے اس طرح استعمال نہیں کر سکتے جس طرح آپ ہندو یا جاپانی یا چینی کے الفاظ شخص ہندو یا شخص جاپانی یا شخص چینی کے لیے استعمال کرتے ہیں- مسلمانوں کا سانام رکھنے والا جو نہی اصول اسلام سے ہٹا اس سے مسلمان ہونے کی حیثیت خود بخود سلب ہو جاتی ہے- اب وہ جو کچھ کرتا ہے اپنی شخصی حیثیت میں کرتا ہے- اسلام کا نام اسے استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں اسی طور پر مسلمان کا مفاد ''مسلمان کی ترقی'' مسلمان کی حکومت و ریاست ، ''مسلمان کی ورازت'' مسلمانوں کی تنظیم اور ایسے ہی دوسرے الفاظ آپ صرف ان مواقع پر بول سکتے ہیں جبکہ یہ چیز اسلامی نظریہ اور اصول کے مطابق ہوں اور اس مشن کو پورا کرنے سے متعلق ہوں جو اسلام لے کر آیا ہے- اگر یہ بات نہ ہو تو ان میں سے کسی چیز کے ساتھ بھی لفظ مسلمان کا استعمال د رست نہیں، آپ ان کو جس دوسرے نام سے چاہیں موسوم کریں ، بہر حال مسلمان کے نام سے موسوم نہیں کر سکتے ، کیونکہ صفت اسلام سے قطع نظر کرکے مسلمان سرے سے کوئی شے ہی نہیں ہے- آپ کبھی اس بات کا تصور نہیں کر سکتے کہ اشتراکیت سے قطع نظر کر کے کسی شخص یا قوم کا نام اشتراکی ہواور اس معنی میں کسی مفاد کو اشتراکی کی مفاد یا کسی حکومت کو اشتراکی کی حکومت یا کسی تنظیم کو اشتراکیوں کی تنظیم یا کسی ترقی کو اشتراکیوں کی ترقی کہا جا سکتے- پھر آخر مسلمان کے معاملہ میں آپ نے یہ کیوں سمجھ رکھا ہے کہ اسلام سے قطع نظر کر کے مسلمان کسی شخص یا قوم کا ذاتی نام ہے اور اس کی ہر چیز کو اسلامی کہہ دیا جا سکتا ہے-

اس غلط فہمی نے بنیادی طور پر اپنی تہذ یب ، اپنے تمدن اور اپنی تاریخ کے متعلق آپ کے رویہ کو غلط کر دیا ہے- جو بادشاہتیں اور حکومتیں غیر اسلامی اصولوں پر قائم ہوئی تھیں آپ ان کو '' اسلامی حکومتیں'' کہتے ہیں محض اس لیے کہ ان کے تخت نشین مسلمان تھے – جو تمدن قرطبہ و بغدادا اور دہلی و قاہرہ کے عیش پرست درباروں میں پرورش پایا تھا آپ اسے '' اسلامی تمد ن'' کہتے ہیں، حالانکہ اس کو اسلام سے کوئی واسطہ نہیں- آپ سے جب اسلامی تہذ یب کے متعلق سوال کیا جاتا ہے تو آپ جھٹ سے آگرہ کے تاج محل کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں، گویا یہ ہے اس تہذیب کا سب سے نمایاں نمونہ حالانکہ اسلامی تہذیب سرے سے یہ ہے ہی نہیں کہ ایک میت کو سپردخاک کرنے کے لیے ایکڑوں زمین مستقل طور پر گھیر لی جائے اور اس پر لاکھوں روپے کی عمارت تیار کی جائے- آپ جب اسلامی تاریخ کے مفاخر بیان کرنے پر آتے ہیں تو عباسیوں ، سلجوقیوں اور مغلوں کے کارنامے بیان کرتے ہیں- حالانکہ حقیقی اسلامی تاریخ کے نقطہ نظر سے ان کارناموں کا بڑا حصہ آب زر سے نہیں بلکہ سیاہ روشنائی سے جرائم کی فہرست میں لکھے بانے کے قابل ہے- آپ نے مسلمان بادشاہوں کی تاریخ کا نام '' اسلامی تاریخ '' رکھ چھوڑا ہے، بلکہ آپ اسے '' تاریخ اسلام '' بھی کہہ دیتے ہیں، گویا ان بادشاہوں کا نام اسلام ہے- آپ بجائے اس کے اسلام کے مشن ، اور اس کے اصول و نظریات کو سامنے رکھ کر اپنی گزشتہ تاریخ کا احتساب کریں اور پورے انصاف کے ساتھ اسلامی حرکات کو غیر اسلامی حرکات سے ممتاز کر کے دیکھیں اور دکھائیں ، اسلامی تاریخ کی خدمت آپ اس کو سمجھتے ہیں کہ مسلمان حکمرانوں کی حمایت ومدافعت کریں- آپ کے زاویہ نظرمیں یہ کجی صرف اس لیے پیدا ہوئی کہ آپ مسلمان کی ہر چیز کو ''اسلامی '' سمجھتے ہیں اور آپ کا یہ گمان ہے کہ جو شخص مسلمان کہلاتا ہے وہ اگر غیر مسلمانہ طریق پر بھی کام کرے تو اس کے کام کو مسلمان کا کام کہا جا سکتا ہے-

یہی ٹیڑ ھا زاویہ نظر آپ نے اپنی ملی سیاست میں بھی اختیار کر رکھا ہے اسلام کے اصول و نظریات اور اس کے مشن سے قطع نظر کر کے آپ ایک قوم کو '' مسلم قوم'' کے نام سے یاد کرتے ہیں، اور اس قوم کی طرف سے ، یا اس کے نام سے یا اس کے لیےہر شخص اور ہر گروہ من مانی کارروائیاں کر سکتا ہے- آپ کے نزدیک ہر وہ شخص مسلمانوں کا نمائندہ ، بلکہ ان کا لیڈر بھی بن سکتا ہے جو ''مسلمانوں کی قوم '' سے تعلق رکھتا ہو، خواہ اس غریب کو اسلام کے متعلق کچھ بھی معلوم نہ ہو- آپ ہر اس پارٹی کے ساتھ لگ چلنے کو تیار ہو جاتے ہیں جس کی پیروی میں آپ کو کسی نوعیت کا فائدہ نظر آئے ، خواہ اس کا مشن اسلام کے مشن سے کتنا ہی مختلف ہو- آپ خوش ہو جاتے ہیں جب مسلمانوں کو چارروٹیاں ملنے کا کوئی انتظام ہو جائے ، خواہ اسلام کی نگاہ میں وہ حرام کی روٹیاں ہی کیوں نہ ہوں، آپ پھولے نہیں سماتے جب کسی جگہ مسلمان آپ کو اقتدار کی کرسی پر بیٹھا نظر آتا ہے، خواہ وہ اس اقتدار کو بالکل اسی طرح غیر اسلامی مقاصد کے لیے استعمال کررہا ہو جس طرح ایک غیر مسلم کر سکتا ہے – آپ اکثر ان چیزوں کا نام اسلامی مفاد رکھتے ہیں جو حقیقتہ غیر اسلامی ہیں، ان اداروں کی حمایت اور حفاظت پر اپنا زورصرف کرتے ہیں جو اصول اسلام کے بالکل خلاف قائم ہوئے ہیں، اور ان مقاصد کے پیچھے اپنا روپیہ اور اپنی قومی طاقت ضائع کرتے ہیں جو ہرگز اسلامی نہیں ہیں، یہ سب نتائج اسی ایک بنیادی غلطی کے ہیں کہ آپ نے اپنے آپ کو محض ایک قوم سمجھ رکھا ہے اور اس حقیقت کو آپ بھول گئے ہیں کہ د راصل آپ ایک '' بین الاقوامی پارٹی'' ہیں جس کا کوئی مفاد اور کوئی مقصد اپنی پارٹی کے اصولوں کو دنیا میں حکمران بنانے کے سوا نہیں ہے- جبتک آپ اپنے اندر قوم کے بجائے پارٹی کا تصور پیدا نہ کریں گے اور اس کو زندہ تصور نہ بنائیں گے، زندگی کے کسی معاملہ میں بھی آپ کا رویہ درست نہ ہو گا-

(ترجمان القرآن – صفر 58ھ - اپریل 39ء)

استدراک

اس مضمون کی اشاعت کے بعد متعدد اصحاب نے اس شبہ کا اظہار کیا کہ '' اسلامی جماعت'' کو ''قوم'' کے بجائے پارٹی کہنے میں اس امر کی گنجائش نکلتی ہے کہ وہ کسی مطنی قومیت کی جزبن کر رہے – جس طرح ایک قوم میں مختلف سیاسی پارٹیاں ہوتی ہیں اور اپنا الگ مسلک رکھنے کے باوجود سب کی سب اس بڑے مجموعہ میں شامل رہتی ہیں جس کو ''قوم '' کہا جاتا ہے، اسی طرح اگر مسلمان ایک پارٹی ہیں تو وہ بھی اپنے وطن کی قوم کا جز بن کر رہ سکتے ہیں-

چونکہ جماعت یاپارٹی کے لفظ کو عام طور پر لوگ سیاسی جماعت یا پولیٹیکل پارٹی کے معنی میں لیتے ہیں اس وجہ سے وہ غلط فہمی پیدا ہوئی جس کا اوپرذکر کیا گیا ہے، لیکن یہ لفظ کا اصلی مفہوم نہیں ہے بلکہ ایک خاص معنی بکثرت مستعمل ہونے سے پیدا ہو گیا ہے- اصلی مفہوم اس لفظ کا یہ ہے کہ جو لوگ ایک مخصوص عقیدے ، نظریے،مسلک اور مقصد پر محتمع ہوں وہ ایک جماعت ہیں- اس معنی میں قرآن نے ''حزب '' اور ''امت'' کے الفاظ استعمال کیے ہیں، اوراسی معنی میں''جماعت'' کا لفظ احادیث اور آثار میں مستعمل ہئوا ہے اور یہی مفہوم ''پارٹی'' کا بھی ہے-

اب ایک جماعت تو وہ ہوتی ہے جس کے پیش نظر ایک قوم یا ملک کے مخصوص حالات کے لحاظ سے سیاسی تدبیر کاایک خاص نظریہ اور پروگرام ہوتا ہے- اس فسم کی جماعت محض ایک سیاسی جماعت ہوتی ہے اس لیے وہ اس قوم کا جزبن کر کام کر سکتی ہے اور کرتی ہے جس میں وہ پیدا ہو-

دوسری جماعت وہ ہوتی ہے جو ایک کلی نظریہ اور جہانی تصور لے کر اٹھتی ہے جس کے سامنے تمام نوع انسانی کے لیے (بلا لحاظ قوم و وطن) ایک عالمگیر مسلک ہوتا ہے ، جو پوری زندگی کی تشکیل و تعمیر ایک نئے ڈھنگ پر کرنا چاہتی ہے، جس کا نظریہ ومسلک عقائد و افکار اور اصول و اخلاق سے لے کر انفرادی برتاؤ اور اجتماعی نظام کی تفصیلات تک ہر چیز کو اپنے سانچے میں ڈھالنا چاہتا ہے ، جو ایک مستقل تہذ یب اور ایک مخصوص تمدن کو وجود میں لانے کا ارادہ رکھتی ہے- یہ جماعت بھی اگرچہ حقیقت میں ایک جماعت ہی ہوتی ہے، لیکن یہ اس قسم کی جماعت نہیں ہوتی جو کسی قوم کا جزبن کر کام کر سکتی ہو- یہ محدود قومتیوں سے بالاتر ہوتی ہے- اس کا تو مشن ہی یہ ہوتا ہے کہ ان نسلی و روایتی تعصبات کو توڑدے جن پر دنیا میں مختلف قومیتیں بنی ہیں ، پھر یہ خود اپنے آپ کو کس طرح ان قومیتوں کے ساتھ وابستہ کر سکتی ہے؟ یہ نسلی و تاریخی قومیتوں کی بجائے ایک عقلی قومیت بناتی ہے- جامد قومتیوں کی جگہ ایک نامی قومیت بناتی ہے- یہ خود ایک ایسی قومیت بنتی ہے جو عقلی و تہذیبی اور اصولی و حدت کی بنیاد پرروئے زمین کی پوری آبادی کو اپنے دائرے میں لینے کے لیے تیار ہوتی ہے- لیکن ایک قومیت بننے کے باوجود حقیقت میں یہ ایک جماعت ہی رہتی ہے، کیونکہ اس میں شامل ہونے کا مدار پیدائش پر نہیں ہوتا بلکہ اس نظریہ و مسلک کی پیروی پر ہوتا ہے جس کی بنیاد پر یہ جماعت بنی ہے-

مسلمان د راصل اسی دوسری قسم کی جماعت کا نام ہے – یہ اس قسم کی پارٹی نہیں ہے جیسی پارٹیاں ایک قوم میں بنا کرتی ہیں بلکہ اس قسم کی پارٹی ہے جو ایک مستقل نظام تہذیب و تمدن ( ) بنانے کے لیے اٹھتی ہے اور چھوٹی چھوٹی قومتیوں کی سرحدوں کو توڑ کر عقلی بنیادوں پر ایک بڑی جہانی قومیت ( ) بنانا چاہتی ہے- اس کو ''قوم '' کہنا اس لحاظ سے یقینا'' درست ہو گا کہ یہ اپنے آپ کو دنیا کی نسلی یا تاریخی قومیتوں میں سے کسی قومیت کے ساتھ بھی باعتبار تمدن یا باعتبار جذبات وابستہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی بلکہ اپنے نظریہ حیات اور فلسفہ اجتماعی کے مطابق خود اپنی تہذیب و مدنیت کی عمارت بناتی ہے- لیکن اس معنی کے لحاظ سے ''قوم'' ہونے کے باوجود یہ حقیقت میں ''جماعت'' ہی رہتی ہے کیونکہ محض اتفاقی پیدائش کسی شخص کو اس قوم کا ممبر نہیں بنا سکتی جب تک کہ وہ اس کے مسلک کا معتقد اور پیرو نہ ہو- اور اسی طرح کسی شخص کا کسی دوسری قوم میں پیدا ہونا اس کے لیے اس امر میں مانع نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنی قوم سے نکل کر اس قومیت میں داخل ہو جائے جب کہ وہ اس کے مسلک پر ایمان لانے کے لیے تیار ہو- پس جو کچھ میں نے کہا ہے اس کا

مطلب د راصل یہ ہے کہ مسلم قوم کی قومیت اس کے ایک جماعت یا پارٹی ہونے ہی کی بنا پر قائم ہے، اس کی قومی حیثیت اس کی جماعتی حیثیت کی فرع ہے، اگر جماعتی حیثیت کو اس سے الگ کر لیا جائے- اور یہ مجرد ایک قوم بن کر رہ جائے تو یہ اس کا تنزل ہے-

حقیقت یہ ہے کہ انسانی اجتماعات کی تاریخ میں اسلامی جماعت کی حیثیت بالکل نرالی اور انوکھی واقع ہوئی ہے- بودھ مت اور مسیحیت نےقومیتوں کے حدود توڑ کر تمام عالم انسانی کو خطاب تو کیا تھا اور ایک نظریہ و مسلک کی بنیاد پر عالمگیر برادری بنانے کی کوشش بھی کی تھی مگر ان دونوں مسلکوں کے پاس چند اخلاقی اصولوں کے سوا کوئی ایسا اجتماعی فلسفہ نہ تھا جس کی بنیاد پر یہ تہذیب و تمدن کا کوئی کلی نظام بنا سکتے- اس لیے یہ دونوں مسلک کوئی عالمگیر قومیت نہ بنا سکے بلکہ ایک طرح کی برادری بنا کر رہ گئے- بعد میں مغرب کی سائنٹیفک تہذ یب اٹھی جس نے اپنے خطاب کو بین الاقوامی بنا نا چاہا، مگر اول یوم پیدائش سے اس پر نیشنلزم کا بھوت سوار ہوگیا لہذا یہ بھی عالمگیر قومیت بنانے میں ناکام ہوئی- اب مارکسی اشتراکیت آگے بڑھی ہے اور قومیتوں کی حدود کو توڑ کر جہانی تصور کی بناد پر ایک ایسی تہذیب وجود میں لانا چاہتی ہے جو عالمگیر ہو- لیکن چونکہ ابھی تک وہ نئی تہذیب پوری طرح وجود میں نہیں آئی ہے جو اس کے پیش نظر ہے- اس لیے ابھی تک مارکسیت بھی ایک عالمگیر قومیت میں تبدیل نہیں ہو سکی ہے(1) اس وقت تک میدان میں تنہا اسلام ہی ایک ایسا نظریہ و مسلک ہے جو نسلی اور تاریخی قومیتوں کو توڑ کر


1- بلکہ اب خود مارکسیت کے اندر بھی نشینلزم کے جراثیم پہنچ گئے ہیں- اسٹالین اور اس کی جماعت کے طرز عمل میں روسی قوم پرستی کا جذبہ روز بروز نمایاں ہوتا جارہا ہے- روسی اشتراکیت کے لڑیچر میں، حتی کہ 36ء کے جد ید روسی دستور حکومت میں بھی جگہ جگہ ''فادرلنیڈ'' (آبائی وطن) کاذکر ملتا ہے- مگر اسلام کو دیکھیے یہ ہر جگہ '' دار الاسلام '' کا لفظ استعمال کرتا ہے نہ کہ فادرلنیڈ یامادرلنیڈ کا

تہذ یبی بنیادوں پر ایک عالمگیر قومیت بناتا ہے- لہذا جو لوگ اسلام کی اسپرٹ سے اچھی طرح واقف نہیں ہیں ان کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ایک ہی اجتماعی ہئیت کس طرح بیک وقت قوم بھی اور پارٹی بھی ہوسکتی ہے- وہ دنیا کی جتنی قوموں کو جانتے ہیں ان میں سے کوئی بھی ایسی نہیں ہے جس کے ارکان پیدا نہ ہوتے ہوں بلکہ بنتے ہوں- وہ دیکھتے ہیں کہ جو شخص اٹالین پیداہئوا ہے وہ اٹالین قوم کا رکن ہے اور جو اٹالین پیدا نہیں ہئوا وہ کسی طرح اٹالین نہیں بن سکتا – ایسی قومیت سے وہ واقف نہیں ہیں جس کے اندر آدمی اعتقاد اور مسلک کی بنا پر داخل ہوتا ہو اور اعتقاد و مسلک کے بدل جانے پر اس سے خارج ہو جاتا ہو- ان کے نزدیک یہ حقیقت ایک قوم کی نہیں بلکہ ایک پارٹی کی ہی ہو سکتی ہے- مگر جب وہ دیکھتے ہیں کہ یہ نرالی پارٹی اپنی الگ تہڈیب بناتی ہے ، اپنی مستقل قومیت کا ادعا کرتی ہے اور کسی جگہ بھی مقامی قومیت کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ کرنے پر راضی نہیں ہوتی تو ان کے لیے یہ معاملہ ایک چیستاں بنکر رہ جاتا ہے-

یہی نا فہمی غیر مسلموں کی طرح مسلمانوں کو بھی پیش آرہی ہے- مدتوں سے غیر اسلامی تعلیم و تربیت پاتے رہنے اور غیر اسلامی ماحول میں زندگی گزارنے کی وجہ سے ان کے اندر ''تاریخی قومیت '' کاجاہلی تصور پیدا ہو گیا ہے- یہ اس بات کو بھول گئے ہیں کہ ہماری اصل حیثیت ایک ایسی جماعت کی تھی جو دنیا میں عالمگیر انقلاب برپاکرنے کے لیے وجود میں آئی تھی ، جس کی زندگی کا مقصد اپنے نظریہ کو دنیا میں پھیلانا تھا ، جس کا کام دنیا کے غلط اجتماعی نظامات کو توڑ پھوڑ کر اپنے فلسفہ اجتماعی کی بنیاد پر ایک عالمگیر اجتماعی نظام مرتب کرنا تھا – یہ سب کچھ بھول بھال کر انہوں نے اپنے آپ کو بس اسی قسم کی ایک قوم سمجھ لیا ہے جیسی اور بہت سی قومیں موجود ہیں- اب ان کی مجلسوں اور انجمنوں میں، ان کی کانفرنسوں اور جمعیتوں میں، ان کے اخباروں اور رسالوں میں، کہیں بھی ان کی اجتماعی زندگی کے اس مشن کا ذکر نہیں آتا جس کے لیے ان کو دنیا بھر کی قوموں میں سے نکال کر ایک امت بنایا گیا تھا- اس مشن کے بجائے اب جو چیز ان کی تمام تجربات کا مرکزبنی ہوئی ہے وہ''مسلمانوںکا مفاد'' ہے___مسلمانوں سے مراد وہ سب لوگ ہیں جو مسلمان ماں باپ کی نسل سے پیدا ہوئے ہوں، اور مفاد سے مراد نسلی مسلمانوں کا مادی و سیاسی مفاد ہے یا بد رجہ آخر اس کلچر کا تحفظ ہے جوان کو آبائی ورثہ میں ملی ہے--- اس مفاد کی حفاظت اور ترقی کے لیے جو تدبیر بھی کارگر ہو اس کی طرف یہ دوڑ جاتے ہیں، بالکل اسی طرح جس طرح مسوینی ہر اس طریقہ کو اختیار کرنے کے لیے تیار ہو جاتا تھا جو اطالویوں کے مفاد کے لیے مناسب ہو- کسی اصول اور نظریہ کا وہ پابند نہ تھا نہ یہ ہیں- وہ کہتا تھا کہ جو کچھ اطالویوں کے لیے مفید ہو وہ حق ہے- یہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ''مسلمانوں'' کےلیے مفید ہو وہ حق ہے، یہی چیز ہے جس کو میں مسلمانوں کا تنزل کہتا ہوں- اور اسی تنزل کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے مجھے یہ یاددلانے کی ضرورت پیش آئی ہے کہ تم نسلی اور تاریخی قوموں کی طرح ایک قوم نہیں ہو بلکہ حقیقت میں ایک جماعت ہو، اور تمہاری نجات صرف اس چیز میں ہے کہ اپنے اندر جماعتی احساس پیداکرو-

اس جما عتی احساس کے فقدان یا خود فراموشی کے برے نتائج اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا شمار کرنا مشکل ہے- یہ اسی بے حسی و خودفراموشی کا نتیجہ ہے کہ مسلمان ہر رہردکے پیچھے چلنے اور ہر نظریئے اور مسلک کی پیروی کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے ، خواہ وہ اسلام کے نظریئے اور اس کے مقاصد اور اس کے اصولوں سے کتنا ہی ہٹا ہئوا ہو- وہ نشینلسٹ بھی بنتا ہے، کمیونسٹ بھی بنتا ہے فاشستی اصول تسلیم کرنے میں بھی اسے کوئی تامل نہیں ہوتا – مغرب کے مختلف اجتماعی اور مابعد الطبی افکار اور عملی نظریات میں سے قریب قریب ہر ایک کے پیرو آپ کو مسلمانوں میں مل جائیں گے- دنیا کی کوئی سیاسی، اجتماعی یا تمد نی تحریک ایسی نہیں جس کے ساتھ کجھ نہ کچھ مسلمان شریک نہ ہوں- اور لطف یہ ہے کہ یہ سب اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، سمجھتے ہیں اور سمجھے جاتے ہیں- ان مختلف راہوں پر بھٹیکتے اور دوڑنے والوں میں سے کسی ایک بھی یہ یاد نہیں آتا کہ''مسلمان '' کوئی پیدائشی لقب نہیں ہے بلکہ اسلام کی راہ پر چلنے والے کا اسم صفت ہے- جو شخص اسلام کی راہ سے ہٹ کر کسی دوسری راہ پر چلے اس کو'' مسلمان'' کہنا اس لفظ کا بالکل غلط استعمال ہے- مسلم نیشنلسٹ اور مسلم کمیونسٹ اور اسی قسم کی دوسری اصطلاحیں بالکل اسی طرح کی متناقض اصطلاحیں ہیں جس طرح '' کمیونسٹ مہاجن'' اور ''جینی قصائی'' کی اصطلاحیں متناقض ہیں-

کتاب تفہیمات، اول
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز اسلامک پبلی کیشنز(پرائیویٹ) لمیٹیڈ
ٹیگ

Understandings