تفہیمات، اول

استدراک

اس مضمون کی اشاعت کے بعد متعدد اصحاب نے اس شبہ کا اظہار کیا کہ '' اسلامی جماعت'' کو ''قوم'' کے بجائے پارٹی کہنے میں اس امر کی گنجائش نکلتی ہے کہ وہ کسی مطنی قومیت کی جزبن کر رہے – جس طرح ایک قوم میں مختلف سیاسی پارٹیاں ہوتی ہیں اور اپنا الگ مسلک رکھنے کے باوجود سب کی سب اس بڑے مجموعہ میں شامل رہتی ہیں جس کو ''قوم '' کہا جاتا ہے، اسی طرح اگر مسلمان ایک پارٹی ہیں تو وہ بھی اپنے وطن کی قوم کا جز بن کر رہ سکتے ہیں-

چونکہ جماعت یاپارٹی کے لفظ کو عام طور پر لوگ سیاسی جماعت یا پولیٹیکل پارٹی کے معنی میں لیتے ہیں اس وجہ سے وہ غلط فہمی پیدا ہوئی جس کا اوپرذکر کیا گیا ہے، لیکن یہ لفظ کا اصلی مفہوم نہیں ہے بلکہ ایک خاص معنی بکثرت مستعمل ہونے سے پیدا ہو گیا ہے- اصلی مفہوم اس لفظ کا یہ ہے کہ جو لوگ ایک مخصوص عقیدے ، نظریے،مسلک اور مقصد پر محتمع ہوں وہ ایک جماعت ہیں- اس معنی میں قرآن نے ''حزب '' اور ''امت'' کے الفاظ استعمال کیے ہیں، اوراسی معنی میں''جماعت'' کا لفظ احادیث اور آثار میں مستعمل ہئوا ہے اور یہی مفہوم ''پارٹی'' کا بھی ہے-

اب ایک جماعت تو وہ ہوتی ہے جس کے پیش نظر ایک قوم یا ملک کے مخصوص حالات کے لحاظ سے سیاسی تدبیر کاایک خاص نظریہ اور پروگرام ہوتا ہے- اس فسم کی جماعت محض ایک سیاسی جماعت ہوتی ہے اس لیے وہ اس قوم کا جزبن کر کام کر سکتی ہے اور کرتی ہے جس میں وہ پیدا ہو-

دوسری جماعت وہ ہوتی ہے جو ایک کلی نظریہ اور جہانی تصور لے کر اٹھتی ہے جس کے سامنے تمام نوع انسانی کے لیے (بلا لحاظ قوم و وطن) ایک عالمگیر مسلک ہوتا ہے ، جو پوری زندگی کی تشکیل و تعمیر ایک نئے ڈھنگ پر کرنا چاہتی ہے، جس کا نظریہ ومسلک عقائد و افکار اور اصول و اخلاق سے لے کر انفرادی برتاؤ اور اجتماعی نظام کی تفصیلات تک ہر چیز کو اپنے سانچے میں ڈھالنا چاہتا ہے ، جو ایک مستقل تہذ یب اور ایک مخصوص تمدن کو وجود میں لانے کا ارادہ رکھتی ہے- یہ جماعت بھی اگرچہ حقیقت میں ایک جماعت ہی ہوتی ہے، لیکن یہ اس قسم کی جماعت نہیں ہوتی جو کسی قوم کا جزبن کر کام کر سکتی ہو- یہ محدود قومتیوں سے بالاتر ہوتی ہے- اس کا تو مشن ہی یہ ہوتا ہے کہ ان نسلی و روایتی تعصبات کو توڑدے جن پر دنیا میں مختلف قومیتیں بنی ہیں ، پھر یہ خود اپنے آپ کو کس طرح ان قومیتوں کے ساتھ وابستہ کر سکتی ہے؟ یہ نسلی و تاریخی قومیتوں کی بجائے ایک عقلی قومیت بناتی ہے- جامد قومتیوں کی جگہ ایک نامی قومیت بناتی ہے- یہ خود ایک ایسی قومیت بنتی ہے جو عقلی و تہذیبی اور اصولی و حدت کی بنیاد پرروئے زمین کی پوری آبادی کو اپنے دائرے میں لینے کے لیے تیار ہوتی ہے- لیکن ایک قومیت بننے کے باوجود حقیقت میں یہ ایک جماعت ہی رہتی ہے، کیونکہ اس میں شامل ہونے کا مدار پیدائش پر نہیں ہوتا بلکہ اس نظریہ و مسلک کی پیروی پر ہوتا ہے جس کی بنیاد پر یہ جماعت بنی ہے-

مسلمان د راصل اسی دوسری قسم کی جماعت کا نام ہے – یہ اس قسم کی پارٹی نہیں ہے جیسی پارٹیاں ایک قوم میں بنا کرتی ہیں بلکہ اس قسم کی پارٹی ہے جو ایک مستقل نظام تہذیب و تمدن ( ) بنانے کے لیے اٹھتی ہے اور چھوٹی چھوٹی قومتیوں کی سرحدوں کو توڑ کر عقلی بنیادوں پر ایک بڑی جہانی قومیت ( ) بنانا چاہتی ہے- اس کو ''قوم '' کہنا اس لحاظ سے یقینا'' درست ہو گا کہ یہ اپنے آپ کو دنیا کی نسلی یا تاریخی قومیتوں میں سے کسی قومیت کے ساتھ بھی باعتبار تمدن یا باعتبار جذبات وابستہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی بلکہ اپنے نظریہ حیات اور فلسفہ اجتماعی کے مطابق خود اپنی تہذیب و مدنیت کی عمارت بناتی ہے- لیکن اس معنی کے لحاظ سے ''قوم'' ہونے کے باوجود یہ حقیقت میں ''جماعت'' ہی رہتی ہے کیونکہ محض اتفاقی پیدائش کسی شخص کو اس قوم کا ممبر نہیں بنا سکتی جب تک کہ وہ اس کے مسلک کا معتقد اور پیرو نہ ہو- اور اسی طرح کسی شخص کا کسی دوسری قوم میں پیدا ہونا اس کے لیے اس امر میں مانع نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنی قوم سے نکل کر اس قومیت میں داخل ہو جائے جب کہ وہ اس کے مسلک پر ایمان لانے کے لیے تیار ہو- پس جو کچھ میں نے کہا ہے اس کا

مطلب د راصل یہ ہے کہ مسلم قوم کی قومیت اس کے ایک جماعت یا پارٹی ہونے ہی کی بنا پر قائم ہے، اس کی قومی حیثیت اس کی جماعتی حیثیت کی فرع ہے، اگر جماعتی حیثیت کو اس سے الگ کر لیا جائے- اور یہ مجرد ایک قوم بن کر رہ جائے تو یہ اس کا تنزل ہے-

حقیقت یہ ہے کہ انسانی اجتماعات کی تاریخ میں اسلامی جماعت کی حیثیت بالکل نرالی اور انوکھی واقع ہوئی ہے- بودھ مت اور مسیحیت نےقومیتوں کے حدود توڑ کر تمام عالم انسانی کو خطاب تو کیا تھا اور ایک نظریہ و مسلک کی بنیاد پر عالمگیر برادری بنانے کی کوشش بھی کی تھی مگر ان دونوں مسلکوں کے پاس چند اخلاقی اصولوں کے سوا کوئی ایسا اجتماعی فلسفہ نہ تھا جس کی بنیاد پر یہ تہذیب و تمدن کا کوئی کلی نظام بنا سکتے- اس لیے یہ دونوں مسلک کوئی عالمگیر قومیت نہ بنا سکے بلکہ ایک طرح کی برادری بنا کر رہ گئے- بعد میں مغرب کی سائنٹیفک تہذ یب اٹھی جس نے اپنے خطاب کو بین الاقوامی بنا نا چاہا، مگر اول یوم پیدائش سے اس پر نیشنلزم کا بھوت سوار ہوگیا لہذا یہ بھی عالمگیر قومیت بنانے میں ناکام ہوئی- اب مارکسی اشتراکیت آگے بڑھی ہے اور قومیتوں کی حدود کو توڑ کر جہانی تصور کی بناد پر ایک ایسی تہذیب وجود میں لانا چاہتی ہے جو عالمگیر ہو- لیکن چونکہ ابھی تک وہ نئی تہذیب پوری طرح وجود میں نہیں آئی ہے جو اس کے پیش نظر ہے- اس لیے ابھی تک مارکسیت بھی ایک عالمگیر قومیت میں تبدیل نہیں ہو سکی ہے(1) اس وقت تک میدان میں تنہا اسلام ہی ایک ایسا نظریہ و مسلک ہے جو نسلی اور تاریخی قومیتوں کو توڑ کر


1- بلکہ اب خود مارکسیت کے اندر بھی نشینلزم کے جراثیم پہنچ گئے ہیں- اسٹالین اور اس کی جماعت کے طرز عمل میں روسی قوم پرستی کا جذبہ روز بروز نمایاں ہوتا جارہا ہے- روسی اشتراکیت کے لڑیچر میں، حتی کہ 36ء کے جد ید روسی دستور حکومت میں بھی جگہ جگہ ''فادرلنیڈ'' (آبائی وطن) کاذکر ملتا ہے- مگر اسلام کو دیکھیے یہ ہر جگہ '' دار الاسلام '' کا لفظ استعمال کرتا ہے نہ کہ فادرلنیڈ یامادرلنیڈ کا

تہذ یبی بنیادوں پر ایک عالمگیر قومیت بناتا ہے- لہذا جو لوگ اسلام کی اسپرٹ سے اچھی طرح واقف نہیں ہیں ان کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ایک ہی اجتماعی ہئیت کس طرح بیک وقت قوم بھی اور پارٹی بھی ہوسکتی ہے- وہ دنیا کی جتنی قوموں کو جانتے ہیں ان میں سے کوئی بھی ایسی نہیں ہے جس کے ارکان پیدا نہ ہوتے ہوں بلکہ بنتے ہوں- وہ دیکھتے ہیں کہ جو شخص اٹالین پیداہئوا ہے وہ اٹالین قوم کا رکن ہے اور جو اٹالین پیدا نہیں ہئوا وہ کسی طرح اٹالین نہیں بن سکتا – ایسی قومیت سے وہ واقف نہیں ہیں جس کے اندر آدمی اعتقاد اور مسلک کی بنا پر داخل ہوتا ہو اور اعتقاد و مسلک کے بدل جانے پر اس سے خارج ہو جاتا ہو- ان کے نزدیک یہ حقیقت ایک قوم کی نہیں بلکہ ایک پارٹی کی ہی ہو سکتی ہے- مگر جب وہ دیکھتے ہیں کہ یہ نرالی پارٹی اپنی الگ تہڈیب بناتی ہے ، اپنی مستقل قومیت کا ادعا کرتی ہے اور کسی جگہ بھی مقامی قومیت کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ کرنے پر راضی نہیں ہوتی تو ان کے لیے یہ معاملہ ایک چیستاں بنکر رہ جاتا ہے-

یہی نا فہمی غیر مسلموں کی طرح مسلمانوں کو بھی پیش آرہی ہے- مدتوں سے غیر اسلامی تعلیم و تربیت پاتے رہنے اور غیر اسلامی ماحول میں زندگی گزارنے کی وجہ سے ان کے اندر ''تاریخی قومیت '' کاجاہلی تصور پیدا ہو گیا ہے- یہ اس بات کو بھول گئے ہیں کہ ہماری اصل حیثیت ایک ایسی جماعت کی تھی جو دنیا میں عالمگیر انقلاب برپاکرنے کے لیے وجود میں آئی تھی ، جس کی زندگی کا مقصد اپنے نظریہ کو دنیا میں پھیلانا تھا ، جس کا کام دنیا کے غلط اجتماعی نظامات کو توڑ پھوڑ کر اپنے فلسفہ اجتماعی کی بنیاد پر ایک عالمگیر اجتماعی نظام مرتب کرنا تھا – یہ سب کچھ بھول بھال کر انہوں نے اپنے آپ کو بس اسی قسم کی ایک قوم سمجھ لیا ہے جیسی اور بہت سی قومیں موجود ہیں- اب ان کی مجلسوں اور انجمنوں میں، ان کی کانفرنسوں اور جمعیتوں میں، ان کے اخباروں اور رسالوں میں، کہیں بھی ان کی اجتماعی زندگی کے اس مشن کا ذکر نہیں آتا جس کے لیے ان کو دنیا بھر کی قوموں میں سے نکال کر ایک امت بنایا گیا تھا- اس مشن کے بجائے اب جو چیز ان کی تمام تجربات کا مرکزبنی ہوئی ہے وہ''مسلمانوںکا مفاد'' ہے___مسلمانوں سے مراد وہ سب لوگ ہیں جو مسلمان ماں باپ کی نسل سے پیدا ہوئے ہوں، اور مفاد سے مراد نسلی مسلمانوں کا مادی و سیاسی مفاد ہے یا بد رجہ آخر اس کلچر کا تحفظ ہے جوان کو آبائی ورثہ میں ملی ہے--- اس مفاد کی حفاظت اور ترقی کے لیے جو تدبیر بھی کارگر ہو اس کی طرف یہ دوڑ جاتے ہیں، بالکل اسی طرح جس طرح مسوینی ہر اس طریقہ کو اختیار کرنے کے لیے تیار ہو جاتا تھا جو اطالویوں کے مفاد کے لیے مناسب ہو- کسی اصول اور نظریہ کا وہ پابند نہ تھا نہ یہ ہیں- وہ کہتا تھا کہ جو کچھ اطالویوں کے لیے مفید ہو وہ حق ہے- یہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ''مسلمانوں'' کےلیے مفید ہو وہ حق ہے، یہی چیز ہے جس کو میں مسلمانوں کا تنزل کہتا ہوں- اور اسی تنزل کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے مجھے یہ یاددلانے کی ضرورت پیش آئی ہے کہ تم نسلی اور تاریخی قوموں کی طرح ایک قوم نہیں ہو بلکہ حقیقت میں ایک جماعت ہو، اور تمہاری نجات صرف اس چیز میں ہے کہ اپنے اندر جماعتی احساس پیداکرو-

اس جما عتی احساس کے فقدان یا خود فراموشی کے برے نتائج اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا شمار کرنا مشکل ہے- یہ اسی بے حسی و خودفراموشی کا نتیجہ ہے کہ مسلمان ہر رہردکے پیچھے چلنے اور ہر نظریئے اور مسلک کی پیروی کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے ، خواہ وہ اسلام کے نظریئے اور اس کے مقاصد اور اس کے اصولوں سے کتنا ہی ہٹا ہئوا ہو- وہ نشینلسٹ بھی بنتا ہے، کمیونسٹ بھی بنتا ہے فاشستی اصول تسلیم کرنے میں بھی اسے کوئی تامل نہیں ہوتا – مغرب کے مختلف اجتماعی اور مابعد الطبی افکار اور عملی نظریات میں سے قریب قریب ہر ایک کے پیرو آپ کو مسلمانوں میں مل جائیں گے- دنیا کی کوئی سیاسی، اجتماعی یا تمد نی تحریک ایسی نہیں جس کے ساتھ کجھ نہ کچھ مسلمان شریک نہ ہوں- اور لطف یہ ہے کہ یہ سب اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، سمجھتے ہیں اور سمجھے جاتے ہیں- ان مختلف راہوں پر بھٹیکتے اور دوڑنے والوں میں سے کسی ایک بھی یہ یاد نہیں آتا کہ''مسلمان '' کوئی پیدائشی لقب نہیں ہے بلکہ اسلام کی راہ پر چلنے والے کا اسم صفت ہے- جو شخص اسلام کی راہ سے ہٹ کر کسی دوسری راہ پر چلے اس کو'' مسلمان'' کہنا اس لفظ کا بالکل غلط استعمال ہے- مسلم نیشنلسٹ اور مسلم کمیونسٹ اور اسی قسم کی دوسری اصطلاحیں بالکل اسی طرح کی متناقض اصطلاحیں ہیں جس طرح '' کمیونسٹ مہاجن'' اور ''جینی قصائی'' کی اصطلاحیں متناقض ہیں-

کتاب تفہیمات، اول
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز اسلامک پبلی کیشنز(پرائیویٹ) لمیٹیڈ
ٹیگ

Understandings