بڑے بڑے شہروں میں ہم دیکھتے ہیں کہ سینکڑوں کارخانے بجلی کی قوت سے چل رہے ہیں، ریلیں اور ٹرام گاڑیاں رواں دواں ہیں- شام کے وقت دفتعہ ہزاروں قمقمے روشن ہو جاتے ہیں-گرمی کے زمانہ میں گھر گھر پنکھے چلتے ہیں- مگر ان واقعات سے نہ تو ہمارے اندر حیرت و استعجاب کی کوئی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور نہ ان چیزوں کے روشن یا متحرک ہونے کی علت میں کسی قسم کا اختلاف ہمارے درمیان واقع ہوتا ہے- یہ کیوں؟ اس لیے ان قممقوں کا تعلق جن تاروں سے ہے ان کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں- ان تاروں کا تعلق جس بجلی گھر سے ہے اس کا حال بھی ہم کو معلوم ہے- اس بجلی گھر میں جو لوگ کام کرتے ہیں ان کے وجود کا بھی ہم کو علم ہے- ان کام کرنے والوں پر جو انجینر نگرانی کر رہا ہے اس کو بھی ہم جانتے ہیں – ہم کو یہ بھی معلوم ہے کہ وہ انجینر بجلی بنانے کے کام سے واقف ہے، اس کے پاس بہت سی کلیں ہیں اور ان کلوں کو حرکت دے کر وہ اس قوت کو پیدا کر رہا ہے جس کے جلوے ہم کو قمقموں کی روشنی ، پنکھوں کی گردش ،ریلوں اور ٹرام گاڑیوں کی سیر ، چکپیوں اور کارخانوں میں نظر آتے ہیں – پس بجلی کے آثار کو دیکھ کر اس کے اسباب کے متعلق ہمارے درمیان اختلاف رائے واقع نہ ہونے کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان اسباب کا پورا سلسلہ ہمارے محسوسات میں داخل ہے اور ہم اس کا مشاہدہ کرچکے ہیں-
فرض کیجیے کا یہی قمقمے روشن ہوتے ، اسی طرح پنکھے گردش کرتے ، یونہی ریلیں اور ٹرام گاڑیاں چلپتیں ، چکیاں اور مشینیں حرکت کرتیں، مگر وہ تار جن سے بجلی ان میں پہنچتی ہے ہماری نظروں سے پوشیدہ ہوتے بجلی گھربھی ہمارے محسوسات کے دائرے سے خارج ہوتا بجلی گھر میں کام کرنے والوں کا بھی ہم کو کچھ علم نہ ہوتا اور یہ بھی معلوم نہ ہوتا کہ اس کا رخانہ کا کوئی انجینئر ہے جو اپنے علم اور اپنی قدرت سے اس کو چلا رہا ہے، کیا اس وقت بھی بجلی کے ان آثار کو دیکھ کر ہمارے دل ایسے ہی مطمئن ہوتے ؟ کیا اس وقت بھی ہم اسی طرح ان مظاہر کی علتوں میں اختلاف نہ کرتے ؟ ظاہر ہے کہ آپ اس کا جواب نفی میں دیں گے – کیوں ؟ اس لیے کہ جب آثار کے اسباب پوشیدہ ہوں اور مظاہر کی علتیں غیر معلوم ہوں تو دلوں میں حیرت کے ساتھ بے اطمینانی کا پیدا ہونا ، دماغوں کا اس راز سر بستہ کی جستجومیں لگ جانا ، اور اس راز کے متعلق قیاسات وآراء کا مختلف ہونا ایک بات ہے-
اب ذرا اسی مفروضہ پر سلسلہ کلام کو آگے بڑھائیے – مان لیجیے کہ یہ جو کچھ فرض کیا گیا ہے حقیقت عالم واقعہ میں موجود ہے – ہز اروں لاکھوں قمقمے روشن ہیں، لاکھوں پنکھے چل رہے ہیں، گاڑیاں دوڑرہی ہیں ، کارخانے حرکت کر رہے ہیں اور ہمارے پاس یہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ ان میں کونسی قوت کام کر رہی ہے اور کہاں سے آتی ہے- لوگ ان مظاہر و آثار کو دیکھ کر حیران و ششدر میں- ہر شخص ان کے اسباب کی جستجومیں عقل کے گھوڑے دوڑارہا ہے- کوئی کہتا ہے کہ یہ سب چیزیں آپ سے روشن یا متحرک ہیں- ان کے اپنے وجود سے خارج کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو انہیں روشنی یا حرکت بخشنے والی ہو- کوئی کہتا ہے کہ یہ چیزیں جن مادوں سے بنی ہوئی ہیں انہی کی ترکیب نے ان کے اندر روشنی اور حرکت کی کیفیتیں پیدا کر دی ہیں – کوئی کہتا ہے کہ اس عالم مادہ سے ماوراء چند دیوتا ہیں جن میں سے کوئی قمقمے روشن کرتا ہے ، کوئی ٹرام اور ریلیں چلاتا ہے، کوئی پنکھوں کو گردش دیتا ہے اور کوئی کارخانوں اور چکیوں کا محرک ہے- بعض لوگ ایسے ہیں جو سونچتے سونچتے تھک گئے ہیں اور آخر میں عاجز ہو کر کہنے لگے ہیں کہ ہماری عقل اس طلسم کی کنہ تک نہیں پہنچ سکتی ہم صرف اتنا ہی جانتے ہیں جتنا دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں، اس سے زیادہ کچھ ہماری سمجھ میں نہیں آتا اور جو کچھ ہماری سمجھ میں نہ آئے اس کی نہ ہم تصدیق کر سکتے ہیں اور نہ تکذیب-
یہ سب گروہ ایک دوسرے سے لڑرہے ہیں- مگر اپنے خیال کی تائید اور دوسرے خیالات کی تکذیب کے لیے ان میں سے کسی کے پاس بھی قیاس اور ظن و تخمین کے سوا کوئی ذریعئہ علم نہیں ہے-
اس دوران میں کہ یہ اختلافات برپا ہیں، ایک شخص آتا ہے اور کہتا ہے کہ بھائیو، میرے پاس علم کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو تمہارے پاس نہیں ہے- اس ذریعہ سے مجھے معلوم ہئوا ہے کہ ان سب قمقموں ، پنکھوں، گاڑیوں، کارخانوں اور چکپیوں کا تعلق چند مخفی تاروں سے ہے جن کو تم محسوس نہیں کرتے –ان تاروں میں ایک بہت بڑے بجلی گھر سے وہ قوت آتی ہے جس کا ظہور روشنی اور حرکت کی شکل میں ہوتا ہے- اس بجلی گھر میں بڑی بڑی عظیم الشان کلیں ہیں جہنیں بشیمار اشخاص چلا رہے ہیں – یہ سب اشخاص ایک بڑے انجینئر کے تابع ہیں، اور وہی انجینئر ہے جس کے علم اور قدرت نے اس پورے نظام کو قائم کیا ہے- اسی کی ہدایت اور نگرانی میں یہ سب کام ہو رہے ہیں-
یہ شخص پوری قوت سے اپنے اس دعوے کو پیش کرتا ہے- لوگ اس کو جھٹلاتے ہیں، سب گروہ مل کر اس کی مخالفت کرتے ہیں ، ایسے دیوار قرار دیتے ہیں، اس کو مارتے ہیں ، تکلیفیں دیتے ہیں ، گھر سے نکال دیتے ہیں، مگر وہ ان سب روحانی اور جسمانی مصیبتوں کے باوجود اپنے دعوی پر قائم رہتا ہے – کسی خوف یا لالچ سے اپنے قول میں ذرہ برابر ترمیم نہیں کرتا – کسی مصیبت سے اس کے دعوے میں کمزوری نہیں آتی- اس کی ہر ہر بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کو اپنے قول کی صداقت پر کامل یقین ہے-
اس کے بعد ایک دوسرا شخص آتا ہے اور وہ بھی بجنسہ یہی قول اسی دعوی کے ساتھ پیش کرتا ہے ، پھر تیسرا ، چوتھا ، پانچواں آتا ہے اور وہی بات کہتا ہے جو اس کے پیشردوں نے کہی تھی – اس کے بعد آنے والوں کا ایک تانتا بندھ جاتا ہے – یہاں تک کہ ان کی تعداد سینکڑوں اور ہزاروں سے متجاوز ہو جاتی ہے، اور یہ سب اسی ایک قول کو اسی ایک دعوی کے ساتھ پیش کرتے ہیں- زمان و مکان اور حالات کے اختلاف کے باوجود ان کے قول میں کوئی اختلاف نہیں ہوتا- سب کہتے ہیں کہ ہمارے پاس علم کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو عام لوگوں کے پاس نہیں ہے- سب کو دیوانہ قرار دیا جاتا ہے، ہر طرح کے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، ہر طریقہ سے ان کو مجبور کیا جاتا ہے کہ اپنے قول سے باز آجائیں، مگر سب کے سب اپنی بات پر قائم رہتے ہیں اور دنیا کی کوئی قوت ان کو اپنے مقام سے ایک انچ نہیں ہٹا سکتی- اس عزم و استقامت کے ساتھ ان لوگوں کی نمایاں خصوصیات یہ ہیں کہ ان میں سے کوئی جھوٹا ، چور خائن، بدکار ، ظالم اور حرام خور نہیں ہے ، ان کے دشمنوں اور مخالفوں کو بھی اس کا اعتراف ہے- ان سب کے اخلاق پاکیزہ ہیں، سیرتیں انتہا درجہ کی نیک ہیں، اور حسن خلق میں یہ اپنے دوسرے ابنائے نوع سے ممتاز ہیں – پھر ان کے اندر جنوں کا بھی کوئی اثر نہیں پایا جاتا – بلکہ اس کے برعکس وہ تہذیب اخلاق ، تزکیہ نفس ، اور دنیوی معاملات کی اصلاح کے لیے ایسی ایسی تعلیمات پیش کرتے اور ایسے ایسے قوانین بناتے ہیں جن کے مشل بنانا تو درکنار بڑے بڑے علماء و عقلاء کو ان کی باریکیاں سمجھنے میں پوری پوری عمریں صرف کر دینی پڑتی ہیں-
ایک طرف وہ مختلف الخیال مکذبین ہیں ، اور دوسری طرف یہ متحد الخیال مدعی دونوں کا معاملہ عقل سلیم کی عدالت میں پیش ہوتا ہے – جج کی حیثیت سے عقل کا فرض ہے کہ پہلے اپنی پوزیشن کو خوب سمجھ لے، پھر فریقین کی پوزیشن کو سمجھے، اور دونوں کا موازنہ کرنے کے بعد فیصلہ کرے کہ کس کی بات قابل ترجیح ہے-
جج کی اپنی پوزیشن یہ ہے کہ خود اس کے پاس امرواقعی کو معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے- وہ خود حقیقت کا علم نہیں رکھتا – اس کے سامنے صرف فریقین کے بیانات ، ان کے دلائل ، ان کے ذاتی حالات اور خارجی آثار و قرائن ہیں- انہی پر تحقیق کی نظر ڈال کر اسے فیصلہ کرنا ہے کہ کس کا برحق ہونا اغلب ہے – مگر اغلبیت سے بڑھ کر بھی وہ کوئی حکم نہیں لگا سکتا ، کیونکہ مسل پر جو کچھ مواد ہے اس کی بنا پر یہ کہنا اس کے لیے مشکل ہے کہ امرواقعی کیا ہے- وہ فریقین میں سے ایک کو ترجیح دے سکتا ہے ، لیکن قطعیت اور یقین کے ساتھ کسی کی تصدیق یا تکذیب نہیں کر سکتا-
مکذبین کی پوزیشن یہ ہے:
.1 حقیقت کے متعلق ان کے نظریے مختلف ہیں- اور کسی ایک نکتہ میں بھی ان کے درمیان اتفاق نہیں ہے حتی کہ ایک ہی گروہ کے افرادمیں بسا اوقات اختلاف پایا گیا ہے-
.2 وہ خوداقرارکرتے ہیں کہ ان کے پاس علم کا کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہے جو دوسروں کے پاس نہ ہو- ان میں سے کوئی گروہ اس سے زیادہ کسی چیز کا مدعی نہیں ہے کہ ہمارے قیاسات دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ وزنی ہیں، مگر اپنے قیاسات کا قیاسات ہونا سب کو تسلیم ہے
.3 - اپنے قیاسات پر ان کا اعتقاد ، ایمان و یقین اور غیر متزلزل و ثوق کی حد تک نہیں پہنچا ہے- ان میں تبدیلی رائے کی مثالیں بکثرت ملتی ہیں- بار ہادیکھا گیا ہے کہ ان میں کا ایک شخص کل تک جس نظریہ کو پورے زور کے ساتھ پیش کر رہا ہے ، آج خود اسی نے اپنے پچھلے نظریہ کی تردید کر دی اورایک دوسرا نظریہ پیش کر دیا – عمر ، عقل ، علم اور تجبربے کی ترقی کے ساتھ ساتھ اکثر ان کے نظریات بدلتے رہتے ہیں-
.4 مدعیوں کی تکذیب کے لیے ان کے پاس بجز اس کے اور کوئی دلیل نہیں ہے کہ انہوں نے اپنی صداقت کا کوئی یقینی ثبوت نہیں پیش کیا، انہوں نے وہ مخفی تارہم کو نہیں دکھا ئے جن کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ قمقموں اور پنکھوں وغیرہ کا تعلق انہی سے ہے ، نہ انہوں نے بجلی کا وجود تجربہ اور مشاہدہ سے ثابت کیا ، نہ بجلی گھر کی ہمیں سیر کرائی ، نہ اس کی کلوں اور مشینوں کا معاینہ کرایا ، نہ اس کے کارندوں میں سے کسی سے ہماری ملاقات کرائی، نہ کبھی انجنیئر سے ہم کو ملایا ، پھر ہم یہ کیسے مان لیں کہ یہ سب کچھ حقائق ہیں؟
مدعیوں کی پوزیشن یہ ہے-
.1 وہ سب آپس میں متفق القول ہیں- دعوی کے جتنے بنیادی نکات ہیں ان سب میں ان کے درمیان کامل اتفاق ہے
.2 ان سب کا متفقہ دعوی یہ ہے کہ ہمارے پاس علم کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو عام لوگوں کے پاس نہیں ہے-
.3 ان میں سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ ہم اپنے قیاس یا گمان کی بنا پر ایسا کہتے ہیں بلکہ سب نے بالاتفاق کہا ہے کہ انجنیئر سے ہمارے خاص تعلقات ہیں- اس کے کارندے ہمارے پاس آتے ہیں، اس نے اپنے کارخانے کی سیر بھی ہم کو کرائی ہے اور ہم جو کچھ کہتے ہیں علم و یقین کی بنا پر کہتے ہیں- ظن و تخمین کی بنا پر نہیں کہتے-
.4 ان میں ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ کسی نے اپنے بیان میں ذرہ برابر بھی تغیرو تبدل کیا ہو- ایک ہی بات ہے جو ان کا ہر شخص دعوی کے آغاز سے زندگی کے آخری سانس تک کہتا رہا ہے-
.5 ان کی سیرتیں انتہا درجہ کی پاکیزہ ہیں – جھوٹ ، فریب ، مکاری ، دغا بازی کا کہیں شائبہ تک نہیں ہے- اور کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ جو لوگ زندگی کے تمام معاملات میں سچے اور کھرے ہوں ، وہ خاص اسی معاملہ میں بالاتفاق کیوں جھوٹ بولیں-
.6 اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ دعوی پیش کرنے سے ان کے پیش نظر کوئی ذاتی فائدہ تھا- برعکس اس کے یہ ثابت ہے کہ ان میں سے اکثر و بشیتر نے اس دعوے کی خاطر انتہائی درجہ کے مصائب برداشت کیے ہیں ، جسمانی تکلیفیں سہیں، قید کیے گئے ، مارے اور پیٹے گئے ، جلاوطن کیے گئے- بعض قتل کر دیئے گئے – حتی کہ بعض کو آرے سے چیرڈالا گیا، اور چند کے سوا کسی کو بھی خوش حالی وفارغ البالی کی زندگی میسر نہ ہوئی – لہذا کسی ذاتی غرض کا الزام ان پر نہیں لگایا جا سکتا – بلکہ ان کا ایسے حالات میں اپنے دعوی تر قائم رہنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کو اپنی صداقت پر انتہا درجہ کا یقین تھا، ایسا یقین کہ اپنی جان بچانے کے لیے بھی ان میں سے کوئی اپنے دعوے سے باز نہ آیا-
.7 ان کے متعلق مجنون یا فاتر العقل ہونے کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے- زندگی کے تمام معاملات میں وہ سب کے سب غایت درجہ کے دانشمند اور سلیم العقل پائے گئے ہیں- ان کے مخالفین نے بھی اکثر ان کی دانشمندی کا لوہا مانا ہے- پھر یہ کیسے باور کیا جا سکتا ہے کہ ان سب کو اسی خاص معاملہ میں جنون لاحق ہو گیا ہو؟ اور وہ معاملہ بھی کیسا؟ جو ان کے لیے زندگی اور موت کا سوال بن گیا ہو- جس کے لیے انہوں نے دنیا بھر کا مقابلہ کیا ہو- جس کی خاطر وہ سالہا سال دنیا سے لڑتے رہے ہوں- جو ان کی ساری عاقلانہ تعلیمات کا دجن کے عاقلانہ ہونے کا بہت سے تکذبین کو بھی اعتراف ہے اصل الاصول ہو-
.8 انہوں نے خود بھی یہ نہیں کہا کہ ہم انجنیئر یا اس کے کارندوں سے تمہاری ملاقات کر ا سکتے ہیں یا اس کا مخفی کارخانہ تمہیں دکھا سکتے ہیں یا تجربہ اور مشاہدہ سے اپنے دعوی کو ثابت کو سکتے ہیں- وہ خود ان تمام امور کو '' غیب'' سے تعبیر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ہم پر اعتماد کرو اور جو کچھ ہم بتاتے ہیں اسے مان لو-
فریقین کی پوزیشن اور ان کے بیانات پر غور کرنے کے بعد اب عقل کی عرالت اپنا فیصلہ صادر کرتی ہے-
وہ کہتی ہے کہ چند مظاہر و آثار کو دیکھ کر ان کے باطنی اسباب و علل کی جستجو دونوں فریقوں نے کی ہے اور ہر ایک نے اپنے اپنے نظریات پیش کیے ہیں – باوی النظر میں سب کے نظریات اس لحاظ سے یکساں ہیں کہ اولا ان میں سے کسی میں استحالہ عقلی نہیں ہے، یعنی قوانین عقلی کے لحاظ سے کسی نظریہ کے متعلق نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا صحیح ہونا غیر ممکن ہے ثانیا ان میں سے کسی کی صحت تجربے یا مشاہدے سے ثابت نہیں کی جا سکتی – نہ فریق اول میں سے کوئی گووہ اپنے نظریات کا ایسا سا ئنٹفک ثبوت دے سکتا ہے جو ہر شخص کو یقین کرنے پر مجبور کر دے – اور نہ فریق ثانی اس پر قادر یا اس کا مدعی ہے-لیکن مزید غور و تحقیق کے بعد چند امور ایسے نظر آتے ہیں جن کی بنا پر تمام نظریات میں سے فریق ثانی کا نظریہ قابل ترجیح قرار پاتا ہے-
اولا ، کسی دوسرے نظریہ کی تائید اتنے کیثر التعداد عاقل ، پاک سیرت ، صادق القول آدمیوں نے متفق ہو کر اتنی قوت اور اتنے یقین و ایمان کے ساتھ نہیں کی ہے-
ثانیا'، ایسے پاکیزہ کیرکڑ اور اتنے کثیر التعداد لوگوں کا مختلف زمانوں اور مختلف مقامات میں اس دعوی پر متفق ہو جانا کہ ان سب کے پاس ایک غیر معمولی ذریعہ علم ہے، اور ان سب نے اس ذریعہ سے خارجی مظاہر کے باطنی اسباب کو معلوم کر لیا ہے ہم کو اس دعوی کی تصدیق پر مائل کر دیتا ہے ، خصوصا اس وجہ سے کہ اپنی معلومات کے متعلق ان کے بیانات میں کوئی اختلاف نہیں ہے، جو معلومات انہوں نے بیان کی ہیں ان میں کوئی استحالئہ عقلی بھی نہیں ہے اور نہ یہ بات قوانین عقلی کی بنا پر محال قرار دی جا سکتی ہے کہ بعض انسانوں میں کچھ ایسی غیر معمولی قوتیں ہوں جو عام طور پر دوسرے انسانوں میں نہ پائی جاتی ہوں-
ثالثا'' ، خارجی مظاہر کی حالت پر غور کرنے سے بھی اغلب یہی معلوم ہوتا ہے کہ فریق ثانی کا نظریہ صحیح ہو- اس لیے کہ قمقمے ، پنکھے ، گاڑیاں، کارخانے وغیرہ تو آپ سے آپ روشن اور متحرک ہیں ، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو ان کا روشن اور متحرک ہونا ان کے اپنے اختیار میں ہوتا ، حالانکہ ایسا نہیں ہے – نہ ان کی روشنی و حرکت ان کے مادہ جسمی کی نرلعیب کا نتیجہ ہے، کیو نکہ جب وہ متحرک اور روشن نہیں ہوتے اس وقت بھی یہی ترکیب جسمی موجود رہتی ہے- نہ ان کا الگ الگ قوتوں کے زیراثر ہونا صحیح معلوم ہوتا ہے ، کیونکہ بسا اوقات جب قمقموں میں روشنی نہیں ہوتی تو پنکھے بھی بند ہوتے ہیں ، ٹرام کاریں بھی موقوف ہو جاتی ہیں اور کارخانے بھی نہیں چلتے – لہذا خارجی مظاہر کی توجیہ میں فریق اول کی طرف سے جتنے نظریات پیش کیے گئے ہیں وہ سب بعیداز عقل وقیاس ہیں- زیادہ صحیح یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ ان تمام مظاہر میں کوئی ایک قوت کارفرماہو اور اس کا سر رشتہ کسی ایسے حکیم و توانا کے ہاتھ میں ہو جو ایک مقررہ نظام کے تحت اس قوت کو مختلف مظاہر میں صرف کر رہا ہو-
باقی رہا مشککین کا یہ قول کہ یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی ، اور جو بات ہماری سمجھ میں نہ آئے اس کی تصدیق یا تکذ یب ہم نہیں کر سکتے ، تو حاکم عقل اس کو بھی درست نہیں سمجھتا کیو نکہ کسی واقعہ کا واقعہ ہونا اس کا محتاج نہیں ہے کہ وہ سننے والوں کی سمجھ میں بھی آجائے – اس کے وقوع کو تسلیم کرنے کے لیے معتبر اور متواتر شہادت کافی ہے – اگر ہم سے چند معتبر آدمی آکر کہیں کہ ہم نے زمین مغرب میں آدمیوں کو لوہے کی گاڑیوں میں بیٹھ کر ہوا پر اڑتے دیکھا ہے ، اور ہم اپنے کانوں سے لندن میں بیٹھ کر امریکہ کا گانا سن آئے ہیں، تو ہم صرف یہ دیکھیں گے کہ یہ لوگ جھوٹے اور مسخرے تو نہیں ہیں؟ ایسا بیان کرنے میں ان کی کوئی ذاتی غرض تو نہیں ہے ؟ ان کے دماغ میں کوئی فتور تو نہیں ہے؟ اگر ثابت ہو گیا کہ وہ جھوٹے ہیں نہ مسخرے، نہ دیوانے ، نہ ان کا کوئی مفاد اس روایت سے وابستہ ہے، اور اگر ہم نے دیکھا کہ اس کو بلا اختلاف بہت سے سچے اور عقلمند لوگ پوری سنجیدگی کے ساتھ بیان کر رہے ہیں تو ہم یقینا'' اس کو تسلیم کر لیں گے خواہ لوہے کی گاڑیوں کا ہوا پر اڑنا اور کسی مادی واسطہ کے بغیر ایک جگہ کا گانا کئی ہزار میل کے فاصلہ پر سنائی دینا کسی طرح ہماری سمجھ میں نہ آتا ہو-
یہ اس معا ملہ میں عقل کا فیصلہ ہے – مگر تصدیق و یقین کی کیفیت جس کا نام '' ایمان'' ہے اس سے پیدا نہیں ہوتی – اس کے لیے وجدان کی ضرورت ہے- اس کے لیے ضرورت ہے کہ اندر سے ایک آواز آئے جو تکذ یب ، شک اور تذ بذ ب کی تمام کیفیتوں کا خاتمہ کر دے اور صاف کہہ دے کہ لوگوں کی قیاس آرئیاں باطل ہیں، سچ وہی ہے جو سچے لوگوں نے قیاس سے نہیں بلکہ علم و بصیرت کی رو سے بیان کیا ہے –
(ترجمان القرآن – رجب 52ھ - دسمبر 1933ء)
| کتاب | تفہیمات، اول |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | اسلامک پبلی کیشنز(پرائیویٹ) لمیٹیڈ |
| ٹیگ |