تفہیمات، اول

ہدایت وضلا لت کا راز

کچھ مدت ہوئی کہ اسلام کے متعلق مسٹر جارج برناڈشا کے خیالات جرائد میں شائع ہوئے تھے – حال میں جب انہوں نے مشرق کا سفر کیا تو اس کے دوران میں سنگاپور کےعربی اخبار '' الہدی'' کا نامہ نگار ان سے ملا اور اس سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے پھر ایک مرتبہ اسلام کی خوبیوں کا اعتراف کیا- انہوں نے کہا کہ اسلام آزادی اور دستوری و ذہنی حریت کا دین ہے- احتماعی نقطئہ نظر سے مسحیت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی – کسی مذ ہب کا نظام اجتماعی اتنا مکمل نہیں ہے جتنا اسلام کا نظام ہے دنیائے اسلام کا تنزل اسلام سے دور ہٹ جانے کی بدولت ہے- مسلمان جب صرف اسلام کی بنیادوں پر جد و جہد کریں گے تو عالم اسلامی کا خواب ، بیداری سے بدل جائے گا-

ان خیالات کے سننے کے بعد نامہ نگار نے سوال کیا کہ جب آپ اسلام کو اچھا سمجھتے ہیں تو پھر اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کیوں نہیں کردیتے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو فطری طور پر ان بیانات کے بعد پیدا ہوتا ہے- کیونکہ ایک سلیم الطبع آدمی کے لیے کسی چیز کے اعتراف قبح اوراس کو ترک کر دینے اور کسی چیز کے اعتراف حسن اور اس کو قبول و تسلیم کر لینے میں کوئی حد فاصل نہیں ہو سکتی- لیکن مسٹر شانے جو کچھ جواب دیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ قبول اسلام کے لیے تیار نہیں ہیں، اور ایسا نہ کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی دلیل بھی نہیں ہے، بلکہ صرف اس چیز کی کمی ہے جس کو شرح صدر کہتے ہیں-

ایک مسٹر شاہی پر موقوف نہیں ہے، بہت سے اہل فکر و نظر پہلے بھی گزر چکے ہیں اور اب بھی موجود ہیں جہنوں نے اسلام کی خوبیوں کا اعتراف کیا، اس کی دنیوی یا دینی یا دونوں حیثیتوں سے مفید ہونے کا اقرار کیا، اس کی تہذ یب ، اس کے نظام اجتماعی اس کی علمی صداقت اور اس کی عملی قوت کی برتری تسلیم کی، مگر جب ایمان لانے اور دائرۂ اسلام میں داخل ہو جانے کا سوال سامنے آیا تو کسی چیزنے ان کو قدم آگے بڑھانے سے روک دیا، اور وہ اسلام کی سرحد پر پہنچ کربرعکس اس کے بہت سے آدمی ایسے بھی ہو گزرے ہیں جہنوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ اسلام کی مخالفت اور اس کی دشمنی میں صرف کر دیا ، لیکن اسی مخالفت کے سلسلہ میں اسلام کا مطالعہ کرتے ہوئے حقیقت اسلام ان پر منکشف ہو گئی اور اس انکشاف کے بعد کوئی چیز ان کو ایمان لانے سے نہ روک سکی-

حقیقت یہ ہے کہ ہدایت و ضلالت کا راز بھی ایک عجیب راز ہے – ایک ہی بات ہے جو ہزاروں آدمیوں کے سامنے کہی جاتی ہے، مگر کوئی اس کی طرف توجہ ہی نہیں کرتا ، کوئی توجہ کرتا ہے لیکن وہ اس کے پردہ گوش پر سے اچٹ کر چلی جاتی ہے ، کوئی اس کو سنتا اور سمجھتا ہے مگر مانتا نہیں ، کوئی اس کی تعریف و تحسین کرتا ہے مگر قبول و تسلیم نہیں کرتا، اور کسی کے دل میں وہ گھر کر جاتی ہے اور وہ اس کی صداقت پر ایمان لے آتا ہے-

ہمارا شب و روز کا مشاہدہ ہے کہ ایک شخص کو بازار میں چوٹ لگ کر گرتے ہوئے سینکڑوں آدمی دیکھتے ہیں۔ بہت سے اس کو معمولی واقعہ سمجھ کر یونہی بس دیکھتے ہوئے گزر جاتے ہیں- بہتوں کے دل میں رحم آتا ہے مگر افسوس کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں- بہت سے اس کا تماشا دیکھنے کے لیے جمع ہو جاتے ہیں- اور بعض اللہ کے بندے ایسے نکلتے ہیں جو بڑھ کر اسے اٹھاتے ہیں، اس سے ہمدردی کرتے ہیں اور اس کو مدد پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں _________ ایک مجرم کو پابہ زنجیر جاتے ہوئے بہت سے آدمی دیکھتے ہیں کوئی اس کی طرف التفات ہی نہیں کرتا، کوئی اس پر حقارت کی نظر ڈالتا ہے، کوئی اس پر ترس کھاتا ہے، کوئی اس کی ہنسی اڑاتا ہے ، کوئی اس کے انجام پر خوش ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے

کہ جیسا کیا ویسا بھرا، اورکوئی اس کے انجام سے عبرت حاصل کرتا ہے اور جرم سے بچنے کی خواہش اس کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے-

یہ تو مختلف لوگوں کی مختلف نفسی کیفیات و تاثرات ہیں، جن کا اختلاف زیادہ تعجب خیز نہیں- اس سے بڑھ کر عجیب بات یہ ہے کہ ایک ہی شخص کے تاثر اور اس پر ہی چیز کے اثر کی نوعیت مختلف اوقات میں مختلف ہوتی ہے- وہی ایک بات ہے جس کو ایک شخص ہزاروں مرتبہ سنتا ہے اور نہیں مانتا، مگر ایک ایسا موقع آتا ہے کہ یکایک اس کے دل کا بند کھل جاتا ہے ، جو بات کان کے پردے میں اٹک کر رہ جاتی تھی وہ سیدھی دل تک پہنچ جاتی ہے، اور وہ خود حیران ہوتا ہے کہ یہی بات میں پہلے بھی بار ہا سن چکا ہوں ، پھر آج یہ کیا ماجراہوگیا کہ یہ خود بخود دل میں اتری چلی جارہی ہے؟ ایک ہی شخص کو بار ہا آفت رسیدہ آدمیوں کے دیکھنے کا اتفاق ہوتا ہے اور وہ ان کی طرف التفات بھی نہیں کرتا – لیکن ایک موقعہ پر کسی شخص کی مصیبت دیکھ کر دفعتہ '' اس کا دل بھر آتا ہے، قسادت کا پردہ چاک چاک ہو جاتا ہے اور وہ سب سے زیادہ ہمدرد ، رحیم اور نرم دل بن جاتا ہے- ایک شخص کو اپنی عمر میں بے شمار عبرتناک مناظردیکھنے کا اتفاق ہوتا ہے کبھی وہ ان کو تماشا سمجھ کر دیکھتا ہے ، کبھی ایک حسرت و افسوس کی نگاہ ڈالتا ہے اور کبھی ایک معمولی نظر سے اس پر ایسا اثر پڑتا ہے کہ دل پر ایک مستقل نقش بیٹھ جاتاہے-

یہی حال ہدایت و ضلالت کا بھی ہے- وہی ایک قرآن تھا- وہی ایک اس کی تعلیم تھی- وہی ایک اس کو سنانے والی زبان تھی- ابوجہل اور ابولہب تمام عمر اس کو سنتے رہے مگر کبھی وہ ان کے کانوں سے آگے نہ بڑھ سکا- خدیجہ الکبری رضی اللہ ، ابوبکر رضی اللہ اور علی رضی اللہ بن ابی طالب نے سنا اور پہلے ہی لمحہ میں اس پر ایمان لے آئے بغیر اس کے کہ ان کے دل میں شک کا شائبہ بھی گزرتا- عمر ابن الخطاب نے بیسیوں مرتبہ اس کو سنا اور صرف یہی نہیں کہ تسلیم نہ کیا بلکہ جوں جوں سنتے رہے مخالف اور دشمن ہوتے چلے گئے، لیکن ایک مرتبہ انہی کانوں نے اس چیز کو سنا تو کان اور دل کے درمیان جتنی مضبوط دیواریں چنی ہوئی تھیں ، یکایک منہدم ہو گئیں اور اس چیز نے ان کے دل میں ایسا اثر کیا کہ ان کہ ان کی زندگی کی بالکل کا یا پلٹ گئی-

ہرچند نقطئہ نظر سے اس اختلاف کیفیت اور اختلاف اثر و تاثر کی بہت سی توجیہیں کی جا سکتی ہیں اور وہ سب اپنی اپنی جگہ درست بھی ہیں- مگر اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جو چیز چشم و گوش اور دل و دماغ کے درمیان کہیں ایک مدت تک حجاب بنی رہتی ہے اور ایک نفسیاتی موقع پر خود بخود چاک ہو جاتی ہے، کہیں سرے سے حجاب بنتی ہی نہیں ، کہیں کسی بات کے لیے حجاب بنتی ہے اور کسی بات کے لیے نہیں بنتی ، وہ بالکل انسان کے ارادۂ و اختیار کے تابع نہیں ہے، بلکہ فطری و جبلی طور پر خود بخود انسان میں پیدا ہوتی ہے-

یہی نکتہ ہے جس کو قرآن مجید میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ :-

ایک اورموقع پر اس کو یوں ادا کیا گیا ہے کہ :-

پھر اس ہدایت کی کیفیت کو یوں بیان کیا ہے کہ :-

اور ضلالت کی کیفیت اس طرح بیان کی ہے کہ :-

ان آیات میں اس فطری کیفیت کو جو ایک حق بات سن کر اسے قبول کر لینے کے لیے اضطراری طور پر دل میں پیدا ہوتی ہے اور جو آخر کار انسان کو ایمان کی طرف کھینچ لاتی ہے ، خدائی ہدایت اور اس کے پیدا کرنے کو '' شرح صدر'' سے تعبیر کیا ہے – اور اس ہدایت کے برعکس انسان کے دل میں حق سے انکار اور اعراض کرنے پر آمادگی کی جو کیفیت پیدا ہوتی ہے ، اس کو اللہ کی طرف سے مسلط کی ہوئی گمراہی قرار دیا گیا ہے، اور'' شرح صدر'' کے مقابل جو انقباضی کیفیت دل میں پیدا ہوتی ہے اسے ''ضیق صدر'' سے تعبیر کیا گیا ہے- پھر اس ''ہدایت و ضلالت'' اور ''شرح صدر'' و ''ضیق صدر'' کے پیدا ہونے کا سبب یہ بتایا ہے کہ انسان جب ایک مرتبہ خدا کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے تو اس کو خود بخود وہ راستہ دکھائی دینے لگتا ہے جو اسے سیدھا خدا کی جانب لے جاتا ہے اور جو شخص سرے سے یہ احساس ہی نہیں رکھتا کہ مجھے کبھی خدا کے حضور میں حاضر ہونا اور اپنے قلب و جوارح کے افعال کا حساب دینا ہے، اس کو لاکھ کوئی شخص کلمہ حق سنائے اور وعظ و تلقین کرے، کوئی بات اس کے دل میں نہیں اترتی اور وہ کسی طرح راہ راست پر نہیں آتا-

یہاں پھر دوباتیں مل گئی ہیں جن کو الگ الگ سمجھ لینے سے قرآن مجید کے وہ مقامات بآسانی حل ہو جاتے ہیں جن میں یہ مضمون مختلف پیرایوں سے بیان کیا گیا ہے-

ایک طرف ہدایت و شرح صدر اور ضلالت و ضیق صدر کی کیفیت کو اللہ تعالی کی طرف منسوب کیا ہے دوسری طرف اس ہدایت و شرح صدر کے عطا کرنے کے لیے یہ شرط لگائی ہے کہ انسان

خدا کی طرف رجوع اور توجہ کرے، اور ضلا لت و ضیق صدر کے مسلط کردینے کا سبب یہ بتایا گیا ہے کہ گمراہ شخص خداکی طرف متوجہ نہیں ہوتا اور اس کے سامنے مسئوں و جوابدہ ہونے کا احساس نہیں رکھتا-

ان دونوں چیزوں کے باہمی تعلق کو یوں سمجھو کہ انسان کی فطرت میں خدا نے ایک ایسی قوت رکھ دی ہے جو اس حق و باطل کے امتیاز اور صحیح و غلط کا فرق سمجھنے میں مدد دیتی ہے اور اس کے ساتھ ہی اسے حق کی طرف بڑھنے اور باطل سے احتراز کرنے پر مائل کرتی ہے- یہی قوت وہ فطری ہدایت ہے جسے خدا اپنی طرف منسوب کرتا ہے اور جس کی طرف ارشاد خدا وندی فطرۂ اللہ التی فطر الناس علیہا میں اشارہ کیا گیا ہے- اس کے خلاف ایک اور قوت بھی انسان میں کام کر رہی ہے جو باطل کو اس کے سامنے مزین کر کے پیش کرتی ہے – ان دونوں کے ساتھ بہت سی خارجی اور داخلی قوتیں ایسی ہیں جن میں سے بعض ہدایت کی قوت کو مدد پہنچانے والی ہوتی ہیں اور بعض ضلا لت کی قوت کو – اکتساب علم اور اس کے مختلف مدارج ، تربیت اور اس کی مختلف کیفیات ، سوسائٹی اور اس کے مختلف احوال ، یہ وہ چیزیں ہیں جو باہر سے اس پر اثر انداز ہوتی ہیں اور ترازو کے دونوں پلڑوں میں سے کسی ایک میں اپنا وزن ڈالتی رہتی ہیں- اور انسان کا اپنے اختیار تمیزی، اپنی فہم و فراست ، اپنی عقل و بصیرت ، اپنے ذرائع اکتساب علم سے صحیح یا غلط کام لینا ، اور اپنی قوت فیصلہ کو بجایا بے جا استعمال کرنا ، یہ وہ چیز ہے جو خود اس کے ارادہ کے تابع ہے اور جس سے وہ ہدایت و ضلا لت کی متضاد قوتوں کے درمیان فیصلہ کرتا ہے-

اب ہوتا یہ ہے کہ خدا کی بخشی ہوئی ہدایت اور اس کی مسلط کی ہوئی ضلالت دونوں غیر محسوس طور پر عمل کرتی رہتی ہیں- ہدایت کی قوت اسے راہ راست کی طرف لطیف اشارے کیا کرتی ہے اور ضلا لت کی قوت اسے باطل کے ملمع پر رجھائے جاتی ہے- مگر کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان غلط اثرات سے متاثر ہو کر اور خود اپنی اختیاری قوتوں کو غلط طریقے سے استعمال کر کے ضلا لت کے پھندے میں گرفتار ہو جاتا ہے اور ہدایت کی پکار پر کان ہی نہیں دھرتا کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ غلط راستے پر چل رہا ہوتا ہے اور اس دوران میں کچھ بیرونی اثرات اور کچھ خود اس کی اپنی عقل و بصیرت ، دونوں مل جل کر اسے گمراہی سے بیزار کر دیتے ہیں اور اس وقت ہدایت کی وہی روشنی جو پہلے مدھم تھی دفتعہ تیز ہو کر اس کی آنکھیں کھول دیتی ہے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک مدت تک انسان ہدایت اور ضلا لت کے درمیان مذ بذ ب رہتا ہے ، کبھی ادھر کھنچتا ہے کبھی ادھر، قوت فیصلہ اتنی قوی نہیں ہوتی کہ بالکل کسی ایک طرف کا ہو جائے بعض بد قسمت اسی تذ بذ ب کے عالم میں دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں ، بعض کا آخری فیصلہ ضلا لت کے حق میں ہوتا ہے اور بعض ایک طویل کشمکش کے بعد ہدایت الہی کا اشارہ پالیتے ہیں- مگر سب سے زیادہ خوش قسمت وہ سلیم الفطرت ، صحیح القلب ، اور سدید النظر لوگ ہوتے ہیں جوخدا کی دی ہوئی عقل ، اس کی عطا کی ہوئی آنکھوں ، اس کے بخشے ہوئے کانوں اور اس کی وولعیت کی ہوئی قوتوں سے ٹھیک ٹھیک کام لیتے ہیں، مشاہدات اور تجربات سے درست نتائج اخذ کرتے ہیں- آیات الہی کو دیکھ کر ان سے صحیح سبق حاصل کرتے ہیں- باطل کی زنیت ان کو رجھانے میں ناکام ہوتی ہے- جھوٹ کا فریب ان کو اپنا گرویدہ نہیں بنا سکتا – ضلا لت کی کج راہیوں کو دیکھتے ہی وہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ آدمی کے چلنے کے قا بل نہیں ہیں- پھر جونہی کہ وہ حق کی طرف رجوع کرتے اور اس کی طلب میں آگے بڑھتے ہیں،حق ان کے استقبال کو آتا ہے ، ہدایت کا نور ان کے سامنے چمکنے لگتا ہے اور حق کو حق سمجھ لینے اور باطل کو باطل جان لینے کے بعد پھر دنیا کی کوئی قوت ان کو راہ راست سے پھیرنے اور گمراہی کی طرف لگانے میں کامیاب نہیں ہوتی-

ایک اور بات بھی اس سلسلہ میں قابل بیان ہے اور ضرورت ہے کہ مسلمان اس کو ذہن نشین کر لیں- عام طور پر جب غیر مسلم مشاہیر کی جانب سے اسلام کے متعلق کچھ اچھے خیالات کا اظہار ہوتا ہے تو مسلمان بڑے فخر سے ان خیالات کو شہرت

دیتے ہیں گویا ان کا اسلام کو اچھا سمجھنا اسلام کے لیے کوئی سرٹیفکیٹ ہے- لیکن یہ حقیقت فراموش نہ کرنی چاہیے کہ اسلام کی صداقت و حقانیت اس سے بے نیاز ہے کہ کوئی اس کا اعتراف کرے- جس طرح آفتاب کا روشن ہونا اس کا محتاج نہیں کہ کوئی اس کو روشن کہے اور جس طرح آگ کا گرم ہونا اور پانی کا سیال ہونا اس کا محتاج نہیں کہ کوئی اس کی گرمی اور اس کے سیلان کو تسلیم کرے، اسی طرح اسلام کا بر حق ہونا اس کا حاجتمند نہیں کہ کوئی اس کے برحق ہونے کو مان لے- خصوصا'' ایسے لوگوں کی تحسین اور مدح تو کوئی بھی وقعت نہیں رکھتی جن کے دل ان کی زبانوں کا ساتھ نہیں دیتے اور جو خود اپنے اعراض و انکار سے اپنی مدح و تحسین کی تکذ یب کرتے ہیں- اگر حقیقت میں وہ اسلام کی خوبی کے متعرف ہوتے تو اس پر ایمان لے آتے لیکن جب انہوں نے زبانی اعتراف کے باو جود ایمان لانے سے انکار کر دیا تو اہل عقل کی نگاہ میں ان کی حیثیت بالکل اس شخص کی سی ہے جو طبیب کی صداقت کو تسلیم کرے، اس کے تجویز کر دہ نسخہ کی صحت کا اعتراف کرے مگر اپنی بیماری کا علاج کسی عطائی طبیب سے کرائے-

مسلمانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ کسی بڑے سے بڑے غیر مسلم کا اعتراف بھی اسلام کے لیے قا بل فخر نہیں ہے- اس کے لیے ایک ہی فخر کافی ہے- اور وہ ان الدین عند اللہ الا سلام (آل عمران :19) اور (رضیت لکم الا سلام دینا (المائدہ :3) کا فخر ہے-

(ترجمان القرآن – محرم 52ھ - مئی 33ء)

کتاب تفہیمات، اول
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز اسلامک پبلی کیشنز(پرائیویٹ) لمیٹیڈ
ٹیگ

Understandings