تفہیمات، اول

کوتہ نظری

''ایک دوسال کا خوبصورت بچہ بخار اور درد قولنج میں مبتلا تھا- اس کی تکلیف اور اضطراب کو سخت سے سخت دل انسان بھی نہیں دیکھ سکتا تھا – رفع تکلیف کے لیے کبھی وہ اپنے ماں باپ کی صرف دیکھتا اور کبھی ڈاکٹر کے سامنے کڑوی کسیلی دواکے لیے منہ کھولتا – اسی تکلیف میں ایک دن رات رہ کر ہمیشہ کے لیے اپنے ماں باپ سے رخصت ہو گیا – اس کو کرب اور نزع کی حالت میں دیکھ کر دل میں سوال پیدا ہئوا کہ رب رحیم و کریم جو افت اور شفقت کا منبع ہے ، چھوٹے اور معصوم بچوں پر مصائب اور تکا لیف کیوں وارد کرتا ہے؟ حالانکہ وہ خود کہتا ہے کہ ما انا بظلام للعبید ''-

یہ ایک کرم فرما کے خط کا اقتباس ہے جو سوال ان کے دل میں پیدا ہئوا ہے، قریب قریب وہی سوال مختلف صورتوں میں ہر ایسے موقعہ پر لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے جب وہ موت اور بمیاری اور نزول آفات کا مشاہدہ کرتے ہیں – وبا میں ہزاروں آدمیوں کا انتہائی بے کسی کی موت مرنا، زلزلہ میں ہزار ہا گھروں کا تباہ ہونا ، سیلا ب میں لوگوں کا بے اندازہ مصائب و شدائد سے دو چار ہونا ، مختلف قسم کی موذی بیماریوں میں لوگوں کا سخت کرب و اذ یت کے ساتھ تڑپنا ، غرض مصیبت اور دردو الم کا ہر نظارہ انسان کے دل میں آپ سے آپ یہ سوال پیدا کر دیتا ہے کہ وہ خدا جو رؤف و رحیم ہے ،اور وہ خدا جو اپنی ربو بیت اور اپنے فضل و کرم پر ناز رکھتا ہے، اور وہ خدا جو خود کہتا ہے کہ میں ظالم نہیں ہوں، آخر وہ اپنے بندوں پر یہ سختیاں کیوں نازل کرتا ہے ؟ خود اپنی ہی بنائی ہوئی مخلوق کو، جسے خود اسی نے دردو الم کا احساس

دیا ہے ، اس طرح مصائب و آلام میں کس لیے مبتلا کرتا ہے ؟ بعض لوگ تو اس مسئلہ میں یہاں تک بڑھ جاتے ہیں کہ قہر خدا و ندی کے ان آثار کر حق تعالی کی صفت رافت و رحمت کے منافی سمجھنے لگتے ہیں اور انہیں گمان ہونے لگتا ہے کہ معاذ اللہ خدا ایک اندھی طاقت ( ) ہے جس کو کسی کی راحت و اذ یت کا کچھ علم نہیں- وہ یونہی بلا کسی علم کے بنانے اور توڑنے پھوڑنے میں مشغول ہے-

جن لوگوں نے کائنات کے نظم اور ملکوت ارض و سما ء پر غور کیا ہے وہ اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ کائنات علیحدہ علیحدہ مستقل الوداجزاء پر مشتمل نہیں ہے بلکہ ایک کل ہے جس کے تمام اجزاء ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں – زمین کا ایک ذرہ مریخ اور عطا رو کے ذرات سے ویسا ہی تعلق رکھتا ہے جیسا میرے سر کا ایک بال میرے ہاتھ کے ایک رونگٹے سے رکھتا ہے – گویا پوری کائنات ایک جسد واحد ہے اور اس کے اجزاء میں باہم ویسا ہی ربطہ ہے جیسا ایک جسم کے اجزاء میں ہوتا ہے- پھر جس طرح کائنات کے اجزاء میں ربطہ اور تسلسل ہے اسی طرح ان واقعات میں بھی ربطہ و تسلسل ہے جو اس کائنات میں پیش آتے ہیں- دنیا کا کوئی چھوٹا یا بڑا واقعہ بجائے خود ایک مستقل واقعہ نہیں ہے- بلکہ وہ تمام کائنات کے سلسلہ واقعات کی ایک کڑی ہے اور کلی مصلحت کے تحت صادر ہوتا ہے جس کو پیش نظر رکھ کر خدا وندعالم اپنی اس غیر محدود سلطنت کو چلارہا ہے- اب یہ امر قابل غور ہے کہ جس شخص کی نظر پوری کائنات پر نہیں بلکہ اس کے ایک نہایت ہی حقیر حصے پر ہے جس کو کل کے ساتھ اتنی نسبت بھی نہیں جتنی ایک ذرہ کو آفتاب کے ساتھ ہوتی ہے، اور جس شخص کے سامنے واقعات عالم کا پورا سلسلہ نہیں ہے بلکہ اس سلسلہ کی بے حدو حساب کڑیوں میں سے محض ایک یا دو یا چند کڑیاں ہیں اور جو شخص کائنات کے اس حقیر حصے اور واقعات کی ان چند کڑیوں میں بھی صرف ظاہری سطح کو دیکھ رہا ہے ، باطنی حقائق تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ اس کے پاس نہیں ہے ، کیا ایسا شخص کسی جزئی واقعے کو دیکھ کر اس کی حکمت و مصلحت کے متعلق کوئی رائے قائم کرنے کا اہل ہو سکتا ہے ؟ اور اگر وہ کوئی رائے قائم کرنے کی جرات کرے تو کیا اس کی رائے صحیح ہو سکتی ہے؟

کائنات کا نظام اورخدا کی خدائی تو خیر اس قدر وسیع ہے کہ اس کے تصور ہی سے ہمارا ذہن تھک جاتا ہے – آپ ایک چھوٹے پیمانہ پر کسی انسانی سلطنت ہی کو لے لیجیئے- جو شخص کرسی وزارت یا تخت شاہی پر بیٹھا ہئوا ایک بڑی سلطنت کا انتظام کر رہا ہے وہ بھی اگرچہ ہماری ہی طرح کا ایک انسان ہے، اور فطری استعداد کے لحاظ سے ہمارے اور اس کے درمیان کچھ زیادہ فرق نہیں ہے ، نیزاس کے جتنے معاملات ہیں ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس کو سمجھنے اور انجام دینے کی قوت و استعداد ہم میں نہ ہو ، لیکن محض یہ فرق کہ وہ کرسئی حکومت پر سے تمام سلطنت کے نظم و نسق کو دیکھ رہا ہے اور ہم ایک گوشے میں اس نظم سے یک گونہ بے تعلق بیٹھے ہوئے ہیں، ہمارے اور اس کے درمیان اتنا عظیم تفادت پیدا کر دیتا ہے کہ ہم با لفعل اس کے معاملات کو نہیں سمجھ سکتے اور اگر کوئی جزئی واقعہ ہمارے سامنے آتا ہے تو ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کی غایت و مصلحت کیا ہے- پھر جب انسان اور انسان کے درمیان محض پوزیشن کے فرق سے اتنا تفاوت واقع ہو جاتا ہے، تو غور کیجے کہ انسان اور خدا کے درمیان کتنا تفاوت ہو گا ، دراں حالیکہ یہاں پوزیشن کا نہیں حقیقت کا فرق عظیم ہے- وہ تمام عالم پر سلطنت کر رہا ہے اور ہم اس کی سلطنت کے ایک نہایت ہی حقیر گوشے میں بیٹھے ہیں- اس کی دانش و بنیش سارے عالم پر حاوی ہے ، اور ہماری دانش و بنیش کی رسائی خود اپنے جسم کی باطنی حقیقتوں تک بھی نہیں – اس کی طاقتیں بے پایاں ہیں اور ہمارے پاس ان میں سے کوئی طاقت بھی نہیں – اگر اس تفاوت عظیم کے باوجود اس کے کاموں پر ہم تنقید کریں اور ان کی حکمت و مصلحت کے متعلق کوئی رائے قائم کریں تو کیا یہ تنقید اس تنقید سے کروڑدرجہ زیادہ جاہلا نہ ہو گی جو ایک گنواراپنی جھونپڑی میں بیٹھ کر سلطنت کے معاملات پر کرتا ہے-

اس سے زیادہ واضح ایک اور مثال لیجیے – فرض کیجیے کہ آپ ایک باغیان ہیں – جو باغ آپ نے بڑی محنت سے لگایا ہے اور جس کی ترتیب و تزئین میں آپ نے اپنی پوری مہارت صرف کر دہی ہے، اس کے درختوں اور پودوں اور بیلوں سے یقینا'' آپ کو محبت ہو گی-

آپ ان کی حفاظت میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھیں گے- ان کو بے ضرورت کاٹنا ، چھانٹنا یا اکھاڑ پھنیکنا آپ کبھی پسند نہ کریں گے اور اگر کوئی غیر آکر ان پر تیشہ چلائے تو آپ کو سخت ناگوار ہوگا – پھر آپ کو علمی طریق سے یہ بھی معلوم ہے کہ نباتات میں راحت اور اذیت ، رنج اور خوشی کا احساس ہوتا ہے ، اور آپ جانتے ہیں کہ درختوں اور پودوں پر قینچی یا کلہاڑی چلائی جائے تو ان کو بھی تکلیف ہوتی ہے اپنے اعضاء کے کٹنے اور اپنے بچوں (پھلوں)سے جدا ہو جانے کا انہیں بھی رنج ہوتا ہے لیکن اس محبت اور علم کے باوجود آپ ضرورت اور باغ کی کلی مصلحت کا لحاظ کر کے اپنے باغ میں تراش خراش کرتے ہیں، پتیوں اور شاخوں کو کاٹتے چھانٹتے ہیں – پودوں کو تراش کر قلمیں لگاتے ہیں، سبزی کو کاٹ کر ہموار کرتے ہیں ،کچے اور پکے پھل حسب ضرورت اتار لیتے ہیں ، کھلے اور بن کھلے پھول توڑلیتے ہیں، غیر ضروری پوروں کو اکھا ڑتے ہیں، سوکھے ہوئے درختوں کو کاٹ پھینکتے ہیں-

اگر درختوں اور پودوں اوربیل بوٹوں کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ سب کچھ سرا سر ظلم ہے-اگر ان میں گویائی ہوتی تو وہ کہتے کہ یہ باغبان کیسا بے دردادرظالم ہے- ہمارے اعضاء کی قطع دبرید کرتا ہے- ہمارے بچوں کو ہم سے چھین لیتا ہے چھوٹے چھوٹے پودوں کو جہنوں نے ابھی زندگی کی ایک بہار بھی نہیں دیکھی تھی، اکھاڑ پھینکتا ہے – ننھی ننھی کلیوں کو توڑے جاتا ہے- بوڑھوں کو دیکھتا ہے نہ بچوں اور جوانوں کو بس کاٹنے سے کام ہے- اور کبھی تو ظالم ایک مشین لے کر اس طرح پھراتا ہے کہ ہماری برادری کے ہزاروں افراد کا بیک وقت صفایا کرڈالتا ہے- کیا ایسا شخص شفیق و مہربان ہو سکتا ہے ؟ اس کے دل میں محبت اور رحمت ورافت کے پاکیزہ جذبات ہو سکتے ہیں؟ ہم تو اس کاٹ چھانٹ اور اکھیڑ پچھاڑمیں کوئی مصلحت بھی نہیں دیکھتے – ہمیں تو یہ ایک اندھا، بے حس ، سنگدل وجود معلوم ہوتا ہے جو بغیر کسی علم و حکمت اور غرض وغایت کے کبھی ہم کو پانی دیتا ہے اور کبھی ہم پر قینچی چلاتا ہے، کبھی ہم کو کھاد بہم پہنچاتا ہے اور کبھی ہمیں کلہاڑی سے کاٹ پھنیکتا ہے، کبھی دوسروں سے ہماری حفاظت کرتا ہے اور کبھی

ہمیں خود اپنے ہاتھوں اکھاڑڈالتا ہے، کبھی بیماریوں میں ہمارا مدادا کرتا ہے اور کبھی خود ایک مشین لے کر ہمارا قتل عام کر دیتا ہے-

اگر درخت آپ کے انتظام پر نکتہ چینی کریں تو آپ کیا کہیں گے ؟ یہی نا کہ ان کی نظر محدود ہے، وہ صرف اپنے وجوداور اپنے قریبی متعلقات کو دیکھتے ہیں،مگر میری نظر وسیع ہے، میں باغ کی کلی مصلحت کو دیکھتا ہوں- وہ صرف اپنے پھل پھول ، پتوں اور شاخوں سے دلچسپی رکھتے ہیں- بہت بڑھے تو آس پاس کے پودوں اوردرختوں سے محبت اور ہمدردی کے تعلقات پیدا کر لیے- مگر میرے پیش نظر پورے باغ کی بہتری ہے اور میں مجموعی طور پر سب کی اصلاح حال کے لیے عمل کررہا ہرں – ہر نادان درخت اور بیوقوف پودا یہ سمجھ رہا ہے کہ سارا باغ اسی کی ذات اور اس کے دوستوں اور عزیزوں کے لیے لگایا گیا ہے اور اس باغ میں اسی کا مفاد قابل لحاظ ہے- لیکن میں نے دراصل ان کو باغ کے لیے لگایا ہے- ان کی ذات سے مجھ کو جو کچھ دلچسپی ہے اپنے باغ کی خاطر ہے- جس حد تک باغ کی بہتری کے لیے مناسب اور ضروری ہے میں ہر درخت اور ہر پودے اور ہر بیل بوٹے کی حفاظت اور پرورش کرتا ہوں- مگر جب باغ کی مصلحت متقاضی ہوتی ہے تو میں اس میں کاٹ چھانٹ ،تراش خراش ، اور اکھاڑ پچھاڑ سب کچھ کرتا ہوں ، کیونکہ باغ کا مجموعی مفاد میرے نزدیک ایک ایک پودے اور ایک ایک درخت اور بیل بوٹے کے شخصی مفاد سے زیادہ قیمت رکھتا ہے- یہ گمان کرتے ہیں کہ میں دشمنی کی راہ سے ان پر ہاتھ صاف کرتا ہوں لیکن یہ محض ان کی نادائی اور تنگ خیالی ہے- ان میں یہ صلاحیت نہیں کہ باغ کے معاملات اور اس کے مصالح کو سمجھ سکیں- ان کے پاس صرف اپنی تکلیف کا احساس اور اپنی راحت اور زندگی کی خواہش ہے- جب ان کی خواہشات اور احساسات کو صدمہ پہنچتا ہے تویہ بے صبر ہو جاتے ہیں اور مجھ پر ظالم ہونے کا شبہ کرنے لگتے ہیں- مگر حقیقت ان کے گمان کے تابع نہیں ہے- ان کے سمجھنے سے میں درحقیقت ظالم نہیں ہو سکتا اور ان کی خاطر میں اپنے باغ کے انتظام کو بھی نہیں بدل سکتا-

اس چھوٹی سی مثال کو جب آپ پھیلا کر دیکھیں گے تو آپ کو اپنے بہت سے گلوں شکووں کا جواب مل جائے گا-

کائنات کے نظم پر جب ہم غور کرتے ہیں تو ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ اس زبردست کارخانے کو بنانے اور چلانے والا یقینا'' ایک ایسا وجود ہونا چاہیے جو کمال درجہ حکیم و دانا اور علیم و خبیر ہو- جس نے ہم میں خواہشات پیدا کی ہیں ممکن نہیں کہ وہ خواہشات سے بے خبر ہو- جس نے ہم میں احساسات پیدا کیے ہیں، ممکن نہیں کہ وہ ہمارے احساسات سے ناواقف ہو- جس نے بچے کو پیدا کیا ہے اور بچے کی پرورش کے لیے ماں باپ کے دل میں محبت پیدا کی ہے ، وہ ضرور جانتا ہے کہ بیماری اور موت سے بچے کو کیا تکلیف ہوتی ہے- اور ماں باپ کے دل کو کیسا صدمہ پہنچتا ہے- لیکن جب یہ سب کچھ جاننے اور ہم سے زیادہ جاننے کے باوجود اس نے بچے اور ماں اور باپ کو یہ اذیت دینا گوارا کیا ، جب ہمارے احساسات سے با خبر ہونے کے باوجود اس نے ان کو پا مال کرنا پسند کیا ، جب ہماری خواہشات کا علم رکھنے کے باوجود اس نے ان کو پورا کرنے سے انکار کیا، تو ہم کو سمجھنا چاہیے کہ ایسا کرنا یقینا'' نا گزیر ہی ہو گا ، اور اس عظیم و خبیر کے علم میں اس سے بہتر کوئی صورت نہ ہو گی، ورنہ وہ اس بہتر صورت ہی کو اختیار کرتا ، کیونکہ وہ حکیم ہے ، اور حکیم کے حق میں یہ گمان نہیں کیا جا سکتا کہ اگر بہتر تدبیر ممکن ہو تو وہ اسے چھوڑ کر بدتر تدبیر اختیار کرے گا________ اس میں شک نہیں کہ اس کی حکمتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور نہیں آسکتیں، اس لیے کہ ہماری نظر پورے نظام عالم پر نہیں ہے، اور ہم نہیں جان سکتے کہ نظام عالم کے مصالح کیا ہیں ، اور ان کے لیے کس وقت کونسی تدبیر ضروری ہے- لیکن اگر اجمالی طور پر ہم اللہ تعالی کی حکمت و دانائی اور اس کے علم کامل پر صحیح اعتقاد رکھتے ہوں تو ہر آفت کے نزول پر ہم سمجھ لیں گے کہ اللہ تعالی کی حکمت اسی کی متقاضی ہو گی اور اس کے علم میں ایسا ہی مناسب ہو گا اور ہمارے لیے بجز تسلیم و رضا کے اور کوئی چارہ نہیں-

پھر ایک دوسری بات جو غور و فکر سے ہم کو معلوم ہوتی ہے ، یہ سب کہ جو ہستی کائنات کے اس نظام کو چلا رہی ہے، اس کے پیش نظر خیر کلی ہے- اس کے کاموں میں جو امور ہم کو شر اور فساد نظر آتے ہیں وہ دراصل اعتباری شرورہیں، یعنی افراد و اشخاص

کی طرف قیاس کرتے ہوئے ان کو شر ورکہا جاسکتا ہے- مگر حقیقت میں وہ سب کلی ہی کے لیے ہیں، اور ان کا وقوع دراصل خیر کلی کے حصول کا ایک نا گزیر وسیلہ ہے- اگر یہ شرورناگزیر ہوتے اور ان کے بغیر خیر کلی کا حصول ممکن ہوتا تو خدائے حکیم و علیم ان کو اختیار نہ کرتا اور کوئی دوسرا نظام تجویز کرتا – خود ہم اپنی کمزوریوں اور نارسائیوں کے باوجود جب گہری نظر سے دیکھتے ہیں تو ہماری عقل حکم لگاتی ہے کہ اس کائنات کے لیے اس سے بہتر نظام ممکن نہیں ہے- کوئی دوسرا نظام ایسا تجویز نہیں کیا جا سکتا جو ان جژوی و اعتباری شرورسے یکسر خالی ہو- بلکہ اگر یہ شرورواقع نہ ہوں تو حقیقت میں ان کا عدم ایک بڑا شرہوگا کیونکہ وہ ایک خیر جزئی کی خاطر بہت سے خیرات کے حصول کو روک دیگا- مثال کے طور پر موت ہی کو لے لیجیے جس پر انسان سب سے زیادہ واویلا کرتا ہے- ایک شخص کی موت کتنے اشخاص کے لیے زندگی کا راستہ صاف کرتی ہے- اگر ایک شخص کو زندگی کا پروانہ دے دیا جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ بہت سے اشخاص پر زندگی کا دروازہ بند کر دیا گیا – اس کی دائمی زندگی اگر خیر ہے تو صرف اس کی ذات کے لیے ہے- لیکن خیر کلی کے لیے وہ شر ہوگی – بخلاف اس کے اس خاص شخص کی موت صرف اس کے لیے ایک جز‏ئی شر ہے- لیکن یہی شربہت سے جزئی خیرات کے حصول کا بھی ذریعہ ہے- رہا خیر کلی تو اس شخص کے مر جانے سے اس میں کوئی نقص واقع نہیں ہوتا کیونکہ نظام عالم میں اس کی موت سے کوئی خلل نہیں آتا-

اسی مثال پر قیاس کر کے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اشخاص پر جتنے مصائب نازل ہوتے ہیں وہ سب ایک اعتبار سے شر ہیں اور دوسرے اعتبار سے وسیلہ خیر، اور خیر کلی کے لیے ان کا وقوع نا گزیر ہے- بسا اوقات ہم خود غور کر کے ان کے وسیلہ خیر ہونے کی جہت کو سمجھ لیتے ہیں- اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ تجربہ سے ہم پر ثابت ہو جاتا ہے کہ جس چیز کو ہم نے شر سمجھاتھا وہ حقیقت میں سبب خیر تھی- لیکن اگر کبھی کسی شر کی جہت خیر ہماری سمجھ میں نہ آئے، تب بھی ہم کو مجملا'' اس حقیقت پر ایمان رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالی جو کچھ کرتا ہے بہتر کرتا ہے، اور ہماری خیریت اسی میں ہے کہ اس کی قضا کے آگے سرجھکا دیں خواہ اس کے فعل کی لم ہماری سمجھ میں آئے یا نہ آئے-

(ترجمان القرآن – ربیع الاول 54ھ - جون 35ء)

کتاب تفہیمات، اول
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز اسلامک پبلی کیشنز(پرائیویٹ) لمیٹیڈ
ٹیگ

Understandings