زمانہ حال میں مسلمانوں کی جماعت کے لیےلفظ ''قوم'' کا استعمال بڑی کثرت کے ساتھ کیا گیا ہے اور عموما'' یہی اصطلاح ہماری اجتماعی حیثیت کو ظاہر کرنے کے لیے رائج ہو چکی ہے- لیکن یہ ایک حقیقت ہے، اور بعض حلقوں کی طرف سے اس کا نا جائز فائدہ اٹھانے کی بھی کوشش کی گئی ہے کہ قرآن اور حدیث میں مسلمانوں کے لیے لفظ قوم (یا نیشن کے معنی میں کسی دوسرے لفظ کو ) اصطلاح کے طور پر استعمال نہیں کیا گیا – میں مختصرا'' یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان الفاظ میں اصلی قباحت کیا ہے جس کی وجہ سے اسلام میں ان سے پرہیز کیا گیا اور وہ دوسرے الفاظ کون سے ہیں جن کو قرآن اور حدیث میں استعمال کیا گیا ہے، یہ محض ایک علمی بحث نہیں ہے- بلکہ اس سے ہمارے بہت سے ان تصورات کی غلطی واضح ہو جاتی ہے جن کی بدولت زندگی میں ہمارا رویہ بنیادی طور پر غلط ہو کر رہ گیا ہے-
لفظ ''قوم '' اور اس کا ہم معنی انگریزی لفظیہ دونوں د راصل جاہلیت کی اصطلاحیں ہیں- اہل جاہلیت نے قومیت کو کبھی خالص تہذیبی بنیادوں پر قائم نہیں کیا ، نہ قدیم جاہلیت کے دور میں اور نہ جد ید جاہلیت کے دور میں- ان کےد ل و دماغ کے ریشوں میں نسلی اور روایتی علائق کی محبت کچھ اس طرح پلادی گئی ہے کہ نسلی روابط اور تاریخی روایات کی رابستگی سے قومیت کے تصور کو کبھی پاک نہ کر سکے- جس طرح قدیم عرب میں قوم کا لفظ عموما'' ایک نسل یا ایک قبیلہ کے لوگوں پر بولا جاتا تھا اسی طرح آج بھی لفظ ''نیشن'' کے مفہوم میں مشترک جنسیت کا تصورلازمی طور پر شامل ہے ، اور یہ چیز چونکہ بنیادی طور پر اسلامی تصور اجتماع کے خلاف ہے اس وجہ سے قرآن میں لفظ قوم اوراس کے ہم معنی دوسرے عربی الفاظ مثلا'' شعب وغیرہ کو مسلمانوں کی جماعت کے لیے اصطلاح کے طور پر استعمال نہیں کیا گیا – ظاہر ہے کہ ایسی اصطلاح اس جماعت کے لیے کیونکر استعمال کی جا سکتی ہے جس کے اجتماع کی اساس میں خون اور خاک اور رنگ اور اسی نوع کی دوسری چیزوں کا قطعا'' کوئی دخل نہ تھا، جس کی تالیف و ترکیب محض اصول اور مسلک کی بنیاد پر کی گئی تھی، اور جس کا آغاز ہی ہجرت اور قطع نسب اور ترک علائق مادی سے ہئوا تھا-
قرآن نے جو لفظ مسلمانوں کی جماعت کے لیے استعمال کیا ہے وہ ''حزب'' ہے جس کے معنی پارٹی کے ہیں- قومیں نسل و نسب کی بنیاد پر اٹھتی ہیں اور پارٹیاں اصول و مسلک کی بنیاد پر- اس لحاظ سے مسلمان حقیقت میں قوم نہیں بلکہ ایک پارٹی ہیں- ان کو تمام دنیا سے الگ اور ایک دوسرے سے وابستہ صرف اس بنا پر کیا گیا ہے کہ یہ ایک اصول اور مسلک کے معتقد اور پیرو ہیں- جن لوگوں سے ان کا اصول و مسلک میں اشتراک ہے وہ خواہ کسی ملک اور کسی قوم و نسل سے تعلق رکھتے ہوں ان میں شامل ہو جاتے ہیں- اور جن سے اس چیز میں ان کا اشتراک نہیں ہے وہ خواہ ان سے قریب ترین مادی رشتے ہی کیوں نہ رکھتے ہوں، ان کے ساتھ ان کا کوئی میل نہیں ہے قرآن روئے زمین کی اس پوری آبادی میں صرف دوہی پارٹیاں دیکھتا ہے، ایک اللہ کی پارٹی (حزب اللہ) دوسری شیطان کی پارٹی (حزب الشیطان) – شیطان کی پارٹی میں خواہ باہم اصول اور مسلک کے اعتبار سے کتنے ہی اختلافات ہوں، قرآن سب کو ایک سمجھتا ہے کیونکہ ان کا طریق فکر اور طریق عمل بہر حال اسلام نہیں ہے اور جزئی اختلافات کے باوجود بہر حال وہ سب شیطان کے اتباع پر متفق ہیں- قرآن کہتا ہے :-
(المجادلہ:19)
برعکس اس کے اللہ کی پارٹی والے خواہ نسل اور وطن اور زبان اور تاریخی روایات کے اعتبار سے باہم کتنے ہی مختلف ہوں، بلکہ چاہے ان کے آباواجداد میں باہم خونی عدادتیں ہی کیوں نہ رہ چکی ہوں ،جب وہ خدا کے بتائے ہوئے طریق فکر اور مسلک حیات میں متفق ہو گئے تو گویا یا الہی رشتے (حبل اللہ) سے باہم جڑگئے اور اس نئی پارٹی میں داخل ہوتے ہی ان کے تمام تعلقات حزب الشیطان والوں سے کٹ گئے-
پارٹی کا یہ اختلاف باپ اور بیٹے تک کا تعلق توڑ دیتا ہے، حتی کہ بیٹا باپ کی وراثت تک نہیں پا سکتا- حدیث کے الفاظ ہیں لا یتوارث اھل ملتین دو مختلف ملتوں کے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہو سکتے-
پارٹی کا یہ اختلاف بیوی کو شوہر سے جدا کر دیتا ہے حتی کہ اختلاف رونما ہوتے ہی دونوں پر ایک دوسرے کی مواصلت حرام ہو جاتی ہے محض اس لیے کہ دونوں کی زندگی کے راستے جدا ہو چکے قرآن میں ہے لاھن حل لھم ولا ھم یحلون لھن، نہ وہ ان کے لیے حلال نہ یہ ان کے لیے حلال-
پارٹی کا یہ اختلاف ایک برادری ، ایک خاندان کے آدمیوں میں پورا معاشرتی مقاطعہ کرا دیتا ہے حتی کہ حزب اللہ والے کے لیے خود اپنی نسلی برادری کے ان لوگوں میں شادی بیاہ کرنا حرام ہو جاتا ہے جو حزب الشیطان سے تعلق رکھتے ہوں- قرآن کہتا ہے ''مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں- مومن لونڈی مشرک خاتون سے بہتر ہے خواہ وہ تمہیں کتنی ہی پسند ہو-اور اپنی عورتوں کے نکاح بھی مشرک مردوں سے نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں- مومن غلام مشرک آزاد شخص سے بہتر ہے چاہے وہ تمہیں کتنا ہی پسند ہو-''
پارٹی کا یہ اختلاف نسلی و وطنی قومیت کا تعلق صرف کاٹ ہی نہیں دیتا بلکہ دونوں میں ایک مستقل نزاع قائم کر دیتا ہے جو دائما قائم رہتی ہے تا و قتیکہ وہ اللہ کی پارٹی کے اصول تسلیم نہ کر لیں- قرآن کہتا ہے :
(الممتحنہ :4)
(التوبہ :114)
پارٹی کا یہ اختلاف ایک خاندان والوں اور قریب ترین رشتہ داروں کے د رمیان بھی محبت کا تعلق حرام کر دیتا ہے- حتی کہ اگر باپ اور بھائی اور بیٹے بھی حزب الشیطان میں شامل ہوں تو حزب اللہ والا اپنی پارٹی سے غداری کریگا اگر ان سے محبت رکھے – قرآن میں ارشاد ہے-
(المجادلہ : 22)
دوسرا لفظ جو پارٹی ہی کے معنی میں قرآن نے مسلمانوں کے لیے استعمال کیا ہے وہ لفظ '' امت '' ہے – حدیث میں بھی یہ لفظ کثرت سے مستعمل ہوا ہے- امت اس جماعت کو کہتے ہیں جس کو امر جامع نے مجتمع کیا ہو- جن افراد کے د رمیان کوئی اصل مشترک موجود ہو ان کو اسی اصل کے لحاظ سے ''امت'' کہا جاتا ہے مثلا'' ایک زمانہ کے لوگ بھی ''امت'' کہے جاتے ہیںس – ایک نسل یا ایک ملک کے لوگ بھی امت کہے جاتے ہیں- مسلمانوں کو جس امر مشترک کی بنا پر امت کہا گیا ہے وہ نسل یا وطن یا معاشی اغراض نہیں ہیں بلکہ وہ ان کی زندگی کا مشن اور ان کی پارٹی کا اصول اور مسلک ہے- چنا نچہ قرآن کہتا ہے :-
( آل عمران :110)
(بقرہ : 143)
ان آیات پر غور کیجیے ''بیچ کی امت '' سے مراد یہ ہے کہ ''مسلمان'' ایک بین الا قوامی جماعت ہے دنیا کی ساری قوموں میں سے ان اشخاص کو چھانٹ کر نکالا گیا ہے جو ایک خاص اصول کو ماننے ، ایک خاص پروگرام کو عمل میں لانے اور ایک خاص مشن کو انجام دینے کے لیے تیار ہوں یہ لوگ چونکہ ہر قوم میں سے نکلے ہیں اور ایک پارٹی بن جانے کے بعد کسی قوم سے بھی ان کا تعلق نہیں رہا ہے، اس لیے یہ بیچ کی امت ہیں- لیکن ہر ہر قوم سے تعلق توڑنے کے بعد سب قوموں سے ان کا ایک دوسرا تعلق قائم ہو گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ دنیا میں خدائی فوجدار کے فرائض سر انجام دیں ''تم نوع انسانی پر نگران ہو'' کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ مسلمان خدا کی طرف سے دنیا میں فوجدار مقرر کیا گیا ہے- ''اور نوع انسانی کے لیے نکالا گیا ہے ''- کا فقرہ صاف کہہ رہا ہے کہ مسلمان کا مشن ایک عالمگیر مشن ہے- اس مشن کا خلاصہ یہ ہے کہ ''حزب اللہ '' کے لیڈر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو فکر و عمل کا جو ضابطہ خدانے دیا تھا اس کو تمام ذہنی ، اخلاقی اور مادی طاقتوں سے کام لے کر دنیا میں نافذ کیا جائے اور اس کے مقابلہ میں ہر دوسرے طریقہ کو مغلوب کر دیا جائے، یہ ہے وہ چیزجس کی بنیاد پر مسلمان ایک امت بنائے گئے ہیں-
تیسرا اصطلاحی لفظ جو مسلمانوں کی اجتماعی حیثیت ظاہر کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکثرت استعمال کیا ہے وہ لفظ ''جماعت'' ہے اور یہ لفظ بھی ''حزب '' کی طرح بالکل پارٹی کا ہم معنی ہے (علیکم با لجماعۂ اوید اللہ علی الجمعۂ) اور ایسی ہی بکثرت احادیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ ''قوم'' یا ''شعب'' یا اس کے ہم معنی دوسرے الفاظ استعمال کرنے سے قصدا احتراز فرمایا اور ان کے بجائے ''جماعت'' ہی کی اصطلاح استعمال کی- آپ نے کبھی نہ فرمایا کہ '' ہمیشہ قوم کے ساتھ رہو'' یا ''قوم پر خدا کا ہاتھ ہے ''بلکہ ایسے تمام مواقع پر آپ جماعت ہی کا لفظ استعمال فرماتے تھے- اس کی وجہ صرف یہ ہے اور یہی ہو سکتی ہے کہ مسلمانوں کے اجتماع کی نوعیت ظاہر کرنے کے لیے'' قوم '' کے بجائے جماعت ، حزب اور پارٹی کے الفاظ ہی زیادہ مناسب ہیں- قوم کا لفظ جن معنوں میں عموما'' مستعمل ہوتا ہے ان کے لحاظ سے ایک شخص خواہ وہ کسی مسلک اور کسی اصول کا پیرو ہو ، ایک قوم میں شامل رہ سکتا ہے جبکہ وہ اس قوم میں پیدا ہوا ہوا ور اپنے نام ، طرز زندگی اور معاشرتی تعلقات کے اعتبار سے اس قوم کے ساتھ منسلک ہو- لیکن پارٹی جماعت اور حزب کے الفاظ جن معنوں میں مستعمل ہوتے ہیں، ان کے لحاظ سے اصول و مسلک ہی پر پارٹی میں شامل ہونے یا اس سے خارج ہونے کا مدار ہوتا ہے – آپ ایک پارٹی کے اصول و مسلک سے ہٹ جانے کے بعد ہر گز اس میں شامل نہیں رہ سکتے ، نہ اس کا نام استعمال کر سکتے ہیں ،نہ اس کے نمائندے بن سکتے ہیں، نہ اس کے مفاد کے محافظ بن کر نمودار ہو سکتے ہیں، اور نہ پارٹی والوں سے آپ کا کسی طور پر تعاون ہو سکتا ہے- اگر آپ یہ کہیں کہ میں پارٹی کے اصول و مسلک سے تو متفق نہیں ہوں، لیکن میرے والدین اس پارٹی کے ممبررہ چکے ہیں اور میرا نام اس کے ممبروں سے ملتا جلتا ہے اس لیے مجھے ممبروں کے سے حقوق ملنے چاہییں ، تو آپ کا یہ استدلال اتنا مضحکہ خیز ہو گا کہ شاید سننے والوں کو آپ کی دماغی حالت پر شبہ ہونے لگے گا – لیکن پارٹی کے تصور کو قوم کے تصور سے بدل ڈالیے- اس کے بعد یہ سب حرکات کرنے کی گنجائش نکل آتی ہے-
اسلام نے اپنی بین الا قوامی پارٹی کے ارکان میں یک جہتی اور ان کی معاشرتی زندگی میں یکسانی پیدا کرنے کے لیے اور ان کی ایک سوسائٹی بنا دینے کے لیے حکم دیا تھا کہ آپس ہی میں شادی بیاہ کرو- اس کے ساتھ ہی ان کی اولاد کے لیے تعلیم و تربیت کا ایسا انتظام تجویز کیا گیا تھا کہ وہ خود بخود پارٹی کے اصول و مسلک کے پیروبن کر اٹھیں اور تبلیغ کے ساتھ ساتھ افزائش نسل سے بھی پارٹی کی قوت بڑھتی رہے – یہیں سے اس پارٹی کے قوم بننے کی ابتدا ہوتی ہے- بعد میں مشترک معاشرت ، نسلی تعلقات اور تاریخی روایات نے اس قومیت کو زیادہ مستحکم کر دیا-
اس حد تک تو جو کچھ ہئوا درست ہئوا لیکن رفتہ رفتہ مسلمان اس حقیقت کو بھولتے گئے کہ وہ د راصل ایک پارٹی ہیں اور پارٹی ہونے کی حیثیت ہی پر ان کی قومیت کی اساس رکھی گئی ہے – یہ بھلاوا بڑھتے بڑھتے اب یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ پارٹی کا تصور قومیت کے تصور میں بالکل ہی گم ہو گیا – مسلمان اب صرف ایک ''قوم '' بن کر وہ گئے ہیں، اسی طرح کی قوم جیسی کہ جرمن ایک قوم ہے یا جاپانی ایک قوم ہے ، یا انگریز ایک قوم ہے- وہ بھول گئے ہیں کہ اصل چیز وہ اصول اور مسلک ہے جس پر اسلام نے ان کو ایک امت بنایا تھا ، وہ مشن ہے جس کو پورا کرنے کے لیے اس نے اپنے پیروں کو ایک پارٹی کی صورت میں منظم کیا تھا – اس حقیقت کو فراموش کر کے انہوں نے غیر مسلم قوموں سے ''قومیت'' کا جاہلی تصور لے لیا ہے- یہ ایسی بنیادی غلطی ہے اور اس کے قبیح اثرات اتنے پھیل گئے ہیں کہ احیائے اسلام کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھ سکتا جب تک کہ اس غلطی کو مٹا نہ دیا جائے-
ایک پارٹی کے ارکان میں باہمی محبت ، رفاقت اور معاونت جو کچھ بھی ہوتی ہے- شخصی یا خاندانی حیثیت سے نہیں ہوتی ، بلکہ صرف اس بنا پر ہوتی ہے کہ وہ سب ایک اصول کے معتقد اور ایک مسلک کے پیرو ہوتے ہیں- پارٹی کا ایک رکن اگر جماعتی اصول اور مسلک سے ہٹ کر کوئی کام کرے تو صرف یہی نہیں کہ اس کی مدد کرنا پارٹی والوں کا فرض نہیں ہوتا ، بلکہ اس کے برعکس پارٹی والوں کا فرض یہ ہوتا ہے کہ اس کو ایسے غدارانہ طرز عمل سے روکیں ، نہ مانے تو اس کے خلاف جماعتی ضوابط کے تحت سخت کارروائی کریں، پھر بھی نہ مانے تو جماعت سے نکال باہر کریں- ایسی مثالیں بھی دنیا میں نا پیدنہیں ہیں کہ جو شخص پارٹی کے مسلک سے انحراف کرتا ہے اسے قتل کر دیا جاتا ہے 1- لیکن ذرا مسلمانوں کا حال دیکھیے کہ اپنے آپ کو پارٹی کے بجائے ''قوم '' سمجھنے کی وجہ سے یہ کیسی شد ید غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے ہیں- ان میں سے جب کوئی شخص اپنے فائدے کے لیے غیر اسلامی اصولوں پر کام کرتا ہے تو دوسرے مسلمانوں سے توقع رکھتا ہے کہ اس کی مد د کریں گے – اگر مد د نہیں کی جاتی تو شکایت کرتا ہے کہ دیکھو مسلمان مسلمان کے کام نہیں آتے – سفارش کرنے والے اس کی سفارش ان الفاظ میں کرتے ہیں کہ ایک مسلمان بھائی کا بھلا ہوتا ہے اس کی مدد کرو – مدد کرنے والے بھی اگر اس کی مدد کرتے ہیں تو اپنے اس فعل کو اسلامی ہمدردی سے موسوم کرتے ہیں- اس سارے معاملہ میں ہر ایک کی زبان پر اسلامی ہمدردی ، اسلامی برادری ، اسلام کے رشتہ دینی کا نام بار بار آتا ہے- حالانکہ درحقیقت اسلام کے خلاف عمل کرنے میں خود اسلام ہی کا حوالہ دینا اور اس کے نام سے ہمدردی کرنا صریح لغوبات ہے، جس اسلام کا یہ لوگ نام لیتے ہیں اگر حقیقت میں وہ ان کے اندر زندہ ہو تو جو نہی کہ ان کے علم میں یہ بات آئے کہ اسلامی جماعت کا کوئی شخص کوئی کام اسلامی نظریہ کے خلاف کر رہا ہے ، یہ اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہو جائیں اور اس سے توبہ کرکے چھوڑیں – کسی کا مدد چاہنا اور کسی کی سفارش کرنا تو د ر کنار ، ایک زندہ اسلامی سوسائٹی میں تو کوئی شخص اصول اسلام کی خلاف ورزی کا نام تک زبان پر نہیں لا سکتا- لیکن آپ کی اس سوسائٹی میں رات دن یہی معاملہ ہو رہا ہے اور اس کی وجہ بجز اس کے کچھ نہیں کہ آپ کے اندر جاہلی قومیت آگئی ہے جس چیز کو آپ اسلامی اخوت کہہ رہے ہیں یہ د راصل جاہلی قومیت کا رشتہ ہے جو آپ نے غیر مسلموں سے لے لیا ہے-
اسی جاہلیت کا ایک کوشمہ یہ ہے کہ آپ کے اندر ''قومی مفاد'' کا ایک عجیب تصور پیدا ہو گیا ہے اور آپ اس کو بے تکلف '' اسلامی مفاد'' بھی کہہ دیا کرتے ہیں – یہ نام نہاد اسلامی مفاد یا قومی مفاد کیا چیز ہے؟ یہ کہ جو لوگ '' مسلمان '' کہلاتے ہیں ان کا بھلا ہو ، ان کے پاس دولت آئے، ان کی عزت بڑھے ، ان کو اقتدار نصیب ہو، اور کسی نہ کسی طرح ان کی دنیا بن جائے بلا لحاظ اس کے کہ یہ سب فائدے اسلامی نظریہ اور اسلامی اصول کی پیروی کرتے ہوئے حاصل ہوں یا خلاف ورزی کرتے ہوئے – پیدائشی مسلمان یا خاندانی مسلمان کو آپ '' مسلمان '' کہتے ہیں چاہیے اس کے خیالات اور اس کے طرز عمل میں اسلام کی صفت کہیں ڈھونڈے نہ ملتی ہو- گویا آپ کے نزدیک مسلمان روح کا نام نہیں بلکہ جسم کا نام ہے اور صفت اسلام سے قطع نظر کر کے بھی ایک شخص کو مسلمان کہا جا سکتا ہے – اس غلط تصور کے ساتھ جن جسموں کا اسم ذات آپ نے مسلمان رکھ چھوڑ ہے- ان کی حکومت کو آپ اسلامی حکومت ، ان کی ترقی کو آپ اسلام کی ترقی ، ان کے فائدے کو آپ اسلامی مفاد قرار دیتے ہیں، خواہ یہ حکومت اور یہ ترقی اور یہ مفاد سراسر اسلام کے منافی ہی کیوں نہ ہو- جس طرح جونیت کسی اصول کا نام نہیں، محض ایک قومیت کا نام ہے اور جس طرح ایک جرمن قوم پرست صرف جرمنوں کی سر بلندی چاہتا ہے خواہ کسی طریقہ سے ہو، اسی طرح آپ نے بھی '' مسلمانیت'' کو محض ایک قومیت بنالیا ہے- اور آپ کے مسلمان قوم پرست محض اپنی قوم کی سر بلندی چاہتے ہیں خواہ یہ سر بلندی اصولا'' اور عملا'' اسلام کے بالکل برعکس طریقوں کی پیروی کا نتیجہ ہو- کیا یہ جاہلیت نہیں ہے ؟ کیا د رحقیقت آپ اس بات کوبھول نہیں گئے ہیں کہ مسلمان صرف اس بین الاقوامی پارٹی کا نام تھا جو دنیا میں انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے ایک خاص نظریہ اور ایک عملی پروگرام لے کر اٹھی تھی؟ اس نظریہ اور پروگرام کو الگ کر دینے کے بعد محض اپنی شخصی یا اجتماعی حیثیت سے جو لوگ کسی دوسرے نظریہ اور پروگرام پر کام کرتے ہیں ان کے کاموں کو آپ ''اسلامی '' کیسے کہہ سکتے ہیں؟ کیا آپ نے کبھی سنا ہے کہ جو شخص سرمایہ داری کے اصول پر کام کرتا ہو اسے اشتراکی کے نام سے یاد کیا جائے؟ کیا سرمایہ دارا نہ حکومت کو کبھی آپ اشتراکی حکومت کہتے ہیں؟ کیا فا ششی طرز ا دارہ کو آپ جمہوری طرز ادارہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں؟ اگر کوئی شخص اس طرح اصطلاحوں کو بے جا استعمال کرے تو آپ شاید اسے جاہل اور بے وقوف کہتے ہیں ذرا تامل نہیں کریں گے – مگر یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام اورمسلمان کی اصطلاح کو بالکل بے جا استعمال کیا جا رہا ہے اور اس میں کسی کو جاہلیت کی بو تک محسوس نہیں ہوتی-
مسلمان لفظ خود ظاہر کررہا ہے کہ یہ ''اسم ذات'' نہیں بلکہ'' اسم صفت'' ہی ہو سکتا ہے- اور ''پیرواسلام'' کے سوا اس کا کوئی دوسرا مفہوم سرے سے ہے ہی نہیں – یہ انسان کی اس خاص ذہنی ، اخلاقی اور عملی صفت کو ظاہر کرتا ہے جس کا نام ''اسلام'' ہے – لہذا آپ اس لفظ کو شخص مسلمان کے لیے اس طرح استعمال نہیں کر سکتے جس طرح آپ ہندو یا جاپانی یا چینی کے الفاظ شخص ہندو یا شخص جاپانی یا شخص چینی کے لیے استعمال کرتے ہیں- مسلمانوں کا سانام رکھنے والا جو نہی اصول اسلام سے ہٹا اس سے مسلمان ہونے کی حیثیت خود بخود سلب ہو جاتی ہے- اب وہ جو کچھ کرتا ہے اپنی شخصی حیثیت میں کرتا ہے- اسلام کا نام اسے استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں اسی طور پر مسلمان کا مفاد ''مسلمان کی ترقی'' مسلمان کی حکومت و ریاست ، ''مسلمان کی ورازت'' مسلمانوں کی تنظیم اور ایسے ہی دوسرے الفاظ آپ صرف ان مواقع پر بول سکتے ہیں جبکہ یہ چیز اسلامی نظریہ اور اصول کے مطابق ہوں اور اس مشن کو پورا کرنے سے متعلق ہوں جو اسلام لے کر آیا ہے- اگر یہ بات نہ ہو تو ان میں سے کسی چیز کے ساتھ بھی لفظ مسلمان کا استعمال د رست نہیں، آپ ان کو جس دوسرے نام سے چاہیں موسوم کریں ، بہر حال مسلمان کے نام سے موسوم نہیں کر سکتے ، کیونکہ صفت اسلام سے قطع نظر کرکے مسلمان سرے سے کوئی شے ہی نہیں ہے- آپ کبھی اس بات کا تصور نہیں کر سکتے کہ اشتراکیت سے قطع نظر کر کے کسی شخص یا قوم کا نام اشتراکی ہواور اس معنی میں کسی مفاد کو اشتراکی کی مفاد یا کسی حکومت کو اشتراکی کی حکومت یا کسی تنظیم کو اشتراکیوں کی تنظیم یا کسی ترقی کو اشتراکیوں کی ترقی کہا جا سکتے- پھر آخر مسلمان کے معاملہ میں آپ نے یہ کیوں سمجھ رکھا ہے کہ اسلام سے قطع نظر کر کے مسلمان کسی شخص یا قوم کا ذاتی نام ہے اور اس کی ہر چیز کو اسلامی کہہ دیا جا سکتا ہے-
اس غلط فہمی نے بنیادی طور پر اپنی تہذ یب ، اپنے تمدن اور اپنی تاریخ کے متعلق آپ کے رویہ کو غلط کر دیا ہے- جو بادشاہتیں اور حکومتیں غیر اسلامی اصولوں پر قائم ہوئی تھیں آپ ان کو '' اسلامی حکومتیں'' کہتے ہیں محض اس لیے کہ ان کے تخت نشین مسلمان تھے – جو تمدن قرطبہ و بغدادا اور دہلی و قاہرہ کے عیش پرست درباروں میں پرورش پایا تھا آپ اسے '' اسلامی تمد ن'' کہتے ہیں، حالانکہ اس کو اسلام سے کوئی واسطہ نہیں- آپ سے جب اسلامی تہذ یب کے متعلق سوال کیا جاتا ہے تو آپ جھٹ سے آگرہ کے تاج محل کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں، گویا یہ ہے اس تہذیب کا سب سے نمایاں نمونہ حالانکہ اسلامی تہذیب سرے سے یہ ہے ہی نہیں کہ ایک میت کو سپردخاک کرنے کے لیے ایکڑوں زمین مستقل طور پر گھیر لی جائے اور اس پر لاکھوں روپے کی عمارت تیار کی جائے- آپ جب اسلامی تاریخ کے مفاخر بیان کرنے پر آتے ہیں تو عباسیوں ، سلجوقیوں اور مغلوں کے کارنامے بیان کرتے ہیں- حالانکہ حقیقی اسلامی تاریخ کے نقطہ نظر سے ان کارناموں کا بڑا حصہ آب زر سے نہیں بلکہ سیاہ روشنائی سے جرائم کی فہرست میں لکھے بانے کے قابل ہے- آپ نے مسلمان بادشاہوں کی تاریخ کا نام '' اسلامی تاریخ '' رکھ چھوڑا ہے، بلکہ آپ اسے '' تاریخ اسلام '' بھی کہہ دیتے ہیں، گویا ان بادشاہوں کا نام اسلام ہے- آپ بجائے اس کے اسلام کے مشن ، اور اس کے اصول و نظریات کو سامنے رکھ کر اپنی گزشتہ تاریخ کا احتساب کریں اور پورے انصاف کے ساتھ اسلامی حرکات کو غیر اسلامی حرکات سے ممتاز کر کے دیکھیں اور دکھائیں ، اسلامی تاریخ کی خدمت آپ اس کو سمجھتے ہیں کہ مسلمان حکمرانوں کی حمایت ومدافعت کریں- آپ کے زاویہ نظرمیں یہ کجی صرف اس لیے پیدا ہوئی کہ آپ مسلمان کی ہر چیز کو ''اسلامی '' سمجھتے ہیں اور آپ کا یہ گمان ہے کہ جو شخص مسلمان کہلاتا ہے وہ اگر غیر مسلمانہ طریق پر بھی کام کرے تو اس کے کام کو مسلمان کا کام کہا جا سکتا ہے-
یہی ٹیڑ ھا زاویہ نظر آپ نے اپنی ملی سیاست میں بھی اختیار کر رکھا ہے اسلام کے اصول و نظریات اور اس کے مشن سے قطع نظر کر کے آپ ایک قوم کو '' مسلم قوم'' کے نام سے یاد کرتے ہیں، اور اس قوم کی طرف سے ، یا اس کے نام سے یا اس کے لیےہر شخص اور ہر گروہ من مانی کارروائیاں کر سکتا ہے- آپ کے نزدیک ہر وہ شخص مسلمانوں کا نمائندہ ، بلکہ ان کا لیڈر بھی بن سکتا ہے جو ''مسلمانوں کی قوم '' سے تعلق رکھتا ہو، خواہ اس غریب کو اسلام کے متعلق کچھ بھی معلوم نہ ہو- آپ ہر اس پارٹی کے ساتھ لگ چلنے کو تیار ہو جاتے ہیں جس کی پیروی میں آپ کو کسی نوعیت کا فائدہ نظر آئے ، خواہ اس کا مشن اسلام کے مشن سے کتنا ہی مختلف ہو- آپ خوش ہو جاتے ہیں جب مسلمانوں کو چارروٹیاں ملنے کا کوئی انتظام ہو جائے ، خواہ اسلام کی نگاہ میں وہ حرام کی روٹیاں ہی کیوں نہ ہوں، آپ پھولے نہیں سماتے جب کسی جگہ مسلمان آپ کو اقتدار کی کرسی پر بیٹھا نظر آتا ہے، خواہ وہ اس اقتدار کو بالکل اسی طرح غیر اسلامی مقاصد کے لیے استعمال کررہا ہو جس طرح ایک غیر مسلم کر سکتا ہے – آپ اکثر ان چیزوں کا نام اسلامی مفاد رکھتے ہیں جو حقیقتہ غیر اسلامی ہیں، ان اداروں کی حمایت اور حفاظت پر اپنا زورصرف کرتے ہیں جو اصول اسلام کے بالکل خلاف قائم ہوئے ہیں، اور ان مقاصد کے پیچھے اپنا روپیہ اور اپنی قومی طاقت ضائع کرتے ہیں جو ہرگز اسلامی نہیں ہیں، یہ سب نتائج اسی ایک بنیادی غلطی کے ہیں کہ آپ نے اپنے آپ کو محض ایک قوم سمجھ رکھا ہے اور اس حقیقت کو آپ بھول گئے ہیں کہ د راصل آپ ایک '' بین الاقوامی پارٹی'' ہیں جس کا کوئی مفاد اور کوئی مقصد اپنی پارٹی کے اصولوں کو دنیا میں حکمران بنانے کے سوا نہیں ہے- جبتک آپ اپنے اندر قوم کے بجائے پارٹی کا تصور پیدا نہ کریں گے اور اس کو زندہ تصور نہ بنائیں گے، زندگی کے کسی معاملہ میں بھی آپ کا رویہ درست نہ ہو گا-
(ترجمان القرآن – صفر 58ھ - اپریل 39ء)
| کتاب | تفہیمات، اول |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | اسلامک پبلی کیشنز(پرائیویٹ) لمیٹیڈ |
| ٹیگ |