None
عموما لفظ ' جہاد' کا ترجمہ انگریزی زبان میں [یا] مقدس جنگ ' کیا جاتا ہے، اوراس کی تشریح مدت ہائےدرازسےکچھ اس اندازمیں کی جاتی رہی ہے، کہ اب یہ لفظ ' جوش جنون' کا ہم معنی ہوکررہ گیا ہے-
اس کو سنتےہی آدمی کی آنکھوں میں کچھ اس طرح کا نقشہ پھرنےلگتاہے، کہ مذہبی دیوانوں کا ایک گروہ ننگی تلواریں ہاتھ میں لیے، ڈاڑھیاں چڑھائے، خون خوار آنکھوں کے ساتھ اللہ اکبرکےنعرے لگاتا ہوا چلاآرہاہے، جہاں کسی کافرکودیکھ پاتاہے، پکڑلیتاہےاورتلواراس کی گردن پررکھ کرکہتاہےکہ : بول ، لاالہ الا اللہ ورنہ ابھی سرتن سےجدا کردیا جاتاہے- ماہرین نےہماری یہ تصویربڑی قلم کاریوں کےساتھ بنائی ہےاوراس کےنیچےموٹےحرفوں میں لکھ دیا ہے کہ ____ بوئےخوں آتی ہے اس قوم کےانسانوں سے
لطف یہ ہےکہ اس تصویرکےبنانےوالےہمارےوہ[مغربی] ' مہربان ' ہیں ، جوخود کئی صدیوں سےانتہادرجےکی غیرمقدس جنگ [ ] میں مشغول ہیں- ان کی اپنی تصویریہ ہےکہ دولت اوراقتدارکےبھوکے، ہرقسم کےاسلحےسےمسلح ہوکرقزاقوں کی طرح ساری دنیا پرپل پڑےہیں، اورہرطرف تجارت کی منڈیاں، خام پیداوارکےذخیرے، نوآبادیاں بسانےکےقابل زمینیں [ تیل کےکنویں] اورمعدنیات کی کانیں ڈھونڈتےپھرتےہیں، تاکہ اپنی حرص کی کبھی نہ بجھنےوالی آگ کےلیےایندھن فراہم کریں-
ان کی جنگ خدا کی راہ میں نہیں بلکہ پیٹ کی راہ میں ہے، ہوس اورنفس امارہ کی راہ میں ہے- ان کےنزدیک کسی قوم پرحملہ کرنےکےلیےبس یہ کافی وجہ جوازہےکہ اس کی زمین میں کانیں ہیں، یا اجناس کافی پیدا ہوتی ہیں، یا وہاں تیل نکل آیا ہے، یا اپنےکارخانوں کا مال وہاں اچھی طرح کھپایا جاسکتاہے، یا اپنی زائد آبادی کووہاں آسانی کےساتھ بسایا جاسکتاہے- کچھ اورنہیں تواس قوم کا یہ گناہ بھی کوئی معمولی گناہ نہیں ہے، کہ وہ کسی ایسےملک کےراستےمیں رہتی ہےجس پریہ پہلے قبضہ کر چکےہیں، یا اب قبضہ کرنا چاہتے ہیں-
ہم [ سے] تو جو کچھ [ منسوب] کیا وہ زمانہ ماضی کا قصہ ہےاوران کےکارنامےحال کےواقعات ہیں، جو شب وروزدنیا کی آنکھوں کےسامنےگزررہےہیں- ایشیا، افریقا، یورپ، امریکا، غرض کرہ زمین کا کون سا حصہ ایسا بچارہ گیا ہے، جو ان کی اس غیر مقدس جنگ سےلالہ زارنہیں ہوچکا؟ مگران کی مہارت قابل دادہے- انھوں نےہماری تصویراتنی بھیانک اوراتنی بری بنائی کہ خود ان کی تصویراس کےپیچھےچھپ گئی-
اورہماری سادہ لوحی بھی قابل داد ہے- جب ہم نےغیروں کی بنائی ہوئی اپنی یہ تصویردیکھی توایسےدہشت زدہ ہوئےکہ ہمیں اس تصویرکےپیچھےجھانک کوخود، ، مصوروں، کی صورت دیکھنےکا ہوش ہی نہ آیا اورلگےمعذرت کرنےکہ ، حضور،بھلا ہم جنگ وقتال کیا جانیں – ہم تو[ بدھ] بھکشوؤں اورپادریوں کی طرح پرامن مبلغ لوگ ہیں- چند مذہبی عقائد کی تروید کرنا اوران کی جگہ کچھ دوسرےعقائد لوگوں سےتسلیم کرالینا،بس یہ ہمارا کام ہے- ہمیں مارنےتلوارسےکیا واسطہ ؟ البتہ اتناقصورکبھی کبھارہم سےضرور ہواہے، کہ جب کوئی ہمیں مارنےآیا توہم نےبھی جواب میں ہاتھ اٹھادیا- [لیکن] اب توہم اس سےبھی توبہ کرچکےہیں- حضورکی طمانیت کےلیےتلواروالےجہاد کوسرکاری طورپرمنسوخ کردیا گیا ہے- اب توجہاد فقط زبان و قلم کی کوشش کا نام ہے- توپ اوربندوق چلانا [ صرف آپ کی] سرکارکا کام ہے، اور[ اگرآپ کی اجازت ہوتو] زبان وقلم چلانا ہماراکام-
خیر، یہ توسیاسی چالوں کی بات ہے- مگرخالص علمی حیثیت سےجب ہم ان اسباب کا تجزیہ کرتےہیں جن کی وجہ سےجھاد فی سبیل اللہ کی حقیقت کوسمجھنا غیرمسلموں ہی کےلیےنہیں، خود مسلمانوں کےلیےبھی دشوارہوگیا تو ہمیں دوبڑی اوربنیادی غلط فہمیوں کا سراغ ملتاہے:
٭ پہلی غلط فہمی یہ ہےکہ اسلام کو ان معنوں میں ایک مذہب سمجھ لیا گیا ہےجن میں لفظ مذہب عموما بولا جاتاہے-
٭ دوسری غلط فہمی یہ کہ مسلمانوں کوان معنوں میں محض ایک قوم سمجھ لیا گیا ہے، جن میں یہ عموما مستعمل [ استعمال] ہوتاہے-
ان دو غلط فہمیوں نےصرف ایک جہاد ہی کےمسئلےکونہیں، بلکہ مجموعی حیثیت سےپورے اسلام کےنقشہ کوبدل ڈالا ہےاورمسلمانوں کی پوزیشن کلی طورپرغلط کرکےرکھ دی ہے-
مذ ھب : 'مذہب' کےمعنی عام اصطلاح کےاعتبارسےاس کے[علاوہ] اورکیا ہیں کہ وہ چند عقائد اورعبادات اورمراسم کا مجموعہ ہوتاہے- اس معنی کےلحاظ سےمذہب کو واقعی ایک پرائیویٹ معاملہ ہی ہونا چاہیے- آپ کو اختیارہےکہ جو عقیدہ چاہیں رکھیں، اورآپ کا ضمیرجس کی عبادت کرنےپرراضی ہو، اس کو جس طرح چاہیں پکاریں- زیادہ سےزیادہ اگرکوئی جوش اورسرگرمی آپ کےاندراس مذہب کےلیےموجود ہےتو آپ دنیا بھرمیں اپنےعقائد کی تبلیغ کرتےپھریےاوردوسرےعقائد والوں سےمناظرےکیجئے- اس کےلیےتلوار ہاتھ میں پکڑنےکا کون سا موقع ہے؟ کیا آپ لوگوں کومارمارکراپنا ہم عقیدہ بنانا چاہتےہیں؟ یہ سوال لازمی طورپر پیدا ہوتاہے، جب کہ آپ اسلام کوعام اصطلاح کی رو، سےایک 'مذہب' قراردےلیں- اوریہ پوزیشن اگرواقعی اسلام کی ہو تو جہاد کےلیےحقیقت میں کوئی وجہ جوازثابت نہیں کی جاسکتی-
قوم: اس طرح ' قوم ' کےمعنی اس کےسواکیا ہیں وہ ایک متجانس گروہ کا نام ہے، جو چند بنیادی امورمیں مشترک ہونےکی وجہ سےباہم مجتمع اوردوسرے گروہوں سےممتازہوگیا ہے- اس معنی میں جوگروہ ایک قوم ہو، وہ دو ہی وجوہ سےتلواراٹھاتاہےاوراٹھا سکتا ہے، یا تو اس کےجائزحقوق چھنینےکےلیےکوئی اس پر حملہ کرے، یا وہ خوددوسروں کےجائز حقوق چھنینے کےلیےحملہ آورہو-
پہلی صورت میں تو خیرتلواراٹھانےکےلیےکچھ نہ کچھ اخلاقی جوازموجود بھی ہے، لیکن دوسری صورت کوتوبعض ڈکیٹڑوں کےسوا کوئی بھی جائزنہیں کہہ سکتا ، حتی کہ برطانیہ [ امریکا] فرانس [روس] جیسی سلطنتوں کےمدبرین بھی آج اس کوجائزکہنےکی جرات نہیں رکھتے-
پس اگراسلام ایک ' مذہب ' اورمسلمان ایک' قوم ' ہے، تو جہاد کی ساری معنویت، جس کی بنا پراسلام میں اسےافضل العبادات کہا گیا ہے، سرےسےختم ہوجاتی ہے- لیکن حقیقت یہ ہےکہ اسلام کسی 'مذہب' کا اورمسلمان کسی' قوم ' کا نام نہیں ہے-
دراصل اسلام ایک انقلابی نظریہ ومسلک ہے، جو تمام دنیا کےاجتماعی نظم[ سوشل آرڈر] کوبدل کراپنےنظریہ ومسلک کےمطابق اسےتعمیرکرنا چاہتا ہے- [ جبکہ] مسلمان اس بین الاقوامی انقلابی جماعت کا نام ہے، جسےاسلام اپنےمطلوبہ انقلابی پروگرام کو عمل میں لانےکےلیےمنظم کرتاہے- جہاد اس انقلابی جدوجہد کا نام ہے، جو اس مقصد کو حاصل کرنےکےلیےاسلامی جماعت عمل میں لاتی ہے-
تمام انقلابی مسلکوں کی طرح اسلام بھی عام مروج الفاظ کوچھوڑکراپنی ایک خاص اصطلاحی زبان اختیارکرتاہے، تاکہ اس انقلابی تصورات عام تصورات سےممتازہو سکیں- لفظ جہاد بھی اسی مخصوص اصطلاحی زبان سےتعلق رکھتاہے- اسلام نےحرب اوراسی نوعیت کےدوسرےعربی الفاظ جو جنگ کےمفہوم کو ادا کرتےہیں ، قصدا ترک کردیےاوران کی جگہ ' جہاد' کا لفظ استعمال کیا، جو جدوجہد کا ہم معنی ہے، بلکہ اس سےزیادہ مبالغہ رکھتاہے- اس کا صحیح مفہوم یوں ادا کیا جاسکتاہے، اپنی تمام طاقتیں کسی مقصد کی تحصیل میں صرف کردینا-
سوال یہ ہےکہ پرانےالفاظ کوچھوڑکریہ نیا لفظ کیوں اختیارکیا گیا؟
اس کاجواب اورکچھ نہیں کہ 'جنگ ' کالفظ قوموں اورسلطنتوں کی ان لڑائیوں کےلیےاستعمال ہوتاتھا اورآج تک ہورہاہے، جو اشخاص باجماعتوں کی نفسانی اغراض کےلیےلڑی جاتی ہے- ان لڑائیوں کےمحرک ایسےشخصی یا اجتماعی مقاصد ہوتےہیں جن کےاندرکسی نظریےاورکسی اصول کی حمایت کا شبائبہ تک نہیں ہوتا-
اسلام کی لڑائی چونکہ اس نوعیت کی نہیں ہے، اس لیےوہ سرےسےاس لفظ ہی کوترک کردیتا ہے- اس کےپیش نظرایک قوم کا مفاد یا دوسری قوم کا مفاد نہیں ہے- وہ اس سےکوئی دلچپسی نہیں رکھتاکہ زمین پر ایک سلطنت کا قبضہ رہےیا دوسری سلطنت کا- اس کی دلچپسی جس چیزسےہےوہ انسانیت کی فلاح ہے- اس فلاح کےلیےوہ اپنا ایک خاص نظریہ اورایک عملی مسلک رکھتاہے- اس کا مدعا اپنےنظریےاورمسلک کی حکومت قائم کرنا ہے، بلالحاظ اس کےکہ کون اس اس کا جھنڈا لےکراٹھتاہےاورکس کی حکمرانی پر اس کی ضرب پڑتی ہے-
وہ زمین مانگتا ہے------ زمین کا ایک حصہ نہیں، بلکہ پورا کرہ زمین ------ ا س لیےنہیں کہ ایک قوم یا بہت سی قوموں کےہاتھ سےنکل کرزمین کی حکومت کسی خاص قوم کےہاتھ میں آجائے- بلکہ صرف اس لیےکہ انسانیت کی فلاح کاجونظریہ اورپروگرام اس کےپاس ہے، یا صحیح ترالفاظ میں یوں کہیے، کہ فلاح انسانیت کےجس پروگرام کا نام ' اسلام ' ہے، اس سےتمام [ انسان فیض یاب] ہوں- اس غرض کےلیےوہ ان تمام طاقتوں سےکام لینا چاہتا ہےجو انقلاب برپا کرنےکےلیےکارگرہوسکتی ہیں، اوران سب طاقتوں کےاستعمال کا ایک جامع نام جھاد رکھتاہے- زبان و قلم کےزورسےلوگوں کےنقطہ نظرکوبدلنا اوران کےاندرذہنی انقلاب پیدا کرنا بھی جہاد ہے------- ظالمانہ نظام زندگی کوبدل دینا اورنیا عادلانہ نظام مرتب کرنا بھی جہاد ہےاوراس راہ میں مال صرف کرنا اورجسم سےدوڑدھوپ کرنا بھی جہاد ہے-
اسلام کاجہاد نرا ' جہاد' نہیں ہےبلکہ جھاد فی سبیل اللہ ہے-
' فی سبیل اللہ ' اس کےساتھ ایک لازمی قید ہے- یہ لفظ بھی اسلام کی اسی مخصوص اصطلاحی زبان سےتعلق رکھتاہے، جس کا لفظی ترجمہ ہے'راہ خدا میں'- اس ترجمےسےلوگ غلط فہمی میں پڑگئےاور یہ سمجھ بیٹھےکہ زبردستی لوگوں کواسلام کےمذہبی عقائد کاپیروبنانا جھاد فی سبیل اللہ ہے، کیونکہ لوگوں تنگ دماغوں میں '' راہ خدا '' کا کوئی مفہوم اس کےسوا نہیں سما سکتا- مگراسلام کی زبان میں اس کا مفہوم بہت وسیع ہے-
ہروہ کام جواجتماعی فلاح وبہودکےلیےکیا جائےاورجس کےکرنےوالےکا مقصد اس سےخود کوئی دنیوی فائدہ اٹھانا نہ ہو، بلکہ محض خدا کی خوشنودی حاصل کرنا ہو، اسلام ایسےکام کو فی سبیل اللہ قراردیتاہے- مثلا کےطورپراگرآپ خیرات دیتےہیں اس نیت سے،کہ اسی دنیا میں مادی یا اخلاقی طورپراس خیرات کاکوئی فائدہ آپ کی طرف پلٹ کرآئےتو یہ فی سبیل اللہ نہیں ہے، اوراگرخیرات سےآپ کی نیت یہ ہےکہ ایک غریب انسان کی مدد کرکےآپ خدا کی خوشنودی حاصل کریں تو یہ فی سبیل اللہ ہے- پس یہ اصطلاح مخصوص ہےایسےکاموں کےلیےجوکامل خلوص کےساتھ، ہرقسم کی نفسانی اغراض سےپاک ہو کر، اس نظریےپرکیےجائیں کہ انسان کا دوسرےانسانوں کی فلاح کےلیےکام کرنا خدا کی خوشنودی کا موجب ہے، اورانسان کی زندگی کا نصب العین مالک کائنات کی خوشنودی حاصل کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے-
' جہاد' کےلیےبھی فی سبیل اللہ کی قید اسی غرض کےلیےلگائی گئی ہے- اس کا مطلب کوئی شخص یاگروہ جب نظام زندگی میں انقلاب برپاکرنےاوراسلامی نظریےکےمطابق نیانظام مرتب کرنےکےلیے اٹھے، تو اس قیام اوراس سربازی وجاں نثاری میں اس کی اپنی کوئی نفسانی غرض نہ ہو- اس کا یہ مقصد ہرگزنہ ہو کہ قیصرکوہٹاکروہ خود قیصربن جائے- اپنی ذات کےلیےمال ودولت ، شہرت وناموری یا عزت و جاہ حاصل کرنےکا شائبہ تک اس کی جدوجہد کےمقاصد میں شامل نہ ہو- اس کی تمام قربانیوں اورساری محنتوں کا مدعا صرف یہ ہو کہ بندگان خدا کےدرمیان ایک عاد لانہ نظام زندگی قائم کیا جائے- اس کےمعاوضےمیں اسےخدا کی خوشنودی کےسوا کچھ بھی مطلوب نہ ہو-
[النساء 4: 76]
' طاغوت' کا مصدر' طغیان 'ہے، جس کےمعنی حد سےگزرجانےکےہیں- دریا جب اپنی حد سےگزر جاتاہےتوآپ کہتےہیں طغینانی آگئی ہے- بسی طرح جب آدمی اپنی جائزحد سےگزرکراس غرض کےلیےاپنی طاقت استعمال کرتاہےکہ انسانوں کا خدا بن جائےیا اپنےمناسب حصےسےزائد فوائد حاصل کرےتو یہ طاغوت کی راہ میں لڑنا ہے-
اوراس کےمقابلےمیں راہ خدا کی جنگ وہ ہے، جس کا مقصد صرف یہ ہوکہ خدا کا قانون عدل دنیا میں قائم ہو، لڑنےوالا خود بھی اس کی پابندی کرےاوردوسروں سےبھی اس کی پابندی کرائے- چنا نچہ قرآن کہتا ہے:
[ القصص 28: 83]
حدیث میں آیا ہےکہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےدریافت کیا : '' راہ خدا کی جنگ سےکیا مراد ہے؟ ایک شخص مال کےلیےجنگ کرتاہے- دوسرا شخص بہادری کی شہرت حاصل کرنے کےلیے جنگ کرتاہے- تیسرےشخص کو کسی سےعدوات ہوتی ہےیا قومی حمیت کا جوش ہوتا ہےاس لیے جنگ کرتاہے- ان میں سےکس کی جنگ فی سبیل اللہ ہے؟''
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نےجواب دیا: '' کسی کی بھی نہیں- فی سبیل اللہ تو صرف اس شخص کی جنگ ہےجو خدا کا بول بالا کرنےکےسوا کوئی مقصد نہیں رکھتا''-
ایک دوسری حدیث میں ہے: '' اگر کسی شخص نےجنگ کی اوراس کےدل میں اونٹ باندھنےکی ایک رسی حاصل کرنےکی بھی نیت ہوئی تواس کا اجرضائع ہوگیا''-
اللہ صرف اس عمل کو قبول کرتاہےجو محض اس کی خوشنودی کےلیےہواورکوئی شخصی یا جماعتی غرض پیش نظرنہ ہو- پس جہاد کےلیے فی سبیل اللہ کی قید اسلامی نقطہ نظرسےخاص اہمیت رکھتی ہے- مجرد جہاد[ بمعنی جدوجہد] تودنیا میں سب ہی جان دارکرتےہیں- ہر ایک اپنےمقصد کی تحصیل کےلیےاپنا پورازورصرف کررہاہے- لیکن '' مسلمان '' جس انقلابی جماعت کا نام ہےاس کےانقلابی نظریات میں سےایک اہم ترین نظریہ ، بلکہ بنیادی نظریہ یہ ہےکہ اپنی جان ومال کھپاؤ، دنیا کی ساری سرکش طاقتوں سےلڑو، اپنےجسم وروح کی ساری طاقتیں خرچ کرو- نہ اس لیےکہ دوسرےسرکشوں کوہٹا کرتم ان کی جگہ لےلو، بلکہ صرف اس لیےکہ دنیا سےسرکشی و طغینانی مٹ جائےاورخدا کا قانون دنیا میں نافذ ہو-
جہاد کےاس مفہوم اورفی سبیل اللہ کی اس معنویت کومختصرا بیان کردینےکےبعد ایس دعوت انقلاب کی تھوڑی سی تشریح کرنا چاہتاہوں جو اسلام لےکرآیا ہے، تاکہ آسانی کےساتھ یہ سمجھا جاسکے کہ اس دعوت کےلیےجہاد کی حاجت کیا ہےاوراس کی غایت کیا ہے؟
اسلام کی دعوت انقلاب کا خلاصہ یہ ہے:
[ البقرہ 2: 21] لوگو، بندگی اختیارکرو اپنےرب کی جس نےتمھیں پیدا کیا ہے-
اسلام مزدوروں یا زمین داروں یا کاشت کاروں یا کارخانےداروں کونہیں پکارتا، بلکہ تمام انسانوں کو پکارتاہے- اس کا خطاب انسان سےبحیثیت انسان ہے- وہ کہتاہےکہ اگر تم خدا کےسوا کسی کی بندگی واطاعت اورفرماں برداری کرتےہوتو اسےچھوڑدو- اگرخود تمھارےاندرخدائی کا داعیہ ہےتو اسےبھی دماغ سےنکال دو، کیونکہ دوسروں سےاپنی بندگی کرانےاوردوسروں کاسراپنےآگےجھکوانےکاحق بھی تم میں سےکسی کوحاصل نہیں ہے- تم سب کوایک خدا کی بندگی قبول کرنا چاہیےاوراس کی بندگی میں سب کوایک سطح پر آ جانا چاہیے:
اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہو اے اہل کتاب آؤ ایک ایسی بات کی طرف جوہمارےاورتمھارےدرمیان یکساں ہے، یہ کہ ہم اللہ کےسوا کسی کی بندگی نہ کریں اس کےساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہیرائیں،
اورہم میں سےکوئی اللہ کےسوا کسی کواپنا رب نہ بنالے-[ آل عمران 3 : 64]
یہ عالم گیراورکلی انقلاب کی دعوت تھی- اس نےپکارکرکہا کہ : [ یوسف 12: 67] حکومت سوائے خداکےاورکسی کی نہیں ہے- کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ بذات خود انسانوں کا حکمران بن جائےاوراپنے اختیارسےجس چیزکا چاہےحکم دےاورجس چیزسےچاہےروک دے- کسی انسان[ اس کی ذات میں] امرو نہی کا مالک سمجھنا دراصل خدائی میں اسےشریک کرنا ہےاوردنیا میں یہی اصل بنائے فساد ہے-
اللہ نےانسان کوجس صحیح فطرت پرپیدا کیا ہےاورزندگی بسرکرنےکاجو سیدھا راستہ اسےبتایا ہے، اس سےانسان کےہٹنےکی وجہ صرف یہ ہےکہ لوگ خدا کوبھول جاتےہیں اور[ نتیجہ یہ] کہ خود اپنی حقیقت کو بھی فراموش کردیتےہیں- اس کا انجام پھرلازمی طورپر یہی ہوتاہے، کہ ایک طرف بعض اشخاص یا خاندان یا طبقے خدائی کا کھلا یا چھپا داعیہ لےکراٹھتےہیں، اوراپنی طاقت سےناجائزفائدہ اٹھاکرلوگوں کو اپنا بندہ [ اورغلام] بنا لیتےہیں- دوسری طرف اسی خدا فراموشی وخود فراموشی کا نتیجہ یہ بھی ہوتاہے، کہ لوگوں کا ایک حصہ طاقت وروں کےآگےسرجھکادیں- یہی دنیا میں ظلم وفساد کی بنیاد ہےاوراسلام پہلی ضرب اسی پر لگاتا ہے- وہ ہانکےپکارےکہتا ہے:
٭ ان بےلگام لوگوں کی اطاعت نہ کروجوزمین میں فساد برپا کرتےہیں اورکوئی اصلاح نہیں کرتے [ الشعراء 26: 151- 152]
٭ کسی ایسےشخص کی اطاعت نہ کرو، جس کےدل کو ہم نےاپنی یاد سےغافل کردیا ہےاورجس نےاپنی خواہش نفس کی پیروی کرلی ہےاورجس کا طریق کار افراط و تفریط پر مبنی ہے [ الکھف 18: 28]
٭ سنو، خدا کی لعنت ہےظالموں پر، ان ظالموں پرجوخدا کےراستےسےلوگوں کوروکتےہیں، اس کے راستےکوٹیڑھا کرنا چاہتے ہیں [ ھود 11 : 18]
وہ لوگوں سےپوچھتاہے: [یوسف 12: 39] تم خود ہی سوچوکہ بہت سےمتفرق رب بہترہیں یا وہ ایک اللہ جو سب پر غالب ہے؟ ----------- اگر اس خدائےواحد کی بندگی قبول نہ کروگےتو ان چھوٹےاور جھوٹےخداؤں کی آقائی سےتمھیں کبھی نجات نہ ہوگی- یہ کسی نہ کسی طورسےتم پر تسلط پائیں گے، اورفساد برپا کرکےرہیں گے-:
٭ یہ بادشاہ جب کسی ملک میں گھس آتےہیں تواسےخراب اوراس کےعزت والوں کوذلیل کردیتے ہیں یہی کچھ وہ کیا کرتےہیں [ المل 27: 34]
٭ جب اسے اقتدارحاصل ہوجاتاہےتو زمین میں اس کی ساری دوڑدھوپ اس لیےہوتی ہےکہ فساد پھیلائےکھیتوں کو غارت کرےاور نسل انسانی کوتباہ کرے، حالانکہ اللہ فساد کوہرگزپسند نہیں کرتا[ البقرہ 2 : 205]
مختصرمیں یہ بات آپ کےذہن نشین کرنا چاہتا ہوں کہ اسلام کی دعوت توحید وخدا پرستی محض اس معنی میں ایک مذہبی عقیدےکی دعوت نہ تھی، جس میں عام طورپر مذہبی عقائد کی
دعوت ہواکرتی ہے، بلکہ حقیقت میں یہ ایک اجتماعی انقلاب کی دعوت تھی- اس کی ضرب بلاواسطہ ان طبقوں پر پڑتی تھی- جنہوں نےمذہبی رنگ میں پروہت بن کر یا سیاسی رنگ میں بادشاہ اوررئیس اورحکمران گروہ بن کر، یا معاشی رنگ میں مہاجن اورزمین داراوراجارہ دار بن کر عامتہ الناس کو اپنا بندہ [ اورغلام] بنا لیا تھا-
یہ کہیں علانیہ [ آل عمران 3: 64] بنےہوئےتھے، دنیا سےاپنےپیدایشی یا طبقاتی حقوق کی بنا پراطاعت وبندگی کا مطالبہ کرتےتھےاورصاف کہتےتھےمیں تو اپنےسوا تمھارےکسی خدا کو نہیں جانتا، [ القصص 28 : 38] اور،میں تمھارا سب سےبڑا رب ہوں ،[ النازعات 79: 24] اور، ہم سےبڑھ کرطاقت ور کون ہے، [ حم السجدہ 4: 5] اورکسی جگہ انھوں نےعامتہ الناس [ عام لوگوں] کی جہالت کواستعمال کرنے کےلیےبتوں اورہیکلوں کی شکل میں مصنوعی خدا بنا رکھےتھے، جن کی آڑپکڑکریہ اپنے خداوندی حقوق، بندگان خدا سےتسلیم کراتےتھے- پس کفروشرک اوربت پرستی کےخلاف اسلام کی دعوت اورخدائےواحد کی بندگی وعبودیت کےلیےاسلام کی تبلیغ براہ راست حکومت اوراس کوسہارا دینےوالےیا اس کے سہارےچلنے والےطبقوں کی اغراض سےمتصادم ہوتی تھی-
اسی وجہ سےجب کبھی کسی نبی نے: اےبرادران قوم، اللہ کی بندگی کرو، اس کےسواتمھارا کوئی خدا نہیں ہے، [ الاعراف 7: 59] کی صدا بلند کی، حکومت وقت فورا اس کےمقابلےمیں آن کھڑی ہوئی اورتمام ظلم وفساد کرنےوالےطبقےاس کی مخالفت پرکم بستہ ہوگئے- کیونکہ یہ محض ایک مابعد الطبیعی ( ) قضیہ پر مبنی بیان نہ تھا- بلکہ ایک اجتماعی انقلاب کا اعلان تھا، اوراس میں پہلی آوازسنتےہی سیاسی شورش کی بو سونگھ لی جاتی تھی-
دعوت انقلاب کی خصوصیات
اس میں شک نہیں کہ انبیا علیہم السلام سب کےسب انقلابی لیڈر تھے اورسید نا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سب سےبڑےانقلابی لیڈر تھے-
لیکن جو چیزدنیا کے عام انقلابیوں اوران خدا پرست انقلابی لیڈروں کےدرمیان واضح خط امتیاز کھینچتی ہے، وہ یہ ہےکہ دوسرےانقلابی لوگ خواہ کتنےہی نیک کیوں نہ ہوں، عدل اورتوسط [ میانہ روی] کے صحیح مقام کو نہیں پاسکتے- وہ یاتو خود مظلوم طبقوں میں اٹھتےہیں، یا ان کی حمایت کاجذبہ لےکر اٹھتےہیں اورپھرسارےمعاملات کوانھی طبقوں کےنقطہ نظرسےدیکھتےہیں- اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوتاہے کہ ان نظرغیرجانب دارانہ اورخالص انسانیت کی نظرنہیں ہوتی- بلکہ ایک طبقےکی طرف غصہ ونفرت کااور دوسرےطبقےکی طرف حمایت کا جذبہ لیےہوئےہوتی ہے- وہ ظلم کا ایسا علاج سوچتےہیں، جو نتیجتا ایک جوابی ظلم ہوتاہے- ان کےلیےانتقام ، حسد اورعداوت کےجذبات سےپاک ہوکرایک ایسا معتدل اورمتوازن اجتماعی نظام تجویزکرنا ممکن نہیں ہوتا جس میں مجموعی طورپر تمام انسانوں کی فلاح ہو-
اس کے[مقابلےمیں] انبیا علیہم السلام خواہ کتنےہی ستائےگئےہوں اورکتنا ہی ان پراوران کے ساتھیوں پر ظلم کیا گیا ہو، ان کی انقلابی تحریک میں کبھی ان کےشخصی جذبات کا اثرآنےنہیں پایا- وہ براہ راست خدا کی ہدایت کےتحت کام کرتےتھےاورخدا چونکہ انسانی جذبات سےمنزہ [ پاک] ہے، کسی انسانی طبقےسےاس کا مخصوص رشتہ نہیں، نہ کسی دوسرے انسانی طبقے سےاس کو کوئی شکایت یا عداوت ہے، اس لیےخدا کی ہدایت کےتحت انبیا علیہم السلام تمام معاملات کوبےلاگ انصاف کےساتھ اس نظرسےدیکھتےتھے، کہ تمام انسانوں کی مجموعی فلاح و بہود کس چیزمیں ہے- کس طرح ایک ایسا نظام بنایا جائےجس میں ہر شخص اپنی جائزحدود کےاندررہ سکے، اپنےجائز حقوق سے[ نفع حاصل کر] سکے، اورافراد کےباہمی روابط ، نیزفرد اورجماعت کےباہمی تعلق میں کامل تعلق میں کامل توازن قائم ہوسکے-
یہی وجہ ہےکہ انبیاعلیہم السلام کی انقلابی تحریک کبھی طبقاتی نزاع [ تصادم] ( ) میں تبدیل نہ ہونےپائی- انھوں نےاجتماعی تعمیر نواس طرزپرنہیں کی کہ ایک طبقےکودوسرےطبقےپر مسلط کر دیں، بلکہ اس کےلیےعدل کا ایسا طریقہ اختیارکیا، جس میں تمام انسانوں کےلیےترقی اورمادی و روحانی سعادت کےیکساں امکانات رکھےگئےتھے-
اسلام محض ایک مذہبی عقیدہ اورچند عبادات کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک جامع سسٹم ہےجو دنیا سےزندگی کےتمام ظالمانہ اورمفسدانہ نظاموں کو مٹاناچاہتاہےاوران کی جگہ اپنا ایک اصلاحی پروگرام نافذ کرنا چاہتاہے، جس کی وہ انسانیت کی فلاح و بہود کےلیےسب سےبہترسمجھتاہے-
اس تخریب و تعمیراورانقلاب و اصلاح کےلیےوہ کسی ایک قوم یا گروہ کو نہیں ، بلکہ تمام انسانوں کودعوت دیتاہے، وہ خود ان ظالم طبقوں اور--------- گروہوں ، حتی کہ بادشاہوں کو رئیسوں کوبھی پکارتاہے، کہ آؤاس جائزحد کےاندررہناقبول کرلو،جو تمھارےخالق نےتمھارےلیےمقررکی ہے- اگرتم عدل اورحق کےنظام کوقبول کرلوگےتوتمھارےلیےامن اورسلامتی ہے- یہاں کسی انسان سےدشمنی نہیں ہے، دشمنی جوکچھ بھی ہےظلم سےہے، فساد سےہے، بداخلاقی سےہے،
یہ دعوت جو لوگ بھی قبول کرلیں وہ خواہ کسی طبقے، کسی نسل ، کسی قوم اورکسی ملک کےہوں، یکساں حقوق اورمساویانہ حیثیت سےاسلامی جماعت کےرکن بن جاتےہیں، اوراس طرح وہ بین الا اقوامی انقلابی پارٹی تیار ہوتی ہے، جسےقرآن حزب اللہ کےنام سےیاد کرتاہے، اورجس کا دوسرا نام اسلامی جماعت 'یا' امت مسلمہ ہے-
یہ پارٹی وجود میں آتےہی اپنےمقصد وجود[ کوحاصل کرنے] کےلیےجہاد شروع کردیتی ہے- اس کےعین وجود کا اقتضاء [ تقاضا] یہی ہےکہ یہ غیراسلامی نظام کی حکمرانی کےمقابلےمیں انسانی[ زندگی اورمعاشرت] کےاس معتدل ومتوازن ضابطےکی حکومت قائم کرے، جسےقرآن ایک جامع لفظ کلمتہ اللہ سےتعبیرکرتاہے- اگریہ پارٹی حکومت کوبدلنےاوراسلامی نظام حکومت قائم کرنےکی کوشش نہ کرےتواس کےوجود میں آنےکا مقصد ہی فوت ہوجاتاہے، کیونکہ یہ کسی اورمقصد کےلیےبنائی ہی نہیں گئی ہے، اوراس جہاد کےسوااس کی ہستی کااورکوئی مصرف ہی نہیں – قرآن[ اس کا] ایک ہی مقصد بیان کرتاہے:
اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو، جسےانسانوں کی ہدایت واصلاح کےلیےمیدان میں لایا گیاہے- تم نیکی کاحکم دیتےہو، اوربدی سےروکتےہواوراللہ پرایمان رکھتےہو-[ آل عمران 3: 110]
یہ مذہبی تبلیغ کرنےوالےواعظین اورمبشرین کی جماعت نہیں ہے، بلکہ خدائی فوج داروں کی جماعت ہے: تم دنیا کےلوگوں پرگواہ ہو، [ البقرہ 2: 143] اورکام یہ ہےکہ دنیا سےظلم ، فتنہ، فساد، بداخلاقی اورطغیانی مٹادے- ارباب من دون اللہ کی خداوندی کو ختم کردے- بدی کی جگہ نیکی قائم کرے: [ البقرہ 2 : 193] اوراطاعت صرف اللہ کےلیےہوجائے- [ الانفال 8: 73] اگرتم لوگ ایسا نہ کروگےتوزمین میں فتنہ ہوگا اوربڑافساد برپارہےگا- [ الصف 61: 9] وہی توہےجس نےاپنےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کوہدایت اوردین حق کےساتھ بھیجا ہے، تاکہ اسےپورےکےپورےدین پرغالب کردےخواہ مشرکین کویہ کتنا ہی ناگوارہو-
کیوں کہ مفسدانہ نظام تمدن ایک فاسد حکومت کےبل پرہی قائم ہوتاہے، اورایک صالح تمدن اس وقت تک کسی طرح قائم نہیں ہوسکتا- جب تک کہ حکومت مفسدین سےمصلحین کےہاتھ میں نہ آجائے-
دنیا کی اصلاح سےقطع نظر-------- ایک مسلمان اگرکسی غیراسلامی نظام حکومت میں رہ کر اسلامی اصول پرزندگی بسرکرنا چاہےتواس کا کامیاب ہونا محال ہے- جن قوانین کووہ باطل سمجھتاہے، جن معاملات کووہ ناجائزسمجھتاہے، جس تہذیب اورجس طرززندگی کووہ فاسد سمجھتاہے، جس طریق تعلیم کووہ مہلک سمجھتاہے، وہ سب کےسب اس پر، اس کےگھربارپر، اس کی اولاد پراس طرح مسلط ہوجائیں گےکہ وہ کسی طرح ان کی گرفت سےبچ کرنہ نکل سکےگا- لہذا، جو شخص یا گروہ[ تبدیلی کی] اس کوشش سےغفلت برتتا ہے، تو اس کا صریح مطلب یہ ہےکہ درحقیقت اپنےعقائد ہی میں جھوٹا ہے-
اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ---------- جو لوگ اوراورروزآخرپرایمان رکھتےہیں، وہ توکبھی تم سےیہ دراخوست نہ کریں گےکہ انھیں اپنی جان ومال کےساتھ جہاد کرنےسےمعاف رکھا جائے------ ایسی درخواستیں توصرف وہی لوگ کرتےہیں جو اللہ اورروزآخرپرایمان نہیں رکھتے، جن کودلوں میں شک ہواوروہ اپنےشک ہی میں مترد ہورہےہیں[ التوبہ 9: 44 – 45]
ان الفاظ میں قرآن نےصاف اورصریح فتوی دےدیا ہے، کہ اپنےاعتقاد میں کسی جماعت کےصادق ہونےکا واحد معیاریہی ہے، کہ وہ جس مسلک پراعتقاد رکھتی ہواس کوحکمران بنانےکے لیےجان ومال سےجہاد کرے- اگرتم [ایسا نہیں] کرتےہوتویہ اس بات کی قطعی دلیل ہے، کہ تم اپنےاعتقاد میں جھوٹےہو- اس کافطری نتیجہ یہی ہےہوسکتا ہےکہ آخرکاراسلام کےمسلک پرتمھارانام نہاد عقیدہ بھی باقی نہ رہےگا- ابتدامیں تم مسلک مخالف کی حکومت کوبہ کراہت گوارکروگے، پھررفتہ رفتہ تمھارےدل اس سےمانوس ہوتےچلےجائیں گے- یہاں تک کہ کراہت رغبت سےبدل جائےگی اورآخرمیں نوبت اس حد تک پہنچےگی کہ مسلک مخالف کی حکومت قائم ہونےاورقائم رہنےمیں تم خود مددگار بنوگے- حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم نےاس نتیجےکو صاف صاف بیان فرمادیاہے:
اس خدا کی قسم جس کےہاتھ میں میری جان ہےیا تو تمھیں نیکی کاحکم دینا اوربدی
سےروکنا اوربدکارکا ہاتھ پکڑنا اوراسےحق کی طرف بزورموڑنا ہوگا، یا پھراللہ کےقانون کایہ نتیجہ ظاہرہوکر رہےگاکہ بدکاروں کےدلوں کا اثرتمھارےدلوں پر بھی پڑجائےاوران کی طرح تم بھی ملعون ہوکررہو-
اس بحث سےیہ بات واضح ہوگئی ہوگی کہ اسلامی جہاد کامقصودغیراسلامی نظام کی حکومت[ کی جگہ] اسلامی حکومت قائم کرنا ہے- اسلام یہ انقلاب صرف ایک ملک یا چند ملکوں میں نہیں بلکہ تمام دنیا میں برپا کرنا چاہتا ہے- اس کی آخری منزل مقصود ایک عالم گیرانقلاب ہے- کوئی انقلابی مسلک جو قومیت کےبجائےانسانیت کی فلاح کےاصول لےکر[ اٹھا] ہو، اپنےانقلابی مطمح نظرکوکبھی ایک ملک یاایک قوم کےدائرےمیں محدود نہیں کرسکتا- حق، جغرافی حدود کوقبول کرنےسےانکارکرتاہے- اس کا مطالبہ یہ ہےکہ میں اگرکسی پہاڑ یا دریا کےاس پارحق ہوں تواس پاربھی حق ہی ہوں- نوع انسانی کےکسی حصےکوبھی مجھ سےمحروم نہ رہنا چاہیے- انسان جہاں بھی ظلم وستم کااورافراط وتفریط [حد سےبڑھی زیادتی] کا تختہ مشق بناہوا ہے، وہاں اس کی مدد کےلیےپہنچنا میرا فرض ہے- اسی تخیل کوقرآن ان الفاظ میں بیان کرتاہے:
[ النساء ، 4: 75]
لہذا ، مسلم پارٹی [ امتہ] کےلیےاصلاح عمومی اورتحفظ خودی دونوں کی خاطر یہ ناگزیرہے، کہ کسی ایک خطےمیں اسلامی نظام کی حکومت قائم کرنےپراکتفانہ کرے- بلکہ جہاں تک اس کی قوتیں ساتھ دیں، اس نظام کوتمام اطراف میں وسیع کرنےکی کوشش کرے- وہ ایک طرف اپنےافکارنظریات کودنیا میں پھیلائےگی اورتمام ممالک کےباشندوں کودعوت دےگی، کہ اس مسلک کوقبول کریں، جس میں ان کےلیےحقیقی فلاح مضمرہے- دوسری طرف اگراس میں طاقت ہوگی تووہ غیراسلامی حکومتوں کی جگہ اسلامی حکومت قائم کرےگی-
یہی پالیسی تھی جس پر------- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےاطراف کےممالک کواپنےاصول و مسلک کی طرف دعوت دی- پھرجب ان کےبرسراقتدارلوگوں نےاس دعوت اصلاح کورد کردیاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےان کےخلاف جنگی کاروائی کا تہیہ کرلیا- غزوہ تبوک اسی سلسلےکی ابتدا تھی- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کےبعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نےروم اورایران دونوں کی غیراسلامی حکومتوں پر حملہ کیا- پھرحضرت عمررضی اللہ عنہ نےاس کوکامیابی کےآخری مراحل تک پہنچا دیا- مصروشام اورروم و ایران کےعوام اول اول اس کو عرب قوم کی امپیریلسٹ [ استعماری] پالیسی سمجھنے- انھوں نےخیال کیا کہ جس طرح پہلےایک قوم دوسری قوم کو غلام بنانےکےلیےنکلا کرتی تھی، اسی طرح اب بھی ایک قوم اسی غرض کےلیےنکلی ہے- اس غلط فہمی کی بنا پرلوگ قیصروکسری کےجھنڈےتلےمسلمانوں سےلڑنے کےلیے نکلے-
مگرجب ان پر مسلم پارٹی کےانقلابی مسلک کاحال کھلا، اورجب انھیں معلوم ہوا کہ یہ جفا کارانہ قوم پرستی کےعلم بردارنہیں ہیں، بلکہ قومی اغراض سےپاک ہیں اورمحض ایک عادلانہ نظام قائم کرنےآئےہیں اوران کا مقصد درحقیقت ان ظالم طبقوں کی خداوندی کوختم کرنا ہے، جوقیصریت وکسرویت کی پناہ میں ہم کوتباہ وبرباد کررہےہیں، توان کی اخلاقی ہمدردیاں مسلم پارٹی کی طرف جھک گئیں- وہ قیصر و کسری کےجھنڈےسے الگ ہوتےچلےگئے اوراگرمارےباندھےسےفوج میں بھرتی ہوکرلڑنےآئےبھی تو بےدلی سےلڑے- یہی سبب ہےان حیرت انگیزفتوحات کا، جو ابتدائی دورمیں مسلمانوں کوحاصل ہوئیں اوریہی سبب ہےاس کا کہ اسلامی حکومت قائم ہونےکےبعد جب ان ممالک کےباشندوں نےاسلامی نظام اجتماعی کو عملا کام کرتےہوئےدیکھا تووہ خود اس بین الاقوامی پارٹی میں شریک ہوتےچلےگئےاورخود اس مسلک کےعلم برداربن کرآگےبڑھے، تاکہ دوسرےملکوں میں بھی اس کو پھیلا دیں-
یہ جو کچھ بیان کیا گیا ہےاس پرجب آپ غورکریں گےتویہ بات بآسانی آپ کی سمجھ میں آجائےگی کہ جنگ کی جو تقسیم جارحانہ اورمدافعانہ کی اصطلاحوں میں کی گئی ہے، اس کا اطلاق سرےسےاسلامی جھاد پرہوتاہی نہیں- یہ تقسیم صرف قومی اورملکی لڑائیوں پرہی منطبق ہوسکتی ہے- کیونکہ اصطلاحا '' حملہ'' او''رمدافعت''کےالفاظ ، ایک ملک یا ایک قوم کی نسبت سےہی بولےجاتےہیں-
اگراصطلاح سےقطع نظرکرلی جائے- تب بھی اسلامی جہاد پرجارحانہ اورمدافعانہ تقسیم منطبق نہیں ہوتی-
اسلام کا جہاد لوگوں کےعقیدہ ومسلک اوران کےطریق عبادت یا قوانین معاشرت سےتعرض نہیں کرتا- وہ ان کوپوری آزادی دیتاہےکہ جس عقیدےپرچاہیں قائم رہیں اورجس مسلک پرچاہیں چلیں- البتہ وہ ان کےاس حق کونہیں مانتاکہ وہ معاملات کےان طریقوں کو اسلامی نظام حکومت میں جاری رکھیں- جو اسلام کےنزدیک اجتماعی فلاح کےلیےمہلک ہیں-
مثلا'' وہ[ یعنی اسلام] حکومت کانظام ہاتھ میں لیتےہی سودی کاروبارکی تمام صورتوں کومسدود کردےگا- جوئےکی ہرگزاجازت نہ دےگا- قبحہ خانوں اورفواحش کےاڈوں کوکلیتا'' بندکردےگا-
اس باب میں اگرکوئی شخص اسلام پرنارواداری کاالزام عائد کرےتو اسےدیکھنا چاہیےکہ دنیا کے کسی مسلک نےبھی دوسرےمسلک والوں کےساتھ اتنی رواداری نہیں برتی ہے، جتنی اسلام برتتاہے- دوسری جگہ توآپ دیکھیں گےکہ غیرمسلک والوں کےلیےزندگی دوبھرکردی جاتی ہے، حتی کہ وہ وطن چھوڑکرنکل جانےپرمجبورہوتےہیں- لیکن اسلام غیرمسلک والوں کوپورےامن کےساتھ ہرقسم کی ترقی کرنےکا موقع دیتا ہے، اوران کےساتھ ایسی فیاضی کابرتاؤ کرتاہےجس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی-
یہاں پہنچ کرمجھےپھراس بات کااعادہ کرنا چاہیےکہ ' اسلام ' کی نظرمیں جہاد صرف وہی ہے، جو محض فی سبیل اللہ ہو، اوراس جہاد کےنتیجےمیں جب اسلامی حکومت قائم ہوتومسلمانوں کےلیےیہ ہرگز جائزنہیں ہےکہ وہ قیصروکسری کوہٹا کرخود قیصروکسری بن جائیں-
مسلمان اس لیےنہیں لڑتااورنہیں لڑسکتاکہ اس کی ذاتی حکومت قائم ہوجائےاوروہ خدا کےبندوں کو اپنا بندہ بنالےاورناجائزہ طورپرلوگوں کی گاڑھی محنتوں کا روپیہ وصول کرکےاپنےلیےزمین میں جنتیں بنانے لگے- یہ جھاد فی سبیل اللہ نہیں بلکہ جھاد فی سبیل الطاغوت ہےاورایسی حکومت کا اسلام سےکوئی واسطہ نہیں – اسلام کا جہاد توایک خشک محنت ہے، جس میں جان ، مال اورخواہشات نفس کی قربانی کےسوا اورکچھ نہیں ہے-
اگریہ جہاد کامیاب ہواورنتیجےمیں حکومت مل جائےتوسچےمسلمان حکمران پرذمہ داریوں کا اس قدربھاری بوجھ عائد ہوجاتاہے، کہ اس غریب کےلیےراتوں کی نیند اوردن کی آسایش تک حرام ہوجاتی ہے- مگراس کےمعاوضےمیں وہ حکومت واقتدارکی ان لذتوں میں سےکوئی لذت حاصل نہیں کرسکتا، جن کی خاطردنیا میں عموما حکومت حاصل کرنےکی کوشش کی جاتی ہے- اسلام کافرماں روا، نہ تورعیت کےعام افراد سےممتاز کوئی بالاترہستی ہے، نہ عظمت ورفعت کےتخت پروہ بیٹھ سکتاہے، نہ اپنےآگےکسی دن جھکوا سکتاہے، نہ قانون شریعت کےخلاف ایک پتا ہلا سکتاہے، نہ اسےیہ اختیارحاصل ہےکہ اپنےکسی عزیز یا دوست یا خود اپنی ذات کوکسی ادنی سےادنی ہستی کےجائزمطالبےسےبچاسکے، نہ وہ حق کے خلاف ایک حبہ لےسکتاہےاورنہ چپہ بھرزمین پرقبضہ کرسکتاہے- ایک متوسط درجےکےمسلمان کو زندگی بسرکرنےکےلیےجتنی تنخواہ کافی ہوسکتی ہے، اس سےزیادہ بیت المال سےایک پائی لینا بھی اس کےلیے حرام ہے- وہ غریب نہ عالی شان قصربنواسکتاہے، نہ عیش و عشرت کےسامان فراہم کرسکتاہے-
اس پرہروقت یہ خوف رہتاہےکہ ایک دن اس کےاعمال کا سخت حساب لیا جائےگا اوراگرحرام کا ایک پیسہ ، جبرسےلی ہوئی زمین کا ایک چپہ ، تکبروفرعرنیت کاایک شمہ ، ظلم وبےانصافی کاایک دھبہ اور خواہشات نفسانی کی بندگی کا ایک شائبہ بھی اس کےحساب میں نکل یا تواسےسخت سزابھگتنی پڑےگی- اگرکوئی شخص حقیقت میں دنیا کا لالچی ہوتواس سےبڑا کوئی بےوقوف نہ ہوگا اگروہ اسلامی قانون کےمطابق حکومت کابارسنبھالنےپرآمادہ ہو- کیونکہ اسلامی حکومت کےفرماں رواسےتوبازارکےایک معمولی دکان دارکی پوزیشن زیادہ اچھی ہوتی ہے- وہ دن کوخلیفہ سےزیادہ کماتاہےاوررات کوآرام سےپاؤں پھیلا کرسوتا ہے- خلیفہ بےچارےکونہ اس کےبرابرآمدنی نصیب اورنہ رات کوچین سےسونا ہی نصیب-
یہ بنیادی فرق ہےاسلامی حکومت اورغیراسلامی حکومت کا- غیراسلامی حکومت کا حکمران گروہ اپنی خداوندی قائم کرتاہےاوراپنی ذات کےلیے ملک کےوسائل وذرائع استعمال کرتاہے- بخلاف اس کے اسلامی حکومت میں حکمران گروہ مجردخدمت کرتاہے، اورعام باشندوں سےبڑھ کراپنی ذات کےلیے کچھ حاصل نہیں کرتا-
[اس سے] آپ کو معلوم ہوجائےگا کہ اسلام کی جہاں کشائی اورامپیریلزم [ استعمار] کی عالم گیری میں روحی وجوہری فرق ہے- اسلامی حکومت میں خراسان ، عراق ، شام اورمصرکےگورنروں کی تنخواہیں آپ کےمعمولی انسپکٹروں کی تنخواہوں سےبھی کم تھیں- دراں حالےکہ بیت المال دنیا کی دوعظیم الشان سلطنتوں کےخزانوں سےبھرپورہورہاتھا- اگرچہ ظاہرمیں امپیریلزم بھی ملک فتح کرتاہےاوراسلام بھی، مگر دونوں کےجوہرمیں زمین وآسمان کا فرق ہے_
یہ ہےاس جہاد کی حقیقت جس کےمتعلق آپ بہت کچھ سنتےرہےہیں-
اب اگرآپ مجھ سےدریافت کریں کہ آج اسلام اورمسلم جماعت اورجہاد کاوہ تصورجوتم پیش کررہے ہو، کہاں غائب ہوگیا؟ اورکیوں دنیا بھرکےمسلمانوں میں کہیں بھی اس کاشائبہ تک نہیں پایا جاتا؟ تو میں عرض کروں گا کہ یہ سوال مجھ سےنہ کیجیےبلکہ ان لوگوں سےکیجیے، جنھوں نےمسلمانوں کی توجہ ان کےاصلی مشن سےہٹا کرتعویذ گنڈوں اورعملیات اورمراقبوں اور[ صوفیانہ] ریاضتوں کی طرف پھیردی، جنہوں نےنجات اورفلاح اورحصول مقاصد کےلیےشارٹ کٹ تجویزکیے- تاکہ مجاہدےاورجاں فشانی کےبغیرسب کچھ تسبیح پھرانےیا کسی صاحب قبرکی عنایات حاصل کرلینےہی سےمیسرآجائے، جنہوں نےاسلام کےکلیات اوراصول ومقاصد کولپیٹ کرتاریک گوشوں میں پھینک دیا اورمسلمانوں کےذہن کوآمین بالجبراوررفع یدین اورایصال ثواب وزیارت قبوراوراسی قسم کےبےشمارجزئیات کی بحشوں میں ایسا پھنسایا، کہ وہ اپنےآپ کواوراپنےمقصد تخلیق کواوراسلام کی حقیقت کوقطعی بھول گئے-
اگراس سےبھی آپ کی تشفی نہ ہوتوپھریہ سوال ان امراوراحکام اوراصحاب اقتدارکےسامنےپیش کیجیے، جو قرآن اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم پرایمان لانےکا دعوی توکرتےہیں، مگرقرآن کےقانون اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کا اس سےزیادہ کوئی حق اپنےاوپرتسلیم نہیں کرتے، کہ کبھی ختم قرآن کرادیں اورکبھی عیدمیلاد کےجلسےکرادیں اورکبھی اللہ کو نعوذباللہ داددےدیا کریں- رہا اس [ کے] قانون اورہدایت کوعملا نافذ کرنا، تویہ حضرات اپنےآپ کواس سےبری الذمہ سمجھتےہیں- کیونکہ درحقیقت ان کا نفس ان پابندیوں کوقبول کرنےاوران ذمہ داریوں کابوجھ سنبھالنےکےلیےہرگزتیارنہیں ہے، جواسلام ان پرعائد کرتاہے- یہ بڑی سستی نجات کےطالب ہیں-
[تدوین : س م خ]
ماخذ: راہ خدا میں جہاد
مصنف: مولاناابوالاعلی مودودی
پبلشرز: منشورات لاہور
ایڈیشن:1
تاریخ اشاعت: None
ریڈنگ کاؤنٹر: 33