اسلام اورجاہلیت

Feb. 23, 1941

(یہ مقالہ 23فروری 41ء کومجلس اسلامیات اسلامیہ کالج پشاورکی دعوت پرپڑھاگیا تھا)

انسان کودنیامیں جتنی چیزوں سےسابقہ پیش آتاہےان میں کسی کےساتھ بھی وہ کوئی معاملہ اس وقت تک نہیں کرسکتاجب تک وہ اس چیزکی اہمیت وکیفیت اوراپنےاوراس کےباہمی تعلق کےبارےمیں کوئی رائےقائم نہ کرلے- اس سےبحث نہیں کہ وہ رائےبجائےخود صحیح ہویا غلط، مگربہرحال اسےان امورکے متعلق کوئی نہ کوئی رائےقائم ضرورکرنی پڑتی ہےاورجب تک وہ کوئی رائےقائم نہیں کرلیتایہ فیصلہ نہیں کرسکتاکہ میں اس کےساتھ کیا طرزعمل اورکیا رویہ اختیارکروں- یہ آپ کاشب وروزکاتجربہ ہےآپ جب کسی شخص سےملتےہیں تو آپ کومعلوم کرنےکی ضرورت ہوتی ہےکہ یہ شخص کون ہے، کس حیثیت ، کس مرتبےکن صفات کاآدمی ہے، اورمجھ سےاس کا تعلق کس نوعیت کا ہے- اس کےبغیرآپ یہ طےکرہی نہیں سکتےکہ آپ کواس کےساتھ کیا برتاؤ کرناہے- اگرعلم نہیں ہوتاتوبہرحال آپ کو قرائن کی بنا پرایک پیاسی رائےہی ان امورکےمتعلق قائم کرنی پڑتی ہے، اورجورویہ بھی آپ اس کےساتھ اختیارکرتےہیں- اسی رائےکی بناء پرکرتےہیں- جوچیزیں آپ کھاتےہیں ان کےساتھ آپ کا یہ معاہدہ اسی وجہ سےہےکہ آپ کےعلم یا آپ کےقیاس میں وہ چیزیں غذائی ضرورت پوری کرتی ہیں جن چیزوں کوپپ پھینک دیتےہیں، جن کو آپ استعمال کرتےہیں، جن کی آپ حفاظت کرتےہیں، جن کی آپ تعظیم یا تحقیرکرتےہیں، جن سےآپ ڈرتےیا محبت کرتے ہیں، ان سب کے متعلق آپ کےمختلف طرزعمل بھی اس رائےپرمبنی ہوتےہیں جوآپ نےان چیزوں کی ذات وصفات اوراپنے ساتھ ان کےتعلق کےبارےمیں قائم کی ہے-

پھرجورائےآپ اشیاء کےمتعلق قائم کیا کرتےہیں اس کےصحیح ہونےپرآپ کےرویہ کا صحیح ہونا اورغلط ہونےپرآپ کےرویہ کا غلط ہونا منحصرہوتاہے- اورخود اس رائےکی غلطی ووصحت کا مداراس چیزپرہوتاہےکہ آیا آپ نےوہ رائےعلم کی بنا پرقائم کیا ہے، یا قیاس پر، یا وہم پر، یا محض مشاہدہ حسی پر- مثلا ایک بچہ آگ کودیکھتاہےاورمجردمشاہدہ حسی کی بنا پریہ رائےقائم کرتاہےکہ یہ بڑا خوب صورت چمک دارکھلونا ہے- چنانچہ اس رائےکےنتیجہ میں اس سےیہ طرزعمل ظاہرہوتاہےکہ وہ اسےاٹھانےکےلیےہاتھ بڑھا دیتاہے- ایک دوسرا شخص اسی آگ کودیکھ کروہم سےیا قیاس سےیہ رائےکی بنا پروہ فیصلہ کرتاہےکہ اس کےساتھ میرا رویہ یہ ہونا چاہیےکہ میں اس کےآگےسرنیازجھکاؤ دوں- ایک تیسرا شخص اسی آگ کودیکھ کراس کی ماہیت اوراس کی صفات کی تحقیق کرتاہےاورعلم و تحقیق کی بنا پررائےقائم کرتاہےکہ پکانےاور جلانےاورتپانےکی خدمت لیتاہے- ان مختلف رویوں میں سےبچےاورآتش پرست کےرویےجاہلیت کے رویے ہیں، کیونکہ بچےکی رائےکہ آگ محض کھلونا ہےتجربہ سےغلط ثابت ہوجاتی ہے، اورآتش پرست کی یہ رائےکہ آگےخود آلہ ہےیا مظہرالوہیت ہے، کسی ثبوت علمی پرمبنی نہیں بلکہ محض قیاس و وہم ہےپر مبنی ہے- بخلاف اس کےآگ سےخدمت لینےوالےکا یہ علمی رویہ ہے- کیونکہ آگ کےمتعلق اس کی رائے علم پر مبنی ہے-

زندگی کےبنیادی مسائل

اس مقدمہ کوذہن نشین کرنےکےبعد اب ذرا اپنی نظرکوجزئیات سےکلیات پر پھیلائیے- انسان اس دنیا میں اپنےآپ کوموجود پاتاہے- اس کےپاس ایک جسم ہےجس میں بہت سی قوتیں بھری ہوئی ہیں- اس کےسامنےزمین وآسمان کی ایک عظیم الشان بساط پھیلی ہوئی ہے

جس میں بےحدوحساب اشیاء ہیں اوروہ ان اشیاء سےکام لینےکی قدرت اپنےاندرپاتاہے- اس کےگردوپیش بہت سےانسان ، جانور، نباتات، جمادات وغیرہ ہیں- اوران سب سےاس کی زندگی وابستہ ہے- اب کیا آپ کےنزدیک یہ بات قابل تصورہےکہ وہ ان چیزوں کےساتھ کوئی رویہ اختیارکرسکتاہےجب تک کہ پہلےخود اپنےبارےمیں ان تمام موجودات کےبارےمیں ، اوران کےساتھ اپنےتعلق کےبارےمیں کوئی رائےقائم کرلے؟ کیا وہ اپنی زندگی کےلیےکوئی راستہ اختیارکرسکتاہےجب تک یہ طےنہ کرلےکہ میں کون ہوں؟ ذمہ دارہوں یا غیرذمہ دار؟ خود مختارہوں یا ماتحت؟ ماتحت ہوں توکس کا، اورجواب دہ ہوں تو کس کےسامنے؟ میری اس دنیوی زندگی کاکوئی مآل ہےیا نہیں اورہےتوکیا ہے؟ اسی طرح کیا وہ اپنی قوتوں کےلیےکوئی مصرف تجویزکرسکتا ہےجب تک اس سوال کا فیصلہ نہ کرلےکہ یہ جسم اورجسمانی قوتیں اس کی اپنی ملک ہیں یا کسی کا عطیہ ہیں؟ ان کا حساب کوئی لینےوالا ہےیا نہیں؟ اوران کےاستعمال کا ضابطہ اسےخود متعین کرناہےیا کسی اورکو؟ اسی طرح کیا وہ اپنےگردوپیش کی اشیاء کےمتعلق کوئی طرزعمل اختیارکرسکتاہے جب تک اس امرکا تعین نہ کرلےکہ ان اشیاء کا مالک وہ خود ہےیا کوئی اور؟ ان پراس کےاختیارات محدود ہیں یا غیرمحدود؟ اورمحدود ہیں توحدود مقررکرنےوالا کون ہے؟ اسی طرح کیا وہ آس میں اپنےابنائےنوع کربرتاؤ کی کوئی شکل متعین کرسکتاہے- جب تک اس معاملہ میں کوئی رائےقائم نہ کرلےکہ انسانیت کس چیزسےعبارت ہے؟ انسان اورانسان کےدرمیان فرق وامتیاز کی بنیاد کیا ہے؟ اوردوستی، و دشمنی ، اتفاق و اختلاف ، تعاون اورعدم تعاون کی اساس کن امورپرہے؟ اسی طرح کیا وہ بحیثیت مجموعی اس دنیا کےساتھ کوئی رویہ اختیار کرسکتاہےجب تک اس معاملہ میں کسی نتیجہ پرنہ پہنچےکہ یہ نظام کائنات کس قسم کا ہےاوراس میں میری حیثیت کیا ہے؟

جومقدمہ میں پہلےبیان کرچکاہوں ، اس کی بنا پربلاتامل یہ کہا جاسکتاہےکہ ان تمام امورکے متعلق ایک نہ ایک رائے قائم کیےبغیرکوئی رویہ اختیارکرناغیرممکن ہے- فی الواقع ہرانسان جو دنیا میں زندگی بسرکررہاہےان سوالات کےمتعلق شعوری طورپریا غیرشعوری طورپرکوئی نہ کوئی رائےضرور رکھتاہےاوررکھنےپرمجبورہے- کیونکہ وہ اس رائےکےبغیرکوئی قدم نہیں اٹھا سکتا یہ ضروری نہیں کہ ہرشخص نےان سوالات پرفلسفیانہ غوروفکرکیا ہواورواضح طورپرتنقیحات قائم کرکےایک ایک سوال کا فیصلہ کیا ہو، نہیں بہت سےآدمیوں کےذہن میں ان سوالات کےسرےسےکوئی متعین صورت ہوتی ہی نہیں، نہ وہ کبھی ان پربالا رادہ سوچتےہیں- مگرباوجود اس کےہرآدمی اجمالی طورپران سوالات کےمتعلق منفی یا مثبت پہلومیں ایک رائےپرلازماپہنچ جاتاہے، اورزندگی میں اس کا رویہ جوبھی ہوتاہےلازمی طورپراس رائے کے مطابق ہوتاہے-

یہ بات جس طرح اشخاص کےمعاملہ میں صحیح ہےاسی طرح جماعتوں کےمعاملہ میں بھی صحیح ہے- چونکہ یہ سوالات انسانی زندگی کےبنیادی سوالات ہیں اس لیےکسی نظام تمدن وتہذیب اورکسی ہیئت اجتماعی کےلیےکوئی لائحہ عمل بن ہی نہیں سکتا جب تک ان سوالات کا کوئی جواب متعین نہ کرلیا جائے- اوران کاجواب جوبھی متعین کیاجائےگا اسی کےلحاظ سےاخلاق کاایک نظریہ قائم ہوگا، اسی کی نوعیت کےمطابق زندگی کےمختلف شعبوں کی تشکیل ہوگی اورفی الجملہ فورا تمدن ویسا ہی رنگ اختیار کرےگا جیسا اس جواب کا مقتضا ہوگا- درحقیقت اس معاملہ میں کوئی تخائف ممکن ہی نہیں ہے- خواہ ایک شخص کارویہ ہویا ایک سوسائٹی کا، بہرحال وہ ٹھیک وہی نوعیت اختیارکرےگا جوان سوالات کےجوابات کی نوعیت ہو گی- حتی کہ اگرآپ چاہیں توایک شخص یا ایک جماعت کےرویہ کا تجزیہ کرکےبآسانی یہ معلوم کر سکتےہیں کہ اس رویہ کی تہ میں زندگی کےان بنیادی سوالات کاکونسا جواب کام کررہاہے- کیونکہ یہ بات قطعی محال ہےکہ کسی شخص یا اجتماعی رویہ کی نوعیت کچھ ہواوران سوالات کےجواب کی نوعیت کچھ اورہو- اختلاف زبانی دعوےاورواقعی رویےکےدرمیان توضرورہوسکتاہے، لیکن ان سوالات کاجوجواب درحقیقت نفس کےاندرمتمکن ہےاس کی نوعیت اورعملی رویہ کی نوعیت میں ہرگزکوئی اختلاف نہیں ہو سکتا-

اچھا اب ہمیں ایک قدم اورآگےبڑھنا چاہیے- زندگی کے بنیادی مسائل جن کےمتعلق ابھی آپ نےسنا کہ ان کاکوئی حل اپنےذہن میں متعین کیےبغیرآدمی دنیا میں ایک قدم نہیں چل سکتا، اپنی حقیقت کےاعتبارسےیہ سب امورغیب سےتعلق رکھتےہیں-ان کا کوئی جواب افق پرلکھا ہوانہیں ہےکہ ہرانسان دنیا میں آتےہی اس کوپڑھ لے، اوران کا کوئی جواب ایسابد یہی نہیں ہےکہ ہرانسان کوخود بخود معلوم ہو جائے- اسی وجہ سےان کا کوئی ایک حل نہیں ہےجس پرسارےانسان متفق ہوں- بلکہ ان کے بارے میں ہمیشہ انسانوں کے درمیان اختلاف رہاہےاورہمیشہ مختلف انسان مختلف طریقوں سےان کوحل کرتے رہےہیں- اب سوال یہ ہے کہ ان کوحل کرنے کی کیا کیا صورتیں ممکن ہیں، کیا کیا صورتیں دنیا میں اختیار کی گئی ہیں اوران مختلف صورتوں سےجوحل نکلتےہیں وہ کسی قسم کےہیں- ان کےحل کی ایک صورت یہ ہےکہ آدمی اپنےحواس پر اعتماد کرےاورجواس سےجیسا کچھ محسوس ہوتاہےاسی کی بناء پران امور کےمتعلق ایک رائے قائم کرلے-

دوسری صورت یہ ہےکہ مشاہدہ حسی کےساتھ وہم وقیاس کوملا کرایک نتیجہ اخذ کیا جائے-

تیسری صورت یہ ہےکہ پیغمبروں نےحقیقت کابراہ راست علم رکھنےکا دعوےکرتےہوئےان مسائل کاجو حل بیان کیا ہےاس کوقبول کرلیاجائے-

دنیا میں اب تک ان مسائل کےحل کی یہی تین صورتیں اختیارکی گئی ہیں، اورغالبا یہی تین صورتیں ممکن بھی ہیں، ان میں سےہرصورت ایک جدا گانہ طریقہ سےان مسائل کوحل کرتی ہے، ہرایک حل سےایک خاص قسم کارویہ وجودمیں آتاہےاورایک خاص نظام اخلاف اورنظام تمدن بنتاہےجو اپنی بنیادی خصوصیات میں دوسرےتمام حلوں میں پیدا کردہ رویوں سےمختلف ہوتاہے- اب میں دکھانا چاہتاہوں کہ ان مختلف طریقوں سےان مسائل کےکیاحل نکلتےہیں، اورہر ایک حل کس قسم کارویہ پیدا کرتاہے-

خالص جاہلیت

حواس پراعتماد کرکےجب انسان ان مسائل کےمتعلق کوئی رائےقائم کرتاہےتواس طرزکی عین فطرت کےتقاضےسےوہ اس نتیجہ پرپہنچتا ہےکہ کائنات کایہ سارا نظام ایک اتفاقی ہنگامہ وجودوظہور ہےجس کےپیچھےکوئی مصلحت اورمقصد نہیں- یونہی بن گیا ہے، یونہی چل رہاہے، یونہی بےنتیجہ ختم ہوجائےگا- اس کا کوئی مالک نہیں آتا، لہذا وہ یا توہےہی نہیں یا اگرہےتوانسان کی زندگی سےاس کاکوئی تعلق نہیں- انسان ایک قسم کاجانورہےجوشاید اتفاقا پیدا ہوگیاہے- کچھ خبرنہیں کہ اس کوکس نےپیدا کیایا یہ خود پیدا ہوگیا- بہرحال یہ سوال خارج ازبحث ہے- ہم صرف اتنا جانتےہیں کہ یہ اس زمین پرپایا جاتاہے، کچھ خواہشیں رکھتاہے- جنھیں پوراکرنےکےلیےاس کی طبیعت اندرسےزورکرتی ہے، کچھ قوی اورکچھ آلات رکھتاہے- جو ان خواہشوں کی تکمیل کا ذریعہ بن سکتےہیں، اوراس کےگردوپیش زمین کےدامن پربےحدوحساب سامان پھیلا ہواہےجس پریہ اپنےقوی اورآلات کواستعمال کرکےاپنی خواہشات کی تکمیل کرسکتاہے، اوراس کی قوتوں کاکوئی مصرف اس کےسوانہیں کہ یہ اپنی خواہشات وضروریات کی سےزیادہ کمال کےساتھ پوراکرے اوردنیا کی کوئی حیثیت اس کےسوا نہیں ہےکہ یہ ایک خوان یغماہےجواس لیےپھیلا ہواہےکہ انسان اس پرہاتھ مارے- صاحب امرنہیں جس کےسامنےانسان جواب دہ ہو، اورنہ کوئی علم کا منبع اورہدایت کاسرچشمہ موجود ہے جہاں سےانسان کواپنی زندگی کاقانون مل سکتاہو- لہذا انسان ایک خودمختاراورغیرذمہ دارہستی ہے- اپنے لیے ضابطہ وقانون بنانا اوراپنی قوتوں کامصرف تجویزکرنا اورموجودات کےساتھ اپنےطرزعمل کاتعین کرنا اس کا اپنا کام ہےاس کےلیےاگرکوئی ہدایت ہےتوجانوروں کی زندگی پتھروں کی سرگذشت، یا خود اپنی تاریخ کے تجربات میں ہےاوراگرکسی کےسامنےجواب دہ ہےتوآپ اپنےسامنےیا اس اقتدارکےسامنے ہےجوخود انسانوں ہی میں سےپیدا ہوکرافرادپر مستولی ہوجائے- زندگی جوکچھ ہےیہی دنیوی زندگی ہےاوراعمال کےسارےنتائج اسی زندگی کی حد تک ہیں- لہذا صحیح اورغلط ، مفید اورمضر، قابل ترک ہونےکا فیصلہ صرف انہی نتائج کےلحاظ سےکیا جائےگا جو اس دنیا میں ظاہرہوتےہیں-

یہ ایک پورا نظریہ حیات ہےجس میں انسانی زندگی کےتمام بنیادی مسائل کاجواب حسی مشاہدہ پر دیا گیا ہے، اوراس کاجواب کاہرجزودوسرےجزکےساتھ کم ازکم ایک منطقی ربط، ایک مزاجی موافقت ضرور رکھتاہےجس کی وجہ سےانسان دنیا میں ایک ہموارویکساں رویہ اختیارکرسکتاہے، قطع نظراس سےکہ یہ جواب اوراس سےپیدا ہونےوالا رویہ بجائےخود صحیحہویا غلط- اب اس رویہ پرایک نگاہ ڈالیےجو اس جواب کی بنا پرآدمی دنیا میں اختیارکرتاہے-

انفرادی زندگی میں اس نقطہ نگاہ کالازمی نتیجہ یہ ہےکہ انسان اول سےلےکرآخرتک خود مختارانہ اورغیرذمہ دارانہ طرزعمل اختیارکرلے- وہ اپنےآپ کواپنےجسم اوراپنی جسمانی قوتوں کا مالک سمجھےگا، اس لیےاپنےحسب منشا جس طرح چاہےگا انہیں استعمال کرےگا- دنیا کی جوچیزیں اس کےقبضہ قدرت میں آئیں گی اورجن انسانوں پراس کواقتدارحاصل ہوگا ان سب کےساتھ وہ اس طرح برتاؤ کرےگا جیسےکہ وہ ان کا مالک ہے- اس کےاختیارات کومحدود کرنےوالی چیزصرف قوانین قدرت کی حدیں اوراجتماعی زندگی کی ناگزیربندشیں ہوں گی- خود اس کےاپنےنفس میں کوئی ایسا اخلاقی احساس، ذمہ داری کااحساس اورکسی باز پرس کا خوف------- نہ ہوگا جواسےشتربےمہارہونےسےروکتاہو- جہاں خارجی رکاوٹیں نہ ہوں ، یا جہاں وہ ان رکاوٹوں کےعلی الرغم کام کرنےپرقادرہو، وہاں تواس کےعقیدےکافطری اقتضاء یہی ہےکہ وہ ظالم، بددیانت، شریراورمفسد ہو- وہ فطرتا خودغرض، مادہ پرست اورابن الوقت ہوگا- اس کی زندگی کاکوئی مقصد اپنی نفسانی خواہشات اورحیوانی ضروریات کی خدمت کےسوانہ ہوگا اوراس کی نگاہ میں قدروقیمت صرف ان چیزوں کی ہوگی- جو اس کےاس مقصد زندگی کےلیےکوئی قیمت رکھتی ہوں- افراد میں یہ سیرت وکردارپیدا ہونا اس عقیدےکا فطری اورمنطقی نتیجہ ہے- بےشک یہ ممکن ہےکہ مصلحت اوردوراندیشی کی بنا پرایسا شخص ہمدردہو، ایثارپیشہ ہو، اپنی قوم کی فلاح وترقی کےلیےجان توڑ کوشش کرتاہو، اورفی الجملہ اپنی زندگی میں ایک طرح کےذمہ دارانہ اخلاق کا اظہارکرے- لیکن جب آپ اس کےاس رویہ کا تجزیہ کریں گے تو معلوم ہوگا کہ دراصل یہ اس کی خودغرضی ونفانیت ہی کی توسیع ہے- وہ اپنےملک یا اپنی قوم کی بھلائی میں اپنی بھلائی دیکھتاہےاس لیے اس کی بھلائی کرتاہے- یہی وجہ ہےکہ ایسا شخص زیادہ بس ایک نیشنلسٹ ہی ہوسکتاہے-

پھرجو سوسائٹی اس ذہنیت کےافراد سےبنےگی اس کی امتیازی خصوصیات یہ ہوں گی:-

سیاست کی بنیاد انسانی حاکمیت پرقائم ہوگی، خواہ وہ ایک شخص یا ایک خاندان یا ایک طبقہ کی حاکمیت ہو، یا جمہور کی حاکمیت – زیاددہ سےزیادہ اجتماعی تصورجوقائم کیا جاسکےوہ بس دولت مشترکہ کا تصورہوگا- اس مملکت میں قانون سازانسان ہوں گے، تمام قوانین خواہش اورتجربی مصلحت کی بنا پربنائےاوربدلی جائیں گے- اورمنفعت پرستی و مصلحت پرستی ہی کےلحاظ سےپالیسیاں بھی بنائی اوربدلی جائیں گی- مملکت کےحدود میں وہ لوگ زورکرکےابھرآئیں گےجو سب سےزیادہ طاقت وراورسب سےزیادہ چالاک ، مکار، جھوٹے، دغازباز، سنگ دل اورخبیث النفس ہوں گے؟ سوسائٹی کی رہنمائی اورمملکت کی زمام کارانہی کےہاتھ میں ہوگی اوران کی کتاب آئین میں زورکا نام حق اوربےروزی کا نام باطل ہو گا-

تمدن ومعاشرت کاسارا نظام نفس پرستی پرقائم ہوگا- لذات نفس کی طلب ہراخلاقی قید سےآزاد ہوتی چلی جائےگی اورتمام اخلاقی معیاراس طرح قائم کیےجائیں گےکہ ان کی وجہ سےلذتوں کےحصول میں کم سےکم رکاوٹ ہو-

اسی ذہنیت سےآرٹ اورلڑیچرمتاثرہوں گےاوران کےاندرعریانی و شہوانیت کےعناصر بڑھتے چلے جائیں گے- بنیادی رویہ اس تصورپرمبنی ہوگا کہ ایک خوان یغما ہےجس پوحسب موقع ہاتھ مارنےکے لیےوہ آزاد ہے-

پھراس سوسائٹی میں افرادکوتیارکرنےکےلیےتعلیم وتربیت کاجو نظام ہوگا اس کامزاج بھی اسی تصورحیات اوراسی رویہ کےمناسب حال ہوگا اس پرنئی آنےوالی نسل کودنیا اورانسان اوردنیا میں انسان کی حیثیت کےمتعلق وہی تصوردیا جائےگا جس کی تشریح میں نےاوپرکی ہے- تمام معلومات خواہ وہ کسی شعبہ علم سےمتعلق ہوں، ان کوایسی ہی ترتیب کےساتھ دی جائیں گی کہ آپ سےآپ ان کےذہن میں زندگی میں یہی رویہ اختیارکرنےاوراسی طرزکی سوسائٹی میں کھپ جانےکےلیےتیارہوں- اس تعلیم وتربیت کی خصوصیات کےمتعلق مجھےآپ سےکچھ کہنےکی ضرورت نہیں، کیونکہ آپ لوگوں کواس کا ذاتی تجربہ ہے- جن درس گاہوں میں آپ تعلیم پارہےہیں وہ سب اسی نظریہ پرقائم ہوئی ہیں ، اگرچہ ان کےنام اسلامیہ کالج اورمسلم یونیورسٹی وغیرہ ہیں-

یہ رویہ جس کی تشریح میں نےابھی آپ کےسامنےکی ہےخالص جاہلیت کا رویہ ہے- اس کی نوعیت وہی ہےجواس بچہ کےرویےکی نوعیت ہےجومحض حسی مشاہدےپراعتماد کرکےآگ کوایک خوب صورت کھلونا سمجھتاہےفرق صرف یہ ہےکہ وہاں اس مشاہدےکی غلطی فورا تجربہ سےظاہرہوجاتی ہےکیوں کہ جس آگ کوکھلونا سمجھ کروہ دست اندازی کارویہ اختیارکرتاہےوہ گرم آگ ہوتی ہے، ہاتھ لگاتےہی فورا بتادیتی ہےکہ میں کھلونا نہیں ہوں- بخلاف اس کےیہاں مشاہدےکی غلطی بڑی دیرمیں کھلتی ہے، بلکہ بہتوں پرکھلتی ہی نہیں کیونکہ جس آگ پریہ ہاتھ ڈالتےہیں اس کی آنچ دھیمی ہے، فوراچرکا نہیں دیتی بلکہ صدیوں تک تپاتی رہتی ہے- تاہم اگرکوئی شخص تجربات سےسبق لینےکےلیےتیارہوتو شب و روزکی زندگی میں اس نظریہ کی بدولت افراد کےبےایمانیوں، حکام کےمظالم، منصفوں کےبےانصافیوں، مال دراوں کی خود غرضیوں ،اورعام لوگوں کی بداخلاقیوں کاجوتلخ تجربہ اس کا ہوتاہے، اوربڑےپیمانےپراسی نظریہ

معاشی زندگی میں کبھی جاگیرداری سسٹم برسرعروج آئےگا، کبھی سرمایہ داری نظام اس کی جگہ لےگا، اورکبھی مزدورشورش کرکےاپنی ڈکٹیٹرشپ قائم کرلیں گے- عدل سےبہرحال معیشت کا رشتہ کبھی قائم نہ ہوسکےگا- کیونکہ دنیا اوراس کی دولت کےبارےمیں اس سوسائٹی کےہرفردکا سےقوم پرستی ، امپیریلزم، جنگ وفساد ، ملک گیری اوراقوام کشی کےجو شرارےنکلتےہیں، ان کےچرکوں سےوہ نتیجہ نکال سکتاہےکہ یہ رویہ جاہلیت کارویہ ہے، عملی رویہ نہیں ہے- کیونکہ انسان نےاپنےمتعلق اورنظام کائنات کےمتعلق جورائےقائم کرکےیہ رویہ اختیارکیا ہے، وہ امرواقعہ کےمطابق نہیں ہے،ورنہ اس سےیہ بڑےنتائج ظاہرنہ ہوتے-

اب ہمیں دوسرےطریقہ کاجائزہ لینا چاہیے- زندگی کےبنیادی مسائل کوحل کرنےکادوسرا طریقہ ہےکہ مشاہدےکےساتھ قیاس دوہم سےکام لےکران مسائل کےمتعلق کوئی رائےقائم کی جائے- اس طریقےسے تین مختلف رائیں قائم کی گئی ہیں اورہرایک رائےسےایک خاص قسم کا پیدا ہواہے-

شرک-1

ایک رائےی ہےکہ کائنات کایہ نظام بےخداوندتونہیں ہےمگراس کا ایک خداوند ( الہ یا رب) نہیں ہےبلکہ بہت سےخداوند ( الہ) اورارباب ہیں- کائنات کی مختلف قوتوں کاسررشتہ مختلف خداؤں کےہاتھ میں ہےاورانسان کی سعادت و شقادت، کامیابی و نامی ، نفع و نقصان بہت سی ہستیوں کی مہربانی پرمنحصرہے- یہ رائےجن لوگوں نےاختیارکی ہیں انہوں پھراپنےوہم وقیاس سےکام لےکریہ تعین کرنےکی کوشش کی ہے- کہ خدائی کی طاقتیں کہاں کہاں اورکس کس کےہاتھ میں ہیں، اورجن جن چیزوں سےبھی ان کی نگاہ جا کر ٹھہری ہےانہی کوخدا مان لیاہے-

اولا : اس سےآدمی پوری زندگی اوہام کی آماجگاہ بن جاتی ہے- وہ کسی ثبوت کےبغیرمجرد اپنے وہم خیال سےبہت سی چیزوں کےمتعلق یہ رائےقائم کرتاہےکہ وہ فوق الفطری طریقوں سےاس کی قسمت پراچھایابرااثر ڈالتی ہیں- اس لیےوہ اچھےاثرات کی موہوم امید اوربرےاثرات کےموہوم خوف میں مبتلا ہوکر اپنی قوتیں لا حاصل طریقہ سےضائع کردیتاہے- کہیں کسی قبرسےامید لگاتاہےکہ یہ میرا کام کردےگی- کہیں کسی بت پربھروسہ کرتاہےکہ وہ میری قسمت بنا دےگا-کہیں کسی اورخیالی کاسازکوخوش کرنےکےلیےدوڑتاپھرتاہے- کہیں کسی برےشگون سےدل شکستہ ہوجاتاہےاورکہیں کسی اچھےشگون سےتوقعات کےخیالی قلعےبنا لیتاہے- یہ ساری چیزیں اس کےخیالات اوراس کی کوششوں کی فطری تدابیرسےہٹا کرایک بالکل غیرفطری راستے پرڈال دیتی ہیں-

ثانیا: اس رائےکی وجہ سےپوجاپاٹ ، نذرونیاز، اوردوسری رسموں کاایک لمبا چوڑا دستورالعمل بنتاہےجس میں الجھ کرآدمی کی سعی وعمل کاایک بڑا حصہ بےنتیجہ مشغولیتوں میں صرف ہوجاتاہے-

ثالثا : جولوگ اس مشرکانہ وہم پرستی میں مبتلا ہوتےہیں ان کوبےقوف بنا کراپنےجال میں پھانس لینےکا چالاک آدمیوں کوخوب موقع مل جاتاہے- کوئی بادشاہ بن بیٹھتا ہےاورسورج، چاند اوردوسرےدیوتاؤں سےاپنا نسب ملا کرلوگوں کویقین دلاتاہےکہ ہم بھی خداؤں میں سےہیں اورتم ہمارےبندےہو- کوئی پروہت یا مجاوربن بیٹھتاہےاورکہتاہےکہ تمہارا نفع و نقصان جن سےوابستہ ہےان سےہمارا تعلق ہےاورتم ہمارےہی واسطےان تک پہنچ سکتےہو- کئی پنڈت اورپیربن جاتاہےاورتعویذ گنڈوں اورمنتروں اورعملیات کا ڈھونگ رچا کرلوگوں کویقین دلاتاہےکہ ہماری یہ چیزیں فوق الفطری طریقےسےتمہاری حاجتیں پوری کریں گی- پھران سب چالاک لوگوں کی نسلیں مستقل خاندان اورطبقوں کی صورت اختیارکرلیتی ہیں جن کےحقوق ، امتیازات، اوراثرات امتداد زمانہ کےساتھ ساتھ بڑھتےاورگہری بنیادوں پرجمتےچلےجاتےہیں- اس طرح اس عقیدہ کی بدولت عام انسانوں کی گردنوں پرشاہی خاندانوں ، مذہبی عہدہ داروں اورروحانی پشیواؤں کی خدائی کاجومسلط ہوتاہےاوریہ بناوٹی خداان کواس طرح اپنا خادم بناتےہیں کہ گویا وہ ان کےلیےدودھ دینےاورسواری اور باربرداری کی خدمت انجام دینےوالےجانورہیں-

رابعا: یہ نظریہ نہ تو علوم وفنون، فلسفہ وآدب ، اورتمدن و سیاست کےلیےکوئی مستقل بنیاد فراہم کرتاہےاورنہ ان خیالی خداؤں سےانسانوں کوکسی قسم کی ہدایت ہی ملتی ہےکہ وہ اس کی پابندی کریں- ان خداؤں سےتوانسان کاتعلق صرف اس حد تک محدود رہتاہےکہ یہ ان کی مہربانی و اعانت حاصل کرنےکے لیےبس عبودیت کےچند مراسم اداکردے- باقی رہے زندگی کےمعاملات توان کےمتعلق قوانین اورضوابط بنانا اورعمل کےطریقےمعین کرنا انسان کااپنا کام ہوتاہے- اس طرح مشرک سوسائٹی عملا انہی سب راہوں پرچلتی ہے- جن کا ذکرخالص جاہلیت کے سلسلہ میں ابھی میں آپ سےکرچکا ہوں- وہی اخلاق ، وہی اعمال، وہی طرزپمدن ، وہی سیاست ، وہی نظام معیشت اوروہی علم وآدب- ان تمام حیثیتوں سےشرک کےرویےاور خالص جاہلیت کےرویےمیں کوئی اصولی فرق نہیں ہوتا-

2- رہبانیت :

دوسری رائےجومشاہدےکےساتھ قیاس ووہم کوملاکرقائم کی گئی ہےوہ یہ ہےکہ دنیا اوریہ جسمانی وجود انسان کےلیےایک دارالعذاب ہے- انسان کی روح ایک سزایا فتہ قیدی کی حیثیت سےاس قفس میں بندکی گئی ہے- لذات وخواہشات اورتمام وہ ضروریات جو اس تعلق کی وجہ سےانسان کولاحق ہوتی ہیں اصل میں یہ اس قید خانہ کےطوق وسلاسل ہیں- انسان جتنا اس دنیا اوراس چیزوں سےتعلق رکھےگا اتنا ہی ان زنجیروں میں پھنستاچلاجائےگا اورمزید عذاب کا مستحق ہوگا- نجات کی صورت میں اس کےسواکوئی نہیں کہ زندگی کےسارےبکھیڑوں سےقطع تعلق کیا جائے، خواہشات کومٹایا جائے، لذات سےکنارہ کشی کی جائے، جسمانی ضروریات اورنفس کےمطالبوں کوپورا کرنےسےانکارکیا جائے، ان تمام محبتوں کودل سےنکال دیا جائےجو گوشت وخون کےتعلق سےپیدا ہوتی ہیں، اوراپنےاس دشمن ( یعنی نفس وجسم) کومجاہدون اورریاضتوں سےاتنی تکلیفیں دی جائیں کہ روح پراس کا تسلط قائم نہ رہ سکے- اس طرح روح ہلکی اورپاک صاف ہوجائے گی اورنجات کےبلند مقام پراڑنےکی طاقت حاصل کرلےگی-

اس رائےمیں جورویہ پیدا ہوتاہےاس کی خصوصیات یہ ہیں:-

اولا: اس سےانسان کے تمام رجحانات، اجتماعیت سےانفرادیت کی طرف اورتمدن سےوحشت کی طرف پھر جاتےہیں- وہ دنیا اوراس کی زندگی سےمنہ موڑکر کھڑاہوجاتاہے، ذمہ داریوں سےبھاگتاہے، اس کی ساری زندگی عدم تعاون اورترک موالات کی زندگی بن جاتی ہےاوراس کےاخلاق زیادہ ترسلبی ( ) نوعیت کےہوجاتےہیں-

ثانیا: اس رائےکی بدولت نیک لوگ دنیا کےکاروبارسےہٹ کراپنی نجات کی فکرمیں گوشہ ہائےعزلت کی طرف چلےجاتےہیں اوردنیا کےسارےمعاملات شریرلوگوں کےہاتھوں میں آ جاتےہیں-

ثالثا: تمدن میں اس رائےکااثرجس حد تک پہنچتا ہے، اس سےلوگوں کےاندرسلبی اوراخلاقیات ، غیرتمدنی ( ) اورانفرادیت پسندانہ رجحانات اورمایوسانہ خیالات پیدا ہوجاتےہیں- ان کی عملی قوتیں سردہوجاتی ہیں- وہ ظالموں کےلیےنرم نوالہ بن جاتےہیں- اورہرجابرحکومت ان کوآسانی سےقابومیں لاسکتی ہے- درحقیقت یہ نظریہ عوام کوظالموں کےلیےذلول بنانےمیں جادوکی تاثررکھتاہے-

رابعا: انسانی فطرت سےاس راہبانہ نظریہ کی مستقل جنگ رہتی ہےاوراکثریہ اس سےشکست کھا جاتاہے- پھرجب یہ شکست کھاتاہےتواپنی کمزوری کوچھپانےکےلیےاسےحیلوں کےدامن میں پناہ لینی پڑتی ہےاسی وجہ سےکہیں کفارہ کاعقیدہ ایجاد ہوتاہے، کہیں عشق مجازی کاڈھونگ رچایا جاتاہےاورکہیں ترک دنیا کےپردےمیں وہ دنیا پرستی کی جاتی ہے- جس کےآگےدنیا پرست بھی شرماجائیں-

ہمہ اوست 3

تیسری رائےجومشاہدےاورقیاس کی آمیزش سےپیدا ہوتی ہےیہ ہےکہ انسان اورکائنات کی تمام چیزیں بجائےخودغیر حقیقی ہیں- ان کا کوئی مستقل وجود نہیں ہے- دراصل ایک وجود نےان ساری چیزوں کو خود اپنےظہورکا واسطہ بنایا ہےاوروہی ان سب کےاندرکام کررہا ہے- تفصیلات میں اس نظریہ کی بےشمارصورتیں ہیں ، مگران ساری تفصیلات کےاندرقدر مشترک یہی ایک خیال ہےکہ تمام موجودات ایک ہی وجود کا ظہورخارجی ہیں اوردراصل موجودوہی ہےباقی کچھ نہیں-

اس نظریہ کی بنا پرانسان جورویہ اختیارکرتاہےوہ یہ ہےکہ اسےخود اپنےہونےہی میں شک ہوجاتا ہےکجا کہ وہ کوئی کام کرے- وہ اپنےآپ کوایک کٹھ پتلی سمجھتاہےجسےکوئی اورنچارہاہےیا جس کےاندر کوئی اورناچ رہاہے- وہ اپنےتخیلات کےنشےمیں گم ہوجاتاہے- اس کےلیےنہ کوئی مقصد زندگی ہوتاہےاورنہ کوئی راہ عمل- وہ خیال کرتاہےکہ میں خود توکچھ ہوں ہی نہیں ، نہ میرےکرنےکاکوئی کام ہے، نہ میرےکیے سےکچھ ہوسکتاہے- اصل میں تووہ وجود کلی جومجھ میں اورتمام کائنات میں سرایت کیےہوئےہےاورازل سےابد تک چلا جارہاہے، سارےکام اسی کےہیں اوروہی سب کچھ کرتاہے- وہ اگرمکمل ہےتومیں بھی مکمل ہوں ، پھرکوشش کس چیزکےلیے؟ اوروہ اگراپنی تکمیل کےلیےکوشاں ہےتوجس عالمگیرحرکت کےساتھ وہ کمال کی طرف جارہاہے- اسی کی لپیٹ میں ایک جزکی حیثیت سےمیں بھی آپ سےآپ چلا جاؤں گا- میں ایک جزہوں، مجھےکیا خبرکہ کل کدھرجارہاہےاورکدھرجاناچاہتاہےاس طرزخیال کےعملی نتائج قریب قریب وہی ہیں جوابھی میں نےراہبانہ نظریہ کےسلسلےمیں بیان کیےہیں- بلکہ بعض حالات میں اس رائےکواختیارکرنے والےکاطرزعمل ان لوگوں کےرویےسےملتاجلتاہےجو خالص جاہلیت کا نظریہ اختیارکرتےہیں- کیونکہ یہ اپنی خواہشات کےہاتھ میں اپنی باگیں دےدیتاہےاورپھرجدھرخواہشات لےجاتی ہیں- اس طرف یہ سمجھتےہوئےبے تکلف چلا جاتاہےکہ جانےوالا وجود کلی ہےنہ کہ میں-

پہلےنظریئےکی طرح یہ تینوں نظریئےبھی جاہلیت کےنظریئےہیں اوراس بنا پرحجورویےان سےپیدا ہوتےہیں وہ بھی جاہلیت ہی کےرویےہیں- اس لیےکہ اول توان میں سےکوئی نظریہ بھی کسی علمی ثبوت پرمبنی نہیں ہےبلکہ محض خیالی اورقیاسی بنیادوں پرمختلف رائیں قائم کرلی گئی

ہیں- دوسرےان کا واقعہ کےخلاف ہونا تجربہ سےثابت ہوتاہے- اگران میں کوئی رائےبھی امرواقعی کےمطابق ہوتی تواس کےمطابق عمل کرنےسےبرےنتائج تجربےمیں نہ آتے، جب آپ دیکھتےہیں کہ ایک چیزکوجہاں کہیں انسان نےکھایا اس کےپیٹ میں درد ضرورہوتواس تجربہ سےآپ یہ نتیجہ نکال سکتےہیں کہ فی الواقع معدہ کی ساخت اوراس کی طبیعت سےیہ چیزمطابقت نہیں رکھتی- بالکل اسی طرح جب یہ حقیقت ہےکہ شرک، رہبانیت اوروجودیت کےنظریےاختیارکرنےسےانسان کوبحیثیت مجموعی نقصان ہی پہنچا تویہ بھی اس امرکا ثبوت ہےکہ ان میں سےکوئی نظریہ بھی واقعہ اورحقیقت کےمطابق نہیں ہے-

اسلام :

اب ہمیں تیسری صورت کولینا چاہیےجوزندگی کےان بنیادی مسائل کےمتعلق رائےقائم کرنےکی آخری صورت ہے، اوروہ یہ ہےکہ پیغمبروں نےان مسائل کاجوحل پیش کیا ہےاسےقبول کیا جائے-

اس طریقہ کی مثال بالکل ایسی ہےجیسےکسی اجنبی مقام پرآپ ہوں اورآپ خود اس مقام کےمتعلق کوئی واقفیت نہ ہوتوآپ کسی دوسرےشخص سےدریافت کریں اوراس کی رہنمائی میں وہاں کی سیرکریں- ایسی صورت حال جب پیش آتی ہےتوآپ پہلےاس شخص کوتلاش کرتےہیں جوخود واقف کارہونےکادعوےکرے- پھرآپ قرائن سےاس امرکا اطمینان کرنےکی کوشش کرتےہیں کہ وہ شخص قابل اعتماد ہےیا نہیں- پھرآپ اس کی رہنمائی میں چل کردیکھتےہیں اورجب تجربہ سےیہ ثابت ہوجاتاہےکہ اس کی فراہم کردہ معلومات کےمطابق جوعمل آپ نےکیا اس سےکوئی برانتیجہ نہیں نکلا توآپ پوری طرح اطمینان ہوجاتاہےکہ واقعی وہ شخص واقف کارتھا اوراس جگہ کےمتعلق جومعلومات اس نےدی تھیں وہ صحیح تھیں- یہ ایک علمی طریقہ ہے،اوراگرکوئی دوسرا طریق علمی ممکن نہ ہو توپھررائےقائم کرنےکےلیے یہی ایک صحیح طریقہ ہو سکتا ہے-

اب دیکھئے، دنیا آپ کےلیےایک اجنبی جگہ ہے- آپ کونہیں معلوم کہ اس کی حقیقت کیا ہے؟ اس کا انتظام کس قسم کا ہے- کس آئین پریہ کارخانہ چل رہا ہے- اس کےاندرآپ کی کیا حیثیت ہے، اور یہاں آپ کےلیےکیا رویہ مناسب ہے- آپ نےپہلےیہ رائےقائم کی کہ جیسا بظاہرنظرآتاہےاصل حقیقت بھی وہی ہے- آپ نےاس رائےعمل کیا مگرنتیجہ غلط نکلا- پھرآپ نےقیاس اورگمان کی بناءپرمختلف رائیں قائم کیں- اورہرایک پرعمل کرکےدیکھا، مگرہرصورت میں نتیجہ غلط ہی رہا- اس کےبعد آخری صورت یہی ہےکہ آپ پیغمبروں کی طرف رجوع کریں- یہ لوگ واقف کارہونےکادعوی کرتےہیں-ان کےحالات کی جتنی چھان بین کی جاتی ہےاس سےمعلوم ہوتاہےکہ نہایت سچے، نہایت امین ، نہایت نیک ، نہایت بےغرض اورنہایت صحیح الدماغ لوگ ہیں- لہذا بادی النظرمیں ان پراعتماد کرنےکےلیےکافی وجہ موجود ہے- اب صرف یہ دیکھنا باقی رہ جاتاہےکہ دنیا کےمتعلق اوردنیا میں آپ کی حیثیت کےمتعلقاوردنیا میں آپ کی حیثیت کےمتعلق جو معلومات وہ دیتےہیں وہ کہاں تک لگتی ہوئی ہیں، ان کے خلاف کوئی عملی ثبوت تونہیں ہے، اوران کےمطابق جورویہ دنیا میں اختیارکیا گیا وہ تجربہ سےکیسا ثابت ہوا- اوران کےمطابق جورویہ دنیا میں اختیارکیا گیا وہ تجربہ سے کیسا ثابت ہوا- اگرتحقیق سےان تینوں باتوں کاجواب اطمینان بخش نکلےتوان کی رہنمائی پرایمان لےانا چاہیےاورزندگی میں وہی رویہ اختیارکرنا چاہیےجو اس نظریہ کےمطابق ہو- جیساکہ میں اوپرعرض کیا پچھلےجاہلیت کےطریقوں کےمقابلہ میں یہ طریقہ علمی طریقہ ہے اور اگراس علم کےآگےآدمی سرتسلیم کردے، اگرخود سری اورخودرائی کو چھوڑ کراس علم کا اتباع کرے، اوراپنےرویہ کوانہی حدود کاپابندکردےجو اس علم نےقائم کی ہیں، تواسی طریقہ کانام '' اسلامی طریقہ'' ہے-

انبیاء کانظریہ کائنات وانسان:

پیغمبرکہتےہیں:-

یہ ساراعالم وبودجوانسان کےگردوپیش پھیلاہواہےاورجس کاایک جزء انسان بھی ہے- کو‏ئی اتفاقی ہنگامہ نہیں ہےبلکہ ایک منظم، باضابطہ سلطنت ہے- اللہ نےاس کوبتایاہے، وہی اس کا مالک ہےاوروہی اس کا اکیلا حاکم ہے- یہ ایک کلی نظام ہے- جس میں تمام اختیارات مرکزی اقتدارکےہاتھ میں ہیں-اس مقتدراعلی کےسوایہاں کسی کاحکم نہیں چلتا- تمام قوتیں جونظام عالم میں کام کررہی ہیں، اسی کےزیرحکم ہیں اورکسی کی مجال نہیں ہےکہ اس کےحکم سےسرتابی کرسکے- یا اس کے اذن کےبغیراپنےاختیارسےکوئی حرکت کرے-اس ہمہ گیرسسٹم کےاندرکسی کی خود مختاری اورغیرذمہ داری کےلیےکوئی جگہ نہیں، نہ فطرۂ ہوسکتی ہے-

انسان یہاں پیدائشی رعیت ہے- رعیت ہونا اس کی مرضی پرموقوف نہیں ہے- بلکہ یہ رعیت ہی پیدا ہوا ہے- اوررعیت کےسواکچھ اورہونا اس کےامکان میں نہیں ہے- لہذا یہ خود اپنےلیے طریق زندگی وضع کرنےاوراپنی ڈیوٹی آپ تجویزکرلینےکاحق نہیں رکھتا-

یہ کسی چیزکامالک نہیں ہےکہ اپنی ملک میں تصرف کرنےکا ضابطہ خود بنائے- اس کا جسم اوراس کی ساری قوتیں اللہ کی ملک اوراس کا عطیہ ہیں لہذا یہ ان کوخود کرنےکاحق دارنہیں ہےبلکہ جن یہ چیزیں اس کوعطا کی ہیں اسی کی مرضی کےمطابق اسےان کواستعمال کرنا چاہیے-

اسی طرح جواشیاء اس کےگردوپیش دنیا میں پائی جاتی ہیں- زمین ، جانور، پانی، نباتات، معدنیات، وغیرہ------ یہ سب اللہ کی ملک ہیں- انسان ان کا مالک نہیں ہے، لہذا انسان کوان پربھی اپنی مرضی کےمطابق تصرف کرنےکاکوئی حق نہیں بلکہ اسےان کےساتھ اس قانون کےمطابق برتاؤ کرناچاہیے جواصل مالک نےمقرر کیا ہے-

اسی طرح وہ تمام انسان بھی جو زمین پربستےہیں، اورجن کی زندگی ایک دوسرےسےوابستہ ہے،اللہ کی رعیت ہیں- لہذا ان کواپنےباہمی تعلقات کےبارےمیں خود اصول اورضابطےمقررکرلینےکا حق نہیں ہے- ان کےجملہ تعلقات خداکےبنائےہوئےقانون پرمبنی ہونے چاہیں-

رہی یہ بات کہ وہ خدا کاقانون کیا ہے؟ پیغمبرکہتےہیں کہ جس ذریعہ علم کی بنا پرہم تمہیں دنیا کی اور خود تمہاری یہ حقیقت بتا رہےہیں، اسی ذریعہ علم سےہم کوخدا کاقانون بھی معلوم ہوا ہے-خدا نےخود ہم کواس بات پرمامورکیا ہےکہ ہم علم تم تک پہنچادیں- لہذا تم ہم پراعتماد کرو- ہمیں اپنےبادشاہ کانمائندہ تسلیم کرواور ہم سےاس کا مستند قانون لو-

پھرپیغمبرہم سےکہتےہیں کہ یہ جوتم بظاہردیکھتےہوکہ سلطنت عالم کاسارا کاروبارایک نظم کےساتھ چل رہا ہےمگرنہ خود سلطان نظرآتاہےنہ اس کےکارپردازکام کرتےدکھائی دیتےہیں، اوریہ جو تم ایک طرح کی خود مختاری اپنےاندرمحسوس کرتےہوکہ جس طرح چاہو، کام کرو، مالکانہ روش بھی اختیارکر سکتےہواوراصل مالک کےسوادوسروں کےسامنےبھی اطاعت وبندگی میں سرجھکاسکتےہو، ہرصورت میں تم کورزق ملتاہے- وسائل کاربہم پہنچتےہیں اوربغاوت کی سزافورا نہیں دی جاتی، یہ سب دراصل تمہاری آزمائش کےلیےہے- چونکہ تم کوعقل، قوت استنباط اورقوت انتخاب دی گئی ہے، اس لیےمالک نےاپنےآپ کواوراپنے نظام سلطنت کوتمہاری نظروں سےاوجھل کردیاہے- وہ تمہیں آزمانا چاہتاہےکہ تم اپنی قوتوں سےکس طرح کام لیتےہو- اس نےتم کوسمجھ بوجھ ، انتخاب کی آزادی اورایک طرح کی خود اختیاری عطا کرکےچھوڑاہے-اب اگرتم اپنی رعیت ہونےکی حیثیت کوسمجھواوربرضا ورغبت حیثیت کوسمجھواوربرضاورغبت اس حیثیت کواختیارکرلو، بغیراس کےکہ تم پراس حیثیت میں رہنےکےلیے کوئی جبرہو، تواپنےمالک کی آزمائش میں کامیاب ہوگے- اوراگررعیت ہونےکی حیثیت کونہ سمجھو، یا سمجھنےکےباوجودباغبانہ روش اختیارکروتوامتحان میں ناکام ہوجاؤ گے- اسی امتحان کی غرض سےتم کو دنیا میں کچھ اختیارات دیئےگئےہیں، دنیا کی بہت سی چیزیں تمہارےقبضہ قدرت میں دی گئی ہیں، اورتم کوعمر بھرکی مہلت دی گئی ہے-

اس کےبعد پیغمبرہمیں بتاتےہیں کہ یہ دنیوی زندگی چونکہ امتحان کی مہلت ہے- لہذا یہاں نہ حساب نہ جزاسزا(1) یہاں جوکچھ دیاجاتاہےلازم نہیں کہ وہ کسی عمل نیک کاانعام ہی ہو- وہ اس بات کی علامت نہیں ہےکہ اللہ تم سےخوش ہےیا جوکچھ تم کررہےہووہ درست ہے- بلکہ دراصل وہ محض امتحان کا سامان ہے، مال، دولت، اولاد، خدام حکومت، اسباب زندگی یہ سب وہ چیزیں ہیں جو تم کوامتحان کی غرض سےدی جاتی ہیں تاکہ تم ان پرکام کرکےدکھاؤ اوراپنی اچھی یابری قابلیتوں کااظہارکرو- اسی طرح جو تکلیفیں، نقصانات، مصائب وغیرہ آتےہیں- وہ بھی لازما کسی عمل بد کی سزا نہیں ہیں بلکہ ان میں سےبعض قانون فطرت کےتحت آپ سےآپ ظاہرہونےوالےنتائج ہیں (2) بعض آزمائش کےذیل میں آتےہیں (3) اوربعض اس وجہ سےپیش آتےہیں کہ حقیقت کےخلاف رائےقائم کرکےجب تم ایک رویہ اختیارکرتےہوتولامحالہ تم کو چوٹ لگتی ہے(4) بہرحال یہ دنیا دارالجزانہیں ہےبلکہ دارالامتحان ہے- یہاں جوکچھ نتائج ظاہر ہوتےہیں وہ کسی طریقہ یا کسی عمل کےصحیح یا غلط ، نیک یابد، قابل اخذ ہونےکامعیارنہیں بن سکتے- اصلی معیارآخرت کےنتائج ہیں- مہلت کی زندگی ختم ہونےکےبعد ایک دوسری زندگی ہےجس میں تمہارےپورے کارنامےکاجانچ کا فیصلہ کیا جائےگا، کہ تم امتحان میں کامیاب ہوئےیاناکام – اوروہاں جس چیزپرکامیابی و نا کامی کا انحصارہےوہ یہ ہےکہ:



اولا تم نےاپنی قوت نظرواستدلال کےصحیح استعمال سےاللہ تعالی کےحاکم حقیقی ہونےاوراس کی طرف سےآئی ہوئی تعلیم وہدایت کےمنجانب اللہ ہونےکوپہنچانا یا نہیں ، اورثانیا اس حقیقت سےواقف ہونےکے بعد آزادی انتخاب رکھنےکےباوجود، تم نےاپنی رضاورغبت سےاللہ کی حاکمیت اوراس کےحکم شرعی کےسامنےسرتسلیم خم کیا یا نہیں-

نظریہ اسلامی کی تنقید:

دنیا اورانسان کےمتعلق یہ نظریہ جوپیغمبروں نےپیش کیا ہے، ایک مکمل نظریہ ہے- اس کےتمام اجزاء میں ایک منطقی ربط ہےکوئی جزدوسرےجزسےمتناقص نہیں ہے- اس سےتمام واقعات عالم کی پوری توجیہہ اورآثارکائنات کی پوری تعبیرملتی ہے- کوئی ایک چیزبھی مشاہدہ یا تجربہ میں ایسی نہیں آتی جس کی توجیہہ اس نظریہ سےنہ کی جاسکتی ہو- لہذا یہ ایک علمی نظریہ ہے- ''علمی نظریہ'' کی جوتعریف بھی کی جائےوہ اس پرصادق آتی ہے-

پھرکوئی مشاہدہ یا تجربہ آج تک ایسا نہیں ہوا، جس سےیہ نظریہ ٹوٹ جاتاہو- لہذا یہ اپنی جگہ پرقائم ہے- ٹوٹےہوئےنظریات میں اس کوشمارنہیں کیا جاسکتا-(1)

پھرنظام عالم کاجومشاہدہ ہم کرتےہیں اس سےیہ نظریہ نہایت اغلب ( ) نظرآتاہے- کائنات میں جو زبردست تنظیم پائی جاتی ہےاس کودیکھ کریہ کہنا زیادہ قرین دانش ہےکہ اس کا کوئی ناظم ہے، یہ نسبت اس کےکہ کوئی ناظم نہیں ہے- اسی طرح اس تنظیم کودیکھ کریہ نتیجہ نکالنا زیادہ معقول ہےکہ یہ مرکزی نظام ہےاورایک ہی مختارکل اس کا ناظم



ہے، یہ نسب اس کےکہ یہ لامرکزی نظام ہےاوربہت سےناظموں کےماتحت چل رہا ہے- اسی طرح جو حکمت کی شان اس کائنات کےنظام میں علانیہ محسوس ہوتی ہےاسےدیکھ کریہ رائےقائم کرنازیادہ قریب ازعقل ہے کہ حکیمانہ اوربامقصد نظام ہے، بہ نسبت اس کےکہ بےمقصد ہےاورمحض بچےکاکھیل ہے- پھرجب ہم اس حیثیت پرغورکرتےہیں کہ اگرواقعی یہ نظام کائنات ایک سلطنت ہےاورانسان اس نظام کاایک جزہےتویہ بات ہم کوسراسرمعقول معلوم ہوتی ہےکہ اس نظام میں انسان کی خومختاری وغیرہ ذمہ داری کےلیےکوئی جگہ نہ ہونی چاہیے- اس لحاظ سےیہ ہم کونہایت معقول نظریہ معلوم ہوتاہے-

پھرجب عملی نقطہ نظرسےہم دیکھتےہیں توبالکل ایک قابل عمل نظریہ ہے- زندگی کی ایک پوری اسکیم اپنی تمام تفصیلات کےساتھ اس نظریہ پربنتی ہے- فلسفہ اوراخلاق کےلیے، علوم وفنون کے لیے، صلح وجنگ اوربین الاقوامی تعلقات کےلیے، غرض زندگی کےہرپہلواورہرضرورت کےلیےیہ ایک مستقل بنیاد فراہم کرتاہےاورکسی شعبہ زندگی میں بھی انسان کواپنا رویہ متعین کرنےکےلیےاس نظریہ سےباہرجانے کی ضرورت پیش نہیں آتی-

اب ہمیں صرف یہ دیکھنا باقی رہ گیا ہےکہ اس نظریےسےدنیا کی زندگی میں کس قسم کا رویہ بنتا ہےاوراس کےنتائج کیا ہیں؟

انفرادی زندگی میں یہ نظریہ دوسرےجاہلی نظریات کےبرعکس ایک نہایت ذمہ دارانہ اورنہایت منضبط رویہ پیداکرتاہےاس نظریہ پرایمان لانےکےمعنی یہ ہیں کہ آدمی اپنےجسم اوراس کی طاقتوں اوردنیا اوراس کی کسی چیزکوبھی اپنی ملک سمجھ کرخودمختارانہ استعمال نہ کرےبلکہ خدا کی ملک سمجھ کرصرف اس قانون کی پابندی میں استعمال کرے- ہرچیزکوجواسےحاصل ہےخدا کی امانت سمجھےاوریہ سمجھتےہوئےاس میں تصرف کرےاورمجھےاس امانت کاپوراحساب دیناہےاورحساب بھی اس کودینا ہے، جس کی نظرسےمیراکوئی فعل بلکہ کوئی دل میں چھپا ہواارادہ تک پوشیدہ نہیں ہے- ظاہرہےکہ ایسا شخص ہرحال میں ایک ضابطہ کاپابند ہوگا- وہ خواہشات کی بندگی میں کبھی شتربےمہارنہیں بن سکتا- وہ ظالم اورخائن نہیں ہوسکتا- اس کی سیرت پرکامل اعتماد کیاجاسکتاہے- وہ ضابطہ کی پابندی کےلیےکسی خارجی دباؤ کامحتاج نہیں ہوتا- اس کےاپنے نفس میں ایک زبردست اخلاقی انضباط پیدا ہوجاتاہےجواسےان مواقع پربھی راستی اورحق رکھتاہےجہاں اسے کسی دنیوی طاقت کی بازپرس کا خطرہ نہیں ہوتایہ خدا کا خوف اورامانت کا احساس وہ چیزہےجس سےبڑھ کرسوسائٹی کوقابل اعتماد افراد فراہم کرنےکا کوئی دوسراذریعہ تصورمیں نہیں آسکتا-

مزید برآں یہ نظریہ آدمی کونہ صرف سعی وجہدکاآدمی بناتاہے، بلکہ اس کی سعی وجہاد کوخود غرضی، نفس پرستی، یا قوم پرستی کےبجائےحق پرستی اوربلند تراخلاقی مقاصد کی راہ پرلگادیتاہے- جو شخص اپنےمتعلق یہ رائےرکھتاہوکہ میں دنیا میں بیکارنہیں آیاہوں بلکہ خدا نےمجھےکام کرنےکےلیےیہاں بھیجاہے، اورمیری زندگی اپنےلیےیااپنےدوسرےمتعلقین کےلیےنہیں ہےبلکہ اس کام کےلیےہےجس میں خدا کی رضا ہو، اورمیں یونہی چھوڑانہیں جاؤں گا، بلکہ مجھ سےپوراحساب لیاجائےگاکہ میں نےاپنےوقت کااور اپنی قوتوں کاکتنا اورکس طرح استعمال کیا، ایسےشخص سےزیادہ کوشش کرنےوالا، نتیجہ خیزاورصحیح کوشش کرنےوالا آدمی اورکوئی نہیں ہوسکتا- لہذا یہ نظریہ ایک ایسےبہترافراد پیدا کرتاہےکہ ان سے بہتر انفرادی رویہ کاتصورکرنا مشکل ہے-

سب سےپہلےتویہ نظریہ انسانی اجتماع کی بنیاد بدل دیتاہے- اس نظریہ کی روسےتمام انسان خدا کی رعیت ہیں- رعیت ہونےکی حیثیت سےسب کےحقوق یکساں، سب کی حیثیت یکساں ، اورسب کےلیےمواقع یکساں – کسی شخص، کسی خاندان، کسی طبقہ، کسی قوم، کسی نسل کےلیےدوسرےانسانوں پرنہ کسی قسم کی برتری وفوقیت ہے، نہ امتیازی حقوق- اس طرح انسان پرانسان کی حاکمیت اورفضیلت کی جڑکٹ جاتی ہےاوروہ تمام خرابیاں یک لخت دورہوجاتی ہیں جوبادشاہی جاگیرداری، نوبرہمنیت وپایائیت اورآمریت سےپیدا ہوتی ہیں-

پھریہ چیزقبیلے، قوم، نسل، وطن اوررنگ کےتعصبات کابھی خاتمہ کردیتی ہے- جن کی بدولت دنیا میں سےزیادہ خون ریزیاں ہوئی ہیں- اس نظریہ کی روسےتمام روئےزمین خدا کاملک ہے- تمام انسان آدم کی اولاد اورخداکےبندےہیں، اورفضیلت کی بنیاد نسل ونسب، مال ودولت، یا رنگ کی سپیدی وسرخی پرنہیں بلکہ اخلاق کی پاکیزگی اورخدا کےخوف پرہے-جوسب سےزیادہ خدا سےڈرنےوالا اوراصلاح وتقوی پرعمل کرنےوالاہے، وہی سب سےافضل ہے-

اسی طرح انسان اورانسان کےدرمیان اجتماعی ربط وتعلق یافرق وامتیازکی بنا پربھی اس نظریہ میں کلیتہ تبدیلی کردی گئی ہے- انسان نےاپنی ایجاد سےجن چیزوں کواجتماع وافتراق کی بنا ٹھہرایاہے، وہ انسانیت کوبےشمارحصوں میں تقسیم کرتی ہیں اوران حصوں کےدرمیان ناقابل عبوردیواریں کھڑی کردیتی ہیں- کیونکہ نسل، یاوطن،یاقومیت، یا رنگ وہ چیزیں نہیں ہیں جن کوآدمی تبدیل کرسکتاہواورایک گروہ میں سےدوسرےگروہ میں جاسکتاہو- برعکس اس کےیہ نظریہ انسان اورانسان کےدرمیان اجتماع وافتراق کی بنا خدا کی بندگی اوراس کےقانون کی پیروی پررکھتاہے- جولوگ مخلوقات کی بندگی چھوڑکرخدا کی بندگی اختیارکرلیں اورخدا کےقانون کواپنی زندگی کاواحد قانون تسلیم کرلیں وہ سب ایک جماعت ہیں، اورجوایسا نہ کریں وہ دوسری جماعت – اس طرح تمام اختلافات مٹ کرصرف ایک اختلاف باقی رہ جاتاہےاوروہ اختلاف بھی قابل غورہے- کیونکہ ہروقت ایک شخص کےلیےممکن ہےکہ اپنا عقیدہ اورطرززندگی بدل دےاورایک جماعت سےدوسری جماعت میں چلاجائے- اس طرح اگردنیا میں کوئی عالمگیربین الاقوامی برادری بننی ممکن ہےتووہ اسی نظریےپربن سکتی ہے- دوسرےتمام نظریات انسانیت کوپھاڑنےوالےہیں، جمع کرنےوالےنہیں-

ان تمام اصلاحات کےبعد جوسوسائٹی اس نظریہ پربنتی ہےاس کی ذہنیت، اسپرٹ، اوراجتماعی تعمیربالکل بدلی ہوئی ہوتی ہے- اس میں اسٹسیٹ انسان کی حاکمیت پرنہیں بلکہ خدا کی حاکمیت پربنتا ہے-(1) حکومت خدا کی ہوتی ہے- قانون خدا کاہوتاہے-


(1) تفصیلات کےلیےملاخطہ ہومیری کتاب '' اسلام کانظریہ سیاسی'' مطبوعہ پبلیکشنزلمٹیڈ لاہور


انسان صرف خدا کےایجنٹ کی حیثیت سےکام کرتاہے- یہ چیزاول توان ساری خرابیوں کودورکردیتی ہےجو انسان کی حکومت اورانسان کی قانون سازی سےپیدا ہوتی ہیں- پھرایک عظیم الشان فرق جو اس نظریہ پر اسٹیٹ بننےسےواقع ہوجاتاہےوہ یہ ہےکہ اسٹیٹ کےپورےنظام میں عبادت اورتقوی کی اسپرٹ پھیل جاتی ہے- راعی اوررعیت دونوں یہ سمجھتےہیں کہ ہم خدا کی حکومت میں ہیں اورہمارامعاملہ براہ راست اس خدا سےہےجوعالم الغیب و الشہادہ ہے- ٹیکس دینےوالا یہ سمجھ کرٹیکس دیتاہےکہوہ خدا کوٹیکس دےرہاہے، اورٹیکس لینےوالےاوراس ٹیکس کوخرچ کرنےوالےیہ سمجھتےہوئےکام کرتےہیں کہ یہ مال خدا کا مال ہےاورہم امین کی حیثیت سےکام کررہےہیں ایک سپاہی سےلےکرایک جج اورگورنرتک ہرکارندہ حکومت اپنی ڈیوٹی اسی ذہنیت کےساتھ انجام دیتاہےجس ذہنیت کےساتھ وہ نمازپڑھتاہےدونوں کام اس کےلیےیکساں عبادت ہیں اوردونوں میں وہی ایک تقوی اورخشیت کی روح درکارہے- باشندےاپنےانندرسےجن لوگوں کوخدا کی نیابت کاکام انجام دینےکےلیےچنتےہیں ان میں سب سےپہلےجوصفت تلاش کی جاتی ہےوہ خوف خدا اورامانت وصاقت کی صفت ہےاس طرح سطح پروہ لوگ ابھرکرانتےہیں اوراختیارات ان کےہاتھوں میں دئیےجاتےہیں جوسوسائٹی میں سب سےبہتراخلاق کےحامل ہوتےہیں-

تمدن معاشرت میں بھی یہ نظریہ تقوی اورطہارت اخلاق کی یہی اسپرٹ پھیلا دیتاہےاس میں نفس پرستی کےبجائےخداپرستی ہوتی ہے، ہرایک انسان اوردوسرےانسان کےدرمیان خدا کا واسطہ حائل ہوتاہے، اورخدا کاقانون دونوں کےتعلقات کومنضبط کرتاہے- یہ قانون چونکہ اس نےبنایا ہےجوتمام نفسانی خواہشات اورذاتی اغراض سےپاک ہے، اورعلیم وحکیم بھی ہےاس لیےاس میں فتنےکاہردروازہ اورظلم کاہر راستہ بندکیا گیا ہےاورانسانی فطرت کےہرپہلواوراس کی ہرضرورت کی رعایت کی گئی ہے-

یہاں اتنا موقع نہیں کہ میں اس پوری اجتماعی عمارت کانقشہ پیش کروں جواس نظریہ پربنتی ہے مگرجوکچھ میں نےبیان کیا ہےاس سےآپ اندازہ کرسکتےہیں کہ پیغمبروں نےجونظریہ کائنات وانسان پیش کیا ہےوہ کس قسم کارویہ پیدا کرتاہےاوراس کےنتائج کیا ہیں اورکیا ہوسکتےہیں پھریہ بات بھی نہیں کہ یہ محض کاغذ پرایک خیالی نقشہ ہو- بلکہ تاریخ میں اس نظریہ پرایک اجتماعی نظام اور ایک اسٹیٹ بنا کردکھایاجاچکاہےاورتاریخ شاہد ہےکہ جیسےافراداس نظریہ پرتیارکیےگئےتھےنہ اس سےبہترافراد کبھی روئےزمین پرپائےگئےاورنہ اسٹیٹ سےبڑھ کرکوئی اسٹیٹ انسان کےلیےرحمت ثابت ہوا- اس کےافراد میں اپنی اخلاقی ذمہ داری کا احساس اتنا بڑھ گیا تھا کہ ایک صحرائی عورت کوزنا سے حمل ہوجات اہے- وہ جانتی ہےکہ میرےلیےاس جرم کی سزا سنگ ساری جیسی ہولناک سزاہے،مگروہ خودچل کرآتی ہےاور دراخوست کرتی ہےکہ اس پرسزانافذ کی جائے- اس کہا جاتاہےکہ وضع حمل کےبعد آئیو، اوربغیرکسی مچلکہ وضمانت کےاسےچھوڑدیاجاتاہے- وضع حمل کےبعد وہ پھرصحرا سےآتی ہےاورسزادئیےجانےکی دراخوست کرتی ہے- اس سےکہا جاتاہےکہ بچہ کودودھ پلانےکی مدت ختم ہوجائےتب آئیو- پھروہ صحرا کی طرف واپس چلی جاتی ہےاورکوئی پولیس کی نگرانی اس پرنہیں ہوتی- رضاعت کی مدت ختم ہونےکےبعد وہ پھرآ کرالتجا کرتی ہےکہ اب اسےسزادےکراس گناہ سےپاک کردیاجائےجواس سےسرزدہوچکا ہے- چنانچہ اسےسنگسارکیا جاتاہےاورجب وہ مرجاتی ہےتواس کےلیےدعائےرحمت کی جاتی ہے، اورجب ایک شخص کی زبان سےاس کےحق میں اتفاقایہ کلمہ نکل جاتاہےکہ کیسی بےحیاء عورت تھی توجواب میں فرمایا جاتاہےکہ''خدا کی قسم ! اس نےایسی توبہ کی تھی کہ اگرناجائزمحصول لینےوالا بھی ایسی توبہ کرتاتوبخش دیاجاتا-'' یہ تواس سوسائٹی کے افراد کاحال تھا اوراس اسٹیٹ کاحال یہ تھا کہ جس حکومت کی آمدنی کروڑوں روپےتک پہنچی ہوئی تھی اورجس کےخزانےایران وشام و مصرکی دولت سےمعمورہورہےتھے، اس کا صدرصرف ڈیڑھ سوروپیہ مہینہ تنخواہ لیتا تھا ، اوراس کےشہریوں میں ڈھونڈےسےبھی بمشکل کوئی ایسا شخص ملتاتھا جوخیرات لینےکا مستحق ہو-

اس تجربہ کےبعد بھی اگرکسی شخص کویہ اطمینان حاصل نہ ہوکہ انبیاء نےنظام کائنات کی حقیقت اوراس میں انسان کی حیثیت کےمتعلق جونظریہ پیش کیا ہےوہ حق ہےتوایسےشخص کےاطمینان کےلیےکوئی دوسری صورت ممکن نہیں ہے- کیونکہ خدااورفرشتوں اورآخرت کی زندگی کا براہ راست عینی مشاہدہ تواسےبہرحال نہیں ہوسکتا- جہاں مشاہدہ ممکن نہ ہووہاں تجربےسےبڑھ کرصحت کاکوئی دوسرا معیارنہیں ہے- مثال کےطورپراگرایک طبیب بیمارکےاندرمشاہدہ کرکےیہ نہیں دیکھ سکتاکہ فی الواقع سسٹم میں کیا خرابی پیداہوگئی ہےجومختلف دوائیں دےکردیکھتاہے، اورجودوااس اندھیری کوٹھڑی میں ٹھیک نشانہ پرجا کربیٹھتی ہےاس کامرض کودورکردینا ہی اس بات پرقطعی دلیل ہوتاہےکہ سسٹم میں فی الواقع جوخرابی تھی یہ دوا اس کےعین مطابق تھی – اسی طرح جب انسانی زندگی کی کل کسی دوسرےنظریہ سےدرست نہیں ہوتی اورصرف انبیاء کےنظریہ ہی سےدرست ہوتی ہےتویہ بھی اس بات کی دلیل ہےکہ یہ نظریہ حقیقت کےمطابق ہے- فی الواقع کواپنےکارنامہ حیات دنیوی کاحساب دینا ہے-

ماخذ: اسلام اورجاہلیت

مصنف: مولاناابوالاعلی مودودی

پبلشرز: اسلامک پبلی کیشنز(پرائیویٹ) لمیٹیڈ

ایڈیشن:1

تاریخ اشاعت: Feb. 23, 1941

ریڈنگ کاؤنٹر: 23

ٹیگ: islam