April 1, 1976
ابتداہی میں ہی یہ وضاحت کردینا ضروری ہے، کہ ہمارےعقیدےکےمطابق اسلام کسی ایسےدین کا نام نہیں ہے، جسےپہلی مرتبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نےپیش کیا ہواوراس بنا پرآپ کوبانی اسلام کہنا صحیح ہو- قرآن اس امرکی پوری صراحت کرتاہےکہ خدا کی طرف سےنوع انسانی کےلیےہمیشہ ایک ہی دین بھیجا گیا ہے، اوروہ اسلام ، یعنی خدا کےآگےسراطاعت جھکادینا- دنیا کےمختلف حصوں اورمختلف قوموں میں جوانبیاعلیہم السلام بھی خدا کےبھیجےہوئےآئےتھے، وہ اپنےکسی الگ دین کےبانی نہیں تھےکہ ان میں سےکسی کےلائےہوئےدین کونوحیت ، اورکسی کےدین کوابراہیمیت یا موسویت، یا عیسائیت کہا جاسکے- بلکہ ہرآنےوالا نبی اسی ایک دین کوپیش کرتارہا جواس سےپہلےکےانبیا علیہم السلام پیش کرتےچلےآرہےتھے-
انبیاعلیہم السلام میں سےمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت دراصل یہ ہےکہ:
٭ وہ خدا کےآخری نبی ہیں-
٭ ان کےذریعےسےخدا نےاسی اصل دین کوپھرتازہ کردیاجو تمام انبیاء کا لایا ہوا تھا-
٭ اس میں جوآمیزشیں مختلف زمانوں کےلوگوں نےلےکرالگ الگ مذاہب ( ) بنالیےتھے، ان سب کو خدا نےچھانٹ کرالگ کردیا اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کےذریعےسےاصلی اورخلص اسلام کی تعلیم نوع انسانی کودی-
٭ ان کےبعد چونکہ خدا کوکوئی نبی بھیجنا نہیں تھا، اس لیےان کوجوکتاب اس نےدی اسےاس کی اصل زبان میں لفظ بلفظ محفوظ کردیا، تاکہ انسان ہرزمانےمیں اس سےہدایت حاصل کرسکے-
قرآن مجید کےمتعلق یہ امرہرشک وشبہ سےبالاترہےکہ یہ بلا کسی تغیروتبدل کےٹھیک وہی قرآن حمید ہے، جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نےپیش کیا تھا- اس کےنزول کےوقت ہی سےآنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کولکھواتےرہےتھے، اوریہ سلسلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک جاری رہا- اس مکمل قرآن مجید کوآپ صلی اللہ علیہ وسلم کےپہلےخلیفہ [حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ] نےایک کتاب کی شکل میں نقل کراکےمحفوظ کرلیا اورپھرتیسرےخلیفہ [حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ] نےاس کی نقلیں اسلامی دنیا کےتمام مراکزمیں بھیج دیں- اس وقت سےلےکرآج تک ہرملک اورہرصدی کےمکتوبہ اورمطبوعہ قرآن جمع کرکےدیکھ لیا جائے، ان میں کوئی فرق نہیں پایا جائےگا- اس کےعلاوہ نماز میں قرآن مجید پڑھنےکاحکم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کےپہلےہی دن سےدےدیا گیا تھا- اس لیےسیکڑوں صحابہ کرام راضون اللہ تعالی اجمعین نےپوراقرآن مجید اورتمام صحابہ کرام راضون اللہ تعالی اجمعین نےاس کا کوئی نہ کوئی حصہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں یاد کرلیا تھا-
اس وقت سےآج تک قرآن مجید کو لفظ بالفظ یاد کرنےاورہرسال رمضان کی تراویح میں پورا قرآن مجید زبانی سنانےکا سلسلہ پوری اسلامی دنیا میڑ رائج چلا آرہاہے، اورہرزمانےمیں لاکھوں حافظ موجود رہےہیں- دنیا کی کوئی مذہبی کتاب بھی اس طرح نہ تحریری شکل میں مکتوب اورنہ حافظوں میں محفوظ ہوئی ہےکہ اس کی صحت میں شک کا ادنی امکان تک نہ ہو- خود ان کی سیرت اورسنت کو صحابہ رضی اللہ عنہ اوربعد کےمحدثین نےایسےبےمثل طریقےسےمحفوظ کرلیا- جس سےزیادہ محفوظ طریقےسےکبھی کسی نبی یا کسی اورتاریخی شخصیت کےحالات زندگی اوراس کےاقوال و اعمال محفوظ نہیں کیےگئے-
مختصراوہ طریقہ یہ تھا کہ جوشخص بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرکےکوئی بات بیان کرتا، اسےلازما یہ بتانا پڑتاتھا کہ اس تک کن راویوں کےذریعے سےوہ بات پہنچی ہے، اورروایت کا یہ سلسلہ کسی ایسےشخص تک پہنچتا ہےیا نہیں، جس نےخود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےوہ بات سنی ہویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کووہ کام کرتےدیکھا ہو- پھرجن جن راویوں کےذریعےسےیہ روایات بعد کےلوگوں تک پہنچیں،، ان کےحالات کی جانچ پڑتال کی گئی، تاکہ یہ معلوم کیا جاسکےکہ ان کی بیان کی ہوئی روایات قابل اعتماد ہیں یا نہیں- اس طرح احادیث کےمجموعےتیارکیےگئے، جن کےمرتب کرنےوالوں نےہرحدیث کےراویوں کا پورا سلسلہ درج کردیا، اوراس کےساتھ راویوں کےحالات پربھی کتابیں لکھ دی گئیں- جن کی مدد سےآج بھی ہم یہ تحقیق کرسکتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کیسی تھی اورانہوں نےاپنےقول وعمل سےلوگوں کوکیا تعلیم دی تھی- اس طرح قرآن مجید اوراس کےلانےوالےنبی کی مستند سیرت وسنت ، دونوں باہم مل کرہمیشہ کےلیےیہ معلوم کرنےکا قابل اعتماد ذریعہ بن گئےہیں، کہ خدا کادین دراصل کیا ہے، کیا رہنمائی وہ ہمیں دیتاہے، اورہم سےکیا چاہتا ہے؟
اگرچہ ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سےپہلےکےتمام انبیاء پرایمان رکھتےہیں- ان پربھی جن کا ذکرقرآن میں آیا ہےاوران پربھی جن کا ذکرقرآن مجید میں نہیں آیا- اوریہ ایمان ہمارےعقیدےکا ایسا لازمی حصہ ہےجس کےبغیرہم مسلمان نہیں ہوسکتے- لیکن ہدایت حاصل کرنےکےلیےہم صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرف رجوع کرتےہیں- یہ کسی تعصب کی بنا پرنہیں ہے- دراصل اس کی وجہ یہ ہےکہ
٭ وہ آخری نبی ہیں، اس لیےان کی لائی ہوئی تعلیم خدا کی طرف سےجدید ترین ہدایت
ہے-
٭ ان کےذریعےسےجوکلام اللہ ہم کو پہنچا ہے، وہ خالص اللہ کا کلام ہے- جس کےساتھ کسی انسانی کلام کی آمیزش نہیں ہوئی ہے- وہ اپنی اصل زبان میں محفوظ ہے، اس کی زبان ایک زندہ زبان ہے، جسےآج بھی کروڑوں انسان بولتے، لکھتےاورسمجھتےہیں، اوراس زبان کی گرامر، لغت، محورے، تلفظ اور املا میں نزول قرآن کےزمانےسےاب تک کوئی تغیرنہیں آیا ہے، اور
٭ جیساکہ ابھی میں بیان کرچکا ہوں ان کی سیرت ، اخلاق، کردار، اقوال اوراعمال کےمتعلق پورا تاریخی ریکارڈ زیادہ سےزیادہ ممکن صحت ، اورزیادہ سےزیادہ ممکن تفصیلات کےساتھ محفوظ ہے- یہ بات چوں کہ دوسرےانبیاء پرصادق نہیں آتی، اس لیےہم ان پرصرف ایمان رکھ سکتےہیں، عملا ان کی پیروی نہیں کرسکتے-
ہمارےعقیدےکےمطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت دنیا کےلیےاورہرزمانےکےلیے ہے-اس لیےکہ
٭ قرآن مجید اس کی صراحت کرتاہے-
٭ یہ ان کےآخری نبی ہونےکا منطقی تقاضا ہے، کیونکہ دنیا میں ایک نبی کےآخری نبی ہونےسےخود بخود یہ لازم آتاہےکہ وہ تمام انسانوں کےلیےاوراپنےبعد آنےوالےہرزمانےکےلیےہادی ورہبرہو-
٭ ان کےذریعےسےوہ ہدایت مکمل طورپردےدی گئی ہے، جوراہ راست پرچلنےکےلیےانسان کودرکارہے، اوریہ بھی ان آخری نبی ہونےکا منطقی نتیجہ ہے-
٭ اوریہ ایک امرواقعہ ہےکہ ان کےبعد پچھلےچودہ سوسال میں کوئی ایسی شخصیت نہیں
آئی ہےجوخدا کی طرف سےنبی ہونےکا دعوی کرنےساتھ اپنی سیرت وکرداراوراپنےکام اورکلام میں انبیاء سےکوئی ادنی درجےکی بھی مشابہت رکھتی ہو، جس نےحامل وحی ہونےکا دعوی کرکےکوئی ایسی کتاب پیش کی ہوجوخدائی کلام سےبرائےنام بھی کوئی مناسبت رکھتی ہو، اورجسےشریعت دینےوالا نبی کہا جاسکتا ہو-
گفتگو کےاس مرحلےپریہ جان لینا بھی ضروری ہےکہ خدا کی طرف سےانسان کو کس خاص علم کی ضرورت ہے، جوصرف انبیاء علیہم السلام ہی کےذریعےسےدیاگیا ہے؟
دنیا میں ایک قسم کی چیزیں وہ ہیں، جنھیں ہم اپنےحواس کےذریعےسےمحسوس کرسکتےہیں یا اپنےفنی آلات سےکام لےکران کاادراک کرسکتےہیں اوران ذرائع سےحاصل ہونےوالی معلومات کومشاہدایت وتجربات اورفکرواستدالال کی مدد سےمرتب کرکےنئےنئےنتائج تک پہنچ سکتےہیں- اس نوعیت کی اشیاء کاعلم خدا کی طرف سےآنےکی کوئی ضرورت نہیں ہے- یہ ہماری اپنی تلاش وجستجو،غوروفکراورتحقیق واکتشاف کادائرہ ہے- اگرچہ اس معاملےمیں بھی ہمارےخالق نےہمارا ساتھ بالکل چھوڑنہیں دیا ہے- تاریخ دوران میں وہ غیرمحسوس طریقےسےایک تدریج کےساتھ اپنی پیدا کی ہوئی دنیا سےہمارا تعارف کراتاہے- علم اورواقفیت کےدروازےہم پرکھولتا رہاہےاوروقتا فوقتا الہامی طورپرکسی نہ کسی انسان کو ایسی کوئی بات سمجھاتا رہاہے، جس سےوہ کوئی نئی ایجاد ، یا کوئی نیا قانون فطرت دریافت کرنےپرقادرہوسکاہے- لیکن فی الجملہ ہےیہ انسانی علم ہی کادائرہ ، جس کےلیے خدا کی طرف سےکسی نبی اورکتاب کےآنےکی حاجت نہیں ہے- اس دائرےمیں جو معلومات مطلوب ہیں انھیں حاصل کرنےکےذرائع انسان کودےدیےگئےہیں-
دوسری قسم کی چیزیں وہ ہیں جوہمارےحواس اورہمارےفنی آلات کی پہنچ سےبالاترہیں- جنھیں نہ ہم تول سکتےہیں، نہ ناپ سکتےہیں، نہ اپنےذرائع علم میں کوئی ذریعہ استعمال کرکےان کےمتعلق وہ واقفیت بہم پہنچاسکتےہیں، جسے، ''علم'' کہا جاسکتاہو- فلسفی اورسائنس دان ان کےبارےمیں اگرکوئی رائےقائم کرتےہیں، تووہ محض قیاس اورظن و تخمین ہے، جسےعلم نہیں کہا جاسکتا- یہ آخری حقیقتیں ہیں، جن کےمتعلق استدالی نظریات کوخود وہ لوگ بھی یقینی قرارنہیں دےسکتےجہنوں نےان نظریات کوپیش کیا ہے- اگروہ اپنےعلم کےحدود کوجانتےہوں تونہ ان پرخود ایمان لاسکتےہیں نہ کسی کوایمان لانےکی دعوت دےسکتےہیں-
یہی وہ دائرہ ہےجس میں انسان حقیقت کوجاننےکےلیےخالق کائنات کےدیےہوئےعلم کا محتاج ہے- اورخالق نےیہ علم کبھی اس طرح نہیں دیا ہےکہ کوئی کتاب چھاپ کرایک ایک آدمی کےہاتھ میں دےدی ہو، اوراس سےکہا ہوکہ اسےپڑھ کرخود معلوم کرلےکہ کائنات کی اورخود تیری حقیقت کیا ہے، اوراس حقیقت کےلحاظ سےدنیا کی زندگی میں تیرا طرزعمل کیا ہونا چاہیے؟ اس علم کوانسانوں تک پہنچانےکےلیےاس نےہمیشہ انبیاء کو ذریعہ بنایا ہے، وحی کےذریعےسےان کوحقائق سےآگاہ کیا ہےاورانہیں اس کام پرمامورکیا ہےکہ یہ علم لوگوں تک پہنچادیں-
نبی کاکام صرف اتنا ہی نہیں ہےکہ وہ بس حقیقت کا علم لوگوں تک پہنچا دے- بلکہ اس کا کام یہ بتانا بھی ہےکہ اس علم کےمطابق خدا اورانسان کےدرمیان، اورانسان اورانسان کےدرمیان کیا تعلق فی الحقیقت ہےاورکیا تعلق عملا ہونا چاہیے- یہ علم کن عقائدکا، کن عبادات کا، کن اخلاقیات کا، اورکن اصول تہذیب و تمدن کا تقاضا کرتاہے، اوراس علم کی روسےمعاشرت ، معیشت، مالیات، سیاست ،عدالت صلح و جنگ ، بین الاقوامی تعلقات ،غرض زندگی کےہرشعبےکی تشکیل کن اصولوں پرہونی چاہیے- نبی صرف ایک نظام عبادات ورسوم لےکرنہیں آتا، جسےدنیا کی اصطلاح میں مذہب کہا جاتاہے، بلکہ وہ ایک پورا نظام زندگی لےکرآتا ہےجس کا نام اسلام کی اصطلاح میں دین ہے-
پھریہ بھی نہیں ہےکہ نبی کا مشن صرف دین کا علم پہنچانےتک ہی محدود ہو- بلکہ اس کا مشن یہ بھی ہےکہ جو لوگ اس کےپیش کردہ دین کوقبول کرکےمسلم بن جائیں انھیں وہ دین سمجھائے، اس کےعقائد، اخلاقیات، عبادات ، قانونی احکام اورمجموعی نظام حیات سےان کوآگاہ کرے- ان کےسامنےخود کو ایک نمونےکا مسلمان بن کردکھائے، تاکہ وہ اپنی زندگی میں اس کی پیروی کرسکیں، انھیں انفرادی اوراجتماعی تربیت دےکرایک صحیح اسلامی تہذیب وتمدن کےلیےعملا تیارکرے، اوران کومنظم کرکےایک ایسی جماعت بنا دےجودنیا میں خدا کےدین کو بالفعل قائم کرنےکی جدوجہد کرے- یہاں تک کہ خدا کا کلمہ بلند ہوجائےاوردوسرےکلمے پست ہوکررہ جائیں-
ضروری نہیں ہےکہ سب نبی اپنےمشن کوکامیابی کےآخری مراحل تک پہنچانےمیں کامیاب ہی ہوگئےہوں- بہت سےانبیاء ایسےہیں جواپنےکسی قصورکی بنا پرنہیں، بلکہ متعصب لوگوں کی مزاحمت اورحالات کی نامساعدت کےباعث اس میں ناکام ہوگئے- لیکن بہرحال تمام انبیاء علیہم السلام کا مشن تھا یہی- البتہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ خصوصیت تاریخ میں نمایاں ہےکہ انہوں نےخدا کی پادشاہی زمین میں اسی طرح قائم کرکےدکھا دی جیسی وہ آسمان میں ہے-
قرآن مجید اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم نےآغازہی سےاپنا خطاب یا توتمام انسانوں کےلیےعام رکھا ہے، یا پھرانسانوں میں سےجوبھی اسلام کی دعوت کوقبول کرلیں ان کومومن ہونےکی حیثیت سےمخاطب کیا ہے- قرآن مجید کواول سےلےکرآخرتک دیکھ جائیے، اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریروں اورگفتگوؤں کےپورےریکارڈ کی بھی چھان بین کرلیجیے- آپ کہیں یہ نہ دیکھیں گےکہ اس کتاب نےاوراس کےلانےوالے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےکسی خاص ملک یا قوم یا نسل یا رنگ یا طبقےکےلوگوں کو، یا کسی خاص زبان کےبولنےوالوں کوپکارا ہو- ہرجگہ یا تو: یا نبی آدم ، اےاولاد آدم ، یا ایھاالناس ، اےانسانو، کہہ کرپوری نوع انسانی کواسلام قبول کرنےکی دعوت دی گئی ہے، یا پھراسلام قبول کرنےوالوں کواحکام اورہدایات دینےکےلیے یا ایھا الذین امنوا، اےلوگوجوایمان لائےہو، کہہ کرمخاطب کیا گیا ہے-
اس سےخود بخود یہ بات واضح ہوجاتی ہےکہ اسلام کی دعوت عالم گیرہے، اورجوانسان بھی اس دعوت کوقبول کرلیں وہ بالکل برابرکےحقوق کےساتھ یکساں حیثیت میں مومنہیں- قرآن کہتاہے: '' اہل ایمان توایک دوسرےکےبھائی ہیں''- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتےہیں کہ : جولوگ بھی اسلام کےعقائد قبول کرلیں اورمسلمانوں کا ساطرزعمل اختیار کرلیں، ان کےحقوق وہی ہیں جو ہمارےحقوق ہیں اوران کےواجبات بھی وہی ہیں جوہمارےواجبات ہیں- اس سےبھی زیادہ صراحت کےساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:
اسلام کی بنیاد جن عقائد پرہےان میں سب سےمقدم اورسب سےاہم خدائے واحد پرایمان ہے- صرف اس بات پرنہیں کہ خدا موجود ہے: اورصرف اس بات پربھی نہیں کہ وہ ایک ہے، بلکہ اس بات پرکہ وہی تنہا اس کائنات کا خالق ، مالک ، حاکماورمدبرہے- اسی کےقائم رکھنےسےیہ کائنات قائم ہے، اسی کےچلانےسےیہ چل رہی ہےاوراس کی ہرچیزکواپنےقیام وبقا کےلیےجس رزقیا قوت کی ضرورت ہے، اس کا فراہم کرنےوالا وہی ہے- حاکمیت کی تمام صفات صرف اسی میں پائی جاتی ہیں اورکوئی ان میں ذرہ برابربھی اس کےساتھ شریک نہیں ہے- خداوندی الوہیت کی جملہ صفات کا بھی صرف وہی حامل ہے، اوران میں سےکوئی صفت اس کی ذات کےسوا کسی کوحاصل نہیں-
پوری کائنات کواوراس کی ایک ایک چیزکووہ بیک نظردیکھ رہا ہے- کائنات اوراس کی ہرشےکووہ براہ راست جانتاہے- نہ صرف اس کےحال کو بلکہ اس کےماضی اورمستقبل کوبھی- یہ نگاہ ہمہ بیں اوریہ جامع علم غیب اس کےسوا کسی کوحاصل نہیں – وہ ہمیشہ سےہےاورہمیشہ رہےگا – اس کےسوا سب فانی ہیں اوراپنی ذات سےخودزندہ وباقی صرف وہی ہے- وہ نہ کسی کی اولاد ہےاورنہ کوئی اس کی اولاد- اس کی ذات کےسوا دنیا میں جوبھی ہےوہ اس کی مخلوق ہےاوردنیا میں کسی کی بھی یہ حیثیت نہیں ہےکہ اس کوکسی معنی میں بھی رب کائنات کا ہم جنس یا اس کا بیٹا یا بیٹی کہا جاسکے- وہی انسان کا حقیقی معبود ہے، کسی کوعبادت میں اس کا شریک کرنا سب سےبڑا گناہ اورسب سےبڑی بےوفائی ہے- وہی انسان کی دعائیں سننےوالاہےاورانھیں قبول کرنےیا نہ کرنےکےاختیارات وہی رکھتا ہے-
اس سےدعا مانگنا بےجا غرورہے، اس کےسوا کسی اورسےدعامانگنا جہالت ہے، اوراس کےساتھ دوسروں سےبھی دعامانگنا خدائی میں غیرخدا کوخدا کےساتھ شریک ٹھیرانا ہے-
اسلام کی رو سےخدا کی حاکمیت صرف فوق الفطری ہی نہیں، بلکہ سیاسی اورقانونی بھی ہےاوراس حاکمیت میں بھی کوئی اس کا شریک نہیں- اس کی زمین پر، اوراس کےپیدا کیےہوئےبندوں پراس کےسوا کسی کوحکم چلانےکااختیارنہیں ہے، خواہ وہ کوئی بادشاہ ہو، یا شاہی خاندان ہو، یا حکمران طبقہ ہویا کوئی ایسی جمہوریت ہوجوحاکمیت عوام کی قائل ہو-
اس کےمقابلےمیں جوخودمختاربنا ہےوہ بھی باغی ہے، اورجو اس کوچھوڑکرکسی دوسرےکی اطاعت کرتاہےوہ بھی باغی – اورایسا ہی باغی وہ شخص یا ادارہ ہےجو سیاسی وقانونی حاکمیت کواپنےلیےمخصوص کرکےخدا کےحدود اختیارکوشخصی قانون (پرسنل لا) یا مذہبی احکام وہدایات تک محدود کرتاہے- فی الحقیقت اپنی زمین پرپیدا کیےہوئےانسانوں کےلیےشریعت دینےوالااس کےسوانہ کوئی ہے، نہ ہوسکتاہے، اورنہ کسی کویہ حق پہنچتا ہےکہ اس کےاقتداراعلی (سپریم اتھارٹی) کوچیلنج کرے-
اسلام کےاس تصورخدا کی روسےچندباتیں فطری طورپرلازم آتی ہیں:
٭ خدا ہی اکیلا انسان کا حقیقی معبود (یا بالفظ دیگرمستحق عبادت ) ہے، جس کےسواکسی
اورکی یہ حیثیت ہی نہیں کہ انسان اس کی عبادت کرے-
٭ وہی اکیلا کائنات کی تمام قوتوں کاحاکم ہےاورانسان کی دعاؤں کاپورا کرنا یا نہ کرنابالکل اس کےاختیار میں ہے، اس لیےانسان کوصرف اسی سےدعامانگنی چاہیےاورکسی کےمتعلق یہ گمان تک نہ کرنا چاہیےکہ اس سےبھی دعا مانگی جاسکتی ہے-
٭ وہی اکیلا انسان کی قسمت کامالک ہے، اورکسی دوسرےمیں یہ قدرت نہیں ہےکہ وہ انسان کی قسمت بنا سکےیا بگاڑسکے- اس لیےانسان کی امید اوراس کےخوف ، دونوں کا مرجع بھی لازما وہی ہے- اس کےسوا نہ کسی سےامیدیں وابستہ کرنی چاہییں، نہ کسی سےڈرنا چاہیے-
٭ وہی اکیلا ، انسان اوراس کےگردوپیش کی دنیا کاخالق ومالک ہے، اس لیےانسان کی حقیقت اورتمام دنیا کےحقائق کابراہ راست اورکامل علم صرف اسی کوہےاورہوسکتاہے- پس وہی، زندگی کی پرپیچ راہوں میں انسان کوصحیح ہدایت اورصحیح قانون حیات دےسکتاہے-
٭ پھرچونکہ انسان کا خالق ومالک وہ ہےاوروہی اس زمین کامالک ہےجس میں انسان رہتاہے- اس لیےانسانوں پرکسی دوسرےکی حاکمیت یاخود اپنی حاکمیت سراسرکفرہے- اوراسی طرح انسان کا خود اپنا قانون سازبننا، یا کسی اورشخص یا اشخاص یا اداروں کےاختیارقانون سازی کوماننا بھی یہی نوعیت رکھتاہے- اپنی زمین پراپنی مخلوق کا حاکم اورقانون سازحتما صرف وہی ہوسکتاہے-
٭ اقتداراعلی کاحقیقی مالک ہونےکی حیثیت سےاس کاقانون درحقیقت بالاترقانون(سپریم لا) ہےاورانسان کےلیےقانون سازی کااختیار صرف اسی حدتک ہے، جس حد تک وہ اس بالاترقانون کےتحت اوراس سےماخوذ ہے، یا اس کی دی ہوئی اجازتوں پرمبنی ہے-
اس مراحلےپرہمارےسامنےاسلام کا دوسرا اہم ترین بنیادی عقیدہ آتاہے، اوروہ وہ عقیدہ رسالت- رسول وہ شخص ہےجس کےذریعےسےاللہ تعالی اپناقانون انسان کودیتاہے، اوریہ قانون ہم کورسول سےدوصورتوں میں ملتاہے:
٭ ایک، کلام اللہ، جولفظ بلفظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرنازل کیاگیا ہے، یعنی قرآن مجید-
٭ دوسرےوہ اقوال اوراعمال، اوراحکام امرونہی جورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنےپیروؤں کوخدا کی ہدایت کےتحت دیے، یعنی سنت-
اس عقیدے کی اہمیت یہ ہےکہ اگریہ نہ ہوتوخدا پرایمان محض ایک نظری فکروخیال بن کررہ جاتاہے- مثلا جوچیزخدا پرستی کےعقیدےکوایک تہذیب، ایک تمدن اورایک نظام حیات کی شکل میں ڈھالتی ہے، وہ رسول کی فکری اورعملی رہنمائی ہے- اسی کےذریعےسےہمیں قانون ملتاہےاوروہی اس قانون کےمنشا کےمطابق زندگی کا نظام قائم کرتاہے- اسی لیےتوحید کےبعد رسالت پر ایمان لائےبغیرکوئی شخص عملا مسلم نہیں ہوسکتا-
اسلام میں رسول کی حیثیت اس طرح واضح طورپربیان کی گئی ہے، کہ ہم ٹھیک ٹھیک یہ بھی جان سکتےہیں کہ رسول کیا ہے؟ اوریہ بھی کہ وہ کیا نہیں ہے-
رسول لوگوں کواپنا نہیں بلکہ اللہ کا بندہ بنانےکےلیےآتاہے، اوروہ خود بھی اپنےآپ کو اللہ کا بندہ ہی کہتا ہے- نماز میں ہرروز کم از کم 17 مرتبہ جوکلمہ شہادت پڑھنےکی تعلیم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نےمسلمانوں کودی ہے، اس میں وہ فقرہ لازما پڑھا جاتاہےکہ اشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ ، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کےبندےاوررسول ہیں-
قرآن مجید اس معاملےمیں کسی ادنی اشتباہ کی گنجائش بھی نہیں چھوڑتاکہ رسول ایک انسان ہےاورخدائی میں اس کاذرہ برابربھی حصہ نہیں ہے- وہ نہ بشری [تقاضوں] ( یعنی آرام کی ضرورت ، بھوک، پیاس، خوشی اوررنج کےاسباب) سےبالاترہے- نہ عالم الغیب ہےکہ اس کوخدا کی طرح سب کچھ معلوم ہو- اس کا کام پیغام پہنچادینا ہے، اس کےاختیار میں کسی کوراہ راست پرلےآنا نہیں ہے، نہ انکار کرنےوالوں کامحاسبہ کرنا اوران پرعذاب نازل کردینا اس کےاختیار میں ہے- محمد صلی اللہ علیہ وسلم رسولوں میں سےایک ہیں، رسالت سےبالاترکسی حیثیت کےمالک نہیں ہیں- وہ اپنےاختیارسے
کسی چیز کوحلال اورکسی کوحرام کرنے، یا بالفاظ دیگرخدا کےاذن کےبغیرخود قانون سازبن جانےکےمجاز نہیں ہیں- ان کا کام اس وحی کااتباع کرنا ہےجو ان پرخدا کی طرف سےنازل ہو-
اس طرح اسلام نےان تمام مبالغوں سےنوع انسانی کوبچالیا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سےپہلے آنےوالےانبیاء کےپیروؤں نےاپنےپیشواؤں کےحق میں کیےتھےحتی کہ ان کوخدا، یا اس کا ہم جنس ، یا اس کی اولاد، یا اس کا اوتارتک بنا ڈالا تھا- اس طرح کےتمام مبالغوں کی نفی کرکےاسلام نےرسول کی جو اصل حیثیت بیان کی ہےوہ یہ ہے-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرایمان لائےبغیرکوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا- جوشخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتاہےوہ دراصل اللہ کی اطاعت کرتاہےکیونکہ اللہ نےجورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی بھیجاہےاسی لیےبھیجاہےکہ اس کی اطاعت کی جائے- ہدایت وہی پاسکتاہےجورسول کی اطاعت کرے- رسول جوحکم دےاسےقبول کرناچاہیےاورجس سےمنع کرےاس سےرک جانا چاہیے- ( اس امرکی وضاحت خود محمد صلی اللہ علیہ وسلم نےاس طرح فرمائی ہےکہ: ''میں ایک بشرہی ہوں- جو حکم میں تمھارےدین کےمعاملےمیں دوں اس کی پیروی کرواورجوبات اپنی رائےسےکہوں تومیں بھی ایک بشرہوں- اپنی دنیا کےمعاملات کوتم زیادہ جانتےہو'' –(مسلم ، کتاب 43، حدیث 139تا141- مسند احمد، ج اول ، ص 162،ج ثالث ، ص152)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت دراصل قرآن مجید کےمنشاء کی تشریح ہےاوریہ
تشریح قرآن مجید کےمصنف ، یعنی اللہ تعالی نےان کوخود سکھائی تھی- اس لیےان کی تشریح اپنےپیچھے خدائی سندرکھتی ہے، جس سےہٹ کرکوئی شخص قرآن مجید کی کوئی تشریح بطورخود کرنےکامجازنہیں ہے- اللہ تعالی نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کونمونےکی زندگی قراردیا ہے- کوئی شخص ، مومن نہیں ہوسکتاجب تک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےفیصلےکوتسلیم نہ کرے- مسلمانوں کا یہ کام نہیں ہےکہ جس معاملےکا فیصلہ خدا اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےکردیاہواس میں وہ خود کوئی فیصلہ کرنےکےمجاز ہوں- بلکہ مسلمانوں کا یہ کام بھی نہیں ہےکہ کسی پیش آمدہ معاملےمیں کوئی فیصلہ کرنےسےپہلےیہ نہ دیکھ لیں کہ اللہ اوراس کےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاحکم اس معاملےمیں کیا ہے-؟
مذکورہ بالابیان سےیہ بات واضح ہوجاتی ہےکہ اللہ تعالی نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےذریعےسےانسان کوصرف ایک بالاترقانون ہی نہیں دیا ہےبلکہ مستقل اقداربھی دی ہیں- قرآن مجید اورسنت میں جس چیز کوخیرقراردیاگیا ہےوہ ہمیشہ کےلیےخیرہے، جس چیزکوشرکہا گیا ہےوہ ہمیشہ کےلیےشرہے، جوچیزفرض کی گئی ہےوہ ہمیشہ کےلیےفرض ہے، جس چیزکوحلال ٹھیرایاگیا ہےوہ ہمیشہ کےلیےحلال ہے، اورجس چیز کوحرام کہا گیاہے وہ ہمیشہ حرام ہے- اس قانون میں کسی قسم کی ترمیم، یا حذف واضافہ ، یا تنسیخ کا اختیار کسی کوحاصل نہیں ہے- الا یہ کہ کوئی شخص ، یا گروہ یا قوم اسلام ہی کوچھوڑدینےکا ارادہ رکھتی ہو- جب تک مسلمان، مسلمان ہیں ان کےلیےیہ ممکن نہیں ہےکہ کل کاشرآج خیرہوجائے، اورپرسوں پھرشرہوجائے- کوئی قیاس ، کوئی اجتہاد ، کوئی اجماع اس قسم کی تبدیلی کا مجاز نہیں ہے-
اسلام کاتیسرا بنیادی عقیدہ آخرت ہے- اس کی اہمیت یہ ہےکہ اس کا انکارکرنےوالا کافرہوجاتا ہےاورخدا ، رسول ، قرآن ، کسی چیزکا ماننا بھی اسےکفرسےنہیں بچاسکتا- یہ عقیدہ اپنی تفصیلی صورت میں چھ لازمی تصورات پرمشتمل ہے:
٭ دنیا میں انسان غیرذمہ داربنا کرنہیں چھوڑدیا گیا ہے، بلکہ وہ اپنےخالق کےسامنے جواب دہ ہے- دنیا کی موجودہ زندگی دراصل انسان کےامتحان اورآزمایش کےلیےہے- اس کےخاتمےکےبعد اسےاپنےکارنامہ حیات کاحساب خدا کودینا ہوگا-
٭ اس محاسبےکےلیےاللہ نےایک وقت مقرہ کررکھا ہے- نوع انسانی کودنیا میں کام کرنےکےلیےجتنی مہلت دینےکا اللہ تعالی فیصلہ کرچکا ہے، اس کےاختتام پرقیامت برپا ہوگی ، جس میں دنیا کاموجودہ نظام دربرہم کردیا جائےگا اورایک دوسرا نظام عالم نئےطرزپربرپاکیا جائےگا- اس نئی دنیا میں وہ تمام انسان دوبارہ زندہ کرکےاٹھائےجائیں گے، جوابتدائےآفرینش سےقیامت تک پیدا ہوئےتھے-
٭ اس وقت ان سب کوبہ یک وقت خداوند عالم کی عدالت میں پیش کیا جائےگا، اورہرشخص کواپنی ذاتی حیثیت میں ان اعمال کی جواب دہی کرنی ہوگی، جواس نےخود اپنی ذمہ داری پردنیا میں کیےہوں گے-
٭ وہاں اللہ تعالی صرف اپنی ذاتی علم پرفیصلہ نہیں کردیاگا، بلکہ عدل کی تمام شرائط پوری کی جائیں گی- ہرشخص کےکارنامہ حیات کاپورا ریکارڈ بےکم وکاست عدالت کےسامنےرکھ دیا جائےگااوربےشماراقسام کی شہادتیں اس امرکےثبوت میں پیش کردی جائیں گی کہ اس نےخفیہ اورعلانیہ کیا کچھ کیا ہےاورکس نیت سےکیا ہے-
٭ اللہ کی عدالت میں کوئی رشوت ،کوئی بےجا سفارش اورکوئی خلاف حق وکالت نہ چل سکےگی- کسی کا بوجھ دوسرےپرنہ ڈالا جائےگا – کوئی قریب سےقریب عزیزیا دوست یا لیذریا مذہبی پیشوایا خود ساختہ معبود کسی کی مدد کےلیےآگےنہ بڑھےگا- انسان وہاں تن تنہا بالکل بےیارومدد گارکھڑاہوا اپنا حساب دےرہاہوگا اورفیصلہ صرف اللہ کےاختیارمیں ہوگا-
٭ فیصلےکاسارا ادارومداراس بات ہوگا کہ انسان نےدنیا میں انبیاعلیہم السلام کےبتائےہوئےحق کومان کراورآخرت میں اپنی جواب دہی کومحسوس کرکےٹھیک ٹھیک اللہ کی بندگی کی یا نہیں- پہلی صورت میں اس کےلیےجنت ہے، اوردوسری صورت میں دوزخ –
یہ عقیدہ تین اقسام کےانسانوں کی زندگی کےطریقوں کوایک دوسرےسےبالکل ہی مختلف کردیتا ہے:
٭ ایک قسم کےانسان وہ ہیں جوآخرت کےقائل نہیں ہیں اوربس اسی دنیا کی زندگی کو
زندگی سمجھتےہیں- وہ لامحالا خیروشرکامعیار، اعمال کےان نتائج ہی کوسمجھیں گےجو اس دنیا میں ظاہرہوتےہیں- یہاں جس عمل کانتیجہ اچھا یا مفید ہووہ ان کےنزدیک خیرہوگااورجس کا نتیجہ برایانقصان دہ ہوگا وہی ان کےنزدیک شرہوگا- بلکہ بارہا نتائج عمل کےلحاظ سےایک ہی چیز، ایک وقت میں خیراوردوسرےوقت میں شرہوگی-
٭ دوسری قسم کےآدمی وہ ہیں جوآخرت کوتومانتےہیں مگران کا بھروسا ہےکہ کسی کی سفارش ، اللہ کی عدالت میں انھیں بچالےگی، یاکوئی ان کےگناہوں کاکفارہ پہلےہی دےچکاہے، یا وہ اللہ کےچہیتےہیں اس لیےانھیں بڑےسےبڑےگناہوں کی سزا بھی بڑائےنام دی جائےگی- یہ چیزعقیدہ آخرت کےتمام اخلاقی فرائد کوضائع کردوسری قسم کےلوگوں کوبھی پہلی قسم کےاشخاص کی صف میں لےجاتی ہے-
٭ تیسری قسم کےلوگ وہ ہیں ، جوعقیدہ آخرت کوٹھیک اس شکل میں مانتےہیں جس شکل میں اسلام انھیں پیش کرتاہے، اورکسی کفارےیا بےجا سفارش یا اللہ سےکسی خاص تعلق کی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہیں- ان کےلیےیہ عقیدہ ایک بہت بڑی اخلاقی طاقت رکھتاہے-
جس شخص کےضمیرمیں آخرت کایقین اپنی صحیح صورت میں جاگزیں ہوجائے، اس کا حال ایسا ہوگاجیسےاس کےساتھ ہروقت ایک نگران لگا ہوا، جوہربرائی کےہرارادےپراسےٹوکتا، ہراقدام پراسےروکتا اورہرعمل پراسےسرزنش کرتاہے- باہرکوئی گرفت کرنےوالی پولیس، کوئی شہادت دینےوالاگواہ، کوئی سزادینےوالی عدالت اورکوئی ملامت کرنے
والی رائےعام موجودہویا نہ ہو، اس کےاندرایک سخت گیرمحتسب ہروقت بیٹھارہےگا، جس کی پکڑکےخوف سےوہ کبھی خلوت میں، یا جنگل میں، یا اندھیرےمیں، یا کسی سنسان جگہ میں بھی خدا کےمقررکردہ فرض سےفرار، اوراس کےمقررکردہ حرام کےارتکاب کاحوصلہ نہ کرسکےگا، اوربالفرض اگرکربھی گزرےتوبعد میں شرمندہ ہوگااورتوبہ کرےگا- اس سےبڑھ کراخلاقی اصلاح ، اورانسان کےاندرایک مستحکم کردارپیدا کرنےکا کوئی ذریعہ نہیں-
خدا کابالاترقانون جومستقل اقدارانسان کودیتاہے، ان پرمضبوطی کےساتھ انسان کےکاربندہونےاور ان سےکسی حالت میں اس کےنہ ہٹنےکاانحصاراسی عقیدےپرہے- اسی لیےاسلام میں اس کواتنی اہمیت دی گئی ہےکہ اگریہ نہ ہوتوخدا اوررسالت پرایمان بھی بیکارہے-
اسلام جیسا کہ میں بیان کرچکاہوں، ایک پوری تہذیب ، ایک جامع تمدن اورایک ہمہ گیرنظام حیات ہے، اورانسانی زندگی کےتمام گوشوں میں اخلاقی رہنمائی دیتاہے- اس لیےاس کےاخلاقیات دراصل تارک الدنیاراہبوں اورجوگیوں اورسنیا سیوں کےلیےنہیں ہیں، بلکہ ان لوگوں کےلیےہیں جوزندگی کےمختلف شعبوں کوچلاتےیا ان کےاندرکام کرتےہیں- اخلاق کی جوبلندیاں دنیا، خانقاہوںراہب خانوں اورصومعوں میں تلاش کرتی تھی، اسلام ان کوزندگی کےبیچ منجدھارمیں لےآنا چاہتاہے-
اس کامنشا یہ ہےکہ حکومتوں کےفرماں روا، صوبوں کےگورنر، عدالتوں کےجج ، فوج اورپولیس کےافسر، پارلیمینٹوں کےممبر، مالیات اورصنعت وحرفت کےکارفرما، کالجوں اوریونی ورسٹیوں کےاساتذہ وطلبہ، بچوں کےباپ، باپوں کےبچے، عورتوں کےشوہراورشوہروں کی عورتیں، ہمسایوں کےہمسائے،غرض سب ان اخلاقیات سےآراستہ ہوں- وہ چاہتاہےکہ کاروبارکےسارےادارےاورحکومت کےسارےمحکمےاسی کی پیروی کریں- سیاست سچائی اورانصاف پرمبنی ہو- قومیں حق شناسی اورادارےحقوق پرایک دوسرےسےمعاملہ کریں- جنگ بھی ہوتوشرافت اورتہذیب کےساتھ ہو، نہ کہ بھیڑیوں کی سی درندگی کےساتھ- انسان جب خدا ترسی اختیارکرلے،خدا کےقانون کوبالاترمان لے، خدا کےسامنےاپنی جوابدہی کویادرکھ کرمستقل اقدارکاپابندہوجائے، توپھراس کی یہ صفت صرف عبادت گاہ تک محدود نہیں رہنی چاہیے، بلکہ جس حیثیت میں بھی وہ دنیا کےاندرکام کررہا ہےخدا کےسچےاوروفاداربندےکی طرح ہی کام کرے-
یہ ہےمختصراوہ چیزجس کا اسلام علم بردارہےاوریہ محض کسی فلسفی کی خیالی جنت نہیں ہےبلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نےاسےعملا برپا کرکےدکھا دیا اورآج چودہ سوبرس گزرجانےپربھی اس کےاثرات مسلم معاشرےمیں کم وبیش پائےجاتےہیں –[ تدوین : س م خ]
٭ ماخذ: ترجمان القرآن، اپریل 1976ء
ماخذ: اسلام کیا ہے
مصنف: مولاناابوالاعلی مودودی
پبلشرز: منشورات لاہور
ایڈیشن:1
تاریخ اشاعت: April 1, 1976
ریڈنگ کاؤنٹر: 19