تہذ یبی کشمکش میں علم وتحقیق کاکردار

May 1, 2006

(22 ستمبر 1963ء---- ناظم آباد نمبر1-کراچی)

حمد وثنا کےبعد

جیسا کہ آپ کومعلوم ہوچکا ہے، یہ اجتماع اس غرض کےلئےکیا گیا ہےکہ ادارہ معارف اسلامی کےکام کاآغازکرتےہوئےہم اپنی قوم کےسنجیدہ اورتعلیم یافتہ طبقےکےسامنےاسےمتعارف کرائیں اوران کی تائید اورہمدردی حاصل کرنےکی کوشش کریں- اس موقع پرمیں یہ ضرورت محسوس کرتاہوں کہ پہلےمختصرطوریہ بتاؤں کہ اس کام کی اہمیت اوراس کی ضرورت کیا ہےاورپھرہمارےپیش نظرجوکام ہےاس کی نوعیت کیا ہےاوریہ کہ کس کس قسم کےکام ہم اس سلسلےمیں کرناچاہتے ہیں-

دنیا میں جتنےعلوم وفنون ہیں وہ سب درحقیقت دوحصوں پرمشتمل ہوتےہیں، ایک حصہ توخالص ان معلومات پرمشتمل ہوتاہے جوانسان کی دنیا اوراس کی زندگی اورخود اس کی اپنی زندگی کےمتعلق مختلف زمانوں میں حاصل ہوتی ہیں اوردوسراحصہ اس چیزکا ہوتاہےکہ حاصل شدہ معلومات کوہرگروہ اورہرقوم اپنے ذہن اوراپنےطرزفکراوراپنےنقطہ نظرکےمطابق مرتب کرتی ہے- اس کی مثال یوں سمجھئےکہ روئےزمین پر جوغذا کا سامان پھیلا ہوا ہےوہ تو قریب قریب مشترک ہے،بجزان فرقوں کےجوجغرافیائی اعتبارسےہوتےہیں- ورنہ ایک ہی قسم کامواد انسان کی غذاکےلئےاس زمین پرموجود ہے- لیکن ہرقوم کےلوگ اپنےاپنےمزاج کے مطابق اسی موادکواپنےاپنےمخصوص طریقوں سےپکاتےہیں اوراپنےلئےمختلف شکلوں کی غذائیں تیارکرتےہیں- ایساہی معاملہ علمی معلومات کابھی ہےکہ جہاں تک حقائق اشیاء کاتعلق ہےیعنی جوکچھ دنیا میں موجود ہےان میں کوئی فرق نہیں- فرق اس صورت میں واقع ہوتاہے کہ ان معلومات کوجمع اورمرتب کرنےوالا ذہن جس طوزپرسوچتا ہےاورجونظریہ رکھتاہے، اس کےمطابق ان کومرتب کرکےکونسا فلسفہ ء زندگی بناتاہے، کیسا نظام فکروعمل مرتب کرتاہےاوراسی وجہ سےتہذیبوں کی شکلیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں- چنانچہ تمام دنیا میں جتنی بھی تہذیبیں ہیں، وہ ان معلومات پرہی مبنی ہیں جواس کائنات کےمتعلق انسانوں کوحاصل ہیں- لیکن ہرتہذیب نےاپنےنقطہ نظرکےمطابق ان معلومات کو مرتب کیا ہےاوراس سےایک نظام فکروعمل بنایا ہے- اسی نظام فکروعمل کانام ایک خاص تہذیب ہے- ہرتہذیب کےامتیازی خطوط اورامتیازی خدوخال اسی چیز کی بدولت پائے جاتےہیں-

اب اس سلسلےمیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجئےکہ اگرکوئی قوم ایسی ہوجوسوچنا اورتحقیق کرنا اورمعلومات جمع کرنا اورنئی نئی معلومات حاصل کرنےکی کوشش کرنا چھوڑدےتووہ جمود میں مبتلا ہوجاتی ہے-جمودکا نتیجہ آخرکارانحطاط ہوتاہےاورانحطاط کانتیجہ آخرکاراس پرکسی دوسری قوم کےغلبہ کی صورت میں نکلتا ہے- پھرجب کسی دوسری قوم کا غلبہ ہوجاتاہےتولامحالہ وہ قوم محض سیاسی اورمعاشی حیثیت ہی سےغالب نہیں ہوتی بلکہ سب سےبڑھ کراس کاغلبہ فکری حیثیت سےہوتاہے- یعنی اس کی تہذیب مغلوب قوم کی تہذیب پرغالب آجاتی ہے- اب اس کےبعد دوسرامرحلہ اس مغلوب قوم کا یہ شروع ہوتاہےکہ یہ دوسروں کی تقلید کرنا شروع کردیتی ہے، دوسروں کا پس خوردہ کھانا شروع کردیتی ہے- تحقیقات دوسرےکرتےہیں، ان کوجمع دوسرےلوگ کرتےہیں، ان کومرتب کرکےایک فلسفہ حیات دوسرےلوگ بناتےہیں، ایک نظام فکروعمل دوسرےلوگ تیارکرتےہیں اوران کےپیچھےپیچھےچلتی ہےاوران کی ہرچیزکوقبول کرتی چلی جاتی ہے- یہ عمل جتنا جتنا بڑھتاجائےگااورجتنا جتنا تکمیل تک پہنچتاجائےگا، اس مغلوب قوم کی انفرادیت ختم ہوتی چلی جائےگی، یہاں تک کہ یہ فنا بھی ہوسکتی ہےاورقومیں فناہوتی رہی ہیں- ایسی قومیں دنیا میں گذری ہیں جواس طرح سےمٹیں کہ اب ان کی تہذیب صرف تاریخ کاسرمایہ ہےاوردنیا میں کہیں ان کا وجود نہیں-

اسلامی تحریک جب دنیا میں اٹھی تھی اس وقت مسلمانوں نےدوسری قوموں پرمحض سیاسی یافوجی غلبہ ہی حاصل نہیں کیا تھا بلکہ سب سےبڑی بات یہ تھی کہ مسلمان بھی اس وقت ایسےتھےجوتحقیقات کاکام کرنےمیں سب سےپیش پیش تھے- جہنوں نےنہ صرف یہ کہ زیادہ سےزیادہ معلومات حاصل کرنےکی کوشش کی، بلکہ ان معلومات کواپنےنقطہ نظر اپنےطرزفکراوراپنےعقیدےکےمطابق مرتب کیا- چنانچہ ایک ایسی غالب تہذیب اس کی بدولت وجود میں آئی جس کےرنگ میں دنیارنگتی چلی گئی-

کیایہواقعہ نہیں ہےکہ مسلمانوں نےفن طب تک کواس طرح سےمرتب کیا کہ طبی کتابوں کوآپ پڑھئےتومعلوم ہوگا کہ یہ ایک عقیدہ رکھنےوالی کسی قوم کی کتابیں ہیں؟ آغاز خداکی حمد سےکریں گے- دوائیں اس طرح سےمنتخب کریں گے کہ اس کےاندرحرام اجزاء شامل نہ ہوں- حلال چیزوں سےنسخےمرتب کریں گے- جگہ جگہ بیچ میں بیان اس طرح سےکریں گے کہ یہ اللہ تعالی کی قدرت کاکرشمہ ہے، ان دواؤں کےاصلی خواص ذاتی نہیں بلکہ اللہ تعالی کےعطا کردہ ہیں، بیماریوں کی شفاء اللہ تعالی کےدست قدرت میں ہےان دواؤں کاکارگرہونا اللہ تعالی ہی بدولت ہے- نبض پرہاتھ رکھیں گےتو بسم اللہ کہہ کررکھیں گے- اللہ تعالی سےمد طلب کریں گےکہ وہ رہنمائی فرمائے- یہ ساری چیزیں کیا ہیں؟ فی الحقیقت یہ ایک فن تھا اوروہی معلومات تھیں جودنیا کاکوئی طبیب فراہم کرےگا- لیکن ان سب کواپنی ذہنیت کےمطابق عقیدےاوراپنی طرزفکرکےمطابق انہوں نےڈھالا-

میں نےطب کی مثال اس لئےدی کہ طب کےمتعلق آدمی یہ سمجھےگا کہ اس کاکسی عقیدےسےکیا تعلق ہے؟ لیکن آپ دیکھئےکہ جب کوئی عقیدہ اورمسلک رکھنےوالاگروہ ہوتاہےتووہ دنیا کی ہرچیزکواپنے نقطہ نظرکےمطابق ڈھال لیتاہےاوروہی چیز پھرغالب ہوجاتی ہے-

مسلمانوں کےاس کام کااثریہ ہوا کہ صدیوں دنیایہ سمجھتی رہی ہےکہ تہذیب ہےتومسلمانوں کی ہے، تمدن ہےتومسلمانوں کاہے- مسلمانوں کےخلاف تعصب رکھتےتھے، دشمنی رکھتےتھے، مگرتقلید انہی کی کرتےتھے- دنیا میں مسلمانوں نےشرک کی جڑکاٹ دی تھی اورتوحید کواس قوت کےساتھ پھلایا اورتوحید کی اساس پرایک نظام فکراس قوت کےساتھ مرتب کیا کہ مشرکین کےلئےیہ کہنا مشکل ہوگیا کہ شرک ہی حق ہے- وہ مشرکین جوکبھی کہا کرتےتھے کہ (ص – 5) یعنی یہ کیسی عجیب بات ہےکہ سارےخداؤں کوختم کرکےاس شخص نےایک ہی خدا بنا دیا؟ -------- کہاں تو وہ وقت تھا جب وہ سمجھتےتھے کہ شرک حق ہے اورتوحید عجیب بات ہےاورپھرکہاں یہ صورت حال ہوگئی کہ زیادہ مدت نہ گذری کہ مشرکین کےلئےیہ کہنا مشکل ہوگیا کہ کئی خدا ہیں- انہوں نے اپنےعقیدوں کی تاویل اس طرح سےکرنی شروع کردی کہ ہم جانتےتوایک ہی خدا کوہیں لیکن یہ دوسری چیزیں جوہم کررہےہیں یہ اسی تک تقرب وشفاعت کا ذریعہ و وسیلہ ہیں- مختلف مشرک قوموں کےاندرتوحیدی مسلک و مذاہب پیدا ہوگئے- خود آپ کےاس ملک میں اس کی مثالیں موجود ہیں- اس طرح سےمسلمانوں کامرتب کردہ فلسفہ، ان کی مرتب کردہ سائنس ، ان کےمرتب کردہ علوم عمرانی----- یہ ساری چیزیں دنیا کےاوپرچھاتی چلی گئیں- مغرب میں نشاۂ ثانیہ کی جوتحریک اٹھی تھی وہ مسلمانوں ہی کےسکھائےہوئےعلوم کی بدولت اٹھی تھی- جو کچھ اسپین میں مسلمانوں کےعلوم وفنون تھے اورجوان کی درس گاہیں تبھیں، ان سےاستفادہ کرکےجولوگ تیارہوئے تھے، وہی لوگ مغرب میں اس تحریک کےموجب بنے- ایک زمانہ وہ تھا کہ یورپ کےاہل عربی زبان میں لکھنا اورعربی بولنا قابل فخرسمجھتےتھے- بہت سےلوگ ایسےتھےجوان کےمذہبی پیشواؤں میں شمارہوتےتھےلیکن وہ اپنےپرائیویٹ خطوط عربی زبان میں لکھتےتھے- اس زمانےکےلوگوں کی ایسی شکایتیں آج تک تحریری شکل میں موجود ہیں کہ ہماری قوم کےاہل علم وفکرپرعربی زبان اس طرح مسلط ہوگئی ہے کہ وہ اپنی پرائیویٹ زندگی تک میں عربی زبان کواستعمال کرتےہیں اوراپنی قومی زبان کوچھوڑبیٹھےہیں- یہ سب کچھ اس بات کانتیجہ تھا کہ اس وقت علمی تحقیقات کاکام مسلمان کرتےتھےاوردوسری قومیں ان کا پس خوردہ کھاتی تھیں- وہ ان کےمرتب کردہ علوم کو سیکھتی تھیں- جس طرزپرمسلمانوں نےان کومرتب کیا تھا، اس طرزپروہ ان کوپڑھتی اورحاصل کرتی تھیں- نتیجہ یہ تھا کہ ان کی ذہنیتیں اسلام کےطریقہ پرڈھلتی جاتی تھیں- مغربی ممالک میں جو مسیحی متکلمین کا ایک گروہ گذراہے، اس کی کتابیں آپ پڑھئے------ آپ کومعلوم ہوگا کہ مسلمانوں کےمتکلمین کی اور ان کےعلم کلام کی جوں کی توں نقل اتاری جارہی تھی- وہی مسائل ہیں، وہی اصطلاحات ہیں، وہی بخثیں ہیں، بجزاس کےکہ انہوں نےمسیحی عقیدےکواس کےاندرشامل کردیا- لیکن آپ مسیحی متکلمین کی تحریروں میں اورمسلمان متکلمین کی تحریروں میں بجزتثلیث اورابنیت کےعقیدےکےاورکوئی فرق نہیں پائیں گے-

اس کےبعد ایک دوسرا دورآیا جس میں مسلمانوں نےنئی تحقیقات کاکام قریب قریب ترک کردیا- جوکچھ علوم اوائل تھے، انہی کوپڑھتےپڑھاتےرہے، انہی کےاوپرحاشئےچڑھاتےرہے، حاشئےدرحاشئےلکھتےچلےگئے- لیکن نئی تحقیقات اورعلوم وفنون میں آگےبڑھنےکاکام انہوں نےچھوڑدیا- دوسری طرف اسی زمانےمیں اہل مغرب نےاس کام کابیڑااٹھایا اورتحقیقات علمی شروع کیں- انہوں نےنئی نئی معلومات جمع کرنےپرتوجہ دی- ان کومرتب کرکےنئےفلسفےاورنئےنظام ہائےفکروعمل کی تشکیل شروع کردی- اس صورت حال کاجونتیجہ ہواوہ یہ تھا کہ ایک طرف مسلمان رفتہ رفتہ جمود میں مبتلا ہوتےچلےگئے اوردوسری طرف اس علمی تحریک کی بدولت مغرب کی طاقت روزبروزبڑھنی شروع ہوگئی- ظاہرہےجب وہ نئی نئی معلومات جمع کریں گےاورنئی نئی تحقیقات کریں گے، تونئےنئےذرائع اوروسائل ان کےہاتھ میں ہوں گے- ان کےذہنوں میں زندگی اوربیداری پیدا ہوگی اورآپ اس کےچھوڑدیں گے، توآپ کےاندرلامحالہ جموداورتعطل پیداہوگا- آپ اپنی تاریخ کواٹھاکردیکھئے- اٹھارہویں صدی تک پہنچتےپہنچتےمسلمانوں اوراہل مغرب کےدرمیان اتنا نمایاں فرق ہوگیا کہ مسلمان مغلوب ہونا شروع ہوگئےاورمغربی قومیں ان پرغالب آنےلگیں- دوتین سوبرس جمود میں لگےاوراس جمود کانتیجہ آخرکاریہ ہوا کہ مسلمان مغلوب ہوگئےاور مغربی قومیں غالب آگئیں- اٹھارہویں صدی سےمسلمانوں پرمغربی قوموں کی یورشیں اوران کی فتوحات خود اس بات پرشاہد ہیں کہ علمی تحقیقات چھوڑدینےاورفکری جمود اختیارکرنےکےنتائج ہم نےکیا بھگتےاورانوں نےاس کام کا بیڑااٹھانےکےکیا فرائد حاصل کئے-

جیسا کہ میں نےآپ سےعرض کیا کہ جمود کالازمی نتیجہ انحطاط ہےاورانحطاط کالازمی مغلوبیت ہوتاہے- لیکن اگرعلمی تحقیقات کی جائےاورمسلسل کی جائےاورنئی نئی معلومات فراہم کی جائیں اوران کی بنیادپرنئےنئےفلسفہ تیارکئےجائیں تواس کالازمی نتیجہ یہ ہوتاہےکہ حرکت پیداہوتی ہے،طاقت حاصل ہوتی ہےاوراس قوم کوغلبہ نصیب ہوتاہے- سیاسی وعکسری علبہ حاصل ہونےکےبعد معاملہ ختم نہیں ہوجاتابلکہ نتیجہ یہ ہوتاہےکہ جو قوم غالب ہےاورجوتحقیقات کررہی ہے، علوم وفنون کوجمع کررہی ہے، معلومات فراہم کررہی ہےاوران کومرتب کرکےایک تہذیب بنارہی ہے، وہ لازما اپنی تہذیب کےساتھ غالب آتی ہے- وہ محض اپنی سیاست، اپنےاسلحہ اوراپنی فوج سےغلبہ نہیں پاتی بلکہ اس کی پوری تہذیب مغلوب قوم پرغالب آنی شروع ہوجاتی ہے- یہ نقشہ پہلےبھی ہم دیکھ چکےہیں اورآج بھی دیکھ رہےہیں-

اسلام کےغلبہ کےدورمیں تمام دنیا یہ محسوس کرتی تھی کہ تہذیب ہےتومسلمانوں کی ہے، تمدن ہےتومسلمانوں کاہےاورفکروعلم تومسلمانوں کاہے- اب اس کےبرعکس یہ صورت حال کہ خودمسلمانوں کےدلوں میں یہ بات اترگئی ہےکہ تہذیب ہےتواہل مغرب کی ہے، کوئی تمدن ہےتواہل مغرب کا ہے- غرض علم و فن جوکچھ بھی ہے، اہل مغرب کاہےاورہماراکام ان کاپس خوردہ کھانا ہے، ہمارا کام ان کےپیچھےچلنا ہے، ہماراکام ان کی تقلید کرناہے- عملا یہ صورت پیداہوچکی ہے، چاہےزبان سےانکارکریں، چاہےزبان سےہم مزاحمت کرنےکی کوشش کریں اورزبان سےہم اظہاربرات کریں- لیکن عملا کیا ہورہاہے؟ عملا یہی ہورہاہےکہ ہمارےاوپرمغرب کےافکاراورفلسفے، ان کاطرززندگی، ان کی تہذیب اورتمدن سب کچھ چھاناچلاجا رہاہے- اسسےجوبات آپ کےذہن نشین کرنا چاہتاہوں وہ یہ ہےکہ اگرہم اپنی زندگی چاہتےہیں، اپنی بقا چاہتےہیں اوراپنا ارتقاچاہتےہیں توہمارےلئےاس کےسوا کوئی چارہ کارنہیں ہےکہ ہم نئےسرےسےعلمی تحقیقات کاکام کریں-

اس سلسلےمیں یہ بات بھی وضاحت طلب ہےکہ علمی تحقیقات کس نوعیت کی ہمیں مطلوب ہیں- ایک تووہ ریسرچ ہےجومغربی محققین ہم کوسکھانےکی کوشش کرتےہیں، وہ ایک بےمقصداوربےرنگ ریسرچ ، محض تحقیق برائےتحقیق ہے- مثلا کتابوں کوایڈٹ کرنا، ان کی مختلف نسخوں کامقابلہ کرکےان کی عبارتوں کےفرق کوپرکھنااور مصنفین کےسنین وفات وپیدائش کوجمع کرنا اوراس قبیل کی دوسری ریسرچ- یہ بےمقصداوربےمعنی ریسرچ ہے، اس میں شک نہیں کہ یہ علوم وفنون میں مدد گارہوتی ہے، لیکن بجائےخود یہ وہ ریسرچ نہیں ہے، جوکسی قوم کوزندگی کی حرارت عطاکرتی اوراسےحیات نودیتی ہے- یہ ٹھنڈی اور بےمعنی ریسرچ ہے- اہل مغرب ایک ریسرچ اورکرتےہیں، وہ متحرک قسم کی ریسرچ ہے- وہ اس مقصد کےلئےہےکہ ان کےپاس وہ طاقتیں فراہم ہوں کہ جو ان کودنیا پرغالب کرسکیں-

ایک اورقسم کی ریسرچ جواب ہمارےملک میں شروع ہورہی ہے، وہ یہ ہےکہ ریسرچ تواسلام کی کی جائے، مگراس غرض کےلئےکہ ایک نیااسلام تصنیف کیاجائے جوتمام مغربی افکارواقدارکےبالکل مطابق ہو- یعنی جوکچھ مغرب میں حلال ہے، وہ حلال ثابت کیا جائے، جوکچھ مغرب کی نگاہ میں حرام ہے، اسےحرام ثابت کیا جائےاوراسلام کوکسی نہ کسی طرح ڈھال کرایسا دکھاجائےکہ گویا یہ بھی مغربی تہذیب و تمدن کاایک دوسرا ایڈیشن ہے- یہ ریسرچ بھی ہمارےکسی کام کی نہیں ہے-

ہم جوریسرچ چاہتےہیں اورجس غرض کےلئےچاہتےہیں، وہ یہ ہےکہ ٹھیک ٹھیک اسلام کےمطابق علوم وفنون کی تحقیقات کی جائےاورتحقیقات کرکےاسلام کےنظام فکروعمل کوآج کی زبان میں باقاعدگی کےساتھ مرتب کیا جائے- اس سلسلےمیں چند مقاصد ہمارےپیش نظر ہیں اورانہی مقاصد کی تحصیل کےلئےہم کام کرنا چاہتےہیں:

1: سب سےپہلا کام ہم یہ کرنا چاہتےہیں کہ مغربی فکراورمغربی فلسفہ ء حیات کاجو طلسم بندھا ہواہے، اس کوتوڑڈالاجائے- ایک معقول اورمدلل علمی تنقید کےذریعےیہ بات ثابت کی جائےکہ مغربی علوم وفنون میں جتنےحقائق اورواقعات ہیں، وہ دراصل تمام دنیا کامشترک علمی سرمایہ ہیں اوراس کےساتھ کسی تعصب کاکوئی سوال نہیں ہے- لیکن ان معلومات وحقائق کوجمع کرکےجوفلسفہ حیات اہل مغرب نےبنایا ہے، وہ قطعی باطل ہے- ان کومرتب کرکےجوطرزفکراورکائنات کےمتعلق جوتصوراورانسان کےبارےمیں جوتصورانہوں نے قائم کیا ہےاورجس کےاوپراپنی پوری تہذیب کی عمارت انہوں نےاٹھائی ہے، وہ ساری کی ساری ازاول تاآخرباطل ہے-جومعاشرتی علوم انہوں نےمرتب کئےہیں، جومعاشرتی فلسفہ( ) انہوں نےگھڑاہے، وہموجب فتنہ وفساد ہے، وہ انسان کی فلاح کےلئےنہیںبلکہ انسان کی تباہی کےلئےاورخود ان کی اپنی تباہی کےلئےہے- یہ پہلا ضروری کام ہے، جس کےذریعہ سےہم یہ توقع رکھتےہیں کہ مسلمانوں پرمغربی فکروفلسفےکاجوسحرہے، وہ ختم ہوجا‏ئےگااورجس کےبغیرمسلمانوں کو اس ذہنی مرعوبیت اورذہنی شکست خوردگی کی حالت سےنہیں نکالا جاسکتاجس میں وہ مبتلا ہیں- جب تک مسلمان اس ذہنی شکست خوردگی میں مبتلا ہیں، اس وقت تک آپ توقع نہیں کرسکتےکہ وہ دنیا کے '' مقلد'' کی زندگی چھوڑکر'' مجتہد '' کی زندگی اختیارکریں گے-اس وقت تک توان کاکام آنکھیں بندکرکےاہل مغرب کےپیچھےچلنا ہے- اس حالت کوآپ نہیں بدل سکتےجب تک کہ اس سحرکونہ توڑدیں اوراس حقیقت کوواضح نہ کردیں کہ علمی حقائق اورچیزہیں اورعلمی حقائق کوترتیب دےکرایک فلسفہ زندگی اورنظام حیات مرتب کرنا بالکل دوسری چیزہے- حقائق اپنی جگہ بالکل صحیح ہوسکتےہیں، لیکن فی الحقیقت ان کومرتب کرکےمغرب میں جوفلسفہ حیات بنایا گیا ہے، وہ بالکل غلط ہے!

:2 اس کےآگےجودوسراکام کرنا ہےوہ یہ ہےکہ اسلامی نقطہ نظر سےتمام علوم وفنون کونئےاسلوب اورنئےطریقےپرمرتب کیا جائےتاکہ وہ ایک اسلامی تہذیب کی بنیاد بن سکیں- اسی طرح اسلام کےمطابق ہمیں ایک فلسفہ درکارہے، جوانسان کےذہن کی اس تلاش کوتسکین دےکہ حقیقت کیا ہے، مگریہ تسکین اس عقیدےکےمطابق دےجواسلام نےہمیں دیاہے- حقیقت کی تلاش اوراس کی تڑپ انسان کی فطرت میں ہے، وہ اس کےبغیرنہیں رہ سکتا- مگرتلاش حقیقت کےمختلف راستوں میں سےصحیح راستہ ہمارےنزدیک وہ ہےجوانبیاعلیہم السلام کاتھا- اس راستےکےمطابق تلاش حقیقت، کانئات کی حقیقت،حیات انسانی کی حقیقت،نیزاس کےمآل(انجام، نتائج) کوایک فلسفےکی شکل میں مرتب کرنا تاکہ آدمی کواس کےمطابق ڈھالاجائے- ظاہرہےیہ اس کےبغیرنہیں ہوسکتاکہ ہم ایک فلسفہ اسلام کےنقطہ نظر کےمطابق مرتب کریں- اس کام کوکئےبغیریہ کسی طرح ممکن نہیں ہےکہ آپ کی یونیورسٹیوں اورآپ کےکالجوں میں جوفلسفہ پڑھایاجاتاہے یا نفسیات کےجوعلوم پڑھائےجاتےہیں یا جن دوسرےفلسفیانہ علوم کی تعلیم دی جاتی ہے، ان کوتبدیل کردیاجائےاوران کی جگہ کوئی دوسرا فلسفہ پڑھایاجائے-

آپ جانتےہیں کہ روس میں مغربی تہذیب سےبالکل مختلف ایک تہذیب اٹھانےکی کوشش کی گئی اورجب روسیوں نےکمیونسٹ طرزفکرکواختیارکیاتووہ کسی طرح سےبھی اس بات کوگورانہیں کرسکےکہ جس کووہ بورژوافلسفہ کہتےہیں، وہ اسےاپنی یونیورسٹیوں اورکالجوں میں پڑھائیں کیونکہ بحثیت کمیونسٹ ان کےاپنےوجودکےلئےیہ ضروی اورناگزیرتھا کہ وہ ایک کمیونسٹ فلسفہ مرتب کریں اوراسےاپنی نئی نسلوں کوپڑھائیں، کیونکہ جب تک وہ اس بورژوافلسفےکونہ ہٹادیتےاوراس کی جگہ اپنا اشتراکی فلسفہ ذہنوں میں نہ بٹھادیتے، اس وقت تک نہ توطرزفکربدل سکتاتھااورنہ ایک کمیونسٹ نظام کھڑاہوسکتا تھا- اسی طرح ہمارےلئےبھی یہ ضروری ہےکہ ہم ایک اسلامی فلسفہ مرتب کریں اورتمام علوم عمرانی کونئےسرےسےترتیب دیں- بلاشبہ واقعات اورحقائق وہی رہیں گے، جودنیا کامشترک علمی سرمایہ ہیں- لیکن ان واقعات اورحقائق پرایک پورانظام فکروعمل مرتب کرناہے----- خواہ وہ معیشت کا علم ہو، خواہ قانون و فلسفہء قانون کا علم ہواورخواہ نفسیات اورعمرانیات کا علم ہو----- غرض جتنےبھی عمرانی علوم ہیں ان میں سےہرایک کوباقاعدہ مرتب کرنےکی ضرورت ہے- جب تک ان کواسلامی نقطہ نظرسےمرتب نہ کیا جائےگا اورکالجوں اوریونیورسٹیوں میں نئےعلوم نہ پڑھائےجائیں گے، اس وقت تک آپ یہ توقع نہ رکھیں کہ ہیاں کبھی اسلامی تہذیب اٹھ سکتی ہے، بلکہ جو کچھ اس وقت موجود ہے، اس کاباقی رہنا بھی مشکل ہے-

آپ اپنےگھرمیں اپنےبچےکوچاہےیہ عقیدہ سکھادیں کہ خدا ایک ہےاوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےنبی تھےاورچاہےآپ اس کےذہن میں یہ بٹھادیں کہ قرآن مجیداللہ کی کتاب ہے----- بہت لوگوں نےیہ کام بھی چھوڑدیاہےاوراپنےبچوں کووہ مشنریوں کےحوالےکردیتےہیں تاکہ وہ جوعقیدہ چاہیں، ان کےذہنوں میں اتاردیں- البتہ بعض لوگ احتیاطا یہ ساری باتیں اپنےبچوں کےذہن میں اتاربھی دیتےہیں---- لیکن وہ بچےجب کالجوں میں جاتےہیں اورجب ان کےسامنےیہ صورت آتی ہے کہ تمام علوم جووہ پڑھ رہےہیں، ان کےاندر '' خدا'' کہیں بیچ میں آتاہی نہیں- وہ سائنس پڑھ رہےہوں یا علوم عمرانی، کبھی ان کویہ محسوس ہی نہیں ہوتا کہ اس کانئات کےاندرخدا کابھی کوئی کام ہے، وہ بھی کچھ کررہاہے- ان کےسامنےیہ آتاہی نہیں کہ رسولوں نےبھی کوئی علم الاقتصاد دیاہے، رسولوں نےبھی کوئی فلسفہء قانون دیاہے- بلکہ اس کےبرعکس ایک ایک علم جووہ پڑھتےہیں، وہ ان کےذہنوں میں یہ بات بٹھاتاہےکہ اسلام نے(معاذ اللہ) بہت سارےغلط کام کرڈالےہیں- مثلا اس نےسودکوحرام کیا، گویانعوذباللہ ایک بڑافضول کام کیا، کیوں کہ سود کےبغیردنیاکاکوئی معاشی نظام نہیں چل سکتااورکوئی کھڑانہیں ہوسکتاہے- ان کےسامنےیہ بات آتی ہےکہ اسلام نےچوری کی سزاہاتھ کانٹاقرار دیا، گویا (معاذ اللہ) بڑاوحشیانہ کام کیا- پھراس نےزنا جیسی ''پرلطف اورتفریحی '' چیزپرخواہ مخواہ اتنی سخت سزاتجویزکی کہ کوڑےمار مارکرکسی کی پیٹھ کی کھال ادھیڑدی جائے- یہ بھی جیسےبہت وحشیانہ کام کیا-

ذراسوچئے! اس طرح کاطرزفکرجب ان کےسامنےآئےگاتوکیاآپ توقع رکھتےہیں کہ اس قسم کےلوگ اسلامی تہذیب کےسچےدل سےقائل اوراس کےپیروکبھی ہوسکتےہیں؟اورپھروہی لوگ جوان کالجوں اوریونیورسٹیوں سےنکلتےہیں، وہی آپ کےملک کانظام چلاتےہیں، وہی آپ کےملک کےسول سرورٹ بنتےہیں، وہی جنرل بنتےہیں، وہی عدلیہ ومقننہ کےاعلی مدارج تک پہنچتےہیں، وہی آپ کی حکومت کےکارپردازبنتےہیں- ان کےدماغ میں یہ بات کیسےاترسکتی ہے کہ یہ اسلام چلنےکےقابل ہےاورچلانے کےقابل ہے؟ چنانچہ آپ تعلیم یا فتہ لوگوں کےایک بڑےگروہ سےبات کرکےدیکھ لیں- آپ کوتھوڑی ہی دیرمیں یہ محسوس ہوجائےگاکہ وہ سمجھتےہیں کہ اسلام اس زمانےمیں چلنےوالی چیزنہیں ہے- اس کی اصل وجہ یہ ہےکہ سارےعلوم انہوں نےجس اندازسےپڑھےہیں، اس کی وجہ سےان کی سمجھ میں یہ بات آہی نہیں سکتی کہ کوئی طرززندگی یا نظام حیات ، مغربی نظام زندگی سےبہترہوسکتاہےاوروہ چل بھی سکتاہے- وہ سمجھتےہیں کہ قابل عمل صورت وہی ہےجومغربی طرززندگی کی ہے- کیونکہ ایک چیزچل رہی ہےاورکامیابی کےساتھ چل رہی ہے، جب کہ دوسری چیزمعطل ہےاوراس کاکوئی اثران علوم وفنون پرنہیں ہے، جن کووہ پڑھ رہےہیں-

لہذاتنقید کےکام کےساتھ ساتھ دوسراتعمیری کام جوناگزیرہےاورجسےکرنےکی شدیدضرورت پیدا ہوگئی ہے، وہ یہ ہےکہ تمام عللوم کواسلام کےنقطہ نظرسےمرتب کیا جائےتاکہ ہماری نئی نسلیں اسلام کےبرحق ہونےپرواقعی مطمئن ہوسکیں اوران کویہ اطمینان ہوکہ یہ چیزچلنےکےقابل ہےاوران کےاندریہ ارادہ بھی پیدا ہوکہ اس کوچلانا چاہئے-

:3 اس کےبعدجوتیسراکام ہمارےسامنےہے،وہ یہ ہےکہ ایک نصاب مرتب کیا جائےجواس طرزپرتعلیم کےقابل کتابیں تیارکرے- ورنہ ابھی تک جوصورت حال ہےوہ یہ ہےکہ نیچےسےاوپرتک جس کودیکھئےوہ یہ بات کہتاہےکہ ہم اسلامی تعلیم اس ملک میں رائج کرنا چاہتےہیں، لیکن اس وقت تک ایسی کوئی قابل لحاظ کوشش نہیں کی گئی کہ یہ مختلف علوم جوہماری یونیورسٹیوں میں پڑھائےجاتےہیں، ان پرکتابیں بھی اسلام کےنقطہ ء نظرسےتیارکی جائیں- میں آپ سےابھی عرض کرجکاہوں کہ کمیونسٹ اس بات کےلئےتیارنہیں ہوئےکہ وہ اکنامکس کی ایسی کتابیں پڑھائیں جو بورژواماہرین اقتصادیات نےلکھی ہوں- وہ اس کےلئےبھی تیارنہیں ہوئےکہ وہ ایسا فلسفہ قانون پڑھائیں جسےسرمایہ داروں کےماہرین قانون نےمرتب کیا ہو- غرض اس طرح وہ نہ صرف یہ کہ بورژوا لوگوں کی لکھی ہوئی سوشل سانئس پڑھانےکےلئےتیارنہیں ہوئےبلکہ اس سےآگےبڑھ کروہ ایک '' سودیت سانئس'' تیارکرنےمیں لگےہوئےہیں- یعنی معاملہ محض عمرانی تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ سائنس کوبھی وہ کہتےہیں کہ یہ '' سودیت سائنس'' ہے- تمام سائنٹفک کتابوں کوانہوں نےاپنےنقطہ نظر سےمرتب کیا ہےاوروہ اس کےلئےتیارنہیں ہیں کہ کمیونسٹوں کی نئی نسل کی پرورش سرمایہ داروں کےمرتب کردہ سائنسی ذخیرہ سے کریں-( واضح رہےکہ یہ تقریر 1963ء میں کی گئی تھی- ایڈیٹر)

ہمارےہاں معاملہ یہ ہےکہ اسلامی تعلیم کےمعنی یہ سمجھےجاتےہیں کہ تمام اوقات (گھنٹوں- )میں توہم وہ علوم پڑھائیں جوملحد مغربی مصنفین کی کتابوں میں ملتےہیں اوردوایک پیریڈ میں لوگوں سےیہ بھی کہہ دیاجائے کہ ایک ہستی کا نام خدا بھی ہے، جسےتم کوجاننا چاہئےاورایک ہستی کو اللہ نےرسول بھی بناکےبھیجاتھا- لیکن اس خدا اوراس رسول کا کوئی مظاہرہ( ) ان کوباقی پریڈز میں نظرنہیں آتا- بلکہ اس کےبرعکس تمام علوم وفنون اس طرزپرپڑھائےجارہےہیں، جس طرزپراہل مغرب نےانہیں مرتب کیا ہے- یا جوہمارےہاں ان لوگوں کی لکھی ہوئی کتابیں ہیں جواہل مغرب کی مکھی پرمکھی مارنےکےعادی ہیں- اس سےآپ بالکل توقع نہ رکھیں کہ آپ کےہاں وہ نسل کبھی پروان چڑھ سکےگی جویہاں اسلام کا احیاء کرےاوراحیاءکرنا تودرکناراسلام کوباقی رکھ سکے- یہ راستہ سیدھا اپنی انفرادیت کوختم کرنےکی طرف جارہاہے- روزبروزہماری انفرادیت فناہوتی چلی جارہی ہےاورہماری حکومت اورہمارےبرسراقتدارطبقےاورہمارےبااثرطبقے----- خواہ وہ تجارکےہوں اورخواہ صناعوں کے---- اہل مغرب کےسامنےیہ نقشہ پیش کررہےہیں کہ ہم میں اورتم میں کسی لحاظ سےبھی کوئی فرق نہیں ہے- جوتمہاری تہذیب، وہ ہماری تہذیب ، جوتمہارا تمدن، وہ ہمارا تمدن، جو تمہارےاخلاق، وہ ہمارےاخلاق، جو تمہاری قدریں ، وہ ہماری قدریں- حتی کہ ہم اس بات کوبھی مان گئےہیں کہ جس جس جرام کو انہوں نےحلال کیا ہے، وہ واقعی حلال ہےاوریہ غلطی ہماری تھی کہ اسےحرام قرار دےدیاتھایا غلط فہمی تھی کہ وہ حرام ہے- اس صورت حال میں کیا آپ توقع رکھتےہیں کہ یہاں اسلام باقی بھی رہ سکےگا، کجا آپ یہ توقع کریں کہ وہ نسلیں جو اس طریقے پرپرورش پارہی ہیں اوریہ ذہنی تربیت حاصل کررہی ہیں، وہ یہاں کبھی اسلام کےاحیاء کےلئےبھی کام کرسکیں گی اوراسلامی تہذیب وتمدن کی علمبرداربھی بن سکیں گی؟

:4 ایک اورمسئلہ جواس وقت ہمارےسامنےہےوہ یہ کہ ہمارےملک کاایک حصہ جس کی آبادی اکثریت میں ہے،اس کی زبان میں اسلام کےمتعلق لڑیچرنہ ہونےکےبرابرہے- مغربی پاکستان میں توکم ازکم ایک اردوزبان ایسی موجود ہےکہ جس میں اچھا خاصا اسلامی لڑیچرموجود ہے، چاہےوہ مدرسوں (مراداسکول ہیں- ایڈیٹر) میں نہ پڑھایا جاتاہو، مگروہ باہرموجودہےکہ جس سےمدرسوں اورکالجوں سےفارغ ہونےوالا یا اپنےفارغ اوقات میں مطالعہ کرنےوالا کچھ نہ کچھ دین کی معقول باتیں حاصل کرسکتاہے- لیکن ہمارےملک کےمشرقی حصےمیں بنگلہ زبان میں یہ کچھ بھی نہیں ہے- بلکہ اس کےبرعکس معاملہ یہ ہےکہ بنگلہ زبان کالڑیچراوربنگلہ زبان کےعلوم وفنون زیادہ ترہندوؤں کےلکھےہوئےہیں اوروہ بھی ایسےہندوؤں کے، جنہیں اسلام اورمسلمانوں کےخلاف شدید تعصب تھا- جنہوں نے یہ دکھانےکی کوشش کی ہے کہ مسلمانوں کا کوئی کارنامہ انسانی تہذیب وتمدن میں نہیں ہے، مسلمان اگرہاہےتومحض لچےاورلفرگےکی حیثیت سےرہاہے، مسلمان نہ کبھی محب وطن رہا اورنہ کبھی انسانیت کا خادم – آزادی کی تحریک میں بھی اس کاکوئی حصہ نہیں ہےاورآزادی کےلئےقربانیاں صرف ہندوؤں نےدی ہیں- غرض جن لوگوں کا نقطہء نظر یہ تھا، ان لوگوں نےتاریخیں لکھی ہیں اورمسلمان نوجوان ان کوپڑھتےہیں- انہوں نےناول لکھےہیں اورمسلمان نوجوان ادب کےنام سےانہیں پڑھتےہیں- لیکن اسلام کےمتعلق بہت ہی کم لڑیچربنگلہ زبان میں موجود ہے- ظاہرہےکہ یہ ہمارےلئےانتہائی خطرناک صورت حال ہے- ہمارےملک کا آدھا حصہ اوروہ حصہ کہ جس کی آبادی اکثریت میں ہے، اگروہ اس حالت میں مبتلا رہے، توآپ کی اس حالت میں یہاں اسلام کےاحیاء کی کیا توقع رکھ سکتےہیں؟( یہاں مکرریاددہانی ہےکہ یہ تقریر 1963ء کی ہے، جب پاکستان کا مشرقی بازوالگ ہوکربنگلہ دیش نہیں بنا تھا----- دوم یہ کہ اب ڈھاکہ میں اسلامک ریسرچ اکیڈمی کی شاخ کی جگہ سیدابوالاعلی مودودی رحمتہ اللہ ریسرچ اکیڈمی کےنام سےنیا ادارہ انہی مقاصد کےحصول کےلئےسرگرم عمل ہے- ایڈیٹر)

اسی کےساتھ ہم یہ بھی چاہتےہیں اس ادارے(اکیڈمی) میں جوکچھ مرتب کیا جائے، وہ صرف اردواوربنگلہ میں ہی نہ ہو بلکہ انگریزی اورعربی زبانوں میں بھی ہو- یعنی ترجمہ کا کام بھی ساتھ ساتھ کرتےچلےجائیں اورانگریزی اورعربی دونوں میں ان چیزوں کولائیں- عربی میں لانا اس لئےضروری ہےکہ دجلہ سےلےکراطلانتک تک تمام مسلمان قومیں عربی بولتی ہیں، ان کی زبان عربی ہے- اس وقت ان کی سولہ سترہ آزادریاستیں موجود ہیں- ظاہرہےکہ یہ ایک بہت بڑی طاقت ہےاوردنیائےاسلام کا دل ہے- جب تک قرآن مجید سےمسلمان وابستہ ہیں، لامحالہ وہ قرآن مجید کی زبان ، یعنی عربی زبان کی اہمیت محسوس کریں گےاوراس کا اثرہوگا- لہذاوہ زبان (عربی ) کفرکی اشاعت کرنےلگے، اگراس زبان میں لوگوں کوفسق وفجورملے، اگراس زبان میں لوگوں کوالحاد ملےتوآپ غورکیجئےکہ اس سےزیادہ خطرناک عمل کیا ہوسکتاہے؟ مزید برآں افسوس کی بات یہ ہےکہ عرب ممالک کےمسلمانوں پرمغربی تہذیب اور تمدن کا غلبہ ہم سےبہت زیادہ ہے- ہم ان سےبہت پہلےمغرب سےمغلوب ہوئےتھےلیکن اتنےمتاثرہم نہیں ہوئےجتنےکہ وہ ان سےمتاثر ہوئے، درانحالیکہ وہ ہمارےبعد مغلوب ہوئے- جتنی ریاستیں اس وقت عرب ممالک میں ہیں، ان کےکارفرمازیادہ ترمغربی ذہن کےلوگ ہیں اورایسا عملی کام وہاں بہت کم ہورہا ہےجواسلام کےنقطہ نظرکےٹھیک مطابق ہو- تاہم وہاں بھی کام ہورہا ہے اوریہ خیال کرنا کہ وہاں کام بالکل نہیں ہورہ ہے، غلط ہے- ہم یہ چاہتےہیںکہ وہاں جوکام ہورہا ہے اس کا مفید حصہ اردو اوربنگلہ میں منتقل کریں تاکہ وہاں کی تحقیقات سےیہاں استفادہ ممکن ہوسکے- اسی طرح جوکچھ ہم یہاں کریں، اس کوعربی کےذریعےوہاں منتقل کریں تاکہ یہ ایک مشترک ذخیرہ بن سکےاوردوسرےمسلمان ملکوں میں بھی ایک صحیح اسلامی ذہن پرورش پاسکے- وہاں کےکارفرمابھی اس بات پرمطمئن ہوسکیں کہ اسلام کوچلایا جاسکتاہےاوران کےاندریہ جذبہ پیدا ہوکہ وہ اس کوچلائیں اوران کوبھی وہ طریقہ معلوم ہو، جس سے اسلام کوچلایا جاسکے- اس ضرورت کوہم بھی پوراکرنےکی کوشش کررہےہیں اورعرب ممالک کےبھی بعض حصوں میں یہ کام ہورہا ہے-

انگریزی میں اس کام کی متعدد وجوہ سےضرورت ہےاورآپ خود بھی محسوس کرتےہوں گےکہ انگریزی میں اس چیزکا ہونانہایت ضروری ہے- اول تو خود ہمارےملک کابالائی طبقہ انگریزی زبان کےسوا کسی دوسری زبان میں کچھ پڑھنےکےلئےتیارنہیں ہےاوران میں سےایک اچھا خاصا گروہ ایسا ہےجو پڑھنے کےقابل بھی نہیں ہےاورہمارےاونچےطبقےمیں کچھ ایسےلوگ بھی موجود ہیں، جن کےلئےاردوزبان میں اپنا نام لکھنا بھی مشکل ہے- پچھلےدنوں ہمارےملک کےایک بہت بڑےآدمی کویہ خیال پیدا ہوا کہ ان کےصاحبڑادےجوانجینئرہیں، ان کوکچھ اسلام سےواقفیت حاصل ہو- چنانچہ ایک صاحب ان کو اسلامی کی تعلیم دینےکےلئےمقررکئےگئے- معلوم یہ ہوا کہ وہ اردوزبان میں کوئی دینی تعلیم حاصل نہیں کرسکتے کیونکہ اردوزبان میں وہ کچھ پڑھ ہی نہیں سکتے- لامحالہ ان کوانگریزی میں تعلیم دینےکی ضرورت پیش آئی، حالانکہ وہ اسی ملک میں پیدا ہوئے ہیں اوراسی ملک میں ان کاپورا خاندان آباد ہے- لیکن وہ اس ملک کی زبان سےواقف نہیں تھےکہ دین کی تعلیم اردومیں حاصل کرسکیں- اس کےبعد کوشش کی گئی کہ کسی طرح وہ کم ازکم قرآن مجید پڑھنےکےقابل ہوجائیں توان کواس قابل بنانےمیں ایک مہینہ لگا کہ وہ بسم اللہ الرحمن الرحیم اورسورۂ فاتحہ پڑھ سکیں- وہ بےچارےکافی دنوں تک یہ کہتےرہےکہ میری سمجھ میں نہیں آتاکہ یہ الٹا کیسےلکھاہواہے- یعنی جوسیدھا ہےان کےنزدیک الٹا ہے- چونکہ ساری عمران کی بائیں سےدائیں لکھنےاور پڑھنےمیں گذری ہے- اس لئےدائیں سےبائیں جوکچھ لکھا اورپڑھاجاتاتھا ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا- ان کےسرمیںدرد ہونےلگتاتھا کہ بھلا کوئی زبان ایسےبھی لکھی جاتی ہے- یہ طبقہ ہمارےہاں موجود ہےاوریہی طبقہ ملک کےمعاملات کوچلا رہا ہے- اسی کےہاتھوں میں ملک کی باگیں ہیں- اب کہاں یہ لڑائی لڑنےجائیں کہ پہلےاردوسیکھوتوہم تمہیں دین سکھائیں گے- اس لئےہمیں ان کےلئےاس زبان میں بھی مواد فراہم کرنا ہےجس میں وہ سیکھ سکتےہیں تاکہ کم ازکم ان کےعقیدےاورایمان کوتوبچایا جاسکے-

اس کےعلاوہ باہرکےملکوں میں اگرآپ اسلام کی تعلیم کوپھیلانا چاہیں توکم ازکم ہمارےلئےانگریزی ہی وہ واسطہ ہےکہ جس کےذریعہ ہم یہ خدمت انجام دےسکتےہیں- یوں توتنہاایک انگریزی ہی بین الاقوامی زبان نہیں ہے، دوسری زبانیں بھی ہیں جن میں اسلام کےمتعلق لڑیچرتیارکرنےکی ضرورت ہے- لیکن فی الوقت ہمارےپاس انگریزی کےسواکسی اورزبان میں نشرواشاعت کےذرائع نہیں اوراگرایک مرتبہ انگریزی زبان میں اسلامی علوم کوان کی صحیح شکل میں پیش کردیا جائےتواس کےبعد دنیا کی تمام زبانوں میں ترجمےہونےکا امکان ہے- دوسری زبانوں میں اسلام کی دعوت پہنچانےکاکام اللہ کےدوسرےبندےکریں گے- بالفعل ہماری کوشش یہ ہونی چاہیےکہ انگریزی زبان میں اسلام کےمتعلق صحیح معلومات بہم پہنچائی جاسکیں- یہ دنیا میں اسلام کی تروایج کاایسا ذریعہ ہےجسےپوری طرح استعمال کئےجانےکی شدید ضرورت ہے-

:5 - ہمارےپیش نظراس کےساتھ ساتھ دوکام اوربھی ہیں اگرچہ اہمیت میں کم ہی سمجھےجائیں لیکن فی الواقع ان کی بھی بڑی ضرورت ہے-

ایک کام یہ ہےکہ دنیاکےمختلف حصوں میں جومسلمانوں کی آبادیاں منتشرہیں، وہاں ان کی نئی نسلوں کےاتدادکاخطرہ پیداہوگیا ہے- مثلاریسٹ انڈیزمیں اوردوسرےدوردرازکےجزائرمیں- خودامریکا، کینیڈا اورجنوبی امریکاکےمختلف حصوں میں جومسلمان آبادیوں ہیں وہ منتشرہیں، وہاں وہ اقلیت میں ہیں- کفارکی حکومت بھی ہےاوراکثریت بھی ہے- ان کےیہاں تعلیم کاساراغیراسلامی ہے- مسلمانوں کی تعلیم کاکوئی خاص الگ انتظام نہیں ہے- مسلمانوں کی نئی نسلیں روزبروزغیرمسلم اکثریت میں جذب ہوتی چلی جارہی ہیں- ان کواسلام کےبارےمیں اس کےسواکچھ نہیں معلوم کہ ہم مسلمانوں کی اولادہیں اوراس لئےہم مسلمان ہیں- ہم چاہتےہیں کہ ان کی ضروریات کےمطابق کجھ مختصرنصاب ایسا تیارکردیاجائےکہ کم ازکم وہاں کی جو نئی مسلمان نسلیں ہیں، وہ مسلمان رہ سکیں اوران کواسلام کےمتعلق ضروری معلومات حاصل ہوسکیں-

دوسراضروری کام یہ ہےکہ مختلف ،علاقوں میں اسلام کی تبلیغ کی کوششوں کےنتیجےمیں جو افراداسلام قبول کرلیں، ان کو اسلام کےمتعلق ضروری معلومات فراہم کی جائیں- اس کےبغیرکوئی امکان نہیں ہےکہ وہ اسلام قبول کرنےکےبعدبھی ایک مسلمان کی سی زندگی بسرکرنےکےقابل ہوسکیں-

اس مقصدکےلئےایک ایسامختصرسانصاب تیارکرنےکی ضرورت ہےجوضروری فقہی مسائل پرمشتمل ہوسکیں- وہ جان سکیں کہ طہارت اورنجاست کیا چیزیں ہیں اوران میں کیا فرق ہے، طہارت کیسےحاصل کی جائے، نمازکیسےپڑھی جائے، روزےکےاحکام کیا ہیں، زکوۂ کےاحکام کیا ہیں- اس کےساتھ ہی ان کواس قابل بنادیاجائےکہ وہ خوداسلام کےمبلغ بن سکیں- ان کوایساموادفراہم کرکےدیا جائےجس سےوہ اسلام کوٹھیک ٹھیک سمجھیں اوراس کی تبلیغ کرسکیں- اس مقصد کسلئےبھی کچھ چیزیں تیارکرنا ہمارےپیش نظرہےاورہم یہ چاہتےہیں کہ انگریزی کےماسوادوسری زبانوں میں بھی اس کا انتظام ہو سکے- مثلا سواحلی اورہاؤسازبانوں میں بھی، تاکہ افریقہ میں یہ چیزیں پھیل سکیں- جیسےجیسےدوسری جتنی زبانوں میں یہ کام کرنےکےامکانات ہوتےجائیں گے، انشاء اللہ ان سےفائدہ اٹھایا جائےگا-

یہ اس کام کا ایک مختصرسانقشہ ہےجوادارہ معارف اسلامی کےقیام میں ہمارےپیش نظرہے- ہم نےیہ کام جس غرض کےلئےشروع کیا ہےاورجس ضرورت کوسامنےرکھ کرشروع کیا ہےاس کی وضاحت مختصرطورسےمیں نےآپ کےسامنےکردی ہے-

میں یہ چاہتاہوں کہ آپ میں سےہرایک کےدل میں اس کام کےلئےہمدردی کاجذبہ پیدا ہو- پمدردی کا جذبہ پیدا ہونےکےبعداب یہ ہرشخص کےخود فیصلہ کرنےکاکام ہےکہ وہ اس میں کس کس طرح سےحصہ لے- اگرکوئی اپنی دماغی قابلیت اس کام میں صرف کرنےکےلئےتیارہوتوہم بڑی خوشی سےاس کا خیرمقدم کریں گےکہ یہ کسی خاص گروہ کاکام نہیں ہے- اس ادارےکےدروازےہراس شخص کےلئےکھلےہوئےہیں جو اسلام پر ایمان رکھتاہےاوراپنی دماغی قابلیت اوراپنی ذہانت اورمعلومات صرف کرکےاس کام میں ہمارا ہاتھ بٹانےکوتیارہے- یہ ہماری سب سےبڑی ضرورت ہےاورجتنےلوگ بھی ہمارےساتھ شریک ہوں ہم ان کےشکرگذاربھی ہوں گےاوراللہ تعالی سےان کےحق میں اجرکی دعا بھی کریں گے-

جولوگ اس معاملہ میں مادی ذرائع سےہماری مددکریں گےاللہ تعالی ان کوبھی اجردےگا- ہمارےپیش نظرجوکام ہےاس کےپس پشت کوئی ذاتی غرض نہیں- ہمارا کام اسی دین کےلئےہےجس کےماننےوالےباقی سب ہیں- جوجن ذرائع سےبھی اورجوبھی مدد کرسکتاہو، اس کا یہ فرض ہےکہ وہ اس میں کمی نہ کرے- ہمارےساتھ جوکم سےکم تعاون ہوسکتاہے، وہ یہ ہےکہ اس ادارہ کےحق میں اگراورکچھ نہیں تو کم ازکم ایک کلمہ خیرہی کہہ دیں، بلکہ اگرکوئی شخص اس کام کوبرائی سےیاد نہیں کرتا اوراس کےمتعلق بدگمانی پھیلانےکی کوشش نہیں کرتا، وہ بھی ہمارےاوپرمہربانی کرتاہے اوراللہ تعالی اس کوبھی اس مہربانی کااجرعطاکرےگا-

یہ اس مقصدکامختصربیان ہےجس کےلئےیہ ادارہ قائم کیاگیا ہے اوراس کام میں ہاتھ بٹانےکےلئےمختصردعوت ہے- مجھےتوقع ہےکہ جوباتیں میں نےآپ سےعرض کی ہیں ان پرغورکریں گےاورجواصحاب جس حد تک بھی ہمارےساتھ ہمدردی کرسکتےہیں، اس میں دریغ نہیں کریں گے-

ماخذ: تہذ یبی کشمکش میں علم وتحقیق کاکردار

مصنف: مولاناابوالاعلی مودودی

پبلشرز: ادارہ معارف اسلامی کراچی

ایڈیشن:1

تاریخ اشاعت: May 1, 2006

ریڈنگ کاؤنٹر: 17

ٹیگ: Knowledge