June 1, 2000
آپ کو معلوم ہےکہ انسان کا دائرہ اسلام میں ایک کلمہ پڑھ کرداخل ہوتاہے' اوروہ کلمہ بھی کچھ بہت زیادہ لمبا چوڑا نہیں ہے' صرف چند الفاظ ہیں:
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
ان الفاظ کوزبان سےادا کرتےہی آدمی کچھ سےکچھ ہوجاتاہے- پہلےکافرتھا' اب مسلمان ہوگیا- پہلےناپاک تھا'اب پاک ہوگیا- پہلےخدا کےغضب کا مستحق تھا' اب اس کا پیارا ہوگیا- پہلےدوزخ میں جانےوالا تھا' اب جنت کا دروازہ اس کےلیےکھل گیا-
اوربات صرف اتنےہی پرنہیں رہتی- اسی کلمےکی وجہ سےآدمی اورآدمی میں بڑا فرق ہو جاتا ہے- جو اس کلمے کےپڑھنےوالےہیں' وہ ایک امت ہوتےہیں اورجو اس سےانکار کرتےہیں' وہ دوسری امت ہوجاتےہیں- باپ اگر کلمہ پڑھنےوالا ہےاوربیٹا اس سے انکار کرتا ہےتوگویا باپ'باپ نہ رہااوربیٹا ' بیٹا نہ رہا- باپ کی جایداد سےاس بیٹےکوورثہ نہ ملےگا- ماں اوربہنیں تک اس سےپردہ کرنےلگیں گی گویا کلمہ ایسی چیز ہےکہ غیروں کو ایک دوسرےسےملا دیتی ہے' اور اپنوں کوایک دوسرےسےکاٹ دیتی ہے- حتی کہ اس کلمہ کا زوراتنا ہےکہ خون اوررحم کےرشتےبھی اس کےمقابلے میں کچھ نہیں-
اب ذرااس بات پرغورکروکہ یہ اتنا بڑا فرق جوآدمی اورآدمی میں ہوجاتاہے' یہ آخرکیوں ہوتاہے؟ کلمہ میں ہےکیا؟ صرف چند حرف ہی تو ہیں- لام ' الف' ہ 'م 'و' س' اورایسےہی دوچار حروف اور- ان حرفوں کوملا کراگرمنہ سےنکال دیا توکیا کوئی جادوہوجاتاہےکہ آدمی کا کایاپلٹ جائے؟ آدمی اورآدمی میں کیا بس اتنی سی بات سےزمین وآسمان کافرق ہوسکتاہے؟
میرےبھائیو' تم ذارسمجھ سےکام لوگےتو تمھاری عقل خود کہہ دےگی ' کہ فقط منہ کھولنےاورزبان ہلا کرچند حرف بول دینےکی اتنی بڑی تاثر نہیں ہوسکتی – بت پرست ' مشرک لوگ توضرورسمجھتےہیں کہ بس ایک منتر پڑھ دینےسےپہاڑ ہل جائےگا' زمین شق ہوجائےگی اورچشمےابلنےلگیں گے' چاہےمنتر کےمعنی کی کسی کوخبر نہ ہو- کیونکہ وہ سمجھتےہیں کہ ساری تاثر بس حرفوں میں ہے' وہ زبان سےنکلےاورطلسمات کےدروازےکھل گئے- مگراسلام میں یہ بات نہیں ہے- یہاں اصل چیزمعنی ہیں- الفاظ کی تاثر معنوں سےہے- معنی اگرنہ ہوں اوروہ دل میں نہ اتریں-اوران کےزورسےتمہارےخیالات۔ تمھارےاخلاق اورتمھارےاعمال نہ بدلیں' تو نرےالفاظ بول دینےسےکچھ بھی اثر نہ ہوگا-اس بات کو میں ایک موٹی سی مثال سےسمجھاؤں:
بس یہی حال کلمہ طیبہ کا ہے- فقط چھ سات لفظ بول دینےسےاتنا بڑا فرق نہیں ہوتا کہ آدمی کافرسےمسلمان ہوجائے' ناپاک سےپاک ہوجائے' مردود سےمحبوب بن جائے اوردوزخی سےجنتی بن جائے- یہ فرق صرف اس طرح ہوگا کہ پہلےان الفاظ کامطلب سمجھو اوروہ مطلب تمھارےدل میں اترجائے- پھر مطلب کوجان بوجھ کرجب تم ان الفاظ کو زبان سےنکالوتوتمھیں اچھی طرح یہ احساس ہوکہ تم اپنےخدا کےسامنےاورساری دنیا کےسامنےکتنی بڑی بات کا اقرار کررہےہو- اوراس اقرار سےتمھارےاوپرکتنی بڑی ذمہ داری آگئی ہے-
پھریہ سمجھتےہوئے جب تم نے اقرارکرلیا تواس کےبعد تمھارےخیالات پراورتمھاری ساری زندگی پراس کلمہ کا قبضہ ہوجاناچاہیے۔ پھرتم کواپنےدل ودماغ میں کسی ایسی بات کوجگہ نہ دینی چاہیے۔ جو اس کلمہ کےخلاف ہو- پھرتم کو ہمیشہ کےلیےبالکل فیصلہ کرلینا چاہیے۔ کہ جوبات اس کلمہ کےخلاف ہےوہ جھوٹی ہےاوریہ کلمہ سچا ہے-
پھرزندگی کےسارےمعاملات میں یہ کلمہ تمھارا حاکم ہونا چاہیے- اس کلمہ کا اقرار کرنےکے بعد تم کافروں کی طرح آزاد نہیں رہےکہ جوچاہوکرو' بلکہ اب تم اس کلمہ کےپابند ہو- جو وہ کہےاس کو کرنا پڑےگا' اورجس سےمنع کرےاس کوچھوڑنا پڑےگا- اس طرح کلمہ پڑھنےسےآدمی مسلمان ہوتاہےاوراسی طرح کلمہ پڑھنےکی وجہ سےآدمی اورآدمی میں اتنابڑا فرق ہوتاہے۔ جس کا ذکر میں نےابھی کیا ہے-
آؤاب میں بتاؤں کہ کلمہ کا مطلب کیا ہے۔ اوراس کو پڑھ کرآدمی کس چیزکا اقرار کرتاہے۔ اوراس کا اقرار کرتےہی آدمی کس چیز کاپابندہوجاتاہے-
کلمہ کےمعنی یہ ہیں کہ : اللہ کےسواکوئی اورخدا نہیں ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں-
کلمہ میں الہ کا جو لفظ آیا ہے۔ اس کےمعنی ''خدا'' کےہیں- خدا اس کو کہتےہیں جو مالک ہو۔ حاکم ہو۔ خالق ہو۔ پالنےاورپوسنےوالا ہو۔ دعاؤں کا سننےاورقبول کرنےوالا ہواور اس کا مستحق ہو کہ اس کی عبادت کی جائے- اب جو تم نے لا الہ الا اللہ کہا تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اول تو تم نےیہ اقرار کیا کہ یہ دنیا نہ تو بےخدا کی بنی ہے۔ اورنہ ایسا ہی ہےکہ اس کےبہت سےخدا ہوں- بلکہ دراصل اس کا خدا ہے۔ اوروہ خدا ایک ہی ہے۔ اور اس ایک ذات کےسوا خدائی کسی کی نہیں ہے-
دوسری بات جس کا تم نےکلمہ پڑھتےہی اقرار کیا وہ یہ ہے۔ کہ وہ ایک خدا تمھارا اورسارےجہان کا مالک ہے- تم اور تمھاری ہر چیز اوردنیا کی ہرشےاس کی ہے۔ خالق وہ ہے۔ رازق وہ ہے۔ موت اور زندگی اس کی طرف سےہے۔ مصبیت اورراحت بھی اسی کی طرف سےہے- جو کچھ کسی کو ملتا ہے، اس کو دینےوالا حقیقت میں وہ ہے۔ اورجو کچھ کسی سےچھینا جاتاہے اس کا چھیننےوالا بھی حقیقت میں وہی ہے- ڈرنا چاہیےتو اس سے۔ مانگنا چاہیےتو اس سے۔ سرجھکانا چاہیے تو اس کےسامنے۔ عبادت اوربندگی کی جائے تو اس کی- اس کےسواہم کسی کےبندےاورغلام نہیں اوراس کے سوا کوئی ہمارا آقا اورحاکم نہیں- ہمارا اصل فرض یہ ہےکہ اسی کا حکم مانیں اوراسی کےقانون کی پیروی کریں-
یہ عہد وپیمان ہے جو لا الہ الا اللہ پڑھتےہی تم اپنے خدا سےکرتے ہواورساری دنیا کو گواہ بنا کر کرتےہو-
اس کی خلاف ورزی کروگے توتمھاری زبان۔ تمھارے ہاتھ پاؤں ۔ تمھارا رونگٹا رونگٹا ۔ اورزمین و آسمان کا ذرہ ذرہ جس کےسامنے تم نےجھوٹا اقرارکیا- تمھارےخلاف خدا کی عدالت میں گواہی دےگا- اورتم ایسی بے بسی کےعالم میں وہاں کھڑےہوگے کہ ایک بھی گواہ تم کو صفائی پیش کرنےکےلیےنہ ملےگا- کوئی وکیل یا بیرسٹروہاں تمھاری طرف سے پیروی کرنےوالا نہ ہوگا- بلکہ خود وکیل صاحب اوربیرسٹرصاحب جو دنیا کی عدالتوں میں قانون کی الٹ پھیرکرتےپھرتےہیں یہ بھی وہاں تمھاری ہی طرح بےبسی کےعالم میں کھڑےہوں گے- وہ عدالت ایسی نہیں ہےجہاں تم جھوٹی گواہیاں اورجعلی دستاویزیں پیش کرکےاورغلط پیروی کرکےبچ جاؤ گے- دنیا کی پولیس سےتم اپنا جرم چھپا سکتےہو' خدا کی پولیس سےنہیں چھپا سکتے- دنیا کی پولیس رشوت کھا سکتی ہے۔ خدا کی پولیس رشوت کھانےوالی نہیں- دنیا کےگواہ جھوٹ بول سکتےہیں۔ خدا کےگواہ بالکل سچے ہیں- دنیا کےحاکم بےانصافی کرسکتےہیں۔ خدا ایسا حاکم نہیں جو بےانصافی کرے- پھرخدا جس جیل میں ڈالےگا اس سےبچ کر بھاگنےکی بھی کوئی صورت نہیں ہے-
خدا کےساتھ جھوٹا اقرار نامہ کرنا بہت بڑی بےوقوفی ہے- [ اس لیے] جب اقرار کرتےہو توخوب سوچ سمجھ کرکرواوراس کوپورا کرو- ورنہ تم پر کوئی زبردستی نہیں ہے کہ خواہ مخواہ زبانی ہی اقرار کرلو- کیونکہ خالی خولی زبانی اقرار محض بےکار ہے-
لا الہ الا اللہ کہنےکےبعد تم محمد رسول اللہ کہتےہو- اس کےمعنی یہ ہیں کہ
تم نےیہ تسلیم کرلیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ پیغمبر ہیں جن کےذریعےسےخدا نےاپنا قانون تمھارے پاس بھیجاہے-
خدا کو اپنا آقا اورشہنشاہ مان لینےکےبعد یہ معلوم ہونا ضروری تھا کہ اس شہنشاہ کےاحکام کیا ہیں؟ ہم کون سےکام کریں جن سےوہ خوش ہوتا ہےاورکون سےکام نہ کریں جن سےوہ ناراض ہوتا ہے؟ کس قانون پرچلنےسےوہ ہم کو بخشےگا اور اس کی خلاف ورزی کونےپروہ ہم کوسزا دےگا- یہ سب باتیں بتانےکےلیے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کواپنا پیغام بر مقررکیا- آپ کےذریعےسےاپنی کتاب ہمارےپاس بھیجی اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم نےخدا کےحکم کےمطابق زندگی بسرکرکےہم کو بتادیا کہ مسلمانوں کو اس طرح زندگی بسر کرنی چاہیے-
پس' جب تم نے' محمد رسول اللہ ' کہا توگویا اقرار کرلیا کہ جوقانون اورجو طریقہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نےبتایا ہے' تم اسی کی پیروی کروگے- اورجوقانون اس کےخلاف ہےاس پرلعنت بھیجوگے- یہ اقرار کرنےکےبعد اگر تم نےحضور صلی اللہ علیہ وسلم کےلائے ہوئے قانون کو چھوڑ دیا اوردنیا کےقانون کومانتےرہےتوتم سےبڑھ کرجھوٹا اوربےایمان کوئی نہ ہوگا – کیونکہ ۔ تم یہی اقرار کرکےتواسلام میں داخل ہوئےتھےکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا لایا ہوا قانون ' حق ہےاور اسی کی تم پیروی کروگے- اسی اقرار کی بدولت توتم مسلمانوں کےبھائی بنے- اسی کی بدولت تم نے باپ سے ورثہ پایا- اسی کی بدولت ایک مسلمان عورت [یامرد] سےتمھارا نکاح ہوا- اسی کی بدولت تمھاری جائزاولاد بنی- اسی کی بدولت تمھیں یہ حق ملا کہ تمام مسلمان تمھارے مددگار بنیں ۔ تمھیں زکوۂ دیں ' تمھاری جان و مال اورعزت و آبرو کی حفاظت کا ذمہ لیں' اوران سب کےباوجود تم نےاپنا اقرار توڑدیا- اس سےبڑھ کردنیا میں کون سی بےایمانی ہوسکتی ہے؟
اگرتم لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کےمعنی جانتےہواور جان بوجھ کراس کا اقرار کرتےہو توتم کوہرحال میں خدا کےقانون کی پیروی کرنی چاہیے ۔ خواہ اس کی پیروی پرمجبور کرنےوالی کوئی پولیس اورعدالت اس دنیا میں نظرنہ آتی ہو- جو شخص یہ سمجھتا ہےکہ خدا کی پولیس اورفوج اورعدالت اورجیل کہیں موجود نہیں ہے' اس لیےاس کےقانون کوتوڑنا آسان ہے' اورگورنمنٹ کی پولیس۔ فوج۔ عدالت اورجیل موجود ہےاس لیےاس کےقانون کوتوڑنا مشکل ہے- ایسےشخص کےمتعلق میں صاف کہتاہوں کہ وہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا جھوٹا اقرارکرتاہے- [وہ] اپنےخدا کو۔ ساری دنیا کو۔ تمام مسلمانوں کواور خود اپنے نفس کودھوکا دیتا ہے-
بھائیو اوردوستو۔ ابھی میں نےتمھارےسامنےکلمہ ء طیبہ کےمعنی بیان کیےہیں- اب اسی سلسلے میں۔ میں ایک اور پہلوکی طرف توجہ دلاتا ہوں-
تم اقرار کرتےہوکہ اللہ تمھارا اورہرچیز کا مالک ہے۔ اس کےکیا معنی ہیں؟ اس کےمعنی یہ ہیں کہ تمھاری جان اپنی نہیں ۔ خدا کی ملک [ ملکیت] ہے- تمھارےہاتھ اپنےنہیں- تمھاری آنکھیں اورتمھارےکان اور تمھارےجسم کا کوئی عضوتمھارا اپنا نہیں- یہ زمینیں جن کو تم جو تتےہو۔ یہ جانور جن سےتم خدمت لیتےہو۔ یہ مال واسباب جن سےتم فائدہ اٹھاتے ہو۔ ان میں سےبھی کوئی چیزتمھاری نہیں- ہرچیز خدا کی ملک ہےاورخدا کی طرف سےعطیہ کے طور پر تمھیں ملی ہے-اس بات کا اقرار کرنےکےبعد تمھیں یہ کہنےکا کیا حق ہےکہ جان میری ہے۔ دوسرےکو مالک کہنا اورپھراس کی چیزکواپنی قرار دینا ۔ بالکل ایک لغوبات ہے-
اگردرحقیقت یہ بات سچےدل سےمانتےہو کہ ان سب چیزوں کا مالک خدا ہی ہےتو اس سےدوباتیں خودبخود تم پر لازم ہوجاتی ہیں-
ایک یہ کہ جب مالک خدا ہےاوراس نےاپنی ملکیت امانت کےطورپرتمھارے حوالےکی ہے۔ توجس طرح مالک کہتا ہے اسی طرح تمھیں ان چیزوں سےکام لینا چاہیے- اس کی مرضی کےخلاف ان سےکام لیتےہو تو دھوکا بازی کرتےہو- تم اپنےان ہاتھوں اور پاؤں کو بھی اس کی پسند کےخلاف ہلانےکا حق نہیں رکھتے- تم ان آنکھوں سےبھی اس کی مرضی کےخلاف دیکھنےکاکام نہیں لےسکتے- تم اس پیٹ میں بھی ایسی چیزڈالنےکا حق نہیں ہے جو اس کی مرضی کےخلاف ہو- تمھیں ان زمینوں اوران جایدادوں پربھی مالک کےمنشا کےخلاف کوئی حق حاصل نہیں ہے- تمھاری بیویاں [ یا شوہر] جن کو تم اپنی کہتےہو اورتمھاری اولاد جن کو تم اپنی کہتےہو۔ یہ بھی صرف اس لیے تمھاری ہیں کہ تمھارےمالک کی دی ہوئی ہیں- لہذا تم کو ان سےبھی اپنی خواہش کےمطابق نہیں۔ بلکہ مالک کےحکم کےمطابق ہی برتاؤ کرنا چاہیے-
اگر اس کےخلاف کروگے توتمھاری حیثیت غاصب کی ہوگی- جس طرح دوسرےکی زمین پرقبضہ کرنےوالےکوتم کہتےہو کہ وہ بےایمان ہے۔ اسی طرح اگر خدا کی دی ہوئی چیزوں کوتم اپنا سمجھ کراپنی مرضی کےمطابق استعمال کروگے' یا خدا کےسوا کسی اورکی مرضی کےمطابق ان سےکام لوگےتووہی بےایمانی کا الزام تم پربھی آئےگا-
اگرمالک کی مرضی کےمطابق کام کرنےمیں کوئی نقصان ہوتاہے توہوا کرے- جان جاتی ہے توجائے-ہاتھ پاؤں ٹوٹتےہیں تو ٹوٹیں- اولاد کا نقصان ہوتاہےتوہو- مال وجایدادبرباد ہوتوہوا کرے- تمھیں کیوں غم ہو؟ جس کی چیز ہےوہی اگرنقصان پسند کرتاہو تو اس کا حق ہے-
ہاں' اگر مالک کی مرضی کےخلاف تم کام کرواوراس میں کسی چیز کانقصان ہوتو بلاشبہ تم مجرم ہوگے-کیونکہ دوسرےکےمال کوتم نےخراب کیا – تم خود اپنی جان کےمختار نہیں ہو- مالک کی مرضی کےمطابق جان دوگے تومالک کا حق ادا کردوگے- اس کےخلاف کام کرنےمیں جان دوگے تو یہ بے ایمانی ہو گی-
دوسری بات یہ ہےکہ مالک نےجو چیزتمھیں دی ہے۔ اس کو اگرتم مالک ہی کےکام میں صرف کرتےہو تو کسی پراحسان نہیں کرتے- نہ مالک پراحسان ہے۔ نہ کسی اور پر – تم نےاگراس کی راہ میں کچھ دےدیا ۔ یا کچھ خدمت کی ۔ یا جان دےدی۔ جو تمھارےنزدیک بہت بڑی چیز ہے- تب بھی کوئی احسان کسی پر نہیں کیا- زیادہ سےزیادہ جو کام تم نے کیا وہ بس اتنا ہی تو ہے کہ مالک کا حق جو تم پرتھا وہ تم نےادا کردیا – یہ کون ایسی بات ہےجس پر کوئی پھولےاورفخر کرےاوریہ چاہےکہ اس کی تعریفیں کی جائیں اوریہ سمجھے کہ اس نے کوئی بہت بڑا کام کیا ہے- جس کی بڑائی تسلیم کی جائے؟
یادرکھو۔ کہ سچا مسلمان مالک کی راہ میں کچھ صرف کرنےیا کچھ خدمت کرنےکےبعد پھولتانہیں ہے۔ بلکہ خاکساری اختیار کرتاہے- فخر کرنا کار خیر کو برباد کردیتاہے- تعریف کی خواہش جس نےکی اوراس کی خاطرکوئی کارخیر کیا۔ وہ خدا کےہاں کسی اجر کا مستحق نہ رہا- کیونکہ اس نےتو اپنےکام کا معاوضہ دینا ہی میں مانگا اوریہیں اس کو مل بھی گیا-
بھائیو ۔ اپنےمالک کا احسان دیکھو کہ اپنی چیز تم سےلیتا ہے۔ اورپھریہ کہتا ہےکہ یہ چیز میں نےتم سےخریدی ہے اور اس کا معاوضہ میں تمھیں دوں گا- اللہ اکبر! اس شان جو دوکرم کا بھی کوئی ٹھکانا ہے-
یہ تو مالک کا برتاؤ تمھارےساتھ ہے- اب ذار اپنا برتاؤ بھی دیکھو-
جوچیز مالک نےتم کودی تھی، اورجس کو مالک نےپھرتم سےمعاوضہ دے کرخرید بھی لیا، اس کوغیروں کےہاتھ بیچتےہو- نہایت ذلیل معاوضے لےلےکربیچتے ہو- وہ مالک کی مرضی کےخلاف تم سےکام لیتےہیں اورتم یہ سمجھ کران کی خدمت کرتےہو کہ گویا رازق وہ ہیں – تم اپنےدماغ بیچتے ہو، اپنےہاتھ پاؤں بیچتےہو، اپنےجسم کی طاقتیں بیچتے ہو، اور وہ سب کچھ بیچتے ہو، جس کوخدا کےباغی خریدنا چاہتےہیں- اس سےبڑھ کر بداخلاقی اورکیا ہو سکتی ہے؟
بیچی ہوئی چیزکو بیچنا قانونی اوراخلاقی جرم ہے- دنیا میں اس پردغا بازی اورفریب دہی کا مقدمہ چلایا جاتا ہے، کیا تم سمجھتےہوکہ خدا کی عدالت میں اس پرمقدمہ نہیں چلایا جائےگا؟ [ تدوین : س م خ]
بدی کا مقابلہ محض نیکی سےنہیں
بلکہ اس نیکی سےکروجوبہت اعلی درجے کی ہو
یعنی کوئی شخص تمھارےساتھ برائی کرے۔
اورتم اس کومعاف کردوتو یہ محض نیکی ہے-
اعلی درجےکی نیکی یہ ہےکہ
جو تم سےبراسلوک کرےتم موقع آنےپر اس کےساتھ احسان کرو- (تہفیم القرآن ، ج 4ص 457)
ایک آدمی
بیک وقت مومن اور منافق ، سچا اورجھوٹا ، بد کاراورنیکوکارنہیں ہوسکتا اس کےسینےمیں دودل نہیں ہیں، کہ ایک دل میں اخلاص ہو، اور دوسرےمیں خدا سےبےخوفی-
لہذا
ایک وقت میں آدمی کی ایک ہی حیثیت ہوسکتی ہے، یا تو وہ مومن ہوگا یا منافق- اب اگر تم کسی مومن کومنافق کہہ دویا منافق کومومن تواس سےحقیقت نفس الامری نہ بدل جائےگی اس شخص کی اصل حیثیت لازما ایک ہی رہےگی (تفہیم القرآن ج۔ 4 ص 69)
دنیا کوآیندہ دورظلمت کےخطرےسےبچانےاوراسلام کی نعمت سےبہرہ ورکرنےکےلیےصرف اتنی بات کافی نہیں ہےکہ یہاں صحیح نظریہ موجود ہے- صحیح نظریےکےساتھ ایک صالح جماعت کی بھی ضرورت ہے- اس کےلیےایسےلوگ درکار ہیں جو اس نظریہ پر سچا ایمان رکھتےہوں-
ان کو سب سےپہلےاپنےایمان کا ثبوت دینا ہوگا اوروہ صرف اسی طرح دیا جاسکتاہےکہ وہ جس اقتدار کوتسلیم کرتےہوں اس کےخود مطیع بنیں، جس ضابطےپرایمان لاتےہیں اس کےخود پابندہوں، جس اخلاق کو صحیح کہتےہیں اس کا خود نمونہ بنیں، جس چیز کو فرض کہتےہیں اس کا خود التزام کریں، اورجس چیز کو حرام کہتےہیں اسےخود چھوڑیں- اس کےبغیرتوان کی صداقت آپ ہی مشتبہ ہوگی کجا کہ کوئی ان کےآگےسر تسلیم خم کرے-
پھران کو اس فاسد نظام تہذیب وتمدن وسیاست کےخلاف عملا بغاوت کرنی ہوگی، اس سےاور اس کےپیرووں سےتعلق توڑنا ہوگا، ان تمام فائدوں ' لذتوں' آسائشوں' اورامیدوں کو چھوڑنا ہوگاجو اس نظام سےوابستہ ہوں' اوررفتہ رفتہ ان تمام نقصانات ' تکلیفوں' اورمصیبتوں کو برداشت کرنا ہوگاجونظام غالب کےخلاف بغاوت کرنےکالازمی نتیجہ ہیں-
پھر انھیں وہ سب کچھ کرنا ہوگا جو ایک فاسد نظام کےتسلط کومٹانےاورایک صحیح نظام قائم کرنےکےلیے ضروری ہے- اس انقلاب کی جدوجہد میں اپنا مال بھی قربان کرنا ہوگا' اپنےاوقات عزیز بھی صرف کرنےپڑیں گے' اپنے دل و دماغ اورجسم کی ساری قوتوں سےبھی کام لینا پڑے گا- اورقید اورجلاوطنی اورضبط اموال اورتباہی اہل وعیال کےخطرات بھی سہنےہوں گے ، اوروقت پڑےتوجانیں بھی دینی پڑیں گی – ان راہوں سےگزرےبغیر دنیا میں نہ کبھی کوئی انقلاب ہوا ہے نہ اب ہوسکتاہے-
ایک صحیح نظریہ کی پشت پرایسےصادق الایمان لوگوں کی جماعت جب تک نہ ہو' محض نظریہ ' خواہ کتنا ہی بلند پایہ ہو' کتابوں کےصفحات سےمنتقل ہوکرٹھوس زمین میں کبھی جڑنہیں پکڑسکتا-( تحریک آزادی ھند اورمسلمان ' دوم 'ص 208)
ماخذ: کلمہ طیبہ کا پیغام
مصنف: مولاناابوالاعلی مودودی
پبلشرز: ادارہ معارف اسلامی کراچی
ایڈیشن:1
تاریخ اشاعت: June 1, 2000
ریڈنگ کاؤنٹر: 19