سلامتی کا راستہ

Jan. 1, 2002

( یہ خطبہ مئی 1940ء میں ریاست کپورتھلہ میں ہندوؤں' سکھوں اورمسلمانوں کےایک مشترکہ اجتماع کےسامنےپیش کیا گیاتھا)

ہستی باری تعالی

صاحبو'اگرکوئی شخص آپ سےکہےکہ بازارمیں ایک دوکان ایسی ہےجس کاکوئی دوکاندارنہیں ہے' نہ کوئی اس میں مال لانےوالا ہے' نہ بیچنےوالا ہےاورنہ کوئی اس کی رکھوالی کرتاہے' دوکان خودبخود چل رہی ہے' خود بخوداس میں مال آجاتاہےاورخودبخود خریداروں کےہاتھوں فروخت ہوجاتاہے' توکیا آپ اس شخص کی بات مان لیں گے؟ کیا آپ تسلیم کرلیں گےکہ کسی دوکان میں مال لانےوالےکےبغیرخودبخود بھی مال آسکتاہے؟ مال بیچنےوالےکےبغیرخودبخود فروخت بھی ہوسکتاہے؟ حفاظت کرنےوالےکےبغیرخودبخود چوری ' لوٹ سےمحفوظ بھی رہ سکتاہے؟ اپنےدل سےپوچھئےایسی بات آپ کبھی مان سکتےہیں؟ جس کےہوش وحواس ٹھکانےہوں کیا اس کی عقل میں یہ بات آسکتی ہےکہ کوئی دوکان دنیا میں ایسی بھی ہوگی؟

فرض کیجیے' ایک شخص آپ سےکہتاہےکہ اس شہرمیں ایک کارخانہ ہےجس کانہ کوئی مالک ہےنہ انجینئرنہ مستری ساراکارخانہ خود بخود قائم ہوگیا ہے' ساری مشینیں خود بن گئی ہیں' خود ہی سارےپرزےاپنی اپنی جگہ لگ گئےہیں' خود ہی سب مشینیں چل رہی ہیں اورخود ہی ان میں سےعجیب عجیب چیزیں بن بن کرنکلتی رہتی ہیں' سچ بتائیےجوشخص آپ سےیہ بات کہےگا' آپ حیرت سےاس کا منہ نہ تکنےلگیں گے؟ آپ کویہ شبہ نہ ہوگا کہ اس کادماغ کہیں خراب تونہیں ہوگیا ہے؟ کیا ایک پاگل کےسواایسی بیہودہ بات کوئی کہہ سکتاہے؟

دورکی مثال کوچھوڑئیے،یہ بجلی کابلب جوآپ کےسامنےجل رہا ہےکیا کسی کےکہنےسےآپ یہ مان سکتےہیں کہ روشنی اس بلب میں آپ سےآپ پیدا ہوجاتی ہے؟ یہ کرسی جوآپ کےسامنےرکھی ہے، کیا کسی بڑےسےبڑےفاضل فلسفی کےکہنےسےبھی آپ یہ باورکرسکتےہیں کہ یہ خودبخود بن گئی ہے؟ یہ کپڑےجوآپ پہنےہوئےہیں، کیا کسی علامئہ دہرکےکہنےسےبھی آپ یہ تسلیم کرنےکےلیےتیارہوسکتےہیں کہ ان کوکسی نےبنا نہیں ہےیہ خود بخود بن گئےہیں؟ یہ گھرجوآپ کےسامنےکھڑےہیں، اگرتمام دنیا کی یونیورسٹیوں کےپروفیسرمل کربھی آپ کویقین دلائیں کہ ان گھروں کوکسی نےنہیں بنایا ہےبلکہ یہ خود بخود بن گئےہیں، توکیا ان کےیقین دلانےسےآپ کوایسی لغوبات پریقین آجائےگا؟

یہ چند مثالیں آپ کےسامنےکی ہیں- رات دن جن چیزوں کوآپ دیکھتےہیں انہیں میں سےچند ایک میں نےبیان کی ہیں- اب غورکیجیےایک معمولی دوکان کےمتعلق جب آپ کی عقل یہ نہیں مان سکتی کہ وہ کسی قائم کرنےوالےکےبغیرچل رہی ہے' جب ایک ذرا سےکارخانےکےمتعلق آپ یہ ماننےکےلیےتیار نہیں ہو سکتےکہ وہ کسی بنانےوالےکےبغیربن جائےگا اورکسی چلانےوالےکےبغیرچلتارہےگاتویہ زمین وآسمان کا زبردست کارخانہ جوآپ کےسامنےچل رہاہے' جس پرچاند اورسورج اوربڑےبڑےستارےگھڑی کےپرزوں کی طرح حرکت کررہےہیں' جس میں سمندروں سےبھاپیں اٹھتی ہیں' بھاپوں سےبادل بنتےہیں' بادلوں کو ہوائیں اڑا کرزمین کےکونےکونےمیں پھیلاتی ہیں، پھران کومناسب وقت پرٹھنڈک پہنچا کردوبارہ بھاپ سےپانی بنایا جاتاہے' پھروہ پانی بارش کےقطروں کی صورت میں زمین پرگرایا جاتاہے' پھراس بارش کی بدولت مردہ زمین کےپیٹ سےطرح طرح کےلہلہاتےہوئےدرخت نکالےجاتےہیں، قسم قسم کےغلے' رنگ برنگ کےپھل اوروضع وضع کےپھول پیدا کیےجاتےہیں، اس کارخانےکےمتعلق آپ یہ کیسےمان سکتےہیں کہ یہ سب کچھ کسی بنانےوالےکےبغیرخود بخود چل رہا ہے؟ ایک ذرا سی کرسی ' ایک گزبھرکپڑے' ایک چھوٹی سی دیوار کےمتعلق کوئی کہہ دےکہ یہ چیزیں خود بنی ہیں تو آپ فورا فیصلہ کردیں گےکہ اس کا دماغ چل گیا ہےپھربھلا اس شخص کےدماغ کی خرابی میں کیا شک ہوسکتاہےجوکہتاہےکہ زمین خود بن گئی ' جانورخود پیدا ہوگئے' انسان جیسی حیرت انگیزچیزآپ سےآپ بن کرکھڑی ہوگئی؟

آدمی کا جسم جن اجزاسےمل کربنا ہےان سب کوسائنس دانوں نےالگ الگ کرکےدیکھا تو معلوم ہوا کہ کچھ کوئلہ ' کچھ گندھک ' کچھ فاسفورس ' کچھ کیلشیم' کچھ نمک' چند گیسیں اوربس ایسی ہی چند اورچیزیں جن کی مجموعی قیمت چند روپوں سےزیادہ نہیں ہےیہ چیزیں جتنےجتنےوزن کےساتھ آدمی کےجسم میں شامل ہیں' اتنےہی وزن کےساتھ انہیں لےلیجیئےاورجس طرح جی چاہےملا کردیکھ لیجیے'آدمی کسی ترکیب سے نہ بن سکےگا- پھرکس طرح آپ کی عقل یہ مان سکتی ہےکہ ان چند بےجان چیزوں سےدیکھتا' سنتا' بولتا' چلتا پھرتاانسان ' جوہوائی جہازاورریڈیوبناتاہے، کسی کاریگرکی حکمت کےبغیرخود بخود بن جاتاہے؟

کبھی آپ نےغورکیا کہ ماں کےپیٹ کی چھوٹی سےفیکٹری میں کس طرح آدمی تیار ہوتاہے؟ باپ کی کارستانی کا اس میں کوئی دخل نہیں- ماں کی حکمت کا اس میں کوئی کام نہیں- ایک ذراسی تھیلی میں دوکیڑےجوخوردبین کےبغیردیکھنےمیں نہیں آسکتے' نہ معلوم کب آپس میں مل جاتےہیں، ماں کےخون ہی سےان کوغذا پہنچنی شروع ہوجاتی ہے- وہیں سےلوہا ' گندھک ' فاسفورس ' وغیرہ تمام چیزیں ' جن کامیں نےاوپرذکرکیا ہےایک خاص وزن اورخاص نسبت کےساتھ وہاں جمع ہوکرلوتھڑابنتی ہیں- پھراس لوتھڑےمیں جہاں آنکھیں بننی چاہیئں وہاں آنکھیں بنتی ہیں، جہاں کان بننےچاہییں وہاں کان بنتےہیں، جہاں دماغ بننا چاہیےوہاں دماغ بنتا ہے، جہاں دل بننا چاہیےوہاں دل بنتا ہے-

ہڈی اپنی جگہ پر، گوشت اپنی جگہ پر' غرض ایک ایک پرزہ اپنی اپنی جگہ پرٹھیک بیٹھتا ہے- پھراس میں جان پڑجاتی ہے- دیکھنےکی طاقت' سننےکی طاقت' چکھنےاورسونگنےکی طاقت ' بولنےکی طاقت' سوچنےاورسمجھنےکی طاقت' اورنہ جانےکتنی بےحدوحساب طاقتیں اس میں بھرجاتی ہیں- اس طرح جب انسان مکمل ہوجاتاہےتوپیٹ کی وہی چھوٹی سی فیکٹری جہاں نومہینےتک وہ بن رہاتھا' خودزورکرکے اسےباہردھکیل دیتی ہے- اس فیکٹری سےایک ہی طریقےپرلاکھوں انسان روزبن کرنکل رہےہیں- مگرہرایک کا نمونہ جدا ہےشکل جدا ' رنگ جدا' آوازجدا' قوتیں اورقابلیتیں جدا' طبیعتیں اورخیالات جدا' اخلاق اورصفات جدا- ایک ہی ماں کےپیٹ کےنکلےہوئےدوسگےبھائی تک ایک دوسرےسےنہیں ملتے- یہ ایک ایسا کرشمہ ہےجسےدیکھ کرعقل دنگ رہ جاتی ہے- اس کرشمےکودیکھ کربھی جوشخص یہ کہتا ہےکہ یہ کام کسی زبردست حکمت والے'

زبردست قدرت والے' زبردست علم والےاوربےنظیرکمالات والےخدا کےبغیرہورہا ہےیا ہوسکتاہے، یقینا اس کا دماغ درست نہیں ہے- اس کوعقلمند سمجھنا عقل کی توہین کرنا ہے- کم ازکم میں توایسےشخص کواس قابل نہیں سمجھتا کہ کسی معقول مسئلےپراس سےگفتگوکروں-

توحید

اچھا اب ذرااورآگےچلیے-آپ میں سےہرشخص کی عقل اس بات کی گواہی دےگی کہ دنیا میں کوئی کام بھی ' خواہ وہ چھوٹا ہویابڑا ہو، کبھی باضابطگی وباقاعدگی سےنہیں چل سکتا جب تک کہ کوئی ایک شخص اس کا ذمہ دارنہ ہو- ایک مدرسہ کےدوہیڈماسٹر، ایک محکمہ کےدوڈائرکٹر، ایک فوج کےدوسپہ سالار، ایک سلطنت کےدورئیس یا بادشاہ کبھی آپ نےسنےہیں؟ اورکہیں ایسا ہوتوکیا آپ سمجھتےہیں کہ ایک دن کےلیےبھی انتظام ٹھیک ہوسکتاہے؟ آپ اپنی زندگی کےچھوٹےچھوٹےمعاملات میں اس کاتجربہ کرتےہیں کہ جہاں کوئی کام ایک سےزیادہ آدمیوں کی ذمہ داری پرچھوڑاجاتاہےوہاں سخت بدانتظامی ہوتی ہے' لڑائی جھگڑےہوتےہیں' اورآخرساجھےکی ہنڈیا چوراہےمیں پھوٹ کررہتی ہے- انتظام' باقاعدگی' ہمواری اورخوش اسلوبی دنیا میں جہاں کہیں بھی آپ دیکھتےہیں وہاں لازمی طورپرکوئی ایک طاقت کارفرما ہوتی ہے' کوئی ایک ہی وجود بااختیار واقتدارہوتاہے، اورکسی ایک کےہاتھ میں سردشتہ کارہوتاہے- اس کےبغیرانتظام کا آپ تصورنہیں کرسکتے-

یہ ایسی سیدھی بات ہےکہ کوئی شخص جوتھوڑی سی عقل بھی رکھتا ہوا سےماننےمیں تامل نہ کرےگا-اس بات کوذہن میں رکھ کرذرااپنےگردوپیش کی دنیا پرنظرڈالیے- یہ زبردست کائنات جوآپ کےسامنےپھیلی ہوئی ہے، یہ کروڑوں سیارےجوآپ کوگردش کرتےہوئےنظرآتےہیں، یہ زمین جس پرآپ رہتےہیں یہ چاند جوراتوں کو نکلتا ہے' یہ سورج جوصبح کوطلوع ہوتاہے' یہ زہرہ' یہ مریخ یہ عطارد' یہ مشتری اوریہ دوسرےبےشمار تارےجوگیندوں کی طرح گھوم رہےہیں دیکھئےان سب کےگھومنےمیں کیسی سخت باقاعدگی ہےکبھی رات اپنےوقت سےپہلےآتی ہوئی آپ نےدیکھی؟ کبھی دن وقت سےپہلےنکلتےدیکھا؟ کبھی چاند زمین سےٹکرایا؟ کبھی سورج اپنا راستہ چھوڑکرہٹا؟ کبھی کسی اورستارےکوآپ نےایک بال برابربھی اپنی گردش کی راہ سےہٹتےہوئےدیکھا یا سنا؟ یہ کروڑہا سیارےجن میں سےبعض ہماری زمین سےلاکھوں گنےبڑےہیں

اوربعض سورج سےبھی ہزاروں گنےبڑے' یہ سب گھڑی کےپرزوں کی طرح ایک زبردست ضابطےمیں کسےہوئےاورایک بندھےہوئےحساب کےمطابق اپنی اپنی مقررہ رفتارکےساتھ اپنےاپنےمقررہ راستےپر چل رہےہیں- نہ کسی کی رفتارمیں ذرہ برابرفرق آتاہے' نہ کوئی اپنےراستےسےبال برابرٹل سکتاہےان کےدرمیان جونسبتیں قائم کردی گئی ہیں' اگران میں ایک پل کےلیےبھی ذرا سافرق آجائےتوسارا نظام عالم برہم ہرجائے، جس طرح ریلیں ٹکراتی ہیں اسی طرح سیارےایک دوسرےسےٹکراجائیں-

یہ توآسمان کی باتیں ہیں- ذرااپنی زمین اوراپنی ذات پرنظرڈال کردیکھیےاس مٹی کی گیند پریہ سارا زندگی کاکھیل جوآپ دیکھ رہےہیں' یہ سب چند بندھےہوئےضابطوں کی بدولت قائم ہے- زمین کی کشش نےساری چیزوں کواپنےحلقےمیں باندھ رکھا ہے- ایک سیکنڈ کےلیےبھی اگروہ اپنی گرفت چھوڑدےتوسارا کارخانہ بکھرجائے' اس کارخانےمیں جتنےکل پرزےکام کررہےہیں' سب کےسب ایک قاعدےکےپابندہیں اوراس قاعدےمیں کبھی فرق نہیں آیا ہوا اپنےقاعدےکی پابندی کررہی ہے، پانی اپنےقاعدےمیں باندھاہوا ہے' روشنی کےلیےجوقاعدہ ہےاس کی وہ مطیع ہے' گرمی اورسردی کےلیےجوضابط ہےاس کی وہ غلام ہے- مٹی پتھر' دھاتیں 'بجلی' اسٹیم' درخت' جانور' کسی میں یہ مجال نہیں کہ اپنی حد سےبڑھ جائےیا اپنی خاصیتوں کوبدل دےیا اس کام کوچھوڑدےجواس کےسپرد کیاگیاہے- پھراپنی حد کےاندر' اپنےضابطہ کی پابندی کرنےکےساتھ ' اس کارخانےکےسارےپرزےایک دوسرےکےساتھ مل کرکام کررہےہیں اوردنیا میں جوکچھ بھی ہورہا ہےسب اسی وجہ سےہورہاہےکہ یہ ساری چیزیں اورساری قوتیں مل کرکام کررہی ہیں-

ایک ذرا سےبیج کی ہی مثال لےلیجیےجس کوآپ زمین میں بوتےہیں- وہ کبھی پرورش پاکردرخت بن ہی نہیں سکتاجب تک کہ زمین اورآسمان کی ساری قوتیں مل کراس کی پرورش میں حصہ نہ لیں- زمین اپنےخزانوں سےاس کوغذا دیتی ہے' سورج اس کی ضرورت کےمطابق اسےگرمی پہنچاتاہے' پانی سےجوکچھ وہ مانگتا ہےوہ پانی دیتاہے' ہوا سےجوکچھ وہ طلب کرتاہےوہ ہوا دیتی ہے' راتیں اسےٹھنڈک اوراوس بہم پہنچاتی ہیں، دن اسےگرمی پہنچاکرپختگی کی طرف لےجاتےہیں، اس طرح مہینوں اوربرسوں تک مسلسل ایک باقاعدگی کےساتھ یہ سب مل جل کراسےپالتے

پوستےہیں، تب جاکرکہیں درخت بنتاہےاوراس میں پھل آتےہیں- آپ کی یہ ساری فصلیں جن کےبل بوتےپرآپ جی رہےہیں- انہی بےشمارمختلف قوتوں کےبالاتفاق کام کرنےہی کی وجہ سےتیارہوتی ہیں' بلکہ آپ خود زندہ اسی وجہ سےہیں کہ زمین اورآسمان کی تمام طاقتیں متفقہ طورپرآپ کی پرورش میں لگی ہوئی ہیں- اگرتنہا ایک ہواہی اس متفقہ کاروبارسےالگ ہوجائےتوآپ ختم ہوجائیں- اگرپانی ' ہوا اورگرمی کےساتھ موافقت کرنےسےانکارکردےتوآپ پربارش کا ایک قطرہ نہ برس سکے- اگرمٹی پانی کےساتھ اتفاق کرنا چھوڑدےتوآپ کےباغ سوکھ جائیں' آپ کی کھیتیاں کبھی نہ پکیں اورآپ کےمکان کبھی نہ بن سکیں' اگردیا سلائی کی رگڑسےآگ پیداہونےپرراضی نہ ہوتوآپ کےچولہےٹھنڈےہوجائیں اورآپ کےسارےکارخانےیک لخت بیٹھ جائیں' اگرلوہا آگ کےساتھ تعلق رکھنےسےانکارکردےتوآپ ریلیں اورموٹریں تودرکنارایک سوئی اورچھری تک نہ بنا سکیں گے- غرض یہ ساری دنیا جس پرآپ جی رہےہیں، یہ صرف اسی وجہ سےقائم ہےکہ اس عظیم الشان سلطنت کےسارےمحکمےکےکسی اہل کارکی یہ مجال نہیں ہےکہ اپنی ڈیوٹی سےہٹ جائےیا ضابطہ کےمطابق دوسرےمحکموں کےاہل کاروں سےاشتراک عمل نہ کرے-

یہ جوکچھ میں نےآپ سےبیان کیا ہے، کیا اس میں کوئی بات جھوٹ یا خلاف واقعہ ہے؟ شاید آپ میں سےکوئی بھی اسےجھوٹ نہ کہےگا- اچھا اگریہ سچ ہےتومجھےبتائیےکہ یہ زبردست انتظام ' یہ حیرت انگیزباقاعدگی' یہ کمال درجہ کی ہمواری' یہ زمین و آسمان کی بےحد وحساب چیزوں اورطاقتوں میں کامل موافقت آخرکس وجہ سےہے؟ کروڑوں برس سےیہ کائنات یونہی قائم چلی آرہی ہے، لکھوکھا سال سےاس زمین پردرخت اگ رہےہیں' جانورپیداہورہےہیں، اورنہ معلوم کب سےانسان اس زمین پرجی رہاہے' کبھی ایسا نہ ہوا کہ چاند زمین پرگرجاتایا زمین سورج سےٹکراجاتی ' کبھی رات اوردن کےحساب میں فرق نہ آ یا، کبھی کبھی ہوا کےمحکمےکی پانی کےمحکمےسےلڑائی نہ ہوئی- کبھی پانی مٹی سےنہ روٹھا' کبھی گرمی نےآگ سےرشتہ نہ توڑا- آخراس سلطنت کےتمام صوبے' تمام محکمے' تمام ہرکارےاورکارندےکیوں اس طرح قانون اورضابطےکی پابندی کیےچلےجارہےہیں؟ کیوں ان میں لڑائی نہیں ہوتی؟ کیوں فساد برپانہیں ہوتا؟ کس چیزکی وجہ سےیہ سب ایک انتظام میں بندھےہوئی ہیں؟ اس کا جواب اپنےدل سےپوچھیے-

کیاوہ یہ گواہی نہیں دیتاکہ ایک خدا اس ساری کائنات کابادشاہ ہے، ایک ہی ہےجس کی زبردست طاقت نےسب کواپنےضابطےمیں باندھ رکھاہے،؟ اگردس بیس نہیں دوخدا بھی اس کائنات کےمالک ہوتےتویہ انتظام اس باقاعدگی کےساتھ کبھی نہ چل سکتا- ایک ذرا سےمدرسےکاانتظام تودوہیڈ ماسٹروں کی ہیڈماسٹری برداشت نہیں کرسکتا، پھربھلا اتنی بڑی زمین وآسمان کی سلطنت دوخداؤں کی خدائی میں کیسےچل سکتی تھی؟

پس واقعہ صرف اتنا ہی نہیں کہ دنیا کسی بنانےوالےکےبغیر نہیں بنی ہے، بلکہ یہ بھی واقعہ ہےکہ اس کوایک ہی نےبنایاہے، حقیقت صرف اتنی ہی نہیں ہےکہ اس دنیا کا انتظام کسی حاکم کےبغیرنہیں چل رہا ہے، بلکہ یہ بھی حقیقت ہےکہ وہ حاکم ایک ہی ہے- انتظام کی باقاعدگی صاف کہہ رہی ہےکہ یہاں ایک کےسوا کسی کےہاتھ میں حکومت کےاختیارات نہیں ہیں- ضابطہ کی پابندی منہ سےبول رہی ہےکہ اس سلطنت میں ایک حاکم کےسوا کسی کاحکم نہیں چلتا- قانون کی سخت گیری شہادت دےرہی ہےکہ ایک ہی بادشاہ کی حکومت زمین سےآسمان تک قائم ہے- چاند سورج اورسیارےاسی کےقبضہ قدرت میں ہیں زمین اپنی تمام چیزوں کےساتھ اسی کےتابع فرمان ہے، ہوا اسی کی غلام ہے، پانی اسی کا بندہ ہے، دریا اورپہاڑ اسی کےاختیار میں ہیں درخت اورجانور اسی کےمطیع ہیں، انسان کا جینا اورمرنا اسی کےاختیارمیں ہے اس کی مضبوط گرفت نےسب کوپوری قوت کےساتھ جکڑرکھا ہےکوئی اتنا زورنہیں رکھتا کہ اس کی حکومت میں اپنا حکم چلاسکے- درحقیقت اس مکمل تنظیم میں ایک سےزیادہ حاکموں کی گنجائش ہی نہیں ہے- تنظیم کی فطرت یہ چاہتی ہےکہ حکم میں ایک کرشمہ برابربھی کوئی دوسرا حصہ دارنہ ہو- تنہا ایک ہی حاکم ہواوراس کےسوا سب محکوم ہوں کیونکہ کسی دوسرےکےہاتھ میں فرماں روائی کےادنی سےاختیارات ہونےکےمعنی بھی بد نظمی اورفساد کےہیں- حکم چلانےکےلیےصرف طاقت ہی درکارنہیں ہے، علم بھی درکارہےاتنی وسیع نظردرکارہےکہ تمام کائنات کوبیک وقت دیکھ سکےاوراس کی مصلحتوں کوسمجھ کراحکام جاری کرسکے- اگرخداوندعالم کےسوا کچھ چھوٹےچھوٹےخدا ایسےہوتےجونگاہ جہاں بیں تونہ رکھتے، لیکن انہیں دنیا کےکسی حصےیاکسی معاملہ میں اپنا حکم چلانےکااختیار حاصل ہوتاتویہ زمین وآسمان کاسارا کارخانہ درہم برہم ہوکررہ جاتا ایک معمولی مشین کےمتعلق بھی آپ جانتےہیں کہ اگرکسی ایسےشخص کواس میں دخل اندازی کااختیار دےدیا جائےجواس سےپوری طرح واقف نہ ہوتو وہ اسےبگاڑکررکھ دےگا لہذا عقل یہ فیصلہ کرتی ہےاورزمین وآسمان کےنظام سلطنت کاانتہائی باضابطگی کےساتھ چلنا اس کی گواہی دیتاہےکہ اس سلطنت کےاختیارات شاہی میں ایک خدا کےسواکسی کا ذرہ برابرحصہ نہیں ہے-

یہ صرف ایک واقعہ ہی نہیں ہے، حق یہ ہےکہ خدا کی خدائی میں خود خدا کےسواکسی کاحکم چلنےکی کوئی وجہ بھی نہیں ہےجن کواس نےاپنےدست قدرت سےبنایا ہے، جواس کی مخلوق ہیں، جن کی ہستی اس کی عنایت سےقائم ہے، جواس سےبےنیازہوکرخود اپنےبل بوتےپرایک لمحہ کےلیےبھی موجود نہیں رہ سکتے، ان میں سےکسی کی یہ حیثیت کب ہوسکتی ہےکہ خدائی میں اس کا حصہ داربن جائے؟ کیا کسی نوکرکوآپ نےملکیت میں آقا کاشریک ہوتےدیکھا ہے؟ کیا آپ کی عقل میں یہ بات آتی ہےکہ کوئی مالک اپنےغلام کواپنا ساجھی بنالے؟کیا خود آپ میں سےکوئی شخص اپنےملازموں میں سےکسی کواپنی جائیداد میں یا اپنےاختیارات میں حصہ داربناتاہے؟ اس بات پرجب آپ غورکریں گےتوآپ کادل گواہی دےگا کہ خدا کی اس سلطنت میں کسی بندےکوخود مختارانہ فرماں روائی کاکوئی حق حاصل ہی نہیں ہے- ایسا ہونا نہ صرف واقعہ کےخلاف ہے، نہ صرف عقل اورفطرت کےخلاف ہے، بلکہ حق کےخلاف بھی ہے-

انسان کی تباہی کااصلی سبب

صاحبو' یہ بنیادی حقیقتیں ہیں جن پراس دنیا کاپورا نظام چل رہا ہے-آپ اس دنیا سےالگ نہیں ہیں بلکہ اس کےاندراس کےایک جزکی حیثیت سےرہتےہیں' لہذا آپ کی زندگی کےلیےبھی یہ حقیقتیں اسی طرح بنیادی ہیں جس طرح کل جہان کےلیےہیں-

آج یہ سوال آپ میں سےہرشخص کےلیےاوردنیا کےتمام انسانوں کےلیےایک پریشان کن گتھی بناہ ہئواہےکہ آخرہم انسانوں کی زندگی سےامن چین کیوں رخصت ہوگیا؟کیوں آئےدن مصیبتیں ہم پرنازل ہورہی ہیں؟ کیوں ہماری زندگی کی کل بگڑگئی ہے؟ قومیں قوموں سےٹکرارہی ہیں، ملک ملک میں کھینچا تانی ہورہی ہے، آدمی آدمی کےلیےبھیڑیا بن گیا ہے، لاکھوں انسان لڑائیوں میں بربادہورہےہیں، کروڑوں اوراربوںکےکاروبارغارت ہورہےہیں، بستیوں کی بستیاں اجڑرہی ہیں، طاقت ورکمزوروں کوکھائےجاتےہیں، مالداد غریبوں کولوٹے لیتےہیں، حکومت میں ظلم ہے، عدالت میں بےانصافی ہے، دولت میں بدمستی ہے، اقتدارمیں غرورہے، دوستی میں بےوفائی ہے،امانت میں خیانت ہے، اخلاق میں راستی نہیں رہی، انسان پرسےانسان کا اعتماد اٹھ گیا ہے، مذہب کےجامےمیں لامذہبی ہورہی ہے، آدم کےبچےلاتعداد گروہوں میں بٹےہوئےہیں اورہرگروہ دوسرےگروہ کودغا، ظلم، بےایمانی، ہرممکن طریقہ سےنقصان پہنچانا کارثواب سمجھ رہا ہے- یہ ساری خرابیاں آخرکس وجہ سےہیں؟ خدا کی خدائی میں اورجس طرف بھی ہم دیکھتےہیں امن ہی امن نظرآتاہے- ستاروں میں امن ہے، ہوا میں امن ہے، پانی میں امن ہے، درختوں اورجانوروں میں امن ہے، تمام مخلوقات کا انتظام پورےامن کےساتھ چل رہا ہے، کہیں فساد بدنظمی کانشان نہیں پایا جاتامگرایک انسان ہی کی زندگی کیوں اس نعمت سےمحروم ہو گئی؟

یہ ایک بڑا سوال ہےجسےحل کرنےمیں لوگوں کوسخت پریشانی پیش آرہی ہے، مگرمیں پورےاطمینان کےساتھ اس کاجواب دینا چاہتاہوں- میرےپاس اس کا مختصرجواب یہ ہےکہ :

آدمی نےاپنی زندگی کوحقیقت اورواقعہ کیخلاف بنا رکھا ہےاس لیےوہ تکلیف اٹھارہا ہےاورجب تک وہ پھراسےحقیقت کےمطابق نہ بنائےگا کبھی چین نہ پاسکےگا-

آپ چلتی ہوئی ریل کےدروازےکواپنےگھرکا دروازہ سمجھ بیٹھیں اوراسےکھول کربےتکلف اس طرح باہر نکل آئیں جیسےاپنےمکان کےصحن میں قدم رکھ رہےہیں توآپ کی س غلط وفہمی سےنہ ریل کا دروازہ گھرکا دروازہ بن جائےگااورنہ وہ میدان جہاں آپ گریں گےگھرکا صحن ثابت ہوگا- آپ کےاپنی جگہ کچھ سمجھ بیٹھنےسےحقیقت ذرا بھی نہ بدلےگی- تیزدوڑتی ہوئی ریل کےدروازےسےجب آپ باہرتشریف لائیں گےتواس کا جونتیجہ ظاہرہونا ہے، وہ ظاہرہوکرہی رہےگا، خواہ ٹانگ اورسرپٹھنےکےبعد بھی آپ یہ تسلیم نہ کریں کہ آپ نےجو کچھ سمجھا تھا غلط سمجھا تھا-

بالکل اسی طرح اگرآپ یہ سمجھ بیٹھیں کہ اس دنیا کاکوئی خدا نہیں ہے، یاآپ خود اپنےخدا بن بیٹھیں، یا خدا کےسوا کسی اورکی خدائی مان لیں، توآپ کےایسا سمجھنےیا مان لینےسےحقیقت ہرگزنہ بدلےگی- خدا خدا ہی رہےگا- اس کی زبردست سلطنت جس میں آپ محض رعیت کی حیثیتسےرہتےہیں، پورےاختیارات کےساتھ اسی کےقبضہ میں رہےگی- البتہ آپ اپنی غلط فہمی کی وجہ سےجوطرززندگی اختیارکریں گےاس کا نہایت بڑا خمیازہ آپ بھگتنا پڑےگا خواہ آپ تکلیفیں اٹھانےکےبعد بھی اپنی اس غلط زندگی کوبجائےخود صیحیح ہی سمجھتےرہیں-

پہلےجوکچھ بیان کرچکا ہوں اسےذرا اپنی یاد میں پھرتازہ کرلیجئے- خداوند عالم کسی کےبنائےسےخداوندعالم نہیں بنا ہے- وہ اس کا محتاج نہیں ہےکہ آپ اس کی خدائی مانیں تووہ خدا ہے- آپ خواہ مانیں یا نہ مانیں وہ توخدا ہے- اس کی خدائی خود اپنےزورسےقائم ہے- اس نےآپ کواوراس دنیا کوخود بنایا ہے- یہ زمین ، چاند اورسورج اورساری کائناتت اسی کےحکم کی تابع ہے- اس کائنات میں جتنی قوتیں کام کررہی ہیں سب اسی کےزیرحکم ہیں- وہ ساری چیزیں جن کےبل پرآپ زندہ ہیں، اسی کےقبضہ قدرت میں ہیں- خود آپ کا اپنا وجود اس کےاختیار میں ہے- اس واقعہ کوآپ کس طرح بدل سکتے- آپ اس کو مانیں یا نہ مانیں تب بھی یہ واقعہ ہے-آپ اس سے آنکھیں بند کرلیں تب بھی یہ واقعہ ہے- آپ اس کےسوا کچھ اورسمجھ بیٹھیں تب بھی یہ واقعہ ہے- ان سب صورتوں میں یہ واقعہ کاتوکچھ بھی نہیں بگڑتا- البتہ فرق یہ ہوتاہےکہ اگرآپ اس واقعہ کوتسلیم کرکےاپنی وہی حیثیت قبول کرلیں جواس واقعہ کےاندردراصل آپ کی ہےتوآپ کی زندگی درست ہوگی- آپ کوچین ملےگا، اطمینان نصیب ہوگا، اورآپ کی زندگی کی ساری کل ٹھیک چلےگی- اوراگرآپ نےواقعہ کےخلاف کوئی اورحیثیت اختیارکی توانجام وہی ہوگا جوچلتی ہوئی ریل کےدروازےکواپنےگھرکا دروازہ سمجھ کرقدم باہرنکالنےکا ہوتاہے- چوٹ آپ خود کھائیں گے، ٹانگ آپ کی ٹوٹےگی ، سرآپ کا پٹھےگا ، تکلیف آپ کوپہنچےگی، واقعہ جیسا تھاویسا ہی رہےگا-

ہماری صحیح حیثیت

آپ سوال کریں گےکہ اس واقعہ کےمطابق ہماری صحیح حیثیت کیا ہے؟ میں چند لفظوں میں اس کی تشریح کیےدیتاہوں- اگرکسی نوکرکوآپ تنخواہ دےکرپال رہےہوں توبتائیےاس نوکرکی اصلی حیثیت کیا ہے؟ یہی نا کہ آپ کی نوکری بجالائے، آپ کےحکم کی اطاعت کرے، اآپ کی مرضی کےمطابق کام کرے اورنوکری کی حد سےنہ بڑھےنوکرکاکام آخری نوکری کےسوااورکیا ہوسکتاہے؟ آپ اگرافسرہوں اورکوئی آپ کا ماتحت ہوں توماتحت کاکام کیا ہے؟ یہی ناکہ وہ ماتحتی کرے، افسری کی ہوامیں نہ رہے-اگرآپ کسی جائیدادکےمالک ہوں تواس جائیداد میں آپ

کی خواہش کیا ہوگی؟ یہی نا کہ اس میں آپ کی مرضی چلے، جوکچھ آپ چاہیں وہی ہواورآپ کی مرضی کےخلاف پتہ نہ مل سکے-آپ پراگرکوئی بادشاہ ہی مسلط ہواورتمام قوتیں اس کےہاتھ میں ہوں توایسی بادشاہی کی موجودگی میں آپ کی حیثیت کیا ہوسکتی ہے؟ یہی نا کہ آپ سیدھی طرح رعیت بن کررہنا قبول کریں اورشاہی قانون کی فرمانبرداری سےقدم باہرنہ نکالیں- بادشاہ کی سلطنت کےاندررہتےہوئےاگرآپ خود اپنی بادشاہی کا دعوی کریں گےیا کسی دوسرےکی بادشاہی مان کراس کےحکم پرچلیں گےتوآپ باغی ہوں گےاورباغی کےساتھ جوسلوک کیا جاتاہےوہ آپ کومعلوم ہی ہے-

ان مثالوں سےآپ خوب سمجھ سکتےہیں کہ خدا کی اس سلطنت میں آپ کی اصلی حیثیت کیا ہے؟ آپ کواس نےبتایا ہے، قدرتی طورپرآپ کا کوئی کام اس کےسوا نہیں ہے کہ اپنےبنانےوالےکی مرضی پرچلیں-

آپ کووہ پال رہا ہےاوراسی کےخزانےسےآپ تنخواہ لےرہےہیں، آپ کی کوئی حیثیت اس کےسوا نہیں ہےکہ آپ اس کےنوکرہیں-

آپ کا اورساری دنیا کا افسروہ ہے- اس کی افسری میں آپ کی حیثیت ماتحتی کےسوااورکچھ نہیں ہوسکتی-

یہ زمین وآسمان سب اس جائیداد ہیں- اس جائیداد میں اس کی مرضی چلےگی اورچلنی چاہیے- آپ کویہاں اپنی مرضی چلانےکاکوئی حق نہیں ہے- اپنی مرضی آپ چلانےکی کوشش کریں گےتومنہ کی کھائیں گے-

اس سلطنت میں اسی کی بادشاہی اس کےاپنےزورپرقائم ہے- زمین وآسمان کےبارےمحکمےاس کےقبضہ میں ہیں- آپ خود چاہےراضی ہوں یا ناراض ، بہرحال اس کی رعیت ہیں- آپ کی اوراس کسی انسان کی بھی، خواہ چھوٹاہویا بڑا، کوئی دوسری حیثیت رعیت ہونےکےسوا نہیں ہے- اسی کاقانون اس سلطنت میں قانون ہےاوراسی کاحکم ہے- رعیت میں سےکسی کویہ دعوی کرنےکاحق نہیں ہےکہ میں ہزمیجسٹی ہوں، یا ہزہائی نس ہوں، یا ڈکیٹراورخودمختارہوں- نہ کسی شخص یا پارلیمنٹ یا اسمبلی یا کونسل کواختیارحاصل ہےکہ اس سلطنت میں خداکے

بجائےخوداپنا قانون بنائےاورخدا کی رعیت سےکہےکہ ہمارےاس قانون کی پیروی کرو- نہ کسی انسانی حکومت کویہ حق پہنچتاہےکہ خدا کےحکم سےبےنیاز ہوکرخود حکم چلائےاورخدا کےبندوں سےکہے کہ ہمارےاس حکم کی اطاعت کرو- نہ کسی انسان یا انسانوں کےکسی گروہ کےلیےیہ جائزہےکہ اصلی بادشاہ کی رعیت بننےکےبجائےبادشاہی کےجھوٹ مدعیوں میں سےکسی کی رعیت بننا قبول کرے، اصلی بادشاہ کےقانون کوچھوڑکرجھوٹےقانون سازوں کاقانون تسلیم کرے،اور اصلی حکمران سےمنہ موڑکرجھوٹ موٹ کی ان حکومتوں کاحکم ماننےلگے، یہ تمام صورتیں بغاوت کی ہیں- خودبادشاہی کےاختیارات کادعوی کرنا، یاایسےکسی مدعی کےدعوےکوقبول کرنا، دونوں حرکتیں رعیت کےلیےبغاوت کاحکم رکھتی ہیں اوراس کی سزاان دونوں کوملنی یقینی ہے، خواہ جلدی ملےیادیرمیں- آپ کی اورایک ایک انسان کی پیشانی کےبال خدا کی مٹھی میں ہیں، جب چاہےپکڑکرگھسیٹ لے- زمین اورآسمان کی اس سلطنت میں بھاگ جانےکی طاقت کسی میں نہیں ہے- آپ اس سےبھاگ کرکہیں پناہ نہیں لےسکتے- مٹی میں مل کرآپ کاایک ایک ذرہ بھی اگرمنتشرہوجائے، آگ میں جل کرخواہ آپ کی راکھ ہوامیں پھیل جائے، پانی میں بہہ کرخواہ آپ مچھلیوں کی خوراک بنیں یا سمندرکےپانی میں گھل جائیں، ہر جگہ سےخدا آپ کوپکڑلےگا- ہوااس کی غلام ہے، زمین اس کی بندی ہے، پانی اوراس کی مچھلیاں سب اس کوحکم کی تابع ہیں ،ایک اشارےپرسب طرف سےآپ پکڑےہوئےآجائیں گےاورپھروہ آپ میں سےایک ایک کوبلا کرپوچھےگاکہ میری رعیت ہوکربادشاہی( ) کادعوےکرنےکاحق تمہیں کہاں سےپہنچ گیا تھا؟ میرےملک میں اپنا حکم چلانےکےاختیارات تم کہاں سےلائےتھے؟ میری سلطنت میں اپنا قانون جاری کرنےوالےتم کون تھے؟ میرےبندےہوکردوسروں کی بندگی کرنےپرتم کیسےراضی ہوگئے؟ میرےنوکرہوکرتم نےدوسروں کاحکم مانا، مجھ سےتنخواہ لےکردوسروں کوان داتااوررازق سمجھا، میرےغلام ہوکردوسروں کی غلامی کی، میری بادشاہی میں رہتےہوئےدوسروں کےقانون کوقانون سمجھا، اوردوسروں کےفرامین کی اطاعت کی- یہ بغاوت کس طرح تمہارےلیےجائزہوگئی تھی؟ فرمائیےآپ میں سےکسی کےپاس اس الزام کا جواب ہے؟ کون سےوکیل صاحب وہاں اپنےقانونی داؤپیچ سےبچاؤ کی صورت نکال سکیں گے؟ اورکون سی سفارش پرآپ بھروسہ رکھتےہیں کہ وہ آپ کواس بغاوت کےجرم کی سزابھگتنےسےبچا لےگئی؟

ظلم کی وجہ

صاجبو-------- یہاں صرف حق ہی کاسوال نہیں ہے- یہ سوال بھی ہےکہ خدا کی خدائی میں کیا انسان بادشاہی یا قانون سازی یاحکمرانی کااہل ہوسکتاہے؟ جیساکہ ابھی عرض کرچکاہوں، ایک معمولی مشین کےمتعلق بھی آپ یہ جانتےہیں کہ اگرکوئی اناڑی شخص جواس مشینری سےواقف نہ ہو، اسےچلائےگاتو بگاڑ دیگا- ذراکسی ناواقف آدمی سےایک موٹرہی چلواکردیکھ لیجیے، ابھی آپ کومعلوم ہوجائےگاکہ اس حماقت کاکیا انجام ہوتاہے- اب ذرا خود سوچئےکہ لوہےکی ایک مشین کاحال جب یہ ہےکہ صحیح علم کےبغیراس کواستعمال نہیں کیا جاسکتاتوانسان جس کےنفسیات انتہادرجہ کےپیچیدہ ہیں- جس کی زندگی کےمعلامات بےشمارپہلورکھتےہیں اورہرپہلومیں لاکھوں گتھیاں ہیں، اس کی پیچ درپیچ مشینری کووہ لوگ چلاسکتےہیں جودوسروں کوجاننا اورسمجھنا تودرکنارخود اپنےآپ کوبھی اچھی طرح نہیں جانتےاورنہیں سمجھتے؟ ایسےاناڑی جب قانون ساز بیٹھیں گےاوایسےنادان جب انسانی زندگی کی ڈرائیوی پرآمادہ ہوں گےتوکیا اس کا انجام کسی اناڑی شخص کےموٹرچلانےکےانجام سےکچھ بھی مختلف ہوسکتاہے؟ یہی وجہ ہےکہ جہاں خدا کےبجائےانسانوں کابنایا ہواقانون مانا جارہاہے، اورجہاں خدا کی اطاعت سےبےنیاز ہوکرانسان حکم چلارہےہیں اورانسان کاحکم چلارہےہیں اورانسان ان کاحکم چلارہےہیں اورانسان ان کا حکم مان رہےہیں، وہاں کسی جگہ بھی امن نہیں ہے- کسی جگہ بھی آدمی کوچین نصیب ہورہی ہے، لؤٹ کھسوٹ برپاہے، آدمی کا خون چوس رہا ہے، اخلاق تباہ ہورہےہیں، صحبتیں برباد ہورہی ہیں، تمام طاقتیں جوخدا نےانسان کودی تھیں-انسان کےفائدےکےبجائےاس کی تباہی اوربربادی میں صرف ہورہی ہیں- یہ مستقل دوزخ جو اسی دنیا میں انسان نےاپنےلیےآپ اپنےہاتھوں بنالی ہے، اس کی وجہ اس کےسواکچھ نہیں ہےکہ اس نےبچوں کی طرح شوق میں آکراس مشین کوچلانےکی کوشش کی جس کےکل پرزوں سےوہ واقف ہی نہیں، اس کےمشین کوجس نےبنایا ہےوہی اس کےرازوں کوجانتاہے- وہی اس کی فطرت سےواقفیت رکھتاہے- اسی کوٹھیک ٹھیک معلوم ہےکہ یہ کس طرح صحیح چل سکتی ہے- اگرآدمی اپنی حماقت سےبازآجائے اوراپنی جہالت تسلیم کرکےاس قانون کی پابندی کرنےلگےجوخود اس مشین کےبنانےوالےنےمقررکیا ہے، تب توجوکچھ بگڑاہےوہ پھربن سکتاہے، ورنہ ان مصیبتوں کاکوئی جل ممکن نہیں ہے-

بےانصافی کیوں ہے؟

آپ ذرا اورگہری نظرسےدیکھیں توآپ کوجہالت کےسوا اپنی زندگی کےبگاڑکی ایک اوروجہ بھی نظرآئےگی-

ذراسی عقل یہ بات سمجھنےکےلیےکافی ہےکہ انسان کسی ایک شخص یا ایک خاندان یا ایک قوم کا نام نہیں ہے- تمام دنیا کےانسان بہرحال انسان ہیں- تمام انسانوں کوجینےکاحق ہے، سب اس کےحقدارہیں کہ ان کی ضرورتیں پوری ہوں- سب امن کے، انصاف کے، عزت اورشرافت کےمستحق ہیں- انسانی خوشحالی اگرکسی چیزکانام ہےتووہ کسی ایک شخص یا خاندان یا قوم کی خوشحالی نہیں بلکہ تمام انسانوں کی خوشحالی ہے- ورنہ ایک خوشحال ہواوردس بدحال ہوں تو آپ یہ نہیں کہہ سکتےکہ انسان خوشحال ہے- فلاح اگرکسی چیزکوکہتےہیں تووہ تمام انسانوں کی فلاح ہےنہ کہ کسی ایک طبقہ کی یا ایک قوم کی، ایک کی فلاح اوردس کی بربادی کوآپ انسانی فلاح نہیں کہہ سکتے-

فلاح کس طرح حاصل ہوسکتی ہے؟

اس بات کواگرآپ صحیح سمجھتےہیں توغورکیجئےکہ انسانی فلاح اورخوش حالی کس طرح حاصل ہوسکتی ہے؟ میرےنزدیک اس کی کوئی صورت اس کےسوا نہیں کہ انسانی زندگی کےلیےقانون وہ بنائےجس کی نظرمیں تمام انسان یکساں ہوں- سب کےحقوق انصاف کےساتھ وہ مقررکرےجو نہ توخود اپنی کوئی ذاتی غرض رکھتاہواورنہ کسی خاندان یا طبقہ کی یا کسی ملک یا قوم کی اغراض سےاس کوخاص دلچپسی ہو- سب کےسب اس کا حکم مانیں جوحکم دینےمیں نہ اپنی جہالت کی وجہ سےغلطی کرے، نہ اپنی خواہش کی بنا پرحکمرانی کےاختیارات سےناجائزفائدہ اٹھائے، اورنہ ایک کا دشمن اوردوسرےکا دوست، ایک کاطرفداراوردوسرےکا مخالف ، ایک طرف مائل اور دوسرےسےمنحرف ہو- صرف اسی صورت میں عدل قائم ہوسکتاہے- اسی طرح تمام انسانوں، تمام قوموں، تمام طبقوں اورتمام گروہوں کوان کےجائزحقوق پہنچ سکتےہیں- یہی ایک صورت ہےجس سےظلم مٹ سکتاہے-

اگریہ بات بھی درست ہےتوپھرمیں آپ سےپوچھتا ہوں کہ کیا دنیا میں کوئی انسان بھی ایسا بےلاگ ایساغیرجانبدار، ایسا بےغرض، اوراس قدرانسانی کمزوریوں سےبالاترہوسکتاہے؟ شاید آپ میں سےکوئی شخص میرےاس سوال کاجواب اثبات میں دینےکی جرات نہ کرےگا- یہ شان صرف خدا ہی کی ہے، کوئی دوسرا اس شان کانہیں ہے- انسان خواہ کتنےہی بڑےدل گردےکاہو، بہرحال وہ اپنی ذاتی اغراض رکھتاہے، کچھ دلچپساں رکھتاہے، کسی سےاس کا تعلق زیادہ ہےاورکسی سےکم ، کسی سےاس کومحبت ہےاورکسی سےنہیں ہے، ان کمزوریوں سےکوئی انسان پاک نہیں ہوسکتا- یہی وجہ ہےکہ خدا بجائےانسانوں کاقانون مانا جاتاہےاورخدا بجائےانسانوں کےحکم کی اطاعت کی جاتی ہےوہاں کسی نہ کسی صورت میں ظلم اوربےانصافی ضرورموجودہے-

ان شاہی خاندانوں کودیکھئےجوزبردستی اپنی طاقت کےبل بوتےپرامتیازی حیثیت حاصل کیےہوئے ہیں- انہوں نےاپنےلیےوہ عزت، وہ ٹھاٹھ، وہ آمدنی ، وہ حقوق، اوروہ اختیارات مخصوص کررکھےہیں- جودوسروں کےلیےنہیں ہیں- یہ قانون سےبالاترہیں، ان کےخلاف کوئی دعوی نہیں کیا جاسکتا، یہ چاہےکچھ کریں ان کےمقابلہ میں کوئی چارہ جوئی نہیں کی جاسکتی، کوئی عدالت ان نام سمن نہیں بھیج سکتی- دنیادیکھتی ہےکہ یہ غلطیاں کرتےہیں، مگرکہا یہ جاتاہےاورماننےوالےمان بھی لیتےہیں کہ'' بادشاہ غلطی سےپاک ہے''- دنیا دیکھتی ہےکہ یہ معمولی انسان ہیں جیسےاورسب انسان ہوتےہیں، مگریہ خدا بن کرسب سےاونچےبیٹھتےہیں اورلوگ ان کےسامنےیوں ہاتھ باندھے، سرجھکائے، ڈرئے، سمہےکھڑےہوئےہیں گویا ان کا رزق، ان کی زندگی، ان موت کی، سب ان کےہاتھ میں ہے- یہ رعایا کاپیسہ اچھےاوربرےہرطریقے سے گھسیٹتےہیں اوراسےاپنےمحلوں پر، اپنی سواریوں پر، اپنےعیش وآرام اوراپنی تفریحوں پربےدریغ لٹاتےہیں- ان کےکتوں کووہ روٹی ملتی ہےجوکماکردینےوالی رعایا کونصیب نہیں ہوتی- کیا یہ انصاف ہے؟ کیا یہ طریقہ کسی عادل کامقررکیا ہوا ہوسکتاہےجس کی نگاہ میں سب انسانوں کے حقوق اورمفاد یکساں ہوں؟ کیا یہ انسانوں کےلیےکوئی منصفانہ قانون بناسکتےہیں-

ان برہمنوں اورپیروں کودیکھئے، ان نوابوں اورریئسوں کودیکھئے، ان جاگیرداروں اورزمینداروں کودیکھئے، ار ساہوکاروں اورمہاجنوں کودیکھئے، یہ سب طبقےاپنےآپ کوعام انسانوں سےبالاترسمجھتےہیں- ان کےزورواثرسےجتنےقوانین دنیا میں بنےہیں وہ انہیں ایسےحقوق دیتےہیں جوعام انسانوں کونہیں دیئےگئے- یہ پاک ہیں اوردوسرےناپاک، یہ شریف ہیں اوردوسرےکمین، یہ اونچےہیں اوردوسرےنیچے، یہ لوٹنےکےلیےہیں اوردوسرےلٹنےکےلیے، ان کےنفس کی خواہشوں پرلوگوں کی جان، مال،عزت، آبروہرایک چیزقربان کردی جاتی ہے- کیا یہ ضابطےکسی منصف کےبنائےہوئےہوسکتےہیں؟ کیا ان میڑ صریح طورپرخود غرضی اورجانبداری نظرنہیں آتی؟ کیا اس سوسائٹی میں منصفانہ قوانین بن سکتے ہیں جس پریہ لوگ چھائےہوئےہیں؟

ان حاکم قوموں کودیکھئےجو اپنی طاقت کےبل پردوسری قوموں کوغلام بنائےہوئےہیں- ان کاکون سا قانون اورکون سا ضابطہ ایسا ہےجس میں خودغرضی شامل نہیں ہے؟ یہ اپنےآپ کوانسان اعلی کہتےہیں، بلکہ درحقیقت صرف اپنےہی کوانسان سمجھتےہیں- ان کےنزدیک کمزور قوموں کےلوگ یا توانسان ہی نہیں ہیں یا اگرہیں توادنی درجےکےہیں- یہ ہرحیثیت سےاپنےآپ کودوسروں سےاونچا ہی رکھتےہیں اوراپنی اغراض پردوسروں کےمفاد کوقربان کرنا اپنا حق سمجھتےہیں- ان کےزورواثرسےجتنےقوانین اورضوابط دنیا میں بنےہیں ان سب میں یہ رنگ موجود ہے-

یہ چند مثالیں میں نےمحض اشارےکےطورردی ہیں، تفصیل کایہاں موقع نہیں- میں صرف یہ بات آپ کےذہن نشین کرنا چاہتا ہوں کہ دنیا میں جہاں بھی انسان نےقانون بنایا ہےوہاں بےانصافی ضرورہوئی ہے- کچھ انسانوں کوان کےجائزحقوق سےبہت زیادہ دیا گیا ہےاورکچھ انسانوں کےحقوق نہ صرف پامال کیےگئےہیں بلکہ انہیں انسانیت کےدرجہ سےگرا دینےمیں بھی تامل نہیں کیا گیا- اس کی وجہ انسان کی یہ کمزوری ہےکہ وہ جب کسی معاملہ کا فیصلہ کرنےبیٹھتاہےتواس کےدل ودماغ پراپنی ذات، یا اپنےخاندان، یا اپنی نسل، یا اپنےطبقے،یا اپنی قوم ہی کےمفاد کاخیال مسلط رہتاہے- دوسروں کےحقوق اورمفاد کےلیےاس کےپاس وہ

ہمدردی کی نظرنہیں ہوتی جواپنوں کےلیےہوتی ہے-

مجھےبتائیے، کیا اس بےانصافی کاکوئی علاج اس کےسوا ممکن ہےکہ تمام انسانی قوانین کودریابردکردیاجائے، اوراس خدا کےقانون کوہم سب تسلیم کرلیں جس کی نگاہ میں ایک انسان اوردوسرے انسان کےدرمیان فرق نہیں، فرق اگرہےتوصرف اس کےاخلاق، اس کےاعمال، اوراس کےاوصاف کےلحاظ سےہے، نہ کہ نسل یہ طبقےیا قومیت یا رنگ کے لحاظ سے-

امن کس طرح قائم ہوسکتاہے؟

صاحبو----- اس معاملہ میں ایک اورپہلوبھی ہےجسےمیں نظراندازنہیں کرسکتا- آپ جانتےہیں کہ آدمی کوقابومیں رکھنےوالی چیزصرف ذمہ داری کااحساس ہی ہے- اگرکسی شخص کویقین ہوجائےکہ وہ جوچاہےکرے، کوئی اس سےجواب طلب کرنےوالا نہیں ہے، اورنہ اس کےاوپرایسی طاقت ہےجواسےسزادے سکے، توآپ سمجھ سکتےہیں کہ وہ شتربےمہاربن جائےگا- یہ بات جس طرح ایک شخص کے معاملہ میں صحیح ہےاسی طرح ایک خاندان، ایک رقوم اورتمام دنیاکےانسانوں کےمعاملہ میں صحیح ہے- ایک خاندان جب یہ محسوس کرتاہےکہ اس سےکوئی جواب طلب نہیں کرسکتاتووہ بےقابوسےباہرہوجاتاہے- ایک طبقہ بھی جب ذمہ داری اورجواب دہی سےبےخوف ہوجاتاہےتودوسروں پرظلم ڈھانےمیں اسےکوئی تامل نہیں ہوتا- ایک قوم یا ایک سلطنت بھی جب اپنےآپ کواتنا طاقتورپاتی ہےکہ اپنی زیادتی کےکسی برےنتیجہ کا خوف اسےنہیں ہوتا تووہ جنگل کےبھیٹرئیےکی طرح کمزوربکریوں کوپھاڑنا شروع کردیتی ہے- دنیا میں جتنی بدامنی پائی جاتی ہےاس کی ایک بڑی وجہ یہی ہے- جب تک انسان اپنےبالاترکسی اقتدارکوتسلیم نہ کرے، اورجب تک اسےیقین نہ ہوکہ مجھ سےاوپرکوئی ایسا ہےجس کومجھےاپنےتک یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ ظلم کا دروازہ بندہواورصحیح امن قائم ہوسکے-

اب مجھےبتائیےکہ ایسی طاقت سوائےخداوندعالم کےاورکون سی ہوسکتی ہے؟ خود انسانوں میں سےتوکوئی ایسا نہیں ہوسکتاکیونکہ جس انسان ، یا جس انسانی گروہ کوبھی آپ یہ حیثیت دیں گے، خود اس کےشتربےمہارہوجانےکاامکان ہے- خود اس سےیہ اندیشہ ہےکہ تمام فرعونوں کا ایک فرعون وہ ہوجائےگا اورخود اس سےیہ خطرہ ہےکہ خود غرضی اورجابنداری سےکام لےکروہ بعض انسانوں کوگرائےگا اوربعض کواٹھائےگا- یورپ نےاس مسئلےکوحل کرنےکےلیے

مجلس اقوام بنائی تھی- مگربہت جلدی وہ سفید رنگ والی قوموں کی مجلس بن کررہ گئی اوراس نےچند طاقتورسلطنتوں کےہاتھ میں کھلونا بن کرکمزورقوموں کےساتھ بےانصافی شروع کردی- (1) اس تجربےکےبعد اس امرمیں کوئی شک باقی نہیں رہ سکتاکہ خود انسانوں کےاندرسےکوئی ایسی طاقت برآمد ہونی نا ممکن ہےجس کی بازپرس کاخوف فرادفردا ایک ایک شخص سےلےکردنیا کی قوموں اورسلطنتوں تک کوقابومیں رکھ سکتاہو- ایسی طاقت لامحالہ انسانی دائرہ سےباہراوراس سےاوپرہی ہونی چاہیےاوروہ صرف خداوندعالم ہی کی طاقت ہوسکتی ہے- ہم اگراپنی بھلائی چاہتےہیں توہمارےلیےاس کےسواکوئی چارہ ہی نہیں کہ خدا پرایمان لائیں، اس کی حکومت کےآگےاپنےآپ کوفرمانبرداررعیت کی طرح سپرد کردیں، اوراس یقین کےساتھ دنیا میں زندگی بسرکریں کہ وہ ہمارےچھپےاورکھلےسب کاموں کوجانتاہےاورایک دن اس کی عدالت میں اپنی پوری زندگی کےکارنامےکا حساب دیناہے- ہمارےشریف اورپر امن انسان بننےکی بس یہی ایک صورت ہے-

ایک شبہ

اب میں اپنی تقریرکوختم کرنےسےپہلےایک شبہ کوصاف کردینا ضروری سمجھتا ہوں جوغالبا آپ میں سےہرایک کےدل میں پیدا ہورہا ہوگا- آپ سوچ رہےہوگےکہ جب خدا کی حکومت اتنی زبردست ہےکہ خاک کےایک ذرہ سےلےکرچاند اورسورج تک ہرچیزاس کےقابومیں ہے، اورجب انسان اس کی حکومت میں محض ایک رعیت کی حیثیت رکھتاہےتوآخریہ ممکن کس طرح ہوا کہ انسان اس کی حکومت کےخلاف بغاوت کرےاورخود اپنی بادشاہی کا اعلان کرکےاس کی رعیت پراپنا قانون چلائے؟ کیوں نہیں خدا اس کا ہاتھ پکڑلیتا اورکیوں اسےسزانہیں دیتا؟

اس سوال کا جواب میں آپ کوایک سیدھی سی مثال سےدوں گا-

فرض کیجئےکہ ایک بادشاہ کسی شخص کواپنےملک کےکسی ضلع کا افسربنا کربھیجتا ہے- ملک بادشاہ ہی کا ہے، رعیت بھی اس کی ہے، ریل، ٹیلیفون، تار، فوج، اوردوسری تمام طاقتیں بھی

بادشاہ ہی کےہاتھ میں ہیں- بادشاہ کی سلطنت اس ضلع پرچاروں طرف سےاس طرح چھائی ہوئی ہےکہ اس چھوٹےسےضلع کا افسراس کےمقابلہ میں بالکل عاجزہے- اگربادشاہ چاہےتواس کوپوری طرح مجبور کرسکتاہےکہ اس کےحکم سےبال برابرمنہ نہ موڑسکے، لیکن بادشاہ اس افسرکی عقل کا، اس کےظرف کا، اوراس کی لیاقت کا امتحان لینا چاہتاہےاس لیےوہ اس پرسےاپنی گرفت اتنی ڈھیلی کردیتاہے کہ اسےاپنےاوپر کوئی بالاتراقتدارمحسوس نہیں ہوتا-

اب اگروہ افسرعقل مند، نمک حلال، فرض شناس، اوروفادارہے، تو اس ڈھیلی گرفت کےباوجود اپنےآپ کورعیت اورملازم ہی سمجھتا رہےگا- بادشاہ کےملک میں اسی کےقانون کےمطابق حکومت کرےگا اورجواختیارات بادشاہ نےاسےدئیےہیں انھیں خود بادشاہ کی مرضی کےمطابق استعمال کرتارہےگا- اس وفادارانہ طرزعمل سےاس کی اہلیت ثابت ہوگی اوربادشاہ اسےزیادہ بلند مرتبوں کےقابل پاکرترقیاں دیتا چلا جائےگا-

لیکن فرض کیجئےکہ ایک افسربیوقوف، نمک حرام، کم ظرف، اورشریرہےاوررعیت کےوہ لوگ جو اس ضلع میں رہتےہیں، جاہل، بزدل، اورنادان ہیں اپنےاوپرسلطنت کی گرفت ڈھیلی پاکروہ بغاوت پرآمادہ ہوجاتاہے- اس کے دماغ میں خودمختاری کی ہوا بھرجاتی ہے- وہ خود اپنےآپ کوضلع کامالک سمجھ کرخود سرانہ حکومت کرنےلگتاہےاورجاہل رعیت کےلوگ محض یہ دیکھ کراس کی خود مختارانہ حکومت تسلیم کرلیتےہیں کہ تنخواہ یہ دیتاہے، پولیس اس کےپاس ہے، عدالتیں اس کےہاتھ میں ہیں، جیل کی ہتھکڑیاں اورپھانسی کےتختےاس کےقبضےمیں ہیں، اورہماری قسمت کوبنانے،یا بگاڑنےکےاختیارات یہ رکھتاہے-

بادشاہ اس اندھی رعیت اوراس باغی افسردونوں کےطرزعمل کودیکھتاہے- چاہےتوفوراپکڑلےاور ایسی سزادےکہ ہوش ٹھکانےنہ رہیں- مگروہ اس حاکم ضلع اوراس رعیت دونوں کی پوری آزمائش کرنا چاہتا ہے، اس لیےوہ نہایت تحمل اوربردباری کےساتھ انہیں ڈھیل دیتاچلا جاتاہےتاکہ جتنی نالائیقاں ان کےاندربھری ہوئی ہیں، پوری طرح ظاہرہوجائیں- اس کی طاقت اتنی زبردست ہےکہ اسےاس بات کاخوف ہی نہیں ہےکہ یہ افسرکبھی زورپکڑکراس کاتخت چھین لےگا- اسےاس بات کابھی کوئی اندیشہ نہیں کہ یہ باغی اورنمک حرام لوگ اس کی گرفت سےنکل کرکہیں بھاگ جائیں گے-اس لیےاسےجلدی کےساتھ فیصلہ کردینےکی کوئی ضرورت

نہیں- وہ سالہا سال تک ڈھیل دیتارہتاہےیہاں تک کہ جب یہ لوگ اپنی پوری خباثت کا اظہارکرچکتےہیں اورکوئی کسراس کےاظہارمیں باقی نہیں رہتی، تب وہ ایک روزاپنا عذاب ان پربھیجتا ہے، اوروہ ایسا وقت ہوتاہےکہ کوئی تدبیراس وقت انہیں اس کےعذاب سےنہیں بچا سکتی-

صاحبو------ میں اورآپ اورخدا کےبنائےہوئےیہ افسرسب کےسب اسی آزمائش میں مبتلا ہیں- ہماری عقل کا، ہماری ظرف کا، ہماری فرض شناسی کا، ہماری وفاداری کا سخت امتحان ہورہا ہے- اب ہم میں سےہرشخص کوخود فیصلہ کرنا چاہیےکہ وہ اپنےاصلی بادشاہ کا نمک حلال افسریا رعیت بننا پسند کرتاہے یا نمک حرام؟ میں نےاپنی جگہ نمک حلالی کا فیصلہ کیا ہےاورمیں ہراس شخص سےباغی ہوں جوخدا سےباغی ہے- آپ اپنےفیصلہ میں خود مختارہیں چاہیں یہ راستہ اختیارکریں یا وہ- ایک طرف وہ نقصانات اوروہ فائدےہیں جوخدا کےیہ باغی ملازم پہنچا سکتےہیں، دوسری طرف وہ نقصانات اوروہ فائدےہیں جوخود خدا پہنچا سکتاہے- دونوں میں سےآپ جس کوانتخاب کرنا چاہیں کرسکتےہیں-


(1) اوریہی حالت اب اقوام متحدہ کی ہے- بڑی قوموں کےمقابلےمیں، یا ان کی دلچپسوں کےخلاف چھوٹی قوموں کواس کےذریعہ سےکوئی انصاف نہیں مل سکتا-

ماخذ: سلامتی کا راستہ

مصنف: مولاناابوالاعلی مودودی

پبلشرز: اسلامک پبلی کیشنز(پرائیویٹ) لمیٹیڈ

ایڈیشن:1

تاریخ اشاعت: Jan. 1, 2002

ریڈنگ کاؤنٹر: 19

ٹیگ: Peace