Nov. 1, 2011
یہ تقریرلاہورمیں شیعہ، سنی حضرات کی ایک مشترکہ نشست میں کی گئی تھی،جوماہنامہ ترجمان القرآن لاہورکی اشاعت ماہ جولائی 1960ء میں شائع ہوئی اسےافادۂ عام کی خاطر کتابی شکل میں پیش کیا جا رہاہے-( ناشر)
ہرسال محرم میں کروڑوں مسلمان شیعہ بھی اورسنی بھی، امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پراپنےرنج وغم کا اظہارکرتےہیں- لیکن افسوس ہےکہ ان غم گساروں میں سےبہت ہی کم لوگ اس مقصد کی طرف توجہ کرتےہیں، جس کےلیےامام حسین رضی اللہ عنہ نےنہ صرف اپنی جان عزیزقربان کی بلکہ اپنےکنبےکےبچوں تک کوکٹوادیا- کسی شخص کی مظلومانہ شہادت پراس کےاہل خاندان کا، اوراس خاندان سےمحبت وعقیدت یا ہم دردی رکھنےوالوں کا اظہارغم کرنا توایک طرف سےظاہرہوتاہے- اس کی کوئی اخلاقی قدروقیمت اس سےزیادہ نہیں ہے، کہ اس شخص کی ذات کےساتھ اس کےرشتہ داروں کی اورخاندان کےہم دردوں کی محبت کا ایک فطری نتیجہ ہے- لیکن سوال یہ ہےکہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی وہ کیا خصوصیت ہےجس کی وجہ سے1320 برس گزرجانےپربھی ہرسال ان کا تازہ غم ہوتارہے؟
اگریہ شہادت کسی مقصد عظیم کےلیےنہ تھی تومحض ذاتی محبت وتعلق کی بناپرصدیوں اس کا غم جاری رہنےکےکوئی معنی نہیں ہیں- اورخود امام کی اپنی نگاہ میں اس محض ذاتی وشخصی محبت کی کیا قدر وقیمت ہوسکتی ہے؟انھیں اگراپنی ذات اس مقصد سےزیادہ عزیز ہوتی تووہ اسےقربان ہی کیوں کرتے؟ ان کی یہ قربانی توخود اس بات کا ثبوت ہےکہ وہ اس مقصد کوجان سے بڑھ کرعزیزرکھتےتھے- لہذا اگرہم اس مقصد کےلیےکچھ نہ کریں، بلکہ اس کےخلاف کام کرتےرہیں، تو محض ان کی ذات کےلیےگریہ وزاری کرکے، اوران کےےقاتلوں پرلعن طعن کرکےقیامت کےروزنہ تو ہم امام ہی سےکسی دادکی امید رکھ سکتےہیں- اورنہ یہ توقع رکھ سکتےہیں کہ ان کا خدا اس کی کوئی قدر کرے گا-
اب دیکھنا چاہیےکہ وہ مقصد کیا ہے؟ کیا امام تخت وتاج کےلیےاپنےکسی ذاتی استحقاق کادعوی رکھتےتھےاوراس کےلیےانھوں نےسرڈھڑکی بازی لگائی؟ کوئی شخص بھی جوامام حسین رضی اللہ عنہ کےگھرانےکی بلنداخلاقی سیرت کوجانتاہے، یہ بدگمانی نہیں کرسکتاکہ یہ لوگ اپنی ذات کےلیےاقتدارحاصل کرنےکی خاطرمسلمانوں میں خوں ریزی کرسکتےتھے- اگرتھوڑی دیرکےلیےان لوگوں کا نظریہ ہی صحیح مان لیا جائےجن کی رائےمیں یہ خاندان حکومت پراپنےذاتی استحقاق کادعوی رکھتاتھا ، تب بھی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ سےلےکرامیرمعاویہ زصی اللہ عنہ تک، پچاس برس کی پوری تاریخ اس بات کی گواہ ہےکہ حکومت حاصل کرنےکےلیےلڑنا اورکشت وخون کرنا ہرگزان کا مسلک نہ تھا- اس لیےلامحالہ یہ ماننا ہی پڑےگا کہ امام عالی مقام کی نگاہیں اس وقت مسلم معاشرےاوراسلامی ریاست کی روح اوراس کامزاج اوراس کےنظام میں کسی بڑےتغیرکےآثاردیکھ رہی تھیں، جسےروکنےکی جدوجہد کرنا ان کےنزدیک ضروری تھا، حتی کہ اس راہ میں لڑنےکی نوبت بھی آجائےتونہ صرف جائزبلکہ فرض سمجھتےتھے-
وہ تغیرکیا تھا؟ ظاہرہےکہ لوگوں نےاپنا دین نہیں بدل دیا تھا- حکم رانوں سمیت سب لوگ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم اورقرآن کواسی طرح مان رہےتھےجس طرح پہلےمانتےتھے- مملکت کا قانون بھی نہیں بدلا تھا- عدالتوں میں قرآن وسنت ہی کےمطابق تمام معاملات کےفیصلےبنی امیہ کی حکومت میں بھی ہورہےتھےجس طرح ان کےبرسراقتدارآنےسےپہلےہواکرتےتھے- بلکہ قانون میں تغیرتوانیسویں صدی عیسوی سےپہلےدنیا کی مسلم حکومتوں میں سےکسی کےدورمیں بھی نہیں ہوا- بعض لوگ یزید کےشخصی کردارکوبہت نمایاں کرکےپیش کرتےہیں جس سےیہ عام غلط فہمی پیدا ہوگئی ہےکہ وہ تغیرجسےروکنےکےلیےامام کھڑےہوئےتھے- بس یہ تھا کہ ایک براآدمی برسراقتدارآگیا تھا- لیکن یزید کی سیرت وشخصیت کاجوبرےسےبراتصورپیش کرنا ممکن ہےاسے جوں کاتوں مان لینےکےبعد بھی یہ بات قابل تسلیم نہیں ہےکہ اگرنظام صحیح بنیادوں پرقائم ہوتومحض ایک برےآدمی کابرسراقتدارآ جانا کوئی ایسی بڑی بات ہوسکتی ہےجس پرامام حسین رضی اللہ عنہ جیسا دانا وز یرک اورعلم شریعت میں گہری نظررکھنےوالا شخص بےصبرہوجائے- اس لیےیہ شخصی معاملہ بھی وہ اصل تغیرنہیں ہےجس نےامام کوبےچین کیا تھا- تاریخ کےغائرمطالعہ سےجوچیزواضح طورپرہمارےسامنےآتی ہےوہ یہ ہےکہ یزید کی ولی عہدی اورپھراس کی تخت نشینی سےدراصل جس خرابی کی ابتداہورہی تھی ، وہ اسلامی ریاست کےدستور، اوراس کےمزاج اوراس کےمقصد کی تبدیلی تھی- اس تبدیلی کےپورےنتائج اگرچہ اس وقت سامنےنہ آئےتھے- لیکن ایک صاحب نظرآدمی گاڑی کارخ تبدیل ہوتےہی یہ جان سکتاہےکہ اب اس کا راستہ بدل رہاہے، اورجس راہ پریہ مڑرہی ہےوہ آخرکاراسےکہاں لےجائےگا- یہی رخ کی تبدیلی تھی جسےامام نےدیکھا اورگاڑی کوپھرسےصحیح پٹڑی پرڈالنےکےلیےاپنی جان لڑادینےکافیصلہ کیا-
اس چیزکوٹھیک ٹھیک سمجھنےکےلیےہمیں دیکھنا چاہیےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورخلفائےراشدین رضوان اللہ تعالی اجمعین کی سربراہی میں ریاست کاجونظام چالیس سال تک چلتارہا تھا اس کےدستور کی بنیادی خصوصیات کیا تھیں، اوریزید کی ولی عہدی سےمسلمانوں میں جس دوسرےنظام ریاست کا آغازہوا، اس کےاندرکیا خصوصیات ودلت بنی امیہ و بنی عباس اوربعد کی بادشاہیوں میں ظاہرہوئیں، اسی تقابل سےہم یہ جان سکتےہیں کہ گاڑی پہلےکس لائن پرچل رہی تھی، اوراس نقطئہ انحراف پرپہنچ کرآگےوہ کس لائن پرچل پڑی- اور
اسی تقابل سےہم یہ سمجھ سکتےہیں کہ جس شخص نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورسیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اورحضرت علی رضی اللہ عنہ کی آغوش میں تربیت پائی تھی- اورجس نےصحابہ رضی اللہ عنہ کی بہترین سوسائٹی میں بچپن سےبڑھاپےتک کی منزلیں طےکی تھیں، وہ کیوں اس نقطہ انحراف کےسامنےآتے ہی گاڑی کواس نئی لائن پرجانےسےروکنےکےلیےکھڑاہوگیا ، اورکیوں اس نےاس بات کی بھی پروانہ کی کہ اس زوردارگاڑی کا رخ موڑنےکےلیےاس کےآگےکھڑےہوجانےکاکیا نتیجہ ہوسکتاہے-
اسلامی ریاست کی اولین خصوصیت یہ تھی کہ اس میں صرف زبان ہی سےیہ نہیں کہاجاتا تھا بلکہ سچےدل سےیہ مانا بھی جاتاتھا، اورعملی رویہ سےاس عقیدہ ویقین کاپوراثبوت بھی دیا جاتاتھا کہ ملک خدا کاہے، باشندےخدا کی رعیت ہیں، اورحکومت اس رعیت کےمعاملےمیں خدا کےسامنےجواب دہ ہے- حکومت اس رعیت کی مالک نہیں ہے- اوررعیت اس کی غلام نہیں ہے- حکم رانوں کاکام سب سےپہلےاپنی گردن میں خدا کی بندگی وغلامی کاقلاوہ ڈالنا ہے، پھریہ ان کی ذمہ داری ہےکہ خدا کی رعیت پراس کاقانون نافذ کریں- لیکن یزید کی ولی عہدی سےجس انسانی بادشاہی کا مسلمانوں میں آغاز ہوا، اس میں خدا کی بادشاہی کاتصورصرف زبانی اعتراف تک محدود رہ گیا- عملا اس نےوہی نظریہ اختیارکرلیا جوہمیشہ سےہرانسانی بادشاہی کارہاہے- یعنی ملک بادشاہ اورشاہی خاندان کا ہےاوروہ رعیت کی جان ،مال ،آبرو، ہرچیزکامالک ہے- خدا کاقانون ان بادشاہتوں میں نافذ ہوابھی توصرف عوام پرہوا، بادشاہ اوران کےخاندان اورامرااورحکام زیادہ تراس سےمستثنی ہی رہے-
اسلامی ریاست کامقصد خدا کی زمین میں ان نیکیوں کوقائم کرنا اورفروغ دینا ہےجو خدا کومحبوب ہیں- اوران برائیوں کودبانااورمٹاناتھا جوخدا کوناپسند ہیں- مگرانسانی بادشاہت کاراستہ اختیار کرنےکےبعد حکومت کامقصد فتح ممالک اورتسخیرخلائق اورتحصیل باج وخراج اورعیش دنیا کےسوا کچھ نہ رہا- خدا کا کلمہ بلند کرنےکی خدمت بادشاہوں نےکم ہی کبھی انجام دی- ان کےہاتھوں اوران کےامرااورحکام اوردربایوں کےہاتھوں بھلائیاں کم اوربرائیاں بہت زیادہ پھیلیں- بھلائیوں کےفروغ اوربرائیوں کی روک تھام اوراشاعت دین اورعلوم اسلامی کی تحقیق وتدوین کےلیےجن اللہ کےبندوں نےکام کیا انھیں حکومتوں سےمدد ملنی تودرکنار، اکثروہ حکم رانوں کےغضب ہی میں گرفتاررہےاوراپنا کام وہ ان کی مزاحمتوں کےعلی الرغم ہی کرتےرہے- ان کی کوششوں کےبرعکس حکومتوں اوران کےحکام ومتوسلین کی زندگیوں اورپالیسیوں کےاثرات مسلم معاشرےکوپہیم اخلاقی زوال ہی کی طرف لےجاتےرہے- حدیہ ہےکہ ان لوگوں نےاپنےمفاد کی خاطر اسلام کی اشاعت میں رکارٹیں ڈالنےسےبھی دریغ نہ کیا، جس کی بدترین مثال بنوامیہ کی حکومت میں نومسلموں پرجزیہ لگانےکی صورت میں ظاہرہوئی-
اسلامی ریاست کی روح تقوی اورخدا ترسی اورپرہیزگاری کی روح تھی جس کا سب سےبڑا مظہر خود ریاست کاسربراہ ہوتاتھا- حکومت کےعمال اورقاضی اورسپہ سالار، سب اس روح سےسرشارہوتےتھے، اورپھراسی روح سےوہ پورےمعاشرےکوسرشارکرتےتھے، لیکن بادشاہی کی راہ پرپڑتےہی مسلمانوں کی حکومتوں اوران کےحکم رانوں نےقیصروکسری کےسےرنگ ڈھنگ اورٹھاٹھ باٹھ اختیارکرلیے- عدل کی جگہ ظلم وجورکاغلبہ ہوتاچلاگیا- پرہیزگاری کی جگہ فسق وفجوراورراگ رنگ اورعیش وعشرت کادوردورہ شروع ہوگیا- حرام وحلال کی تمیزسےحکم رانوں کی سیرت وکردارخالی ہوتی چلی گئی- سیاست کا رشتہ اخلاق سےٹوٹتاچلا گیا- خدا سےخودڈرنےکےبجائےحاکم لوگ بندگان خدا کواپنےآپ سےڈرانےلگے- اور لوگوں کےایمان وضمیربیدارکرنےکےبجائےانھیں اپنی بخششوں کےلالچ سےخریدنےلگے-
یہ توتھاروح ومزاج، مقصد اورنظریےکاتغیر- ایسا ہی تغیراسلامی دستورکےبنیادی اصولوں میں بھی رونماہوا- اس دستورکےسات اہم ترین اصول تھےجن میں سےہرایک کوبدل ڈالا گیا-
دستوراسلامی کاسنگ بنیاد یہ تھا کہ حکومت لوگوں کی آزادانہ رضامندی سےقائم ہو- کوئی شخص اپنی کوشش سےاقتدارحاصل نہ کرےبلکہ لوگ اپنےمشورےسےبہترآدمی کوچن کراقتداراس کےسپردکردیں- بیعت اقتدارکانتیجہ نہ ہوبلکہ اس کا سبب ہو- بیعت حاصل ہونےمیں آدمی کسی کوشش یاسازش کادخل نہ ہو- لوگ بیعت حاصل کرنےیا نہ کرنےکےمعاملےمیں پوری طرح آزادہوں- جب تک کسی شخص کوبیعت حاصل نہ ہووہ برسراقتدارنہ آئےاورجب لوگوں کااعتماد اس پرسےاٹھ جائےتووہ اقتدارسےچمٹانہ رہے- خلفائےراشدین میں سےہرایک اسی قاعدےکےمطابق برسراقتدارآیاتھا- امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کےمعاملےمیں پوزیشن مشتبہ ہوگئی-اسی لیےصحابی رضی اللہ عنہ ہونےکےباوجود ان کا شمارخلفائےراشدین میں نہیں کیا گیا- لیکن آخرکار یزید کی ولی عہدی وہ انقلابی کارروائی ثابت ہوئی جس نےاس قاعدےکوالٹ کررکھ دیا- اس سےخاندانوں کی موروثی بادشاہتوں کاوہ سلسلہ شروع ہوا جس کےبعد سےآج تک پھرمسلمانوں کوانتخابی خلافت کی طرف پلٹنا نصیب نہ ہوسکا- اب لوگ مسلمانوں کےآزادانہ اورکھلےمشورےسےنہیں بلکہ طاقت سےبرسراقتدارآنےلگے- اب بیعت سےاقتدارحاصل ہونےکےبجائےاقتدارسےبیعت حاصل کی جانےلگی- اب بیعت کرنےیانہ کرنےمیں لوگ آزادانہ رہےاوربیعت کاحاصل ہونا اقتدارپرقائم رہنےکےلیےشرط نہ رہا- لوگوں کی اول تویہ مجال نہ تھی کہ جس کےہاتھ میں اقتدارتھا اس کی بیعت نہ کرتے- لیکن اگروہ بیعت نہ بھی کرتےتوجس کے ہاتھ میں اقتدارآگیا تھا، وہ ہٹنےوالا نہ تھا- اسی جبری بیعت کوکالعدم قراردینےکا قصورجب منصورعباسی کےزمانہ میں امام مالک رحمتہ اللہ سےسرزدہواتوان کی پیٹھ پرکوڑےبرسائےگئےاوران کےہاتھ شانوں سےاکھڑوادیےگئے-
دوسرا اہم ترین قاعدہ اس دستورکایہ تھا کہ حکومت مشورےسےکی جائےاورمشورہ ان لوگوں سےکیا جائےجن کےعلم، تقوی اوراصابت رائےپرعام لوگوں کواعتماد ہو- خلفائےراشدین رضی اللہ عنہکےعہد میں جو لوگ شوری کےرکن بنائےگئے، اگرچہ ان کا انتخاب عام کےذریعہ سےمنتخب نہیں کرایا گیا تھا- جدید زمانےکےتصورکےلحاظ سےوہ نامزدکردہ لوگ ہی تھے- لیکن خلفانےیہ دیکھ کران کومشیرنہیں بنایا تھا کہ یہ ہماری ہاں میں ہاں ملانے، اورہمارےمفاد کی خدمت کرنےکےلیےموزوں ترین لوگ ہیں- بلکہ انھوں نےپورے خلوص اوربےغرضی کےساتھ قوم کےبہترین عناصرکوچنا تھا جن سےوہ حق گوئی کےسوا کسی چیزکی توقع نہ رکھتےتھے، جن سےیہ امیدتھی کہ وہ ہرمعاملےمیں اپنےعلم وضمیرکےمطابق بالکل صحیح ایمان دارانہ رائےدیں گے، جن سےکوئی شخص بھی یہ اندیشہ نہ رکھتاتھا کہ وہ حکومت کوکسی غلط راہ پرجانےدیں گے- اگراس وقت ملک میں آج کل کےطریقےکےمطابق انتخابات بھی ہوتےتوعام مسلمان انھی لوگوں کواپنےاعتماد کا مستحق قراردیتے- لیکن شاہی دورکا آغازہوتےہی شوری کایہ طریقہ بدل گیا- اب بادشاہ استبداداورمطلق العنانی کےساتھ حکومت کرنےلگے- اب شاہ زادےاورخوشامدی اہل دربار، اورصوبوں کےگورنراورفوجوں کےسپہ سالاران کی نسل کےممبرتھے- اب وہ لوگ ان کےمشیرتھےجن کےمعاملہ میں اگرقوم کی رائےلی جاتی تواعتماد کےایک ووٹ کےمقابلہ میں لعنت کےہزارووٹ آتےاوراس کےبرعکس وہ حق شناس وحق گواہل علم وتقوی جن پرقوم کواعتماد تھا وہ بادشاہوں کی نگاہ میں کسی اعتماد کےمستحق نہ تھے، بلکہ الٹےمعتوب یا کم ازکم مشتبہ تھے-
اس دستورکا تیسرا اصول یہ تھا کہ لوگوں کواظہاررائےکی پوری آزادی ہو- امربالمعروف ونہی عن المنکرکواسلام نےہرمسلمان کا حق ہی نہیں بلکہ فرض قراردیا تھا- اسلامی معاشرےاورریاست کےصحیح راستہ پرچلنےکاانحصاراس بات پر تھا کہ لوگوں کےضمیراوران کی زبانیں آزاد ہوں، وہ ہرغلط کام پربڑےسے بڑےآدمی کوٹوک سکیں اورحق بات برملا کہہ سکیں- خلافت راشدہ میں صرف یہی نہیں کہ لوگوں کا یہ حق پوری طرح محفوظ تھا ، بلکہ خلفائےراشدین رضی اللہ عنہ اسےان کا فرض سمجھتےتھےاوراس فرض کےادا کرنےمیں ان کی ہمت افزائی کرتےتھے- ان کی مجلس شوری کےممبروں ہی کونہیں ، قوم کےہرشخص کوبولنےاورٹوکنےاورخود خلیفہ سےبازپرس کرنےکی مکمل آزادی تھی، جس کےاستعمال پرلوگ ڈانٹ اور دھمکی سےنہیں بلکہ داداورتعریف سےنوازےجاتےتھے- یہ آزادی ان کی طرف سےکوئی عطیہ اوربخشش نہ تھی جس کےلیےوہ قوم پراپنا فرض سمجھتےتھے، اوراسےبھلائی کےلیےاستعمال کرنا ہرمسلمان پرخدا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عائد کردہ ایک فریضہ تھا جس کی اادائیگی کےلیےمعاشرےاورریاست کی فضا کوہروقت سازگاررکھنا ان کی نگاہ میں فرائض خلافت کا ایک اہم جزتھا- لیکن بادشاہی دورکا آغازہوتےہی ضمیروں پرقفل چڑھادیےگئےاورمنہ بند کردیےگئے- اب قاعدہ یہ ہوگیا ہےکہ زبان کھولوتوتعریف میں کھولو- ورنہ چپ رہو- اوراگرتمھارا ضمیرایسا زورآورہےکہ حق گوئی سےتم باز نہیں رہ سکتےتو قید یا قتل کےتیار ہو جاؤ- یہ پالیسی رفتہ رفتہ مسلمانوں کوپست ہمت، بزدل اورمصلحت پرست بناتی چلی گئی- خطرہ مول لےکر سچی بات کہنےوالےان کےاندرکم ازکم ہوتےچلےگئے- خوشامداورچاپلوسی کی قیمت مارکیٹ میں چڑھتی اورحق پرستی وراست بازی کی قیمت گرتی چلی گئی- اعلی قابلیت رکھنےوالےایمان داراورآزاد خیال لوگ حکومت سےبےتعلق ہوگئے- اورعوام کا حال یہ ہوگیا کہ کسی شاہی خاندان کی حکومت برقراررکھنےکےلیےان کےدلوں میں کوئی جذبہ باقی نہ رہا- ایک کوہٹانےکےلیےجب دوسرا آیا توانھوں نےمدافعت میں انگلی تک نہ ہلائی- اورگرنےوالا جب گرا توانھوں نےایک لات اوررسیدکرکےاسےزیادہ گہرےگڑھےمیں پھینکا- حکومتیں جاتی اورآتی رہیں- مگرلوگوں نےتماشائی سےبڑھ کراس آمد ورفعت کےمنظرسےکوئی دل چپسی نہ لی-
چوتھا اصول، جو اس تیسرےاصول کےساتھ لازمی تعلق رکھتا تھا، یہ تھا کہ خلفیہ اوراس کی حکومت خدا اورخلق دونوں کےسامنےجوابدہ ہے- جہاں تک خدا کےسامنےجواب دہی کاتعلق ہےاس کےشدید احساس سےخلفائےراشدین رضی اللہ عنہ پردن کا چین اوررات کا آرام حرام ہوگیا تھا- اورجہاں تک خلق کےسامنےجواب دہی کا تعلق ہے، وہ ہروقت، ہرجگہ اپنےآپ کوعوام کےسامنےجواب دہ سمجھتےتھے- ان کی حکومت کا یہ اصول نہ تھا کہ صرف مجلس شوری (پارلیمنٹ) میں نوٹس دےکرہی ان سےسوال کیا جاسکتا ہے، وہ ہرروزپانچ مرتبہ نماز کی جماعت میں اپنےعوام کا سامنا کرتےتھے- وہ ہرہفتےجمعہ کی جماعت میں عوام کےسامنےاپنی کہتےاورسنتےتھے- وہ شب وروزبازاروں میں کسی باڈی گارڈ کےبغیراورکسی ہٹوبچو کی آوازکےبغیر، عوام کےدرمیان چلتےپھرتےتھے- ان کےگورنمنٹ ہاؤس ( یعنی ان کےکچےمکان) کا دروازہ ہرشخص کےلیےکھلاتھااورہرایک ان سےمل سکتاتھا- ان سب مواقع پرہرشخص ان سےسوال کر سکتا تھا- اورجواب طلب کرسکتاتھا- یہ محدود جواب دہی نہ تھی بلکہ کھلی اورہمہ وقتی جواب دہی تھی- یہ نمایندوں کےواسطہ سےنہ تھی بلکہ پوری قوم کےسامنےبراہ راست تھی- وہ عوام کی مرضی سےبرسراقتدارآئےتھے اورعوام کی مرضی انھیں ہٹا کردوسرا خلیفہ ہروقت لا سکتی تھی- اسی لیےنہ تو انھیں عوام کا سامنا کرنےمیں کوئی خطرہ محسوس ہوتا تھا اورنہ اقتدارسےمحروم ہونا ان کی نگاہ میں کوئی خطرہ تھا کہ وہ اس سےبچنے کی کبھی فکرکرتے- لیکن بادشاہی دورکےآتےہی جوابدہ حکومت کا تصور ختم ہوگیا- خدا کےسامنےجواب دہی کا خیال چاہےزبانوں پررہ گیا ہو، مگرعمل میں اس کےآثارکم ہی نظرآتے ہیں- رہی خلق کےسامنےجواب دہی، توکون مائی کا لال تھا، جو ان سےجواب طلب کرسکتا- وہ اپنی قوم کےفاتح تھے- مفتوحوں کےسامنےکون فاتح جواب دہ ہوتاہے- وہ طاقت سےبرسراقتدارآئےتھےاوران کا نعرہ یہ تھا کہ جس میں طاقت ہووہ ہم سےاقتدار چھین لے- ایسےلوگ عوام کا سامنا کب کیا کرتےہیں اوراورعوام ان کےقریب کہاں پھٹک سکتےتھے- وہ نماز بھی پڑھتےتھےتونتھوخیرےکےساتھ نہیں بلکہ اپنےمحلوں کی محفوظ مسجدوں میں، یا باہراپنےنہایت قابل اعتماد محافظوں کےجھرمٹ میں- ان کی سواریاں نکلتی تھیں توآگےاورپیچھےمسلح دستےہوتےتھےاورراستےصاف کردیےجاتےتھے- عوام کی اوران کی مٹ بھیڑکسی جگہ ہوتی ہی نہ تھی-
پانچواں اصول اسلامی دستورکا یہ تھا کہ بیت المال خدا کا مال اورمسلمانوں کی امانت ہے، جس میں کوئی چیزحق کی راہ کےسواکسی دوسری راہ سےآنی نہ چاہیے، اورجس میں سےکوئی چیز حق کےسوا کسی دوسری راہ میں جانی نہ چاہیے- خلیفہ کا حق اس مال میں اتنا ہی ہےجتنا قرآن کی رو سےمال یتیم میں اس کےولی کا ہوتاہےکہ من کان غنیتا فلیستعفف ومن کان فقیرافلیا کل بالمعروف ( جواپنےذاتی ذرائع آمدنی اپنی ضرورت بھررکھتاہووہ اس مال سےتنخواہ لینےہوئےشرم کرے، اورجوواقعی حاجت مندہووہ اتنی تنخواہ لےجسےہرمعقول آدمی مبنی برانصاف مانے) خلیفہ اس کی ایک ایک پائی کےآمدو خرچ پرحساب دینےکاذمہ دارہےاورمسلمانوں کواس سےحساب مانگنےکاپورا حق ہے- خلفائےراشدین نےاس اصول کوبھی کمال درجہ دیانت اورحق شناسی کےساتھ برت کردکھایا- ان کےخزانےمیں جوکچھ بھی آتاتھا ٹھیک ٹھیک اسلامی قانون کے مطابق آتاتھا اوراس میں سےجوکچھ خرچ ہوتاتھا بالکل جائزراستوں میں ہوتا تھا- ان میں سےجو غنی تھا اس نےایک حبہ اپنی ذات کےلیےتنخواہ کےطورپروصول کیےبغیرمفت خدمت انجام دی، بلکہ اپنی گرہ سے قوم کےلیےخرچ کرنےمیں بھی دریغ نہ کیا-اورجو تنخواہ کےبغیرہمہ وقتی خدمت گارنہ بن سکتےتھے، انھوں نےاپنی ضروریات زندگی کےلیےاتنی کم تنخواہ لی کہ ہرمعقول آدمی اسےانصاف سےکم ہی مانےگا، زیادہ کہنےکی جرات ان کا دشمن بھی نہیں کرسکتا- پھراس خزانےکی آمد وخرچ کاحساب ہروقت ہرشخص مانگ سکتا تھا اوروہ ہروقت ہرشخص کےسامنےحساب دینےکےلیےتیارتھے- ان سےایک عام آدمی بھرےمجمع میں پوچھ سکتاتھا کہ خزانےمیں یمن سےجوچادریں آئی ہیں ان کا طول وعرض تواتنا نہ تھا کہ جناب کا یہ لمبا کرتہ بن سکے، یہ زائد کپڑاآپ کہاں سےلائےہیں؟ مگرجب خلافت بادشاہی میں تبدیل ہوئی توخزانہ خدا اورمسلمانوں کا نہیں بلکہ بادشاہ کا مال تھا- ہرجائزوناجائزراستےسےاس میں دولت آتی تھی اورہرجائزونا جائزراستےمیں بے غل وغش صرف ہوتی تھی- کسی کی مجال نہ تھی کہ اس کےحساب کاسوال اٹھاسکے- سارا ملک ایک خوان یغما تھا، جس پرایک ہرکارےسےلےکرسربراہ مملکت تک، حکومت کےسارےکل پرزےحسب توفیق ہاتھ ماررہےتھے، اورذہنوں سےیہ تصورہی نکل گیا تھا کہ اقتدارکوئی پروانہ اباحت نہیں ہےجس کی دولت یہ لوٹ ماران کےلیےحلال ہو، اورپبلک کامال کوئی شیرمادرنہیں ہےجسےوہ ہضم کرتےرہیں اورکسی کےسامنے انھیں اس کا حساب دینا نہ ہو-
چھٹا اصول اس دستورکایہ تھا کہ ملک کا قانون ( یعنی خدا اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےقانون) کی حکومت ہونی چاہیے- کسی کوقانون سےبالاترنہ ہونا چاہیے- کسی کوقانون کےحدود سے باہرجا کرکام کرنےکاحق نہ ہونا چاہیےاورسب پراسےبےلاگ طریقےسےنافذ ہونا چاہیےاورعدالتوں کوانصاف کرنےکےلیےہردباؤ سےبالکل آزاد ہونا چاہیے- خلفائےراشدین رضی اللہ عنہ نےاس اصول کی پیروی کا بھی بہترین نمونہ پیش کیا تھا- بادشاہوں سےبڑھ کراقتداررکھنے کےباوجود وہ قانون الہی کی بندشوں میں جکڑےہوئےتھے- نہ ان کی دوستی اوررشتہ داری قانون کی حد سے نکل کرکسی کوکچھ نفع پہنچاسکتی تھی ، اورنہ ان کی ناراضی کسی کوقانون کےخلاف کوئی نقصان پہنچا سکتی تھی- کوئی ان کےاپنےحق پربھی دست درازی کرتاتووہ ایک عام آدمی کی طرح عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتےتھے، اورکسی کوان کےخلاف شکایت ہوتی تووہ استغاثہ کرکےانھیں عدالت میں کھینچ لاسکتا تھا- اسی طرح انھوں نےاپنی حکومت کےگورنروں اورسپہ سالاروں کوبھی قانون کی گرفت میں کس رکھا تھا کسی کی مجال نہ تھی کہ عدالت کےکام میں کسی قاضی پراثراندازہونےکا خیال بھی کرتا- کسی کا یہ مرتبہ نہ تھا کہ قانون کی حد سےقدم باہرنکال کرمواخذہ سےبچ جاتا- لیکن خلافت سےبادشاہی کی طرف انتقال واقع ہوتےہی اس قاعدےکےبھی چیتھڑےاڑگئے- اب بادشاہ اورشاہزادےاورامرااورحکام اورسپہ سالارہی نہیں ، شاہی محلات کےمنہ چڑھےلونڈی غلام تک قانون سےبالاترہوگئے- لوگوں کی گردنیں اورپیٹھیں اورمال اورآبروئیں، سب ان کےلیےمباح ہوگئیں، انصاف کےدومعیاربن گئے- ایک کم زور کےلیےاوردوسرا طاقت ورکےلیےمقدمات میں عدالتوں پردباؤ ڈالےجانےلگےاوربےلاگ انصاف کرنےوالےقاضوں کی شامت آنےلگی- حتی کہ خدا ترس فقہا نےعدالت کی کرسی پربیٹھنےکی بجائےکوڑےکھانا اورقید ہوجانا زیادہ قابل ترجیح سمجھاتا کہ وہ ظلم وجور کےآلہ کاربن کرخدا کےعذاب کےمستحق نہ بنیں-
مسلمانوں میں حقوق اورمراتب کےلحاظ سےکامل مساوات، اسلامی دستورکا ساتواں اصول تھا جسے ابتدائی اسلامی ریاست میں پوری قوت کےساتھ قائم کیا گیا تھا- مسلمانوں کےدرمیان نسل، وطن، زبان وغیرہ کاکوئی امیتازنہ تھا- قبیلےاورخاندان اورحسب ونسب کےلحاظ سےکسی کوکسی پرفضیلت نہ تھی- خدا اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےماننےوالےسب لوگوں کےحقوق یکساں تھےاورسب کی حیثیت برابرتھی- ایک کودوسرےپرترجیح اگرتھی توسیرت واخلاق اوراہلیت وصلاحیت ، اورخدمات کےلحاظ سےتھی- لیکن خلافت کی جگہ جب بادشاہی نظام آیا توعصبیت کے شیاطین ہرگوشےسےسراٹھانےلگے- شاہی خاندان اوران کےحامی خانوادوں کامرتبہ سب سےبلند وبرترہوگیا- ان کےقبیلوں کودوسرےقبیلوں پرترجیحی حقوق حاصل ہوگئے- عربی اورعجمی کےتعصبات جاگ اٹھےا ور خود عربوں میں قبیلےاورقبیلےکےدرمیان کش مکش پیدا ہوگئی- ملت اسلامیہ کواس چیزنےجو نقصان پہنچایا اس پرتاریخ کےاوراق گواہ ہیں-
یہ تھےوہ تغیرات جواسلامی خلافت کوخاندانی بادشاہت میں تبدیل کرنےسےرونما ہوئے- کوئی شخص اس تاریخی حقیقت کا انکارنہیں کرسکتاکہ یزید کی ولی عہدی ان تغیرات کا نقطہ آغازتھی- اوراس بات سےبھی انکارممکن نہیں ہےکہ اس نقطےسےچل کرتھوڑی مدت کےاندرہی بادشاہی نظام میں وہ سب خرابیاں نمایاں ہوگئیں جواوپربیان کی گئی ہیں- جس وقت یہ انقلابی قدم اٹھایا گیا تھا، اس وقت یہ خرابیاں اگرچہ بتمام و کمال سامنےنہ آئی تھیں- مگرہرصاحب بصیرت آدمی جان سکتاتھا کہ اس اقدام کےلازمی نتائج یہی کچھ ہیں اوراس سےان اصلاحات پرپانی پھرجانےوالا ہےجواسلام نےسیاست وریاست کےنظام میں کی ہیں- اسی لیے امام حسین رضی اللہ عنہ اس پرصبرنہ کرسکےاورانھوں نےفیصلہ کیا کہ جوبدترسےبدترنتائج بھی انھیں ایک مضبوط جمی جمائی صورت کےخلاف اٹھنےمیں بھگتنا پڑیں- ان کا خطرہ مول لےکربھی انھیں اس انقلاب کوروکنےکی کوشش کرنی چاہیے- اس کوشش کاجو انجام ہوا وہ سب کےسامنےہے- مگرامام نےاس عظیم خطرےمیں کود کراورمردانہ واراس کےنتائج کوانگیزکرکے جوبات ثابت کی وہ یہ تھی کہ اسلامی ریاست کی بنیادی خصوصیات امت مسلمہ کاوہ بیش قیمت سرمایہ ہیں جسےبچانےکےلیےایک مومن اپنا سربھی دےدےاوراپنےبال بچوں کوبھی کٹوابیٹھےتواس مقصد کےمقابلے میں یہ کوئی مہنگا سودانہیں ہےاوران خصوصیات کے مقابلےمیں وہ دوسرےتغیرات جنھیں اوپرنمبروارگنایا گیا ہے، دین اورملت کےلیےوہ آفت عظمی ہیں جسےروکنےکےلیےایک مومن کواگراپنا سب کچھ قربان کردینا پڑےتواس میں دریغ نہ کرنا چاہیے- کسی کا جی چاہےتواسےحقارت کےساتھ ایک سیاسی کام کہہ لےمگر حسین رضی اللہ عنہ ابن علی رضی اللہ عنہ کی نگاہ میں تویہ سراسرایک دینی کام تھا، اسی لیےانھوں نےاس کام میں جان دینےکوشہادت سمجھ کرجان دی-
ماخذ: شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ
مصنف: مولاناابوالاعلی مودودی
پبلشرز: اسلامک پبلی کیشنز(پرائیویٹ) لمیٹیڈ
ایڈیشن:11
تاریخ اشاعت: Nov. 1, 2011
ریڈنگ کاؤنٹر: 23