بعض شخصیتیں میرے لئے ایسی رہی ہیں کہ ان کی زندگی میں ان سے ملنے کی ارزو رہی ہے۔ ان کی صحبت سے بے شمار فیوض حاصل ہونے پر یقین بھی تھا۔ ملنے ملاقات کرنے کی آسانیاں بھی موجود تھیں لیکن اول تو کسی نہ کسی وجہ سے ملاقات کا شرف نصیب نہیں ہوا یا اگر ایک آدھ ملاقات ہوئی بھی تو بہت مختصر اور محض روا روی میں، سید ابو الاعلیٰ مودودی مرحوم میرے لئے ایسی ہی ایک شخصیت تھے۔ ان سے ملنا اور ان کی صحبت سے مستفید ہونا مشکل نہ تھا۔ میں راولپنڈی میں تیرہ برس ۱۹۵۰ء سے ۱۹۶۳ء تک مقیم رہا وہ لاہور میں رہتے تھے۔ میں ہر ماہ لاہور ایک مرتبہ تو ضرور ہی جاتا تھا۔ ان سے ملنے کا شوق بھی تھا، لیکن ایسا ممکن نہ ہو سکا اور جب ملاقات ہوئی تو اس وقت کہ میں کراچی منتقل ہو چکا تھا اور محض اتفاقا" لاہور آیا ہوا تھا۔ ایک ہی ماہ میں دو مرتبہ چند دنوں کے وقفہ سے ملنا ہوا۔ ایک شام ایک ہوٹل میں چائے کی ا یاک تقریب کے دوران اور دوسری مرتبہ ایک صاحب کے گھر پر دوپہر کا کھانا ان کےساتھ کھانے کا اتفاق ہوا اور کچھ دیر گفتگو بھی ہوئی۔ یہ بات ۱۹۷۰ء کی ہے اس کے بعد پھر کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔
میں جماعت اسلامی کے اراکین، متفقین یا معتقدین میں کبھی شامل نہیں رہا۔ لیکن مولانا کی ذات سے جو اس تحریک کو نسبت ہے اور اس تحریک سے وابستہ کم از کم دو ایسے باعمل اور متقی بزرگوں، یعنی میاں طفیل محمد اور جناب صادق صاحب کی نیکی اور تقوے میں مجھے کچھ ویسا ہی عکس نظر آتا ہے، جس کا تصور اسلام کے ابتدائی دور کے مسلمانوں کے حالات پڑھتے ہوئے قائم ہوتا ہے، اس لئے میں جماعت اسلامی کےسالہ خون بھی معاف کرنے کے لئے تیار رہتا۔ اب یہ کیفیت نہیں رہی مگر جب بھی اس وقت سیاسی طور پر غیر مقلد ہوتے ہوئے بھی اس حد تک جانبداری کا ارتکاب کرنے پر میں بہر حال طبعا مجبور تھا۔ وجہ یہ بھی تھی کہ اس زمانہ میں جب میں فوج کے تعلقات عامہ میں تھا اس وقت کے حکمرانوں اور ارباب اختیار کی طرف سے سید ابو الاعلیٰ مودودی مرحوم کی بلا جواز مخالفت اور ان کے خلاف بہتان طرازی کی پر تشدد مہم کو میں نے بہت قریب سے دیکھا تھا۔ اور میں اس حقیقت سے بخوبی واقف تھا کہ اس مخالفت کی صرف اور صرف ایک ہی وجہ تھی، وہ یہ کہ پاکستان کے حکمرانوں اور با اختیار طبقہ کو اپنی اخلاق باختہ زندگی کا زندہ انسانوں میں صرف ایک دشمن نظر آتا تھا۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی۔ وہ اپنی تحریک اپنی تحریر اپنی تقریر سے ایک ایسا معاشرہ پاکستان میں منظم کرنا چاہتے تھے، جو اپنے شعائر میں اسلامی ہو ۔ اپنی ساخت میں جدید ہو۔ خود اعتماد ہو۔ اوامر و نواہی کا عملی طور پر پابند ہو، اور جس میں مساوات اور اخوت کو قائم اور مستحکم کرنے میں کوئی مصلحت، کوئی ترغیب مزاحم نہ ہو اور ہمارے حکمرانوں کا یہ حال تھا کہ دوزخ میں ڈال دے کوئی ایسی بہشت کو "۔
میں ۱۹۵۳ء میں اس وقت لاہور ہی میں تمہا جب تحریک ختم نبوت کے فسادات کے سبب شہر میں مارشل لاء نافذ کیا گیا تھا۔ اور جب ایک فوجی عدالت میں سید ابوالاعلیٰ مودودی کو موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ جو لوگ عدالت میں موجود تھے ان میں میرے ایک دوست بھی تھے۔ دوسرے آزاد خیال اور جوانی کی دیوانگی میں مبتلا لوگوں کی طرح وہ بھی اسلام اور اسلام کے ملائن" سے بیزار ہی تھے۔ لیکن ذکی الحس تھےاس لئے جب عدالت ابی لوٹے تو بہت پڑ مردہ تھے اور بار بار کہتے تھے کہ "یہ کیسے ممکن ہے۔ یہ کس طرح ممکن ہے۔ ۔ ۔ سرسری سماعت کی فوجی عدالت وقت کے سب سے بڑے عالم کو پھانسی کی سزا کیسے سنا سکتی ہے!“ ان صاحب نے مجھے بتایا کہ جب عدالت سے سید مودودی کو موت کی سزا سنائی گئی تو سید صاحب کے چہرہ پر مسکراہٹ تھی۔ وہ بالکل ہراساں یا خوفزدہ نہ تھے اور ان کی زبان سے "الحمد للہ" کے الفاظ نکلے جو عدالت میں موجود حاضرین نے سنے جن میں بہت سوں پر غالبا خوف خدا بھی طاری ہوا۔
میں نے اس وقت تک مولانا مودودی کی کوئی کتاب نہیں پڑھی تھی۔ لیکن میں نے ان کے بارے میں بہت کچھ ا سن رکھا تھا۔ اپنی طالبعلمی کے زمانہ میں، میں نےمسلم یونیورسٹی میں، بعض اساتذہ کی زبانی ان کا یہ واقعہ بھی سنا تھا کہ جب ایک مرتبہ وہ یونیورسٹی میں مہمان تھے ، تو انہوں نے وہاں طلباء میں لفظ ”مولانا“ کا استعمال دوران گفتگو ایک ایسے انداز میں ہوتے دیکھا جو عام مفہوم سے کسی قدر مختلف تھا۔ طلباء کے ایک اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے، سید صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا ”حضرات میں نے اپنے دوران قیام یہاں یہ اندازہ لگایا کہ آپ لفظ مولانا کچھ اس طرح استعمال کرتے ہیں، گویا آپ مخاطب کی فہم و فراست کو مشکوک سمجھتے ہیں۔ اسے سادہ لوح بلکہ کسی حد تک مخبوط الحواس خیال کرتے ہیں۔ تو حضرات یقیناً آپ نے یہ طریق سوچ سمجھ کر اختیار کیا ہو گا، چنانچہ میں آپ سے یہ درخواست کروں گا کہ آپ مجھے اس عزت افزائی سے معاف رکھیں اور میرے نام کے ساتھ مولانا کا لاحقہ لگا کربجائے اس کے کہ میرے بارے میں لوگوں کو کسی شک میں مبتلا کریں ، میرا سیدھا سادا تمام نلے کر ہی مجھے مخاطب کریں۔" جو لوگ علی گڑھ یونیورسٹی کی فضا سے واقف ہیں وہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ سید صاحب نے جو کچھ کہا وہ علیگڑھ یونیورسٹی کے مخصوص ماحول اور مزاج سے کسی درجہ ہم آہنگ تھا اور وہاں کے لطائف و ظرائف اور خوشی سخنی کے قدردان حلقوں نے اس سے کیسا کچھ لطف اٹھایا ہو گا۔
غالبا" ۱۹۵۵ء تک میں نے مولانا ابوالاعلیٰ مودودی مرحوم کی بیشتر تصانیف کا مطالعہ کر لیا تھا لیکن میں یہ ظاہر نہیں کرتا تھا کہ ان کی کتابیں یا تفہیم القرآن میرے زیر مطالعہ ہیں۔ اس زمانہ میں جن لوگوں کے ساتھ میرا اٹھنا بیٹھنا تھا اور زیادہ وقت گزرتا تھا وہ لوگ سارتر پڑھتے تھے اور وجودیت Existentialism کی باتیں کرتے تھے۔ اگر انہیں ذرا بھی یہ اندازہ لگتا کہ میں کس طرف چل پڑا ہوں تو مجھ سے کنارہ کشی تو کر ہی لیتے شاید میرا لو لو بھی پیٹ دیتے۔ میں بلاوجہ نکو بننے کے ڈر سے اپنے اس نئےمشغلے یعنی دینی معاملات و مسائل کے مطالعہ کا کسی سے تذکرہ نہ کرتا تھا۔ جی ہاں ایک زمانہ تھا جب دین سے وابستگی- - - - - - کو عیب گردانا جاتا تھا۔ جو لوگ دین سے لا تعلق اپنی غیر پابند سیکولر زندگی میں مگن ہیں وہ اب بھی ان لوگوں کو جو تارکین دین نہیں ہیں کم عقل اور رجعت پسند سمجھتے ہیں، لیکن اس وقت میں اور آج کے زمانہ میں فرق یہ ہے کہ اب دین سے وابستگی عیب نہیں ہے اور اس وابستگی کے ساتھ بھی ایک عام شہری کو ہنسنے بولنے، پھلنے پھولنے کے مواقع ہیں۔ مولانا مودودی کی تصانیف ان کے طرز تحریر ان کے انداز فکر نے تعلیم یافتہ طبقہ میں دین کے بارے میں معذرت خواہی کی بجائے خود اعتمادی کو فروغ دیا ہے۔ تارکین دین اور اسلام بیزار حلقوں میں اسے جارحیت سے تعبیر کیا جاتا ہے لیکن یہ ایسی ہی بات ہے جیسے جبر اور غلامی میں جکڑے ہوئے جاگیردارانہ معاشرہ میں کوئی مجبور اور ر محکوم کسان سر اٹھا کر چلنے لگے تو اسے باغی قرار دیا جاتا ہے اور اس پر سرکش ہونے کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔
۱۹۶۰ء کے عشرہ کے اوائل میں حکومت نے مولانا مودودی کو فکری اور عملی لحاظ سے زچ کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ وزارت اطلاعات کے بعض متوسلین کے سپرد یہ کام کیا گیا که "رد مودودی" کے لئے "جہاد بالقلم" میں حصہ لے کر عند الطلب ماجور ہوں۔ اس کام میں مصروف ایک محرر سے میں بھی واقف تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ صاحب موصوف حکومت کی اس تحریک میں صرف جلب زر کے لئے شامل نہ تھے بلکہ انہیں واقعی مولانا مودودی سے ایک طرح کا متعصبانہ اختلاف بھی تھا، جو دوران گفتگو بہت ہی زیادہ شدید ہو جاتا تھا۔ میں نے ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ اپنی فضول اور بے بنیاد تحریروں کے ذریعہ اس عالمانہ منصب اور دینی فکر و عمل کی دنیا میں مولانا کو جو مرتبہ اور شہرت حاصل ہے ختم کر سکیں گے۔ ایک شخص جس نے اپنی ساری زندگی ایک موضوع پر کام کیا ہو۔ اس کا مطالعہ کیا ہو۔ اس کے بارے میں غور و فکر کی ہو اور متواتر کئی برسوں سے اپنے مطالعہ اور فکر کو دنیا کے سامنے نہایت سلیقے سے پیش کر کے قبولیت حاصل کی ہو، کیا آپ اس کی اس محنت اور کاوش کو محض ایک وزارت کے مالی وسائل اور اپنی مشکوک اہلیت اور ناقص علم کے ذریعہ مجروح کر سکیں گے۔ اول تو آپ کی تحریروں کو پڑھے گا کون اور پھر جو لوگ ان پر روا روی میں نظر ڈالنے کی تکلیف کریں گے بھی تو وہ ان سے کیوں متاثر ہونے لگے ہیں۔ میں مولانا مودودی کی ہمدردی میں نہیں بلکہ آپ کی ہمدردی میں نہایت درجہ خلوص اور دوستانہ جذبہ کے تحت اگر آپ کو یہ مشورہ دوں کہ آپ اس بے معنی قسم کے کام میں حصہ نہ لیں۔ مالی منفعت کے علاوہ آپ کو اس سے کچھ حاصل نہ ہو گا، بلکہ جو تھوڑی بہت عزت نفس آپ کو حاصل ہے وہ بھی آپ کھو بیٹھیں گے، اور جب مستقبل میں کبھی اپنے اس بے مقصد اور ناکام عمل پر غور کیا کریں گے تو پشیمان ہوا کریں گے۔"
ان صاحب نے میری اس بات پر کچھ دیر تو کٹ حجتی کی۔ کچھ خفا بھی ہوئے مولانا کو برا بھلا بھی کہا۔ اپنے علم کا دعوئی بھی ذرا خم ٹھونک کر کیا، لیکن جیسا کہ مجھے بعد میں پتہ چلا وہ اسی وقت تائب ہو گئے اور سرکاری سرپرستی میں چلائی جانے والی اس تحریک سے دست کش ہو گئے۔ مولانا مودودیؒ سے جب میری ۱۹۷۰ء میں ملاقات ہوئی، جس کا میں نے اس مضمون کے شروع میں حوالہ دیا ہے تو میں نے ان سے اس نوع کی مخالفتوں اور ان کے خلاف لکھی جانے والی صحافیانہ تحریروں کا ذکر کیا۔ میرا مقصد اس ذکر سے یہ تھا کہ اندازہ لگاؤں کہ اس پایہ کا عالم اور مفکر اپنے بارے میں کتنا حساس ہوتا ہے اور اپنے مخالفین اور ناقدین کے لئے اس کے کیا جذبات ہوتے ہیں۔ میں نے اندازہ لگایا کہ مولانا اپنے سیاسی مخالفین یا ان سیاسی شخصیات کے متعلق جنہیں وہ پسند نہیں کرتے تھے، اظہار خیال میں تو کوئی تکلف نہ برتے تھے، لیکن جو لوگ ان کی تصانیف یا تحریروں کو نشانہ بناتے تھے اور انکی مذمت میں از خود یا سرکاری ایما پر قلم اٹھاتے تھے، ان کے بارے میں کسی رد عمل کا اظہار نہ کرتے تھے۔میں نے ایسے بہت سے واقعات سن رکھے تھے کہ ان کے کئی ایسے ساتھی جو بڑے عالم اور فاضل تھے ، اختلاف رائے کے سبب ان کا ساتھ چھوڑ گئے۔ مولانا سے گفتگو کے بعد میں نے اندازہ لگایا کہ غالبا ان سب کو مولانا کے سیاسی مؤقف سے اختلاف رہا ہو گا۔ یا ان میں شخصیت کا تصادم ہو گا۔ علمی موضوعات، مسائل اور افکار پر اختلاف کو مولانا نا پسند نہیں کرتے تھے۔ افسوس کہ مجھے دو مختصر ملاقاتوں کے علاوہ ان کی صحبت میسر نہ ہو سکی، اس لئےمیں نے ان کی شخصیت اور مزاج کے بارے میں جو بھی رائے قائم کی، اسے مستند قرار نہیں دیا جا سکتا، لیکن تاحال میرا رابطہ ان کے جاننے والوں میں جس سے بھی ہوا ہے، اس نے میری اس رائے سے اتفاق کیا ہے۔
دوران گفتگو میں نے مولانا کے چہرہ پر مشتمل اور متانت کی ایک ٹھہری ہوئی اورروشن کیفیت دیکھی، جس میں مجھے کسی لمحہ بھی کوئی اضطراب نظر نہ آیا۔ میں نے دیکھا کہ وہ بات بڑی توجہ اور غور سے سنتے تھے، اور جواب بلا جھجھک بلا کسی تحفظ کے اور بہت جم کر دیتے تھے۔ ان کے لہجہ میں توازن اور بیان میں روانی تھی۔ انہیں کسی لفظ یا فقرہ کے لئے کوئی کوشش نہیں کرنی پڑتی تھی۔ بالکل اسی انداز میں اپنی بات کہتےتھے کہ اگر اسے لکھ لیا جاتا تو بعینہ اسی طرح شائع بھی کیا جا سکتا تھا۔ میری ملاقات جیسا کہ میں نے عرض کیا، ان سے ۱۹۷۰ء میں ہوئی تھی۔ یہ آغا یحیی خان مرحوم کےمارشل لاء کا سال تھا۔ لاہور شہر میں انتخابات کی ہما ہمی تھی۔ نئی سیاسی قیادت کے طفیل ایک نئی قسم کی بازاری سیاست کا آغاز ہوا تھا۔ بازاری قسم کی صحافت اور عام اخلاق باختگی، شور، ہنگامہ خیزی کند ذہنی جسے اب ہر بڑا چھوٹا اوٹی اور اعلیٰ سطح پر اپنا چکا ہے، اس وقت اس کی ابتدا ہوئی تھی۔ میں نے مولانا سے پوچھا تھا ”آپ اس سب میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے فرمایا۔ اس کا مقابلہ کریں گے"۔ میں نے پوچھا کس طرح؟" فرمایا " سے برداشت کر کے اور اپنے طریقہ پر استقامت کے ساتھ گامزن رہ کر"۔
میں نےمولانا سےاس ملاقات میں اپنےاس خیال کااظہار کیا تھا کہ ان کی جماعت کیسی بھی کوشش کیوں نہ کر لے، اس کےلئے انتخاب میں کوئی قابل ذکر کامیابی ممکن نہیں ہے۔ مولانا نے میری اس بات کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی، لیکن میرے خلوص نیت پر کسی قسم کےشک کابھی اظہار نہیں کیا، میں نے جو کچھ کہا تھا وہ کسی خصوصی علم یا فہم و فراست کی بنا پر نہیں کیا تھا، بلکہ اس زمانہ میں جو فضا تھی اور حالات جیسے نظر آ رہے تھے، ان میں کوئی بھی غیر جانبدار یا غیر وابستہ مبصر، اس بات کا بآسانی اندازہ لگا سکتا تھا،اسلام سے وابستہ جماعتوں کی طرف نہ بااثر سیاسی حلقوں کا رجحان تھا اورنہ انتظامیہ کا۔ اورمجھے تو یہ بھی کسی حد تک معلوم تھا کہ جنرل ایس جی ایم پیرزادہ جو اس زمانہ میں اپنے تئیں ملک کے وزیر اعظم کا رول ادا کر رہے۔ تھے، ان کے زیر نگرانی مارشل لاء ہیڈ کوارٹر میں کیا کھچڑی پک رہی تھی۔ میں اس سوقت فوج میں نہ تھا، لیکن وردی اتارے ہوئے چند ہی برس ہوئے تھے اور فوج کے معاملات سے بالکل لا تعلق نہیں ہوا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ کون کس کی اور کس طرح سرپرستی کر رہا ہے اور کس لئے کر رہا ہے۔
مولانا نے مجھے یہ تاثر دیا کہ وہ میری بات کو زیادہ لائق توجہ نہیں سمجھتے تھے، تاہم انہوں نے ایک بات ایسی کمی جو اب یاد آتی ہےتو انتخابات کے بعد کے قیامت خیز المیوں اور ساری بربادیوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔مولانا نے جو کچھ کہا تھا اس کا لب لباب یہ تھا کہ انتخابات میں جماعتیں صرف جیتا ہی نہیں کرتیں بلکہ وہ انتخابات میں عوام کی توجہ اپنی طرف دلانے کی بھی کوشش کرتی ہیں۔ انہیں یہ بھی موقع ملتا ہےکہ عوام کےخفتہ احساسات کو کس حد تک بیدار کرا سکیں۔ ایسی جماعتیں جن کے کچھ واضح اور قابل عمل نظریات ہوتے ہیں، کچھ اصول اور اقدار ہوتی ہیں، ان کے لئے محض اس خوف سے بستر بوریا لپیٹ کر گوشہ عافیت کا رخ کرنا دانشمندی نہیں ہے کہ وہ انتخابات میں ہار جائیں گی۔ مولانا کو اس تیز و تند ہوا کااحساس تھا جو آندھی کی طرح پاکستان کے طول و عرض میں مشرق اور مغرب میں چل رہی تھی، لیکن وہ اسےعارضی چیز سمجھتے تھے۔ ان کی باتوں سے یہ بھی اندازہ لگتا تھا کہ انہیں اسلام کے احیاء اور اپنی تحریک کی کامیابی کی کوئی جلدی نہ تھی، وہ عجلت میں نہ تھے، لیکن ست روی بد دلی، مایوسی اور کم ہمتی کو بھی کسی طرح جائز نہیں سمجھتے تھے، آج یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ ۱۹۷۰ء کے انتخابات کے نتیجہ کے بعد اگر مولانا مایوس ہو جاتے اور اپنی تحریک کی سرگرمیوں کو کم کر دیتےتو 19۷۷ء میں جعلی انتخابات اور اس زمانہ میں معاشرہ پر مسلط اخلاق باختگی کے خلاف وہ ہنگامہ خیز رد عمل نہ ہوتا جو ہوا اور اس کےبعد سے آج تک نظام مصطفیٰ اور شریعت کے نفاذ کے لئے جس شد و مد سے اور وسیع پیمانہ پر مطالبات جاری رہے ہیں، ان کا نام و نشان نہ ہوتا۔ یہی نہیں بلکہ بنگلہ دیش کی سیاست میں بھی ۱۹۷۰ء کی تحریک کو وہاں عوام نے جس طرح بار بار مسترد کیا ہے اس کے پس پشت بھی وہ اسلامی تحریکیں کار فرما رہی ہیں جو اپنے اپنے طور پر مصروف عمل رہی ہیں اور ہیں۔
مولانا کی وفات کے بعد شاید حالات بہت حد تک بدل گئے ہیں۔ ان کا سارا علم اور صحیح فکر ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ ان کی طبیعت کا ٹھراؤ، تحمل، غور و فکر کی صلاحیت، تدبر اور خود اعتمادی نے ان کی تحریک کو انتخابات میں تو کامیابی عطا نہیں کی لیکن ان کی حیات میں بے حد فعال اور موثر رکھا۔ یہ ان کی تحریک کی خوش قسمتی ہےکہ مولانا کے معاونین اورشریک کار ابھی موجود ہیں، اورمولانا کےخیالات و افکار بھی مولانا کی تصانیف میں استفادہ کےلئےدستیاب ہیں۔ اگر متلون مزاجی اور بد عقیدگی حائل نہ ہو تو مولانا کا مشن پوری توانائی سے جاری رہ سکتا ہے۔
ماخذ: سید مودودی مرد عصر و صورتگر مستقبل
پبلشرز: ادارہ ترجمان القرآن, ایڈیشن1
ایڈیشن:1
مصنف: ابن الحسن
تاریخ اشاعت: Jan. 1, 1996
ریڈنگ کاؤنٹر: 33