تحریک مدافعت دین میں سیدمودودی کامقام

ڈاکٹرسیداعبداللہ

انیسویں بیسویں صدی عیسوی میں عالم اسلام اور دین اسلام جس صہیب مغربی فتنے سے دو چار ہوا، اس کا مقابلہ کرنے کے لئے ترکی، مصر، شام اور برصغیر پاک وہند میں کئی زعماء قلمی جہاد کے لئے میدان میں اترے اور اپنے اپنے طریقے سے فکر اسلامی کو مغربیت کے زہر سے محفوظ کرنے میں سرگم عمل رہے۔ اس سلسلے میں برصغیر میں ہمارے زمانے میں اپنے مخصوص اور غیر معمولی طریق کار کے لحاظ سے جو عظیم سب سے نمایاں نظر آتی ہیں، وہ دو ہیں، ایک علامہ اقبال اور دوسرے سید شخصیتیں مودودی

لیکن ہمیں ان تک پہنچنے کے لئے چند مقدمات کا سہارا لیتا ہوگا جس کی خاطر تھوڑی سی روداد گزشتہ ادوار کی بھی بیان کرنی پڑے گی۔

دین اسلام کی اشاعت و وسعت کے ساتھ ہی یہود و نصاریٰ اور یونانیت نے پر پرزے نکالنے شروع کر دیے تھے۔ اس پر مستزاد قبا ملیت اور سیاست نے بھی سراٹھایا۔ کچھ پرانی تہذیبیں (جن کے لئے مجموعی نام نمیت تجویز کیا گیا ہے) اپنے پرانے عقائد کو نئے لباس میں پیش کر کے اسلام کی تحریف کرنے لگیں۔

یہ فتنے سخت تھے ، مگر علمائے امت نے اپنے اپنے زمانے میں اور اپنے اپنے طریقے سے ان سب کا مقابلہ کیا۔ معتزلہ کی یونانیت کے مقابلے میں اشاعرہ سینہ سپر ہو گئے۔ عجمیت کے مقابلے میں اہل الحدیث نے کام کیا۔ پرانی تہذیبوں کے قانونی دعووں کے رد میں فقہا نے ایک مربوط فقہ تیار کی اور اندرونی فرقوں اور مسلکوں کی چھان بین کے لئے علم ملل والنمل کی تدوین ہوئی۔ چنانچہ امام اشعری کی کتاب مقالات لاسلامیین اسی سلسلے کی اہم کتاب ہے۔

علم مناظرہ اور علم الجدل و الخلاف اپنی کمزوریوں کے باوجود) اس لحاظ سے مفید رہا کہ جھگڑا لو اور غیر مخلص مدعیوں کے لئے دندان شکن ثابت ہوتا رہا۔

غرض مدافعت دین کا یہ سلسلہ چلتا رہا اور اس کی ایک لمبی تاریخ ہے جس سے اس مختصر تحریر میں اعتنا نہیں کیا سکتا۔

بنا بریں ہم براہ راست انیسویں بیوی کی عیسوی کے احوال فکری و دینی کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں، کیونکہ یہ وہ صدیاں ہیں جن میں مسلمانوں کے سیاسی اقتدار کے تدریجی زوال کے ساتھ ساتھ دینی فکریات کے شعبے بھی ایک بالکل نئی قسم کے فتنے سے متصادم ہوئے جس کا طریق واردات بالکل نیا اور حد درجہ پر پیچ تھا جسے پہلے تو سمجھنا ہی دشوار ہوا، مگر سمجھ لینے کے بعد اس کے مقابلے کے لئے نئے ہتھیاروں (نئے علوم اور نئے انداز نظر و طریق بحث کی ضرورت پڑی اور پھر یہ بھی ہوا کہ یہ نئے علوم مسلمانوں کے اپنے علوم سے متخالف تھے۔ اس کے علاوہ ان اجنبی علوم کو لانے “والی قوم ایک ایسی معاشرت پر عمل پیرا تھی جو مسلمانوں کی معاشرتی اقدار کی تقریبا ضد تھی اور اس کے ساتھ ہی وہ معاشرتی اقدار و اسالیب ایک ایسی حاکم قوم کے مرغوب و محبوب تھے جس کے ہم بدقسمتی سے غلام و محکوم بھی تھے۔ ان وجوہ سے مدافعت دین کا فریضہ ترکی اور مصر و شام کی طرح برصغیر میں نہایت نازک مشکل اورکٹھن تھا، لیکن یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ علما و صلحائے امت سخت مشکلات کے باوجود مذکورہ بالا دو صدیوں کے اہم موڑ پر اپنے فرائض سے عہدہ برآ ہوتے رہے۔

یوں تو اس کہانی کا آغاز حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی سے ہونا چاہیے لیکن ہماری موجودہ تحریر کے نقطہ نظر سے اگر اس کی ابتدا حضرت سید احمد بریلوئی اور حضرت شاہ اسمعیل شہید سے کر کے سید جمال الدین افغانی کی انقلابی تحریک ہی کو فاتح باب بنا لیا جائے تو کوئی مضائقہ نہ ہو گا۔ حضرت افغانی کا وسیع تر اور حقیقی میدان عمل افغانستان ترکی، ایران اور عالم عرب تھا، تاہم برصغیر بھی ان کی تحریک سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہا چنانچہ ان کے رسالے رو نیچر یہ اور ان کے اخبار العروۃ الو ٹٹی کو ایک طرح سے دفاع دین کی تحریک کا پہلا منشور کہہ دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔

اس موقع پر مذکورہ بالا دو صدیوں میں برصغیر کے مدافعتی دینیاتی ادب کو چار انواع میں تقسیم کیا جاسکتاہے

  • ا۔ رسمی مناظرے کی روایت۔
  • ٢- تقابل ادیان و ملل پر کتابیں۔
  • ٣ - مغربی افکار و خیالات کی درآمد اور ان کے مقابلے میں معذرت آمیز طریق کار-
  • ٤۔ مغربی افکار کی یلغار کے جواب میں توانا، جارحانہ اور مثبت طریق کار۔

جہاں تک مناظرے کی رسم کا تعلق ہے، یہ روایت قدیم الایام سے چلی آتی ہے۔ لیکن برصغیر کے ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور میں کھلے مناظروں کی منتظم تحریک جاری ہوئی۔ بظاہر یہ برطانوی کمپنی تجارتی اغراض سے آئی تھی، لیکن عیسائیت کی تبلیغ بھی اس کے خفیہ مقاصد میں شامل تھی، لہذا کمپنی نے مسیحی مشنریوں کو مناظرے و مباحثے کی کھلی اجازت دے کر اسلام اور مسلمانوں کا رعب مٹانے کے لیے دوسرےمذاہب والوں کو بھی دعوت بحث و نظر دے دی۔ اس کے علاوہ کئی دیگر مصالح بھی ان کے پیش نظر تھے۔

اول عوام کی سیاسی و ملکی صورت حال سے غافل رکھنا اور مذہبی بنیادوں پر آپس میں الجھانا۔ دوم : بین المذاہب کشمکش کو تیز کرنا۔ سوم : مسلمانوں میں بھی داخلی افتراق پیدا کرکے ان کے دل سے کھوئے ہوئےاقتدار کی بازیافت کے جذبے کو زائل کرنا۔

تقابل ادیان پر تصنیف و تالیف کا سلسلہ بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ جہاں یورپ میں اسی زمانے میں دین اور مذہب کو ایک بے کار شے کہہ کر سائنسی ، عقلی اور تجرباتی تحریکوں کو فروغ دیا جارہا تھا، وہاں برصغیر میں برطانوی حکام مذکورہ بالا مصالح کے پیش نظر مذہبی تحریکوں کو ابھار کر مذہبی تصادم کو تیز سے تیز تر کررہے تھے۔

اس اثنا میں برصغیر میں مغربی خصوصا" برطانوی مصنفوں نے اسلام کے خلاف دو زبردست محاذ کھول دیے۔

پہلا محاذ مغربی طریق تحقیق کے مطابق دینی موضوعات پر تصانیف کا آغاز تھا جن کے ذریعے انگریزی درس گاہوں سے نکلے ہوئے حضرات کے اذہان و قلوب میں شکوک و شہبات پیدا کئے جانے لگے، مثلا سرولیم میور کی کتاب آنحضرت کی سیرت پر ۔ (دراصل یہ ایک طرح کی اشتعال انگیزی تھی۔

دوسرا محاذ تاریخ ہندوستان کے مسلم دور کے خلاف تھا جس کے توسط سے مسلم سلاطین کو تختہ مشق بنا کر عام مسلمانوں کو بدنام کرنا مقصود تھا تاکہ تعلیم یافتہ طبقہ اپنی قومی خودی کھو بیٹھے اور اپنی تاریخی ہستی سے (اور پھر اسلام سے) شرمانے لگے اور انگریزی دور کو اپنے لئے نعمت و برکت کا دور سمجھے۔

اس صورت حال میں علمائے اسلام کے ایک حصے کو اور ان کے ہمراہ مغربی طرز کی تعلیم و تربیت کے حامی لوگوں کے ایک گروہ کو اس نئے طریق واردات کے خلاف کچھ کرنے کا احساس ہوا، چنانچہ انہوں نے بھی مغربی مصنفوں کا طریق کار طریق تحقیق اپنایا اعتراضات کی تردید و وضاحت کی خاطر مدا نحتی کتابیں لکھنی شروع کر دیں، لیکن واضح ہو کہ علمائے وقت کی عظیم خدمات کے باوجود یہ کہنا پڑتا ہے کہ ان کا طریق پرانا اور داخلی تھا جو عوام کی یقین افزائی کے لحاظ سے تو نہایت مفید تھا، لیکن تشکیا ،زدہ نئے طبقے کے لئے اطمینان بخش نہ تھا اس کے لئے جوابی تحریک کی ضرورت تھی،

اس مدافعتی، دینی و تاریخی ادب کی تحریک کا سہرا سر سید احمد خان کے سر ہےجنہوں نے ولیم میور کی کتاب کا جواب خطبات احمدیہ کی صورت میں دیا اور تاریخ وغیرہ میں بھی خاصی دلچسپی لی لیکن جہاں تک تاریخ اور علم الکلام کے شعبوں کا تعلق ہے ان میں سب سے بڑا نام شیلی نعمانی کا ہے۔

اگرچہ شبلی نعمانی بھی ایک لحاظ سے علی گڑھ دبستان ہی سے متعلق تھے، لیکن سر سید اور شیلی میں چند نمایاں فرق ایسے تھے جن کی بنا پر شبلی کو ایک مستقل طرز فکر کا بانی کہا جاسکتا ہے۔

سرسید احمد خاں بہت بڑے آدمی تھے اور انہوں نے بڑے نمایاں کام بھی کیےلیکن وہ منفعل ذہن کے آدمی تھے جسے بعض لوگ ان کی مصلحت پسندی اور بع دانش مندی کہہ کر ان کی ضرورت سے زیادہ مرعوبیت اور معذرت دوستی پر پردہ ڈالتےہیں۔ سیاست کی بات چھوڑ دیجئے، اس کی کئی تاویلیں ہو سکتی ہیں، خود دین و مذہب میں ان کا اپنے زمانے کی تحریک نیچرلزم کے سامنے بالکل مفتوح و مغلوب ہو جانا ان کے انفعال و اضمحلال کی علامت ہے، لیکن یہ ضرور ماننا پڑے گا کہ انہوں نے یہ سب کچھ اسلام کی خاطر کیا۔ ان کی قوم کے جو لوگ مغرب کے خوف سے دائرہ اسلام ہی سے نکلے جارہے تھے، انہوں نے انہیں بالکل منحرف ہونے سے بچالیا اور یہ بڑی خدمت تھی۔

ایک ایسے زمانے میں جب کہ خود یورپ میں یورپی مصنفین کا ایک حصہ نیچر لزم کے خلاف بڑی قوت سے نبرد آزما تھا، برصغیر میں سرسید احمد خان اور ان کے ساتھی میں سے اکثر نیچر اور عقل کو فوق الکل اہمیت دیتے تھے، لیکن مولوی چراغ علی (جن کی میری نظر میں علمیت بھی مشکوک ہی تھی) سب سے آگے تھے۔ مگر مطمئن وہ بھی کسی کو نہ کر سکے، اسی وجہ سے وہ سب سے کم مقبول تھے اور اب تقریبا گمنام ہیں۔ بعد کے لوگوں میں علامہ عنایت اللہ خان بڑے زور کے آدمی تھے اور مجاہد تھے، لیکن علی گڑھ کی ہم آوازی انہیں یہاں تک لے آئی کہ وہ یورپ کی تہذیب ہی کو اسلام کی ساختہ پر داختہ کہنے لگے۔ ان کی کتاب "تذکرہ" ایک پر خروش آواز ہے، مگر نتیجہ کیا نکلا اس پر تعجب ہوتا ہے۔

شیلی بھی رفتائے سرسید میں تھے اور ان کی لائی ہوئی بہت سی استدلالی کمزوریوں میں ان کے شریک تھے ، مثلاً جہاد جیسے متحرک اصول زندگی کو محض دفاعی اور حفاظت شے کہہ دینا مغرب سے ان کی مرعوبیت کا ثبوت ہے، لیکن سرسید اور شبلی کے در میان فرق دو باتوں کا ہے۔ پہلا یہ کہ شیلی جہاں بعض مغربی اصولوں کو مان کر علمائےیورپ کی جاں فشانیوں کے معتقد و معترف تھے اور لہجے میں تاویلا" ہی سہی کچھ معذرت بھی تھی، لیکن جب یورپ پر برستے تھے ، تو یوں سمجھیے گویا کہ ژالہ باری ہو رہی ہے جس کی زد سے مغرب کا کوئی افلاطون و بقراط نہ بچتا تھا۔

سرسید اسلاف کے منکر نہ تھے، لیکن ان کا اعتراف ابن خلدون، غزالی اورمعتزلہ تک تھا۔ وہ باقی عظمتوں کی اس طویل قطار سے جس میں صدیوں کے فاصلوں پربڑے بڑے عبقری اور نوابغ کھڑے نظر آتے ہیں، بے نیازانہ گزر جاتے ہیں۔

شیلی اس معاملے میں سرسید احمد خاں کی بالکل ضد تھے۔ اکثر دیکھا کہ جب اسلاف کی کوئی عظیم تصنیف سامنے آئی، تو اس پر تبصرہ کرتے ہوئے عقلائے مغرب کو للکار کر کہا

"یہ دیکھو ! ہمارے خزانے میں کیسے کیسے موتی موجود ہیں۔" یا بالعکس مغرب کی کسی نئی کتاب کے حوالے سے اسلاف کی کسی یاد گار کا ذکر فخریہ انداز میں ضرورکرتے۔ (دیکھئے مقالات شیلی)

اور فرق سیاسی ذوق کا بھی تھا۔۔۔ ایک کی آواز مصالحت طلبا نہ تھی اور دوسرے کا نعرہ جارحانہ ، شبلی نے اپنی شاندار تاریخ پر زور دیا اور مغربی دلیلوں کے ساتھ ساتھ اسلاف کی دلیلوں پر مبنی نیا علم الکلام" مرتب کیا، لیکن سچ یہ ہے کہ سرسید کی طرح شیلی علم الکلام میں کمزور نظر آتے ہیں۔ تاہم اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ انہوں نے اور ان کے دبستان والوں (مولانا ابو الکلام اور سید سلیمان وغیرہ) ے اسلامی علوم اور اسلامی تہذیب کے شاندار مظاہر کو نمایاں کرکے، تعلیم یافتہ طبقے کی شکست خوردگی کو دور کیا ہے۔

بیسویں صدی کے نصف اول تک یورپ سائنس اور سائنسی فکر کے بام عروج تک پہنچ چکا تھا اور یورپ کے اکثر اہل علم فیصلہ کر چکے تھے کہ سائنس (نگری اورتجربی) ہی انسان کے سب دکھوں کی چارہ گری اور سب ضرورتوں کی کار سازی کرسکتی ہے اور یہ بھی کہ اب مذہب کی کوئی ضرورت نہیں، بلکہ یہ بھی کہ یہ سارا سلسلہ خیال ہی بے بنیاد اور بے جواز ہے۔ ان اہل فکر کے نزدیک مادی نفع ہی سب کچھ ٹھرا اور سرمایہ دارانہ نظام تحمیل کی انتہا تک پہنچ گیا۔

اس دوران میں دو خوفناک عالمگیر جنگیں بھی ہوئیں اور اسی زمانے میں کمیونزم (اشتراکیت) نے ایک منتظم ریاست کا تجربہ کرکے کارل مارکس کے خیالات کو دنیا بھر میں عملی طور سے پھیلانے کا عزم کیا۔

اس صورت حال میں اہل دین کے سامنے دو بہت بڑے مذہب دشمن، محاز کھل گئے۔ ایک یورپ اور امریکہ کا مذہب دشمن روحانی اقدار کا مخالف محاذ ۔ اور دوسرا اشتراکیت کا مذہب دشمن محاذ جس نے عوام کو مذہب کے مقابلے میں روٹی کا نعرہ دیا

میں نے علامہ اقبالؒ کے کلام (نظم و نثر) کا اپنی طالب علمانہ استعداد کے مطابق خاصا مطالعہ کیا ہے اور ایک دو کتابیں بھی لکھی ہیں، مجھے یہ نظر آیا ہے کہ اگر اسرار و رموز کو ان کے منتظم فکر کا اولین مظہر قرار دے دیا جائے، تو شاید دعوی بے جا اور غلط نہ سمجھا جائے گا۔

میری نظر میں علامہ اقبال ہمارے پہلے مفکر ہیں (اور مفکر کہہ کر میں انہیں دینیاتی اور عام فکریاتی حکمت دونوں کا نمائندہ قرار دے رہا ہوں) جن کے دل میں مغربی کمالات کا اعتراف تو تھا، مغرب کا رعب اور خوف بالکل نہ تھا۔ وہ جو کچھ لکھتے رہے، اس میں مرعوبیت اور مغلوبیت بالکل نظر نہیں آتی۔ وہ جب مغربیوں کی کوئی بات مانتے ہیں تو خود شعوری کے انداز میں مانتے ہیں اور جب تردید کرتے ہیں تو اس وقت بھی ان کا لہجہ جارحانہ اور حملہ آوارانہ ہوتا ہے۔ مثلاً خطبات کے خطبہ اول میں وہ اتنی بلند سطح پر نظر آتے ہیں کہ ان کے سامنے الیگزنڈر، برگساں، میگنیگرٹ گویا عام کلاس فیلو ہوں جن سے دینا ضروری نہیں۔

اقبال نے اسلامی دینیاتی فکر میں جارحیت، اثباتیت اور غالبیت کا عصر داخل کیا ہے، وہ مسلمانوں کو انتم الاعلون کہہ کر مغربی سائنسی فکر کی کمزوریاں واضح کرتے ہیں اور قرآن اور مسلمانوں کے راسخ عقیدوں کے بارے میں بلا تر دو یقین کی فضا پیدا کرتے ہیں۔

یہ مقالہ چونکہ سید مودودی کے بارے میں ہے اس لئے اس میں علامہ اقبال کی اثباتی جارحانہ توانا فکری آواز کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں لکها جا سکتا، لہذا ب مجھے دوسری (اگرچہ مختلف طرح کی) توانا جار حانہ آواز کی طرف متوجہ کرنے کی اجازت ملنی چاہیے۔

میں محسوس کرتا ہوں کہ میرے بعض قارئین (مجھ سے خفا نہ بھی ہوں تب بھی) تعجب ضرور کریں گے کہ دیباچہ (یا) پیش لفظ) اتنا طویل ہے کہ اصل مقالہ کچھ بھی تو نہیں رہا۔ کچھ کہنا بھی ہو تو حرفے چند کے سوا اسے کوئی خطاب نہیں دیا جاسکتا۔ مجھے اپنی اس بے قاعدگی پر افسوس ہے، لیکن میرا عذر یہ ہے کہ اس طویل تمہید کے سوا دینیاتی فکر کے ارتقا کی روداد لکھنی مشکل ہوتی جس کی آخری کڑی زمانہ حاضر میں سید مودودی تھے۔

مجھے یہاں اقرار کرلیتا چاہیے کہ میں سید مودودی کی تحریروں کا بالا لتزام اور بالا ستیعاب قاری کبھی نہیں رہا، نہ مجھے انکی سیاسی تحریک سے کبھی وابستگی رہی ہے ۔ البتہ ان کے دینی فکر اور طریق مدافعت اسلام سے اس حد تک دلچسپی رہی ہے جس حد تک اسلامی شعوریات کے ہر سنجیدہ طالب علم کو لازما" ہونی چاہیے۔

سید مودودی مرحوم کی کتابوں (اور تحریروں کی فہرست طویل ہے، ستر اسی سے کیا کم ہوگی۔ پروفیسر خورشید احمد نے ان کے متعلق جو کتاب مرتب کی ہے (ادبیات مودودی) اس میں انہوں نے ان کی کتب کا شمار اسی (۸۰) کیا ہے۔ ان تصانیف میں وہ ہمیں مفتر، ماہر اصول، سیرت نگار، مورخ ، فقیہ معاشرتی مفکر صحافی اور سیاسی مصلح و مدبر بیک وقت نمایاں نظر آتے ہیں۔

ان کی تحریریں ہزار ہا صفحات پر پھیلی ہوئی ہیں جن کا معتدبہ حصہ پہلے مضامین کی صورت میں چھپتا رہا، بعد میں انہوں نے خود یا ان کے معتقدین نے کتابوں کی صورت میں انہیں شائع کرا دیا۔۔۔ باقی مسائل حاضرہ پر خصوصا" اختلافی دینی موضوعات پر ان کے تجزیے وضاحتیں، استلالات، تصریحات اور تشریحات ہیں جن کے جوابات کی زمانے کے قارئین کو فوری ضرورت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وقت کے تقریبا" ہر متنازع فیہ مسئلے پر ہمیں مودودی کے خیالات اور ان کا نقطہ نظر مل جاتا ہے۔ ان کی مربوط اور باضابط کتابیں تو اسلامی ادبیات کے نوادر میں سے ہیں (وہ تفسیر ہو یا سیرت ہو یا نظریہ خلافت و ملوکیت کا ارتقا ہو کوئی بھی ہو، دینیاتی ادب میں ان میں سے کسی کے بلند مقام اور مرتبے سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن موجودہ مقالے کے نقطہ نظر ہے، مجھے مدافعتی دینیاتی ادب سے سروکار ہے جس کا بیشتر حصہ ان کی متفرق تحریروں میں زمانے کے اہم نزاعی سوالات کے جواب و تشریح کے طور پر لکھا گیا ۔ اور اپنے اپنے دائرے میں ذہن و فکر کی تعمیر کرتا گیا۔۔۔۔ ان سے شکوک و شبہات کا ازالہ ہوا اور مخالفین کی تشکیکات کی تردید ہو کر وہ بڑا مقصد پورا ہوا جس کا ذکر میں نے علامہ اقبال کے ضمن میں کیا ہے، یعنی عقائد اسلامی کے بارے میں نہ حد صرف یہ کہ شکوک دور ہوئے، قارئین کے دلوں سے مغرب کا وہ خوف بھی بڑی تک دور ہوا جو تعلیم یافتہ طبقے کے ذہن و قلب پر عرصے سے مسلط ہے۔ اس لحاظ سے سید مودودی دوسرے بڑے دینیاتی مفکر ہیں جن کے قلم نے مغربی افکار کا رعب توڑا۔

بعض لوگ سید مودودی کو متفرق نویسی سے متصف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے تصنیف کم اور متفرق نویسی زیادہ کی ہے۔

اول تو یہ خیال درست نہیں، ان کی مربوط اور منصوبے کے تحت لکھی ہوئی کتابیں بھی کچھ کم نہیں، مثلا" صرف ایک تغیر " تفہیم القرآن" ہی متعدد کتابوں پر بھاری ہے۔ ( بلحاظ ضخامت بھی او ر بلحاظ وقعت علمی بھی)

دوم، سید مودودی کے کام اور تجربات کا جائزہ لینے والے ہر شخص کو یہ مد نظر رکھنا چاہیے کہ قدرت نے سید مرحوم کو ایک ایسے جہاد کے لئے منتخب کیا تھا جس میں ہر لمحے میں اسلام پر ایک نیا حملہ ہوتا تھا، ہر لحظہ ایک نیا محاذ کھتا اور ہر گھڑی اس نئے محاذ کے نئے حملے کا جواب دینا پڑتا تھا۔

پھر یہ بھی مد نظر رہے کہ سید مرحوم ایک عملی تحریک کے بھی بانی تھے اور انہیں سلسلہ تحریک اٹھائے ہوئے اعتراضات (دینی و سیاسی) کا بھی جواب دینا پڑتا تھا۔ اسز کے علاوہ ایک جریدے کی ضرورتیں بھی انہیں مجبور کرتی تھیں کہ وہ متفرق موضوعات پر اپنا قلم اٹھائیں۔

لیکن میرے نزدیک یہ متفرق نویسی وقت کی ایک بڑی ضرورت تھی، ایک بڑا تقاضا تھا ۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی دینی تحریک کی سب سے بڑی خدمت بھی کیونکہ وہ مدا فعتی جہاد میں مصروف اور منہمک تھے اور مدافعت فوری جوابات کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ وہ وقت کے اکثر مسائل پر راہنمائی کرسکے اور ذہن جدید کے گوناگوں اور متنوع شبہات کا ازالہ کر سکے اور اس کا سرسری سا اندازہ پروفیسر خورشید احمد کی کتاب ادبیات مودودی" کے عنوانات سے ہو سکتا ہے۔

سید مودودی کا طریق مدافعت دین علامہ اقبالؒ کے طریقے سے جدا تھا۔ وہ اپنے استدلال کے لئے سب سے پہلے علوم دین اور اسلاف کرام سے شواهد پیش کرتے ہیں۔ مغربی مفکرین میں سے اگر کسی کی سند لاتے تھے، تو بغرض تردید زیادہ اور بغرض تائید کم لاتے تھے۔

اس کے دو اسباب تھے۔ اول تو اس لئے کہ جو شخص مغرب کی سیادت فکری کے خلاف جہاد کرنے نکلا ہو، وہ اگر خود ہی انہیں رہنما اور پیشو ابنالے اور ان کی سیادت کا اعلان کرتا پھرے، تو یہ بھی ایک طرح کی مرعوبیت ہی ہوگی۔

دوم اس لئے کہ سید مرحوم کو دو مخالف گروہوں سے واسطہ پڑتا تھا اور جس گروہ کے معاملے میں وہ بے حد محتاط تھے، وہ عالموں کا گروہ تھا جن کو مطمئن رکھنے کی وہ پوری کوشش کرتے تھے۔ ان کا نصب العین یہ تھا کہ قدیم علوم کے حاملین کو مطمئن رکھا جائے تاکہ نئی محاذ آرائی نہ شروع ہو جائے اور دوسری طرف جدید تعلیم یافتہ طبقے کو مطمئن کیا جائے۔ اہل نظر خوب سمجھتے ہیں کہ یہاں رکھنے اور کرنے میں فرق کیا ہے؟ اور بالکل واضح ہے کہ دینی جہاد میں مودودی کی مشکلات دو چند تھیں۔

علامہ اقبال کو قدرت نے شاعری کا انعام عطا کیا ہوا تھا، وہ شعر کے وسیلے سے ہر قسم کے مخاطب کو متاثر کر سکتے تھے۔ مودودی کے پاس استدلالی اور تو نیچی نثر کا ہتھیار تھا۔ اس کی کاٹ جتنی بھی تیز کیوں نہ ہو، شعر کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔

استدلالی نثر دلیل و برہان کی قطعیت کا تقاضا کرتی ہے۔ شاعری کے پاس تخیل کی برہان قاطع ہوتی ہے جو آزاد وار کرتی ہے، اس لئے وہ نثری قیود اور حدود کی پابند نہیں ہوتی۔

انگریزی نثر (خطبات) میں علامہ اقبالؒ کی تلوار ضرب کاری لگاتی ہے، لیکن ان کے مخاطب زیادہ تر علمائے مغرب تھے جن کے نظریات و تصورات کو وہ ریزہ ریزہ کر دیتے ہیں۔ ان کے خطبے عوام کے لئے کم اور خواص کے لئے زیادہ ہیں۔

سید مودودی کے مخاطب ملک کے اوسط درجے کے پڑھے لکھے لوگ تھے جن کی اکثریت کو توضیح واستدلال کے ذریعے مطمئن کرنا تھا لہذا انکا دائرہ تخاطب وسیع تر- ۔۔۔۔ اور ایک منظم تحریک کے حوالے سے تھا جسے نہ صرف تردید و دفاع کا کام تفویض ہوا تھا بلکہ اسے ایک مثبت، منظم اور جارحانہ تحریک بنانا بھی اس کے فرائض میں شامل تھا اور یہ ثابت کرنا تھا کہ اسلام کے اندر داخلی طور سے اتنی قوت ہے کہ مغربی نظریات سے استناد کے بغیر بھی، اس کے دعوے قوی اور محکم ہیں۔

گویا اس طرح دور حاضر میں پہلی مرتبہ اسلام بذات خود اور مستقل طور سے خود اپنی بربان ثابت کیا گیا۔ اور مدافعت دین میں معذرت اور جارحیت کے جھگڑے سے آزاد ہو کر دین القیم کی حقانیت کی دلیل خود اپنے اندر سے پیدا ہوئی۔ یہ اس صدی میں پہلا موقع تھا کہ دین کو رقیبوں کے سرٹیفکیٹ کی حاجت نہ رہی۔

میں نے اس مقالے میں موضوعات کی تنقیح کی کوشش دانستہ نہیں کی۔ یہ کام سید مودودی کے بہت سے معتقد فاضل کرچکے ہیں۔ میرے نزدیک ان کے افکار کی جو جھلک ادبیات مودودی کے مصنف نے دکھا دی ہے، وہ بھی عام مطالعے کے لئے کافی ہے-

راقم الحروف کا یہ مقصد بھی نہیں کہ مرحوم و مغفور کے خیالات پر تبصرے کاتفصیلی اہتمام کیا جائے۔ مجھے تو اس موقع پر صرف یہ دکھانا ہے کہ بیسویں صدی میں یہ برصغیر کی قسمت میں اور اس کے ایک فرزند جلیل سید مودودی کے مقدر میں تھا کہ اس نے مغرب کے ہر حملے کا جارحانہ جواب دیا اور مغرب کے ہر دعوائے تفوق کے مقابلے میں اسلام کی حقانیت کا اثبات اسلام کی دلیلوں سے کیا جن کی عقلی اور تجربی اساس بھی اتنی ہی طاقت ور ہے جتنی کہ اس کی الہامی اور روحانی برہان اور حجت مضبوط ہے۔

غرض میرے مد نظر سید مودودی کے طریق کار کی نشاندہی ہے نہ کہ تفصیلی موضاعات کی بحث اور پہلا کام میں نے اپنی بساط کے مطابق کر دیا ہے۔ مرحوم کے خیالات و عقائد سے اختلاف ہو سکتا ہے، چنانچہ ہوا اور بہت ہوا۔ مگر ان کی دینیاتی حیثیت و خدمات کا اقرار ہر شخص کو کرنا پڑا اور ثبوت اس کا یہ ہے کہ ان کے مخالف بھی انہیں (بصورت مخالفت) تسلیم کیے بغیر نہ رہے۔ یہاں پہنچ کر میرا اصل مقالہ تو ختم ہوا، لیکن ختم کرنے سے پہلے میں ایک اور ضمنی بلکہ اس مقالے کے حوالے سے بالکل غیر متعلق موضوع پر چند سطریں لکھنا چاہتا ہوں۔ وہ موضوع یہ ہے کہ سید مودودی کی تحریروں کی علمیت تو واضح اور ناقابل انکار ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان کی کوئی ادبی اہمیت بھی ہے یا نہیں۔ اور یہ سوال بھی ہے کہ انہیں اور ان کی طرح کے دوسرے نامور دینیاتی مصنفوں کو ادب کی تاریخ میں کوئی جگہ دی جاسکتی ہے یا نہیں۔

ہمارے یہاں یہ عجیب رسم چل نکلی ہے کہ دینیاتی یا فکری موضوعات پر لکھنے والے مصنفین کو ادب دانشا کی تاریخوں میں شامل ہی نہیں کیا جاتا۔ کسی تخیلی ادبی تاریخ میں ایسے مصنفوں کا نظر انداز ہو جاتا (اگرچہ جائز یہ بھی نہیں) سمجھ میں آجاتا ہے لیکن انشا (اسلوب بیان کی تاریخ میں بھی ان کا ذکر نہ کرنا بے انصافی اور زیادتی ہے -

میں نے تخیلی ادب کے تعلق میں یہ رعایت اس لیے دی ہے کہ اس ادب سے بالعموم تخلیقی تحریر مراد لی جاتی ہے اور اس کی اصناف معین ہیں۔ اور چونکہ مسائلی تشریحی تحریروں میں تخلیق و تخیل کا عصر کم سے کم ہوتا ہے اور مقصود بالذات بھی نہیں ہوتا اس لیے اگر کوئی شخص انہیں تاریخ ادب میں شامل نہ کرے اور ان کے لکھنے والے کو ادیب نہ بھی کہے تو بات گوارا ہو جاتی ہے، لیکن تحریر کی دوسری اصناف پر قلم اٹھانے والے کو ارباب تحریر کے رجسٹر سے بالکل خارج کرکے اس کی انشاپردازی اور اسلوب نگارش پر کچھ لکھنے لکھانے کو بالکل ممنوع سمجھ لینا اپنے سرمایہ ادب کے خلاف ظلم سے کم نہیں، یعنی اسے محدود تنگ اور بے مایہ ثابت کرنا ہے۔

مولانا مودودی بھی ایک ایسے ہی مظلوم مصنف ہیں جن کا ادب کے حلقوں میں اگر نام لے لیا جائے تو بہت سے ماتھوں پر بل پڑ جاتے ہیں۔

ایسا ہی تلخ تاثر عمد وکٹوریہ کے انگریزی ادب کے مورخ، مصنف واکر کو بھی ہوا تھا اس نے وکٹوریہ دور کے ادب میں جب دینیاتی ادب کے نامور لکھنے والوں کو بھی ایک محترم مقام دیا تو انگلستان کے بعض متشدد راسخ العقیدہ نقاد بہت ناراض ہوئے تھے۔ لیکن واکر نے ان سب کو یہ کہہ کر خاموش کردیا تھا کہ میں محض افسانہ نگاروں کا مورخ نہیں ہوں میں تو اپنی قوم کی پوری ذہنی تاریخ (روداد ادبیات) لکھ رہا ہوں۔

ظاہر ہے کہ واکر عہد وکٹوریہ کے سرمایہ تحریری کا جائزہ لیتے ہوئے کارڈنل ٹیومین کو کیسے نظر انداز کر سکتا تھا جس کا انگریزی زبان کی فکریاتی انشا میں مقام مسلم ہے۔

یہی حال سید مودودی کا ہے جنہیں بیسویں صدی عیسوی کے اردو فکریاتی انشاپردازوں کی کسی سنجیدہ فہرست سے خارج نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح ہم سر سید مولانا اشرف علی تھانوی ابوالکلام آزاد اور عنایت اللہ خان المشرقی کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے اگرچہ ان میں سے ہر ایک کا مسلک فکر اپنا اپنا اور اسلوب نگارش اپنا اپنا ہے اور ہم خیالی وہم فکری کی صورتیں بھی کم سے کم ہیں، لیکن اس اختلاف فکری کی بنا پر ان کے ناموں کو کسی ادبی تاریخ سے بالکل حذف کر دینا ہرگز جائز نہیں۔

اور سچ یہ ہے کہ مودودی کی تحریروں میں ادبیت کے وافر عناصر موجود ہیں اوراپنے سنجیدہ موضوعات کے باوجود ان کا اسلوب نگارش ایک ادیب کا اسلوب ہے جیسا کہ ادبیات مودودی " کے فاضل مقالہ نگاروں نے ثابت کیا ہے۔

ماخذ: سید مودودی مرد عصر و صورتگر مستقبل

پبلشرز: ادارہ ترجمان القرآن, ایڈیشن1

ایڈیشن:1

مصنف: ڈاکٹرسیداعبداللہ

تاریخ اشاعت: Jan. 1, 1996

ریڈنگ کاؤنٹر: 35

ٹیگ: maududi