۳۷
حضرت مولانا مودودی
ڈاکٹر غلام جیلانی برق
اگر ہم سے کہا جائے کہ زمین پر مضمون لکھو تو ہم موضوع کی وسعت و پہنائی سے گھبرا کر قلم رکھ دیں گے۔ زمین میں پہاڑوں کے لاتعداد سلسلے، نباتات، طیور اور سے گھبرا کر قلم رکھ دیں گے۔ زمین میں پہاڑوں کے لاتعداد سلسلے، نباتات، طیور اوربلادو امصار۔ ہر شہر میں کئی کالج، دار الکتب، شفاخانے اور دیگر ادارے۔ کوئی کس کسپہلو پہ لکھے اور کیا کیا لکھے ! یہی حال میرے آج کے موضوع کا ہے۔ مولانا مودودی علم کی ایک نا پیدا کنار دنیا تھے، ایک عہد آفریں عالم، بیمثال مفکر، بلند حوصلہ مجاہد صاحب طرز انشا پرواز سازا الوہیت کی مضراب عہد رواں کی ایک عظیم روایت ___کتاب وسنت کے ترجمان اور استدلال کے امام۔ آپ کی ذات میں ایک مفسرمتکلم فلسفی، ادیب اور خطیب بیک وقت جمع تھے۔ فرمائیے! میں کس جہت کو لوں اور کیا لکھوں؟
حکمت چلی گئی ہے بصیرت ہوئی ہے تم
فکر و عمل کی ایک روایت ہوئی ہے گم!
وقف خزاں ہے گل کدہ علم و معرفت
اس بزم رنگ وبو کی لطافت ہوئی ہے گم
جب فرنگ کے دوصد سالہ تسلط کی وجہ سے ملت کے قلب اور نظر میں بگاڑ پیدا ہو گیا، اس پر مغرب کی پروردہ بے یقینی چھاگئی اور یہ بگاڑ سیل تند روبن کر ہر طرف بڑھنے لگا تو اسے روکنے کے لیے دنیائے اسلام کی دو شخصیتیں آگے بڑھیں۔۔ علامہ اقبال اور حضرت مولانا مودودی
اول الذکر کا شعر اور آخرالذکر کی نثر پہاڑ بن کر اس سیل تند کی راہ میں حائل ہو گئے۔ ان دونوں نے عصر رواں کے ذہن کو مادیت کی گرفت سے آزاد کرایا۔ اگر ہم اقبال کے مومن کا جلال، جمال میں بدل سکیں، تو وہ مودودی کا مرد مومن بن جائے گا۔
وسعت علم
مولانا مرحوم عمر کی سترھویں منزل میں پہنچے تو اخبار مدینہ (بجنور) کی ادارت سےمنسلک ہو گئے۔ پھر ۱۹۲۰ء میں جبل پور کے ایک اخبار "تاج" کی ادارت سنبھال لی۔۱۹۲۲ء میں جمعیت علمائے ہند کے اخبار "مسلم" سے وابستہ ہوگئے۔ ۱۹۲۵ء میں لجمعیت" کے مدیر بن گئے۔ ۱۹۳۳ء میں حیدر آباد دکن سے ترجمان القرآن نکالا جو آج اگست ۱۹۸۱ء میں بھی جاری ہے۔
ان اخبارات و رسائل میں مولانا نے کتنے مقالات و مضامین لکھے؟ اس سوال کا جواب اسی صورت میں دیا جا سکتا ہے کہ ہم ان اخبارات و جرائد کا ایک ایک پرچہ دیکھیں اور مولانا کی تحریرات کی مکمل فہرست تیار کریں۔ مجھے امید ہے کہ مولانا کے باہمت عقیدت مند اس کام کو یقینا" سرانجام دے لیں گے۔
مولانا کی جو تحریریں کتابی صورت میں طبع وضبط ہو چکی ہیں وہ ۱۲۷۶۵ صفحات پر پھیلی ہوئی ہیں۔
تفیم القرآن کے صفحات ۳۹۴۵ ہیں۔ اسلامی ریاست کے ۷۲۴۔ الہاد فی الاسلام کے ۶۰۰- رسائل و مسائل
چاروں حصوں کے ۱۸۴۱۔ تحریک آزادی ہند ہر دو حصص کے ۸۹۲ سود کے ۴۷۰- اسلامی نظام زندگی کے ۵۰۰۔ معاشیات اسلام کے ۴۳۶۔ حصص کے ۱۲۷۵- وقس علی ہذا ۔ مولانا کے صد پہلو علم کا اندازہ لگانے کے لیے ان عنوانات پر غور فرمائیے :
جبرو قدر سنت کی آئینی حیثیت مسئلہ قربانی، ختم نبوت، دکن کی سیاسی تاریخ احیائے دین، خلافت سے ملوکیت تک تاریخ سلاجقه غلاف کعبہ کی تاریخ الجہاد فی الاسلام تقیجات اسلامی تذهیب اسلامی نظام زندگی اسلام اور ضبط ولادت معاشیات اسلام، سود مالکیت زمین، پرده، مرتد کی سزا تنظیمات، قادیانی مسئله اور کئی دیگر مسائل۔
تفہیم القرآن
تفہیم القرآن کے متعلق میری رائے پوچھیں، تو میں اس کتاب کو پچھلے پانچ سو سال کی تفاسیر میں بلندترین قرار دوں گا۔ زبان نهایت پاکیزه، سیلیس، شسته اور شکفته، تشریحات عالمانه ، فلسفیانه اور پیچیده مباحث سے پاک۔ عموما" دیکھنے میں آتا ہےکہ مفسرین آیات کا ترجمہ ایسی گنجلک زبان میں کرتے ہیں کہ وہ کتاب مقدس کی عظمتوں اور رفعتوں کا ساتھ نہیں دیتی، لیکن مولانا نے دہلی کی دھلی ہوئی ٹکسالی زبان استعمال کی ہے اور اس طرح الفاظ و معافی دونوں چمک اٹھے ہیں۔ آپ نے تمام مسائل جدیده مثلاً بنکاری، ضبط ولادت، نظام سیاست، نظام تعلیم اسلامی دستور عمرانیات اور معاشیات وغیرہ پر ایک ماڈرن مفکر کی طرح بحث کی ہے۔
اس تفسیر کی دوسری خوبی ہر سورت پر ایک تعارفی دیباچہ ہے جو اس کے مرکزی مضمون، تاریخی پس منظر اور شان نزول پر روشنی ڈالتا ہے۔
ارباب اقتدار کا جو رستم
تاریخ عالم اس حقیقت پر شاہد ہے کہ ارباب اقتدار اللہ کے بندوں کو کبھی "برداشت نہیں کرتے۔ ان کا قصور یہ کہ یہ سچ بولتے اللہ کی پرستش کی دعوت دیتے“ حکمرانوں کے عیوب بتاتے اور حکومت کو خدمت کے مترادف قرار دیتے ہیں۔ تمام انبیاء صلحا کا قصور یہی تھا۔ اس جرم کی پاداش میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینکا گیا، حضرت الیاس علیہ السلام کو آرے سے چیرا گیا، حضرت مسیح علیہ السلام کو سولی پر چڑھانے کی کوشش کی گئی۔ صلحا میں سے امام احمد بن حنبل (۲۴۱ھ) کو طویل مدت تک قید میں رکھا گیا اور کوڑے مارے گئے۔ امام مالک (۷۹ھ) لے کو درے لگائے۔ گئے۔ امام ابو حنیفہ (۱۵۰ھ) کو اس جرم میں کہ آپ قاضی القضاة بننے کے لیے آمادہ نہ تھے، پہلے نبی امیہ کے عامل کوفہ یزید بن عمرو بن ہبیرہ نے پٹوایا اور پھر منصورعباسی نے جیل میں ڈال دیا جہاں سے ۱۵۰ھ میں آپ کا جنازہ باہر آیا۔ امام شافعی (۲۰۴ھ) ہے کو ہارون الرشید کے کہنے پر یمن سے بغداد تک تقریباً دو ہزار میل بیٹریاں ڈال کر پیدل لایا گیا۔ حران کے شہرہ آفاق مجاہد، محقق، مفسر، محدث، مورخ اور فلسفی امام ابن تیمیه (۷۲۸ھ) کو حکومت وقت نے چار مرتبہ جیل میں ڈالا۔
پہلی دفعہ ۵۷۰۵ سے ۷۰۷ھ تک ۱۸ ماہ کے لیے۔
دوسری مرتبہ ۷۰۷ھ سے ۷۰۹ھ تک۔
تیسری مرتبہ ۷۲۰ھ میں ۵ ماہ ۱۸ یوم کے لیے۔
چوتھی دفعہ ۷۲۶ ھ میں محبوس ہوئے اور سوا دو سال کے بعد آپ کا جنازہ باہر آیا۔
مولانا مودودی کا جرم بھی راست گوئی و حق پرستی تھا اس لیے ارباب اقتدار ان کے پیچھے پڑ گئے۔ ۱۹۴۸ء میں انہیں گرفتار کر لیا اور انیس ماہ کے بعد چھوڑا۔ ۱۹۵۳ء "قادیانی مسئلہ" لکھنے پر موت کی سزادی۔ بعد میں اس سزا کو عمر قید میں بدل دیا اور عوام کے بڑھتے ہوئے احتجاج پر ۲۹ ماہ کے بعد رہا کر دیا۔ اس کے بعد بھی مولانا کو دو تین دفعہ پکڑا لیکن چند ماہ کے بعد چھوڑ دیا۔
نمبر1۔ شارٹ انسائیکلو پیڈیا آف اسلام ص۳۲۱
نمبر ۲۔ ایضاً ص
۹۰
نمبر ۳- ابن ندیم: الفهرست ص ۴۹۹
جب مولانا کو پھانسی کی سزادی گئی اور ان کا ایک بیٹا ملاقات کے لیے گیا، تو سلاخوں کے پیچھے کھڑے ہو کر کہا:
"بیٹا! گھبرانا مت، اگر میرے رب نے مجھے اپنے پاس بلانے کا حکم جاری کر دیا ہے، تو مجھے اللہ سے مل کر انتہائی خوشی ہو گی اور اگر ابھی یہ حکم جاری نہیں ہوا تو پھر چاہے یہ الٹے لٹک جائیں، مجھے نہیں لگا سکتے"۔
جب حکومت سعودیہ کے امیر فیصل نے اس وقت کے گورنر جنرل (پاکستان) کے پاس مولانا کی رہائی کی سفارش کی تو جواب ملا :
"اگر مولانا معافی مانگ لیں، تو انہیں رہا کیا جا سکتا ہے"۔ اس پر مولانا نے فرمایا:
”میرے نزدیک پھانسی پر لٹک جانا معافی مانگنے سے زیادہ گوارا ہے"۔ (اسعد گیلانی ص ١٣٥)
مولانا کا حاصل مطالعہ
مولانا نے عربی، فارسی، انگریزی اور اردو کتابوں کے کئی لاکھ صفحات پڑھ ڈالے اور زندگی کے ہر پہلو پر کوئی نہ کوئی پختہ رائے قائم کر لی۔ اقوام کی فناوبقا کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں۔
” میرا عمر بھر کا مطالعہ مجھے بتاتا ہے کہ جن لوگوں کا کاروبار جھوٹ، فریب اور مکر کے بل پر چلتا ہے، جن کو اپنے حکمرانوں کی حفاظت کے لیے سیفٹی قسم کے قوانین کی ضرورت پیش آتی ہے، ایسے اخلاقی بزدلوں کی چوبی ہنڈیا زیادہ دیر تک چولہے پر چڑھی نہیں رہ سکتی۔ ہزار ہابرس کے تجربات شاہد ہیں کہ ان سہاروں پر جینے والے دیر تک زندہ نہیں رہ سکتے"۔ (اسعد گیلانی ص ٨٩)
اسعد گیلانی، مولانا مودودی۔ طبع لاہور ص ۱۲۵
لفظ مودود کی تشریح
مولانا فرماتے ہیں:
"میرا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جو چشت کے نام سے دنیا میں مشہور ہوا۔ اس خاندان کے نامور
بزرگ حضرت ابو احمد ابدال چشتی (۳۵۸ھ) حضرت حسن مثنی بن امام حسن کی اولاد سے تھے۔ ان کے نواسے اور جانشین حضرت ناصرالدین ابویوسف چشتی (۴۵۹ھ) کا سلسلہ نسب حضرت امام علی نقی کے واسطے سے امام حسین تک پہنچتا ہے۔ ان کے فرزند اکبر خواجہ قطب الدین مودود (۵۳۷ھ) ہند کے تمام سلاسل چشتیہ کے شیخ الشیوخ اور خاندان مودودیہ کے مورث اعلیٰ ہیں"۔ (اسعد گیلانی (ص ٥٩)
مولانا سے میری خط و کتابت
مولانا سے میری خط و کتابت ۱۹۳۹ء کے اواخر میں شروع ہوئی۔ ہوا یوں کہ میں نے ایک مقالہ ترجمان القرآن میں شائع ہونے کے لیے بھیجا۔ مہینے گزر گئے ، رسید ملی نہ شائع ہوا۔ میں نے اس پر حیرت کا اظہار کیا تو مولانا نے لکها:
مورخہ ۶ دسمبر ۶۳۹
محترمی و مکرمی!
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبركاته
کل آپ کا خط پاکر مجھے حیرت ہوئی کہ نہ اس سے پہلے مجھے آپ کا مضمون ملا نہ کوئی خط اور یہاں آپ جواب نہ ملنے کی شکایت کر رہے ہیں۔ یہ آخر کیا ماجرا ہے۔آخر کار یکایک خیال آیا کہ کالج (اسلامیہ کالج لاہور) میں دریافت کروں، شاید وہاں کوئی خط آیا ہو، چنانچہ تحقیق کرنے سے معلوم ہوا کہ کالج کے اسٹاف روم میں میرے نام کا کوئی الگ خانہ بنا ہوا ہے جس میں میرے نام کی ڈاک ڈالی جاتی رہی ہے اورمجھے آج تک خبر نہیں کی گئی کہ ایسا کوئی خانہ میرے لیے مقرر ہے۔ اس طرح آپ کا مضمون اور پہلا خط بھی مجھے ملا اور یہ معمہ بھی حل ہوا کہ اصل بات کیا تھی جس نے آپ کے لیے اتنے اشتعال کے اسباب پیدا کر دیے۔
آپ کو اس سلسلے میں جو کوفت ہوئی میں اس کے لیے معافی چاہتا ہوں، مگر یہ آپ کی غلطی ہے کہ جو چیز کہ آپ کو میرے دفتر کے پتے پر بھیجنی چاہیے تھی، وہ آپ نے کالج کے پتے پر بھیجی ۔ میں کالج میں صرف ہفتے میں چاردن جاتا ہوں اور ان دنوں میں بھی میرے وہاں صرف دو دو پیریڈ ہوتے ہیں۔ اسٹاف روم میں جانے اور بیٹھنے کا اتفاق مجھے بہت کم ہوتا ہے۔ اپنے کام کے وقت پر کالج پہنچتا ہوں اور کام ختم کرتے ہی واپس آجاتا ہوں۔ اس لیے وہاں میری ڈاک کا محفوظ رہنا اور مجھ تک بہ سلامت پہنچنا مشتبہ امر ہے، تاہم اب مجھے معلوم ہو گیا کہ بعض عنایت فرما وہاں کے پتے پر بھی میرے نام خط لکھ بھیجتے ہیں اور آئندہ سے مجھے وہاں بھی اپنی ڈاک کی حفاظت کا انتظام کرنا پڑے گا۔
آپ کا مضمون میں نے دیکھا۔ آپ کی اجازت کے مطابق کچھ ضروری ترمیمات کرنے کے بعد میں اسے شائع کر دوں گا۔
خاکسار ابو الاعلیٰ"
اسی سلسلے میں پانچ ماہ بعد آپ کا ایک اور مکتوب ملا۔ میں نے مودبانہ شکایت کی تھی کہ یقین دہانی کے باوجود آپ نے ابھی تک میرا مضمون شائع نہیں فرمایا۔
جوابا" لکها:
مئی ٤٠
مکرمی و محترمی!
السلام علیکم !
عنایت نامہ مورخہ ۱۲ مئی وصول ہوا۔ آپ کے مضمون کی اشاعت ہو گی تو ضرور مگر مہینے کا تعین ذرا مشکل ہے، کیونکہ میں حالات و ضروریات کے تقاضوں کو محسوس کر کے جن مضامین کی اشاعت کو مقدم کرنا ضروری سمجھتا ہوں، انہیں پہلے شائع کرتا ہوں۔
جس پرچے میں آپ کا مضمون شائع ہو گا وہ تو یقیناً آپ کی خدمت میں بھیجا جائے گا۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ مضمون شائع ہو اور آپ اس سے بے خبر رہیں۔
خاکسار ابوالاعلیٰ"
ان خطوط کے بعد مولانا نے میری تصنیف ”امام ابن تیمیہ" پر ترجمان القرآن میں تبصرہ فرمایا۔ یہ کتاب انگریزی میں تھی اور اسی پر انگلستان اور امریکہ کے دو سکالرز نے میرے لیے پنجاب یونیورسٹی کے پاس پی ایچ ڈی کی ڈگری عطا کرنے کی سفارش کی تھی۔ میں نے اس کا ترجمہ بھی تیار کر لیا تھا جو مکتبہ اردو لاہور نے شائع کیا۔ انگریزی ایڈیشن کا دیباچہ اردو ایڈیشن سے بالکل مختلف تھا۔ انگریزی کے ایک ایک لفظ پر استاد محترم قبلہ ڈاکٹر مولوی محمد شفیع اور ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر کی نظر تھی، اس لیے اس میں تو مبالغے اور جذباتیت کی آمیزش نہ ہو سکی، لیکن اردو ایڈیشن کے دیباچے میں میرا قلم سرپٹ بھاگ نکلا اور امام کے لیے جو کچھ کہہ سکتا تھا کہ گیا۔ اس پر مولانا سےنے لکھا:
"ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی تصنیف امام ابن تیمیہ میرے سامنے ہے۔ یہ ان کے اس انگریزی مقالے کا ترجمہ ہے جو انہوں نے پی ایچ ڈی کے لیے لکھا تھا۔ میں دیکھےکر حیران ہو گیا ہوں کہ ایک تحقیقی مقالے میں اس قسم کے جملے بھی ملتے ہیں:
ہر پیغمبر دنیا میں اس طمطراق سے آیا کہ اس کے ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے میں پیام الہی کی کڑکتی ہوئی بجلیاں تھیں۔
امام نے قید وبند کی سختیاں ہیں ، طعنے ملامتیں، رسوائیاں اور بدنامیاں برداشت کیں، لیکن وہ عزم و استقلال کا البرز اپنے بلند مقام سے ایک انچ نہ سرکا۔ اللہ سے عشق کیا ہے؟ بے ہمہ اور باہمہ کی تفسیر کیا ہے؟ حسن محبوب کی وہ کون سی کشش تھی جس کے لیے ابراہیم آگ میں کود پڑے اور حسین نے سارا خاندان کٹا دیا؟ اس کا جواب صرف امام کی سیرت میں مل سکتا ہے۔ اے امام! تم پر لاکھوں سلام ”نہ جانے انگریز اور امریکی فضا نے اس ہیجانی نثر کو کیسے گوارا کر لیا۔ ڈاکٹر صاحب کو چاہیے کہ وہ اس پر نظر ثانی کر کے اس میں اعتدال، متانت اور توازن پیدا کریں اور نامکمل حوالوں کو مکمل کریں۔
پورے ۳۵ برس کے بعد مجھے کتاب پر نظرثانی کی فرصت ملی۔ میں نے عبارت کو متوازن اور حوالوں کو مکمل کر دیا اور بھی بہت سا رد و بدل کر کے کتاب اسلامک بلشنگ ہاؤس لاہور کے حوالے کر دی اور انہوں نے جنوری ۱۹۷۹ء میں بڑے اہتمام سے شائع کی۔ ۱۹۶۶ء میں مجھے فلسفیان اسلام کا ایک تذکرہ مرتب کرنے کا خیال آیا اور اس میں مولانا مودودی کو بھی شامل کیا اور انہیں لکھا کہ وہ
مختصرا" اپنے کوائف عطا فرمائیں۔
اس پر مولانا نے لکها:
٧ شوال المکرم ۱۳۸۵ھ
محترمی و مکرمی!
السلام علیکم ورحمتہ اللہ !
عنایت نامہ ملا۔ فلسفیان اسلام کے زمرے میں مجھے شامل کرنے کا فیصلہ آپ نے جس بنیاد پر بھی کیا ہو، اس کے بارے میں تو کچھ عرض کرنا میرا کام نہیں ہے؛ البتہ جو معلومات آپ چاہتے ہیں وہ حاضر کیے دیتا ہوں۔
١- مولد اورنگ آباد، دکن۔
٢- والد مرحوم کا اسم گرامی، سید احمد حسن صاحب۔
٣- ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی ، پھر اورنگ آباد کے مدرسه فوقانی (ہائی اسکول) میں داخل ہوا۔ اس سے میٹریکولیشن کرنے کے بعد حیدر آباد دکن کے دارالعلوم کالج میں داخل ہوا، مگر سیکینڈائیر تک ہی پڑھ سکا۔ والد مرحوم کے انتقال کی وجہ سے باقاعدہ تعلیم چھوڑ دینی پڑی؟ البتہ بعد میں مختلف اساتذہ سے مختلف کتابیں پرائیویٹ طور پر پڑھ کر کسی حد تک اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کرتا رہا جو باقاعدہ تعلیم چھوٹ جانے کی وجہ سے رہ گئی تھی۔
۴۔ اساتذہ میں کوئی معروف شخصیت شامل نہیں۔
ه تاریخ ولادت ۲۵ ستمبر ۱۹۰۳ء۔
٦- تعمیر اخلاق پر زیادہ توجہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ میرے نزدیک اخلاق ہی اصل جو ہر انسانیت ہیں اور انسان کو جو چیز دوسری مخلوقات سے ممیز کرتی ہے، وہ اس کا ایک اخلاقی وجود ہونا ہی ہے۔
٧۔ انسان کا خالق ہی یہ جانتا ہے کہ اس نے یہ انوکھی مخلوق کیوں پیدا کی ہے۔ ہم کو اس نے پیدا کرنے کی وجہ نہیں بتائی؟ البتہ یہ ہمیں بڑا دیا ہے کہ ہمارے کرنے کا کام کیا ہے۔ ما خلقت الجن والانس الا لیعبدون۔ اس آیت کی رو سے ہمارا کام اپنے خالق کی بندگی کرتا ہے۔ اس کی بندگی نہ کرنے، یا اس کے سوا کسی اور کی بندگی کرنا ہماری فطرت کے خلاف ہے، مگر ہمیں یہ آزادی دی گئی ہے کہ اگر اپنی فطرت سے لڑ کر غلط راہ پر جانا چاہیں، تو جا سکتے ہیں۔ پہلا راستہ ہمارے لیے فلاح کا اور دوسرا راستہ خسران کا موجب ہو گا۔
خاکسار ابو الاعلیٰ"
مولانا کا ایک خط میرے اس استفسار کے جواب میں تھا کہ کیا اس فرعون کی لاش مل گئی تھی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تعاقب کرتے ہوئے بحیرہ قلزم میں ڈوب گیا تھا؟ اس سلسلے میں اگر کچھ تفاصیل آپ کے پاس ہوں، تو عنایت فرمائیں۔
اس پر مولانا نے لکها:
٢٠ / ١١ / ١٩٧٦
محترمی و مکرمی!
السلام عليكم ورحمته الله وبركاته
آپ کا عنایت نامه ملا۔ غرق شده فرعون کے بارے میں زیادہ تر معلومات مجھے LOUIS GOLDING کے سفر نامے IN THE STEPS OF MOSES THE LAWGIVER سے حاصل ہوئی ہیں۔ اس نے اپنے
اس تحقیقاتی سفرنامے میں لکھا ہے کہ فرعون رعمیس دوم در اصل وہ فرعون تھا جس کے زمانے میں حضرت موسیٰ پیدا ہوئے تھے اور نبی اسرائیل پر جس کے مظالم مشہور و معروف ہیں۔ اس لیے اس کو PIIARAOII OF TIIE PERSECUTION کہا جاتا ہے اور جس فرعون کے زمانے میں حضرت موسی پیغمبر بنا کر بھیجے گئے تھے اور جو بحراحمر میں غرق ہوا وہ رعمسیس کا بیٹا MENEPTAII تھا۔ (انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں اس کا نام MERNEPTAH لکھا گیا ہے۔ گولڈنگ کی کتاب اور برٹانیکا کے مضمون EGYPT دونوں میں لکھا ہے کہ کیس THEBES میں اس کے TEMPLE MORTARY سے ایک ستون ۱۸۹۶ء میں FLINDERS PETRIE کو ملا تھا جس پر اس نے اپنے عہد کے کارنامے گنائے تھے۔ اسی ستون سے پہلی مرتبہ مصر میں اسرائیل کے وجود کی تاریخی شہادت ملی۔ برٹانیکا کے مضمون MUMMY میں ذکر ہے کہ ۱۹۰۶ء میں انگریز ماہر علم التشریح SIR GRAFTON ELLIOT SMITII نے مموں کو کھول کھول کر ان کے حنوط کی تحقیق شروع کی تھی اور ۴۴ ممیوں کا مشاہدہ کیا تھا۔ گولڈ نگ لکھتا ہے کہ ۱۹۰۷ء میں اسمتھ کو منستہ کی لاش ملی۔ اس کی پٹیاں جب کھولی گئیں، تو سب حاضرین یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اس کے جسم پر نمک کی ایک تہہ جمی ہوئی تھی جو کسی اور ممی کے جسم پر نہیں پائی گئی۔ گولڈ نگ مزید یہ بات بھی بیان کرتا ہے کہ یہ فرعون بحیرات مرہ (BITTER LAKES) میں غرق ہوا۔ تھا جو اس زمانے میں بحراحمر سے ملی ہوئی تھیں۔ آگے چل کر وہ لکھتا ہے کہ جزیرہ نمائے سینا کے مغربی ساحل پر ایک پہاڑی ہے جسے مقامی لوگ جبل فرعون کہتے ہیں۔اس پہاڑی کے نیچے ایک غار میں نہایت گرم پانی کا چشمہ ہے جسے لوگ فرعون کا حمام کہتے ہیں اور سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والی روایات کی بنا پر یہ کہتے ہیں کہ اسی جگہ فرعون کی لاش ملی تھی۔
میں ان معلومات سے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ بحیرات مرہ میں ڈوبنے کے بعد اسےکی لاش کے پھول کر سطح سمندر پر تیرنے اور حمام فرعون تک پہنچنے میں کافی وقت لگا ہو گا جس کے دوران میں گوشت پوست میں سمندری پانی کا نمک جذب ہو گیا ہو گا۔یہ نمک اس کی لاش کو حنوط کرتے وقت خارج نہیں کیا جا سکتا تھا۔ تین ہزار برس کے دوران میں یہ رفتہ رفتہ اس کے جسم سے خارج ہو کر ایک تہہ کی صورت میں جم گیا اور جب پٹیاں کھولی گئیں، تو یہ نمک اس پر جما ہوا پایا گیا۔
خاکسار
ابو الا علی
۱۹۶۸ء میں میں نے پانچ سو مورخین اسلام کا ایک تذکرہ مرتب کیا جو گیارہ برس بعد ۱۹۷۷ء میں مکتبہ جدید لاہور نے شائع کیا۔ میں نے ایک نسخہ مولانا کی خدمت میں بھیجا اور معذرت کی کہ میری کم علمی کی وجہ سے ان کا اسم گرامی تذکرے میں شامل نہیں ہو سکا۔
اس پر آپ نے لکھا
۶۱۹۷۷/۹/۵
محترمی و مکرمی !
السلام عليكم ورحمتہ اللہ وبركاته
عنایت نامہ ملا اور اس کے ساتھ آپ کی قابل قدر کتاب "مورخین اسلام“ بھی ملی یہ محض آپ کی عنایت و مہربانی ہے کہ اس کتاب میں میرا نام نہ آنے پر آپ نےاتنی معذرت فرمائی، حالانکہ میرا شمار فی الواقع مورخین میں نہیں ہوتا۔ دو چار مختصری کتابیں تاریخ کے موضوع پر لکھ دینے سے کوئی شخص مورخ کا لقب پانے کا اہل نہیں ہوتا۔ یہ لقب تو انہی لوگوں کے لیے موزوں ہے جن کا نمایاں
وصف تاریخ نگاری ہو۔کتاب پر ایک نظر ڈالنے ہی سے محسوس ہوتا ہے کہ آپ نے اسے بڑی محنت اور لگن کے ساتھ لکھا ہے۔ انشاء اللہ فرصت پاکر اس سے استفادہ کروں گا۔
غلام محمد درانی صاحب کے نام کا خط واپس کر رہا ہوں۔ مجھے ان کا پتہ معلوم نہیں ہو سکا۔
انتخابات کے معاملے میں بندوں کی سعی جس حد تک ممکن ہے، وہ ہم کریں گےنتائج اللہ کے فضل پر موقوف ہیں۔
خاکسار
ابو الاعلیٰ
درانی صاحب پہلے راولپنڈی میں ایڈیشنل کمشنر تھے، پھر لاہور پوسٹ ہو گئے۔ میرے دوست تھے۔
مجھے اں سے کوئی کام پڑ گیا وہ چونکہ مولانا کے بہت معتقد تھے، اس لیے مولانا سے بھی ان کا پتہ پوچھا۔
تاریخ ساز شخصیت
آج سے دو تین سال پہلے پاکستان کے عظیم فلسفی اے کے بروہی نے مولانا مرحوم کو یوں خراج عقیدت پیش کیا:
" آج پاکستان کے عظیم ترین انسان مولانا مودودی ہیں۔ آپ نے لوگوں کےکردار کو مثبت طور پر متاثر کیا ہے۔ گو آپ اپنی تحریروں میں ٹھنڈی منطق سے کام لیتے ہیں، لیکن استدلال کی حرارت سے دلوں کو پگھلا کر رکھ دیتے ہیں"۔
یہ عظیم انسان آج ہم سے جدا ہو گیا ہے۔ کیا وہ وفات پاگئے ہیں؟ نہیں بالکل نہیں۔ وہ اس قدر بلند نشین تھے کہ وہاں تک موت کی رسائی ناممکن تھی، اس لیے وہ رومی و سعدی کی طرح زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ جو لوگ اس ماورائی زندگی کی حقیقت کو نہیں سمجھتے وہ اسے موت کہتے ہیں اور ۲۲ ستمبر ۱۹۷۹ء سے کہ جب مولانا اس خاکداں سے پرواز کر گئے تھے، اپنے جذبات کا اظہار نظم ونثر میں کر رہے ہیں۔
مظفر وارثی فرماتے ہیں:
ٹوٹ کر سورج گرا کرنیں پریشاں ہو گئیں
دفن اک لمحے میں جانے کتنی صدیاں ہو گئیں
سرزمین پاک سے اک آسماں سا اٹھ گیا
کس قدر سونی دیار دیں کی گلیاں ہو گئیں
انوار عزمی کہتے ہیں:
چراغ علم بجھاہے یقیں نہیں آتا
يی سا سانحہ بھی ہوا ے یقیں نہیں آتا
دل و دماغ منورتھے جس کی کرنوں سے
وہ چاند ڈوب گیا ہے یقین نہیں آتا
شکست فاش جودیتا رہا اندھیروں کو
خموش اب وہ دیا ہے یقیں نہیں آتا
طاہر شادانی فرماتے ہیں:
اک روشنی عدم کے دھندلکوں میں کھو گئی
تاریکیوں میں نور کی طلعت ہوئی ہے گم
وقف خزاں ہے گلدہ علم و معرفت
غنچوں کی ضو' گلوں کی صباحت ہوئی ہے کم
مولانا کی چھتر سالہ زندگی مسلسل عمل، فکر ومطالعہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے عبارت ہے۔ مجھے یقین ہے کہ انہیں دارالخلد میں کوئی بہت بلند مقام و منصب مل چکا ہے اور وہ ہماری دعاؤں کے محتاج نہیں؟ تاہم تسکین دل کے لیے ہم اپنے جذبات کے کچھ پھول جانے والے پہ نچھاور کرتے ہیں۔
تم گزر جاؤ گے نقش رہ گزر دیکھیں گے لوگ
ہر قدم پر کتنی صدیوں کا سفر دیکھیں گے لوگ
شہر کی گلیاں تمھیں گی راه کسی منصور کی!
کس کا سر جھکنے سےپہلے دار پر دیکھیں گے لوگ
و آخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین۔