آج ہم جس شخصیت کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں اس کے بارے میں دین کے لیے اس کی خدمات کے بارے میں کچھ عرض کرنا اور وہ بھی ہم جیسوں کے لیے عرض کرنا انتہائی مشکل اور دشوار کام ہے اور ایسے موقع پر جس کیفیت سے آدمی دوچار ہوتا ہے اس کی کچھ جھلک علامہ اقبال کے اس شعر سے ملتی ہے
خضر یونکر بتائے کیا بتائےاور جب کہنے والا خضر بھی نہ ہو اور معاملہ دریا سے نہیں سمندر سے ہو، تو پھر قلب و ذہن کی جو صورت حال ہو سکتی ہے، اس کا آسانی کے ساتھ آپ اندازہ کر سکتےہیں۔ مولانا کی خدمات کا جب ہم ذکر کرتے ہیں، تو یہ بات تاریخ کے حوالے سے بلا خوف و خطر کسی جا سکتی ہے کہ خلافت راشدہ کے بعد بے شمار شخصیات ہمارے سامنے آئیں۔ اپنے اپنے محاذ پر انہوں نے دین کی سربلندی اور اس کے دفاع کا حق ادا کیا۔اس راہ میں اپنی جانیں کھپائیں اور تاریخ کے دھارے کو موڑا لیکن اپنے کام کی ہمہ گیری وسعت اور اثر انگیزی کے لحاظ سے مولانا مودودی کا مقام منفرد ہے۔
ایک عجیب بات جو اس دور میں محسوس ہوتی ہے جس میں اللہ تعالی نے مولانا کو غلبہ دین کے لیے اور دفاع دین کے لیے چنا تھا، اس میں وہ سارے فتنے یکجا ہو گئے تھے جو ہمیں تاریخ کے مختلف ادوار میں ملتے ہیں۔ نبی اکرم کے وصال کے فورا بعد دو بڑے فتنے پیدا ہوئے۔ ایک جھوٹے مدعیان نبوت کا اور وہ فتنہ مولانا سید مودودی کی زندگی میں بھی ابھرا، دوسرا فتنہ یہ تھا کہ قرآن کریم پر مکمل طور پر عمل کرنے کے بجائے ایک گروہ نے یہ چاہا کہ اسے قرآن کی بعض ہدایات سے استثنا مل جائے۔ نماز تو ہم پڑھ ہی لیں گے لیکن زکوۃ ہم ادا نہیں کریں گے۔ یعنی اللہ کی ہدایت کو انہوں نے مختلف خانوں میں تقسیم کرنا چاہا اور کوشش یہ ہوئی کہ اس کی کچھ ہدایات پر عمل کر لیا جائے اور کچھ کو چھوڑ دیا جائے اور اس معاملے میں وہ اللہ کی ہداین، کے پابند نہ ہوں بلکہ اپنی خواہش کے پابند ہوں۔ یہ فتنہ بھی مولانا مودودی کے عہد میں پوری شدت سے سامنے آیا۔
آگے بڑھتے ہیں تو کربلا میں ملوکیت اور آمریت کا ایک کردار سامنے آتا ہےواقعات کی شدت میں فرق ہو سکتا ہے لیکن کسی نہ کسی شکل میں وہ فتنہ مولانا کی زندگی میں بھی سامنے آیا۔ اور آمریت اور ملوکیت سے انہیں نبرد آزما ہونا پڑا۔ اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ خلافت بنو عباس میں نظریات و افکار کا ایک اور فتنہ اٹھتا ہے۔ معتزلہ کا ایک گروہ سامنے آتا ہے۔ یونان اور روم کے افکار ابھر آتے ہیں لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کرتے ہیں۔ دین سے ان کا رشتہ کتا ہے اور لوگ نئے نظریات کی سحر آفرینی . سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس دور میں یہ بات بھی کی گئی کہ حدیث محض روایات کا مجموعہ ہے۔ لہذا قرآن کو تفکر اور تدبر کے ذریعے آدمی خود سمجھنے کی کوشش کرے۔ حضور تاریخ کا ایک حصہ تھے، تشریف لے جا چکے۔ ان کی روایات بھی تاریخ کا ایک حصہ ہیں، اور اب ہمیں ان پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں ہے لہذا کیوں نہ ہم اپنی عقل کو اپنا رہنما بنائیں اور جو کچھ ہماری عقل بتائے کہ قرآن کی اس آیت کا یہ منشا ہے تو اسی پر عمل کریں۔ کوئی ضرورت نہیں ہے کہ ہم شریعت سے اس معاملے میں رجوع کریں اور وہاں سے جو ہمیں ہدایت ملے اس کی بھی پابندی اپنے لیے لازم ٹھہرائیں۔ یہ فتنہ انکار حدیث یہ عقل پرستی کا فتنہ بھی مولانا مودودی کے سامنے آیا۔
اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ بغداد پر غیروں کی یلغار ہوتی ہے اور تاتاریوں کےہاتھوں وہ سارا علمی سرمایہ بھی تباہ ہوتا ہے اور مسلمانوں پر غیر ملکی اقتدار کا تسلط بھی تاریخ میں ہمیں ملتا ہے۔ اس وقت اللہ تعالٰی نے اس فتنے سے نبرد آزمائی کے لیے امام ابن تیمیہ کو کھڑا کیا جنہوں نے قلم سے بھی جواب کا حق ادا کیا اور تلوار سے بھی ان سارے فتنوں کی طنابیں کائیں اور اسلام کے دفاع کے لیے وہ عظیم الشان خدمات انجام دیں، جس میں کوئی ان کا دوسرا ہمسر نظر نہیں آتا۔
مولانا مودودی کو جو عہد اپنے کام کے لیے ملا اس پر بھی بیرونی اقتدار کا تسلط تھا۔ مسلمان آزاد نہ تھے، غلام تھے۔ افکار دوسروں کے تھے، تعلیم دوسروں کی تھی اقتدار دوسروں کا تھا اور بدترین محکومیت میں جکڑے ہوئے تھے۔ اس کے بعد تاریخ میں ہمیں خلافت عثمانیہ کے بعد سیکولرازم کا جو فتنہ ترکی میں نظر آتا ہے، اس فتنے نے بھی پوری شدت سے سر اٹھایا اور الحاد کا ایک طوفان اٹھا اور مسلمانوں کی اپنی درسگاہوں سے اٹھا، علی گڑھ کی درسگاہ جو مسلمانوں کے لیے قائم ہوئی تھی الحاد کا منبع بن گئی اور بے شمار افراد وہاں سے اٹھ کر مسلمانوں کے درمیان کھڑے ہوئے جنہوں نے ہمیں مادہ پرستی اور الحاد کا درس دینا شروع کیا۔ آپ تاریخ سے مختلف فتنوں کی ایک فہرست مرتب کرتے چلے جائیں یہ سارے کے سارے فتنے آپ کو یکجا ہوتے نظر آئیں گے۔ اس عہد میں، جس میں اللہ تعالی نے مولانا مودودی کو نہ صرف اسلام کے دفاع کی ذمہ داری سونوی، بلکہ اس کی سربلندی کی ذمہ داری بھی سونو۔ پھر یہ بھی غور کرتے جائیے کہ کون سا محاذ ہے، کون سازندگی کا گوشہ ہے اور معاشرے کا کون سا طبقہ ہے، جس کی یکساں رہنمائی اور ہدایت کا حق آپ نے ادا نہ کیا ہو۔ معلم یہ محسوس کرتا ہے کہ شاید مولانا کو سب سے زیادہ عزیز میں تھا۔ مزدوریہ محسوس کرتا ہے کہ مولانا کی توجہ شاید سب سے زیادہ مجھ پر تھی۔ طالب علم یہ سمجھتا ہے کہ نہیں، سب سے زیادہ مولانا مجھے چاہتے تھے۔ یہی کیفیت معاشرے کے ہر “طبقے کی ہے۔ خواتین یہ سمجھتی ہیں کہ مولانا نے "پردہ" لکھ کر اور "حقوق الزوجین لکھ کر ان کی زندگیوں میں جو انقلاب برپا کیا ہے، مولانا سب سے بڑے محسن ان کےہیں، قانون دان یہ سمجھتا ہے کہ نفاذ شریعت کے سلسلے میں جن کٹھن مراحل سے اس دور میں ان کا واسطہ تھا اور جہاں اس ملک کے نامور وکلاء یہ چیلنج کرتے تھے کہ ذرا دکھائیے کہ قانون میں اسلامی دستور کا ذکر کہاں ہے، وہاں وہ شخص ذہنوں کو متاثر کرتا چلا جاتا ہے اور ملک کے ایک ایک وکیل سے یہ سند حاصل کرتا ہے کہ ہاں جو کچھ آپ نے کہا ہے اس کی نہ صرف واضح نشاندہی ہے، بلکہ اتنا واضح نقشہ ابھر کے سامنےآتا ہے کہ دنیا کے باقی سارے نظاموں پر سے آدمی کا اعتماد اٹھ جاتا ہے اور قلب میں یہ یقین پیدا ہوتا ہے کہ اگر دستور دنیا کے اندر کوئی ممکن ہو سکتا ہے تو وہ صرف اسلامی دستور ہے باقی سارے قریب ہیں یہ سارے دساتیر انسان کو غلام بنانے کے اورا نسان پر انسان کی خدائی جمانے میں معاون ہیں اور اگر دستور کوئی ایسا ہے جو ہمیں صرف خدا کی بندگی کا راستہ دکھاتا ہے اور بندوں کی غلامی سے نجات دلاتا ہے تو وہ صرف وہ دستور ہے جو قرآن نے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت نے ہمارے سامنے واضح طور پر رکھا۔ وکلاء کی ہدایت کا اس طرح فرض ادا کیا کہ ملک کا ایک ایک وکیل پکار اٹھا کہ ہاں اس شخص نے وہ بات کسی جس کے ہم متلاشی تھے اور لوگ جو کسی زمانے میں اسے چیلنج کیا کرتے تھے، وہ آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ پر بیعت ہوئے اور پھر ان کے معاون و مددگار ثابت ہوئے۔
ایک وقت تھا کہ جب امور مملکت کا مذاق اڑایا جاتا تھا کہ کیا واسطہ ہے اسلام کا اقتدار سے اسمبلیوں سے ، عدالتوں سے یہ مسجدوں اور درس گاہوں کی چیز ہے لوگ مصلے پر کھڑے ہوں تو اسلام کی باتیں کریں، کسی دینی درس گاہ میں بیٹھے ہوں تو وہاں اسلام کا چرچا کریں۔ یہ کاروبار میں، یہ بنکنگ کے اندر اور یہ مملکت کے امور میں اسلام کا ذکر کہاں سے آیا؟ مولانا مودودی نے ایک نعرے سے اپنے کام کا آغاز کیا تھا اور وہ یہ کہ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے۔ آج اندازہ کیجئے کہ یہ جملہ ایک عام آدمی کی زبان سے منتقل ہوتا ہوا، ایک وکیل کی زبان سے منتقل ہوتا ہوا ایک حج کی زبان ہو تا ہوا آج حکمرانوں کی اپنی زبان پر ہے۔
یہ جملہ جن کے لیے کہا گیا ہے انہوں نے اسے اپنا لیا ہے اور آج وہ بھی فخر کےساتھ کہتے ہیں، عمل خواہ ان کا کچھ بھی ہو، عمل کی بات میں نہیں کر رہا، لیکن دماغ ان کا اس فلسفے سے متاثر ہو چکا ہے جو مولانا نے پیش کیا تھا، آج ہر شخص جس کی زندگی خواہ کچھ بھی ہو، اپنی گفتگو کا آغاز اس جملے سے کرتا ہے کہ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے یہ یقین یہ اعتماد جو انہوں نے ایک عام شہری کے اندر پیدا کیا ہے اورایک ایک مسلمان کے قلب و ذہن کے اندر اتارا ہے یہ ایک شخص کا کام ہے واقعہ یہ ہے کہ جب میں دیکھتا ہوں کہ تاریخ میں کسی ایک شخص نے اتنے وسیع پیمانے پر لوگوں کو متاثر کیا ہے اتنے بڑے پیمانے پر وہ لوگوں کی ہدایت اور راہنمائی کا ذریعہ بنا ہے اور خود اپنی زندگی میں بنا ہے تو مجھے بے پناہ حیرت ہوتی ہے۔ فخر ہوتا ہے اور مسرت ہوتی ہے۔
در حقیقت انہیں نہ طالب علم عزیز تھا نہ معلم عزیز تھا، نہ مردیا خواتین عزیز تھےانہیں انسان عزیز تھا۔ انہیں مسلمان عزیز تھا وہ یہ چاہتے تھے کہ ایک مسلمان خواہ وہ دکان پر بیٹھا تجارت کر رہا ہو۔ خواہ وہ عدالت میں اپنے فرائض منصبی ادا کر رہا ہو خواہ وہ سیاست دان کی حیثیت سے ایوان اقتدار میں بیٹھا ہو یا وہ معلم کی حیثیت سے کسی درس گاہ کے اندر موجود ہو۔ کہیں بھی ہو کسی بھی مقام پر ہو اگر وہ مسلمان ہے تو اپنی ذمے داریاں ایک مسلمان کی حیثیت سے ادا کرے پھر انہوں نے ہر مسلمان کو جس محاذ پر وہ کام کر رہا تھا اس محاذ پر کام کرنے کے آداب سکھائے جن دلائل کی اسےضرورت تھی اسے اپنے حریفوں سے نمٹنے کے لئے وہ توانا اور مستحکم دلائل اس کو مہیا کئے کہ اس کے حریف اس کے سامنے سے بھاگ کھڑے ہوئے۔
میں ایک صحافی کی حیثیت سے یہ محسوس کرتا ہوں کہ شاید سب سے زیادہ احسان مولانا نے صحافیوں پر کیا ہے آج اس ملک اور برصغیر کے اندر اور دنیا کےمختلف حصوں میں جہاں جہاں مسلمان کام کر رہے ہیں وہاں لکھنے والوں اور ابلاغ عامہ کے ذرائع سے جو لوگ وابستہ ہیں ان میں سے ان افراد کو چھانٹ دیجئے جو آج اسلام کے کاز کے لیے کام کر رہے ہیں پھر اس حساب سے ان کا نقشہ مرتب کر لیجئے کہ کتنے افراد کی تیاری میں باقی علماء کا حصہ ہے۔ ایک فرد نے وہ کام کیا ہے جو بڑے بڑے ادارے نہیں کرتے بلکہ ایک فرد نے اتنے ادارے قائم کر دیئے ہیں کہ کیا آج کوئی شہر ایسا ہے جہاں کوئی نہ کوئی ادارہ ایسا موجود نہیں ہے جو سید مودودی کی فکر اور اسلام کی فکر کو پھیلانے کے لیے پوری تن دہی، اعتماد اور یقین کے ساتھ کام نہ کر رہا ہو۔
آج آپ برطانیہ، امریکہ ، کوریا، ہانگ کانگ، افریقہ کے صحراؤں اور پورے عالم اسلام میں ان اداروں کا چرچا سن سکتے ہیں دنیا کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جہاں اس شخص نے ایسے افراد کھڑے نہ کر دیئے ہوں اور ان افراد کو ایک منظم شکل اور صورت بنا کر کھڑا نہ کر دیا ہو کہ وہ دوسروں کی ہدایت اور راہنمائی کا ذریعہ بن سکے ہوں۔ ایک واقعہ عرض کرتا ہوں۔ جس سے اندازہ کیجئے کہ اس شخص کے کام کی وسعت اور اثر انگیزی کا حال کیا تھا۔
یہ بھٹو دور کا ذکر ہے کراچی سنٹرل جیل میں عید کے موقع پر ہمیں یہ سہولت حاصل تھی کہ ہم پوری جیل میں گھوم پھر سکتے تھے اور وہاں ہمیں اس وارڈ میں بھی لے وارڈ کہلاتا ہے جایا گیا جو CONDEMNED وارڈ کہلاتا ہے جہاں قتل کے مجرم اس انتظار میں رکھے جاتے ہیں کہ ان کو پھانسی لگنے کی باری کب آتی ہے۔ جب میں وہاں پہنچا تو ایک کوٹھڑی میں دیکھا کہ سامنے تفہیم القرآن رکھی ہوئی ہے، میں نے ان صاحب سےپوچھا اور ان سے تفصیل معلوم کی کہ وہ کس جرم میں یہاں آئے ہیں انہوں نے بتایا کہ وہ ایک خاندانی تنازعے کے اندر ملوث ہو گئے۔ وہ درزی کا کام کرتے تھے اور بہت معمولی پڑھنا لکھنا جانتے تھے اس شخص نے نہ جانے کس کے مشورے پر مولانا مودودی کے نام ایک خط لکھ دیا کہ میں جیل میں زندگی کے آخری دن گزار رہا ہوں معمولی اردو پڑھ لکھ سکتا ہوں عربی نہیں جانتا میں نے سنا ہے کہ آپ نے قرآن کریم کا ایک ترجمہ کیا ہے جس کی زبان بڑی سلیس ہے اور ایک عام آدمی بھی اس سے ہدایت حاصل کر سکتا ہے لہذا مہربانی فرما کر اس کی ایک جلد مجھے بھیج دیجئے۔
مولانا مودودی نہ صرف پوری اسلامی دنیا کی قیادت کر رہے تھے بلکہ ایک ایک فرد پر ان کی نظر تھی اس شخص نے بتایا کہ اس خط کے جواب میں دس دن کے بعد مجھے قرآن کریم کی ایک جلد ملتی ہے جس پر سید مودودی کے دستخط ہیں اور فخر سے وہ اس نے مجھے کھول کر دکھائے۔
چونکہ پھر اس شخص کی سزائے موت معاف ہو گئی تو اس نے اپنا وطیرہ بنا لیا کہ اب قرآن کا درس لوگوں کو دونگا اور میں نے دیکھا کہ ۷۲ آدمیوں کے وارڈ چرس پینے والے، جوا کھیلنے والے اور بدترین جرائم میں ملوث لوگ نیت باندھے وضو کئے، صاف ستھرے کپڑے پہنے توجہ کے ساتھ اس شخص کا درس سن رہے تھے اور آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ جب میں نے اپنے آپ پر قیاس کیا کہ ان آیات کا اور قرآن کریم کے ان حصوں کا اتنی خوب صورتی کے ساتھ کیا میں درس دے سکتا ہوں تو میں نے اپنے آپ کو اس شخص سے کم تر محسوس کیا اتنی شستہ زبان کے ساتھ اور اتنے اعتماد کے ساتھ اس نے ترجمہ پڑھ پڑھ کر قرآن مجید کے اسرار و رموز کھولے کہ وہ شخص معلم قرآن کی حیثیت سے بے شمار لوگوں کی ہدایت کا سبب بنا۔ یہ ہے اس کام کی وسعت -
اس کے بعد میں اگلی کو ٹھڑی میں جاتا ہوں۔ یہ تیسرے نمبر کی کوٹھڑی کا واقعہ ہے ایک شخص مجھے ملتا ہے پوچھتا ہے کہ آپ کا جماعت اسلامی سے تعلق ہے میں نے کہا آپ کیا کہنا چاہتے ہیں اس نے کہا کہ میری آنکھوں پر یہ موٹا سا چشمہ آپ دیکھ رہے ہیں آپ کو معلوم ہے کہ یہ چشمہ کہاں سے آیا اس نے بتایا کہ مجھے جنب موت کی سزا ملی تو میں دن رات بہت زیادہ روتا تھا جس کے نتیجے میں میری بینائی کمزور ہو گئی۔ ڈاکٹر نے مجھے مشورہ دیا کہ تم چشمہ بنوالو۔ لیکن میرا کوئی ایسا عزیز نہیں تھا جس سے میں اس چشمے کی فرمائش کر سکتا۔ مجھے ایک شخص نے مشورہ دیا کہ تم مولانا مودودی کو ایک خط لکھ دو میں نے مولانا کو ایک پوسٹ کارڈ لکھ دیا اور اس کے جواب میں ایک ہفتے کے بعد ایک جانماز ایک تسیخ دوسو روپے نقد اور جس نمبر کا ڈاکٹر نے چشمہ بنوانے کو کہا تھا یہ جو میری آنکھوں پر آپ دیکھتے ہیں، یہ سید مودودی کا بھیجا ہوا ہے۔ آپ اندازہ کیجئے کہ ایک شخص اتنے سارے کاموں میں منہمک ہے پھر بھی لوگوں کے انفرادی معاملات پر اس کی اتنی بھرپور توجہ ہے، چوبیس گھنٹے ہمارے پاس ہوتے ہیں چوبیس گھنٹے ہی اس شخص کے پاس تھے شب وروز کا نظام اس کے لیے بدلا نہیں گیا تھا لیکن ہم لوگ خط کا جواب دینے میں مہینوں انتظار کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اس شخص کا یہ عالم تھا کہ تغیر بھی لکھی جارہی ہے سیرت بھی لکھی جارہی ہے۔ تنظیمی ودعوتی کام بھی ہو رہا ہے سیاسی لائحہ عمل بھی تشکیل دیئے جا رہے ہیں۔ اور لوگوں کی ذاتی زندگیوں پر بھی اتنی نظر اور توجہ ہے زندگی کا کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے زندگی سے متعلق کوئی ایسا سوال نہیں ہے جو کسی مسلمان کے ذہن میں ابھرا ہو۔ اور اس کا جواب سید مودودی کے لٹریچر میں موجود نہ ہو۔
میرا یہ چیلنج ہے کہ کوئی صاحب مجھے زندگی سے متعلق ایک ایسا سوال بتادیں جس کا جواب مولانا کے لٹریچر میں نہیں ہے۔ وہ اپنا کام اس درجے تک مکمل کر کے گئے ہیں۔
وہ شخص جو عید کارڈ بھیجنے والے کو بھی رسید بھیجنا اپنے اوپر لازم سمجھتا تھا جسے عصر سے مغرب تک آنے والوں سے بھی ملاقات کرنی تھی جسے تنظیمی کام بھی کرنا تھا اور جس نے پہلی بار یہ محسوس کیا کہ آج جس نوعیت کا ہمیں چیلنج درپیش ہے اس کا مقابلہ انفرادی عبادات سے اور کردار کی انفرادی صفائی سے نہیں ہو سکے گا آج کے دور میں باطل بڑا منتظم ہو کر سامنے آیا ہے۔
اب صورت یہ نہیں ہے کہ یونان کے افکار محض ترجمے کی صورت میں سامنے آ گئے ہوں بلکہ ان افکار کے پیچھے ذرائع ابلاغ میں ریڈیو ہے، ٹیلی ویژن ہے امریکہ میں بیٹھنے والا قلم سے براہ راست یلغار کر رہا ہے ہم پر ثقافتی یلغار ہے۔ وہ ایک بٹن دباتا ہے اور یہاں ذہنوں کو مسخر کرتا چلا جاتا ہے ایک شخص بی بی سی کے ٹی وی اسٹیشن پر بیٹھتا ہے اور پوری کی پوری قوم کو وہ اپنے خیالات سے ہم آہنگ کر لیتا ہے۔ یہ دور تھا کہ جس میں سید مودودی کو وہ کام انجام دینا تھا اس کے سامنے ذرا منظم قوتوں کا اندازہ کیجئے۔ اس کے سامنے خود اپنے حکمران تھے اس کے سامنے بیرونی قوتوں کے منتظم گروہ یہاں موجود تھے اس کے سامنے وہ لوگ تھے جنہیں سرمایہ مہیا کیا جاتا تھا اس کے سامنے ریاستیں تھیں اس کے سامنے عالمگیر قوتیں تھیں۔ مگر وہ سب کا تنا حریف تھا لیکن اس نے کس شاندار طریقے سے دین کے تحفظ کا حق ادا کیا اور کس طرح ان میں سے ایک ایک قوت کو اس نے پچھاڑا۔ وہ جب اس دنیا سے رخصت ہوا تو اس اطمینان کے ساتھ کہ اس نے باطل نظریات کو وہ شکست فاش دی ہے کہ اب کبھی پاکستان کی سرزمین پر باطل کو سراٹھانے کا موقع نہیں مل سکتا۔ اپنی زندگی میں وہ فتح مند ہو کر گیا ہے۔
یہ صحیح ہے کہ ان کے کام کی تکمیل کا کچھ حصہ ہمیں بھی انجام دینا ہے ہمیں اپنی منزل تک پہنچنا ہے لیکن اللہ نے کتنی بڑی امارت اس شخص کو بخشی ہے کہ اس نے اپنی آنکھوں سے اپنے دشمنوں کو جو بڑے لاؤ لشکر کے ساتھ بڑے وسائل کے ساتھ اس کے سامنے صف آرا تھے سرنگوں ہونے پر مجبور کر دیا اور کس طرح اس نے پورے عالم اسلام کا پرچم لراتا اپنی نظروں سے دیکھا یہ ہے اس شخص کے کام کی ہمہ گیری اور اثر انگیزی۔
مولانا مودودی کے کام میں اگر ہم ترجیحات کا تعین کرنا چاہیں تو بڑا مشکل کام ہے - ان کے کام کے اثرات پر اب تحقیق ہو گی، دنیا سے اپنی عظمت منوانے کی جو آخری شرط تھی، مولانا وہ بھی پوری کر چکے ہیں وہ اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں شاید وہ لوگ بھی ان کے بارے میں سوچنا شروع کر دیں جو زندگی میں ان کی طرف متوجہ ہونا کسر شان سمجھتے تھے اب اکیڈیمیاں قائم ہوں گی۔ لوگوں کو پی ایچ۔ ڈی کی ڈگریاں ملیں گی۔ ان کے کام کا چرچا ہو گا اور یہ انشاء اللہ قیامت تک باقی رہے گا اللہ نے ان کی زندگی میں جو اس کام میں برکت ڈالی تھی اس کا سلسلہ جاری رہے گا اور یہ فکر غالب آکر رہے گی۔
میں جب اس لحاظ سے دیکھتا ہوں کہ آخر ان کا ہم پر سب سے بڑا احسان کیا ہے سب سے بڑا احسان ان کا میرے نزدیک یہ ہے کہ انہوں نے ایک عام مسلمان کا رشتہ قرآن کریم سے جوڑ دیا ہے اپنے رب سے جوڑ دیا ہے بے شمار چیزیں بندے اس کے رب کے درمیان حائل ہو گئی تھیں۔ کہیں کچھ افراد حائل تھے کہیں کچھ عقیدتیں حائل تھیں کہیں کوئی مدارات حائل تھیں۔ مختلف رکاوٹیں تھیں۔ جو اس کا راستہ روک کر کھڑی ہو جاتی تھیں کہیں اس کی بے علمی اور عربی زبان سے اس کی ناوا قفی رکاوٹ بنتی تھی کہ وہ اللہ کی کتاب سے براہ راست راہنمائی حاصل کر سکے یہاں وہ کسی مولانا کا محتاج تھا۔
مولانا مودودی نے ہم پر اور دنیا بھر کے مسلمانوں پر جو احسان عظیم کیا ہے۔ وہ یہ کہ تفہیم پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہم خود اسی دور میں زندہ ہیں جس میں قرآن اتر رہا ہے کوئی واسطہ ہمارے درمیان نہیں ہے کسی سے ہمیں پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے ابھی جیسا کہ ایس ایم ظفر صاحب نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی خطابت براہ راست ہم سے ہے اور ہمارے اور اللہ کے درمیان بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے سوا کوئی دوسرا فرد موجود نہیں۔
یہ وہ عظیم الشان کام ہے جو میرے نزدیک اپنی اہمیت کے لحاظ سے زیادہ وزنی ہے۔ مولانا نے قرآن کریم کو سمجھنے میں رہنمائی کے جتنے ذرائع ممکن ہو سکتے تھے وہ مہیا کئے مولانا اگر تقسیم نہ بھی لکھتے وہ اس کا انڈیکس ہی مرتب کر دیتے تو یہ بھی اتنی بڑی خدمت ہوتی جس کا اللہ تعالٰی کے ہاں انہیں بہت بڑا اجر ملتا آج مجھے جب کوئی مسئلہ پیش آتا ہے میں اس انڈیکس سے متعلقہ مسئلہ نکالتا ہوں اور ایک منٹ میں قرآن کی وہ ساری ہدایات میرے سامنے آجاتی ہیں میری ہدایت اور رہنمائی کے لیے جو سہولت انہوں نے مہیا کی ہے اس سے بڑا احسان مجھے پر کوئی اور شخص کیا کر سکتا ہے کہ میں اللہ کی کتاب آسانی سے سمجھ لوں۔
پھر اس کے بعد دوسرا عظیم الشان کام یہ ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات گرامی سے ہمارا رشتہ جوڑا ہے، محبت کے دعوے دار بہت ہیں عاشقان رسول کی بھی کوئی کمی نہیں لیکن عالم یہ ہے کہ حضور کی ہدایت ایک طرف ہو اور ان کے پیر صاحب کی ہدایت دوسری طرف تو انہیں یاد نہیں رہتا کہ اس معاملے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تھا ان کے نزدیک پیر صاحب کا قول، قول فيصل ان امام صاحب کا قول قول فیصل بدترین فرقہ بندی میں ہم جکڑے ہوئے تھے ہماری آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی تھیں ہم آپس میں بٹے ہوئے تھے اگر تمام دنیا کے مسلمانوں کو مجتمع کرتا ہے اور انہیں ایک پلیٹ فارم پر لانا ہے تو اس کے سوا کوئی صورت نہیں کہ سارے افراد کی خدمت کا ضرور اعتراف کیجئے لیکن ان کی محبت میں اس شدت سے گرفتار نہ ہونا چاہئے کہ خدا اور رسول کی محبت مغلوب ہو جائے آپ دو سروں کو اپنا رہنما بنا لیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت ثانوی حیثیت کی رہ جائے، آج وہ سارے لوگ جو مولانا مودودی کے لٹریچر کو پڑھنے کی سعادت حاصل کر چکے ہیں وہ اپنے اپنے قلب کی کیفیت کا جائزہ لیں کہ اس سے پہلے انہیں حضور سے محبت اور عقیدت کتنی تھی اور اس لڑیچر کو پڑھنے کے بعد حضور کے لئے محبت کا جاں شاری کا، قربانی کا اطاعت کا جذبہ ان کے اندر کتنا تو آنا ہوا ہے اپنا اپنا جائزہ ہر فرد لے لے۔ کسی دعوے کی اس بارے میں ضرورت نہیں ہے۔
اس عظیم الشان کام کے نتیجے میں بیچ کے سارے فاصلے مٹ گئے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حضور کی ہدایات براہ راست ہمیں مل رہی ہیں اور یہی وہ چیز ہے جو فرقہ بندیوں کو ختم کرتی ہے فرقہ وارانہ منافرتوں کو ختم کرتی ہے اور عالمگیر اسلامی اتحاد کے لیے مستحکم ترین بنیاد مهیا کرتی ہے آپ دیو بند کا حوالہ دے کر دنیا کے سارے مسلمانوں کو مجتمع نہیں کر سکتے آپ بریلی کا حوالہ دے کر انہیں ایک پلیٹ فارم پر نہیں لا سکتے۔ آپ بغداد کا حوالہ دے کر دنیا کو مجتمع نہیں کر سکتے۔ اس مقصد کے یے آپ کے پاس توحید اور رسالت کے سوا اور کوئی بنیاد نہیں۔
وہ ساری ہستیاں جن کے لیے آپ عقیدت سے سرجھکاتے ہیں ان حضرت کی خدمات اپنی جگہ ان سے ہماری محبتیں بھی کسی سے کم نہیں لیکن شریعت کے اندر اسلام کے اندر جو مقام خدا اور اس کے رسول کا ہے وہ کسی اور کو نہیں دیا جا سکتا اور جب تک ہم باقی ساری محبتوں کو خدا اور رسول کی محبت کے تابع کر کے براہ راست اطاعت کا رشتہ نہ جوڑ لیں اس وقت تک یہ ممکن ہی نہیں کہ دنیا کے مسلمان متحد ہو جائیں۔ اتحاد کی اولین شرط یہ ہے کہ دائرہ اسلام کا ایک مرکز ہو اور اس مرکز کے گرد ہم سب (جیسے ہم کعبہ کے گرد طواف کرتے ہیں) اس شخصیت کے گرد مجتمع ہوں۔
یہی بات ہے جس کی وجہ سے پہلی بار مجھے یہ حدیث یاد آتی ہے کہ نبی اکرم نے صحابہ کرام سے فرمایا تھا کہ مجھے ہند کی طرف سے ٹھنڈی ہوائیں آتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں میں سوچتا ہوں کہ ممکن ہے ان کا اشارہ سید مودودی کے اس کام کی جانب ہو-
آج پورا ایران، عرب، عجم اور دنیا کی ہر جگہ رہنے والا مسلمان ایک دوسرے سے اپنی وابستگی محسوس کر رہا ہے عالم اسلام کا اتحاد ٹھوس شکل اختیار کرتا چلا جا رہا ہے اور کوئی شخص مصر سے اٹھتا ہے کوئی شخص بغداد سے اٹھتا ہے کوئی شخص ترکی سے اٹھتا ہے کوئی شخص شام سے اٹھتا ہے اور کوئی شخص ایران سے اٹھتا ہے اور جو اٹھتا ہے وہ کہتے ہوئے اٹھتا ہے کہ میری اس تحریک کا اور میرے اس سفر کا راستہ اس کی منزل اگر کسی نے متعین کی ہے تو وہ سید مودودی ہیں۔
اندازہ کیجئے کہ یہ کام ہمارے اپنے ملک تک محدود نہیں بلکہ پورا عالم اسلام اس سے بیدار ہوا ہے، پورے عالم اسلام میں یک جہتی کا رشتہ قائم ہوا ہے اور جیسے جیسے وہ لٹریچر راستہ بناتا چلا جا رہا ہے ذہن قریب آرہے ہیں دلوں کی دھڑکنیں مشترک ہو رہی ہیں۔
بات نہیں اگر رک نہیں جاتی بلکہ امنگ پیدا ہوتی ہے اس بات کی کہ جو کچھ ہم نے محسوس کیا جو ہدایت ہم نے اپنے اندر محسوس کی اب ہماری ذمہ داری ہے کہ اسے دوسروں تک پہنچائیں ہم مطمئن ہو کر نہیں بیٹھ جاتے کہ ہمیں عبادت کا بہت اچھا طریقہ آگیا ہم قرآن کو اچھی طرح سمجھنے لگے اور آخرت میں یہ ہماری نجات کا ذریعہ بن جائے گا بلکہ کچھ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اسلام ہم سے تقاضا کر رہا ہے کہ جو کچھ تم نے دین سے حاصل کیا ہے اور جسے تم اپنے لئے سعادت، سربلندی اور فخر کا سرمایہ سمجھتے ہو اسے دوسروں تک منتقل کرتے چلے جاؤ جسم میں حرکت پیدا ہوتی ہے آنکھیں کھلتی ہیں آدمی خواب غفلت سے چونکتا ہے اور اس کے بعد جو پیغام خود اسے ملا ہے وہ اس کو دوسروں تک منتقل کرتا چلا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا صدقہ جاریہ ہے جو انشاء اللہ تیزی کے ساتھ بڑھتا چلا جائے گا اور سید مودودی کی خدمات کا اعتراف آج جتنے بڑے پیمانے پر کیا جا رہا ہے اس سے کہیں بڑھ کر کیا جائے گا۔
مولانا پر ایک الزام یہ لگایا گیا اور جس کے علمبردار آج بھی موجود ہیں، وہ پاکستان دشمنی کا الزام ہے۔ کہا گیا کہ انہوں نے تحریک پاکستان کی مخالفت کی تھی۔ اندازہ کیجئے کہ جس شخص کے قلم سے نکلنے والی آخری تحریر یہ ہو ہو کہ I AM A MUSLIM AND PAKISTANI اسے صرف دو نسبتوں پر فخر ہے ایک اپنے مسلمان ہونے پر اور ایک اپنے پاکستانی ہونے پر۔ مسلمان ہونے کی حیثیت کے بعد دوسری حیثیت جو اسے پسند تھی، وہ پاکستانی ہونے کی حیثیت تھی۔ اس شخص پر پاکستان دشمنی کا الزام لگاتے ہوئے کچھ تو شرم محسوس ہونی چاہئے۔
قیام پاکستان کے بعد تحریک پاکستان ختم نہیں ہو گئی، بلکہ پاکستان کی تحریک ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کی تاریخ سے شروع ہوتی ہے۔ لے آئیے اپنا اپنا نامہ اعمال جمع کر لیجئے اپنے تمام وزیروں کی خدمات کو یکجا کر لیجئے ، ان سارے افراد کی خدمات جمع کر لیجئے اور بتائیے کہ پاکستان کو دنیا میں کس نے متعارف کرایا۔ پاکستان کو فخر کا مقام کس کے ذریعے ملا۔ پاکستان کو عالم اسلام کے ایک ایک فرد کی نظر میں عزت کا مقام کس نے دیا۔ جب کسی شخص کے ہاتھ میں خواہ وہ دنیا کے کسی گوشے میں ہو، ایک کتاب سید مودودی کے نام سے آتی ہے اور جس کے نیچے لکھا ہوتا ہے۔ لاہور پاکستان“۔ تو یہ بتائیے کہ اس وقت اس فرد کے دل اور دماغ میں پاکستان کی عزت اور عظمت کتنی بڑھ جاتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھتے جائیے کہ جب ایک ملک کے بارے میں یہ تصور قائم ہوتا ہے کہ اس ملک کے اندر اتنا بڑا مفکر پیدا ہوا اس ملک کے اندر دین کا آتنا بڑا خدمت گار پیدا ہوا تو خود اس ملک کا تقدس نگاہوں میں کتنا بڑھ جاتا ہے۔جس شخص نے یہ محسوس کیا ہے کہ اسلام کا اتنا بڑا مفکر اور علمبردار جس سے میری زندگی میں انقلاب برپا ہوا آخر وہ کون سی سرزمین ہے جس نے اتنا بڑا عالم پیدا کیا۔ کون سا ملک ہے جہاں یہ شخص بستا ہے اور اس کے بعد اس نے یہ قیاس یقیناً کیا ہو گا کہ علم کے میدان میں اس ملک کا کتنا بڑا مقام ہے۔ اسے ہماری جہالتوں کا کیا علم؟ اس نے تو پاکستان کو سید مودودی کے حوالے سے جانا اور سید کے سارے لڑ پچر کو پڑھ کر اندازہ لگایا کہ یہ بڑا عالیشان ملک ہے جس کے اندر ایسے عظیم افراد پیدا ہوتے ہیں۔
اس ملک کو عزت ملی مولانا مودودی کے وجود سے اور بعض لوگ ہیں کہ بے حیائی اور ڈھٹائی کے ساتھ یہ الزام لگاتے ہیں کہ مولانا مودودی دشمن پاکستان تھے۔
اس کو بھی چھوڑیے خود پاکستان کے اندر انہوں نے ہمارے درمیان تمیں بہتیں سال کی طویل عمر گزاری ہے۔ اس میں ان کی جس طرح کشمکش جارہی رہی بنیادی حقوق کے لیے اسلام کے لیے، شریفانہ زندگی کی ضمانتوں کے لیے ہمیں ذرا بتائیے کہ ان کے مقابلے میں کون سی ذات شریف ہے جو آگے بڑھ کر دعویٰ کرے کہ خود اہل پاکستان کی خدمت اور پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کو مستحکم کرنے کے معاملے میں اس کا حصہ مولانا مودودی سے بڑھ کر ہے۔
ایک فرد جو ہماری آبرومندانہ زندگی کے لیے ہماری خوشحالی کے لیے آمریت سے لڑ رہا ہے، الحاد، اشتراکیت داخلی اور خارجی خطرات سے لڑ رہا ہے، ملک کے لیے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ وقف کئے ہوئے ہے اور ملک کے لیے لڑ مرنے کا جذبہ رکھنے والے نوجوانوں کو تیار کر رہا ہے۔ وہ شخص جس نے بتدریج یہاں باطل کی ساری قوتوں کو زیر کیا، ہم نے دیکھا کہ بڑے بڑے علمبرداران تحریک پاکستان“ اس ملک کے در و دیوار کو ڈھاتے رہے۔ وہ تنہا شخص تھا جو نہ صرف اس ملک کی نظریاتی بنیادوں کے تحفظ کے لیے ڈٹ گیا، بلکہ انہیں مستحکم بھی کیا اور لا تعداد ایسے افراد بھی تیار کر دیئے جو اس کام میں اس کے ساتھ تعاون کرتے چلے جائیں۔ یہ وہ شخص تھا جس نے اس ملک کو اپنی نظریاتی بنیاد سے ہٹنے نہیں دیا۔ اگر یہ ملک ایک بار اس نظریاتی بنیاد سے کھسک جاتا تو پھر اس ملک کے وجود کا اور اس کی بقاء کا کوئی امکان باقی نہ رہتا۔
میرا یہ بھی دعوی ہے کہ بیرونی دنیا میں بھی اس نے ہمیں بے شمار دوست مہیا کر کے دیئے ________ آج سعودی عرب اگر پاکستان کی طرف متوجہ ہے۔ آج عالم اسلام کی برگزیده ہستیاں یہاں کھنچی چل آتی ہیں، اس سے ان محبت بھرے جذبات کا اندازہ کیجئے جو بیرون ملک ہمارے لیے پائے جاتے ہیں۔ ذرا اندازہ کیجئے کہ اس میں کس کس شخص کا کتنا کام ہے۔ کس کا کتنا حصہ ہے محبتوں کے یہ جذبات کس نے بیدار کئے ہیں۔ عقیدتوں کا رخ اس ملک کی طرف کس نے موڑا ہے اور آج ساری دنیا سے مولانا مودودی کی وفات پر جس طرح تعزیتی پیغامات آرہے ہیں، جن جذبات کا اظہار ہو رہا ہے اس سے آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ اس کی دینی وملی خدمات کا کتنا وسیع اعتراف ہے۔
میں اس دعا پر اپنے کلمات کا اختتام کرتا ہوں کہ جو راستہ مولانا مودودی نے ہمارے لیے متعین کیا ہے اور جو منزل ہمیں دکھائی ہے خدا کرے کہ اس راستے پر چلتے ہوئے ہمارے قدم کبھی نہ ڈگمگائیں۔ ہم استقامت کے ساتھ اس کی طرف بڑھیں اور وہ منزل سر کر کے رہیں، جو منزل خدا کے دین کا تقاضا ہے۔
ماخذ: سید مودودی مرد عصر و صورتگر مستقبل
پبلشرز: ادارہ ترجمان القرآن, ایڈیشن1
ایڈیشن:1
مصنف: محمدصلاح الدین
تاریخ اشاعت: Jan. 1, 1996
ریڈنگ کاؤنٹر: 44