مردعصرسیدمودودی

ڈاکٹرسیداعبداللہ

تحریک خلافت, ایک زبردست هنگامه خیز, هنگامه آفریں ذہنی انقلاب کے طور پر, مسلمانان ہند کی تاریخ احساسات قومی میں ہمیشہ یاد رہے گی۔ یہ علی گڑھ کی مغربیت اور اس کے زیر اثر اٹھنے والی مفاہمتی ذہنیت کے خلاف ایک زبردست رد عمل تھا.

علماء تو پوری انیسویں صدی میں فرنگی کے راج اور اس کی لائی ہوئی معاشرت کے خلاف صف آرا رہے لیکن مسلمانان ہند کی جدید تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ انگریزی تعلیم یافتہ طبقہ بھی، انگریزوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا اور اور اس طرح مسلمانان ہند کی پہلی بڑی ضرورت _ قدیم اور جدید طبقوں کا باہمی اتحاد اور باہمی تعاون عمل کی صورت میں پیدا ہو گئی جس کے نتائج بڑے ہمہ گیر اور دوررس ہوئے۔ اگر چہ جماعتی تعصبات کی وجہ سے اس کا اعتراف نہیں کیا جاتا لیکن اتنا تسلیم کرنا ہی پڑے گا کہ یہ تحریک، مسلمانان ہند کی سیاسی بیداری کا بڑا اہم مقدمہ ثابت ہوئی، جو اگرچه ۲۵۔ ۱۹۲۴ء میں قدرتی اور داخلی اسباب کی وجہ سے تقریباً ختم ہو گئی مگر اس کا پیدا کیا ہوا عملی اور جارحانہ بلکہ مجاہدانہ ذہن بڑی دیر تک موجود رہا جو ۱۹۲۵ء سے ۱۹۴۷ء تک کی جملہ تحریکوں میں ایک حرکت آفریں عنصر کے طور پر کام کرتا رہا۔ اور یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستان کی تحریک آزادی بڑے زور سے چل رہی تھی اور مسلم ذہن آنے والے آزاد ہندوستان میں اپنے صحیح مقام اور منصب کی جستجو میں سرگرم و مضطرب تھا۔

عین اس زمانے میں ، پردہ غیب سے ایک مرد عصر، نمودار ہوا جس نے مسلمانان ہند کی اپنے تشخص و شخصیت کی اجتماعی جستجو میں ، ایک منزل کی نشاندہی کی جسے اسلامی تاریخ کا ایک ناگزیر تقاضا کہا جا سکتا ہے۔ یہ مرد عصر سید ابوالاعلیٰ مودودی تھا۔

غالبا" یہ ۱۹۴۰ء کا یا اس سے کچھ قبل کا کوئی مہینہ تھا کہ خضری محلہ میں مرحوم علامہ علاؤ الدین صدیقی کے مکان پر، ایک محفل احباب میں ہم نے ایک نئے مہمان کو دیکھا جس کے ماتھے پر عزم کے نقوش کندہ تھے اور جس کی گفتگو میں منطقی صلابت اور اسلامی استقامت کے آثار بات بات سے ہویدا تھے۔ یہ مہمان اسی منزل کی جستجو کی مہم میں، اس محفل میں بھی، اپنے ہم خیالوں اور مخلص نوجوانوں کی تلاش میں آیا تھا۔ وہ ایسے جدید تعلیم یافتہ لوگوں کو ڈھونڈ رہا تھا جو اس کے تصور کو سمجھ سکیں اور ہندوستانی مسلمانوں کی منزل اقامت دین کی تحریک میں اس کے ساتھ تعاون کر سکیں۔ اس کی یہ جستجو جاری رہی اور شاید اب تک جاری ہے۔ مگر اس کی منزل کی اہمیت کی گفتگو نا تمام ہی ہو گی جب تک ہم یہ نہ بتا دیں کہ جس دور میں سید مودودی نے اپنا کام شروع کیا اس میں مسلمانوں کے سیاسی رجحانات کیا کیا تھے۔ اور ان مختلف الاطراف میلانات میں مودودی نے جو مشن اپنے ذمہ لیا وہ کیوں مرکزی حیثیت رکھتا تھا یہاں تک کہ مسلمانوں کی آزادی کی تحریک کو اس مقصد عظیم کے بغیر ادھورا ہی نہیں ایک لحاظ سے بے اثر، بے نتیجہ بلکہ ملی اسلامی اجتماعی آرزوؤں کے نقطہ نظر سے افسوسناک ہی سمجھا جا سکتا ہے۔

اس بحث سے میرا ارادہ ہر گز یہ نہیں کہ میں سید مودودی کی تحریک کو اہم ثابت کرنے کے لیے، باقی سیاسی تحریکوں، اور قومی سوچوں کی تنقیص یا نفی کروں۔ میرا موقف ان معاملات میں مفاہمتی ہی نہیں بلکہ ایک ایسے ہمدرد مورخ کا سا ہے جو وقت کے سب عوامل اور مسائل و تحریکات پر بے لاگ مجموعی نظر ڈال کر، یہ بتاتا ہے کہ تحریکوں نے ایک دوسرے پر کیا اثر ڈالا یعنی ایک تحریک کے عمل نے کیا کیا رد عمل پیدا کئے۔ اور سب نے مل کر، مکمل مسلم نصب العین کے لیے اپنی اپنی جگہ کیا خدمت انجام دی۔

روداد اس کی یہ ہے کہ تحریک خلافت کے خاتمے اور سول نافرمانی کے ناکام ہو جانے کے بعد، مسلمان زعماء تین حصوں میں بٹ گئے۔ ایک حصہ بدستور آل انڈیا کانگریس سے وابستہ رہ کر متحدہ قومیت (ہندو مسلم ایک قوم) کے نظریے پر قائم رہا دوسرا حصہ کانگریس وغیرہ سے دور رہ کر مسلمانوں کے حقوق کے لیے سرگرم رہا۔ اورتیسرا گروہ وہ تھا جو انگریزوں اور ہندوؤں دونوں فریقوں سے نبرد آزما ہوا۔ ان تینوں گروہوں کے موقف جزءاً درست تھے لیکن اقامت دین کے تصور کو مرکزی اہمیت، اس کے لیے جدوجہد کا معاملہ جداگانہ جماعتی سیاست کے تقاضوں کی وجہ سے نمایاں نہ ہوتا تھا۔

ان حالات میں سید مودودی نے، اقامت دین کی تحریک کا آغاز کیا

انہوں نے سب سے پہلے، وطنی قومیت کے علمبردار مسلم علما وزعما کے استدلال پر زور دار تنقید کی اور یہ ثابت کیا کہ انگریزی استعمار کے خلاف جنگ درست لیکن آزادی کی صورت میں، اقامت دین اور اس کے لیے ایک اسلامی ریاست کا قیام ہر شے پر مقدم ہونا چاہیے۔

یہ وہ زمانہ تھا جب برطانوی استعمار کے خلاف مسلمانوں کے ایک بڑے حصے کے دل میں شدید نفرت و حقارت کے جذبات موجزن تھے، اس وجہ سے جب سید مودودی نے وطنی قومیت کے علمبرداروں کے خلاف . جن میں بعض ایسے اکابر بھی شامل تھے جن کے خلوص میں کوئی شبہ نہیں کیا جا سکتا ، اپنی تحریری مہم کا آغاز کیا تو بہت سے لوگ ناراض ہوئے۔ لیکن آہستہ آہستہ انہوں نے جب اپنی دلیل کا لوہا منوالیاتو اکثر لوگوں کو قائل ہونا پڑا کہ سید مودودی کا موقف،گم گشتہ اقتدار اسلامی کی بازیابی کے نقطہ نظر سے درست ہے۔

اور واقعی یہ سوچنے کی بات ہے کہ ہندوستان میں ایک ہزار سال تک حکومت کرنے کے بعد، کیا مسلمانوں کی حالت یہی ہونی چاہیے تھی کہ وہ بازیابی کے بجائے ایک غیر مسلم اکثریت کے اندر۔ دریا میں قطرے کی مانند۔ گم ہو کر رہ جاتے؟

اس زمانے کی اہم جماعتوں میں مسلم لیگ کے علاوہ مجلس احرار اور تحریک خاکسار کا بھی اپنا ایک نقطہ نظر تھا جسے مخلصانہ ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ لیکن سید مودودی کا موقف، راسخون، کی پیروی میں، مغربی افکار واقدار سے بیزاری اور مسلمانوں کو اسلامی معاشرتی اسالیب کا پابند رکھنے پر اصرار تھا۔ مذکورہ بالا جماعتوں کو بھی اس سے انکار نہ تھا لیکن ان کے پروگرام کے مرکزی اجزایہ نہ تھے۔ مغربی افکار سے مرعوب و مغلوب ہونے والے ان میں بہت تھے اور خود مسلم لیگ میں مغرب سے مرعوب گروہ کا خاصا اثر تھا۔

اس کے معنی یہ ہوئے کہ مودودی کی تحریک دعوت و عزیمت اس روایت کی وارث تھی جس کا آغاز امام احمد بن حنبل نے کیا۔ اور اسے آگے چل کر امام ابن تیمیہ اور علامہ ابن قیم جیسے ابطال علم میسر آئے۔ غرض مسلمانوں کی خیر خواہی کے سلسلے میں سب جماعتیں مخلص ہی تھیں لیکن اقامت دین کی دعوت، اسلاف عظام کی روایتوں کی پیروی میں صرف سید مودودی نے دی۔

مجھے یہ تسلیم ہے کہ سید مودودی کی تحریروں کے ایک حصے سے بعض لوگوں کو اختلاف ہے۔ اور اس اختلاف کے حق میں کچھ دلیلیں بھی ہو سکتی ہیں۔ لیکن اکثر دیکھا یہ گیا ہے کہ ان اختلافی آوازوں کا ایک محرک، جماعتی تعصب بھی ہے تا ہم یہ ماننا پڑتا ہے کہ بعض موقعوں پر انداز بیان قدرے خلش پیدا کرتا ہے، اور یقین یہ ہے که بهتر انداز بیان سے، اختلاف کرنے والوں کی اکثر دلیلیں ساقط ہو جاتیں۔

لیکن مسلمانوں میں اختلافات اور خلافیات کی ساری تاریخ پکار پکار کر یہ کہہ رہی ہے کہ جس سے اختلاف کیا جاتا ہے، اس کی نیت اور اس کی مجموعی خدمت کو، ایک جزوی فروعی بات کی وجہ سے نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

میں سید مودودی کی فکریات کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہوں.

(الف) وہ تحریریں جن کا تعلق مسلمانوں کے داخلی منا تشات سے ہے مثلاً "خلافت و ملوکیت" میں۔

(ب) وہ تحریریں جو مغربی نظریات کے رد میں لکھی گئی ہیں یا جن میں اسلامی نظریات و عقائد پر مستشرقین کے اعتراضات کا جواب ہے۔

میں اگرچہ مذکورہ بالا الف کے بارے میں کچھ باتیں کہہ سکتا ہوں لیکن واقعہ یہ ہے کہ سید مودودی کا سب سے بڑا کارنامہ شق ب سے متعلق ہے جو اس لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ یہ اسلام کے خلاف مغربی تنکیکات کا جواب ہے۔

یہ فی الحقیقت وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے، اسلام پر مغرب پر ستوں کے حملوں کی وجہ سے مسلمان نوجوانوں میں جو شکوک پھیل رہے تھے ان کا اطمینان بخش جواب ہے اور یہ وہ جواب ہیں جو اگر پیش نہ کئے جاتے تو اسلام کا محاذ دلیل میں بے حد کمزور رہتا۔

سید مودودی نے جن اہم متنازع فیہ مسائل پر لکها ان میں اسلام کا معاشی نظام سرمایه داری و جاگیرداری، سود، پرده، سیاسی نظریات، جمہوریت، شورائیت وغیره کو اہمیت حاصل ہے۔ ان مسائل کی بحث ان کی کتابوں میں ہے جو بڑی تعداد میں شائع ہو چکی ہیں۔

اور اس سلسلے میں ان کی تفسیر "تفہیم القرآن" جس کی حکیمانہ توجہیات اور عقلی انداز بیان، اکثر سلیم المزاج لوگوں کو قرآن فہمی کی دولت بخش چکا ہے۔ اور دین کی یہ خدمات اس وقت واقعی قابل رشک ہو جائیں گی جب ان کی لکھی ہوئی ”سیرت رسول پاک" سامنے آئے گی۔

تو میں عرض کر چکا کہ سید مودودی واقعی " مردوقت" ثابت ہوئے اور وہ اس بنا پر کہ اس وقت برصغیر میں اقامت دین کے جس فریضے کی ضرورت تھی اور اسےجس طرح، جس انداز سے، اور جس زبان میں اور جن دلیلوں سے انجام دینا ضروری تھا وہ سب کچھ سید مودودی نے کیا اور اب یہ ان کی مساعی کا نتیجہ ہے کہ پاکستان میں "دین" کا نعرہ بلند کیے بغیر کوئی مدعی خدمت وسیاست، میدان میں دیر تک کھڑا نہیں رہ سکتا۔

ماخذ: سید مودودی مرد عصر و صورتگر مستقبل

پبلشرز: ادارہ ترجمان القرآن, ایڈیشن1

ایڈیشن:1

مصنف: ڈاکٹرسیداعبداللہ

تاریخ اشاعت: Jan. 1, 1996

ریڈنگ کاؤنٹر: 63

ٹیگ: maududi