مولانامودودی عصرحاضرکاسب سےبڑادماغ

ڈاکٹرعبدالمغنی

مولانا ابو الاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ عل نے جس وقت تحریک اسلامی کا آغاز کیا ہندوستان ایشیا، افریقہ اور پورا مشرق غلام تھا۔ عالم اسلام پر بھی اغیار کا غلبہ تھا، مغربی فکر و فلسفہ دنیا پر مسلط تھا، یورپی سیاست کا ڈنکا بج رہا تھا، امریکی معیشت متمدن ممالک واقوام پر اپنے پنجے گاڑنے لگی تھی، اس کے ساتھ ہی اشترا کی نظریہ اپنی تمام قہر سامانیوں کے ساتھ روس میں برسراقتدار آکر بڑی تیزی سے اپنا دائرہ اثر عالمی سطح بڑھا رہا تھا۔

اس عالم میں شبلی کی تاریخ نگاری اقبال کی شاعری اور ابو الکلام آزاد کی خطابت ہندوستان کے مسلمانوں اور مشرق کے انسانوں کو حریت واخوت کا وہ پیام دے رہی ھی جو مغربی دہریت اور طاقت کے خلاف سب سے مضبوط ذہنی سہارا تھا۔ مصر میںت رشید رضا اور محمد عبدہ نے بھی باطل کی بڑھتی ہوئی تاریکی کے مقابلے پر حق کا چراغ جلا رکھا تھا۔ ان سب سے پہلے جمال الدین افغانی بین الملیت کی دعوت دے چکے تھے۔ ان کے علاوہ ترکی کے دور زوال میں بدیع الزماں نوری نے بھی الحاد کا راستہ روکنے کی کوشش کی تھی، اور بہت بعد میں حسن البنا شہید نے عربوں کو اسلام کے لیے ابھارنے کی سعی کی تھی۔

لیکن عصر حاضر کو ایک ایسے مرد مومن کی ضرورت تھی جو ایک طرف اپنے علم و تحقیق سے رائج الوقت افکار کی دنیا میں ایک زلزلہ ڈال دے اور مغربیت واشتراکیت کے ذہنی علم کے تارو پود بکھیر کر رکھ دے ، جبکہ دوسری طرف اپنے کردار اور عمل کی بے پناہ طاقت کے خلاف حق کی جنگ لڑنے کا ایک ایسا موثر نمونہ قائم کر دے جو سخت سے سخت حالات میں حق پرستوں کا عزم و حوصلہ بلند رکھے، یہی وہ مرد مومن ہے جس کی تمنا میں اقبال نے ولولہ انگیز نغمات گائے

سب اپنے بنائے ہوئے زنداں میں ہیں محبوس
خاور کے ثوابت ہوں کہ افرنگ کے سیار
پیران کلیسا ہوں کہ شیخان حرم ہوں
نے جدت گفتار ہے’ نے جدت کردار
ہیں اہل سیاست کے وہی کہنہ خم و پیچ
شاعر اسی افلاس تخیل میں گرفتار
دنیا کو ہے اس مهدی برحق کی ضرورت
جس کی نگہ زلزلة عالم افکار
(مهدی برحق، ضرب کلیم)
صوفی کی طریقت میں فقط مستی احوال
ملا کی شریعت میں فقط میں مستی گفتار
شاعر کی نوا مرده و افسرده و بے ذوق
افکار میں سرمست’ نہ خوابیده نہ بیدار
و ہ مرد مجاہد نظر آتا نہیں مجھ کو
ہو جس کے رگ وپے میں فقط مستی کردار
(مستی کردار، ضرب کلیم)

ایک انقلابی مفکر کی تلاش میں اقبال کی حسرت درج ذیل اشعار سے نمایاں ہوتی ہے:

ہند میں حکمت دیں کوئی کہاں سے سیکھے
نہ ہیں لذت کردا ' نہ ا فکار عمیق
حلقہ شوق میں وہ جرأت اندیشه کہاں
آه ! محکومی و تقلید و زوال تحقیق
خود بدلتے نہیں، قرآن کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیهان حرم بے توفیق
ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق
(اجتہاد۔ ضرب کلیم)

اقبال یقین کرتے تھے کہ مغرب کے ملحدانہ تصورات کو کوئی ایسا شخص ہی شکست دے سکتا ہے جو مشرق سے حکمت دیں کا جھنڈا لے کر اٹھا ہو، لیکن ان کے دور میں جو چند شخصیتیں وقتی طور پر امید افزا طریقے سے ابھریں وہ بالآخر کھوئی ناقص اور بے اثر ثابت ہوئیں۔ مصطفیٰ کمال اور رضا شاہ پہلوی جیسے لوگوں سے اقبال اپنی مایوسی کا اظہار اس طرح کرتے ہیں۔

نہ مصطفیٰ نہ رضا شاہ میں نمود اس کی
که روح شرق بدن کی تلاش میں ہے ابھی
(مشرق- ضرب کلیم)

اقبال کو عصر حاضر میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لیے جس شخصیت کا انتظار تھا اس کے بارے میں وہ اپنے وقت کے اولیاء اور صوفیاء سے اس طرح سوال کرتے ہیں

اب حجرہ صوفی میں وہ فقر نہیں باقی
خون دل شیراں جس فقر کی دستاویز
اے حلقہ درویشاں وہ مرد خدا کیا ؟
ہو جس کے گریباں میں ہنگامہ رستاخیز!
جو ذکر کی گرمی علے کی طرح روشن
جو فکر کی سرعت میں بجلی سے زیادہ تیز
(غزل بال جبریل)

اقبال کے مذکور بالا اشعار محض اشعار نہیں ہیں بلکہ ان حقائق کا بہترین اظہار ہیں جو بیسویں صدی کی دوسری چوتھائی تک نہ صرف مشرق اور عالم اسلام بلکہ پورےعالم انسانیت میں پائے جاتے تھے اور جن کی سنگینی و خطرناکی کو دیکھتے ہوئے اہل نظر شدت کے ساتھ محسوس کر رہے تھے کہ اگر کوئی ایسا مرد خدا سامنے نہیں آیا جو دور جدید کی جاہلیت و ظلمت کو چیلنج کر کے ہوا کا رخ پلٹ سکے تو خدا کی مخلوق تباہی کے اس غار میں گر کر رہے گی جس کی طرف وقت کے مفکرین ومدبرین اسے لیے جا رہے ہیں۔

کارل مارکس اور چارلس ڈارون کے نظریات نے عصر حاضر کا جو ماحول تشکیل دیا اس میں ایک طرف لنین اور ماء جیسے معماران قوم پیدا ہوئے اور دوسری طرف چرچیل اور روز ویلٹ جیسے مدبرین نمودار ہوئے اور انہیں کے درمیان مسولینی اور ہٹلر جیسے مطلق العنان آمر بھی جلوہ گر ہوئے۔ یہ سب لوگ جدلیاتی مادیت اور میکانکی ارتقاء کی مخلوق تھے اور انہوں نے مل کر جو نئی دنیا بنائی اس میں دو عظیم عالمی جنگیں واقع ہوئیں جنہوں نے انسانیت کی تمام معروف ومسلم قدروں کو غارت کر کے رکھ دیا۔ اپنی اپنی قوموں اور ملکوں کے ان مفکروں اور راہ نماؤں نے نہ صرف یہ کہ دوسرے ممالک واقوام کو سامرا جی عزائم اور نو آبادیاتی استحصال کا شکار بنایا بلکہ خود اپنے سماجوں کو حیوانوں کا معاشرہ بنا کر رکھ دیا۔ پھر چونکہ یہی معاشرہ سائنسی اور صنعتی اعتبار سے غالب حیثیت رکھتا ہے لہذا ایک مصنوعی تمدن اور غیر فطری تہذیب پوری انسانی دنیا میں رائج ہو گئی یہاں تک کہ تعلیم یافتہ افراد اور ترقی پسند ذہنوں نے اسی ملمع تہذیب و تمدن کو معراج انسانیت تصور کر لیا۔

ہندوستان کے مسلمان اور غیر مسلم سبھی عام طور پر مغربی سائنس، صنعت معیشت اور معاشرے نیز فلسفه و تعلیم اور سیاست کے ہمہ گیر ظلم میں گرفتار تھے اور سامراج کے خلاف آزادی کی پوری جنگ انہی ہتھیاروں سے لڑی جا رہی تھی جو خود سامراجی ملک کے تمدن و تہذیب نے ڈھال رکھے تھے ، حتی کہ تحریک آزادی کے تقریباً تمام ہی راہ نما باضابطہ مغربی و برطانوی تعلیم و تربیت کی گود میں پہلے اور بڑھے تھے گاندھی اور نہرو دونوں انگلستان سے بیرسٹر بن کر آئے تھے اور نہرو کی شیروانی سے لے کر گاندھی کی لنگوٹی تک جو ذہن کام کر رہا تھا وہ اپنی جگہ نہایت مخلصانہ طور پر وطن دوست اور قوم پرست ہونے کے باوجود انگریزی فلسفہ و تدبر کا خوشه چیں اور مغربی نظام حیات کے بنیادی تصورات سے مرعوب تھا۔ جنگ آزادی کی قیادت کی اس کیفیت کو ابوالکلام آزاد جیسا مشرق کا ترجمان اور اسلام کا اداشناس بھی درست کرنے سے قاصر تھا بلکہ آزاد کو بھی رنگ زمانہ کے پابندوں کے ساتھ ہی مل کر ان کےمشورے سے اور ان کی بنائی ہوئی لائن پر کام کرنا پڑا تھا اور اس معاملے میں آزاد کے حکومت الیہ کے تخیل سے لے کر گاندھی کے رام راج کے نقشے تک مشرقی فکر کےسبھی رجحانات کو سوراج کی اس قربان گاہ پر چڑھا دیا گیا تھا جس کا مقصد صرف یہ تھا کہ اہل مغرب کے ہاتھوں سے عنان اقتدار چھین کر مغرب پسند ہندوستانیوں کے ہاتھوں میں دے دی جائے۔ چنانچہ آزادی کے بعد برطانوی دولت مشترکہ میں شرکت کا مطلب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ مروجہ سیاست و معیشت سے استفادے کا موقع باقی رہے۔ دوسری طرف محمد علی جناح نے پاکستان کا مطالبہ صرف مسلمانوں کے ایک سیاسی وطن کے لیے کیا اور یہ چاہا کہ مسلم قوم کی ایک مستقل بالذات حکومت قائم ہو تاکہ جدید جمہوریت میں مسلمان دوسری قوم کی اکثریت کے رحم وکرم پر نہ ہوں

مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے شعور نے اسی ماحول میں آنکھیں کھولیں اور ان کاذہن اسی فضا میں پروان چڑھا، بلکہ بعض رائج الوقت اداروں سے وہ وابستہ بھی رہے اور ان اداروں کی بعض سرگرمیوں کے ساتھ انہوں نے تعاون بھی کیا، لیکن جب انہوں نے اپنی معرکۃ الآراء کتاب کے ذریعہ مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش" کا حل پیش کیا تو وہ کانگرس اور لیگ دونوں کی قوم پرستی سے مختلف تھا اس لیے کہ ان کے نزدیک "مسئلہ قومیت" وہ نہ تھا جو عصر حاضر کے مفکرین اور مدبرین سمجھ اور سمجھا رہے تھے۔ مولانا مودودی نے وطنیت کے پر شور ہنگامے میں ایک آفاقی اور دینی ملت کا وہ اسلامی تصور پیش کیا جو عالمی اور بین الاقوامی انسانی برادری پر مشتمل تھا۔ اس سے قبل مولانا "الجہاد فی الاسلام" کے عنوان سے ایک مبسوط تصنیف میں اسلام کے قانون جنگ وامن پر روشنی ڈال کر دنیا کو بتا چکے تھے کہ عصر حاضر کے تمام رائج الوقت فلسفوں اور نظریوں کے برخلاف اسلام کا تصور جنگ وا من ایک خالص اصولی، نظریاتی اور اخلاقی تصور ہے جو دوستی اور دشمنی کا معیار اور تعاون اور تصادم کا محور سیاسی و معاشی مفادات اور قومی و ملکی یا شخصی و گروہی اغراض و عزائم کے بجائے خیر اور حق کی حمایت میں شر اور باطل و ظلم کی قوتوں سے نبرد آزمائی کو قرار دیتا ہے۔ اس طرح مولانا مودودی نے سیاست وقت کا رخ موڑ کر اسے اسلام کی سمت میں ڈالنے کی زبردست فکری کوششیں کیں اور ایسے نازک وقت میں کیں جب مغرب زدہ مسلمان اور غیر مسلم دونوں ہی ان پر شبہ اور حملہ کر سکتے تھے، اس لیے کہ اجتماعی امور میں اسلامی تصورات پورے انسانی سماج حتی کہ مسلم معاشرے میں بھی نامانوس اور اجنبی بن چکے تھے۔ چنانچہ یہ واقعہ ہے کہ عصر حاضر کے غالب رجحانات اور قوتوں کے ساتھ مولانا کی ناقابل مصالحت جنگ بالکل اسلامی بنیادوں پر شروع ہوگئی اور جیسے جیسے مولانا کے زیر قیادت تحریک اسلامی بڑھتی گئی ویسے ویسے یہ جنگ تیز تر ہوتی گئی۔ زندگی کے ہر موضوع پر مولانا نے فکری اجتہاد اور عملی جہاد دونوں کا حق ادا کر دیا۔ عصر حاضر میں اسلام کی تجدید مسلم معاشرے کی اصلاح اور عالم انسانیت میں ایک بنیادی اور ہمہ گیر انقلاب کے لیے مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اپنی زندگی کے آخری سانس تک وہ سب کچھ کرتے رہے جو ضروری اور ممکن تھا۔

مولانا نے اپنے وسیع لڑیچر میں اسلام کو ایک کامل نظریہ زندگی اور مکمل ضابطہ حیات کے طور پر مدلل اور موثر طریقے سے پیش کیا۔ اسلامی نظام زندگی کا نقشہ مرتب کرنے کے لیے انہوں نے ایمانیات، اخلاقیات، سیاسیات، سماجیات اور معاشیات کے تمام پہلوؤں پر اصولی بحث کی اور ایک ناقابل تردید بنیادی فکری مواد مهیا کردیا۔اسلامی عبادات پر ایک تحقیقی نظر ڈالنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے اسلامی ریاست کی تشکیل کا خاکہ بھی ترتیب دیا ”اسلام اور جاہلیت" کا فرق واضح کرتے ہوئے سلامتی کا راستہ" اور نشان راہ متعین کیا۔ اسلام کا سیاسی، اخلاقی اور معاشرتی نظریه بتاتے ہوئے ”انسان کا معاشی مسئلہ اور اس کا اسلامی حل" کی نشاندہی کی۔سور" جیسی مہتم بالشان کتاب لکھ کر دور حاضر کے پورے معاشی نظام کو چیلنج کیا اور اس کے مقابلے پر اسلام کی شکل میں ایک بہتر متبادل بھی باضابطہ پیش کیا "پردہ" جیسی تاریخی تصنیف کے ذریعہ مغربی نظام معاشرت کی دھجیاں اڑا دیں اور اس کے مقابلےمیں اسلامی نظام معاشرت کی برتری ثابت کر دی۔ خلافت و ملوکیت نے اسلام کے اس شورائی نظام کی تشریح کی جو مغرب کے ناقص جمہوری نظام کا نعم البدل ہو سکتا ہے ساتھ ہی اس نظام خلافت کے قیام و استحکام اور تحفظ و ترقی کے لیے ہر قسم کی ملوکیت اور آمریت کے خلاف جہاد کا ولولہ انگیز پیغام دیا۔ مولانا کا ایک نہایت اہم کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے عصر حاضر کے سب سےطاقتور الحادی نظریے اور فتنے اشتراکیت کو محض ایک سیاسی و معاشی تصور کے بجائے اس کی اصل فلسفیانہ شکل میں، اس کے تمام ذهنی مضمرات اور اخلاقی مضرات کےساتھ پیش کرکے اس نظریے کے تمام پول کھول دیے اور اسے بالکل برہنہ کر دیا۔ اس سلسلے میں مولانا نے یہ پتے کی بات بتائی کہ اشتراکیت بھی در حقیقت ایک دین باطل ہے اور اس کے فاسد عقائد افراد کے ساتھ ساتھ پوری قوم کو مسخ کر کے رکھ دیتے ہیں اور اس کی مجموعی شخصیت کو اتنا منحرف کر دیتے ہیں کہ اشتراکی جماعت ریاست اور معاشرت میں روٹی، کپڑا اور مکان کی افیون پلاکر انسانی ضمیر اور کردار کو بالکل فنا کر دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ محض حیوانی ضروریات کے مقاصد حاصل کرنےکے لیے ہر قسم کے غیر اخلاقی، غیرانسانی اور غیر فطری ذرائع اختیار کرنے کی پوری چھوٹ ہوتی ہے اور انفرادی و قومی سے عالمی و بین الاقوامی سطحوں تک اشتراکیت ہر اس فتنه و فساد اور ظلم و ستم اور بد عنوانی اور جرائم پیشی کو روا رکھتی ہے جو اشترا کی قیادت کے شخصی و گروہی و طبقاتی عزائم کے حصول میں موثر ثابت ہو سکے۔ مولانا مودودی کی اس تشریح نے نئی نسل کے تعلیم یافتہ مسلمانوں کو عام طور پر اشتراکیت کےفتنے سے محفوظ کر دیا۔ پھر مولانا نے اشتراکیت کی معاشی بنیادوں کو فکری طور پر منہدم کر کے ایک طرف تو یہ واضح کر دیا کہ اشتراکیت بھی دراصل سرمایہ داری ہی کی ایک شکل ہے اور بدترین شکل ہے۔ اس لیے کہ اس میں وسائل معیشت پر ریاست اور ریاست کے نام پر ایک محدود سے حکمران طبقے بلکہ بسا اوقات ایک ہی شخص کی اجارہ داری کا تصور پایا جاتا ہے۔ چنانچہ کسی اشتراکی ریاست کا سربراہ اپنے عوام و خواص کے سروں پر ایک فرعون نمرود اور شداد کی طرح مسلط ہو جاتا ہے اور گویا مخلوق خدا کے مقابلے میں ربوبیت اور رزاقیت کا مدعی ہوتا ہے، جبکہ دوسری طرف اسلامی نظام معیشت کے مثبت اور فلاحی عناصر کی تشریح کر کے مولانا نے اشتراکی معاشیات پر اسلامی معاشیات کی برتری بھی ثابت کر دی اور اس چیز نے اسلام پسندوں کے حوصلےبلند کر کے انہیں سوشلزم جیسے فیشن کی طرح پھیلتے ہوئے تصور کے مقابلے پر ایک زبردست اقدامی پوزیشن میں کھڑا کر دیا۔

ایک عظیم الشان فکری اجتہاد و جہاد کے ساتھ ساتھ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے اسلام کی علمبردار ملت اسلامیہ کو ہر جہت سے منظم ومستعد کرنے کے لیے مسائل حاضره کی ” تنقیات و تقسیمات سے آگے بڑھ کر دین کے اصل سرچشمے قرآن حکیم کی مبسوط تفسیر کی اور اسلامی معاشرت کے نمونہ کامل، سیرت رسول کو بھی مرتب کیا، نیز ہر قسم کی الجھنوں کو صاف کرنے کے لیے "رسائل ومسائل"کی جلدوں میں ان تمام سوالات کے جواب دیے جو جدید معاشرے میں ایک اسلام پسند کو پیش آتے ہیں۔اس کے علاوہ مولانا نے ”جماعت اسلامی" کے نام سے ایک ایسی فعال تنظیم تشکیل دی جو ایک متعین نظم و ضبط کے تحت ایک واضح منصوبے اور نقشہ کار کے ساتھ زندگی کے ہر محاذ پر تمام اور ہر قسم کے غیر اسلامی عناصر کا موثر مقابلہ کر کے نظام اسلامی کے غلبه ونفاذ کے لیے راہ هموار کرے۔ بلاشبہ جماعت اسلامی کی عملی جدوجہد نے مولانا مودودی کی شخصیت اور پیغام کو ان کی زندگی میں بعض اوقات اور پہلوؤں سے نزاعی بنا دیا جبکہ اگر مولانا نے اپنے آپ کو صرف تصنیف و تالیف اور وعظ و پند تک محدود رکھا ہوتا اور اپنے گرد تزکیہ نفس کا ایک حصار کھینچ کر محض ذکر و فکر کی کسی مسند پر بیٹھ جاتے تو ان کے بارے میں یا تو کبھی کوئی نزاع نہیں پیدا ہوتی یا تھوڑے ہی عرصے میں ختم ہو جاتی اور بالآخر وقت کے تمام علماء، صوفیاء، مشائخ اور اولیاء ان کو اپنا پیرو مرشد مان لیتے۔ لیکن مولانا مودودی کی دینی بصیرت و عزیمت نے اپنے لیے پیر طریقت کا آسان مگر بے اثر راستہ پسند واختیار نہیں کیا بلکہ ایک مجهتد مجدد اور مجاہد کی پُر خطر اور پراثر راہ شریعت پر گامزن ہونا طے کیا۔ وہ ایک مرد مومن تھے اور کش مکش زندگی سے گریزان کے لیے ممکن ہی نہ تھا وہ تو اٹھے ہی تھے عصرحاضر کے معرکہ فکر و عمل میں اسلام کو کفر کی صفوں کے مقابلے پر ایک موثر طاقت بنا کر کھڑا کرنے کے لیے تاکہ باطل کے بڑھتے ہوئے لشکر کی پیش قدمی روک کر حق کو فتح مند ہونے کا موقع دیں۔ ایمانی جرات و فراست کی اس مستقیم راہ میں مولانا مودودی نے ہر قسم کا خطرہ مول لیا، ہر طرح کا حملہ برداشت کیا، طرح طرح کی ناگواریوں اور مصیبتوں کو انگیز کیا، یہاں تک کہ اپنی جان کی بازی لگادی اور پھانسی کے تختے پر چڑھنے کے لیے تیار ہو گئے۔ اعلائے کلمتہ الحق کا یہ افضل جہاد عصر حاضر کے کسی اور صوفی ولی اور قطب نے بھی اس شان سے کیا ہے؟

مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کا مشن انکی زندگی میں پورا نہیں ہوا، جس ملک میں نظام اسلامی کے نفاذ کے لیے انہوں نے جان تک کی بازی لگا دی وہاں بھی اسلامی ریا ستکے قیام کی منزل ابھی نہیں آئی ہے اور نہ اسلامی معاشرہ بروئے عمل آسکا ہے۔ لیکن یہ ایک ایسے انسان کی حد عمل تھی جو زیادہ سے زیادہ اپنے وقت کا ایک مجدد تھا۔ قدرت الہی کی مشیت کو مولانا مودودی سے جو کام لیتا تھا وہ اس نے پورے طور سے اور بہت ہی موثر اور کامیاب انداز میں لے لیا۔ آج کی دنیا میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور انسانی معاشرے میں انقلاب کے آثار جہاں جہاں پائے جارہے ہیں ان کے پیچھے مولانا مودودی کی فکر اور ان کا لٹریچر نیز ان کا نمونہ عمل یقیناً کام کر رہا ہے۔ آج اگر اسلام ایک ابھرتی ہوئی قوت ہے اور اسلامی نظریہ و نظام ایک طرف مغربی جمہوریت اور امریکی سرمایہ داری کو اور دوسری طرف روسی یا عالمی اشتراکیت کو چیلنج کر رہا ہے تو یہ کارنامہ سب سے زیادہ اور سب سے بڑھ کر مولانا مودودی ہی کا ہے۔ آج اسلامی تحریک دنیا کے جس گوشے میں بھی کام کر رہی ہے اس کا بنیادی لٹریچر نظام فکر اور نقشه عمل مولانا مودودی کا ہی دیا ہوا ہے۔ دنیا کی اکثر زبانوں میں مولانا کی کتابوں کے ترجمے ہو چکے ہیں اور ہر جگہ ان کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ ہر ملک میں مسلمانوں کا ذہین طبقہ مولانا کو اپنا فکری رہنما سمجھتا ہے۔ نئی نسل انہیں اپنا پیشوا مانتی ہے اور عوام و خواص میں ان کے ساتھ عقیدت روز افزوں ہے۔ کئی ملکوں میں انقلاب اقتدار کے علمبرداروں نے مولانا کے فکر و عمل سے جذبہ حاصل کیا ہے۔ غیر مسلم دانشوروں کے درمیان مولانا کے تصورات کے متعلق تجنس بڑھتا جا رہا ہے اور دانش گاہوں میں ان کے پیغام اور کام پر تحقیقات ہونے لگی ہیں۔ مولانا مودودی کے محیط اثرات کی حدید ہے کہ غیر اسلامی دنیا میں اسلام اور مودودی گویا ایک دوسرے کے مترادف ہو گئے ہیں اور آج جس کسی کو اسلام کی مذمت نی ہوتی ہے وہ مولانا مودودی کی مذمت کرنا بھی ضروری سمجھتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ مو انا ابوالاعلیٰ مودودی اپنے فکر و تدبر اور اقدام و عمل کا جو عظیم ! کا جو عظیم الشان سرمایہ چھوڑ گئے ہیں وہ کسی ملک وملت اور قوم و فرقہ کی میراث نہیں، عصر حاضر کی پوری انسانیت کا بہترین اثاثہ اور دنیا کے مستقبل کے لیے ایک متاع گراں ہے۔ اس لیے کہ یہ اسلام کا وہ تاریخی ورثہ ہے جسے مولانا کے قلم اور اقدامات نے ہر قسم کے غبار وقت سے پاک کر کے اس کی اصلی و حقیقی اور فطری و مکمل شکل میں عصر حاضر کے سامنے تاریکیوں کے درمیان ایک روشن چراغ بنا کر رکھ دیا ہے اور آئندہ انسانیت کے قافلے ارتقا کی جو بھی منزلیں سر کریں گے اسی چراغ کی روشنی میں کریں گے ورنہ اندھیروں میں بھٹک کر نہ صرف منزل کا راستہ گم کر دیں گے بلکہ صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے۔ آج کی دنیا ایک دوراہے پر کھڑی ہے۔ یا تو اسلام کے صراط مستقیم پر گامزن ہو کر ارتقاء کی باقی اور بلند ترین منزلیں طے کرے یا غیر اسلامی نظریات کے چکر میں پھنسی ہوئی اپنی تمام مادی ترقیات کے ساتھ تباہی ہلاکت اور فنا کے غار میں جاگرے اور عصر حاضر کی انسانیت کے پاس تباہی وہلاکت اور فتا کے سوا بھی کوئی چارہ کار اسلام کی شکل میں ہے۔ یہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ نے ہی واضح کیا ہے۔

اقبال نے عصر حاضر میں انسانیت کی آفاتی نشاۃ ثانیہ کے لیے اسلام کے جس داعی اور علمبردار کی تمنا کی اس کی صفات انہوں نے جن اشعار میں بیان کی ہیں ان میں درج ذیل کا اضافہ کر کے ہم ان کا تجزیہ کریں تو جدید اسلامی قیادت کے عناصر ترکیبی کا تعین کر سکتے ہیں

مجاہدانہ حرارت رہی نہ صوفی میں
بہانہ ہے عملی کا بني شرابِ ا لست
قضیہ شهر بھی رہیانیت په ہے مجبور
کہ معر کے ہیں شریعت کے جنگ دست بدست
کریز کش مکش زندگی سے مردوں كا
اگر شکست نہیں ہے تو اور کیا ہے شکست
(شکست ،ضرب کلیم)

  • ا۔ عصر حاضر میں اسلامی قیادت کے منصب پر فائز ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ایک شخص بیک وقت قدیم وجدید اور دینی و دنیوی علوم کا جامع ہو۔
  • ٢- دینی اور دنیوی علوم سے اس کی واقفیت وسیع ، گہری اور مجتہدانہ ہو۔
  • ٣- وہ اپنے علم و ادراک، پر اعتماد کرکے فرسودہ اوہام کے ساتھ ساتھ جدید تخیلات کو بھی چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
  • ٤- وہ زندگی کے تمام شعبوں اور گوشوں میں قرآن وحدیث کے اساسی تصورات کو مسائل حاضرہ پر منطبق کر کے ہر مسئلے کا خالص اسلامی حل پیش کر سکے۔
  • ٥- اس کا طرز کلام واضح، قطعی، موثر اور اقدامی ہو۔
  • ٦- وہ ایک منتظم فکر اور ایک نظام تصورات پیش کرنے کی اہلیت رکھتا ہو۔
  • ٧- اس کا ذہن متوازن اور مرتب ہو اور وہ مختلف رجحانات کے اعلیٰ ذہنوں کو ایک مرکز پر جمع کر سکے۔
  • ٨- وہ شعور کی استقامت کے ساتھ کردار کی صلابت کا بھی حامل ہو-
  • ٩- وہ اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے ایک تنظیم قائم اور ایک تحریک برپا کر سکے-
  • ١٠- اس کی تحریک و تنظیم وقت کی غیر اسلامی قوتوں کے ساتھ پنجہ لڑاکر اپنی اخلاقی برتری ثابت کردیں۔

ان اوصاف کو سامنے رکھ کر انیسویں اور بیسویں صدیوں پر مشتمل عصر حاضر میں اگر ایک جامع الصفات قائد اسلام کی تلاش کی جائے تو مولانا ابوالاعلیٰ مودودی علیہ الرحمہ کے سوا کسی دوسری شخصیت پر نگاہ نہیں ٹھر سکے گی۔ واقعہ یہ ہے کہ ملت اسلامیہ کے زوال کا آغاز ہونے کے بعد سترھویں صدی سے بیسویں صدی تک جتنی تحریکیں مختلف مواقع اور مقامات پر تجدید و احیائے دین کے لیے ابھریں انکی علمبردار شخصیتوں کے تمام جداگانه اوصاف مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے شعور اور کردار میں نہایت اعتدال و توازن اور مکمل ترتیب و ترکیب کے ساتھ جمع ہو گئے تھے۔در حقیقت مولانا کا ذہن، پیغام اور عمل چار صدیوں کے بہترین اسلامی رجحانات و عناصر کا خلاصہ اور ان میں ایک زبردست اضافہ تھا۔ مولانا کی وفات چودہویں صدی ہجری کے خاتمے پر ہوئی ہے اور صاف نظر آرہا ہے کہ پندرہویں صدی ہجری میں عالمی سطح تحریک اسلامی کی جو پیش قدمیاں متوقع ہیں اور عمومی طور پر جو ایک عظیم آفاقی انقلاب رونما ہونے والا ہے اس کی قیادت مولانا مودودی کی فکر کرے گی۔ اور جدید تاریخ میں یہ شرف و امتیاز صرف علامہ اقبال کو حاصل ہوا کہ نہ صرف یہ کہ انہوں نے ایک ہمہ گیر فکری و عملی اسلامی قیادت کی نشاندہی کی بلکہ اپنی عمر کے بالکل آخری حصے میں مولانا مودودی کو حیدر آباد دکن سے پنجاب بلا کر اس قیادت کا مرکز بھی متعین کر دیا۔ چنانچہ مین تمی بنیادوں پر اقبال نے جس آفاقی انقلاب کی نغمہ سرائی کی تھی اس کے تمام اساسی تصورات کی تشکیل مولانا مودودی نے اپنی وفات سے قبل کر دی۔ جو شعاع امید اقبال کی شاعری میں آج کی دنیا کے لیے چمکی تھی اور جس نے عصر حاضر کی شب تاریک" کو "سحر" کرنے کا اشارہ کیا تھا بالآخر مولانا مودودی کے لڑیچر میں ایک آفتاب ہدایت بن کر طلوع ہوئی !

مشرق سے و بیزار نہ مغرب سے حذ ر کر
فطرت کا اشارہ ہے ہر شب کو سحر کر
(شعاع امید، ضرب کلیم)

اقبال نے ضرب کلیم کی ایک نظم میں مشرق و مغرب کی نہایت بلیغ اور فکر انگیز کردار نگاری اس طرح کی تھی

پخته افکار کہاں ڈھوند نے جائے کوئی
اس زمانے کی ہوا رکھتی ہے ہر چیز کو خام
مدرسه عقل کو آزاد تو کرتا ہے مگر
چھوڑ جاتا ہے خیالات کو ہے ربط و نظام
مرده ، لادینی ا فکارسے ا فرنگ میں عشق
عقل بے ربطی افکار سے مشرق میں غلام
(عصر حاضر، ضرب کلیم)

مشرق و مغرب کے اصل مرض کی بہترین تشخیص ان شعروں بالخصوص آخری شعر میں ہے۔ عصر حاضر کے یورپ اور امریکہ کی سب سے بنیادی اور بڑی کمزوری اور خامی یہی ہے کہ ان کے دانشوروں کے افکار کی لادینی نے ان براعظموں کے انسانوں کو عشق حقیقی کے سوزو گداز سے محروم کر کے انہیں عقل محض کی کٹھ پتلیاں اور ایک چوبی، مصنوعی اور مشینی وجود بنا دیا ہے، جبکہ ایشیا و افریقہ کی بیماری یہ ہے کہ اس خطہ زمین کے دانشوروں کے افکار و خیالات عام طور پر غیر منتظم ہیں اور اس انتشار ذہنی نے انہیں مغرب سے عقلی طور پر مرعوب اور مغربی فلسفوں کا بندہ بے دام بنا دیا ہےیہاں تک کہ بیسویں صدی کے دوسرے نصف کے آس پاس ایشیا و افریقہ کے ملکوں کی قومی آزادی اور سیاسی، استقلال بھی انہیں یورپ اور امریکہ کی ذہنی غلامی سے نجات نہیں دے سکا۔ اس فضا میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی منتظم فکر کا کمال اورکارنامہ یہ ہے کہ اس نے مغرب کی ذہنی برتری کا طلسم توڑ کر ایک طرف اہل مشرق کو اپنے شعور وکردار پر اعتماد کرنا سکھایا اور سب سے بڑھ کر اپنے دین وایمان بالخصوص اسلام کے ساتھ انکی وفاداری کو تازہ و مستحکم کر دیا، تاکہ مشرق کی عظیم روحانیت اور اخلاقیت مغرب کی مادیت کی اصلاح کر کے اس کے سائنسی و صنعتی وسائل کو صحیح انسانی خدمت اور ایک صالح معاشرہ کی تشکیل نیز ایک حقیقی فلاحی ریاست کی ترقی پر مرکوز کرا سکے ، جبکہ دوسری طرف خود اہل مغرب کے ضمیر کو بیدار ہونے کا موقع ملے اور ان کے اندر یہ احساس پیدا ہو کہ ارتقاء کے اگلے مدارج طےکرنے کے لیے "عقل" کو کسی " فرمان نظر" یعنی ہدایت وحی کا تابع کرنا ضروری ہےناکہ ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا اپنے انکار کی دنیا میں سفر کر سکے اور اپنی حکمت کے خم و پیچ" سے نکل کر انسانی و اخلاقی بنیادوں پر فیصلہ نفع و ضرر کرے اور اس طرح "سورج کی شعاعوں کو گر فتار" زندگی کی شب تاریک سحر کرنے کی بصیرت حاصل کرے۔ (زمانہ حاضر کا انسان“ ضرب کلیم)

انیسویں اور بیسویں صدی میں مغرب نے بڑے بڑے مفکرین اور مدبرین فلسفی سائنس دان، دانشور صنعت کار، رہنما، سیاست دان اور منتظم سلطنت پیدا کیے، جن کی کوششوں کے نتیجے میں یورپ اور امریکہ نے مادی، سیاسی اور معاشی و علمی ترقیات کی ارفع و اعلیٰ منزلیں طے کیں، یہاں تک کہ ان کی تہذیب اور تمدن پورمی دنیا پر غالب آگئے اور ان کے تصورات اور اقدامات کا سکہ روئے زمین کے ہر گوشے میں جاری ہو گیا۔ لیکن انہی ترقیات اور ان سے وابستہ قومی مفادات نے بیسویں صدی کی پہلی اور دوسری چوتھائی میں دو عظیم عالمی جنگیں برپا کر کے نہ صرف سلطنت مغرب کے زوال و افتاد کا سامان کر دیا بلکہ پوری دنیا کو روحانی انتشار نیز مادی تباہی کے خطرات سے دو چار کر دیا۔ آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت نے بلاشبہ مادہ پرستی کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا اور ایک نئی اور بہتر دنیا کے امکانات روشن کیے ، مگر اس نظریے کے مضمرات کو سمجھ کر بروئے عمل لانے کے بجائے مغرب کا فاسد ومفسد ذہن صرف زیادہ سے زیادہ ملک اور تباہ کن اسلحے اور اپنی سیاسی و معاشی طاقت وفوقیت کے اسباب صیا کرنے کی طرف مائل ہو گیا۔ برٹرینڈ رسل اور برنارڈشا جیسے دانشوروں نے جنگ بازی کے خطرات سے اہل مغرب کو متنبہ بھی کیا تو اس کا کوئی اثر نہیں ہوا اس لیے کہ کسی مغربی مفکر کے پاس صحیح وصالح منتظم فکر کا وہ اسلامی نسخہ کیمیا نہیں تھا جو اس " فرنگی معاشرت" کے "فساد" کو دور کر سکے جو در حقیقت ترقی یافتہ اور ن ترقی پذیر انسانوں اور قوموں کی تمام غلط اندیشیوں اور غلط کاریوں کا سرچشمہ تھا۔ اس صورت حال میں اشتراکیت کے نام سے جو نیا نظریہ مغربی دنیا میں ابھرا وہ صرف معاشی مساوات کا کھوکھلا نعرہ ہی بلند کر سکا، جبکہ انفرادی و اجتماعی زندگی کے دوسرے تمام اور اہم تر امور میں اس ناقص اور غیر فطری نظریے نے مغربی فکر و عمل کی تمام خامیوں اور خرابیوں کو د و چند بلکہ وہ چند کردیا۔ اس میں شبہ نہیں کہ چرچل روزويك مسولینی ہٹلر اور ڈیگال جیسے بیسویں صدی کے بڑے مغربی رہنماؤں کی طرح لینن اسٹالن اور ماؤ کو کوئی بنا بنایا نظام سیاست و ریاست نہیں ، بلکہ ان اشترا کی رہنماؤں کو کارل مارکس کے فلسفہ معیشت وسیاست کے تحت بالکل نئی قومی ریاستیں تشکیل دینی پرین اور اس مقصد کے لیے تحریکی و تنظیمی جدوجہد کرنی پڑی اور اس میں بھی شک نہیں کہ اشتراکی تصور اور اقتدار نے یورپ اور امریکہ کے فاسد سرمایہ دارانہ نظام کلیسائی فرسودہ اخلاق بوسیدہ مغربی نو آبادیت اور ظالم سامراجیت پر ایک کاری ضرب نگائی اور منفی طور پر ایک بہتر نظام کے لیے عصر حاضر کا میدان صاف کر دیا۔ مگر مغربی اور سرمایہ دارانہ تصور و اقتدار کی جگہ خود اشتراکیت نے جس متبادل نظام فکر و عمل کو دنیا میں رائج و نافذ کرنا چاہا اس نے متعلقہ ملکوں میں پوری پوری قوم کو بدترین غلامی اور درندگی کا شکار بنانے کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر ذلیل ترین سیاسی داؤ گھات لگا کر اقتدار وطاقت کے حصول کے لیے مکروہ ترین سازشیں اور ریشہ دوانیاں کیں، یہاں تک کہ اشترا کی مدبروں نے پورے عالم انسانیت کو محض شطرنج کی ایک بساط بنا دیا۔ واقعہ یہ ہے کہ نازی گیس چیمبر اور اشترا کی کنسٹریشن کیمپ بالکل ایک دوسرے کی نقل مطابق اصل ہیں، اس نمایاں اور بدتر فرق کے ساتھ کہ نازیت کے عذاب خانے صرف جرمن قوم کی یہودی اقلیت کے لیے تھے جبکہ اشتراکین کے جہنم کدے پوری روی اور چینی قوم پر مسلط کر دیے گئے۔

مولانا مودودی کا کام مارکس، لینن اور ماؤ سے زیادہ مشکل تھا۔ مارکس نے ایک انتہائی ترقی یافتہ اور روز بروز زیادہ سے زیادہ ترقی پذیر یورپ کی نئی تعمیر کے لیے اپنا فلسفہ و نظریہ پیش کیا۔ اس مقصد کے لیے وہ جرمنی سے انگلستان آیا جو اپنے وقت میں دنیا کی سب سے بڑی طاقت کی حیثیت سے ابھر رہا تھا اور تاج برطانیہ کے قلب میں بیٹھ کر اس نے ایک صنعتی اور کاروباری ملک کے سماج کو ایک نیا پیغام اور نظام دینا چاہا۔ اس نے وقت کی دوسری بڑی طاقت فرانس کو بھی اپنے انقلابی خیالات کی تجربہ گاہ بنانے کی کوشش کی اور وہیں اس کے سوشلزم نے کمیونزم کی شکل اختیار کی۔ اس کے بعد لینن نے بھی اشتراکیت کا تجربہ وقت کی ایک نہایت طاقتور شہنشاہیت زار شاہی کے مرکز میں کیا۔ ماؤ کو بلاشبہ ایک پس ماندہ اور غلام قوم کی ترقی کے ساتھ ساتھ آزادی کے لیے بھی جدوجہد کرنی پڑی، مگر آزادی کی جسم کا ایک بڑا حصہ ماؤ سےپہلے سن یاٹ سین اور چیانگ کای شیک جیسے قوم پرستوں نے سرکر لیا تھا اور مکمل قومی آزادی کے بعد ماؤ کو ایک ایسا مطلق اقتدار نئی قوم کی تعمیر کے لیے ملا نیز ایک کثیر آبادی اور زرخیز سرزمین کے اتنے وافر وسائل میسر آئے کہ اس کا کام بہت آسان ہو گیا۔ ان سب کے برخلاف مولانا مودودی نے ایک زوال پذیر ملت کی گود میں آنکھیں کھولیں اور ایک غلام ملک میں پروان چڑھے۔ انہیں ایک جامد سماج اور فرسوده و پوسیده انسانی برادری سے سابقہ پیش آیا وہ ایک منتشر، پس مانده اور کم زور قافلے کے مسافر تھے، انہیں اپنوں سے بھی لڑنا تھا اور غیروں سے بھی ان کے مقابلےپر ایک طرف دنیا کی ساری بڑی طاقتیں اپنی تمام ترقیادت اور زبردست وسائل کے ساتھ صف آراء تھیں تو دوسری طرف خود مسلم عوام و خواص نہ صرف یہ کہ ان کےپیغام اسلام سے نامانوس ہو چکے تھے بلکہ ان کے کام میں مزاحم تھے، جبکہ حالات کی ان تمام سختیوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے مولانا مودودی کے پاس مادی وسائل اور ذرائع تقریباً صفر تھے۔ لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ عصر حاضر میں :

آدم کو ثبات کی طلب ہے
دستور حیات کی طلب ہے

تو تمام بے سروسامانیوں اور باطل کی قہرمانیوں کے باوجود صرف اپنے ذہنی واخلاقی قومی کو لے کر میدان عمل میں آگئے اور یہ معرکہ آرا اعلان کر دیا :

دیں مسلک زندگی کی تقویم
دیں سر محمد و براهیم
(ایک فلسفہ زدہ سید زادے کے نام۔ ضرب کلیم)

اس اعلان کو عصر حاضر میں عالم اسلام کی سب سے بڑی تحریک بنانے کے لیےمولانا مودودی نے سب سے پہلے وقت کے تمام دماغوں سے اپیل کی اور ان کو قائل کرنے کے لیے ایک لاجواب، طاقتور اور پر اثر لٹریچر تصنیف کیا اس کے بعد باطل کی تمام قوتوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے انہوں نے ایک زبردست تنظیم "اسلامی“ کے نام سے تشکیل دی۔ پھر اپنی پوری عمر اور اپنے جسم وذہن کی ساری صلاحیتیں انہوں نے اس تحریک و تنظیم کو آگے برھانے میں صرف کر دیں، ہر قسم کی مادی محرومیوں اور روحانی اذیتوں کے درمیان تقریباً نصف صدی تک پوری یکسوئی اور انهماک کے ساتھ اپنا کام کرتے رہے۔ نہ صلے اور ستائش کی تمنا کی اور نہ بڑے سے بڑے خطرے اور سخت سے سخت سزاؤں سے ڈرے یہاں تک کہ جب ان کی وفات ہوئی تو دنیا نے دیکھا کہ مودودی کسی شخص کسی ادارے، بلکہ کسی جماعت کا نام نہیں ہے، ایک ہمہ گیر عالمی اور آفانی نشاۃ ثانیہ کے تیزی سے رائج ہوتے ہوئے سکے پر اس نام کی مہر لگی ہوئی ہے جو اس سکے کے لیے سب سے بڑی سند ہے-

مولانا مودودی کو اپنے تصورات کے تجربے کے لیے کوئی ملک نہیں ملا کوئی قوم ان کے پیغام کو لے کر کھڑی نہیں ہوئی، کسی حکومت کے اختیارات و وسائل ان کےنظریے کی خدمت میں نہیں لگے، خود وہ کسی منصب اقتدار پر فائز نہیں ہوئے، لیکن آج ہر ملک میں ان کے تصورات نفوذ کر چکے ہیں، ہر قوم پر ان کے پیغام کا اثر پڑا ہے، ہر حکومت ان کے نظریے پر توجہ دینے کے لیے مجبور ہے اور اقتدار کا ہر منصب ان کے تصورات، پیغام اور نظریے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے لرزہ براندام ہے یا پھر اس کے لیے آغوش قبولیت وا کئے ہوئے ہے۔ یہ حقیقت حال واضح کرتی ہے کہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کا کارنامہ عصر حاضر میں دنیا کے دوسرے تمام مفکرین، مدبرین اور قائدین سے بڑا بہت بڑا ہے۔ انہوں نےایک پورے دور کے غالب رجحان فکر اور طرز حیات کو چیلنج کر کے انسانی معاشرے میں عالمی سطح پر ایک بنیادی اور ہمہ گیر انقلاب کی دعوت خالص اسلامی نصب العین کے تحت دی اور نصف صدی کی فکری و عملی جد و جہد کے بعد دنیا کے ایک بڑے حصے میں کم از کم حالات کا رخ بدل دیا اور آج ایشیا افریقہ، یورپ اور امریکہ ہر جگہ ایسے ذہین اور فعال لوگوں کے حلقے پیدا ہو گئے ہیں جو مولانا مودودی کی روشن کی ہوئی راہ پر چل کر انسانیت کے قافلے کو ارتقا کی صحیح اور بلند ترین منزل تک لے جانےکے لئے کمربستہ اور کوشاں ہیں۔ عصر حاضر نے کئی انقلابات دیکھے ہیں مگر وہ سب کے سب جزوی علاقائی یا وقتی قسم کے تھے۔ ان کی بنیاد کمزور اور رخ غلط تھا۔ لیکن دنیا اب جو انقلاب دیکھنے والی ہے اور جس کے آثار طلوع سحر کی طرح نمایاں ہیں۔ وہ ایک کلی آفاقی اور پائیدار انقلاب ہو گا۔ مستحکم بنیاد پر اور صحیح رخ پر یہ وہ عظیم الشان انقلاب ہو گا۔ تاریخ انسانی کا آخری انقلاب جو ارتقائے حیات کو اس کی انتہائی منزل تک پہنچا دے گا۔ اس انقلاب کے نتیجے میں روئے زمین پر انسان کی خلافت کا دور مکمل ہو جائے گا۔ اور انسان روز اول سے اپنے سپرد کی ہوئی امانت خداوندی کا حق ادا کر کے آخرت کی ابدی زندگی کی طرف قدم بڑھائے گا۔ یہی وہ معراج انسانیت ہو گی جس کی طرف اشارہ خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں معراج کے عدیم النظیر واقعے سے کیا جا چکا ہے۔ یہ عالمی، آفاقی، کلی اور قطعی انقلاب دنیا کے تمام فلسفوں، نظریوں، مذہبوں اور نظاموں پر شریعت محمدی کی آخری فتح ہو گی اور بندوں کے ساتھ خدا کا یہ وعدہ پورا ہو گا۔ ۔ والتي أرسل رسوله بالهدى وَدِينِ الْحَقِّ لِيظهِرَهُ عَلَى الدِّينِ : الظهرة على الدين كلم (سورة الحجرات : ۲۸۰)

اللہ نے اپنے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ہدایت نامہ اور دین حق دے کر دنیا میں اس لیے بھیجا ہے کہ اپنے دین کو دوسرے تمام طریقوں پر غالب کر دے۔)

یہ اسلامی انقلاب اور اس کے نتیجے میں انسانیت کی نشاۃ ثانیہ بالکل اسی نقشے پر بروئے عمل آئے گی جس کو قرآن اور حدیث کی روشنی میں عصر حاضر کے سامنے پیش کرنے کا شرف اللہ تعالی نے مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کو عطا کیا۔

اس عظیم الشان کارنامے کے پیش نظر پورے وثوق اور اعتماد کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ مولانا مودودی عصر حاضر کا سب سے بڑا دماغ ہے۔ انہوں نے دوسرے تمام دماغوں سے بڑھ کر ایک ایسا مثبت، ہمہ جہت تعمیری اور موثر نقشہ عصر حاضر میں انسانیت کی تجدید اور صالح ارتقا کے لیے پیش کیا جس کا سرچشمہ رب العالمین کا کلام اور رحمت للعالمین کی سنت ہے۔ یہ در حقیقت اسلامی ذہن اور دینی فکر و نظر کی فوقیت ہے جس کا نقش مولانا مودودی کی تحریروں اور اقدامات نے جریدہ عالم پر ثبت کر دیا ہے۔ آج یہ دماغ، عصر حاضر کا بہترین دماغ اسلام کا عظیم ترین ذہن، جسمانی طور پر ہم سے رخصت ہو چکا ہے۔ اب اس کی شخصیت تاریخ کا ایک نمایاں جز بن چکی ہے لیکن اس کا پیغام اور کام ہمارے درمیان ایک امانت، توحید و رسالت کی امانت کےطور پر ہے، وہ امانت جو ہمارے سینوں میں موجود تو ہمیشہ رہی ہے مگر اسے زندہ و تازه کیا ، مولانا مودودی کے حکیمانہ و مجاہدانہ لٹریچر اور عمل نے۔ اس امانت کا حق ادا کرنا اور مولانا مودودی کے چھوڑے ہوئے کام کو پورا کرنا ایک دینی و ملی فریضہ ہے جو ہم پر اس خدا تعالی اور رسول کی طرف سے عاید ہوتا ہے جس کی وحدانیت و رسالت پر ہم ایمان لائے ہیں اور جس کے دین و شریعت کے ایک وفادار اور کارگزار خادم کی حیثیت سے مولانا مودودی نے عصر حاضر کی تاریخ میں وہ اعلیٰ مقام حاصل کیا ہے جس کی کوئی نظیر دور جدید میں نہیں پائی جاتی۔ وقت کے اس عظیم ترین مفسر، محدث، فقیہ سیرت نگار، مفکر، مدیر، مجاہد اور قائد کو ہمارا بہترین خراج عقیدت یہی ہو سکتا ہے کہ ہم اس کے مشن کی تکمیل میں دل و جان سے اپنی تمام ذہنی و جسمانی قوتوں کے ساتھ لگ جائیں اور مستقبل میں اسلامی انقلاب اور انسانی نشاۃ ثانیہ کو بروئے کار لانے کے لیے اپنے تمام وسائل داؤ پر لگا دیں۔

اس کی غزت بھی عمیق، اس کی محبت بھی عمیق
قمر بھی اس کا ہے اللہ کے بندوں پہ شفیق
پرورش پاتا ہے تقلید کی تاریکی میں !
ہے مگر اس کی طبیعت کا تقاضا تخلیق
انجمن میں بھی میسر رہی خلوت اس کو
شمع محفل کی طرح سب سے جدا سب کا رفیق
مثل خورشید سحر فکر کی تابانی میں !
بات میں سادہ آزاده معانی میں دقیق
اس کا انداز نظر اپنے زمانے سے جدا
اس کے کے احوال سے محرم نہیں پیران طریق
(مرد بزرگ ضرب کلیم)

ماخذ: سید مودودی مرد عصر و صورتگر مستقبل

پبلشرز: ادارہ ترجمان القرآن, ایڈیشن1

ایڈیشن:1

مصنف: ڈاکٹرعبدالمغنی

تاریخ اشاعت: Jan. 1, 1996

ریڈنگ کاؤنٹر: 50

ٹیگ: maududi