دین لغوی تحقیق: کلام عرب میں لفظ دین مختلف معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
(۱) غلبه و اقتدار، حکمرانی و فرمانروائی ، دوسرے کو اطاعت پر مجبور کرنا ، اس پر اپنی قوت قاہرہ (Sovereignty) استعمال کرنا ، اس کو اپنا غلام اور تابع امر بنانا ۔ مثلاً کہتے ہیں دَانَ النَّاسَ، أى فَهَرَهُمْ عَلَى الطَّاعَةِ (یعنی لوگوں کو اطاعت پر مجبور کیا ) دِنتَهُمْ قَدَانُوا أَي قَهَرْتُهُمُ فَأَطَاعُوا (یعنی میں نے ان کو مغلوب کیا اور وہ مطیع ہو گئے ) دِنْتُ الْقَوْمَ أَيْ ذَلَّلْتُهُم وَاسْتَعْبَدُتُهُمْ ( میں نے فلاں گروہ کو مسخر کر لیا اور غلام بنالیا ) دان الرجل اذا عز (فلان شخص عزت اور طاقت والا ہو گیا) دنت الرجل حملته على مايكره. (میں نے اس کو اپنے کام پر مجبور کیا جس کے لیے وہ راضی نہ تھا) ۔ دِینَ فَلانٌ إِذَا حَمَلَ عَلَى مَكْرَوُهِ (فلاں شخص اس کام کے لیے بزور مجبور کیا گیا)۔ ذنته ای سُسْتُهُ وَمَلَكْتُهُ (یعنی میں نے اس پر حکم چلایا اور فرمانروائی کی ) دَيَّنَتُهُ الْقَوْمَ وَلَّيْتُهُ سَيَاسَتَهُمُ (یعنی میں نے لوگوں کی سیاست و حکمرانی فلاں شخص کے سپردکردی) اسی معنی میں حلیہ اپنی ماں کو خطاب کر کے کہتا ہے:۔
حدیث میں آتا ہے اَلْكَيْسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمُوتِ یعنی عقل مندوه ہے جس نے اپنے نفس کو مغلوب کر لیا اور وہ کام کیا جور اس کی آخرت کے لیے نافع ہو۔ اسی معنی کے لحاظ سے دیان اس کو کہتے ہیں جو کسی ملک یا قوم یا قبیلے پر غالب و قاہر ہو اور اس پر فرماں روائی کرے۔ چنانچہ انشی الحرمازی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے کہتا ہے یا سید الناس و دیان العرب اور اس لحاظ سے مدین کے معنی غلام اور مدینہ کے معنی لونڈی ، اور ابن مدینہ کے معنی لونڈی زادے کے آتے ہیں۔ افضل کہتا ہے ربت و ربانی حجرها ابن مدينة اور قرآن کہتا ہے۔
(۲) اطاعت ، بندگی خدمت کسی کے لیے مسخر ہو جانا، کسی کے تحت امر ہونا ، کسی کے غلبہ و قہر سے دب کر اس کے مقابلہ میں ذلت قبول کر لینا۔ چنانچہ کہتے ہیں دنتهم فدانُوا انى فَهَرْتُهُمْ فَاطَاعُوا (یعنی میں نے ان کو مغلوب کر لیا اور و دلوگ مطیع ہو گئے ) دنتُ الرجل، ای خدمته (یعنی میں نے فلاں شخص کی خدمت کی ) حدیث میں آتا ہے کہ حضور نے فرمایا: اريد من قريش كَلِمَةً تَدين لهم بها العرب أى تُطِيعُهم وتخضع لهم " میں قریش کو ایک ایسے کلمہ کا ہیرو بنانا چاہتا ہوں کہ اگر وہ اسے مان لے تو تمام عرب اس کا بابع فرمان بن جائے اور اس کے آگے جھک جائے) اسی معنی کے لحاظ سے اطاعت شعار قوم کو قوم دین کہتے ہیں۔ اور اسی معنی میں دین کا لفظ حدیث خوارج میں استعمال کیا گیا ، يمرقون من الدين مروق السهم من الرمية -(1)
(۳) شریعت قانون ، طریقه ، کیش، دلت ، رسم و عادت ، مثلا کہتے ہیں ماذال ذالک دينِي وَوَيُدَنِي یعنی یہ ہمیشہ سے میرا طریقہ رہا ہے۔ يُقَالُ دَانَ، إِذَا أَعْدَادَ خَيْرًا وَشَرا يعنى آدمی خواہ برے طریقہ کا پابند ہو یا بھلے طریقہ کا، دونوں صورتوں میں اس طریقہ کو جس کا وہ پابند ہے دین کہیں گے ۔ حدیث میں ہے كَانَتْ قُرَيْسٌ وَمَنْ دَانَ بِدِيْنِهِمْ . " قریش اور وہ لوگ جو اُن کے مسلک کے پیرو تھے ۔ اور حدیث میں ہے انهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ عَلَى دِينِ قَوْمِهِ فی صلی اللہ علیہ وسلم نبوت سے پہلے اپنی قوم کے دین پر تھے۔ یعنی نکاح ، طلاق میراث اور دوسرے تمدنی و معاشرتی امور میں انہی قاعدوں اور ضابطوں کے پابند تھے جو اپنی قوم میں رائج تھے۔
(۴) اجراء عمل، بدلہ مکانات، فیصلہ محاسبہ، چنانچہ عربی میں مثل ہے کما ندین تدان، یعنی جیسا تو کرے گا ویسا بھرے گا، قرآن میں کفار کا یہ قول نقل فرمایا گیا ہے او نا لَمَدِينُونَ " کیا مرنے کے بعد ہم سے حساب لیا جانے والا ہے اور ہمیں بدلہ ملنے والا ہے"۔
عبد اللہ ابن عمر کی حدیث میں آتا ہے لَا تَسُبُّوا السلطنَ فِإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَقُولُوا اللَّهُمَّ دِنْهُمْ كما يدينون. اپنے حکمرانوں کو گالیاں نہ دو۔ اگر کچھ کہنا ہی ہو تو یوں کہو کہ خدایا جیسا یہ ہمارے ساتھ کر رہے ہیں ویسا ہی تو ان کے ساتھ کر ۔“ اسی معنی میں لفظ دیان بمعنی قاضی و حاکم عدالت آتا ہے۔ چنانچہ کسی بزرگ سے جب حضرت علی کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا کان دیان هذه الامة بعد نبيها یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وہ امت کے سب سے بڑے قاضی تھے ۔“
(1) اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ خوارج دین بمعنی ملت سے نکل جائیں گے۔ کیونکہ حضرت علی سے جب ان کے متعلق پوچھا گیا ۔ اَكْفَّارُهُمْ کیا یہ لوگ کافر ہیں؟ تو آپ نے فرمایا من الكفر فروا، کفر ہی سے تو وہ بھاگے ہیں۔ پھر پوچھا گیا المنافقون هم، کیا یہ منافق ہیں؟ آپ نے فرمایا منافق تو خدا کو کم یاد کرتے ہیں اور ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ شب و روز اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ اس پر یہ تعین ہوتا ہے کہ اس حدیث میں دین سے مراد اطاعت امام ہے۔ چنانچہ ابن اثیر نے نہایہ میں اس کے یہی معنی بیان کیے ہیں۔ اراد بالدین الطاعة، اى انهم يخرجون من طاعة الامام المفترض الطاعة وينسلخون منها. (جلد ۲ صفحه: ۴۱-۴۲)
قرآن میں لفظ دین:
انہی تصورات میں سے بھی ایک کے لیے اور بھی دوسرے کے لیے اہل عرب مختلف طور پر اس لفظ کو استعمال کرتے تھے مگر چونکہ ان چاروں امور کے متعلق عرب کے تصورات پوری طرح صاف نہ تھے اور کچھ بہت زیادہ بلند بھی نہ تھے اس لیے اس لفظ کے استعمال میں ابہام پایا جاتا تھا۔ اور یہ کسی با قاعدہ نظام فکر کا اصطلاحی لفظ نہ بن سکا۔ قرآن آیا تو اس نے اس لفظ کو اپنے منشا کے لیے مناسب پا کر بالکل واضح ومتعین مفہومات کے لیے استعمال کیا اور اس کو اپنی مخصوص اصطلاح بنا لیا۔ قرآنی زبان میں لفظ دین ایک پورے نظام کی نمائندگی کرتا ہے جس کی ترکیب چارا اجزاء سے ہوتی ہے۔
1-ان حاکمیت واقتدار اعلی 2 ۔ حاکمیت کے مقابلہ میں تسلیم واطاعت۔ 3- دو نظام فکر و عمل جو اس حاکمیت کے زیر اثر ہے ۔۔۔ مکافات جو اقتدار اعلیٰ کی طرف سے اس نظام کی وفاداری و اطاعت کے صلے میں یا سرکشی و بغاوت کی پاداش میں دی جائے۔
قرآن بھی لفظ دین کا اطلاق معنی اول و دوم پر کرتا ہے، بھی معنی سوم پر بھی معنی چہارم پر اور کہیں الدین بول کر یہ پورا نظام اپنے چاروں اجزاء سمیت مراد لیتا ہے۔ اس کی وضاحت کے لیے حسب ذیل آیات قرآنی ملاحظہ ہوں ۔
دین معنی اول و دوم :
"کہو، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ دین کو اللہ کے لیے خاص کر کے اس کی بندگی کروں اور مجھے حکم دیا گیا۔ ہے کہ سب سے پہلے میں خود سر اطاعت جھکاؤں کہو میں تو دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اس کی بندگی کروں گا۔ تم کو اختیار ہے اس کے سوا جس کی چاہو بندگی اختیار کرتے پھرو اور جولوگ طاغوت کی بندگی کرنے سے پر ہیز کریں اور اللہ کی ہی طرف رجوع کریں۔ ان کے لیے خوشخبری ہے۔"
"زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے اللہ کے لیے ہے اور دین خالصہ اسی کے لیے ہے۔پھر کیا اللہ کے سوا تم کسی اور سے تقویٰ کرو گے؟ (یعنی کیا اللہ کے سوا کوئی اور ہے جس کے حکم کی پھر کیا اللہ کے سوا تم کسی اور سے تقویٰ کرو گے؟ (یعنی کیا اللہ کے سوا کوئی اور ہے جس کے حکم کی خلاف ورزی سے تم بچھ گے اور جس کی ناراضی سے تم ڈرو گے؟)
ان تمام آیات میں دین کا لفظ اقتدار اعلیٰ اور اُس اقتدار کو تسلیم کر کے اُس کی اطاعت و بندگی قبول کرنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اللہ کے لیے دین کو خالص کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی حاکمیت، فرمانروائی ، حکمرانی اللہ کے سوا کسی کی تسلیم نہ کرے، اور اپنی اطاعت و بندگی کو اللہ کے لیے اس طرح خالص کر دے کہ کسی دوسرے کی مستقل بالذات بندگی واطاعت اللہ کی اطاعت کے ساتھ شریک نہ کرے ۔
دین بمعنی سوم :
" کہو کہ اے لوگو! اگر تم کو میرے دین کے بارے میں کچھ شک ہے (یعنی اگر تم کو صاف معلوم نہیں ہے کہ میرا دین کیا ہے ) تو لوسنو! میں ان کی بندگی و عبادت نہیں کرتا جن کی بندگی واطاعت تم اللہ کو چھوڑ کر کر رہے ہو، بلکہ میں اس کی بندگی کرتا ہوں جو تمہاری روحیں قبض کرتا ہے۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ان لوگوں میں شامل ہو جاؤں جو اس اللہ کے مانے والے ہیں، اور یہ ہدایت فرمائی گئی ہے کہ تو یکسو ہو کر اسی دین پر اپنے آپ کو قائم کر دے اور شرک کرنے والوں میں شامل نہ ہو۔“
1- یعنی اللہ کے سوا جس کی اطاعت بھی ہو اللہ کی اطاعت کے تحت اور اُس کے مقرر کر دہ حدود کے اندر ہو ۔ بیٹے کا باپ کی اطاعت کرنا، بیوی کا شوہر کی اطاعت کرنا ، غلام یا نوکر کا آقا کی اطاعت کرنا اور اسی نوع کی دوسری تمام اطاعتیں اگر اللہ کے حکم کی بنا پر ہوں اور ان حدود کے اندر ہوں جو اللہ نے مقرر کر دی ہیں تو یہ عین اطاعت الہی ہیں۔ اور اگر وہ اس سے آزاد ہوں، یا بالفاظ دیگر بجائے خود مستقل اطاعتیں ہوں، تو یہی عین بغاوت ہیں۔ حکومت اگر اللہ کے قانون پر مبنی ہے اور اس کا حکم جاری کرتی ہے تو اس کی اطاعت فرض ہے اور اگر ایسی نہیں ہے تو اس کی اطاعت جرم ۔
وَلَهُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ كُلٌّ لَّهُ قَانِتُونَ .... ضَرَب لَكُمْ مَّثَلَا مَنْ أنْفُسِكُمْ هَلْ لَّكُمْ مِنْ مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْ شُرَكَاءَ فِي مَا رَزَقْنَكُمْ فَانْتُمْ فِيهِ سَوَاءٌ تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمُ انْفُسَكُمْ بَلِ اتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَهْوَاءَ هُم بِغَيْرِ عِلْمٍ. فاقمُ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَةَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذلك الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ. (الروم:٢٦-٣٠)
“ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے سب اُسی کے مطیع فرمان ہیں وہ تمہیں سمجھانے کے لیے خود تمہارے اپنے معاملہ سے ایک مثال پیش کرتا ہے۔ بتاؤ یہ غلام تمہارے مملوک ہیں؟ کیا ان میں سے کوئی ان چیزوں میں جو ہم نے تمہیں دی ہیں تمہارا شریک ہے؟ کیا تم انہیں اس مال کی ملکیت میں اپنے برابر حصہ دار بناتے ہو ۔ کیا تم ان سے اپنے ہم چشموں کی طرح ڈرتے ہو؟ سچی بات یہ ہے کہ یہ ظالم لوگ علم کے بغیر محض اپنے تخیلات کے پیچھے چلے جارہے ہیں پس تم یکسو ہو کر اپنے آپ کو اس دین پر قائم کر دو۔ اللہ نے جس فطرت پر انسانوں کو پیدا کیا ہے اسی کو اختیار کرلو۔ اللہ کی بنائی ہوئی ساخت کو بدلا نہ جائے۔ یہی ٹھیک ٹھیک صحیح دین ہے۔ مگر اکثر لوگ نادانی میں پڑے ہوئے ہیں۔“
1- یعنی اللہ نے جس ساخت پر انسان کو پیدا کیا ہے وہ تو یہی ہے کہ انسان کی تخلیق میں ، اس کی رزق رسانی میں، اس کی ربوبیت میں خود اللہ کے سوا کوئی دوسرا شریک نہیں ہے نہ اللہ کے سوا کوئی اس کا خدا ہے نہ مالک اور نہ مطاع حقیقی ۔ پس خالص فطری طریقہ یہ ہے کہ آدمی بس اللہ کا بندہ ہو اور کسی کا بندہ نہ ہو۔
ان سب آیات میں دین سے مراد قانون، ضابطہ، شریعت، طریقہ اور وہ نظام فکر و عمل ہے جس کی پابندی میں انسان زندگی بسر کرتا ہے۔ اگر وہ اقتدار جس کی سند پر کسی ضابطہ ونظام کی پابندی کی جاتی ہے۔ خدا کا اقتدار ہے تو آدمی درمان خدا میں ہے۔ اگر وہ کسی بادشاہ کا اقتدار ہے تو آدمی دین بادشاہ میں ہے۔ اگر وہ پنڈتوں اور پروہتوں کا اقتدار ہے تو آدمی ان کے دین میں ہے۔ اور اگر وہ خاندان، برادری، یا جمہور قوم کا اقتدار ہے تو آدمی ان کے دین میں ہے۔ غرض جس کی سند کو آخری سند اور جس کے فیصلے کو منتہائے کلام مان کر آدمی کسی طریقے پر چلتا ہے اسی کے دین کا وہ پیرو ہے۔“
دین بمعنی چهارم:
دین ایک جامع اصطلاح:
یہاں تک تو قرآن اس لفظ کو قریب قریب انہی مفہومات میں استعمال کرتا ہے جن میں یہ اہل عرب کی بول چال میں مستعمل تھا۔ لیکن اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ وہ لفظ دین کو ایک جامع اصطلاح کی حیثیت سے استعمال کرتا اور اس سے ایک ایسا نظام زندگی مراد لیتا ہے جس میں انسان کسی کا اقتدار اعلیٰ تسلیم کر کے اس کی اطاعت و فرمانبرداری قبول کر لے، اس کے حدود وضوابط اور قوانین کے تحت زندگی بسر کرے، اس کی فرمانبرداری پر عزت ، ترقی اور انعام کا امیدوار ہو اور اس کی نافرمانی پر کے تحت زندگی بسر کرے، اس کی فرمانبرداری پر عزت ، ترقی اور انعام کا امیدوار ہو اور اس کی نافرمانی پر پورے نظام پر حاوی ہو۔ موجودہ زمانہ کا لفظ ” اسٹیٹ کسی حد تک اس کے قریب پہنچ گیا ہے۔ لیکن ابھی اس کو دین کے پورے معنوی حدود پر حاوی ہونے کے لیے مزید وسعت درکار ہے۔
اس آیت میں دین حق اصطلاحی لفظ ہے جس کے مفہوم کی تشریح واضع اصطلاح جل شانہ نے پہلے تین فقروں میں خود کر دی ہے۔ ہم نے ترجمہ میں نمبر لگا کر واضح کر دیا ہے کہ لفظ دین کے چاروں مفہوم ان فقروں میں بیان کیے گئے ہیں اور پھر ان کے مجموعے کو دین حق سے تعبیر کیا گیا ہے۔
قرآن میں قصہ فرعون و موسیٰ کی جتنی تفصیلات آئی ہیں، ان کو نظر میں رکھنے کے بعد اس امر میں کوئی شبہ نہیں رہتا کہ یہاں دین مجرد "مذہب" کے معنی میں نہیں آیا ہے بلکہ ریاست اور نظام تمدن کے معنی میں آیا ہے۔ فرعون کا کہنا یہ تھا کہ اگر موسیٰ اپنے مشن میں کامیاب ہو گئے تو اسٹیٹ بدل جائے گا۔ جو نظام زندگی اس وقت فراعنہ کی حاکمیت اور رائج الوقت قوانین و رسوم کی بنیادوں پر چل رہا ہے وہ جڑ سے اکھڑ جائے گا اور اس کی جگہ یا تو دوسر انظام بالکل دوسری ہی بنیادوں پر قائم ہوگا یا نہیں تو سرے سے کوئی نظام قائم ہی نہ ہو سکے گا بلکہ تمام ملک میں بدنظمی پھیل جائے گی ۔ إن الدين عِندَ اللهِ الْإِسْلَامُ (آل عمران (۱۹)
پہلی دو آیتوں میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ کے نزدیک انسان کے لیے صحیح نظام زندگی صرف وہ ہے جو خود اللہ ہی کی اطاعت و بندگی (اسلام) پر چینی ہو۔ اس کے سوا کوئی دوسرا نظام، جس کی بنیاد کسی دوسرے مفروضہ اقتدار کی اطاعت پر ہو، مالک کائنات کے ہاں ہرگز مقبول نہیں ہے، اور فطرہ نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کہ انسان جس کا مخلوق ہملوک اور پروردہ ہے، اور جس کے ملک میں رعیت کی حیثیت سے رہتا ہے، وہ تو کبھی یہ نہیں مان سکتا کہ انسان خود اس کے سوا کسی دوسرے اقتدار کی بندگی واطاعت میں زندگی گزارنے اور کسی دوسرے کی ہدایات میں چلنے کا حق رکھتا ہے۔
تیسری آیت میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو اسی صحیح و بر حق نظام زندگی یعنی اسلام کے ساتھ بھیجا ہے اور اس کے مشن کی غایت یہ ہے کہ اس نظام کو تمام دوسرے نظاموں پر غالب کر کے دہے۔
چوتھی آیت میں دین اسلام کے پیروؤں کو حکم دیا گیا ہے کہ دنیا سے لڑو اور اس وقت تک دم نہ لو جب تک فتنہ یعنی ان نظامات کا وجود دنیا سے مٹ نہ جائے جن کی بنیاد خدا سے بغاوت پر قائم ہے۔ اور پورانظام اطاعت و بندگی اللہ کے لیے خالص نہ ہو جائے۔
پانچویں آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس موقع پر خطاب کیا گیا ہے جب کہ ۲۳ سال کی مسلسل جدوجہد سے عرب میں انقلاب کی تکمیل ہو چکی تھی، اسلام اپنی پوری تفصیلی صورت میں ایک اعتقادی وفکری، اخلاقی تعلیمی، تمدنی و معاشرتی اور معاشی و سیاسی نظام کی حیثیت سے عملاً قائم ہو گیا تھا، اور عرب کے مختلف گوشوں سے وفد پر وفد آ کر اس نظام کے دائرے میں داخل ہونے لگے تھے۔ اس طرح جب وہ کام تکمیل کو پہنچ گیا جس پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مامور کیا گیا تھا تو آپ سے ارشاد ہوتا ہے کہ اس کارنامے کو اپنا کارنامہ سمجھ کر فخر نہ کرنے لگنا، نقص سے پاک بے عیب ذات اور کامل ذات صرف تمہارے رب ہی کی ہے، لہذا اس کار عظیم کی انجام دہی پر اس کی تسبیح اور حمد وثنا کرو اور اس ذات سے درخواست کرد که مالک! اس ۲۳ سال کے زمانہ میں خدمت میں اپنے فرائض ادا کرنے میں جو خامیاں اور کوتاہیاں مجھ سے سرزد ہو گئی ہوں انہیں معاف فرمادے۔
| کتاب | قرآن کی چار بنیادی اصطلا حیں |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |