قرآن کی چار بنیادی اصطلا حیں

قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں

چار بنیادی اصطلاحیں اله، رَبُ ، عبادت اور دین سید ابوالاعلیٰ مودودی اسلامک پبلی کیشنز (پرائیویٹ) لمٹیڈ ٣- کورٹ سٹریٹ ،لوئر مال لاہور، پاکستان

( جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں)

نام کتاب : قرآن کی چار بنیادی اصطلاحی مصنف : مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اشاعت : ایڈیشن تعداد ٣٢ ٢١٠٠ جون ٢٠٠٣ء اہتمام پروفیسر محمد امین جاوید ( منیجنگ ڈائریکٹر ) اسلامک پبلی کیشنز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کورٹ سٹریٹ، لوئر مال، لاہور (پاکستان) فون 7248676-7320961 فیکس : 7314974 ویب سائٹ www.islamicpak.com.pk ای میل Islamicpak@hotmail.com info@islamicpak.com.pk مطبع : ایس بی پرنٹرز، لاہور قیمت : -/٤٥ روپے

فہرست مضامین کے

مقدمه : ٦ اصطلاحات اربعہ کی اہمیت : ٨ غلط فہمی کا اصل سبب : ٨ غلط فہمی کے نتائج : ١٠ الہ : ١١ لغوی تحقیق : ١١ اہل جاہلیت کا تصورالہ : ١٣ الوهیت کے باب میں ملاک امر : ١٨ قرآن کا استدلال : ١٩ رَبّ ٢٨ لغوی تحقیق : ٢٨ قرآن میں لفظ رب کے استعمالات : ٣٠ ریوبیت کا باب میں گمراہ قوموں کے تخیلات : ٣٣ قومِ نوح : ٣٣ قوم عاد : ٣٥ قوم ثمود : ٣٦ قوم ابراهیم ونمرود : ٣٨ قوم لوط ٤٣ قوم شعیب ٤٤ فرعون اور آل فرعون ٤٦ یہود و نصاری ٥٥ مشرکین عرب ٥٩ قرآن کی دعوت ٦٥ عبادت ٧٢ لغوی تحقیق ٧٢ لفظ ” عبادت" کا استعمال قرآن میں ٧٤ عبادت بمعنی غلامی و اطاعت ٧٤ عبادت بمعنی اطاعت ٧٦ عبادت بمعنی پرستش ٧٧ عبادت بمعنی بندگی واطاعت و پرستش ٨٠ لغوی تحقیق ٨٧ قرآن میں لفظ ”دین“ کا استعمال ٨٩ دین بمعنی اول و دوم ٨٩ دین بمعنی سوم ٩١ دین بمعنی چهارم ٩٣ دین ایک جامع اصطلاح ٩٤

عرض ناشر

بسم الله الرحمن الرحیم عرض ناشر امت مسلمہ کے زوال کے اسباب پر اگر غور کیا جائے تو اس میں سرِ فہرست یہ سبب نظر آئےگا کہ اس نے قرآنی تعلیمات کو فراموش کر دیا، اور اس کی انقلابی دعوت سے نا آشنا ہو گئی۔ آج اگر ہم قرآن مجید کو پڑھتے بھی ہیں تو اس کے معانی و مفہوم سے بے خبر ہو کر محض رسما ۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے دکھوں کا علاج اور ترقی کا زینہ دنیا بھر کے افکار و نظریات میں تلاش کرتے ہیں لیکن خود اس نسخہ شفا سے استفادہ نہیں کرتے یا استفادہ کی اہلیت نہیں رکھتے جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے نازل کیا ہے۔

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اس کتاب کو لکھ کر قرآن کی اس ہی انقلابی دعوت کو واضح کیا ہے۔ جس نے اونٹوں کی تکمیل پکڑنے والوں کو دنیا کا امام بنا دیا تھا اور اس کے ذریعے سےفہم قرآن کی راہ کو آسان بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مولانا موصوف کو علوم قرآنی میں جو گہری بصیرت عطا فرمائی ہے یہ کتاب اس کی پوری طرح آئینہ دار ہے۔

اس کتاب کی معنوی خوبیوں کے پیش نظر ہم اس کو آفسٹ کی حسین کتابت و طباعت سےمزین کر کے پیش کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ قارئین اس بلند پایہ کتاب کو اس شکل میں پسند فرمائیں گے۔ منیجنگ ڈائریکٹر اسلامک پبلی کیشنز (پرائیویٹ) لمٹیڈ ٣- کورٹ سٹریٹ ،لوئر مال روڈ لاہور

مقدمه

بسم اللہ الرحمن الرحیم مقدمه اله، رب، دین اور عبادت، یہ چار لفظ قرآن کی اصطلاحی زبان میں بنیادی اہمیت رکھتےہیں۔ قرآن کی ساری دعوت یہی ہے کہ اللہ تعالی ہی اکیلا رب والہ ہے،اس کے سوانہ کوئی اللہ ہےنہ رب، اور نہ الوہیت در بوبیت میں کوئی اس کا شریک ہے،لہذا اُسی کو اپنا الہ اور رب تسلیم کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی الہیت و ربوبیت سے انکار کر دو، اس کی عبادت اختیار کرو اور اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، اس کے لیے اپنے دین کو خالص کر لو اور ہر دوسرے دین کو رد کر دو-

وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لا إِله إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُون.(الانبیاء۔۲۵)

"ہم نے تم سے پہلے جو رسول بھی بھیجا ہے اس کی طرف یہی وحی کی ہے، کہ " میرے سوا کوئی الہ نہیں ہے لہذا میری عبادت کرو ۔"

وَمَا أُمِرُوْ إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَهَا وَاحِدًا لَا إِلَهُ إِلَّا هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ. (التوبہ ۳۱)

"اور ان کو کوئی حکم نہیں دیا گیا بجز اس کے کہ ایک ہی اللہ کی عبادت کریں۔ اس کے سوا کوئی الہ نہیں ہے، وہ پاک ہے اس شرک سے جو وہ کرتے ہیں“۔

إِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَاةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ (الانبياء -۹۲)

"یقینا تمہارا (یعنی تمام انبیاء کا) یہ گروہ ایک ہی گروہ ہے، اور میں تمہارا رب ہوں لہذا میری عبادت کرو۔“

قُلْ أَغَيْرَ اللهِ ابْغِى رَبًّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ. (انعام - ۱۶۵)

" کہو، کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں؟ حالانکہ وہی ہر چیز کا رب ہے۔“

فَمَن كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعَبَادَةِ رَبِّهِ اَحَدًا (كيف ۱۱۰)

"تو جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہے اُسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنےرب کی عبادت میں کسی اور کی عبادت شریک نہ کرے۔"

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أن اعْبُدُوا اللهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ . (نحل(٣٦)

"ہم نے ہر قوم میں ایک رسول اس پیغام کے ساتھ بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت کی عبادت سے پرهیز کرو"

افَغَيْرَ دینِ اللهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِى السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ (آل عمران (۸۳)

"تو کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں ، حالانکہ جتنی چیزیں آسمانوں اور زمین میں ہیں سب چارونا چار اُسی کی مطیع ہیں اور اسی کی طرف انہیں پلٹ کر جاتا ہے۔“

قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدُ اللهَ مُخْلِصًا له الدين. (زمر)

"اے نبی کہو کہ مجھے حکم دیا گیا ہےکہ اللہ کی عبادت کروں اپنے دین کو اس کےلیےخالص کرتےہوئے ۔“

إنَّ اللهَ رَبّى وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ هذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمَ (آل عمران (۵۱)

"اللہ ہی میرا رب بھی ہے اور تم سب کا بھی۔ لہذا اُسی کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے۔“

یہ چند آیات محض نمونہ کے طور پر ہیں۔ ورنہ جو شخص قرآن کو پڑھے گا وہ اول نظر میں محسوس کر لے گا کہ قرآن کا سارابیان انہی چار اصطلاحوں کے گرد گھوم رہا ہے۔ اس کتاب کا مرکزی خیال (Gentraldea) یہی ہے کہ:۔

اللہ رب اور الہ ہے۔ اور ربوبیت و البیت اللہ کے سوا کسی کی نہیں ہے۔ لہذا عبادت اُس کی ہونی چاہیے۔ اور دین خالصتہ اُسی کے لیے ہونا چاہیے۔

اصطلاحات اربعہ کی اہمیت: اب یہ ظاہر بات ہے کہ قرآن کی تعلیم کو سمجھنے کے لیے ان چاروں اصطلاحوں کا صحیح اور مکمل مفہوم سمجھنا بالکل نا گزیر ہے۔ اگر کوئی شخص نہ جانتا ہو کہ الہ اور رب کا مطلب کیا ہے؟ عبادت کی کیا تعریف ہے؟ اور دین کسے کہتے ہیں؟ تو دراصل اس کے لیے پورا قرآن بے معنی ہو جائے گا۔وہ نہ تو حید کو جان سکے گا، نہ شرک کو سمجھ سکے گا، نہ عبادت کو اللہ کے لیے مخصوص کر سکے گا، اور نہ دین ہی اللہ کے لیے خالص کر سکے گا۔ اسی طرح اگر کسی کے ذہن میں ان اصلاحوں کا مفہوم غیر واضح اور نا مکمل ہو تو اُس کے لیے قرآن کی پوری تعلیم غیر واضح ہوگی اور قرآن پر ایمان رکھنے کے باوجود اس کا عقیدہ اور عمل دونوں نامکمل رہ جائیں گے۔ وہ لا الہ الا اللہ کہتا رہے گا اور اس کے باوجود بہت سے ارباب من دون اللہ اس کے رب بنے رہیں گے۔ وہ پوری نیک نیتی کے ساتھ کہے گا کہ میں اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتا، اور پھر بھی بہت سے معبودوں کی عبادت میں مشغول رہے گا۔ وہ پورے زور کے ساتھ کہے گا کہ میں اللہ کے دین میں ہوں، اور اگر کسی دوسرے دین کی طرف اسے منسوب کیا جائے تو لڑنے پر آمادہ ہو جائے گا۔ مگر اس کے باوجود بہت سے دینوں کا قلاوہ اسکی گردن میں ہزار ہے گا۔ اس کی زبان سے کسی غیر اللہ کے لیے "الہ" اور "رب" کے الفاظ تو کبھی نہ نکلیں گے ہمگر یہ الفاظ جن معافی کے لیے وضع کیے گئے ہیں ان کے لحاظ سے اس کے بہت سے الہ اور ب ہوں گے اور اس بیچارے کو خبر تک نہ ہوگی کہ میں نے واقعی اللہ کے سوا دوسرے ارباب والہ بنارکھے ہیں۔ اس کے سامنے اگر آپ کہہ دیں کہ تو دوسروں کی عبادت کر رہا ہےاور دین میں شرک کا مرتکب ہو رہا ہے تو وہ پتھر مارنے اور منہ نوچنے کو دوڑے گا مگر عبادت اور دین کی جو حقیقت ہے اس کے لحاظ سے واقعی وہ دوسروں کا عابد اور دوسروں کے دین میں داخل ہوگا۔اور نہ جانے گا کہ یہ جو کچھ میں کر رہا ہوں یہ حقیقت میں دوسروں کی عیادت ہے اور یہ حالت جس میں مبتلا ہوں یہ حقیقت میں غیر اللہ کا دین ہے۔

غلط فہمی کا اصل سبب: عرب میں جب قرآن پیش کیا گیا اس وقت ہر شخص جانتا تھا کہ اللہ کے کیا معنی ہیں اور رب کسے کہتےہیں،کیونکہ یہ دونوں لفظ ان کی بول چال میں پہلےسےمستعمل تھےانہیں معلوم تھا کہ ان الفاظ کا اطلاق کس مفہوم پر ہوتا ہے،اس لیے جب ان سے کہا گیا کہ اللہ ہی اکیلا الہ اور رب ہےاور الوہیت در بوبیت میں کسی کا قطعاً کوئی حصہ نہیں، تو وہ پوری بات کو پا گئے۔ انہیں بلا کسی التباس داشتباہ کےمعلوم ہو گیا کہ دوسروں کے لیےکس چیز کی نفی کی جارہی ہے اور اللہ کے لیے کس چیز کو خاص کیا جارہا ہے۔جنہوں نےمخالفت کی یہ جان کرکہ غیر اللہ کی الوهیت و ربوبیت کےانکارسےکہاں کہاں ضرب پڑتی ہے، اور جو ایمان لائے وہ یہ سمجھ کر ایمان لائے کہ اس عقیدہ کو قبول کر کے ہمیں کیا چھوڑنا اور کیا اختیار کرنا ہوگا۔ اسی طرح عبادت اور دین کے الفاظ بھی ان کی بولی میں پہلے سے رائج تھے۔ ان کو معلوم تھا کہ عبد کسے کہتے ہیں، عبودیت کس حالت کا نام ہے، عبادت سے کونسا رویہ مراد ہے، اور دین کا کیا مفہوم ہے، اس لیے جب ان سے کہا گیا کہ سب کی عبادت چھوڑ کر صرف اللہ کی عبادت کرو، اور ہر دین سے الگ ہو کر اللہ کے دین میں داخل ہو جاؤ ، تو انہیں قرآن کی دعوت سمجھنے میں کوئی نام نہی پیش نہ آئی ۔ وہ سنتے ہی سمجھ گئے کہ یہ تعلیم ہماری زندگی کےنظام میں کس نوعیت کے تغیر کی طالب ہے۔

لیکن بعد کی صدیوں میں رفتہ رفتہ ان سب الفاظ کے وہ اصل معنی جونزول قرآن کے وقت سمجھے جاتے تھے، بدلتے چلے گئے یہاں تک کہ ہر ایک اپنی پوری وسعتوں سے ہٹ کر نہایت محدود بلکہ مہم مفہومات کے لیے خاص ہو گیا۔ اس کی ایک وجہ تو خالص عربیت کے ذوق کی کمی تھی ، اور دوسری وجہ یہ تھی کہ اسلام کی سوسائٹی میں جو لوگ پیدا ہوئےتھےان کےلیےالہ اور رب اور دین اور عبادت کےوہ معانی باقی نہ رہےتھےجو نزول قرآن کے وقت غیر مسلم سوسائٹی میں رائج تھےانہی دونوں وجوہ سےدور اخیر کی کتب لغت و تفسیر میں اکثر قرآن الفاظ کی تشریح اصل معانی لغوی کےبجائےان معانی سے کی جانے لگی جو بعد کے مسلمان سمجھتے تھے۔ مثلاً :-

لفظ الہ کہ قریب قریب بتوں اور دیوتاؤں کا ہم معنی بنا دیا گیا،رب کو پالنے اور پوسنے والےیا پروردگار کا مترادف ٹھہرایا گیا ، عبادت کے معنی ہو جا اور پرستش کے کیے گئے ،

دین کو دھرم اور مذہب اور (Religion) مقابلہ کا لفظ قرار دیا گیا۔

طاغوت کا ترجمہ بت یا شیطان کیا جائے گا۔

نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن کا اصل مدعا ہی بجھنا لوگوں کے لیے مشکل ہو گیا۔ قرآن کہتا ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو الہ نہ بناؤ، لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم نے بتوں اور دیوتاؤں کو چھوڑ دیا ہے لہذا قرآن کا منشا پورا کر دیا ، حالانکہ الہ کا مفہوم اور جن جن چیزوں پر عائد ہوتا ہے ان سب کو وہ اچھی طرح پکڑے ہوئے ہیں اور انہیں خبر نہیں کہ ہم غیر اللہ کو الہ بنارہے ہیں ۔ قرآن کہتا ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو رب تعلیم نہ کرو۔ لوگ کہتے ہیں کہ بے شک ہم اللہ کے سوا کسی کو پروردگار نہیں مانتے لہذا ہماری توحید مکمل ہو گئی، حالانکہ رب کا اطلاق اور جن مفہومات پر ہوتا ہے ان کے لحاظ سے اکثر لوگوں نے خدا کے بجائے دوسروں کی ربوبیت تسلیم کر رکھی ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ طاغوت کی عبادت چھوڑ دو اور صرف اللہ کی عبادت کرو ۔لوگ کہتے ہیں کہ ہم بتوں کو نہیں پوجتے ، شیطان پر لعنت بھیجتے ہیں،اور صرف اللہ کو سجدہ کرتےہیں،لہذا ہم نےقرآن کی یہ بات بھی پوری کر دی،حالانکہ پتھر کےبتوں کےسوا دوسرے طاغوتوں سےوہ چھٹےہوئےہیں اور پرستش کےسوا دوسری قسم کی تمام عبادتیں انہوں نےاللہ کے بجائے غیر اللہ کے لیے خاص کر رکھی ہیں۔ یہی حال دین کا ہے کہ اللہ کے دین کو خالص کرنے کا مطلب صرف یہ سمجھا جاتا ہے کہ آدمی مذہب اسلام قبول کر لے اور ہند و یا عیسائی یا یہودی نہر ہے۔ اس بنا پر ہر وہ شخص جو مذہب اسلام میں ہےیہ سمجھ رہا ہےکہ میں نےاللہ کےدین کو خالص کر رکھا ہے ، حالانکہ دین کےوسیع تر مفہوم کے لحاظ سےاکثریت ایسے لوگوں کی ہے جن کا دین اللہ کے لیے خالص نہیں ہے۔

غلط فہمی کے نتائج: بس یہ حقیقت ہےکہ محض ان چار بنیادی اصطلاحوں کےمفہوم پر پردہ پڑ جانےکی بدولت قرآن کی تین چوتھائی سے زیادہ تعلیم ، بلکہ اس کی روح نگاہوں سے مستور ہو گئی ہے، اور اسلام قبول کرنے کے باوجود لوگوں کے عقائد و عمال میں جو نقائص نظر آ رہے ہیں ان کا ایک بڑا سبب یہی ہے۔ لہذا قرآن مجید کی مرکزی تعلیم اور اس کے حقیقی مدعا کو واضح کرنے کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ ان اصطلاحوں کی پوری پوری تشریح کی جائے۔

اگر چہ میں اس سے پہلے اپنے متعدد مضامین میں ان کے مفہوم پر روشنی ڈالنے کی کوشش کر چکا ہوں لیکن جو کچھ اب تک میں نے بیان کیا ہے وہ نہ تو بجائے خود تمام غلط فہمیوں کو صاف کرنےکے لیے کافی ہے، اور نہ اس سے لوگوں کو پوری طرح اطمینان حاصل ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس مضمون میں میں کوشش کروں گا کہ ان چار اصطلاحوں کا مکمل مفہوم واضح کر دوں، اور کوئی ایسی بات بیان نہ کروں جس کا ثبوت لغت اور قرآن سے نہ ملتا ہو۔

الہ

الہ لغوی تحقیق: اس لفظ کا مادہ ال ہ ہے۔ اس مادہ سے جو الفاظ لغت میں آئے ہیں ان کی تفصیل یہ ہے:۔ آلِهَ اذا تحیّر ، حیران وسرگشتہ ہوا۔

الِهتُ إلى فَلانِ آی سَكَنْتُ إِلَيْهِ . اس کی پناہ میں جا کر یا اس سے تعلق پیدا کر کے میں نے سکون و اطمینان حاصل کیا۔

آلة الرّجُلُ يَأْلَهُ إِذَا فَزِعَ مِنْ أَمْرٍ نَزَلَ بِهِ قَالَهَهُ غَيْرُهِ أَيْ أَجَارَهُ. آدمی کسی مصیبت یا تکلیف کے نزول سے خوف زدہ ہوا اور دوسرے نے اس کو پناہ دی۔

آلة الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلُ إِتَّجَهَ إِلَيْهِ لِشِدّةِ شَوْقِهِ إِلَيْهِ. آدمی نے دوسرے کی طرف شدت شوق کی وجہ سے توجہ کی۔

اله الْفَصِيلُ إِذَا وَلِهَ بِاتِهِ. اوٹنی کا بچہ جو اس سے بچھڑ گیا تھا ماں کو پاتے ہی اس سےچمٹ گیا۔

لَاةَ يَلِيْهُ لِيْهَا وَلَاهَا إِذَا احْتَجَبَ. پوشیدہ مستور ہوا ۔ نیز ارتفع یعنی بلند ہوا ۔إِله إِلهَةً وَالْوَهَةَ وَالْوَهِيَّةً عَبَدَ عبادت کی ۔

ان تمام معانی مصدر پر غور کرنےسے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ آلِهَ يَالَهُ الهَةً کےمعنی عبادت ( پرستش ) اور اللہ کے معنی معبود کس مناسبت سے پیدا ہوئے:۔

ا۔ انسان کےذہن میں عبادت کےلیےاولین تحریک اپنی حاجت مندی سےپیدا ہوتی ہےوہ کسی کی عبادت کا خیال تک نہیں کر سکتا جب تک اسےیہ گمان نہ ہو کہ وہ اس کی حاجتیں پوری کر سکتا ہے خطرات اور مصائب میں اسے پناہ دے سکتا ہے ، اضطراب کی حالت میں اسے سکون بخش سکتا ہے۔

٢- پھر یہ بات کہ آدمی کسی کو حاجت روا سمجھے اس تصور کے ساتھ لازم و ملزوم کا تعلق رکھتی ہے کہ وہ اسےاپنےسےبالاتر سمجھےاور نہ صرف مرتبہ کے اعتبار سے اس کی برتری تسلیم کرے،بلکہ طاقت اور زور کے اعتبار سے بھی اس کی بالا دستی کا قائل ہو ۔

٣- پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سلسلہ اسباب و علل کے تحت جن چیزوں سے بالعموم انسان کی ضروریات پوری ہوتی ہیں، اور جن کی حاجت روائی کا سارا عمل انسان کی آنکھوں کےسامنے یا اس کے حدود علم کے اندر واقع ہوتا ہے ان کے متعلق پرستش کا کوئی جذ بہ اس میں پیدا نہیں ہوتا مثلاً مجھے خرچ کے لیے روپے کی ضرورت ہوتی ہے، میں جا کر ایک شخص سےنوکری یا مزدوری کی درخواست کرتا ہوں، وہ میری درخواست کو قبول کر کے مجھے کوئی کام دیتا ہے اور اس کام کا معاوضہ مجھے دے دیتا ہے۔ یہ سارا عمل چونکہ میرے حواس اور علم کےدائرے کے اندر پیش آیا ہے اور میں جانتا ہوں کہ اس نے میری یہ حاجت کس طرح پوری کی ہے، اس لیے میرے ذہن میں اس کے لائق پرستش ہونے کا وہم تک نہیں گزرتا،پرستش کا تصور میرے ذہن میں صرف اسی حالت میں پیدا ہو سکتا ہے جبکہ کسی کی شخصیت یا اُس کی طاقت یا اس کی حاجت روائی واثر اندازی کی کیفیت پر راز کا پردہ پڑا ہوا ہو۔ اسی لیے معبود کے معنی میں وہ لفظ اختیار کیا گیا جس کے اندر رفعت کے ساتھ پوشیدگی اور حیرانی و سرگشتگی کا مفہوم بھی شامل ہے۔

٤- پھر جس کے متعلق بھی انسان یہ گمان رکھتا ہو کہ وہ احتیاج کی حالت میں حاجت روائی کر سکتا ہے، خطرات میں پناہ دے سکتا ہےاضطراب میں سکون بخش سکتا ہے،اس کی طرف انسان کا اشتیاق کے ساتھ توجہ کرنا ایک امر نا گزیر ہے۔

پس معلوم ہوا کہ معبود کے لیے الہ کا لفظ جن تصورات کی بنا پر بولا گیا وہ یہ ہیں۔ حاجت روائی، پناہ دہندگی ، سکون بخشی،بالاتری و بالا دستی ان اختیارات اور ان طاقتوں کا مالک ہونا جن کی وجہ سے یہ توقع کی جائےکہ معبود قاضی الحاجات اور پناہ دہندہ ہو سکتا ہے۔ اس کی شخصیت کا پر اسرار ہوتا یا منظر عام پر نہ ہوتا ۔ انسان کا اس کی طرف مشتاق ہوتا۔

اہل جاہلیت کا تصور الہ : اس لغوی تحقیق کے بعد ہمیں دیکھنا چاہیے کہ الوہیت کے متعلق اہلِ عرب اور اہم قدیمہ کےوہ کیا تصورات تھے جن کی تردید قرآن کرنا چاہتا ہے۔

(١) وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ الهَةً لِيَكُونُوا لَهُم عِزّاً. (مريم- ٨١)

"اور انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے الہ بنارکھےہیں تا کہ وہ ان کے کیے ذریعہ قوت ہوں (یا ان کی حمایت میں آکر وہ محفوظ رہیں)

وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ الهَةً لَّعَلَّهُمْ يُنْصَرُونَ (يس (۷۴)

"اور انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے اللہ بنالیے ہیں اس امید پر کہ ان کی مدد کی جائے گی (یعنی وہ الہ اُن کی مدد کریں گے ")

ان دونوں آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ جاہلیت جن کو الہ کہتےتھے ان کے متعلق وہ یہ سمجھتے تھے کہ وہ ان کے پشتیبان ہیں ، مشکلات اور مصائب میں ان کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کی حمایت میں وہ خوف اور نقصان سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔

(۲) فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمُ الهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ شَيْيٍّ لَمَّا جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ وَمَازَادُوهُمْ غَيْرَ تَتيب. (هود - ١٠١ )

” جب تیرے رب کے فیصلہ کا وقت آ گیا تو ان کے وہ الہ جنہیں وہ اللہ کے بجائے پکارا کرتے تھے ، ان کے کچھ بھی کام نہ آ سکے اور وہ ان کے لیے تباہی و ہلاکت کے سوا کسی اور چیز میں اضافہ کا سبب نہ بنے۔“

وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْنَاؤُهُمْ يُخْلَقُونَ أَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَاءٍ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ إِلَهُكُمُ الهُ وَاحِدٌ. (النحل: ٢٠-٢٢)

" اور اللہ کے بجائے جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کسی چیز کے بھی خالق نہیں ہیں بلکہ وہ خود مخلوق ہیں، مردہ ہیں نہ کہ زندہ، اور انہیں یہ بھی خبر نہیں ہے کہ انہیں کب دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔ تمہارا الہ تو ایک ہی الہ ہے۔"

لا تَدْعُ مَعَ اللهِ الهَا اخَرَ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ . (ص: ۸۸)

"اللہ کے ساتھ کسی دوسرے الہ کو نہ پکارو اس کے سوا کوئی الہ نہیں" ۔(١)

وَمَا يَتَّبِعُ الَّذِيْنَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ شُرَكَاءَ إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ (يونس: ٢٦)

"جو لوگ اللہ کے بجائے دوسرے شریکوں کو پکارتے ہیں وہ محض وہم پر چلتے ہیں اور نری نکلیں دوڑاتے ہیں۔

ان آیات سے چند امور پر روشنی پڑتی ہے۔ایک یہ کہ اہلِ جاہلیت جن کو الہ کہتے تھے،انہیں مشکل کشائی و حاجت روائی کے لیے پکارتے یا بالفاظ دیگر ان سے دُعا مانگتے تھے۔ دوسرے یہ کہ ان کے یہ الہ صرف جن یا فرشتے یا دیوتا ہی نہ تھے بلکہ وفات یافتہ انسان بھی تھے ، جیسا کہ اموات غَيْرُ أَحْيَاء وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُعْدُونَ سے صاف ظاہر ہوتا ہے۔ تیسرے یہ کہ ان انہوں کے متعلق وہ یہ گمان رکھتے تھے کہ وہ ان کی دعاؤں کو سنتے ہیں اور ان کی مدد کو پہنچنے پر قادر ہیں۔

یہاں دعا کے مفہوم اور اس امداد کی نوعیت کو ذہن نشین کر لینا ضروری ہے جس کی اللہ سےتوقع کی جاتی ہے۔ اگر مجھے پیاس لگتی ہے اور میں اپنے خادم کو پانی لانے کے لیے پکارتا ہوں، یا اگر میں بیمار ہوتا ہوں اور علاج کےلیےڈاکٹر بلاتا ہوں، تو اس پر نہ دعا کا اطلاق ہوتا ہے اور نہ اس کےمعنی خادم یا ڈاکٹر کوالہ بنانےکے ہیں۔ کیونکہ یہ سب کچھ سلسلہ اسباب کے تحت ہے نہ کہ اس سے مافوق لیکن اگر میں پیاس کی حالت میں یا بیماری میں خادم یا ڈاکٹر کو پکارنےکےبجائے ولی یا کسی دیوتا کوپکارتا ہوں تو یہ ضرور اس کو الہ بناتا ہےاور اس سے دعا مانگنا ہے،کیونکہ جو ولی صاحب مجھ سے سینکڑوں میل دور کسی قبر میں آرام فرما رہےہیں،ان کو پکارنےکےمعنی یہ ہیں کہ میں ان کو سمیع و بصیر سمجھتا ہوں اور یہ خیال رکھتا ہوں کہ عالم اسباب پر ان کی فرمانروائی قائم ہےجس کی وجہ سےوہ مجھ تک پانی پہنچانے یا میری بیماری کو دور کر دینے کا انتظام کر سکتے ہیں علی ہذا القیاس ایسی حالت میں کسی دیوتا کو پکارنے کے معنی یہ ہیں کہ پانی یا صحت یا مرض پر اس کی حکومت ہے اور وہ الطبعی طور پر میری حاجت پوری کرنے کے لیے اسباب کو حرکت دے سکتا ہے۔ پس اللہ کا وہ تصور جس کی بنا پر دعا مانگی جاتی ہے،لامحالہ ایک فوق الطبیعی اقتدار ( Supeinatural Authority) اور اس کے ساتھ ہی فوق الطبیعی قوتوں کے مالک ہونے کا تصور ہے۔

١- یہاں یہ امر پیش نظر رہے کہ قرآن میں لفظ الہ دونوں معنوں میں مستعمل ہوتا ہے۔ ایک وہ معبود جس کی فی الواقع عبادت کی جارہی ہو قطع نظر اس کے کہ حق ہو یا باطل۔ دوسرے وہ معبود جو در حقیقت عبادت کا مستحق ہو۔ اس آیت میں اللہ کا لفظ دو جگہ انہی دو الگ الگ معنوں میں استعمال ہوا ہے۔

(٣) وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا مَا حَولَكُمْ مِنَ الْقُرَى وَصَرَّفْنَا الْآيَتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ. فلَوْلا نَصَرَهُمُ الَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللهِ قُرْبَانًا، الِهَةً ، بَلْ ضَلُّوا عَنْهُمْ وَذَالِكَ افْكُهُمْ وَمَا كَانُوا يَفْتَرُونَ (احقاف ۲۷-۲۸)

"تمہارے ارد گرد جن بستیوں کے آثار ہیں ان کو ہم ہلاک کر چکے ہیں ۔ انہیں ہم نے بار بار بدل کر اپنی نشانیاں دکھائی تھیں تا کہ وہ رجوع کریں تو جن کو انہوں نے تقرب کا ذریعہ سمجھ کر اللہ کے سوا اپنا اللہ بنایا تھا۔ انہوں نے نزول عذاب کے وقت کیوں نہ ان کی مدد کی؟ مد دتو در کنار وہ تو انہیں چھوڑ کر غائب ہو گئے۔ یہ تھی حقیقت ان کے جھوٹ اور ان کی من گھڑت باتوں کی ۔"

وَمَالِيَ لَا أَعْبُدُ الَّذِي فَطَرَنِي وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ. وَ اتَّخِذُ مِنْ دُونِهِ آلِهَةً إِنْ يُرِدْنِ الرَّحْمَنُ بِضُرٍ لَّا تُغْنِ عَنِّى شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا وَلَا يُنْقِذُونَ. (يس:۲۲-۲۳)

" کیوں نہ میں اس کی عبادت کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور جن کی طرف تم سب کو پلٹنا ہے؟ کیا اس کے سوا میں ان کو الہ بناؤں جن کا حال یہ ہے کہ اگر رحمن مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو ان کی سفارش میرے کچھ کام نہیں آسکتی اور وہ مجھے چھڑا نہیں سکتے ۔

وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ مَا تَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللهِ زُلْفَى إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِيْمَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ (الزمر:٣)

"اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے حامی و کارساز بنارکھے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو ان کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ ہمیں وہ اللہ سے قریب کر دیں، اللہ ان کے درمیان اس معاملہ کا فیصلہ (قیامت کے روز ) کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔“

وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُون اللَّهِ مَالَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِندَ اللهِ. (يونس: ۱۸)

"وہ اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کوضرر پہنچانے پر قادر ہیں نہ نفع ، اور کہتےہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔“

ان آیات سےچند مزید باتوں پر روشنی پڑتی ہے۔ان سےمعلوم ہوتا ہےکہ اہل جاہلیت اپنےانہوں سےمتعلق یہ نہیں سمجھتےتھےکہ ساری خدائی انہی کےدرمیان تقسیم ہوگئی ہےاور ان کےاوپر کوئی خداوند اعلیٰ نہیں ہے۔وہ واضح طور پر ایک خداوند اعلیٰ کا تصور رکھتے تھےجس کے لیے ان کی زبان میں اللہ کا لفظ تھا،اور دوسرے انہوں کے متعلق ان کا اصل عقیدہ یہ تھا کہ اس خداوند اعلیٰ کی خدائی میں ان انہوں کا کچھ دخل اور اثر ہے، ان کی بات مانی جاتی ہے، ان کے ذریعہ سےہمارے کام بن سکتے ہیں، ان کی سفارش سے ہم نفع حاصل کر سکتے ہیں اور نقصانات سے بچ سکتےہیں۔ انہی خیالات کی بنا پر وہ اللہ کےساتھ ان کو بھی الہ قرار دیتے تھے۔ لہذا ان کی اصطلاح کےمطابق کسی کو خدا کے ہاں سفارشی قرار دے کر اس سے مدد کی التجا کرنا اور اس کے آگے مراسم تعظیم و تکریم بجالانا اور نذرو نیاز پیش کرنا اس کو الہ بناتا ہے۔

(٤) وَقَالَ اللَّهُ لَا تَتَّخِذُوا الهَيْنِ اثْنَيْنِ إِنَّمَا هُوَ إِلَهُ وَاحِدٌ ، فَإِيَّايَ فَارُهَبُون. (انحل:۵۱)

"اللہ فرماتا ہے کہ دوالہ نہ بناؤ ، الہ تو ایک ہی ہے۔ لہذا تم مجھی سے ڈرو"۔

وَلَا أَخَافُ مَاتُشْرِكُونَ بِهِ إِلَّا أَنْ يُشَاءَ رَبِّي شَيْئًا. (انعام: ۸۰)

"اور ابراہیم نے کہا کہ میں ان سے ہرگز نہیں ڈرتا جنہیں تم خدا کا شریک ٹھہراتے ہو ۔ الا یہ کہ میرا رب ہی کچھ چاہے تو وہو البتہ ہو سکتا ہے۔“

اِنْ نَّقُولُ إِلَّا اعْتَراكَ بَعْضُ الهَتِنَا بِسُوءٍ. (هود: ۵۴)

"بود (علیہ السلام) کی قوم کے لوگوں نے اس سے کہا کہ ہم تو کہتے ہیں کہ تجھ پر ہمارےانہوں میں سے کسی کی مار پڑی ہے۔“

ان آیات سے معلوم ہوا کہ اہلِ جاہلیت اپنے انہوں سے یہ خوف رکھتے تھے کہ اگر ہم نےان کو کسی طرح ناراض کردیا، یا ان کی تو جہات و عنایات سے محروم ہو گئے تو ہم پر بیماری قحط ، نقصان جان و مال اور دوسری قسم کی آفات نازل ہو جائیں گی۔

١- یہاں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ سفارشیں دو قسم کی ہیں ۔ ایک وہ جو کسی نہ کسی نوع کے زور واثر پر بنی ہو اور بہر حال منوا کر ہی چھوڑی جائے ۔ دوسری وہ جو محض ایک انتجا اور درخواست کی حیثیت میں ہو اور جس کےپیچھے کوئی منوا لینے کا زور نہ ہو پہلے مفہوم کے لحاظ سےکسی کو شفیع یا سفارشی سمجھنا اسے الہ بنانا اور خدائی میں اللہ کا شریک ٹھہراتا ہے۔اور قرآن اسی شفاعت کی تردید کرتا ہے۔ رہا دوسرا مفہوم،تو اس لحاظ سے انبیاء ملائکہ صلحا ،، اہل ایمان اور سب بندے دوسرے بندوں کے حق میں شفاعت کر سکتے ہیں اور خدا کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ کسی کی شفاعت قبول کرے یا نہ کرے ۔ قرآن اس شفاعت کا اثبات کرتا ہے۔

(۵) اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَهَا وَاحِدًا لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ . (التوب: ۳۱)

"انہوں نے اپنے علماء اور راہیوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنالیا، اور مسیح ابن مریم کو بھی رب ٹھہرایا ، حالانکہ انہیں صرف ایک اللہ کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا، جس کے سوا کوئی اور الہ نہیں ہے۔“

ارَأَيْتَ مَن اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ أفَانتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَكِيلًا. (الفرقان - ۴۳)

" تیرا کیا خیال ہے اس شخص کے متعلق جس نے اپنی خواہش نفس کو الہ بنالیا ہے؟ کیا تو اس کی ذمہ داری لے سکتا ہے؟“

وَ كَذلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيرِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَتَلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَاؤُهُمْ. (انعام:۱۳۷)

"اس طرح بہت سے مشرکوں کے لیے ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں (یعنی شرکاء فی الالوہیت ) نے اپنی اولاد کوقتل کرنے کا فعل خوشنما بنا دیا ہے ۔“

أمْ لَهُمْ شُرَكَوَها شَرَعُوا لَهُمْ مِّنَ الذِيْن مَالَمْ يَأْذَنَ بِهِ اللهُ. (الشوری: ۲۱)

” کیا وہ ایسے شرکاء ( یعنی شرکاء فی الالوہیت ) رکھتے ہیں جنہوں نے ان کے لیے از قسم دین ایسی شریعت مقرر کی ہے جس کی اجازت اللہ نے نہیں دی۔“

ان آیات میں اللہ کا ایک اور مفہوم ملتا ہے جو پہلے مفہومات سے بالکل مختلف ہے۔ یہاں فوق الطبعی اقتدار کا کوئی تصور نہیں ہےجس کو الہ بنایا گیا ہے وہ یا تو کوئی انسان ہےیا انسان کا اپنا نفس ہے۔ اور الہ اس کو اس معنی میں نہیں بنایا گیا ہےکہ اس سےدعا مانگی جاتی ہو یا اسے نفع و نقصان کا مالک سمجھا جاتا ہو،اور اس سےپناہ ڈھونڈی جاتی ہو۔بلکہ وہ الہ اس معنی میں بنایا گیا ہے کہ اس کے حکم کو قانون تسلیم کیا گیا، اس کے امر و نہی کی اطاعت کی گئی ، اس کے حلال کو حلال اور اس کےحرام کو حرام مان لیا گیا،اور یہ خیال کر لیا گیا ہےکہ اس کو بجائےخود حکم دینےاور منع کرنے کا اختیار حاصل ہے، کوئی اور اقتدار اس سے بالا تر نہیں ہے جس کی سند لینے اور جس سے رجوع کرنے کی ضرورت ہو۔

پہلی آیت میں علماء اور راہبوں کو الہ بنانے کا ذکر ہے۔ اس کی واضح تشریح ہم کو حدیث میں ملتی ہے۔حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نےجب اس آیت کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےسوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ جس چیز کو تمہارے علماء اور راہیوں نے حلال کیا اسے تم لوگ حلال مان لیتے تھے، اور جسے حرام قرار دیا اسے تم حرام تسلیم کر لیتے تھے اور اس بات کی کچھ پروانہ کرتےتھے کہ اللہ کا اس بارے میں کیا حکم ہے۔

رہی دوسری آیت تو اس کا مطلب بالکل واضح ہے کہ جو شخص اپنی خواہش نفس کی اطاعت کرتا ہو اور اس کے حکم کو بالا تر رکھتا ہو وہ دراصل اپنے نفس ہی کو اپنا الہ بنائے ہوئے ہے۔

اس کے بعد والی دونوں آنتوں میں اگر چہ انہ کے بجائے شریک کا لفظ آیا ہے، مگر جیسا کہ ہم نے ترجمہ میں واضح کیا ہے،شریک سےمراد البہیت میں شریک ٹھہرانا ہے۔اور یہ دونوں آیتیں صاف فیصلہ کرتی ہیں کہ جو لوگ اللہ کے حکم کی سند کے بغیر کسی کے مقرر کیے ہوئے رواج یا ضابطہ یا طریقہ کو جائز قانون سمجھتے ہیں وہ اس قانون ساز کو الہیت میں خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں۔

اُلوہیت کے باب میں ملاک آمر الہ کے یہ جتنے مفہومات او پر بیان ہوئے ہیں ان سب کے درمیان ایک منطقی ربط ہے۔ جو شخص فوق الطبعی معنی میں کسی کو اپنا حامی و مددگار مشکل کشا اور حاجت روا، دعاؤں کا سنے والا اور نفع یا نقصان پہنچانے والا سمجھتا ہے۔اس کے ایسا سمجھنےکی وجہ یہ ہےکہ اس کے نزدیک وہ ہستی نظام کائنات میں کسی نہ کسی نوعیت کا اقتدار رکھتی ہے۔ اس طرح جو شخص کسی سے تقویٰ اور خوف کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ اس کی ناراضی میرے لیے نقصان کی اور رضامندی میرے لیے فائدے کی موجب ہےاس کےاس اعتقاد اور اس عمل کی وجہ بھی اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اپنے ذہن میں اس بستی کےمتعلق ایک طرح کے اقتدار کا تصور رکھتا ہے۔ پھر جو شخص خداوند اعلیٰ کے ماننے کے باوجود اس کے سوا دوسروں کی طرف اپنی حاجات کے لیے رجوع کرتا ہے اس کے اس فعل کی علت بھی صرف یہی ہے کہ خداوندی کے اقتدار میں وہ ان کو کسی نہ کسی طرح کا حصہ دار سمجھ رہا ہے۔ اور علی ہذا القیاس وہ شخص جو کسی کے حکم کو قانون اور کسی کے امر و نہی کو اپنے لیے واجب الاطاعت قرار بتا ہے وہ بھی اس کو مقتدر اعلیٰ تسلیم کرتا ہے۔ پس الوہیت کی اصل روح اقتدار ہے، خواہ وہ اقتدار اس معنی میں سمجھا جائے کہ نظام کائنات پر اس کی فرماں روائی فوق الطبیعی نوعیت کی ہے، یا وہ اس معنی میں تسلیم کیا جائے کہ دنیوی زندگی میں انسان اس کے تحت امر ہے اور اس کا حکم بذات خود واجب الاطاعت ہے۔

قرآن کا استدلال یہی اقتدار کا تصور ہے جس کی بنیاد پر قرآن اپنا سارا زور غیر اللہ کی البیت کے انکار اور صرف اللہ کی اہمیت کے اثبات پر صرف کرتا ہے۔ اس کا استدلال یہ ہے کہ زمین اور آسمان میں ایک ہی ہستی تمام اختیارات واقتدارات کی مالک ہے۔مطلق اس کی ہے نعمت اس کی ہے، امرای کا ہے، قوت اور زور بالکل اس کے ہاتھ میں ہے۔ ہر چیز چاروناچار اسی کی اطاعت کر رہی ہے،اس کے سوا نہ کسی کے پاس کوئی اقتدار ہے، نہ کسی کا حکم چلتا ہے، نہ کوئی خلق اور تدبیر اور انتظام کےرازوں سے واقف ہے اور نہ کوئی اختیارات حکومت میں ذرہ برابر شریک وحصہ دار ہے۔ لہذا اس کے سوا حقیقت میں کوئی الہ نہیں ہے، اور جب حقیقت میں کوئی دوسرا اللہ نہیں ہےتو تمہارا ہر وہ فعل جو تم دوسروں کو الہ سمجھتے ہوئے کرتے ہو، اصلا غلط ہے،خواہ وہ دعا مانگنے یا پناہ ڈھونڈنےکا فعل ہو،یا سفارشی بنانے کا فعل ہو، یا حکم ماننے اور اطاعت کرنے کا فعل ہو۔ یہ تمام تعلقات جو تم نےدوسروں سے قائم کر رکھے ہیں صرف اللہ کے لیے مخصوص ہونے چاہئیں، کیونکہ وہی اکیلا صاحب اقتدار ہے۔

اس باب میں قرآن جس طریقہ سے استدلال کرتا ہے وہ اس کی زبان سے سنیےوَهُوَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ إِلهُ وفِي الْأَرْضِ الهُ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْعَلِيمُ .(الزخرف: ۸۴)

"وہی ہے جو آسمان میں بھی الہ ہے اور زمین میں بھی الہ ہے، اور وہی حکیم اور علیم ہے ) یعنی آسمان وزمین میں حکومت کرنے کے لیے جس علم اور حکمت کی ضرورت ہے وہ اسی کے پاس ہے)

أفَمَنْ يُخْلُقُ كَمَنْ لَّا يَخْلُقُ أَفَلا تَذَكَّرُونَ . وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْا وَهُمْ يُخْلَقُونَ... الهكم إله واحِدٌ. (نحل: ۱۷-۲۳)

"تو کیا وہ جو پیدا کرتا ہے اور جو پیدا نہیں کرتا دونوں یکساں ہو سکتے ہیں؟ کیا تمہاری سمجھ میں اتنی بات نہیں آتی ؟ خدا کو چھوڑ کر یہ جن دوسروں کو پکارتے ہیں وہ تو کسی چیز کو بھی پیدا نہیں کرتے، بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں تمہارا اللہ تو ایک ہی الہ ہے۔“

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللَّهِ يَرْزُقُكُمْ مِنْ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ لَا إِله إِلَّا هُوَ فَاتَّى تُؤْفَكُونَ. (قاطر- ۳) "لوگو! تم پر اللہ کا جو احسان ہے اس کا دھیان کرو۔ کیا اللہ کے سوا کوئی دوسرا خالق ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہو؟ اس کے سوا کوئی الہ نہیں ہے۔ پھر تم کدھر بھٹکائے جارہے ہو؟“

قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ اللَّهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصَارَكُمْ وَخَتَمَ عَلَى قُلُوْبِكُم مِّنْ إِلَهُ غَيْرُ اللهِ يَأْتِيَكُمُ به. (انعام - ۴۶)

" کہو تم نے کبھی سوچا کہ اللہ تمہاری سنے اور دیکھنے کی قو تیں سلب کرنے اور تمہارے دلوں پر مہر کر دے ( یعنی عقل چھین لے ) تو اللہ کے سوا کونسا اللہ ہے جو یہ چیزیں تمہیں لا دے گا ؟"

وَهُوَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَلَهُ الْحَمْدُنِي الأولى وَالْآخِرَةِ وَلَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ. قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ جَعَلَ اللهُ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَ سَرُمَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَهِ مَنْ إِلهُ غَيْرُ اللهِ يَأْتِيكُمْ بِصِيَاءٍ أَفَلَا تَسْمَعُوْنَ. قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ جَعَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ مَنْ إِلهُ غَيْرُ اللَّهِ يَأْتِيْكُمْ بِلَيْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِيْهِ أَفَلَا تُبْصِرُونَ. (قصص:۷۲۷۰)

"’اور وہی اللہ ہےجس کےسوا کوئی دوسراالہ نہیں ہے۔ اس کے لیے تعریف ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔اور وہی اکیلا صاحب حکم واقتدار ہے اور اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والےہو۔ کہو تم نے کبھی غور کیا کہ اگر اللہ تم پر ہمیشہ کے لیے روز قیامت تک رات طاری کر دے تو اس کے سوا کون سادوسرا اللہ ہے جو تمہیں روشنی لادے گا ؟ کیا تم سنتے نہیں ہو؟ کہو تم نے کبھی اس پر غور کیا کہ اگر تمہارے اوپر ہمیشہ کے لیے دن طاری کر دے تو اس کے سوا اور کونسا الہ ہے جو تمہیں رات لا دے گا کہ اس میں تم سکون حاصل کرو؟ کیا تمہیں نظر نہیں آتا؟"

قُلْ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَمْلِكُونَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِي السَّمَوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ وَمَالَهُمْ فِيهِمَا مِنْ شِرْكِ وَمَالَهُ مِنْهُمْ مِنْ ظَهِيرِ ولَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهُ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ. (البا ۲۲-۲۳)

"کہو کہ اللہ کے سوا تم نے جن کو کچھ سمجھ رکھا ہے انہیں پکار دیکھو، وہ نہ آسمانوں میں ذرہ برابر کسی چیز کے مالک ہیں اور نہ زمین میں، نہ آسمان وزمین کے انتظام میں ان کی کوئی شرکت ہے، نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے، اور نہ اللہ کےہاں کوئی سفارش کام آتی ہے بجز اس کے جس کےحق میں اللہ خود ہی سفارش کی اجازت دے۔“

خَلَقَ السَّمواتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِ يُكَوِّرُ اللَّيْلَ عَلَى النَّهَارِ وَيُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى اللَّيْل وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلَّ يُجرى لأجل مُّسَمًّى خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسِ واحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَأَنْزَلَ لَكُمْ مِنَ الأنْعَام ثَمَنِيَةَ أَزْوَاجِ، يَخْلُقُكُم فِى بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ خَلْقًا مِنْ بَعْدِ خَلْقٍ فِي ظُلُمَةٍ ثَلاثِ ذَلِكُمُ اللهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ لا إله إلا هو فاتى تُصْرَفُونَ.

"اس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ دورات کو دن پر اور دن کو رات پر چڑھا کر لاتا ہے،اس نے سورج اور چاند کو تابع کر رکھا ہےاور ہر ایک اپنی مدت مقررہ تک چل رہا ہےاس نے ایک نفس سے تمہاری پیدائش کی ابتدا کی (یعنی انسانی زندگی کا آغاز کیا) پھر اسی نفس سے اس کا جوڑا بنایا اور تمہارے لیے مویشیوں کے آٹھ جوڑے اتارے۔ وہ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ میں اسی طرح پیدا کرتا ہے کہ تین کے پردوں کے اندر تمہاری تخلیق کے یکے بعد دیگرے کئی مدارج طے ہوتے ہیں۔ یہی اللہ تمہارا رب ہے۔ اقتدار حکومت اسی کا ہے۔ اس کے سوا کوئی الہ نہیں ۔ پھر تم کدھر پھیرے جارہے ہو؟“ (الزمر:۶۵)

أَمَّنْ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَنْبَتْنَا بِهِ حَدَائِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَا كَانَ لَكُمْ أَن تُنبِتُوا شَجَرَهَا، وَ الهُ معَ اللهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يُعْدِلُونَ، أَمَّنْ جَعَلَ الْأَرْضَ قَرَارًا وَجَعَلَ خِللَهَا أَنْهَارًا وَجَعَلَ لَهَا رَوَاسِيَ وَجَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِراءَ إِلَه مَّعَ اللهِ، بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الأَرْضِ ، وَ اللَّهُ مَّعَ اللهِ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ. أَمْن يُهْدِيكُمْ فِي ظُلمتِ البَرَ وَالْبَحْرِ وَمَن يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَى رَحْمَتِهِ ، إِلهُ معَ اللهِ تَعَالَى اللهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ. أمن يُبدو الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَمَنْ يُرْزُقُكُم مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ءَ إِلهُ مَّعَ اللهِ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنتُمْ صَدِقِينَ. (النمل: ۶۰ ۶۴)

"کون ہےجس نےآسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمہارےلیےآسمان سےپانی برسایا پھر وہ خوش منتظر باغ اگائےجن کےدرخت اگانا تمہارےبس میں نہ تھا ؟کیا اللہ کےساتھ کوئی اور الہ ان کاموں میں شریک ہے ؟ مگر یہ لوگ حقیقت سےمنہ موڑتے ہیں۔پھر وہ کون ہے جس نےزمین کو جائے قرار بنایا اور اس میں دریا جاری کیے اور اس کے لیے پہاڑوں کو لنگر بنایا اور دو سمندروں کے درمیان پردہ حائل کیا؟ کیا اللہ کےساتھ کوئی اور انہ ان کاموں میں شریک ہے۔مگر اکثر مشرکین بے علم ہیں۔ پھر وہ کون ہے جو اضطرار کی حالت میں آدمی کی دعا سنتا ہے اور تکلیف دور کرتا ہے؟ اور وہ کون ہے جو تم کو زمین میں خلیفہ بناتا ہے؟ ( تصرف کے اختیارات دیتا ہے) کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الہ ان کاموں میں بھی شریک ہے؟ مگر تم کم ہی دھیان کرتے ہو۔ پھر وہ کون ہے جو تم کو خشکی اور تری کے اندھیاروں میں راستہ دکھاتا ہےاور اپنی رحمت (یعنی بارش ) سےپہلے خوشخبری لانے والی ہوا میں بھیجتا ہے؟ کیا اللہ کے سوا کوئی اور الہ ان کاموں میں بھی شریک ہے؟ اللہ بالا تر ہے ان کے اس شریک سے جو یہ کرتے ہیں۔ پھر وہ کون ہے جو تخلیق کی ابتدا کرتا اور اس کا اعادہ کرتا ہے؟ اور کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الہ ان کاموں میں بھی شریک ہے؟ کہوا اگر تم اپنے شرک میں بچے ہو تو اس پر دلیل لاو٠" (١)

١- تین پردوں سے مراد پیٹ ، رحم اور مشیمہ ہیں۔

الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَمْ يَتَّخِذُ وَلَدًا وَلَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكَ فِي الْمُلْكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَى فَقَدْرَةً تَقْدِيرًا ، وَالْخَلُوا مِنْ دُونِهِ آلِهَةً لا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وهُمْ يُخْلَقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ، وَلَا يَمْلِكُونَ لأَنفُسِهِمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا وَلَا يَمْلِكُونَ مَوْنًا وَلَا حَيْوَةً وَّلَا نُشُورًا (الفرقان: ۲-۳)

"وہ جو آسمانوں اور زمین کی حکومت کا مالک ہےاور جس نےکسی کو بیٹا نہیں بنایا اور اقدار حکومت میں جس کا کوئی شریک نہیں ہے اور جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور ہر چیز کے لیے پورا پورا اندازہ مقرر کیا۔ لوگوں نے اسے چھوڑ کر ایسے الہ بنا لیے ہیں جو کسی کو پیدا نہیں کرتےبلکہ خود پیدا کیےجاتے ہیں، جو خود اپنی ذات کے لیے بھی نفع یا نقصان کا اختیار نہیں رکھتے اور جن کو موت اور زندگی اور دوبارہ پیدائش پر کسی قسم کا اقتدار حاصل نہیں ہے۔"

١- یعنی اگر تم مانتے ہو کہ یہ سب کام اللہ ہی کے ہیں اور ان کاموں میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے تو آخر کس دلیل سے تم البیت میں اس کے ساتھ دوسروں کو شریک بناتے ہو؟ جن کے پاس اقتدار نہیں اور زمین و آسمان میں جن کا کوئی خود مختارانہ کام نہیں وہ الہ کیسے ہو گئے ۔

بَدِيعُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ الَّى يَكُونُ لَهُ وَلَدًا وَلَمْ تَكُن لَّهُ صَاحِبَةً وَخَلَقَ كُلَّ شَيْئ وَهُوَ بِكُلّ شَيْء عَلِيمٌ. ذَلِكُمُ اللهُ رَبُّكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ خَالِقَ كُلَّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوهُ وَهُوَ عَلَى كُلّ شَيْء وَكِيلٌ . (انعام: ١٠٢-١٠٣)

"آسمان وزمین کو عدم سے وجود میں لانے والا ۔ اس کا کوئی بیٹا کیسے ہو سکتا ہےجبکہ اس کی کوئی بیوی نہیں ہے۔ اس نے تو ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ یہ ہے اللہ تمہارا رب کوئی اس کے سوا اللہ نہیں ہے، ہر چیز کا خالق، لہذا تم اسی کی عبادت کرو اور وہی ہر چیز کی حفاظت و خبر گیری کا کفیل ہے۔"

وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِنْ دُوّن اللهِ أَندَادًا يُحِبُّهُم كَحُبَ اللهِ وَالَّذِينَ آمَنُوا اَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ وَلَوْيَرَى الَّذِينَ ظَلَمُوا اِذْيَرَوْنَ الْعَذَابَ أَنَّ الْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا. (بقره: ۱۶۵)

"بعض لوگ ایسےہیں جو اللہ کےسوا دوسروں کو خدائی کا شریک و مماثل قرار دیتےہیں اور اللہ کی طرح ان کو بھی محبوب رکھتے ہیں، حالانکہ جو ایمان لانے والے ہیں وہ سب سے بڑھ کر اللہ سے محبت کرتےہیں۔کاش یہ ظالم اس حقیقت کو جسے نزول عذاب کے وقت محسوس کریں گے۔ آج ہی محسوس کر لیتے کہ قوت ساری کی ساری اللہ ہی کے پاس ہے۔“

قُلْ اَرَأَيْتُمُ مَّاتَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَرُونِي مَاذَا خَلَقُوا مِنَ الْأَرْضِ أَمْ لَهُمْ شِرُكَ فِي السَّمَوَاتِ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنْ يُدْعُو مِن دُون الله من لا يستجيب له إلَى يَوْمِ الْقِيمَة ..... (احقاف:۵۴)

" کہو تم نے اپنے معبودوں کی حالت پر کبھی غور بھی کیا جنہیں تم خدا کے بجائے حاجت روائی کے لیے پکارتے ہو؟ مجھے دکھاؤ تو سہی کہ زمین کا کتنا حصہ ان کا بنایا ہوا ہے، یا آسمان کی پیدائش میں ان کی کس قدر شرکت ہے؟ اس سے بڑھ کر اور کون گمراہ ہو گا جو اللہ کو چھوڑ کر کسی ایسے کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتا ۔(١)

لَوْ كَانَ فِيهِمَا الِهَةٌ إِلَّا اللهُ لَفَسَدَنَا فَسُبْحن اللهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ لَا يُسْتَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْتَلُونَ . (انبياء:۲۲-۲۳)

"اگر زمین و آسمان میں اللہ کے سوا اور بھی اللہ ہوتے تو نظام عالم درہم برہم ہو جاتا ہیں اللہ جو عرش ( یعنی کائنات کے تخت سلطنت ) کا مالک ہے ان تمام باتوں سے پاک ہے جو یہ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ وہ اپنے کسی فعل کے لیے جواب دہ نہیں ہے اور سب جواب دہ ہیں۔"

١- یعنی اس کی درخواست کے جواب میں کوئی کارروائی نہیں کر سکتا۔

ما الخذا اللهُ مِنْ وَلَدٍ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إِلَهِ إِذًا لَذَهَبَ كُلُّ إِلَهِ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ. (المومنون: ٩١)

"اللہ نے نہ کوئی بیٹا بنایا اور نہ اس کے ساتھ کوئی دوسرا اللہ ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر الہ اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں کو لے کر الگ ہو جاتا اور ہر ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتا ۔“

قُل لَّوْ كَانَ مَعَهُ الِهَةٌ كَمَا يَقُوْلُوْنَ إِذًا لَّا يُتَقَوْا إِلَى ذِي الْعَرْشِ سَبِيلًا، سُبْحَنَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوا كَبِيرًا. (بنی اسرائیل ۴۲-۴۳)

"اے نبی ! کہو اگر اللہ کے ساتھ دوسرے الہ ہوتے جیسا کہ لوگوں کا بیان ہے، تو وہ مالک عرش کی حکومت پر قبضہ کرنے کے لیے ضرور تدبیریں تلاش کرتے۔ پاک ہے وہ اور بہت بالاتر ہے اُن باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔“

ان آیات میں اوّل سےآخر یک ایک ہی مرکزی خیال پایا جاتا ہےاور وہ یہ ہےکہ البیت واقتدار لازم و ملزوم ہیں اور اپنی روح و معنی کےاعتبار سےدونوں ایک ہی چیز ہیں۔جو اقتدار نہیں رکھتا وہ الہ نہیں ہو سکتا اور اسےالہ نہ ہونا چاہیے۔کیونکہ الہ سےتمہاری جس قدر ضروریات متعلق ہیں یا جن ضروریات کی خاطر تمہیں کسی کو الہ ماننے کی حاجت پیش آتی ہے، ان میں سے کوئی ضرورت بھی اقتدار کے بغیر پوری نہیں ہو سکتی۔لہذا غیر مقتدر کا الہ ہونا بےمعنی ہے،حقیقت کےخلاف ہے، اور اس کی طرف رجوع کرنا لا حاصل ہے۔

اس مرکزی خیال کو لے کر قرآن جس طریقہ سے استدلال کرتا ہے اس کے مقدمات اور نتائج حسب ذیل ترتیب کے ساتھ اچھی طرح سمجھ میں آسکتے ہیں:۔

ا۔ حاجت روائی،مشکل کشائی،پناہ دہندگی،امداد و اعانت،خبر گیری و حفاظت اور استجابت دعوات ، جن کو تم نےمعمولی کام سمجھ رکھا ہےدراصل یہ معمولی کام نہیں ہیں بلکہ ان کا سررشتہ پورےنظام کائنات کی تخلیقی اور انتظامی قوتوں سےجاملتا ہے۔تمہاری ذرا ذراسی ضرورتیں جس طرح پوری ہوتی ہیں اس پر غور کرو تو معلوم ہو کہ زمین و آسمان کےعظیم الشان کارخانہ میں بے شمار اسباب کی مجموعی حرکت کےبغیر ان کا پورا ہونا محال ہے۔ پانی کا ایک گلاس جو تم پیتےہو،اور گیہوں کا ایک دانہ جو تم کھاتے ہو اس کو مہیا کرنے کے لیے سورج اور زمین اور ہواؤں اور سمندروں کو خدا جانےکتنا کام کرنا پڑتا ہے تب کہیں یہ چیزیں تم کو بہم پہنچتی ہیں۔ پس تمہاری دعائیں سننے اور تمہاری حاجتیں رفع کرنے کے لیے کوئی معمولی اقتدار نہیں بلکہ وہ اقتدار درکار ہے جو زمین و آسمان پیداکرنے کے لیے ، سیاروں کو حرکت دینے کے لیے ، ہواؤں کو گردش دینے اور بارش برسانے کےلیے ، غرض پوری کائنات کا انتظام کرنے کے لیے درکار ہے۔

٢- یہ اقتدار نا قابل تقسیم ہے۔ یہ ممکن نہیں ہےکہ خلق کا اقتدار کسی کےپاس ہو، اور رزق کا کسی اور کےپاس، سورج کسی کے قبضہ میں ہو اور زمین کسی اور کے قبضہ میں، پیدا کرنا کسی کے اختیار میں ہو، بیماری و صحت کسی اور کےاختیار میں اور موت اور زندگی کسی تیسرے کے اختیار میں، اگر ایسا ہوتا تو یہ نظام کا ئنات بھی چل ہی نہ سکتا۔ لہذا تمام اقتدارات و اختیارات کا ایک ہی مرکزی فرمانروا کے قبضہ میں ہونا ضروری ہے۔ کائنات کا انتظام چاہتا ہے کہ ایسا ہو ، اور فی الواقع ایسا ہی ہے۔

٣- جب تمام اقتدار ایک ہی فرماں روا کےہاتھ میں ہے اور اقتدار میں کسی کا ذرہ برابر کوئی حصہ نہیں ہے، تو لامحالہ الوہیت بھی بالکلیہ اسی فرمانروا کے لیے خاص ہے اور اس میں بھی کوئی حصہ دار نہیں ہےکسی میں یہ طاقت نہیں کہ تمہاری فریاد رسی کر سکے،دعائیں قبول کر سکے،پناہ دےسکے، حامی و ناصر اور ولی و کار ساز بن سکےنفع یا نقصان پہنچا سکےلہذا اللہ کا جو مفہوم بھی تمہارےذہن میں ہےاس کےلحاظ سے کوئی دوسرا الہ نہیں ہے ۔ حتیٰ کہ کوئی اس معنی میں بھی اللہ نہیں کہ فرمانروائے کائنات کے ہاں مقرب بارگاہ ہونے کی حیثیت ہی سے اس کا کچھ زور چلتا ہو اور اس کی سفارش مانی جاتی ہو۔اس کےانتظام سلطنت میں کسی کو دم مارنےکی مجال نہیں۔کوئی اس کےمعاملات میں دخل نہیں دے سکتا، اور سفارش قبول کرنا یا نہ کرنا بالکل اس کے اختیار میں ہے۔ کوئی زور کسی کے پاس نہیں ہے کہ اس کے بل پر وہ اپنی سفارش قبول کر اسکے ۔

٤- اقتدار اعلیٰ کی وحدانیت کا اقتضا یہ ہے کہ حاکمیت وفرمانروائی کی جتنی قسمیں ہیں سب ایک ہی مقتدر اعلیٰ کی ذات میں مرکوز ہوں اور حاکمیت کا کوئی جز بھی کسی دوسرے کی طرف منتقل نہ ہو ۔ جب خالق وہ ہے اور خلق میں کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں، جب رزاق وہ ہے اور رزق رسانی میں کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں، جب پورے نظام کائنات کا مد برو منتظم وہ ہے اور تدبیر و انتظام میں کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں،تو یقینا حاکم و آمر اور شارع بھی اسی کو ہونا چاہیےاور اقتدار کی اس شق میں بھی کسی کےشریک ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ جس طرح اس کی سلطنت کےدائرے میں اس کےسوا کسی دوسرےکا فریاد رس اورحاجت روا اور پناہ دہندہ ہونا غلط ہےاسی طرح کسی دوسرے کامستقل بالذات حاکم اورخود مختار فرماںروا اور آزاد قانون سازہونا بھی غلط ہےتخلیق اوررزق رسانی،احیاء اور امانت تسخیر شمس و قمر اور تکویر لیل ونہار،قضا اور قدر،حکم اور بادشاہی،امر اور تشریع سب ایک ہی کلی اقتدار و حاکمیت کےمختلف پہلو ہیں اور یہ اقتدار و حاکمیت ناقابل تقسیم ہےاگر کوئی شخص اللہ کےحکم کی سند کےبغیر کسی کےحکم کو واجب الاطاعت سمجھتا ہےتو وہ ویسا ہی شرک کرتاہےجیسا کہ ایک غیر اللہ سےدعا مانگنےوالا شرک کرتا ہےاوراگر کوئی شخص سیاسی معنی میں مالک الملک اور مقتدر اعلیٰ اور حاکم علی الاطلاق ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کا یہ دعوی بالکل اسی طرح خدائی کادعوی ہےجس طرح فوق الطبیعی معنی میں کسی کایہ کہناکہ تمہارا ولی و کار ساز اور مددگار ومحافظ میں ہوں۔اسی لیےجہاں خلق اور تقدیر اشیاء اور تدبیر کائنات میں اللہ کے لاشریک ہونےکا ذکر کیا گیا ہےوہیں لہ الحکم اور للَهُ الْمُلْكُ اور لَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكَ فِی المُلک بھی کہا گیا ہے جو اس بات پر صاف دلالت کرتا ہے کہ الوہیت کے مفہوم میں بادشاہی و حکمرانی کا مفہوم بھی شامل ہے اور توحید اللہ کے لیے لازم ہے کہ اس مفہوم کے اعتبار سےبھی اللہ کے ساتھ کسی کی شرکت نہ تسلیم کی جائے اس کو اور زیادہ کھول کر حسب ذیل آیات میں بیان کیا گیا ہے:۔

قل اللهم مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ. (آل عمران: ۲۶)

" کہو یا اللہ تو جو ملک کا مالک ہے، تجھے اختیار ہے جسے چاہے حکومت دے اور جس سےچاہے چھین لے اور جسے چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلیل کر دیے۔“

فَتَعَالَى اللهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ، لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمَ. (المومنون : ١١٦)

"پس بالا و برتر ہے اللہ جو حقیقی بادشاہ ہے اس کے سوا کوئی الہ نہیں وہ عرش بزرگ کا مالک ہے۔“

قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ، مَلِكِ النَّاسِ، إِلَهِ النَّاسِ. (الناس: ١-٣)

" کہو میں پناہ مانگتا ہوں انسانوں کے رب سے، انسانوں کے بادشاہ سے انسانوں کے الہ سے"۔

اور اس سے زیادہ تصریح سورۃ المؤمن میں ہے جہاں فرمایا:۔

يَوْمَ هُمُ برِزُونَ لَا يَخْفَى عَلَى اللَّهِ مِنْهُمْ شَيْى لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَاحِدِ القهار. (المومن (١٩) الْقَهَّارِ

یعنی جس روز سب لوگ بے نقاب ہوں گے، کسی کا کوئی راز اللہ سے چھپا نہ ہوگا، اس وقت پکارا جائے گا کہ آج بادشاہی کس کی ہے؟ اور جواب اس کے سوا کچھ نہ ہوگا کہ اس اکیلے اللہ کی جس کا اقتدار سب پر غالب ہے۔“

اس آیت کی بہترین تفسیر وہ حدیث ہے جو امام احمد نے حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:۔

إِنَّهُ تَعَالَى يَطْوِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ بِيَدِهِ ثُمَّ يَقُولُ اَنَا الْمَلِكُ اَنَا الْجَبَّارُ اَنَا المتكبر أين مُلُوكَ الْأَرْضِ ؟ اَيْنَ الْجَبَّارُونَ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبَرُونَ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو اپنی مٹھی میں لے کر پکارے گا میں ہوں بادشاہ، میں ہوں بتبار، میں ہوں متکبر، کہاں ہیں وہ جو زمین میں بادشاہ بنتے تھے ؟ کہاں میں جبار؟ کہاں ہیں متکبر ، عبداللہ بن عمر مفر ماتے ہیں کہ جس وقت حضور خطبہ میں یہ الفاظ فرمارہے تھے اس وقت آپ پر ایسا لرزہ طاری تھا کہ ہم ڈر رہے تھےکہ کہیں آپ ممبر سے گر نہ پڑیں۔

رَبّ

رَبّ لغوی تحقیق: اس لفظ کا مادہ سر تب تب ہے جس کا ابتدائی واساسی مفہوم پرورش ہے۔ پھر اسی سےتصرف خبر گیری، اصلاح حال اور اتمام و تکمیل کا مفہوم پیدا ہوا۔ پھر اسی بنیاد پر فوقیت ، سیادت،مالکیت اور آقائی کے مفہومات اس میں پیدا ہو گئے۔ لغت میں اس کے استعمالات کی چند مثالیں یہ ہیں:۔

١- پرورش کرنا، نشو و نما دینا ، بڑھانا ، مثلا ربیب اور رہیہ پرورده لڑکے اور لڑکی کو کہتے ہیں۔نیز اس بچے کو بھی ربیب کہتے ہیں جو سوتیلے باپ کے گھر پرورش پائے ۔ پالنے والی دوائی کو بھی رہیہ کہتے ہیں۔ را بہ سوتیلی ماں کو کہتے ہیں، کیونکہ وہ ماں تو نہیں ہوتی مگر بچے کو پرورش کرتی ہے۔ اسی مناسبت سے راب سوتیلے باپ کو کہتے ہیں۔ مرتب یا مرتی اسی دوا کو کہتے ہیں جو محفوظ کر کے رکھی جائے۔ رَبِّ يُرَبُّ رَبِّاً کے معنی اضافہ کرنے بڑھانے اور تکمیل کو پہنچانے کے ہیں۔ جیسےرَبَّ النِّعْمَةَ، یعنی احسان میں اضافہ کیا یا احسان کی حد کر دی۔

٢- سمیٹنا ، جمع کرنا، فراہم کرنا ۔ مثلاً کہیں گے فلانٌ يَرُبُّ النَّاسَ یعنی فلاں شخص لوگوں کو جمع کرتا ہے، یا سب لوگ اس شخص پر مجتمع ہوتے ہیں۔ جمع ہونے کی جگہ کو مزب کہیں گے ۔ سمٹنے اور فراہم ہو جانے کو تریب کہیں گے۔

٣- خبر گیری کرنا، اصلاح حال کرنا ، دیکھ بھال اور کفالت کرنا، مثلا رَبَّ ضَيْعَتَهُ کے معنی ہوں گے فلاں شخص نے اپنی جائیداد کی دیکھ بھال اور عمرانی کی۔ابوسفیان سے صفوان نے کہا تھا لان يَرْبُنِي رَجُلٌ مِنْ قَرِيشٍ أَحَبُّ إِلَى مِنْ أَنْ يَرُبَّنِي رَجُلٌ مِنْ هَوَازِنُ یعنی قریش میں سے کوئی شخص مجھے اپنی ربوبیت (سرپرستی) میں لے لے یہ مجھے زیادہ پسند ہے یہ نسبت اس کے کہ ہوازن کا کوئی آدمی ایسا کرے۔ علقمہ بن عبیدہ کا شعر ہے:۔ ؎

وكنتَ امْراً أَقْضَتُ إِلَيْكَ رَبَابَتِي وَقَبْلَكَ رَبَّنِي فَضِعْتُ رُبُوبي

یعنی تجھ سے پہلے جور کیس میرے مربی تھے انہیں میں نے کھو دیا، آخر کا راب میری کفالت اور بابت تیرے ہاتھ آئی ہے۔ فرزوق کہتا ہے:۔

كَانُوا كَسَائِلِةٍ حَمْقَاءَ إِذْ حَقَنَتْ سَلَاءَ هَا فِي أَدِيمُ غَيْرِ مَرْبُوبِ

اس شعر میں ادیم غیر مربوب سے مراد وہ چمڑا ہے جو کمایا نہ گیا ہو، جسے دباغت دے کر درست نہ کیا گیا ہو ۔ فلان يرب صنعته عند فلان کے معنی ہوں گے فلاں شخص فلاں کے پاس اپنے پیشہ کا کام کرتا ہے یا اس سے کاریگری کی تربیت حاصل کرتا ہے۔

۴۔ فوقیت، بالادستی، سرداری ، محکم چلانا، تصرف کرنا۔ مثلا قد ربّ فلان قومه - یعنی فلاں شخص نے اپنی قوم کو اپنا تابع کر لیا۔ ربیت القوم یعنی میں نے قوم پر حکم چلایا اور بالا دست ہو گیا۔ لبید بن ربیعہ کہتا ہے:۔

وَأَهْلَكْنَ يَوْمًا رَبَّ كِنْدَةَ وَابْنَهُ ورَبِّ مَعَةٍ بَيْنَ حَبْتٍ وَعَرْعَرِ

یہاں رب کندہ سے مراد کندہ کا سردار ہے جس کا حکم اس قبیلہ میں چلتا تھا۔ اس معنی میں نابغہ ذبیانی کا شعر ہے:۔

تَحِبُّ إِلَى النُّعْمَانِ حَتَّى تَنَالَهُ فِدَى لَكَ مِنْ رَّبِّ تَلِيُدِي وَطَارِفِي

۵۔ مالک ہونا، مثلاً حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا أَرَبُّ غَنَم اَمَ رَبُّ ابل؟ تو بکریوں کا مالک ہے یا اونٹوں کا ؟ اس معنی میں گھر کے مالک کو رَبُّ الدار اونٹنی کے مالک کو رَبُّ الناله ، جائیداد کے مالک کو رب الضبعہ کہتے ہیں۔ آقا کے معنی میں بھی رب کا لفظ آتا ہے اور عبد ، یعنی غلام کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے۔

غلطی سے رب کے لفظ کو محض پروردگار کے مفہوم تک محدود کر کے رکھ دیا گیا ہے اور ربوبیت کی تعریف میں یہ فقرہ چل پڑا ہے کہ هُوَ اَنْشَاَ الشَّى حَالًا فَحَالًا إِلَى حَةِ السَّمَامِ (یعنی ایک چیز کو درجہ بدرجہ ترقی دے کر پایۂ کمال کو پہنچانا )۔ حالا نکہ یہ اس لفظ کے وسیع معانی میں سے صرف ایک معنی ہے۔ اس کی پوری وسعتوں کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ حسب ذیل مفہومات پر حاوی ہے:۔






قرآن میں لفظ "رب" کے استعمالات: قرآن مجید میں یہ لفظ ان سب معانی میں آتا ہے۔ کہیں ان میں سے کوئی ایک یا دو معنی مراد ہیں، کہیں اس سے زائدہ اور کہیں پانچوں معنی۔ اس بات کو ہم آیات قرآنی سے مختلف مثالیں دے کر واضح کریں گے۔

پہلے معنی میں :۔ قَالَ مَعَاذَ اللَّهِ إِنَّهُ رَبِّي أَحْسَنَ مَثْوَايَ (يوسف:۲۳)

"اس نے کہا کہ پناہ بخدا ! وہ تو میرا رب ہے(١) جس نے مجھے اچھی طرح رکھا۔"

دوسرے معنی میں جس کے ساتھ پہلی معنی کا تصور بھی کم و بیش شامل ہے:۔

فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِى إِلَّا رَبُّ الْعَالَمِينَ الَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَا يَهْدِينِ، وَالَّذِي هُوَ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِيْنِ وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ. (الشعره: ۷۷-۸۰)

"تمہارے یہ معبود تو میرے دشمن ہیں، بجز رب کائنات کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، جو میری رہنمائی کرتا ہے، جو مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے اورجب میں بیمار ہوتا ہوں تو مجھے شفا دیتا ہے۔“

وَمَا بِكُمْ مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنَ اللهِ ثُمَّ إِذَا مَسْكُمُ الصُّرُّفَالَيْهِ تَجْتَرُونَ ثُمَّ إِذَا كَشَف الضُّرَّعَنكُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِنْكُمْ بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ. (النحل:۵۳-۶۵)

"تمہیں جو نعمت بھی حاصل ہے اللہ ہی سے حاصل ہوئی ہے، پھر جب تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو اس کی طرف تم گھبرا کر رجوع کرتے ہو مگر جب وہ تم پر مصیبت ٹال دیتا ہے تو کچھ لوگ تم میں ایسے ہیں جو اپنے رب کے ساتھ (اس نعمت کی بخشش اور اس مشکل کشائی میں ) دوسروں کو شریک ٹھہرانے لگتے ہیں۔"

(1) کسی کو یہ خیال نہ ہو کہ حضرت یوسف عزیز مصر کو اپنا رب فرمارہے ہیں، جیسا کہ بعض مفسرین کو شبہ ہوا ہے، بلکہ در اصل وہ “ کا اشارہ خدا کی طرف ہے جس کی پناہ انہوں نے مانگی ہے ۔ مَعَادَ اللَّهِ إِنَّهُ رَبّنی جب مشار الیہ قریب ہی مذکور ہے تو کوئی غیر مذکور مشار الیہ تلاش کرنے کی کیا ضرورت؟

قُل غَيْرَ اللهِ أبْغِى رَبَّا وَهُوَ رَبُّ كُلَّ شَيْى (انعام: ۱۶۵)

" کہو کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں، حالانکہ ہر چیز کا رب وہی ہے۔“

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِله إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا: (أمول ٩)

"وہ مغرب و مشرق کا رب ہے جس کے سوا کوئی الہ نہیں ہے، لہذا اسی کو اپنا وکیل (اپنےسارے معاملات کا کفیل و ذمہ دار ) بنالے۔"

تیسرے معنی میں :۔ هُوَ رَبُّكُمْ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (هود:۳۴)

"وہ تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تم پلٹا کر لے جائے جاؤ گے۔“

ثمَّ إِلَى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ (الزمر:٧)

"پھر تمہارے رب کی طرف تمہاری واپسی ہے"۔

قُلْ يَجْمَعُ بَيْنَا رَبُّنَا ( سبا- ۲۶)

" کہو کہ ہم دونوں فریقوں کو ہمارا رب جمع کرے گا۔"

وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يُطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَبِ مِنْ شَيْئَ ثُمَّ إِلى رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ (انعام: ۳۸)

”زمین میں چلنے والا کوئی جاندار اور ہوا میں اڑنے والا کوئی پرندہ ایسا نہیں ہےجو تمہاری ہی طرح ایک امت نہ ہو، اور ہم نے اپنے دفتر میں کسی کے اندراج سے کوتا ہی نہیں کی ہے۔پھر وہ کے اندراج سے سب اپنے رب کی طرف سمیٹے جائیں گے۔"

وَنُفِخَ فِى الصُّورِ فَإِذَا هُمُ مِنَ الْأجْدَاثِ إِلَى رَبِّهِمْ يَنْسِلُونَ . (يس: ٥١)

"اور جونہی کہ صور پھونکا جائے گاوہ سب اپنے ٹھکانوں سے اپنے رب کی طرف نکل پڑیں گے۔“

چوتھے معنی میں جس کے ساتھ کم و بیش تیسرے معنی کا تصور بھی موجود ہے:۔ اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّنْ دُونِ اللَّهِ. (التوبہ: ۳۱)

"انہوں نے اللہ کے بجائے اپنے علماء اور درویشوں کو اپنا رب بنالیا۔“

وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ. (آل عمران:۶۴)

"اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنائے ۔“

دونوں آیتوں میں ارباب سےمراد وہ لوگ ہیں جن کو قوموں اور گروہوں نےمطلقاً اپنا رہنما و پیشوا مان لیا ہو ۔جن کے امر و نہی،ضابطہ و قانون اور تحلیل تحریم کو بلا کسی سند کےتسلیم کیا جاتا ہو۔ جنہیں بجائے خود حکم دینے اور منع کرنے کا حق دار سمجھا جاتا ہو۔

أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا .... وَقَالَ لِلَّذِى ظَنَّ أَنَّهُ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرُنِي عِندَ رَبِّكَ فَانسَهُ الشَّيْطَنُ ذِكْر رَبِّهِ. (يوسف:٣٢)

"یوسف (علیہ السلام) نے کہا کہ تم میں سے ایک تو اپنے رب کو شراب پلائے گا - - - اور ان دونوں میں سے جس کے متعلق یوسف کا خیال تھا کہ رہا ہو جائے گا اس سے یوسف نے کہا کہ اپنے رب سے میرا ذکر کرنا، مگر شیطان نے اسے بھلاوے میں ڈال دیا اور اس کو اپنے رب سےیوست کا ذکر کرنے کا خیال نہ رہا"۔

فَلَمَّا جَاءَهُ الرَّسُولُ قَالَ ارْجِعُ إِلَى رَبِّكَ فَاسْتَلْهُ مَابَالُ النِّسْوَةِ الَّتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ (يوسف:۵۰)

"جب پیغام لانے والا یوسف کے پاس آیا تو یوسف نے اس سے کہا کہ اپنے رب کےپاس واپس جاؤ اور اس سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیےتھے۔ میرا رب تو ان کی چال سے باخبر ہے ہی۔“

ان آیات میں حضرت یوسف نے مصریوں سے خطاب کرتے ہوئے بار بار فرعون مصر کو ان کا رب قرار دیا ہے، اس لیےکہ جب وہ اس کی مرکزیت اور اس کا اقتدار اعلیٰ اور اس کو امر و نہی کا مالک تسلیم کرتے تھے، تو وہی ان کا رب تھا، برعکس اس کے خود حضرت یوسف اپنا رب اللہ کو قرار دیتے ہیں، کیونکہ وہ فرعون کو نہیں ، صرف اللہ کو مقتدر اعلیٰ اور صاحب امر و نہی مانتے تھے۔

پانچویں معنی ہیں:۔ فَلَيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا البَيْتِ الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعِ وَامَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ . ( قریش ۴۳)

"لہذا انہیں اس گھر کے مالک کی عبادت کرنی چاہیے جس نے ان کی رزق رسانی کا انتظام کیا ہے اور انہیں بدامنی سے محفوظ رکھا ہے۔"

سُبْحانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يصِفُونَ. (صفت: ۱۸۰)

"تیرا رب جو عزت و اقتدار کا مالک ہے ان تمام صفات عیب سے پاک ہے جو یہ لوگ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔“

فسبحن الله ربِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ. (انبياء:۲۲)


قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمَوَاتِ السَّبْع وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ (المومنون: ۸۶)

"پوچھو کہ ساتوں آسمانوں کا اور عرش بزرگ کا مالک کون ہے؟"۔

رَبُّ السَّمواتِ وَالأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَرَبُّ الْمَشَارِقِ . (الصفت:۵)

"وہ جو مالک ہے آسمانوں اور زمین کا اور ان سب چیزوں کا جو آسمان و زمین کے درمیان ہیں اور سب چیزوں کا جن پر سورج طلوع ہوتا ہے۔"

وانَّهُ هُوَ رَبُّ الشَّعرى. (النجم : ٤٩)

"اور یہ کہ شعری کا مالک بھی وہی ہے"۔

ربوبیت کے باب میں گمراہ قوموں کے تخیلات: ان شواہد سے لفظ رب کے معانی بالکل غیر مشتبہ طور پر معین ہو جاتے ہیں۔ اب ہمیں دیکھنا چاہیے کہ ربوبیت کے متعلق گمراہ قوموں کے وہ کیا تخیلات تھے جن کی تردید کرنے کے لیے قرآن آیا، اور کیا چیز ہےجس کی طرف قرآن بلاتا ہے۔اس سلسلہ میں زیادہ مناسب یہ معلوم ہوتا ہےکہ جن گمراہ قوموں کا ذکر قرآن نے کیا ہے ان کو الگ الگ لے کر ان کے خیالات سے بحث کی جائے تا کہ بات بالکل متفتح ہو جائے ۔

قوم نوح : سب سے پہلی قوم جس کا ذکر قرآن کرتا ہے، حضرت نوح کی قوم ہے۔ قرآن کے بیان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اللہ کی ہستی کے منکر نہ تھے۔ حضرت نوح کی دعوت کے جواب میں ان کا یہ قول خود قرآن نے نقل کیا ہے:۔

ماهذا إِلَّا بَشَرٌ مِثْلَكُمْ يُريد أن يُتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْ وَلَوْشَاءَ اللهُ لأنزل مليكة. (المؤمنون: ۲۴)

"یہ شخص کچھ نہیں ہے مگر تم جیسا ایک انسان، یہ در اصل تم پر اپنی فضیلت جمانا چاہتا ہے۔ور نہ اگر اللہ کوئی رسول بھیجنا چاہتا تو فرشتوں کو بھیجتا۔“

انہیں اللہ کے خالق ہونے اور پہلے دوسرے معنی میں اس کے رب ہونے سے بھی انکار نہ تھا۔ چنانچہ حضرت نوح جب ان سے کہتے ہیں کہ هُوَ رَبُّكُمْ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (١)(هود:۳۳) ۔

اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا (٢) ( نوح: ١٠) أَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللهُ سَبْعَ سَمَوَاتٍ طِبَاقًا وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا وَاللَّهُ اثْبَتَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ نَباتاً (٣) الخ ( نوح: ۱۵-۱۶) "تو ان میں سے کوئی یہ نہیں کہتا کہ اللہ ہمارا اب نہیں ہے،یا زمین و آسمان کو اور ہم کو اس نے پیدا نہیں کیا ہے، یا زمین و آسمان کا یہ سارا انتظام وہ نہیں کر رہا ہے۔“

پھر ان کو اب اس بات سے بھی انکار نہ تھا کہ اللہ ان کا الہ ہے۔ اسی لیے تو حضرت نوح نےاپنی دعوت ان کے سامنے ان الفاظ میں پیش کی کہ مالكُمُ مِنْ اللَّهِ غَيْرُهُ (ان کے سوا تمہارےلیے کوئی دوسرا اللہ نہیں ہے ) اور نہ وہ اگر اللہ کے الہ ہونے سے منکر ہوتے تو دعوت کے الفاظ یہ ہوتے اتَّخَذُوا اللَّهَ الَهَا (اللہ کو اپنا الہ بنالو ) ۔

اب سوال یہ ہے کہ ان کے اور حضرت نوح کے درمیان نزاع کس بات پر تھی؟ آیاتِ قرآن کے تابع سے معلوم ہوتا ہے کہ نہائے نزاع دو باتیں تھیں۔

ایک یہ کہ حضرت نوح کی تعلیم یہ تھی کہ جو رب العالمین ہے، جسے تم بھی مانتے ہو کہ تمہیں اور تمام کائنات کو اسی نے وجود بخشا ہے اور وہی تمہاری ضروریات کا نفیل ہے، دراصل وہی اکیلا تمہارا اللہ ہے، اس کے سوا کوئی دوسرا الہ نہیں ہے۔ کوئی اور ہستی نہیں ہے جو تمہاری حاجتیں پوری کرنے والی،مشکلیں آسان کرنے والی، دعائیں سنے اور مدد کو پہنچنے والی ہو۔ لہذا تم اس کے آگے سر نیاز جھکاؤ۔




يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ مَالَكُمْ مِنْ اللَّهِ غَيْرُه ... وَلكِنِّي رَسُولٌ مِنْ رَبِّ الْعَلَمِينَ. أبَلِّغُكُمْ رِسَلْتِ رَبِّي . (اعراف:۵۹-۶۲)

”اے برادران قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارے لیے کوئی دوسرا الہ نہیں ہے۔مگر میں رب العلمین کی طرف سے پیغامبر ہوں ۔ تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچا تا ہوں۔“

برعکس اس کے وہ لوگ اس بات پر مصر تھے کہ رب العلمین تو اللہ ہی ہے مگر دوسرے بھی خدائی کے انتظام میں تھوڑا بہت دخل رکھتے ہیں، اور ان سے بھی ہماری حاجتیں وابستہ ہیں، لہذا اللہ کے ساتھ ہم دوسروں کو الہ مانیں گے۔“

وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ الهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَداوَلا سُوَاعًا وَّلَا يَغُوتُ وَيَعُوق وَنَسْرًا. (نوح:۲۳)

"ان کے سرداروں اور پیشواؤں نے کہا کہ لوگو! اپنے انہوں کو نہ چھوڑ ووڈ اور سُواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو نہ چھوڑو۔“

دوسرے یہ کہ وہ لوگ صرف اس معنی میں اللہ کو رب مانتے تھے کہ وہ ان کا خالق، زمین و آسمان کا مالک اور کائنات کا مدبر اعلیٰ ہے۔لیکن اس بات کےقائل نہ تھےکہ اخلاق، معاشرت،تمدن، سیاست اور تمام معاملات زندگی میں بھی حاکمیت واقتدار اعلیٰ اس کا حق ہےوہی رہنما،وہی قانون ساز،وہی صاحب امر و نہی بھی ہےاور اس کی اطاعت بھی ہونی چاہیےان سب معاملات میں انہوں نےاپنے سرداروں اور مذہبی پیشواؤں کو رب بنارکھا تھا۔ برعکس اس کے حضرت نوح کا مطالبہ یہ تھا کہ ربوبیت کے ٹکڑے نہ کرو۔ تمام مفہومات کے اعتبار سے صرف اللہ ہی کو رب تسلیم کرو،اور اس کا نمائندہ ہونے کی حیثیت سے جو قوانین اور احکام میں تمہیں پہنچا تا ہوں ان کی پیروی کرو۔

اإِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ فَاتَّقُو اللَّهَ وَأَطِيعُونَ (الشعراء: ۱۰۷-۱۰۸)

"میں تمہارے لیے خدا کا معتبر رسول ہوں، لہذا اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ۔“

قوم عاد: قوم نوح کے بعد قرآن عاد کا ذکر کرتا ہے۔ یہ قوم بھی اللہ کی ہستی سے منکر نہ تھی۔ اس کے الہ ہونے سے بھی اس کو انکار نہ تھا۔ جس معنی میں حضرت نوح کی قوم اللہ کو رب تسلیم کرتی تھی اس معنی میں یہ قوم بھی اللہ کو رب مان رہی تھی البتہ بنائے نزاع دہی دو امور تھے جو او پر قوم نوح کے سلسلہ میں بیان ہو چکے ہیں۔ چنانچہ قرآن کی حسب ذیل تصریحات اس پر صاف دلالت کرتی ہیں:۔

وإلى عاد أخاهُمْ هُودًا ، قَالَ يقوم اعْبُدُوا اللهَ مَالَكُمْ مِنْ الهِ غَيْرُهُ ..... قَالُوا اجنتنا لنعبد الله وحده ونذر ما كان يعبدُ آبَاؤُنَا . (اعراف: ۶۵-۷۰)

"عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ اس نے کہا، اے برادر ان قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی الہ نہیں۔ انہوں نےجواب دیا کیا تو اس لیےآیا ہےکہ ہم بس اکیلے اللہ ہی کی عبادت کریں اور ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کے وقتوں سے ہوتی آرہی ہے۔"

قَالُوا لَوْشَاءَ رَبُّنا لأنزلَ مَليكة (حم السجده ۱۳)

"انہوں نے کہا اگر ہمارا رب چاہتا تو فرشتے بھیج سکتا تھا۔"

وَتِلْكَ عَادَ جَحَدُوا بِايْتِ رَبِّهِمْ وَعَصَوا رُسُلَهُ وَاتَّبَعُوا أَمْرَكُل جَبَّارٍ عنيد. (هود: ۵۹)

"اور یہ عاد ہیں جنہوں نے اپنے رب کے احکام ماننے سے انکار کیا اس کے رسولوں کی اطاعت قبول نہ کی ،اور ہر جبار دشمن حق کی پیروی اختیار کر لی ۔“

قوم نمود: اب ثمود کو لیجیے جو عاد کے بعد سب سے بڑی سرکش قوم تھی ۔ اصولاً اس کی گمراہی بھی اس قسم کی تھی جو قوم نوح اور قوم عاد کی بیان ہوئی ہے ان لوگوں کو اللہ کے وجود اور اس کے الہ اور رب ہونے سے انکار نہ تھا، اس کی عبادت سے بھی انکار نہ تھا۔ بلکہ انکار اس بات سے تھا کہ اللہ ہی الہ واحد ہے ، صرف وہی عبادت کا مستحق ہے، اور ربوبیت اپنے تمام معانی کے ساتھ اکیلے اللہ ہی کے لیے خاص ہے وہ اللہ کے سوا دوسروں کو بھی فریاد رس، حاجت روا ، اور مشکل کشا ماننے پر اصرار کرتے تھے۔ اور اپنی اخلاقی و تمدنی زندگی میں اللہ کے بجائے اپنے سرداروں اور پیشواؤں کی اطاعت کرنے اور ان سے اپنی زندگی کا قانون لینے پر مصر تھے۔ یہ چیز بالآخر ان کے ایک فسادی قوم بن جانے اور مبتلائے عذاب ہونے کی موجب ہوئی۔ اس کی توضیح حسب ذیل آیات سےہوتی ہے:۔

فان أعْرَضُوا فَقُلْ انْذَرْتُكُمْ صعِقَةَ مِّثْلَ صَعِقَةٌ عَادٍ وَّثَمُودَ إِذَا جَاءَ تُهُمُ الرُّسُلُ مِنْ بَيْنِ ايْدِيهِمْ وَمِنْ خَلفهم الا تعبُدوا إِلَّا اللَّهَ قَالُوْا لَوْشَاء رَبُّنَا لَانْزَلَ مَلَئِكَةً فَإِنَّا بما أرْسِلْتُمْ بهِ كَافِرُونَ ( حم السجده : ۱۳ - ۱۴)

"اے محمد ! اگر یہ لوگ تمہاری پیروی سے منہ موڑتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ عاد اور ثمود کو جو سزا ملی تھی ویسی ہی ایک ہولناک سزا سے میں تم کو ڈراتا ہوں۔ جب ان قوموں کے پاس ان کےپیغمبر آگے اور پیچھے سے آئے اور کہا کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو تو انہوں نے کہا ہمارا رب چاہتا تو فرشتے بھیجتا ، لہذا تم جو کچھ لے کر آئے ہو اسے ہم نہیں مانتے۔"

وَإِلَى ثَمُودَا أَخَاهُمْ صَالِحًا. قَالَ يَقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ مَالَكُمْ مِنْ الهِ غَيْرُهُ. قَالُوا يَا صَالِحُ قَدْ كُنتَ فِيْنَا مَرُ جُوَّاقَبْلَ هَذَا أَتَنْهَنَا أَنْ نَّعْبُدَ مَايَعْبُدُوا بَاءُ نَا.(ہود : ٦١- ٦٦)

"اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح (علیہ السلام ) کو بھیجا۔ اس نے کہا اےبرادرانِ قوم ! اللہ کی پرستش و بندگی کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی الہ نہیں ہے- - - انہوں نے کہا صالح ! اس سے پہلے تو ہماری بڑی امیدیں تم سے تھیں، کیا تم ہمیں ان کی عبادت سے روکتے ہو جن کی عبادت باپ دادا سے ہوتی چلی آرہی ہے۔“

إذْ قَالَ لَهُمْ لَ ـوُهُمْ صَالِحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ، إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ اَمِيْنٌ فَاتَّقُوا اللهَ وَأَطِيعُونَ وَلَا تُطِيعُوا أَمْرَ الْمُسْرِفِينَ الَّذِينَ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ. (الشعراء:۱۴۲-۱۵۲)

"جب ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ کیا تمہیں اپنے بچاؤ کی کوئی فکر نہیں؟ دیکھو میں تمہارے اللہ کا معتبر رسول ہوں لہذا اللہ کی ناراضی سےبچو اور میری اطاعت قبول کرد....اور ان سے حد سے گزرنے والوں کی اطاعت نہ کرو جو زمین میں فساد برپا کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے ۔“

قومِ ابراهیم و نمرود: اس کے بعد حضرت ابراہیم کی قوم کا نمبر آتا ہے۔ اس قوم کا معاملہ خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ اس کے بادشاہ نمرود کے متعلق یہ عام غلط فہمی ہے کہ وہ اللہ کا منکر اور خود خدا ہونے کا مدعی تھا۔ حالانکہ وہ اللہ کی ہستی کا قائل تھا،اس کے خالق ومدبر کا ئنات ہونےکا معتقد تھا، اور صرف تیسرے، چوتھے اور پانچویں معنی کے اعتبار سے اپنی ربوبیت کا دعویٰ کرتا تھا۔ نیز یہ بھی عام غلام نہی ہے کہ یہ قوم اللہ سے بالکل نا واقف تھی اور اس کے الہ اور رب ہونے کی سرے سے قائل ہی نہ تھی۔ حالانکہ فی الواقع اس قوم کا معاملہ قوم نوح اور عاد اور محمود سے کچھ بھی مختلف نہ تھا۔وہ اللہ کےوجود کو بھی مانتی تھی ،اس کا رب ہوتا اور خالق ارض و سما اور مدبر کا ئنات ہونا بھی اسےمعلوم تھا، اس کی عبادت سے بھی وہ منکر نہ تھی ۔ البتہ اس کی گمراہی یہ تھی کہ ربوبیت بمعنی اول و دوم میں اجرام فلکی کو حصہ دار بجھتی تھی۔ اور اس بناء پر اللہ کے ساتھ ان کو بھی معبود قرار دیتی تھی۔ اور ربوبیت بمعنی سوم و چهارم و پنجم کے اعتبار سے اس نے اپنے بادشاہوں کو رب بنا رکھا تھا۔ قرآن کی تصریحات اس بارے میں اتنی واضح ہیں کہ تعجب ہوتا ہے کہ کس طرح لوگ اصل معاملہ کو سمجھنے سے قاصر رہ گئے. سب سے پہلے حضرت ابراہیم کے آغاز ہوش کا وہ واقعہ لیجئے جس میں نبوت سے پہلے ان کی تلاش حق کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔

فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَأى كَوْكَبًا قَالَ هَذَا رَبِّي فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَا أُحِبُّ الأفِلِينَ، فَلَمَّا رَى الْقَمَرَ بَازِغَا قَالَ هَذَا رَبِّي فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَئِن لَّمْ يَهْدِنِي رَبِّي لا كونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّالّين، فَلَمَّا وَالشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هَذَا رَبِّي هَذَا اكْبَرُ فَلَمَّا أقلَتْ قَالَ يقوم إنّي بَرَى مِمَّا تُشْرِكُونَ، إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السمواتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ (انعام: ۷۷-۸۰)

"جب اس پر رات طاری ہوئی تو اس نے ایک تارا دیکھا، کہنے لگا یہ میرا رب ہے۔ مگر جب وہ تارا ڈوب گیا تو اس نے کہا ڈوبنے والوں کو تو میں پسند نہیں کرتا، پھر جب چاند چمکتا ہوا دیکھا تو کہا، یہ میرا رب ہے مگر وہ بھی غروب ہو گیا تو کہا ،اگر میرےرب نےمیری رہنمائی نہ فرمائی تو یہ خطرہ ہےکہ کہیں میں بھی گمراہ لوگوں میں شامل نہ ہو جاؤں۔ پھر جب سورج کو روشن دیکھا تو کہا یہ میرا رب ہے، یہ سب سے بڑا ہے۔مگر جب وہ بھی چھپ گیا تو وہ پکار اٹھا کہ اسےبرادر ان قوم جو شرک تم کرتے ہو اس سے میرا کوئی تعلق نہیں میں نے تو سب طرف سے منہ موڑ کر اپنا رُخ اس کی طرف پھیر دیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔“

خط کشیدہ فقروں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جس سوسائٹی میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے آنکھ کھولی تھی اس میں آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے کا تصور، اور اس ذات کے رب ہونے کا تصور، ان سیاروں کی ربوبیت کے تصور سے الگ موجود تھا۔ اور آخر کیوں نہ موجود ہوتا جبکہ یہ لوگ ان مسلمانوں کی نسل سے تھے جو حضرت نوح (علیہ السلام) پر ایمان لائےتھے، اور ان کی قریبی رشتہ دار ہمسایہ اقوام ( عاد و شور ) میں پے در پے انبیاء علیہم السلام کےذریعہ سے دین اسلام کی تجدید بھی ہوتی چلی آرہی تھی (جاء لَهُمُ الرُّسُلُ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ) پس حضرت ابراہیم کو اللہ کے فاطر السمواتِ وَالْأَرْضِ اور رب ہونے کا تصور تو اپنےماحول سے مل چکا تھا، البتہ جو سوالات ان کے دل میں کھٹکتے تھے وہ یہ تھے کہ نظام ربوبیت میں اللہ کے ساتھ چاند سورج، اور سیاروں کے شریک ہونے کا جو خیل ان کی قوم میں پایا جاتا ہے، اور جس کی بنا پر یہ لوگ عبادت میں بھی اللہ کے ساتھ ان کو شریک ٹھہرا رہے ہیں، یہ کہاں تک منی بر حقیقت(١) ہے۔ چنانچہ نبوت سے پہلے اس کی جستجو انہوں نے کی اور طلوع و غروب کا انتظام ان کے لیے اس امر واقعی تک پہنچنے میں دلیل راہ بن گیا کہ فاطر السموات والارض کے سوا کوئی رب نہیں ہے۔ اسی بنا پر چاند کو غروب ہوتے دیکھ کر وہ فرماتے ہیں کہ اگر میرے رب، یعنی اللہ نے میری رہنمائی نہ فرمائی تو خوف ہے کہ کہیں میں بھی حقیقت تک رسائی پانے سے نہ رہ جاؤں، اور ان مظاہر سے دھوکا نہ کھا جاؤں جن سے میرے گرد و پیش لاکھوں انسان دھوکا کھا رہے ہیں۔

پھر جب حضرت ابراہیم نبوت کے منصب پر سرفراز ہوئے اور انہوں نے دعوت الی اللہ کا کام شروع کیا تو جن الفاظ میں وہ اپنی دعوت پیش فرماتے تھے ان پر غور کرنے سے وہ بات اور زیادہ واضح ہو جاتی ہے جو ہم نے اوپر بیان کی ہے۔ فرماتے ہیں:۔

١- یہاں اس امر کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ حضرت ابراہیم کے وطن آر کے متعلق آثار قدیمہ کی کھدائیوں میں جو انکشافات ہوئےہیں ان سےمعلوم ہوتا ہےکہ وہاں چندر ماں دیوتا کی پرستش ہوتی تھی جسےان کی زبان میں تار کہا جاتا تھا۔اور اس کےہمسایہ علاقہ میں جس کا مرکز کر سہ تھا سورج دیوتا کی عبادت ہوتی تھی جس کا نام ان کی زبان میں شماس تھا۔اس ملک کےفرماں روا خاندان کا بانی ارتمو تھا جو عرب میں جا کر نمرود ہو گیا اور اسی کےنام پر وہاں کےفرماں رواں کا لقب ہی نمرود قرار پایا، جیسے نظام الملک کے جانشین نظام کہلاتے ہیں۔

وَكَيْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَكْتُمْ وَلَا تَخَافُونَ انَّكُمُ اشركتم بالله مَالَمْ يُنَزِّلُ با عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا. (انعام:۸۲)

"اور آخر میں ان سے کس طرح ڈر سکتا ہوں جنہیں تم اللہ کا شریک ٹھہراتے ہو، جبکہ تم اللہ کے ساتھ ان کو شریک بناتے ہوئے نہیں ڈرتے جن کے البیت اور ربوبیت میں شریک ہونے پر اللہ نے تمہارے پاس کوئی سند نہیں بھیجی ہے۔“

وأَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِنْ دُون الله. (مریم: ۴۸)

" تم اللہ کے سوا اور جن جن سے دعائیں مانگتے ہو ان سے میں دست کش ہوتا ہوں۔“

قَالَ بَلْ رَّبِّكُمْ رَبُّ السَّمواتِ والأرْضِ الذِي فَطَرَهُنَّ قَالَ التَعْبُدُونَ مِنْ دون الله مالا ينفعُكُمْ شَيْئًا وَلَا يَضُرُّكُمْ. (انبياء: ۵۷-۲۲)

"کہا تمہارا رب تو صرف آسمانوں اور زمین کا رب ہی ہے جس نے ان سب چیزوں کو پیدا کیا ہے. کہا پھر کیا تم اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو تمہیں نفع ونقصان پہنچانے کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے ؟“

إِذْ قَالَ لَابِيْهِ وَقَوْمِهِ مَاذَا تَعْبُدُونَ أَنفُكًا الِهَةً دُونَ اللَّهِ تُرِيدُونَ فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعَلَمِينَ. (صفت : ۸۵-۸۷)

"جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا یہ تم کن کی عبادت کر رہے ہو ؟کیا اللہ کے سوا اپنے خود ساختہ انہوں کی بندگی کا ارادہ ہے؟ پھر رب العلمین کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟“۔

إِنَّا بُرَة وُا مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ اَبَدًا حَتَّى تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ. (المتحنہ : ٤)

( ابراہیم علیہ السلام اور اس کے ساتھی مسلمانوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے صاف کہہ دیا ) کہ ہمارا تم سے اور اللہ کے سوا جن جن کی عبادت تم کرتے ہو ان سب سے کوئی تعلق نہیں ، ہم تمہارے طریقے کو ماننے سے انکار کر چکے ہیں اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے بغض و عداوت کی بنا پڑ گئی ہے جب تک کہ تم اکیلے اللہ پر ایمان نہ لاؤ-

حضرت ابراہیم کے ان تمام ارشادات کو دیکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کے مخاطب وہ لوگ نہ تھے جو اللہ سے بالکل ناواقف اور اس کے رب العلمین اور معبود ہونے سے منکر یا خالی الذہن ہوتے۔ بلکہ وہ لوگ تھے جو اللہ کے ساتھ ربوبیت ) بمعنی اول و دوم) اور الہیت میں دوسروں کو شریک قرار دیتے تھے۔ اس لیے تمام قرآن میں کسی ایک جگہ بھی حضرت ابراہیم کا کوئی ایسا قول موجود نہیں ہے جس میں انہوں نے اپنی قوم کو اللہ کی ہستی اور اس کے الہ اور رب ہونے کا قائل کرنے کی کوشش کی ہوگی ، بلکہ ہر جگہ وہ دعوت اس چیز کی دیتے ہیں کہ اللہ ہی رب اور الہ ہے۔

اب نمرود کے معاملہ کو لیجئے ۔ اس سے حضرت ابراہیم کی جو گفتگو ہوئی اسے قرآن اس طرح نقل کرتا ہے:۔

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِى حَاجَّ إِبْرَاهِيمَ فِي رَبَّةٍ أَنْ اتَهُ اللَّهُ الْمُلْكُ إِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّيَ الَّذِي يُحْيِ وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا أَحْيِ وَأُمِيْتُ قَالَ إِبْرَاهِيمُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأتِ بهَا مِنَ الْمَغْرِب فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ . (بقره:۲۵۸)

" تم نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے ابراہیم سے اس کے رب کے بارے میں بحث کی،اس بنا پر کہ اللہ نےاسےحکومت دےرکھی تھی۔جب ابراہیم نےکہا کہ میرا رب وہ ہےجس کےہاتھ میں زندگی اور موت ہے،تو اس نےکہا زندگی اور موت میرےاختیار میں ہے۔ ابراہیم نےکہا، اچھا تو حقیقت یہ ہے کہ اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے اب تو ذرا اُ سے مغرب سے نکال لا۔یہ سن کر وہ کافر مبہوت ہو کر رہ گیا۔

اس گفتگو سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ جھگڑا اللہ کے ہونےیا نہ ہونے پر نہ تھا بلکہ اس بات پر تھا کہ ابراہیم علیہ السلام "رب" کے تسلیم کرتے ہیں۔ نمرود اول تو اُس قوم سے تعلق رکھتا تھا جو اللہ کی ہستی کو مانتی تھی۔ دوسرے جب تک کہ وہ بالکل ہی پاگل نہ ہو جاتا وہ ایسی صریح احمقانہ بات کبھی نہ کہہ سکتا تھا کہ زمین و آسمان کا خالق اور سورج اور چاند کو گرش دینے والا وہ خود ہے۔پس دراصل اس کا دعوی یہ نہ تھا کہ میں اللہ ہوں، یا رب السموت والارض ہوں،بلکہ اس کا دعویٰ صرف یہ تھاکہ میں اس کا مملکت کارب ہوں جس کی رعیت کا ایک فردا برا بینم ہے۔اور یہ رب ہونےکا دعوی بھی اسےربوبیت کےپہلےاور دوسرے مفہوم کے اعتبار سے نہ تھا، کیونکہ اس اعتبار سے تو وہ خود چاند اور سورج اور سیاروں کی ربوبیت کا قائل تھا، البتہ وہ تیرے، چوتھے اور پانچویں مفہوم کے اعتبار سے اپنی مملکت کا رب بنتا تھا۔ یعنی اس کا دھوئی یہ تھا کہ میں اس ملک کا مالک ہوں، اس کے سارے باشندے میرے بندے، میرا مرکزی اقتدار ان کے اجتماع کی بنیاد ہے، اور میرا فرمان اُن کے لیے قانون ہے۔ ان انهُ اللهُ الْمُلک کےالفاظ صریحا اس بات کی طرف اشارہ کر رہےکہ اس دعوائےربوبیت کی بنیاد بادشاہی کے زعم پر تھی۔ جب اسے معلوم ہوا کہ اس کی رعیت میں سے ابراہیم نامی ایک نو جوان اٹھا ہےجو نہ چاند اور سورج اور سیاروں کی فوق الفطری ربوبیت کا قائل ہےاور نہ بادشاہ وقت کی سیاسی و تمدنی ربوبیت تسلیم کرتا ہے، تو اسے تعجب ہوا اور اس نے حضرت ابراہیم کو بلا کر دریافت کیا کہ آخر تم کے رب مانتے ہو؟ حضرت ابراہیم نے پہلے فرمایا کہ میرا رب وہ ہے جس کے قبضہ قدرت میں زندگی اور موت کے اختیارات ہیں۔مگر اس جواب سے وہ بات کی تہ کو نہ پہنچ سکا اور یہ کہہ کر اس نے اپنی ربوبیت ثابت کرنی چاہی کہ زندگی اور موت کے اختیارات تو مجھے حاصل ہیں جسے چاہوں قتل کرادوں اور جس کی چاہوں جان بخشی کر دوں۔ تب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے بتایا کہ میں صرف اللہ کو رب مانتا ہوں، ربوبیت کے جملہ مفہومات کے اعتبار سے میرے نزدیک تنہا اللہ ہی رب ہے، اس نظام کائنات میں کسی دوسرے کی ربوبیت کے لیے گنجائش ہی کہاں ہو سکتی ہے جبکہ سورج کے طلوع و غروب پر وہ ذرہ برابر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ نمرود آدمی ذی ہوش تھا۔ اس دلیل کو سن کر اس پر یہ حقیقت کھل گئی کہ فی الواقع اللہ کی سلطنت میں اس کا دعوائے ربوبیت بجز ایک زعم باطل کے اور کچھ نہیں ہے، اسی لیے وہ دم بخود ہو کر رہ گیا، مگر نفس پرستی اور شخصی و خاندانی اغراض کی بندگی ایسی دامنگیر ہوئی کہ حق کے ظہور کے باوجود وہ خود مختارانہ حکمرانی کے منصب سے اتر کر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر آمادہ نہ ہوا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس گفتگو کو نقل کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَاللَّهُ لَا يَهْدِى القَوْمَ الظَّلِمِینَ ( مگر اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا ) یعنی اس ظہور حق کے بعد جو رویہ اسےاختیار کرنا چاہیے تھا اسے اختیار کرنے کے لیے جب وہ تیار نہ ہوا اور اس نے غاصبانہ فرماں روائی کر کے دنیا پر اور خود اپنے نفس پر ظلم کرنا ہی پسند کیا تو اللہ نے بھی اسے ہدایت کی روشنی عطا نہ کی، کیونکہ اللہ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ جو خود ہدایت کا طالب نہ ہو اس پر زبردستی اپنی ہدایت مسلط کردے۔

قوم لوط : قوم ابراہیم کےبعد ہمارے سامنےوہ قوم آتی ہے جس کی اصلاح پر حضرت ابراہیم کےبھیجے حضرت لوڈ مامور کیے گئے تھے۔اس قوم کےمتعلق بھی قرآن سے ہم کو یہ معلوم ہوتا ہےکہ وہ نہ تو اللہ کے وجود کی منکر تھی نہ اس بات کی منکر تھی کہ اللہ خالق اور رب بمعنی اول و دوم ہے۔البتہ اسے انکار اس سے تھا کہ اللہ ہی کو تیسرے، چوتھے اور پانچویں معنی میں بھی رب مانے اور اس کےمعتمد علیہ نمائندے کی حیثیت سے رسول کے اقتدار کو تسلیم کرے وہ چاہتی تھی کہ اپنی خواہش نفس کے مطابق خود جس طرح چاہے کام کرے۔ یہی اس کا اصلی جرم تھا اور اسی بنا پر وہ عذاب میں مبتلا ہوئی۔ قرآن کی حسب ذیل تصریحات اس پر شاہد ہیں:۔

إِذْ قَالَ لَهُمْ أَعُوهُمْ لُوْطٌ أَلَا تَتَّقُونَ إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ فَاتَّقُوا اللهَ وَأَطِيعُونِ وَمَا اسْتَلَكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ، إِنْ أَجْرِى إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَلَمِينَ. أَتَأْتُونَ الذكرَانَ مِنَ العَلَمِيْنَ وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمُ رَبُّكُمْ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ عَادُونَ. (الشعراء: ١٦٢ ١٦٣)

” جب ان کےبھائی لوط علیہ السلام نےان سےکہا کہ تم تقویٰ اختیار کرو؟ دیکھو میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں۔لہذا اللہ کے غضب سےبچو اور میری اطاعت کرو۔اس کام پر میں تم سےکوئی معاوضہ نہیں مانگا،میرا معاوضہ تو صرف رب العلمین کےذمہ ہے۔کیا دنیا کےلوگوں میں سےتم لڑکوں کی طرف جاتے ہو اور تمہارے رب نے تمہارے لیے جو بیویاں پیدا کی ہیں انہیں چھوڑ دیتے ہو؟ تم بڑے ہی حد سے گزرنے والے لوگ ہو ۔ “

ظاہر ہے کہ یہ خطاب ایسے ہی لوگوں سے ہو سکتا تھا جو اللہ کے وجود اور اس کے خالق اور پروردگار ہونے کے منکر نہ ہوں۔ چنانچہ جواب میں وہ بھی یہ نہیں کہتے کہ اللہ کیا چیز ہے؟ یادہ پیدا کرنے والا کون ہوتا ہے؟ یاوہ کہاں سے ہمارا رب ہو گیا ؟ بلکہ کہتے ہیں کہ :۔

لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ يَلُوطُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُخْرِجِينَ. (الشعراء: ١٦٧)

"اے لوظ ! اگر تم اپنی باتوں سے باز نہ آئے تو ملک سے نکال کر باہر کیے جاؤ گے۔“


وَلُوْطًا إِذْقَالَ لِقَوْمِةِ إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مَنْ أَحَدٍ مِّنَ الْعَلَمِينَ انَتَكُمْ لتَأْتُونَ الرِّجَالَ وَتَقْطَعُونَ السَّبيلَ وتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ فَما كَانَ جَوَابَ قَوْمِةٍ إِلَّا أَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللَّهِ إِنْ كُنتَ مِنَ الصَّدِقِين. (عنکبوت: ۹۲٫۲۸)

"اور ہم نے لوط کو بھیجا۔ جب اس نے قوم سے کہا کہ تم لوگ وہ فعل شنیع کرتے ہو جو تم سےپہلے دنیا میں کسی نےنہ کیا تھا،کیا تم مردوں سےشہوت رانی کرتےہو،راستوں پر ڈاکےمارتےہو، اور اپنی مجلسوں میں علانیہ ایک دوسرے کے سامنے بدکاریاں کرتے ہو؟ تو اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ لے آؤ ہم پر اللہ کا عذاب اگر تم سچے ہو۔"

کیا یہ جواب کسی منکرِ خدا قوم کا ہو سکتا تھا ؟ پس معلوم ہوا کہ ان کا اصلی جرم انگار الوہیت ور بوبیت نہ تھا، بلکہ یہ تھا کہ وہ فوق الفطری معنی میں اللہ کہ الہ اور رب مانتے تھے۔ لیکن اپنےاخلاق تمدن اور معاشرت میں اللہ کی اطاعت اور اس کے قانون کی پیروی کرنے سے انکار کرتےتھے اور اس کے رسول کی ہدایت پر چلنے کے لیے تیار نہ تھے۔

قوم شعیب : اس کے بعد اہل مدین اور اصحاب الا یکہ کو لیجیے جن میں حضرت شعیب علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے ۔ ان لوگوں کے متعلق ہمیں معلوم ہے کہ یہ حضرت ابراہیم کی اولاد سے تھے۔ اس لیےیہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا کہ وہ اللہ کے وجود اور اس کے الہ اور رب ہونے کے قائل تھے یا نہ تھے۔ان کی حیثیت در اصل ایک ایسی قوم کی تھی جس کی ابتدا اسلام سے ہوئی اور بعد میں وہ عقائد واعمال کی خرابیوں میں مبتلا ہو کر بگڑتی چلی گئی۔ بلکہ قرآن سےتو کچھ ایسا معلوم ہوتا ہےکہ وہ لوگ مومن ہونےکے بھی مدعی تھے۔چنانچہ بار بار حضرت شعیب ان سےفرماتےہیں کہ ”اگر تم مومن ہو تو تمہیں یہ کرنا چاہیے۔ حضرت شعیب کی ساری تقریروں اور ان کےجوابات کو دیکھنےسے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسی قوم تھی جواللہ کو مانتی تھی۔اسےمعبود اور پر ور دگار بھی تسلیم کرتی تھی مگر دوطرح کی گمرازیوں میں مبتلا ہو گئی تھی۔ ایک یہ کہ وہ فوق الفطری معنی میں اللہ کے سوا دوسروں کو بھی الہ اور رب سمجھنے لگی تھی ، اس لیے اس کی عبادت صرف اللہ کے لیے مختص نہ رہی تھی ۔دوسرے یہ کہ اس کےنزدیک اللہ کی ربوبیت کو انسان کےاخلاق، معاشرت،معیشت اور تمدن و سیاست سےکوئی سروکار نہ تھا، اس بنا پر وہ کہتی تھی کہ اپنی تمدنی زندگی میں ہم مختار ہیں، اپنے معاملات کو جس طرح چاہیں چلائیں۔


وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا قَالَ يَقَوْمِ اعْبُدُو الله مَالَكُمْ مِنْ اللَّهِ غَيْرُهُ قَدْ جَاءَ تُكُمْ بَيِّنَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ فَاوْفُوْ الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَ هُمُ . وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلاحِهَا، ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِن كُنتُمْ مُؤْمِنِينَ وَإِنْ كَانَ طَائِفَةٌ مِّنكُمُ امَنُوا بِالَّذِى أُرْسِلْتُ بِهِ وَطَائِفَةٌ لَمْ يُؤْمِنُوا فَاصْبِرُوا حَتَّى يَحْكُمَ الله بَيْنَنا وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ. (اعراف: ۸۵-۸۷)

"اور مدین کی طرف ہم نےان کےبھائی شعیب کو بھیجا۔ اس نے کہا اے برادر ان قوم! اللہ کی بندگی کرو کہ اس کےسوا تمہارا کوئی الہ نہیں ہے۔تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس روشن ہدایت آچکی ہے۔ پس تم ناپ تول ٹھیک کرو، لوگوں کو ان کی چیزوں میں گھانا نہ دیا کرو، اور زمین میں فساد نہ کرو جبکہ اس کی اصلاح کی جا چکی تھی۔اس میں تمہاری بھلائی ہے اگر تم مومن ہو۔ اگر تم میں سے ایک گروہ اس ہدایت پر جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں ایمان لاتا ہے اور دوسرا ایمان نہیں لاتا تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے اور وہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔“

ويقومُ اَوْفُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَ هُمْ وَلَا تَعْثَوْفِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ ، بَقِيَّتُ اللهِ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنتُمْ مُؤْمِنِينَ، وَمَا أَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيظ. قَالُو يَشُعَيْبُ اَصَلوتُكَ تَأمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا أَوْ أَنْ نَفْعَلَ فِي أَمْوَالِنَا مَا نَشُوءُ إِنَّكَ لَأَنْتَ الْحَلِيمُ الرَّشِيدُ. (هود: ۸۵-۸۷)

"اے برادرانِ قوم ! پیمانےاور تراز و انصاف کےساتھ پورے پورے ناپو اور تو لو ، لوگوں کو ان چیزوں میں گھاٹا نہ دو،اور زمین میں فساد نہ برپا کرتےپھرو،اللہ کی عنایت سےکاروبار میں جو بچت ہو وہی تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم مومن ہو۔ اور میں تمہارے اوپر کوئی نگہبان نہیں ہوں۔ انہوں نے جواب دیا اے شعیب ! کیا تمہاری نماز تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہم ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا سے ہوتی چلی آرہی ہے، یا یہ کہ ہم اپنے مال میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کرنا ترک کردیں؟ تم ہی تو ایک بردبار اور راست باز رہ گئے ہو؟“


فرعون اور آل فرعون : اب ہمیں فرعون اور اس کی قوم کو دیکھنا چاہیےجس کےباب میں نمرود اور اس کی قوم سےبھی زیادہ غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔عام خیال یہ ہےکہ فرعون نہ صرف خدا کی ہستی کا منکر تھا بلکہ خود خدا ہونے کا مدعی تھا۔ یعنی اس کا دماغ اتنا خراب ہو گیا تھا کہ دنیا کے سامنے کھل کھلا یہ دعوی کرتا تھا کہ میں خالق ارض و سما ہوں ، اور اس کی قوم اتنی پاگل تھی کہ اس کے دعوے پر ایمان لاتی تھی۔ حالانکہ قرآن اور تاریخ کی شہادت سےاصل حقیقت یہ معلوم ہوتی ہےکہ الوہیت ور بوبیت کےباب میں اس کی گمراہی نمرود کی گواہی سے، اور اس کی قوم کی گمراہی قوم نمرود کی گمراہی سے کچھ زیادہ مختلف نہ تھی ۔ فرق جو کچھ تھا وہ صرف اس بناء پر تھا کہ یہاں سیاسی اسباب سے بنی اسرائیل کےساتھ ایک قوم پرستانه ضد اور متعصبانہ ہٹ دھرمی پیدا ہو گئی تھی اس لیے محض عناد کی بنا پر اللہ کو الہ اور رب ماننے سے انکار کیا جاتا تھا اگر چہ دلوں میں اس کا اعتراف چھپا ہوا تھا۔ جیسا کہ آج کل بھی اکثر دہریوں کا حال ہے۔

اصل واقعات یہ ہیں کہ حضرت یوسف کو جب مصریوں میں اقتدار حاصل ہوا تو انہوں اپنی پوری قوت اسلام کی تعلیم پھیلانےمیں صرف کردی۔اور سرزمین مصر پر اتنا گہرا نقش مرتسم کیا کہ صدیوں تک کسی کے منائے نہ مٹ سکا ۔ اُس وقت چاہے تمام اہل مصر نے دین حق قبول نہ کر لیا ہو ۔ مگر یہ ناممکن تھا کہ مصر میں کوئی شخص اللہ سےناواقف رہ گیا ہو اور یہ نہ جان گیا ہو کہ وہی خالق ارض وسما ہے ۔ یہی نہیں بلکہ ان کی تعلیمات کا کم سے کم اتنا اثر ہر مصری پر ضرور ہو گیا تھا کہ وہ فوق الفطری معنوں میں اللہ کو الہ اللہ اور رب الارباب تسلیم کرتا تھا اور کوئی مصری اللہ کی الوہیت کا منکر نہ رہا تھا۔البتہ جو ان میں کفر پر قائم رہ گئےتھےوہ الوہیت در بوبیت میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے تھے۔ یہ اثرات حضرت موسیٰ کی بعثت کےوقت تک باقی تھے۔ چنانچہ اس کا صریح ثبوت وہ تقریر ہےجو فرعون کےدربار میں ایک قبلی سردار نے کی تھی۔ جب فرعون نےحضرت موسیٰ سےقتل کا ارادہ ظاہر کیا تو اس کےدربار کا یہ امیر جو مسلمان ہو چکا تھا مگر اپنا اسلام چھپائے تھا،بے قرار ہو کر بول اٹھا:۔

اتَقْتُلُونَ رَجُلا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللهُ وَقَدْ جَاءَ كُم بِالْبَيِّنَتِ مِنْ رَّبِّكُمْ وَإِنْ يُك كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ. وَإِنْ يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِى مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ ، يقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ظَاهِرِينَ فِي الْأَرْضِ فَمَنْ يَّنْصُرُنَا مِنْ بَأْسِ اللهِ إِنْ جَاءَ نَا قَوْمِ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ مِثْلَ يَوْمِ الْأَحْزَاب مِثْلَ دَابِ قَوْمٍ نُوحٍ وَعَادٍ وثَمُودَ وَالَّذِينَ مِنْ بَعْدِهِمْ وَلَقَدْ جَاءَ كُمْ يُوسُفُ مِنْ قَبْلُ بالْبَيِّنَتِ فَمَازِلْتُمْ فِي شَكٍّ مِّمَّا جَاءَ كُم بِهِ حَتَّى إِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ يُبْعَتَ اللهُ مِنْ بَعْدِهِ رَسُولًا ..... وَيَقَوْم مَالِي ادْعُوكُمْ إِلَى النَّجوةِ وَتَدْعُونَنِي إِلَى النَّارِ، تَدْعُونَنِي لا كَفَرَ بِاللَّهِ وَاشْرِكَ بِهِ مَا لَيْسَ لِى بِهِ عِلْمٌ وأَنَا ادْعُوكُمْ إِلَى الْعَزِيزِ الْغَفَّارِ. (المومن: ۲۸-۴۲)

" کیا تم ایک شخص کو اس لیے قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔ حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سےتمہارے سامنے کھلی کھلی نشانیاں لایا ہے؟ اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کےجھوٹ کا وبال اس پر ضرور پڑے گا۔ لیکن اگر وہ سچا ہے تو جس انجام سے وہ تمہیں ڈرا رہا ہےاس میں سے کچھ نہ کچھ تو تم پر نازل ہو کے رہے گا۔ یقین جانو کہ اللہ کی حد سے بڑھے ہوئے جھوٹےآدمی کو فلاح کا راستہ نہیں دکھاتا۔ اے برادر ان قوم! آج تمہارےہاتھ میں حکومت ہے،زمین میں تم غالب ہو، مگر کل اللہ کا عذاب ہم پر آجائےتو کون ہماری مدد کرے گا؟- - - اے برادران قوم! میں ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر وہ دن نہ آجائے جو بڑی بڑی قوموں پر آچکا ہےاور وہی انجام تمہارا نہ ہو، جو قوم نوح اور عاد اور ثمود اور بعد کی قوموں کا ہوا۔ اس سےپہلے یوسف (علیہ السلام ) تمہارے پاس روشن نشانیاں لے کر آئے تو تم اس چیز کے متعلق شک میں پڑے رہےجیسے وہ لائے تھے ۔ پھر جب ان کا انتقال ہو گیا تو تم نے کہا کہ اللہ ان کے بعد کوئی رسول نہ بھیجےگا اور رائے برادر ان قوم یہ عجیب معاملہ ہے کہ میں تمہیں نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھےآگ کی طرف دعوت دیتے ہو تم مجھے اس طرف بلاتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ ان کو شریک ٹھہراؤں جن کے شریک ہونے پر میرے پاس کوئی علمی ثبوت نہیں ہے، اور میں تمہیں اس کی طرف بلاتا ہوں جو سب سے زبردست ہے اور بخشنے والا ہے۔“

١- اگر تو راہ کے تاریخی بیان پر اعتماد کیا جائے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مصر کی آبادی کا تقریبا پانچواں حصہ مسلمان ہو چکا تھا۔ توراۃ میں بنی اسرائیل کی جو مردم شماری درج کی گئی ہے اس کی رُو سے وہ لوگ جو حضرت موسیٰ کے ساتھ مصر سے نکلے تھے تقریباً ۱۲۰ کھ تھے۔ اور مصر کی آبادی اس زمانہ میں ایک کروڑ سےزیادہ نہ ہوگی۔تو راہ میں ان سب لوگوں کو بنی اسرائیل کی حیثیت سےپیش کیا گیا ہےلیکن کسی حساب سےیہ ممکن نظر نہیں آتا کہ حضرت یعقوب کے١٢ بیٹوں کی اولاد سوسال کےاندر بڑھ کر ۲۰لاکھ ہوگئی ہو ۔لہذا قیاس یہی چاہتا ہے کہ مصر کےلوگوں میں سے ایک بہت بڑی تعداد مسلمان ہو کر بنی اسرائیل میں شامل ہو گئی ہو گی اور ہجرت کے موقع پر ان مصری مسلمانوں نے بھی اسرائیلی مسلمانوں کا ساتھ دیا ہوگا، اس سے اس تبلیغی کام کا اندازہ ہو سکتا ہے جو حضرت یوسف اور ان کے خلفاء نے مصر میں کیا۔

یہ پوری تقریر اس بات پر شاہد ہےکہ حضرت یوسف علیہ السلام کی عظیم الشان شخصیت کا اثر کئی صدیاں گزر جانے کے بعد بھی اس وقت تک باقی تھا اور اس جلیل القدر نبی کی تعلیم سے متاثر ہونے کے باعث یہ قوم جہالت کے اس مرتبے پر نہ تھی کہ اللہ کی ہستی سے بالکل ہی نا واقف ہوتی یا یہ نہ جانتی کہ اللہ رب اور الہ ہے اور قوائے فطرت پر اس کا غلبہ وقہر قائم ہے اور اس کا غضب کوئی ڈرنے کی چیز ہے۔ اس کے آخری فقرے سے یہ بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم اللہ کی الوہیت اور ربوبیت کی قطعی منکر نہ تھی بلکہ ان کی گمراہی وہی تھی جو دوسری قوموں کی بیان ہو چکی ہے۔ یعنی ان دونوں حیثیتوں میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرانا ۔

شبہ جس وجہ سے واقع ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ فرعون حضرت موسیٰ کی زبان سے إِنَّا رَسُولُ رَبِّ الْعَلَمِينَ (ہم رب العلمین کےرسول ہیں ) سن کر پوچھتا ہے وَمَا رَبُّ الْعَلَمِينَ (رَبِّ العلمین کیا چیز ہے؟) اپنے وزیر ہاماں سے کہتا ہے کہ میرےلیےایک اونچی عمارت بنا کہ میں موسیٰ کے اللہ کو دیکھوں۔حضرت موسیٰ کو دھمکی دیتا ہے کہ میرے سوا کسی اور کو تم نے اللہ بنایا تو میں تمہیں قید کر دوں گا۔ ملک بھر میں اعلان کرتا ہے کہ میں تمہارا رب اعلیٰ ہوں ۔ اپنے درباریوں سے کہتا ہے کہ میں اپنے سوا تمہارے کسی الہ کو نہیں جانتا۔ اس قسم کے فقرات دیکھ کر لوگوں کو گمان ہوا ہے کہ شاید وہ اللہ کی ہستی ہی کا منکر تھا،رب العالمین کے تصور سےبالکل خالی الذہن تھا اور اپنےآپ ہی کو واحد معبود سمجھتا تھا۔مگر اصل واقعہ یہ ہےکہ اس کی یہ تمام باتیں قوم پرستانہ ضد کی وجہ سے تھیں۔ حضرت یوسف کے زمانہ میں صرف یہی نہیں ہوا تھا کہ آنجناب کی زبر دست شخصیت کے اثر سےاسلام کی تعلیمات مصر میں پھیل گئی تھیں،بلکہ حکومت میں جو اقتدار ان کو حاصل ہوا تھاان کی بدولت بنی اسرائیل مصر میں بہت بااثر ہو گئےتھے۔تین چار سو سال تک یہ اسرائیلی اقتدار مصر پرچھایا رہا۔ پھر وہاں اسرائیلیوں کے خلاف قوم پرستانہ جذبات پیدا ہونے شروع ہوئے۔ یہاں تک کہ ان کے اقتدار کو الٹ پھینکا گیا اور ایک مصری قوم پرست خاندان فرماں روا ہو گیا۔ان نئےفرماں رواؤں نےمحض اسرائیلیوں کو دبانےاور کچلنےہی پر اکتفا نہ کیا بلکہ دور یوسفی کےایک ایک اثر کو منانےاور اپنے قدیم جاہلی مذہب کی روایات کو تازہ کرنےکی کوشش کی۔ اس حالت میں جب حضرت موسیٰ تشریف لائے تو ان لوگوں کو خطرہ ہوا کہ کہیں اقتدار پھر ہمارے ہاتھ سے نکل کر اسرائیلیوں کے ہاتھ میں نہ چلا جائے۔ یہی عناد اور ہٹ دھرمی کا جذبہ تھا جس کی بنا پر فرعون چند را چند را کر حضرت موسیٰ سے پوچھتا تھا کہ رب العلمین کیا ہوتا ہے؟ میرے سوا اور الہ کون ہو سکتا ہے؟ سے پوچھتا تھا کہ ور نہ در اصل اصل وہ رب العلمین سے بے خبر نہ تھا۔ اس کی اور اس کے اہل در یاد کی گفتگوئیں اور حضرت موسیٰ کی جو تقریریں قرآن میں آئی ہیں، ان سب سے یہ حقیقت بین طور پر ثابت ہوتی ہے۔مثلاً ایک موقع پر فرعون اپنی قوم کو یہ یقین دلانے کے لیے کہ موسیٰ خدا کے پیغمبر نہیں ہیں، کہتا ہے:۔

فَلَوْلَا الْقِيَ عَلَيْهِ أَسْوِرَةٌ مِنْ ذَهَبٍ أَوْجَاءَ مَعَهُ الْمَلَئِكَةُ مُقْتَرِنِينَ. (الزخرف:۵۳)

"تو کیوں نہ اس کے لیےسونےکےکنگن اتارے گئے ؟ یا فرشتےصف بستہ ہو کر اس کےساتھ کیوں نہ آئے؟“

کیا یہ بات ایک ایسا شخص کہ سکتا تھا جو اللہ اور ملائکہ کے تصور سے خالی الذہن ہوتا ؟ ایک اور موقع پر فرعون اور حضرت موسیٰ کے درمیان یہ گفتگو ہوتی ہے:۔

. فَقَالَ لَهُ فِرْعَوْنُ انّي لَأَظُنُّكَ يَمُوسَى مَسْحُورًا قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا أَنْزَلَ هؤلاء إِلَّا رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ بَصَائِر وَإِنّى لاظنك يفِرْعَوْنَ مَثبُورًا. (بنی اسرائیل: ۱۰۱-۱۰۲)

"پس فرعون نے اس سے کہا کہ اے موسیٰ میں تو سمجھتا ہوں کہ تیری عقل خبط ہوگئی ہے۔موسیٰ نے جواب دیا تو خوب جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں رب زمین و آسمان کے سوا کسی ور کی نازل کی ہوئی نہیں ہیں ۔ مگر میرا خیال ہے کہ اے فرعون تیری شامت ہی آگئی ہے۔"


فَلَمَّا جَاءَ تُهُمْ آيَاتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوا هَذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ. وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتُهَا أنفُسَهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا (اتمل ۱۳-۱۳)

"جب ہماری نشانیاں ان کےسامنےعلانیہ نمایاں ہو گئیں تو انہوں نےکہا یہ صریح جادو ہے۔ ان کے دل اندر سے قائل ہو چکے تھے مگر انہوں نے محض شرارت اور تکبر وسرکشی کی بنا پر ماننےسے انکار کیا۔“


قَالَ لَهُمْ مُوسَى وَيُلَكُمْ لَا تَفْتَرُوا عَلَى اللهِ كَذِبًا فَيُسْحِتِكُمْ بِعَذَابٍ وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرى فَتَنازَعُوا أَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ وَأَسَرُّو النَّجْوَى قَالُوا إِنْ هَذَانِ لَسْجِرَان يُرِيْدَانِ أَنْ تُخْرِجُكُمْ مِنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِ هِمَا وَيَذْهِبَا بِطَرِيقَتِكُمُ الْمُثْلَى. ( طہ : ٦١- ٦٣)

"موسی نےان سے کہا تم پر افسوس ہے۔ اللہ پر جھوٹ افتراء نہ باندھو ورنہ وہ سخت عذاب سے تمہیں تباہ کر دے گا۔ اور افتراء جس نے بھی باندھا ہے وہ نامراد ہو کر ہی رہا ہے۔ یہ سن کر لوگ آپس میں ردو کر کرنےلگے اور خفیہ مشورہ ہوا جس میں کہنے والوں نے کہا یہ دونوں (موسیٰ دہارون) تو جادو گر ہیں۔ چاہتےہیں کہ اپنےجادو کےزور سےتمہیں تمہاری سرزمین سے بےدخل کر دیں اور تمہارے مثالی ( آئیڈل ) طریق زندگی کو مناد ہیں ۔"

ظاہر ہے کہ اللہ کے عذاب سے ڈرانے اور افتراء کے انجام سے خبر دار کرنے پر ان کےدر میان رق و کراسی لیے شروع ہو گئی تھی کہ ان لوگوں کے دلوں میں کہیں تھوڑا بہت اثر خدا کی عظمت اور اس کے خوف کا موجود تھا۔ لیکن جب ان کے قوم پرست حکمران طبقہ نے سیاسی انقلاب کا خطرہ پیش کیا ، اور کہا کہ موسیٰ اور ہارون کی بات مانے کا انجام یہ ہو گا کہ مصریت پھر اسرائیلیت سےمغلوب ہو جائے گی تو ان کے دل پھر سخت ہو گئےاور سب نےبالا تفاق رسولوں کا مقابلہ کرنےکی ٹھان لی۔

اس حقیقت کےواضح ہو جانےکےبعد ہم بآسانی یہ تحقیق کر سکتےہیں که حضرت موسیٰ اور فرعون کے درمیان اصل جھگڑا کس بات پر تھا،فرعون اوراس کی قوم کی حقیقی گمراهی کس نوعیت کی تھی،اور فرعون کس معنی میں الوهیت در ربوبیت کا مدعی تھا۔ اس غرض کے لیے قرآن کی حسب ذیل آیات ترتیب وار ملاحظه کیجئے۔

ا۔ فرعون کے درباریوں میں سے جو لوگ حضرت موسی کی دعوت کا استحصال کرنے پر زور دیتے تھے وہ ایک موقع پر فرعون کو خطاب کر کے کہتے ہیں:۔

اَتَذَرُ مُوسَى وَقَوْمَهُ لِيُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَيَذَرَكَ وَالِهَتَكَ. (اعراف: ۱۲۷)

" کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ دیں گے کہ وہ ملک میں فساد پھیلائے اور آپ کےانہوں کو چھوڑ دے“۔

دوسری طرف انہی درباریوں میں سے جو شخص حضرت موسی پر ایمان لے آیا تھا وہ ان لوگوں کو خطاب کر کے کہتا ہے۔“

تَدْعُونَنِي لَا كَفَرَ بِاللَّهِ وَأَسْرِكَ بِهِ مَالَيسَ لِى بِهِ عِلْمٌ (المومن (۳۲)

" تم مجھے اس طرف بلاتے ہو کہ میں اللہ سے کفر کروں اور اس کے ساتھ ان کو شریک کروں جن کے شریک ہونے کے لیے میرے پاس کوئی علمی ثبوت نہیں ۔“

ان دونوں آیتوں کو جب ہم ان معلومات کے ساتھ ملا کر دیکھتے ہیں جو تاریخ و آثار قدیمہ کے ذریعہ سے ہمیں اس زمانہ کے اہل مصر کے متعلق حاصل ہوئی ہیں تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ فرعون خود بھی اور اس کی قوم کے لوگ بھی ربوبیت کے پہلے اور دوسرے معنی کے اعتبار سے بعض دیوتاؤں کو خدائی میں شریک ٹھہراتے تھے اور ان کی عیادت کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ اگر فرعون فوق الفطری معنوں میں خدا ہونے کا مدعی ہوتا، یعنی اگر اس کا دعویٰ نہیں ہوتا کہ سلسلہ اسباب پر وہ خود حکمران ہے اور اس کےسوازمین و آسمان کا الہ ورب کوئی نہیں ہے،تو وہ دوسرےانہوں کی پرستش نہ کرتا ہے(١)

١- بعض مفسرین نے محض اس مفروضه پر کہ فرعون خود الہ العالمین ہونے کا دعوئی رکھتا تھا،سورہ اعراف کی مذکورہ متن آیت میں اٹھنگ کی قرآت اختیار کی ہے اور اللہ بمعنی عبادت لیا ہے۔ یعنی ان کی قرآت کے مطابق آیت کا ترجمہ یوں ہوگا کہ آپ کو اور آپ کی عبادت کو چھوڑ دے ۔ لیکن اول تو یہ قرآت شاذ ہے اور معروف قرآت کے خلاف ہے، دوسرے وہ مفروضہ ہی سرے سے بے بنیاد ہے جس پر یہ قرآت اختیار کی گئی ہے۔ تیسرے اللہ کے معنی عبادت کے علاوہ معبودہ یا دیوی کے بھی ہو سکتے ہیں۔ سورج کے لیے عرب جاہلیت میں الهة بی کا لفظ استعمال ہوتا تھا اور یہ معلوم ہے کہ بالعموم


يَا أَيُّهَا الْمَلَاءُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ إِلَهِ غَيْرِى. (القصص: ۳۸)

"لوگو! میں تو اپنے سوا کسی الہ کو جانتا نہیں ہوں۔“

لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلَهَا غَيْرِى لَا جُعَلْنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِيْنَ. (الشعرا :٢٩)

"اے موسیٰ ! اگر میرے سوا تو نے کسی کو الہ بنایا تو میں تجھے قیدیوں میں شامل کر دوں گا ۔“

ان الفاظ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ فرعون اپنے سوا دوسرے تمام انہوں کی نفی کرتا تھا، بلکہ اس کی اصل غرض حضرت موسیٰ کی دعوت کو رد کرنا تھا۔ چونکہ حضرت موسیٰ ایک ایسے اللہ کی طرف بلا رہے تھے جو صرف فوق الفطری معنی ہی میں معبود نہیں ہے بلکہ سیاسی و تمدنی معنی میں امر و نہی کا مالک اور اقتدار اعلیٰ کا حامل بھی ہے، اس لیے اس نے اپنی قوم سے کہا کہ تمہارا ایسا الہ تو میرے سوا کوئی نہیں ہے، اور حضرت موسیٰ کو دھمکی دی کہ اس معنی میں میرے سوا کسی کو الہ بناؤ گے تو جیل کی ہوا کھاؤ گے۔

نیز قرآن کی ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے، اور تاریخ و آثار قدیمہ سے اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ فراعنه مصر محض حاکیت مطلقه (Absolute Sovereignty) ہی کےمدعی نہ تھےبلکہ دیوتاؤں سے اپنا رشتہ جوڑ کر ایک طرح کی قدوسیت کا بھی دعویٰ رکھتےتھے تا کہ رعایا کےقلب و روح پر ان کی گرفت خوب مضبوط ہو جائے۔ اس معاملہ میں تنہا فراعنہ ہی منفرد نہیں ہیں،دنیا کے اکثر ملکوں میں شاہی خاندانوں نے سیاسی حاکمیت کے علاوہ فوق الفطری الوهیت در بوتیت میں بھی کم و بیش حصہ بٹانے کی کوشش کی ہے اور رعیت کےلیےلازم کیا ہے کہ وہ ان کےآگے عبودیت کے کچھ نہ کچھ مراسم ادا کرے۔ لیکن دراصل یہ محض ایک ضمنی چیز ہے۔ اصل مقصد سیاسی حاکمیت کا استحکام ہوتا ہے اور اس کےلیےفوق الفطری الوهیت کا دعویٰ محض ایک تدبیر کےطور پر استعمال کیا جاتا ہےاسی لیےمصر میں اور دوسرےجاہلیت پرست ملکوں میں بھی ہمیشہ سیاسی زوال کےساتھ ہی شاہی خاندانوں کی الوہیت بھی ختم ہوتی رہی ہے۔ اور تخت جس جس کے پاس گیا ہے الوہیت بھی اسی کی طرف منتقل ہوتی چلی گئی ہے۔

٣۔ فرعون کا اصلی دعوی فوق الفطری خدائی کا نہیں بلکہ سیاسی خدائی کا تھا۔وہ ربوبیت کےتیسرے چوتھےاور پانچویں معنی کےلحاظ سےکہتا تھا کہ میں سرزمین مصر اور اس کےباشندوں کا رت اعلی (Over-Lord) ہوں۔اس ملک اور اس کےتمام وسائل و ذرایع کا مالک میں ہوں۔یہاں کی حاکمیت مطلقہ کا حق مجھ ہی کو پہنچتا ہے یہاں کے تمدن و اجتماع کی اساس میری ہی مرکزی شخصیت ہے۔ یہاں قانون میرے سوا کسی اور کا نہ چلے گا۔ قرآن کے الفاظ میں اس کےدعوی کی بنیاد یہ تھی:-

وَنَادَى فِرْعَوْنُ فِى قَوْمِهِ قَالَ يَقَوم اليْسَ لِي مُلْكُ مِصْرَ وَهَذِهِ الْأَنْهرُ تَجْرِى مِنْ تَحْتِى أَفَلَا تُبْصِرُونَ. (الزخرف ۵۱)

"اور فرعون نے اپنی قوم میں منادی کی کہ اے قوم! کیا میں ملک مصر کا مالک نہیں ہوں؟ اوریہ نہریں میرے ماتحت نہیں چل رہی ہیں؟ کیا تم دیکھتے نہیں ہو ؟“

یہ وہی بنیاد تھی جس پر نمرود کا دعوائے ربوبیت منی تھا ( حَاجَّ إِبْرَاهِيمَ فِي رَبِّهِ أَنْ الهُ اللَّهُ الْمُلْكَ) اور اسی بنیاد پر حضرت یوسف کا ہم عصر بادشاہ بھی اپنے اہلِ ملک کا رب بنا ہوا تھا۔

٤- حضرت موسیٰ کی دعوت جس پر فرعون اور آل فرعون سے ان کا جھگڑا تھا، دراصل یہ تھی کہ رب العلمین کےسوا کسی معنی میں بھی کوئی دوسرا اللہ اوررب نہیں ہےوہی تنہا فوق الفطری معنی میں بھی اللہ اور رب ہے،اور سیاسی و اجتماعی معنی میں بھی۔پرستش بھی اسی کی ہو، بندگی واطاعت بھی اسی کی،اور پیروی قانون بھی اسی کی۔نیز یہ کہ صریح نشانیوں کےساتھ اس نےمجھے اپنا نمائندہ مقرر کیا ہے،میرے ذریعہ سےوہ اپنےامر و نہی کےاحکام دےگا،لہذا اس کےبندوں کی عنان اقتدار تمہارے ہاتھ میں نہیں،میرےہاتھ میں ہونی چاہیے۔اسی بنا پر فرعون اور اس کے اعیان حکومت بار بار کہتے تھے کہ یہ دونوں بھائی ہمیں زمین سےبےدخل کر کےخود قابض ہونا چاہتےہیں اور ہمارےملک کےنظام مذہب و تمدن کو مٹا کر اپنا نظام قائم کرنے کے درپے ہیں۔

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَى بِايْتِنَا وَسُلْطَنٍ مُّبِينٍ إِلَى فِرْعَوْنَ وَمَلَائِهِ فَاتَّبَعُوا أَمْرَ فِرْعَوْنَ وَمَا أَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيد. (ہود -۹۷)

"ہم نے موسیٰ کو اپنی آیات اور صریح نشان ماموریت کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداران قوم کی طرف بھیجا تھا، مگر ان لوگوں نے فرعون کے امر کی پیروی کی۔ حالانکہ کہ فرعون کا امر راستی پر نہ تھا"۔

وَلَقَدْ فَتَناقَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَاءَ هُمْ رَسُولٌ كَرِيمٌ أَنْ اَدُّوا إِلَى عِبَادَ اللَّهِ إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ وَأَنْ لَّا تَعْلُوا عَلَى اللهِ إِلَى اتِيْكُمُ يُسلطنٍ مُّبِينِ (الدخان: ۱۹۱۷)

"اور ہم نے ان سے پہلے فرعون کی قوم کو آزمائش میں ڈالا تھا۔ ایک معزز رسول ان کےپاس آیا اور اس نے کہا کہ اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کرو۔ میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں۔ اور اللہ کے مقابلہ میں سرکشی نہ کرو، میں تمہارے سامنے صریح نشان ماموریت پیش کرتا ہوں "۔

إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا، فَعَصَى فِرْعَوْنُ الرَّسُولَ فَاَخَذْنَهُ أَخُذَا وَّبِيلا. (المزمل: ۱۵-۱۶)

"(اے اہل مکہ!) ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے جو تم پر گواہی دینے والا ہے،اسی طرح جیسے ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا۔ پھر فرعون نے اس رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے اسے سختی کے ساتھ پکڑا۔“

قَالَ فَمَنْ رَبَّكُمَا يَمُوسى قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى. (طہ : ٤٩- ٥٠)

"فرعون نےکہا اے موسیٰ (اگر تم نہ دیوتاؤں کو رب مانتےہو نہ شاہی خاندان کو ) تو آخر تمہارا رب کون ہے؟ موسی نے جواب دیا، ہمارا رب وہی ہے جس نے ہر چیز کو اس کی مخصوص ساخت عطا کی پھر اسے اس کے کام کرنے کا طریقہ بتایا۔“

قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَارَبُّ الْعَلَمِينَ ، قَالَ رَبُّ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا إِنْ كُنتُمْ مُوْقِنِينَ . قَالَ لِمَنْ حَوْلَةَ الَا تَسْتَمِعُونَ. قَالَ رَبُّكُمْ وَرَبُّ البَاءِ كُمُ الْأَوَّلِينَ. قَالَ إِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِى أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ لَمَجْنُونَ . قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَيْنَهُمَا إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ. قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَهَا غَيْرِي لَا جُعَلَنَّكَ مِنَ اسْجُوْنِينَ (الشعراء: ۲۳-۲۹)

"فرعون نے کہا اور یہ رب العالمین کیا ہے؟ موسیٰ نے جواب دیازمین و آسمان اور ہر اس چیز کا رب جو ان کے درمیان ہے اگر تم یقین کرنے والے ہو۔ فرعون اپنے گردو پیش کے لوگوں سےبولا ، سنتے ہو؟ موسٹی نے کہا تمہارا رب بھی اور تمہارے آباؤ اجداد کا رب بھی۔ فرعون بولا تمہارےیہ رسول صاحب جو تمہارے طرف بھیجےگئےہیں، بالکل ہی پاگل ہیں۔ موسٹی نےکہا مشرق اور مغرب اور ہر اس چیز کا رب جو ان کےدرمیان ہے اگر تم کچھ عقل رکھتے ہو۔ اس پر فرعون بول اٹھا کہ اگر میرے سوا تو نے کسی اور کوالہ بنایا تو میں تجھے قیدیوں میں شامل کر دوں گا۔"

قَالَ اجْتَتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ أَرْضِنَا بِسِجُركَ يَمُوسى. (:۵۷)

"فرعون نے کہا اے موسیٰ! کیا تو اس لیے آیا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے ہم کو ہماری زمین سے بے دخل کر دے؟“

وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُونِي أَقْتُلْ مُوسَى وَالْيَدْعُ رَبَّهُ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُبَدِّلَ دِيْنَكُمْ أَوْ أنْ يُظْهِرَ فِي الْأَرْضِ الْفَسَادَ. (المؤمن: ٢٦)

"اور فرعون نے کہا چھوڑو مجھے کہ میں موسی کو قتل کردوں اور وہ اپنے رب کو مدد کے لیے پکارہ دیکھے۔ مجھے خطرہ ہے کہ وہ تمہارے دین کو بدل ڈالے گا یا ملک میں فساد برپا کرے گا۔“

قَالُو إِنْ هَذَانِ لَسْجِرَانِ يُرِيْدَانِ أَنْ يُخْرِجُكُمْ مِّنْ أَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَيَذْهَبًا بِطَرِيقَتِكُمُ المُثلى. (٦٣)

"انہوں نے کہا کہ یہ دونوں تو جادو گر ہیں۔ چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تم کو تمہاری زمین سے بے دخل کریں اور تمہارے مثالی طریق زندگی کو مٹا دیں۔“

ان تمام آیات کو ترتیب وارد یکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ربوبیت کے باب میں وہی ایک گمراہی جو ابتدا سے دنیا کی مختلف قوموں میں چلی آرہی تھی ارضِ نیل میں بھی ساری ظلمت اسی کی تھی اور وہی ایک دعوت جو ابتدا سے تمام انبیاء دیتے چلے آرہے تھے، موسیٰ و ہارون علیہما السلام بھی اسی کی طرف بلاتے تھے۔

یہود و نصاری: قوم فرعون کے بعد ہمارے سامنے بنی اسرائیل اور وہ دوسری قومیں آتی ہیں جنہوں نےیہودیت اور عیسائیت اختیار کی۔ ان کےمتعلق یہ تو گمان بھی نہیں کیا جا سکتا کہ یہ لوگ اللہ کی ہستی کے منکر ہوں گے یا اس کو الہ اور رب نہ مانتے ہوں گے۔ اس لیے خود قرآن نے ان کے اہل کتاب ہونے کی تصدیق کی ہے پھر سوال یہ ہے کہ ربوبیت کے باب میں ان کے عقیدے اور طرز عمل کی وہ کونسی خاص غلطی ہے جس کی بنا پر قرآن نے ان لوگوں کو گمراہ قرار دیا ہے؟ اس کا مجمل جواب خود قرآن ہی سے ملتا ہے:۔

قُلْ يَاهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ غَيْرَ الْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعُوا أَهْوَاءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوا مِنْ قَبْلُ وَأَضَلُّوا كَثِيرًا وَضَلُّوا عَنْ سَوَاءِ السَّبِيْلِ. (المائده: ۷۷)

"کہو اے اہلِ کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو، اور ان قوموں کے فاسد خیالات کی پیروی نہ کرو جو تم سے پہلے گمراہ ہو چکی ہیں، جنہوں نے بہتوں کو گمراہی میں مبتلا کیا اور خود بھی راہِ راست سے بھٹک گئیں۔"

اس سے معلوم ہوا کہ یہودی اور عیسائی قوموں کی گمراہی بھی اصلا اسی نوعیت کی ہے جس میں ان سے پہلےکی قو میں ابتداء سےمبتلا ہوتی چلی آئی ہیں۔ نیز اس سے یہ بھی پتہ چل گیا کہ یہ گمراہی ان کے اندر خلوفی الدین کے راستہ سے آئی ہے۔ اب دیکھیے کہ اس اجمال کی تفصیل قرآن کس طرح کرتا ہے۔

وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرُ ابْنُ اللهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللهِ. (التوبه: ۳۰)

” یہودیوں نے کہا کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے ، اور نصاری نے کہا کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔“

لَقَدْ كَفَرَ الذِينَ قَالُوا إِنَّ اللهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ. وَقَالَ المَسَبِّحُ بَيْنِي إِسْرَائِيلَ اعْبُدُو اللهَ رَبِّي وَرَبَّكُمُ. (المائدہ:۷۲)

"کفر کیا ان عیسائیوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ صیح ابن مریم ہی ہے۔ حالانکہ مسیح نے کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل اللہ کی بندگی کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی۔"

لقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوان الله قالث ثَلاثَةٍ وَمَا مِنْ اللَّهِ إِلَّا إِلَة واحِدٌ. (المائده :۷۳)

"کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا ایک ہے۔ حالانکہ ایک الہ کے سوا کوئی دوسرا اللہ ہے ہی نہیں"۔

وَإِذْ قَالَ اللهُ بِعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ ءَ انت قُلْتَ لِلنَّاسِ الْحِدُونِي وَأُمِّي الهَيْنِ مِنْ دون الله، قَالَ سُبْحْنَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَالَيسَ لِي بِحَقِّ. (المائده: ١١٦)

"اور جب اللہ پوچھے گا کہ اے مریم کے بیٹے عیسی ! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کےسوا مجھے اور میری ماں کو بھی اللہ بنالو، تو وہ جواب میں عرض کریں گے کہ سبحان اللہ میری کیا مجال تھی کہ میں وہ بات کہتا کہ جس کے کہنے کا مجھے کوئی حق نہ تھا۔“

مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُوتِيَهُ اللهُ الكتب والحكم والنبوة ثم يقول لِلنَّاسِ كُونُوا عِبَادًا لِي مِن دُونِ اللهِ وَلَكِن كُونُوا رَبَّا نِينَ بِمَا كُنتُم تُعَلَّمُونَ الْكِتَب وَبِمَا كُنتُم تَدْرُسُونَ. وَلَا يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَتَّخِذُوا المَلَئِكَةَ وَالنَّبيِّينَ أَرْبَابًا، آيَامُرُوكُمُ بِالْكُفْرِ بَعْدَ إذْ أَنْتُمْ مُسْلِمُونَ (آل عمران:۷۹-۸۰)

کسی انسان کا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ تو اسےکتاب اور حکم اور نبوت سے سرفراز کرے اور پھر وہ لوگوں سےیہ کہےکہ تم اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ، بلکہ وہ تو یہی کہے گا کہ ربانی (خداپرست ) بنو ۔ جس طرح تم خدا کی کتاب میں پڑھتے پڑھاتے ہو اور جس کے درس دیا کرتےہو۔ اور نہ نبی کا یہ کام ہے کہ وہ تم کو یہ حکم دے کہ ملائکہ اور پیغمبروں کو رب بنالو۔ کیا وہ تمہیں کفر کی تعلیم دے گا جبکہ تم مسلمان ہو چکے ہو۔“

ان آیات کی رُو سے اہل کتاب کی پہلی گمراہی یہ تھی کہ جو بزرگ ہستیاں انبیاء اولیا،ملائکه و غیره. دینی حیثیت سے قدر و منزلت کی مستحق تھیں، ان کو انہوں نے ان کے حقیقی مرتبہ سے بڑھا کر خدائی کے مرتبہ میں پہنچا دیا ، کاروبار خداوندی میں انہیں دخیل و شریک ٹھہرایا، ان کی پرستش کی، ان سے دعائیں مانگیں۔ انہیں فوق الفطری ربوبیت اور الوہیت میں حصہ دار سمجھا، اور یہ گمان کیا کہ وہ بخشش اور مددگاری اور نگہبانی کے اختیارات رکھتی ہیں۔

اس کے بعد ان کی دوسری گمراہی یہ تھی کہ :

اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ. (التوب: ۳۱)

"انہوں نے اللہ کے سوا اپنے علماء اور مشائخ کو بھی اپنا رب بنالیا۔“

یعنی نظام دینی میں جن لوگوں کی حیثیت صرف یہ تھی کہ خدا کی شریعت کےاحکام بتا ئیں اور خدا کی مرضی کے مطابق اخلاق کی اصلاح کریں، انہیں رفتہ رفتہ یہ حیثیت دے دی که باختیار خود جس چیز کو چاہیں حرام اور جسےچاہیں حلال ٹھہرا دیں اور کتاب الہی کی سند کےبغیر جو حکم چاہیں دیں، جس چیز سےچاہیں منع کر دیں اور جو سنت چاہیں جاری کریں۔اس طرح یہ لوگ انہی دو عظیم الشان بنیادی گمراہیوں میں مبتلا ہو گئےجن میں قوم نوح ، قوم ابراهیم،عاد نمود،اصلِ مدین اور دوسری قو میں مبتلا ہوئی تھیں۔ ان کی طرح انہوں نے بھی فوق الطبیعی ربوبیت میں فرشتوں اور بزرگوں کو اللہ کا شریک بنایا۔اور انہی کی طرح انہوں نےتمدنی و سیاسی ربوبیت اللہ کے بجائےانسانوں کو دی اور اپنے تمدن، معاشرت، اخلاق اور سیاست کے اصول واحکام اللہ کی سند سے بےنیاز ہو کر انسانوں سے لینے شروع کر دیے حتی کہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ :

آلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ يُؤمِنُونَ بالجَبْتِ وَالطَّاغُوتِ. (النسا: ۵۱)

" تم نے دیکھا ان لوگوں کو جنہیں کتاب اللہ کا ایک حصہ ملا ہے اور ان کی حالت یہ ہے کہ جبت اور طاغوت کو مان رہے ہیں ۔“

قُلْ هَلْ البَئُكُمْ بِشَرٌ مِنْ ذالِكَ مَشُوبَةٌ عِندَ اللهِ مَنْ لَّعَنَهُ اللهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ أُوْلَئِكَ شَرُّ مَّكَانًا وَّأَضَلُّ عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ. (المائدة: ٦٠)

" کہو! میں تمہیں بتاؤں اللہ کے نزدیک فاسقین سے بھی زیادہ بدتر انجام کس کا ہے؟ وہ جن پر اللہ نے لعنت کی جن پر اُس کا غضب ٹوٹا، جن میں بہت سے لوگ اس کے حکم سے بندر اور سور تک بنائے گئے اور انہوں نے طاغوت کی بندگی کی ، وہ سب سے بدتر درجہ کے لوگ ہیں اور راہِ راست سے بہت زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔“

"جبت" کا لفظ تمام اوہام و خرافات کے لیےجامع لفظ ہے جس میں جادو ٹونے ٹوٹکے،کہانت،فال گیری ، سعد دنس کے تصورات،غیر فطری تاثیرات،غرض جملہ اقسام کے توهمات شامل ہیں۔ اور "طاغوت" سے مراد ہر وہ شخص یا گروہ یا ادارہ ہے جس نے خدا کے مقابلہ میں سرکشی اختیار کی ہو، اور بندگی کی حد سے تجاوز کر کے خداوندی کا علم بند کیا ہو۔ پس یہود و نصاری جب مذکورہ بالا دوقسم کی گمراہیوں میں پڑ گئے تو پہلی قسم کی گمراہی کا نتیجہ یہ ہوا کہ رفتہ رفتہ ہر قسم کے توہمات نے ان کےدلوں اور دماغوں پر قبضہ کر لیا ، اور دوسری گمراهی نے ان کو علماء ومشایخ اور زهاد و صوفیہ کی بندگی سے بڑھا کر ان جباروں اور ظالموں کی بندگی واطاعت تک پہنچا دیا جو کھلم کھلا خدا سےباغی تھے۔

مشرکین عرب: اب دیکھنا چاہیے کہ وہ عرب کے مشرکین جن کی طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے،اور جو قرآن کے اولین مخاطب تھے، اس باب میں ان کی گمراہی کس نوعیت کی تھی۔ کیا وہ اللہ سےنا واقف تھے یا اس کی ہستی کے منکر تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس لیے بھیجے گئے تھے کہ انہیں وجود باری کا معترف بنا ئیں؟ کیا وہ اللہ کو الہ اور رب نہیں مانتے تھے اور قرآن اس لیے نازل ہوا تھا کہ انہیں حق جل شانه کی الهیت و ربوبیت کا قائل کرے؟ کیا انہیں اللہ کی عبادت و پرستش سے انکار تھا؟ یا وہ اللہ کو دعائیں سنےوالا اور حاجتیں پوری کرنے والا نہیں سمجھتے تھے؟ کیا ان کا خیال یہ تھا کہ لات اور منات اور عزتی اور بیل اور دوسرے معبود ہی اصل میں کائنات کے خالق، مالک، رازق،اور مدبر و منتظم ہیں؟یا وہ اپنے ان معبودوں کو قانون کا منبع اور اخلاق و تمدن کےمسائل میں ہدایت ور ہنمائی کا سرچشمه مانتے تھے؟ ان میں سے ایک ایک سوال کا جواب ہم کو قرآن سےنفی کی صورت میں ملتا ہے۔وہ ہمیں بتاتا ہےکہ عرب کے مشرکین نہ صرف یہ کہ اللہ کی ہستی کےقائل تھےبلکہ اسےتمام کائنات کا اور خود اپنے معبودوں تک کا خالق، مالک اور خداوند اعلیٰ مانتے تھے اس کو رب اور الہ تسلیم کرتے تھے۔ مشکلات اور مصائب میں آخری اپیل وہ جس سرکار میں کرتے تھے وہ اللہ ہی کی سرکار تھی۔ انہیں الہ کی عبادت و پرستش سے بھی انکار نہ تھا۔ ان کا عقیدہ اپنے دیوتاؤں اور معبودوں کے بارے میں نہ تو یہ تھا کہ وہ ان کے اور کائنات کے خالق و رازق ہیں اور نہ یہ کہ یہ معبود زندگی کے تمدنی واخلاقی مسائل میں ہدایت ورہنمائی کرتے ہیں۔ چنانچہ ذیل کی آیات اس پر شاہد ہیں:۔

قُلْ لِمَنِ الْأَرْضُ وَمَنْ فِيْهَا إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ. سَيَقُولُونَ لِلهِ، قُلْ أقلا تَذَكَّرُونَ. قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ، سَيَقُولُونَ لِلَّهِ. قُلْ أفَلا تَتَّقُونَ. قُلْ مَنْ بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَى وَهُوَ يُجِيرُو لَا يُجَارُ عَلَيْهِ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ، سَيَقُولُونَ اللَّهِ قُلْ فَاتَّى تُسْحَرُونَ بَلْ اتَيْهُمُ بالحَق وَإِنَّهُم لكذِبُونَ. (المومنون: ۸۴-۹۰)

"اے نبی ! ان سےکہو،زمین اور جو کچھ زمین میں ہےوہ کس کی ملک ہے؟ بتاؤ اگر تم جانتےہو؟ وہ کہیں گےکہ اللہ کی ملک ہے۔کہو پھر بھی تم نصیحت قبول نہیں کرتے ۔ کہو، ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا رب کون ہے؟ وہ کہیں گے اللہ ۔ کہو پھر بھی تم نہیں ڈرتے ؟ کبو ہر چیز کے شاہانہ اختیارات کس کے ہاتھ میں ہیں؟ اور وہ کون ہے جو پناہ دیتا ہے مگر اس کے مقابلہ میں پناہ دینے کی طاقت کسی میں نہیں بتاؤ اگر تم جانتے ہو؟ وہ کہیں گے یہ صفت اللہ ہی کی ہے۔ کہو پھر کہاں سے تم کو دھوکا لگتا ہے؟ حق یہ ہے کہ ہم نے صداقت ان کے سامنے پیش کر دی ہے اور یہ لوگ یقیناً جھوٹے ہیں“-

هُوَ الَّذِي يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ حَتَّى إِذَا كُنتُمْ فِي الْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِمُ بِرِيحٍ طَيِّبَةٍ وفَرِحُوا بِهَا جَاءَ تُهَا رِيحٌ عَاصِف وَجَاءَ هُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانِ وظَنُّوا أَنَّهُمْ أُحِيطَ بِهِمْ دَعَوُ اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ لَئِنْ أَنْجَيْتَنَا مِنْ هَذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ فَلَمَّا أَنْجَهُمْ إِذَا هُمْ يَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ. (يونس:٢٢-٢٣)

"وہ اللہ ہی ہے جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے حتی کہ جس وقت تم کشتی میں سوار ہو کر باد موافق پر فرحال و شاداں سفر کر رہے ہوتے ہو اور پھر یکا یک بادِ مخالف کا زور ہوتا ہے اور ہر طرف سے موجوں کےتھپیڑےلگتےہیں اور تم سمجھتے ہو کہ طوفان میں گھر گئے اس وقت سب اللہ ہی کو پکارتے ہیں اور اس کے لیے اپنے دین کو خالص کر کے دعائیں مانگتے ہیں کہ اگر تو نے اس بلا سےہم کو بچالیا تو ہم تیرے شکر گزار بندے بنیں گے ، مگر جب وہ ان کو بچا لیتا ہے تو پھر وہی لوگ حق سے منحرف ہو کر زمین میں بغاوت کرنے لگتے ہیں۔“

وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجْكُمْ إِلَى الْبَرِ أعْرَضْتُمْ وَكَانَ الإِنْسَانُ كَفُورًا (بنی اسرائیل: ۶۷)

" جب سمندر میں تم پر کوئی آفت آتی ہے تو اس ایک رب کے سوا اور جن جن کو تم پکارتے ہو وہ سب گم ہو جاتے ہیں مگر جب وہ تمہیں بچا کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو تم اس سے پھر جاتے ہو۔ بیچ یہ ہے کہ انسان بڑا ناشکرا ہے۔“

اپنے معبودوں کےمتعلق ان کےجو خیالات تھے وہ خود انہی کےالفاظ میں عمران اس طرح نقل کرتا ہے۔

وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِةٍ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَا إِلَى اللَّهِ زُلفى (الزمر:٣)

"جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے ولی اور کار ساز ٹھہرا رکھے وہ کہتے ہیں کہ ہم ان کی عبات اس لیے کرتے ہیں یہ ہم کو اللہ سے قریب کر دیں۔“

وَيَقُولُونَ هوَلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِنْدَ اللَّهِ. (یونس: ۱۸)

"اور وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے حضور میں ہمارے سفارشی ہیں۔“

پھر وہ اپنے معبودوں کے بارے میں اس قسم کا بھی کوئی گمان نہ رکھتے تھے کہ وہ مسائل زندگی میں ہدایت بخشنے والےہیں۔چنانچہ سورہ یونس میں اللہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ:۔

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَاءِ كُمْ مَّنْ يُهْدِى إِلَى الْحَقِّ. (يونس: ۳۵)

"ان سےپوچھو،تمہارےٹھہرائےہوئے ان شریکوں میں سے کوئی حق کی طرف رہنمائی کرنے والا بھی ہے۔“

لیکن یہ سوال سن کر ان پر سکوت چھا جاتا ہےان میں سےکوئی یہ جواب نہیں دیتا کہ ہاں لات یا منات یا عزئی یا دوسرے معبود ہمیں فکر و عمل کی صحیح راہیں بتاتے ہیں اور وہ دنیا کی زندگی میں عدل اور سلامتی اور امن کے اصول ہمیں سکھاتے ہیں اور ان کے سرچشمہ علم سے ہم کو کائنات کے بنیادی حقائق کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ تب اللہ اپنے نبی سے فرماتا ہے:۔

قُلِ اللَّهُ يَهْدِى لِلْحَقِّ أَفَمَنْ يُهْدِى إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَنْ يُتَّبَعَ أَمِّنْ لَّا يَهِدِى إِلَّا أَن تَهْدَى فَمَالَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ (يونس: ۳۵)

" کہو، مگر اللہ حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے، پھر بتاؤ کون اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے؟ وہ جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے، یاوہ جو خود ہدایت نہیں پا تا الا یہ کہ اس کی رہنمائی کی جائے ؟ تمہیں کیا ہو گیا ہے، کیسے فیصلے کر رہے ہو؟“

ان تصریحات کے بعد اب یہ سوال حل طلب رہ جاتا ہے کہ ربوبیت کے باب میں ان کی وہ اصل گمراہی کیا تھی جس کی اصلاح کرنےکےلیے اللہ نے اپنے نبی کو بھیجا اور کتاب نازل کی؟ اس سوال کی تحقیق کےلیے جب ہم قرآن میں نظر کرتے ہیں تو ان کے عقائد واعمال میں بھی ہم کو انہی دو بنیادی گمراہیوں کا سراغ ملتا ہے جو قدیم سے تمام گمراہ قوموں میں پائی جاتی رہی ہیں ، یعنی:

ایک طرف فوق الطبیعی ربوبیت والہیت میں وہ اللہ کےساتھ دوسرےانہوں اور ارباب کو شریک ٹھہراتے تھے،اور یہ سمجھتےتھےکہ سلسلہ اسباب پر جو حکومت کارفرما ہےاس کے اختیارات واقتدارات میں کسی نہ کسی طور پر ملائکہ اور بزرگ انسان اور اجرام فلکی وغیرہ بھی دخل رکھتے ہیں اسی اور بنا پر دعا اور استعانت اور مراسم عبودیت میں وہ صرف اللہ کی طرف رجوع نہیں کرتے تھے بلکہ ان بناوٹی خداؤں کی طرف بھی رجوع کیا کرتے تھے۔

دوسری طرف تمدنی وسیاسی ربوبیت کے باب میں ان کا ذہن اس تصور سے بالکل خالی تھا کہ اللہ اس معنی میں بھی رب ہے، اس معنی میں وہ اپنے مذہبی پیشواؤں، اپنے سرداروں اور اپنےخاندان کے بزرگوں کو رب بنائے ہوئے تھے اور انہی سے اپنی زندگی کے قوانین لیتے تھے۔


وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَى حَرْفٍ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرُنِ اطْمَأَنَّ بِهِ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةُ نِ الْقَلَبَ عَلَى وَجْهِهِ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ، ذَلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ. يَدْعُو مِن دُونِ اللَّهِ مَالَا يَضُرُّهُ وَمَالَا يَنفَعُهُ ذَلِكَ هُوَ الضَّلُ الْبَعِيدُ، يَدْعُو لَمَنُ ضَرُّةً وَمَالَا يَنْفَعُهُ ذَلِكَ هُوَ الضَّلَلُ الْبَعِيدُ، يَدْعُو لَمَنْ ضَرُّةً أَقْرَبُ مِنْ نَفْعِهِ لَبِئْسَ الْمَوْلَى وَلَبِئْسَ الْعَشِيرُ. (الج : ۱۱-۱۳)

"انسانوں میں سےکوئی ایسا بھی ہےجو خدا پرستی کی سرحد پر کھڑا ہو کر اللہ کی عبادت کرت ہے۔ فائدہ ہوا تو مطمئن ہو گیا اور جو کوئی تکلیف پہنچ گئی تو الٹا پھر گیا۔یہ شخص دنیا اور آخرت دونوں میں خسارہ اٹھانے والا ہے۔ وہ اللہ سے پھر کر ان کو پکارنے لگتا ہے جو نہ اسے نقصان پہنچانے کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ فائدہ پہنچانے کی۔ یہی بڑی گمراہی ہے۔ وہ مدد کے لیے ان کو پکارتا ہےجنہیں پکارنے کا نقصان بہ نسبت نفع کے زیادہ قریب ہے کیا بر امولی ہے اور کیسا بر اساتھی ہے۔“

وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَالَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَؤُلَاءِ دُفَعَاءُ نَا عِندَ اللهِ قُل النون الله بِمَا لَا يَعْلَمُ فِى السَّمواتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ سُبْحَنَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ (یونس: ۱۸)

"یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہیں جو نہ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان اور کہتے ہیں کہ وہ اللہ کےحضور ہمارےسفارشی ہیں،کہو (اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ) کیا تم اللہ کو اس بات کی خبر دیتے ہو جو اس کے علم میں نہ آسمانوں میں ہے نہ زمین(١) میں؟ اللہ پاک ہے اس شرک سے جو یہ کرتے ہیں۔


قلْ ابْنُكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَه انْدَادًا. (لحم السجدة :٩)

"اے نبی ! ان سےکہو، کیا واقعی تم اس خدا سے جس نے دو دن میں زمین کو پیدا کر دیا کفر کرتے ہو اور دوسروں کو اس کا ہمسر اور مد مقابل بناتے ہو۔“

قل العبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَالَا يَمْلِكُ لَكُم ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا وَاللهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (المائدہ: ۷۶)

"کہو، کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہارے لیے نقصان کا کچھ اختیاررکھتے ہیں نہ فائدے کا ؟ حالا کہ سننے اور جاننے والا تو اللہ ہی ہے۔“

وَإِذَا مَسَّ الْإِنْسَانَ ضُرُّ دَعَارَبَّهُ مُنِيبًا إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَا حَوَّلَهُ نِعْمَةٌ مِّنْهُ نَسِيَ مَا كَانَ يَدْعُو إِلَيْهِ مِنْ قَبْلُ وَجَعَلَ لِلَّهِ أَنْدَادًا لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِهِ. (الزمر:۸)

"اور جب انسان پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو یکسو ہوکر اپنےرب ہی کو پکارتا ہےمگر جب وہ اپنی نعمت سے اس کو سرفراز کرتا ہے تو یہ اس مصیبت کو بھول جاتا ہے جس میں مدد کے لیے اس سے پہلے اللہ کو پکار رہا تھا اور اللہ کے ہمسر ٹھہرانے لگتا ہے(١)۔ تاکہ یہ حرکت اسے اللہ کے راستہ سے بھٹکا دے۔“

وَمَا بِكُمْ مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنَ اللهِ ثُمَّ إِذَا مَسْكُمُ الضُّرُّ فَإِلَيْهِ تَجْتَرُونَ ثُمَّ إِذَا كَشَف الضُّرَّعَنكُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِنْكُمْ بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ لِيَكْفُرُوا بِمَا آتَيْنَهُمْ فَتَمَعُوا فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ وَيَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا يَعْلَمُونَ نَصِيبًا مِّمَّا رَزَقْتَهُمْ وَاللَّهِ لَتُسْتَلُنَّ عَمَّا كُنتُمْ تَفْتَرُونَ (الحل:۵۶:۵۳)

"تمہیں جو نعمت بھی حاصل ہے اللہ کی بخشش سے حاصل ہے۔ جب تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو اللہ ہی کی طرف فریاد لے کر تم جاتے ہو، مگر جب وہ اس مصیبت کو تم پر سے ٹال دیتا ہے تو تم میں سے کچھ لوگ ہیں جو (اس مشکل کشائی میں ) دوسروں کو شریک ٹھہرانے لگتے ہیں تا کہ ہمارےاحسان کا جواب احسان فراموشی سے دیں۔ اچھا مزے کر لو۔ عنقریب تمہیں اس کا انجام معلوم ہو جائے گا۔ یہ لوگ جن کو نہیں جانتے ان کے لیے ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے حصے(١) مقرر کرتے ہیں۔ خدا کی قسم جو افتراء پردازیاں تم کرتے ہو ان کی باز پرس تم سے هوکر رہے گی۔“

(بقیہ حواشی گزشتہ صفحہ) جو سفارش یہ مجھ سے کر دیں وہ بس قبول ہو کر رہتی ہے، اور اس لیے تم ان کے آستانوں پر پیشانیاں رگڑتے اور نذریں چڑھاتے ہو۔ مگر میں تو آسمانوں اور زمین کسی ایسی ہستی کو نہیں جانتا جو میرے دربار میں اتنی زور آور ہو یا مجھے ایسی محبوب ہو کہ میں اس کی سفارش قبول کرنے پر مجبور ہو جاؤں پھر کیا تم مجھے ان سفارشیوں کی خبر دے رہے ہو جنہیں میں خود نہیں جانتا؟ ظاہر ہے کسی چیز کا اللہ کےعلم میں نہ ہوتا یہ معنی رکھتا ہے کہ اس چیز کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے

١- اللہ کے ہمسر ظہرانے لگتا ہے۔ یعنی یہ کہنے لگتا ہے کہ یہ مصیبت فلاں بزرگ کی برکت سے ٹلی اور یہ نعمت فلاں حضرت کی عنایت سےنصیب ہوئی۔

رہی دوسری گمراہی تو اس کے متعلق قرآن کی شہادت یہ ہے:۔

وَكَذَالِكَ زَيَّنَ لِكَثِيرِ مِنْ الْمُشْرِكِيْنَ قَتَلَ اَوْلادِهِمْ شُرَكَاؤُهُم لِيُرْدُوهُم وَلِيَلْبِسُوا عَلَيْهِمْ دِينَهُمْ. (انعام: ۱۳۸)

"اور اسی طرح بہت سےمشرکین کےلیےان کے بنائے ہوئے شریکوں نے اپنی اولاد کا قتل پسندیدہ بنا دیا تا کہ انہیں ہلاکت میں مبتلا کریں اور ان کے دین کو ان کے لیےمشتبہ بنا دیں۔

ظاہر ہےکہ یہاں "شریکوں" سے مراد بت اور دیوتا نہیں ہیں بلکہ وہ پیشوا اور رہنما ہیں جنہوں نے قتل اولاد کو اہلِ عرب کی نگاہ میں ایک بھلائی اور خوبی کا کام بنایا اور حضرت ابراہیم و اسماعیل کے دین میں اس رسم قبیح کی آمیزش کر دی۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ خدا کے "شریک" اس معنی میں قرار نہیں دیے گئے تھے کہ اہلِ عرب ان کو سلسلہ اسباب پر حکمران سمجھتےتھےیا ان کی پرستش کرتے اور ان سےدعائیں مانگتےتھے، بلکه ان کو ربوبیت والہیت میں شریک اس لحاظ سےٹھہرایا گیا تھا کہ اہل عرب ان کے اس حق کو تسلیم کرتے تھے کہ تمدنی و معاشرتی مسائل اور اخلاقی و مذہبی امور میں وہ جیسے چاہیں قوانین مقرر کر دیں۔

أَمْ لَهُمْ شُرَكَاؤُ شَرَعُوالَهُمْ مِّنَ الدِّينِ مَالَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللهُ. (الشورى: ۲۱)

" کیا یہ ایسے شریک بنائے بیٹھے ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین کی قسم سے وہ قانون بنا دیا جس کا اللہ نے کوئی اذان نہیں دیا ہے۔“

لفظ "دین" کی تشریح آگے چل کر بیان ہوگی اور وہیں اس آیت کے مفہوم کی وسعت بھی پوری طرح واضح ہو سکے گی لیکن یہاں کم از کم یہ بات تو صاف معلوم ہو جاتی ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر ان کے پیشواؤں اور سرداروں کا ایسے ضابطے اور قاعدے مقرر کرنا جو دین کی نوعیت رکھتے ہوں اور اھلِ عرب کا ان ضابطوں اور قاعدوں کو واجب التقلید مان لینا یہی ربوبیت والہیت میں ان کا خدا کے ساتھ شریک بنا اور یہی اہلِ عرب کا ان کی شرکت کو تسلیم کر لینا تھا۔

١- یعنی جن کے متعلق انہیں ہرگز کسی ذریعہ علم سے یہ تحقیق نہیں ہوا ہے کہ مصیبت کے ٹالنےوالے اور مشکل کو آسان کرنے والے وہ تھے،ان کے لیے شکرانے کے طور پر چڑھاوے اور نذریں اور نیازیں نکالتے ہیں اور لطف یہ ہے کہ ہمارے دیےہوئے رزق سے نکالتے ہیں۔

قرآن کی دعوت : گمراہ قوموں کےتخیلات کی یہ تحقیق جو پچھلےصفحات میں کی گئی ہےاس حقیقت کو بالکل بےنقاب کر دیتی ہے کہ قدیم ترین زمانہ سے لے کر زمانہ نزول قرآن تک جتنی قوموں کا ذکر قرآن نے ظالم، فاسد العقیدہ اور بد راہ ہونے کی حیثیت سے کیا ہے،ان میں سے کوئی بھی خدا کی بستی کی منکر نہ تھی،نہ کسی کو اللہ کے مطلقا رب اور الہ ہونے سے انکار تھا،البتہ ان سب کی اصل گمراہی اورمشترک گمراہی یہ تھی کہ انہوں نےربوبیت کےاُن پانچ مفہومات کو جو ہم ابتداء میں لغت اور قرآن کی شہادتوں سے متعین کر چکے ہیں، دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔

رب کا یہ مفہوم کہ وہ فوق الفطری طور پر مخلوقات کی پرورش خبرگیری ، حاجت روائی اور نگهبانی کا کفیل ہوتا ہے، ان کی نگاہ میں ایک الگ نوعیت رکھتا تھا، اور اس مفہوم کے اعتبار سے وہ اگر چہ رب اعلیٰ تو اللہ ہی کو مانتے تھے،مگر اس کےساتھ فرشتوں اور دیوتاؤں کو ، جنوں کو، غیر مرئی قوتوں کو،ستاروں اور سیاروں کو ، انبیاء اور اولیا اور روحانی پیشواؤں کو بھی ربوبیت میں شریک ٹھہراتے تھے۔

اور رب کا یہ مفہوم کہ وہ امر و نہی کا متحار، اقتدار اعلیٰ کا مالک ، هدایت ورهنمائی کا منبع ، قانون کا ماخذ مملکت کا رئیس اور اجتماع کا مرکز ہوتا ہےان کے نزدیک بالکل ہی ایک دوسری حیثیت رکھتا تھا، اور اس مفہوم کے اعتبار سے وہ یا تو اللہ کے بجائے صرف انسانوں کو رب مانتے تھے یا نظریے کی حد تک اللہ کو رب ماننے کے بعد عملاً انسانوں کی اخلاقی و تمدنی اور سیاسی ربوبیت کےآگے سر اطاعت خم کیے دیتے تھے۔

اسی گمراہی کو دور کرنے کے لیے ابتداء سے انبیاء علیہم السلام آتے رہے ہیں اور اسی کےلیے آخر کار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی۔ ان سب کی دعوت یہ تھی کہ ان تمام مفهومات کےاعتبار سے رب ایک ہی ہے اور وہ اللہ جل شانہ ہے۔ ربوبیت نا قابل تقسیم ہے۔ اس کا کوئی جزء کسی معنی میں بھی کسی دوسرے کو حاصل نہیں ہے۔ کائنات کا نظام ایک کامل مرکزی نظام ہے جس کو ایک ہی خدا نے پیدا کیا۔ جس پر ایک خدا فرماں روائی کر رہا ہے، جس کے سارے اختیارات واقتدارات کا مالک ہی خدا ہے۔ نہ اس نظام کے پیدا کرنے میں کسی دوسرے کا کچھ دخل ہے، نہ اس کی تدبیر و انتظام میں کوئی شریک ہے، اور نہ اس کی فرماں روائی میں کوئی حصہ دار ہے۔ مرکزی اقتدار کا مالک ہونے کی حیثیت سے وہی اکیلا خدا تمہارا فوق الفطری رب بھی ہے اور اخلاقی و تمدنی اور سیاسی رب بھی۔ وہی تمہارا معبود ہے۔ وہی تمہارے سجدوں اور رکوعوں کا مرجع ہے۔ وہی تمہاری دعاؤں کا ملجا و ماوی ہے۔ وہی تمہارے تو کل و اعتماد کا سہارا ہے۔ وہی تمہاری ضرورتوں کا کفیل ہے۔ اور اسی طرح وہی بادشاہ ہے۔ وہی مالک الملک ہے۔وہی شارع و قانون ساز اور امر ونہی کا مختار بھی ہے۔ ربوبیت کی یہ دونوں حیثیتیں جن کو جاہلیت کی وجہ سے تم نے ایک دوسرےسے الگ ٹھہرالیا ہے، حقیقت میں خدائی لازمہ اور خدا کے خدا ہونے کا خاصہ ہیں۔ انہیں نہ ایک دوسرے سے منفک کیا جاسکتا ہے، اور نہ ان میں سے کسی حیثیت میں بھی مخلوقات کو خدا کا شریک ٹھہر نا درست ہے۔

اس دعوت کو قرآن جس طریقہ سے پیش کرتا ہے وہ خود اسی کی زبان سے سنیے۔ :

إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِى خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارِ يَطْلُبُهُ حَيْنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِةِ آلَالَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَرَكَ اللهُ رَبُّ الْعَلَمِينَ. (الاعراف:۵۴)

"حقیقت میں تمہارا رب تو اللہ ہے جس نے آسمان وزمین کو چھ دن میں پیدا کیا اور پھر اپنے تخت سلطنت پر جلوہ افروز ہو گیا، جو دن کو رات کا لباس اڑھاتا ہے اور پھر رات کے تعاقب میں دن تیزی کے ساتھ دوڑ آتا ہے، سورج اور چاند اور تارے سب کے سب جس کے تابع فرماں ہیں۔ سنو ! خلق اسی کی ہے اور فرماں روائی بھی اسی کی ۔ بڑا بابرکت ہے وہ کائنات کا رب ۔

قُلْ مَنْ يُرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَمَّنْ يُمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَمَنْ يُخْرِجُ الْحَى مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ فَسَيَقُولُونَ الله فَقُلْ أَفَلا تَتَّقُونَ. فَدَالِكُمُ الله رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَلُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ (يونس: ۳۱-۳۲)

"ان سے پوچھو، کون تم کو آسمان وزمین سے رزق دیتا ہے؟ کانوں کی شنوائی اور آنکھوں کی بینائی کس کے قبضہ واختیار میں ہے؟ کون ہے جو بے جان کو جاندار میں سے اور جاندار کو بے جان میں سے نکالتا ہے؟ اور کون اس کارگاہ عالم کا انتظام چلا رہا ہے؟ وہ ضرور کہیں گے اللہ ، کہو، پھر تم ڈرتے نہیں ہو؟ جب یہ سارے کام اس کے ہیں تو تمہارا حقیقی رب اللہ ہی ہے۔ حقیقت کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا رہ جاتا ہے؟ آخر کہاں سےتمہیں یہ ٹھوکر لگتی ہے کہ حقیقت سے پھرے جاتے ہو؟“

خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ يُكَوِّرُ اللَّيْلَ عَلَى النَّهَارِ وَيُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلُّ يُجْرِى لَأجَلٍ مُسَمًّى ذَلِكُمُ الله رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَانّى تُصْرَفُونَ (الزمر: ۵-۶)

"اس نے زمین و آسمان کو برحق پیدا کیا ہے۔ رات کو دن پر اور دن کو رات پر وہی لپیٹتا ہے۔ چاند اور سورج کو اس نے ایسے ضابطے کا پابند بنایا ہے کہ ہر ایک اپنے مقررہ وقت تک چلے جا رہا ہے۔ یہی اللہ تمہارا رب ہے۔ بادشاہی اسی کی ہے۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ۔ آخر یہ تم کہاں سے ٹھو کر کھا کر پھرے جاتے ہو؟“

الله الّذِي جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ لِتَسْكُنُوا فِيهِ وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا ذَالِكُمُ الله رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلَّ شَيْ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، فَانَّى تُؤْفَكُونَ اللهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فَرَارًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَصَوَّرَكُمْ فَاحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّب ذلِكُمُ اللهُ رَبُّكُمْ فَتَرَكَ اللهُ رَبُّ العلمين هُوَ الْحَيُّ لا إله إِلَّا هُوَ فَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ. (المومن: ۶۱-۶۵)

"اللہ جس نے تمہارے لیے رات بنائی کہ اس میں تم سکون حاصل کرو ۔ اور دن کو روشن کیا۔ وہی تمہارا اللہ تمہارا رب ہے، ہر چیز کا خالق کوئی اور معبود اس کے سوا نہیں، پھر یہ کہاں سے دھوکا کھا کر تم بھٹک جاتے ہو؟ اللہ جس نے تمہارے لیے زمین کو جائے قرار بنایا، آسمان کی چھت تم پر چھائی تمہاری صورتیں بنا ئیں اور خوب ہی صورتیں بنا ئیں، اور تمہاری غذا کے لیےپاکیزہ چیزیں مہیا کیں، وہی اللہ تمہارا رب ہے، بڑا یا برکت ہے وہ کائنات کا رب۔ وہی زندہ ہے۔ کوئی اور معبود اس کے سوا نہیں۔ اس کو تم پکارو اپنے دین کو اس کے لیے خالص کر کے ۔“

وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ مِنْ تُرَاب..... يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيَوْلِجُ النَّهَارِ فِي اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَكُلُّ يُجْرِى لَاَجَلٍ مُسَمًّى ذَالِكُمُ الله رَبُّكُمُ لَهُ المُلكوَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ ، إِنْ تَدْعُوهُ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَ كُمُ وَلَوْ سَمِعُوا مَاسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيمَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ. (فاطر :۱۴۱۳)

"اللہ نے تم کو مٹی سے پیدا کیا وہ رات کو دن میں پرو دیتا ہے اور دن کو رات میں، اس نے چاند اور سورج کو ایسے ضابطہ کا پابند بنایا ہے کہ ہر ایک اپنے مقرر وقت تک چلے جا رہا ہے۔یہی اللہ تمہارا رب ہے۔ بادشاہی اسی کی ہے۔ اس کے سوا جن دوسری ہستیوں کو تم پکارتے ہو ان کے ہاتھ میں ایک ذرہ کا اختیار بھی نہیں ہے۔ تم پکارو تو وہ تمہاری پکاریں سن نہیں سکتے ، اور سن بھی لیں تو تمہاری درخواست کا جواب دینا اس کے بس میں نہیں۔ تم جو انہیں شریک خدا بناتے ہواس کی تردید وہ خود قیامت کے دن کر دیں گے۔“

وَلَهُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ كُلٌّ لَهُ قَانِتُونَ ضَرَبَ لَكُم مَّثَلًا مِنْ أنفُسِكُمْ هَلْ لَّكُمْ مَنْ مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْ شُرَكَاء فِيمَا رَزَقْنكُمْ فَانْتُمْ فِيهِ سَوَاءٌ تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنفُسَكُمْ كَذَالِكَ نُفَصِّلُ الْآيَتِ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ، بَلِ اتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَهْوَاءَ هُمُ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا، فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَاتَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَعْلَمُونَ (الروم: ۲۶-۳۰)

"آسمانوں کےرہنےوالےہوں یا زمین کے،سب اس کےغلام اور اس کے تابع فرمان ہیں اللہ خود تمہاری اپنی ذات سے ایک مثال تمہارے سامنے بیان کرتا۔ کیا تمہارے غلاموں میں سے کوئی اُن چیزوں کی ملکیت میں تمہارا شریک ہوتا ہےجو ہم نے تمہیں بخشی ہیں؟ کیا ان چیزوں کے اختیارات و تصرفات میں تم اور تمہارے غلام مساوی ہوتے ہیں؟ کیا تم ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح اپنے برابر والوں سے ڈرا کرتے ہو؟ جولوگ عقل سے کام لینے والے ہیں ان کے لیے تو ہم حقیقت تک پہنچا دینے والی دلیلیں اس طرح کھول کر بیان کر دیتے ہیں مگر ظالم لوگ علم کے بغیر اپنے بے بنیاد خیالات کے پیچھے چلے جارہے ہیں لہذا تم بالکل یکسو ہو کر حقیقی دین کے راستہ پر اپنے آپ کو ثابت قدم کر دو اللہ کی فطرت پر قائم ہو جاؤ۔ جس پر اس نےسب انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی خلقت کو بدلا نہ جائے۔ یہی ٹھیک سیدھا طریقہ ہے، مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔“

وَمَا قَدَرُ واللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ. (الزمر:٦٧)

"ان لوگوں نے اللہ کی عظمت و کبریائی کا اندازہ جیسا کہ کرنا چاہیے تھا نہیں کیا۔ قیامت کے روز یہ دیکھیں گے کہ زمین پوری کی پوری اس کی مٹھی میں ہے اور آسمان اس کے ہاتھ میں سمٹےہوئے ہیں۔ اس کی ذات منزہ اور بالا تر ہے اس سے کہ کوئی اس کا شریک ہو، جیسا کہ یہ لوگ قرار دے رہے ہیں ۔

فَلِللَّهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمَوَاتِ وَرَبِّ الْأَرْضِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ وَلَهُ الْكِبْرِيَاءُ فِي السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (جاثِية: ٣٧)

فَلِللَّهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمَوَاتِ وَرَبِّ الْأَرْضِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ وَلَهُ الْكِبْرِيَاءُ فِي السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (جاثِية: ٣٧)

رَبُّ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ فَاصْطَبِرُ لِعِبَادَتِهِ هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيّاً. (مریم:۶۵)

"وہ زمین اور آسمانوں کا مالک اور ان ساری چیزوں کا مالک ہے جو زمین و آسمان میں ہیں۔لہذا تو اسی کی بندگی کر اور اس کی بندگی پر ثابت قدم رہ۔ کیا اس جیسا کوئی اور تیرے علم میں ہے؟"

وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الأمرُ كُلُّهُ، فَاعْبُدَهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ. (ہود: ۱۲۳)

"زمین اور آسمانوں کی ساری پوشیدہ حقیقتیں اللہ کے علم میں ہیں اور سارے معاملات اسی کی سرکار میں پیش ہوتے ہیں۔لہذا تو اسی کی بندگی کر اور اسی پر بھروسہ کر"۔

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلهُ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذَهُ وَكِيلا (المزل ٩)

"مشرق اور مغرب سب کا وہی مالک ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ لہذا تو اس کو اپنا مختار کار بنائے ۔“

إن هذة أمنكُمْ اُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُون وَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ كُلَّ إِلَيْنَا رَاجِعُونَ (انبیاء:۹۲-۹۳)

"حقیقت میں تمہاری یہ امت ایک ہی امت ہے۔ اور میں تمہارا رب ہوں ۔ لہذا تم میری ہی بندگی کرو ۔ لوگوں نے اس کار ربوبیت اور اس معاملہ بندگی کو آپس میں خود ہی تقسیم کر لیا ہے مگر ان سب کو بہر حال ہماری ہی طرف پلٹ کر آتا ہے۔“

اتَّبِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِنْ دُونِةٍ أَوْلِيَاءَ. (اعراف:۳)

"پیروی کرو اس کتاب کی جو تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے اور اسے چھوڑ کر دوسرے کارسازوں کی پیروی نہ کر "-

قُلْ يَاهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ إِلَّا نَعْبُدَ إِلَّا نَعْبُدَ وَلَا تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللهِ. ( آل عمران : ۶۴)

"کہو ، اے اہل کتاب آؤ اس بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے یہ کہ ہم نہ تو اللہ کے سوا کسی کی بندگی کریں، نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک قرار دیں اور نہ ہم میں سےکوئی انسان کسی دوسرے انسان کو اللہ کے سوا اپنا رب بنائے ۔“

قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكَ النَّاسِ إِلَهِ النَّاسِ. (الناس)

"کہو میں پناہ ڈھونڈتا ہوں اس کی جو انسانوں کا رب، انسانوں کا بادشاہ اور انسانوں کا معبود ہے۔"

فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعَبَادَةِ رَبِّةٍ أحَدًا (كہف:۱۱۰)

"پس جو اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہوا سے چاہیے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی اور کی بندگی شریک نہ کرے۔“

ان آیات کو سلسلہ وار پڑھنے سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ قرآن ربوبیت کو بالکل حاکمیت اور سلطانی (Sovcreignty) کا ہم معنی قرار دیتا ہے اور رب کا یہ تصور ہمارےسامنے پیش کرتا ہے کہ وہ کائنات کا سلطان مطلق اور لاشریک مالک و حاکم ہے۔


اسی حیثیت سے اس کی وفاداری وہ قدرتی بنیاد ہے جس پر ہماری اجتماعی زندگی کی عمارت صحیح طور پر قائم ہوتی ہے۔ اور اس کی مرکزی شخصیت سے وابستگی تمام متفرق افراد اور گروہوں کےدرمیان ایک امت کا رشتہ پیدا کرتی ہے۔



اہل عرب اور دنیا کے تمام جاہل لوگ ہر زمانہ میں اس غلطی میں مبتلا تھے اور اب تک ہیں کہ ربوبیت کے اس جامع تصور کو انہوں نے پانچ مختلف النوع ربوبیتوں میں تقسیم کر دیا۔ اور اپنےقیاس و گمان سے یہ رائے قائم کی کہ مختلف قسم کی ربو میتیں مختلف ہستیوں سے متعلق ہو سکتی ہیں اور متعلق میں قرآن اپنے طاقتور استدلال سے ثابت کرتا ہے کہ کائنات کے اس مکمل مرکزی نظام میں اس بات کی مطلق گنجائش نہیں ہے کہ اقتدار اعلیٰ جس کے ہاتھ میں ہے اس کے سوار بو بیت کا کوئی کام کسی دوسری ہستی سے کسی درجہ میں بھی متعلق ہو۔ اس نظام کی مرکزیت خود گواہ ہے کہ ہر طرح کی ربوبیت اُس خدا کے لیے مختص ہے جو اس نظام کو وجود میں لایا ۔ لہذا جو شخص اس نظام کےاندر رہتے ہوئے ربوبیت کا کوئی جزء کسی معنی میں بھی خدا کے سوا کسی اور سے متعلق سمجھتا ہے یا متعلق کرتا ہے، وہ دراصل حقیقت سے لڑتا ہے ، صداقت سے منہ موڑتا ہے، حق کے خلاف بغاوت کرتا ہے اور امر واقعی کے خلاف کام کر کے اپنے آپ کو خود نقصان اور ہلاکت میں مبتلا کرتا ہے۔

عبادت

عبادت لغوی تحقیق: عربی زبان میں عبودة ، عبودیہ اور عبدیہ کے اصل معنی خضوع اور تذلیل کے ہیں۔ یعنی تابع ہو جاتا ، رام ہو جاتا، کسی کے سامنے اس طرح سپر ڈال دینا کہ اس کے مقابلہ میں کوئی مزاحمت یا انحراف وسرتابی نہ ہو، اور وہ اپنے منشا کے مطابق جس طرح چاہے خدمت لے۔ اسی اعتبار سے اصل عرب اُس اونٹ کو بغیر معبد کہتے ہیں جو سواری کے لیے پوری طرح رام ہو چکا ہو، اور اس راستے کو طریق معبد جو کثرت سے پامال ہو کر ہموار ہو گیا ہو۔ پھر اسی اصل سے اس مادہ میں غلامی، اطاعت ہو جا، ملازمت اور قید یا رکاوٹ کے مفہومات پیدا ہوئے ہیں۔ چنانچہ عربی لغت کی سب سے بڑی کتاب "السان العرب میں اس کی جو تشریح کی گئی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے:

1- العبد المملوک، خلاف الحُر . عبدوہ ہے جو کسی کی ملک ہو اور یہ لفظ 7 ( آزاد ) کی ضد ہے۔ تعبد الرجل " آدمی کو غلام بنا لیا اس کے ساتھ غلام جیسا معاملہ کیا۔ یہی معنی عَبَّدَهُ، أَعْبَدَ اور اعتبَدَہ کے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے۔ ثَلقَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ، رَجُلٌ اعْتَبَدَ مُحرّرًا، وفي رواية اعبد محررًا) تین آدمی ہیں جن کے خلاف قیامت کے دن میں مستغیث بنوں گا۔ من جملہ ان کے ایک وہ شخص ہے جو کسی آزاد کو غلام بنانے یا غلام کو آزاد کرنے کے بعد پھر اس سے غلام کا سا معاملہ کرے۔ حضرت موسیٰ نے فرعون سے کہا تھا: وَتِلْكَ نِعُمَّةٌ تَمُتُهَا عَلَيَّ اَنْ عَبَّدُكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ ” اور تیرا وہ احسان جس کا طعنہ تو مجھے دے رہا ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنالیا ۔“

2-العبادَةُ الطَّاعَةُ مَعَ الخُضُوع ” عبادت اس طاعت کو کہتے ہیں، جو پوری فرماں برداری کے ساتھ ہو ۔ عَبَدَ الطَّاغُوتَ أَى أَطَاعَهُ، ” طاغوت کی عبادت کی ، یعنی اس کا فرماں بردار ہو گیا۔ إِيَّاكَ نَعْبُدُ، أَى نُطِيعُ الطَّاعَةَ الَّتِي يَخْضَعُ مَعَهَا "ہم تیری عبادت کرتے ہیں یعنی ہم تیری اطاعت پوری فرمانبرداری کے ساتھ کرتے ہیں۔“ اَعْبُدُوا رَبَّكُمُ اى أَطِيعُوا رَبَّكُمُ اپنے رب کی عبادت کرو، یعنی اس کی اطاعت کرو۔ قَوْمُهُمَا لَنَا عَابِدُونَ اى دَائِنُونَ وكل من دان لملك فهو عابد له وقال ابن الانبارى فلان عابد وهو الخاضع لربه المستسلم المنقاد لامرہ یعنی فرعون نے جو یہ کہا تھا کہ موسی اور ہارون کی قوم ہماری عابد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہماری تابع فرمان ہے۔ جو شخص کسی بادشاہ کا مطیع ہے وہ آپ کا عابد ہے۔ اور ابن الانباری کہتا ہے فلان عابد کے معنی ہیں " وہ اپنے مالک کا فرمانبردار اور اس کے علم کا مطیع ہے۔

3- عبده عبادة ومعبدًا ومعبدة تألَّعه له، ” اس کی عبادت کی یعنی اس کی پوجا کی۔“ التعبد التنسك تعبد سے مراد ہے کسی کا پرستار اور پجاری بن جانا۔ شاعر کہتا ہے ارى المال عند الباخلين معبدًا. ” میں دیکھتا ہوں کہ بخیلوں کے ہاں روپیہ بچتا ہے۔“

4- عبده وعبد به لزمة فلم يفارقه ، عَبَدَهُ اور عَبَدَبِہ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کے ساتھ وابستہ ہو گیا اور جدا نہ ہوا، اس کا دامن تھام لیا اور چھوڑ نہیں “۔

5-ماعبدک عنی ای ما حبسک. جب کوئی شخص کسی کے پاس آنے سے رک جائے تو وہ یوں کہے گا کہ ما عبدک عنی یعنی کس چیز نے تجھے میرے پاس آنے سے روک دیا۔“

اس تشریح سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مادہ عبد کا اساسی مفہوم کسی کی بالا دستی و برتری تسلیم کر کے اس کے مقابلہ میں اپنی آزادی و خود مختاری سے دست بردار ہو جانا ، سرتابی و مزاحمت چھوڑ دینا اور اس کے لیے رام ہو جاتا ہے یہی حقیقت بندگی و غلامی کی ہے۔ لہذا اس لفظ سے اولین تصور جو ایک عرب کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے وہ بندگی و غلامی (1)ہی کا تصور ہے۔ پھر چونکہ غلام کا اصلی کام اپنے آقا کی اطاعت و فرمانبرداری ہے، اس لیے لازما اس کے ساتھ ہی اطاعت (2)کا تصور پیدا ہوتا ہے۔ اور جب کہ ایک غلام اپنے آقا کی بندگی واطاعت میں محض اپنے آپ کو سپرد ہی نہ کر چکا ہو بلکہ اعتقاد ا اس کی برتری کا قائل اور اس کی بزرگی کا معترف بھی ہو، اور اس کی مہربانیوں پر شکر و احسان مندی کے جذبہ سے بھی سرشار ہو، تو وہ اس کی تعظیم و تکریم میں مبالغہ کرتا ہے، مختلف طریقوں سے اعتراف نعمت کا اظہار کرتا ہے اور طرح طرح سے مراسم بندگی بجالاتا ہے۔ اس کا نام پرستش (3)ہے اور یہ تصور عبدیت کے مفہوم میں صرف اس وقت شامل ہوتا ہے جبکہ غلام کا محض سری آقا کے سامنے جھکا ہوا نہ ہو بلکہ اس کا دل بھی جھکا ہوا ہو ۔ رہے باقی دو تصورات تو وہ دراصل وہ دراصل عبدیت کے ضمنی تصورات ہیں، اصلی اور بنیادی نہیں ہیں۔

لفظ عبادت کا استعمال قرآن میں : اس اغوی تحقیق کے بعد جب ہم قرآن کی طرف رجوع کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس کتاب پاک میں یہ لفظ تمام تر پہلے تین معنوں میں استعمال ہوا ہے کہیں معنی اول و دوم ایک ساتھ مراد ہیں کہیں معنی دوم اور کہیں صرف معنی کسوم مراد لیے گئے ہیں، اور کہیں تینوں معنی بیک وقت مقصود ہیں۔

عبادت بمعنی غلامی واطاعت: پہلے اور دوسرے معنی کی مثالیں حسب ذیل ہیں:۔ ثُمَّ أَرْسَلْنَا مُوسَى وَأَخَاهُ هَرُونَ بِايْتِنَا وَسُلْطَنٍ مُّبِينٍ. إِلَى فِرْعَوْنَ وَمَلَائِهِ فَاسْتَكْبَرُوا وَكَانُوا قَوْمًا عَالِيْنَ، فَقَالُوا أَنُؤْمِنُ لِبَشَرَيْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُهُمَا لَنَا عَابِدُونَ. (مومنون: ۴۵-۴۷)

پھر ہم نے موسی اور اس کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور صریح دلیل ماموریت کے ساتھ فرعون اور اس کے اعیان سلطنت کی طرف بھیجا۔ مگر وہ تکبر سے پیش آئے ، کیونکہ وہ با اقتدار لوگ تھے۔ انہوں نے کہا کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں کا کہا مان لیں اور آدمی بھی وہ جن کی قوم ہماری عابد ہے،،۔

وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُتُهَا عَلَى أَنْ عَبْدتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ. (الشعراء:۲۳)

،،(فرعون نے جب موسیٰ کو طعنہ دیا کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں بچپن سے پالا ہے تو موسیٰ نے کہا ) اور تیرادہ احسان جس کا تو مجھے طعنہ دے رہا ہے۔ یہی تو ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو اپنا عبد بنا لیا "۔

دونوں آیتوں میں عبادت سے مراد غلامی اور اطاعت وفرماں برداری ہے۔ فرعون نے کہا موسی اور ہارون کی قوم ہماری عابد ہے، یعنی ہماری غلام ہے اور ہمارے فرمان کی تابع ہے۔ اور حضرت موسی نے کہا کہ تو نے بنی اسرائیل کو اپنا عبد بنالیا ہے، یعنی ان کو غلام بنالیا ہے اور ان سے من مانی خدمت لیتا ہے۔

يأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَتِ مَا رَزَقْنكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ (البقره:۱۷۲)

”اے ایمان لانے والو! اگر تم ہماری عبادت کرتے ہو تو ہم نے جو پاک چیزیں تمہیں بخشی میں انہیں کھاؤ اور خدا کا شکر ادا کرو۔"

اس آیت کا موقع محل یہ ہے کہ اسلام سے پہلے عرب کے لوگ اپنے مذہبی پیشواؤں کےاحکام اور اپنے آباؤ اجداد کے اوہام کی پیروی میں کھانے پینے کی چیزوں کے متعلق طرح طرح کی قیود کی پابندی کرتے تھے۔ جب ان لوگوں نے اسلام قبول کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم ہماری عبادت کرتے ہو، تو ان ساری پابندیوں کو ختم کرو اور جو کچھ ہم نے حلال کیا ہے اسے حلال سمجھ کر بے تکلف کھاؤ پیو ۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اگر تم اپنے پنڈتوں اور بزرگوں کے نہیں بلکہ ہمارے بندے ہو، اور اگر تم نے واقعی ان کی اطاعت و فرمانبرداری چھوڑ کر ہماری اطاعت و فرمانبرداری قبول کی ہے تو اب تمہیں حلت و حرمت اور جواز و عدم جواز کے معاملہ میں ان کے بنائے ہوئے ضابطوں کے بجائے ہمارے ضابطہ کی پیروی کرنی ہوگی۔ لہذا یہاں بھی عبادت کا لفظ غلامی اور اطاعت ہی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔

قُلْ هَلْ أَنبِئُكُمْ بِشَرٌ مِنْ ذَالِكَ مَلُوبَهُ عِندَ اللَّهِ مَنْ لَّعْنَهُ اللَّهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ. (المائدة:٢٠)

" کہوں میں بتاؤں تمہیں کہ اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ برا انجام کن لوگوں کا ہے؟ وہ جن پر اللہ کی پھٹکار ہوئی اور اس کا غضب ٹوٹا، جن میں سے بہت سے لوگ بندر اور سورتک بنا دیے گئے ، جنہوں نے طاغوت کی عبادت کی ۔"

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أن اعْبُدُوا اللهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ. (النحل: ۳۶)

"ہم نے ہر قوم میں ایک پیغمبر یہ تعلیم دینے کے لیے بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت کی عبادت سے باز رہو۔“

وَالَّذِيْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوتَ أَنْ يَعْبُدُوهَا وَآنَابُوا إِلَى اللَّهِ لَهُمُ الْبُشْرَى. (الزمر: ۱۷)

“ اور خوشخبری ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے طاغوت کی عبادت کو چھوڑ کر اللہ کی طرف رجوع کیا۔“

تینوں آیتوں میں طاغوت کی عبادت سے مراد طاغوت کی غلامی اور اطاعت ہے، جیسا کہ اس سے پہلے ہم اشارہ کر چکے ہیں، قرآن کی اصطلاح میں طاغوت سے مراد ہر وہ ریاست واقتدار اور ہر وہ رہنمائی و پیشوائی ہے جو خدا سے باغی ہو کر خدا کی زمیں میں اپنا حکم چلائے اور اکھی کے بندوں کو زور و جبر سے یا تحریص و اطماع سے یا گمراہ کن تعلیمات سے اپنے تابع امر بنائے۔ایسے ہر اقتدار اور ایسی ہر پیشوائی کے آگے سر تسلیم خم کرنا اور اس کی بندگی اختیار کر کے اس کا حکم بجا لانا طانخوت کی عبادت ہے۔

عبادت بمعنی اطاعت : اب ان آیات کو لیجیے جن میں عبادت کا لفظ صرف معنی دوم میں استعمال ہوا ہے۔

الم أعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أنْ لا تَعْبُدُ الشَّيْطَنَ إِنَّهُ لكم عدو مبين. (ئیس ٢٠)

"اے بنی آدم ! کیا میں نے تم کو تاکید نہ کی تھی کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا۔ کیونکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔"

ظاہر ہے کہ شیطان کی پرستش تو دنیا میں کوئی بھی نہیں کرتا۔ بلکہ ہر طرف سے اس پر لعنت اور پھٹکار ہی پڑتی ہے۔ لہذا بنی آدم پر جو فرد جرم اللہ تعالی کی طرف سے قیامت کے روز لگائی جائے گی ، وہ اس بات کی نہ ہوگی کہ انہوں نے شیطان کی پوجا کی بلکہ اس بات کی ہوگی کہ وہ شیطان کے کہنے پر چلے اور اس کے احکام کی اطاعت کی اور جس جس راستہ کی طرف وہ اشارہ کرتا گیا اس پر دوڑے چلے گئے۔

أحْشُرُو الَّذِينَ ظَلَمُوا وَازْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوا يَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَاهَدُواهُمُ إلى صِرَاطِ الْجَحِيم... وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يُتَسَاءَ لُوْنَ. قَالُوا إِنَّكُمْ كُنتُمْ تَا تُونَنَا عَنِ الْيَمِينِ قَالُوا بَلْ لَّمْ تَكُونُوا مُؤْمِنِينَ وَمَا كَانَ لَنَا عَلَيْكُمْ مِنْ سُلْطَنٍ بَلْ كُنتُمْ قَوْمًا طَعِينَ (صفت :۲۲-۳۰)

" (جب قیامت برپا ہوگی تو اللہ فرمائے گا) تمام ظالموں اور ان کے ساتھیوں کو اور معبودان غیر اللہ کو جن کی وہ عبادت کرتے تھے جمع کرو اور انہیں جہنم کا راستہ دکھاؤ پھر وہ آپس میں ایک دوسرے سے رڈو کہ کرنے لگیں گے۔ عبادت کرنے والے کہیں گے کہ تم وہی لوگ تو ہو جو خبر کی راہ سے ہمارے پاس آتے تھے۔ ان کے معبود جواب دیں گے کہ اصل میں تم خود ایمان لانے پر تیار نہ تھے ہمارا کوئی زور تم پر نہ تھا۔ تم آپ ہی نا فرمان لوگ تھے۔“

اس آیت میں عابدوں اور معبودوں کے درمیان جو سوال و جواب نقل کیا گیا ہے اس پر غور کرنے سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ یہاں معبودوں سے مراد یت اور دیوتا نہیں ہیں جن کی پوجا کی جاتی تھی، بلکہ وہ پیشوا اور رہنما ہیں جنہوں نے سجادوں اور تسبیحوں اور جنتوں اور گلیموں سے بندگان خدا کو دھوکا دے دے کر اپنا معتقد بنایا جنہوں نے اصلاح اور خیر خواہی کے دعوے کر کے کر کے شر اور فساد پھیلائے۔ ایسے لوگوں کی اندھی تقلید اور ان کے احکام کی بے چون و چرا اطاعت کرنے ہی کو یہاں عبادت سے تعبیر کیا گیا ہے۔

اتخذوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَهَا وَاحِدًا. (التوبة: (٣١)

”انہوں نے اپنے علماء اور مشائخ کو خدا کے بجائے اپنا رب بنا لیا اور اسی طرح مسیح ابن مریم کو بھی حالانکہ ان کو ایک اللہ کے سوا کسی کی عبادت کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔“

یہاں علماء اور مشائخ کو رب بنا کر عبادت کرنے سے مراد ان کو امر و نہی کا مختار اور خدا و پیغمبر کی سند کے بغیر ان کے احکام کی اطاعت بجالانا ہے۔ اسی معنی کی تصریح روایات صحیحہ میں خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادی ہے۔ جب آپ سے عرض کیا گیا کہ ہم نے علماء اور مشائخ کی پرستش تو کبھی نہیں کی۔ تو آپ نے جواب دیا کہ جس چیز کو انہوں نے حلال ٹھہرایا، کیا تم نے اسے حلال نہیں سمجھ لیا؟ اور جسے انہوں نے حرام قرار دیا کیا تم نے اسے حرام نہیں بنالیا ؟۔

عبادت بمعنی پرستش; اب تیسرے معنی کی آیات کو لیجئے۔ اس سلسلہ میں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ قرآن کی رو سے عبادت بمعنی پرستش میں دو چیزیں شامل ہیں۔

ایک یہ کہ کسی کے لیے سجدہ ورکوع اور دست بستہ قیام اور طواف اور آستانہ بوی اور نذرونیاز اور قربانی وغیرہ کے وہ مراسم ادا کیے جائیں جو بالعموم پرستش کی غرض سے ادا کیے جاتے ہیں قطع نظر اس سے کہ اسے مستقل بالذات معبود سمجھا جائے یا بڑے معبود کے ہاں تقرب اور سفارش کا ذریعہ سمجھ کر ایسے کیا جائے، یا بڑے معبود کے ماتحت خدائی کے انتظام میں شریک سمجھتے ہوئے یہ حرکت کی جائے۔

دوسرے یہ کہ کسی کو عالم اسباب پر ذی اقتدار خیال کر کے اپنی حاجتوں میں اس سے دعا مانگی جائے ، اپنی تکلیفوں اور مصیبتوں میں اس کو مدد کے لیے پکارا جائے اور خطرات ونقصانات سے بچنے کے لیے اس سے پناہ مانگی جائے۔

یہ دونوں قسم کے فعل قرآن کی رُو سے یکساں پرستش کی تعریف میں آتے ہیں۔

مثالیں:

قُلْ إِنِّي نُهَيْتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُوّن اللهِ لَمَّا جَاءَ فِي الْبَيِّنَاتُ مِنْ ربي (المؤمن (٢٦) (۶۶)

" کہو، مجھے تو اس سے منع کر دیا گیا ہے کہ اپنے رب کی طرف سے صریح ہدایات پالینے کے بعد میں ان کی پرستش کروں جنہیں تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو۔“

وَأَعْتَزِ لَكُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَادْعُوا رَبِّي فَلَمَّا أَعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَهَبْنَالَهُ إِسْحَقَ. (مریم: ۴۸-۴۹)

"(ابراہیم نے کہا ) میں تم کو اور اللہ کے ماسوا جنہیں تم پکارتے ہو ، ان سب کو چھوڑتا ہوں۔ اور اپنے رب کو پکارتا ہوں پس جب وہ ان سے اور ان کے سوا جن کی وہ عبادت کرتے تھے۔ ان سب سے الگ ہو گیا تو ہم نے اسے اسحاق جیسا بیٹا دیا - - -"

وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيبُ لَه إلى يوم القِيامَةِ وَهُم يَوْمِ عَنْ دُعَائِهِمْ عَقِلُونَ، وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُو لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ. (احقاف ۵-۶)

"اور اس سے زیادہ بہکا ہوا انسان اور کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر انہیں پکارے جو قیامت تک اُس کی پکار کا جواب نہیں دے سکتے ، جنہیں خبر تک نہیں کہ ان کو پکارا جا رہا ہے۔ اور جو روز حشر میں ( جب کہ لوگ جمع کیے جائیں گے ) اپنے ان پکارنے والوں کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت کا انکار کریں گے۔“۔


بَلْ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْجِنَّ اَكْثَرُهُمْ بِهِم مَؤْمِنُونَ ( سبا-۳۱ )

“بلکہ وہ جنوں کی عبادت کرتے تھے اور ان میں سے اکثر ان پر ایمان لائے ہوئے تھے۔“

یہاں جوں کی عبادت اور ان پر ایمان لانے سے جو کچھ مراد ہے اس کی تشریح سورہ جن کی یہ آیت کرتی ہے۔

1- یعنی صاف کہیں گے کہ نہ ہم نے ان سے کہا کہ ہماری عبادت کرو اور نہ ہمیں اس کی بھی خبر ہوئی کہ یہ ہماری عبادت کرتے تھے۔

وَأَنَّهُ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْإِنْسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ. (جن:6)

“ اور یہ کہ انسانوں میں سے بعض اشخاص جنوں میں سے بعض اشخاص کی پناہ ڈھونڈتے ہیں۔“

اس سے معلوم ہوا کہ جوں کی عبادت سے مراد ان کی پناہ ڈھونڈنا ہے اور خطرات ونقصانات کے مقابلہ میں ان سے حفاظت طلب کرنا ہے اور ان پر ایمان لانے سے مراد ان کے متعلق یہ اعتقاد رکھنا ہے کہ وہ پناہ دینے اور حفاظت کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔

يَوْمَ يَحْشُرُهُمْ وَمَايَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ فَيَقُولُ ، أَنْتُمْ أَضْلَلْتُمْ عِبَادِي هَؤُلَاءِ يَوْمَ يَحْشُرُهُمْ وَمَايَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ فَيَقُولُ ، أَنْتُمْ أَضْلَلْتُمْ عِبَادِي هَؤُلَاءِ اَوْلِيَاءَ (الفرقان: ۱۸۱۷)

“جس روز اللہ ان کو اور ان کے معبودوں کو جمع کرے گا جن کی یہ خدا کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے تو وہ ان سے پوچھے گا کہ میرے ان بندوں کو تم نے بہکایا تھایا خود راہ راست سے بہک گئے؟ وہ عرض کریں گے سبحان اللہ ! ہم کو کب زیبا تھا کہ حضور کو چھوڑ کر کسی کو ولی ورفیق بنا ئیں ۔“

یہاں انداز بیان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ معبودوں سے مراد اولیاء اور صلحاء ہیں اور ان کی عبادت سے مراد ان کو بندگی کی صفات سے بالاتر اور خدائی کی صفات سے متصف سمجھنا، ان کو غیبی امداد اور مشکل کشائی و فریا دری پر قادر خیال کرنا اور ان کے لیے تعظیم کے وہ مراسم ادا کرنا جو پرستش کی حد تک پہنچے ہوئے ہوں۔

وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ يَقُولُ لِلْمَلَئِكَةِ أهْؤُلاءِ إِيَّاكُمْ كَانُوا يَعْبُدُونَ. قَالُوا سُبْحَنَكَ اَنْتَ وَلِيُّنَا مِنْ دُونِهِمْ. (سبا: ۴۰-۴۱)

“ جس روز اللہ سب کو اکٹھا کرے گا، پھر فرشتوں سے پوچھے گا، کیا وہ تم ہو جن کی یہ لوگ عبادت کرتے تھے ؟ تو وہ کہیں گے سبحان اللہ ہمیں ان سے کیا تعلق؟ ہمارا تعلق تو آپ سے ہے۔"

یہاں فرشتوں کی عبادت سے مراد ان کی پرستش ہے جو ان کے استھان اور بیکل اور خیالی مجسمے بنا کر کی جاتی تھی اور اس پو جا سے مقصود یہ ہوتا تھا کہ ان کو خوش کر کے ان کی نظر عنایت اپنے حال پر مبذول کرائی جائے ، اور اپنے دنیوی معاملات میں ان سے مدد حاصل کی جائے۔

وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَالَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عند الله . (یونس: ۱۸)


“ وہ اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے تھے جو نہ انہیں نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔“

وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُوْنِةٍ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللهِ زُلْفَى. (الزمر:٣)

“جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا ولی بنا رکھا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم تو ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کر دیں“ ۔


عبادت بمعنی بندگی واطاعت و پرستش : اوپر کی مثالوں سے یہ بات اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن میں عبادت کا لفظ کہیں غلامی واطاعت کے معنی میں استعمال ہوا ہے، کہیں مجر واطاعت کے معنی میں ۔ اب قبل اس کے کہ ہم وہ مثالیں پیش کریں جن میں یہ لفظ عبادت کے ان تینوں مفہومات کا جامع ہے، ایک مقدمہ ذہن نشین کر لینا ضروری ہے۔

او پر جتنی مثالیں پیش کی گئی ہیں ان سب میں اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کا ذکر ہے۔ جہاں عبادت سے مراد غلامی واطاعت ہے وہاں معبود یا تو شیطان ہے یادہ باغی انسان ہیں جنہیں نے طاغوت بن کر خدا کے بندوں سے خدا کے بجائے اپنی بندگی واطاعت کرائی ، یاوہ رہنما و پیشوا ہیں جنہوں نے کتاب اللہ سے بے نیاز ہو کر اپنے خود ساختہ طریقوں پر لوگوں کو چلایا۔ اور جہاں عبادت سے مراد پرستش ہے وہاں معبود یا تو اولیاء ، انبیاء اور صلحا ہیں جنہیں ان کی تعلیم و ہدایت کے خلاف معبود بنایا گیا، یا فرشتے اور جن ہیں جن کو محض غلام نبی کی بنا پر فوق الطبیعی ربوبیت میں شریک سمجھ لیا گیا، یہ خیالی طاقتوں کے بت اور تماثیل ہیں جو محض شیطانی اغوا سے مرکز پرستش بن گئے۔ قرآن ان تمام اقسام کے معبودوں کو باطل اور ان کی عبادت کو غلہ ٹھہراتا ہے ، خواہ ان کی غلامی کی گئی ہو یا اطاعت یا پرستش ، وہ کہتا ہے کہ تمہارے یہ سب معبود جن کی تم عبادت کرتے رہے ہو، اللہ کے بندے اور غلام ہیں۔ نہ انہیں یہ حق پہنچتا ہے کہ ان کی عبادت کی جائے اور نہ ان کی عبادت سے بجز نامرادی اور ذلت ورسوائی کے تم کو کچھ حاصل ہو سکتا ہے۔ حقیقت میں ان کا اورساری کائنات کا مالک اللہ ہی ہے، اس کے ہاتھ میں تمام اختیارات ہیں لہذا عبادت کا اکیلے اللہ کے سوا کوئی نہیں۔

إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ عِبَادٌ أمْثَالُكُمْ فَادْعُوهُمْ فَلْيَسْتَجِيبُوا لَكُمْ إِنْ كُنتُم صدقين وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلَا انْفُسَهُمْ يَنصُرُونَ (اعراف: ۱۹۴-۱۹۷)

“اللہ کو چھوڑ کر جنہیں تم پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں، جیسے تم خود بندے ہو، انہیں پکار کردیکھ لو۔ اگر تمہارا عقیدہ ان کے بارے میں صحیح ہے تو وہ تمہاری پکار کا جواب دیں.! - - اللہ کے سوا جنہیں تم پکارتے ہو وہ نہ تو تمہاری کوئی مدد کر سکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد پر قادر ہیں۔"

وقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ بَلْ عِبَادَ مُكَرَمُونَ، لَا يَسْقُوْنَهُ بِالْقَول وَهُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَعَلَى وَهُمْ مِنْ عَشْيَتِهِ مُشْفِقُونَ (الانيا :۲۲-۳)

"یہ لوگ کہتے ہیں کہ رحمان نے کسی کو بیٹا بنایا۔ بالاتر ہے وہ اس سے کہ کوئی اس کا بیٹا ہو۔ جنہیں یہ اس کی اولاد کہتے ہیں وہ در اصل اس کے بندے ہیں جن کو عزت دی گئی ہے ان کی اتنی مجال نہیں کہ وہ خود سبقت کر کے اللہ کے حضور کچھ عرض کر سکیں بلکہ جیسا وہ حکم دیتا ہے اس کے مطابق وہ عمل کرتے ہیں۔ جو کچھ ان پر ظاہر ہے اسے بھی اللہ جانتا ہے اور جو کچھ ان سے پوشیدہ ہے اس کی بھی اللہ کو خبر ہے۔ وہ اللہ کے حضور کسی کی سفارش نہیں کر سکتے بجز اس کے کہ جس کی سفارش خود اللہ ہی قبول کرنا چا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ اللہ کے خوف سے سہمے رہتے ہیں ۔

وَجَعَلُوا الْمَلَئِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَنِ إِنَاثًا. (زخرف ۱۹)

" ان لوگوں نے فرشتوں کو جو دراصل رحمان کے بندے ہیں دیویاں بنا رکھا ہے"

وَجَعَلُوْا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةَ نَسَبًا وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجَنَّةُ إِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ. . (صفت : ۱۵۸)

" انہوں نے جنوں کے اور خدا کے درمیان نسبی تعلق فرض کر لیا ہے حالانکہ جن خود بھی جانتے ہیں کہ ایک روز انہیں حساب کے لیے اس کے حضور پیش ہوتا ہے۔"



لَنْ يَسْتَنْكِفَ الْمَسَيحُ أَنْ يَكُونَ عَبْدًا لِلَّهِ وَلَا الْمَلَئِكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ، وَمَنْ يَسْتَنْكِفَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرُ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا. (النساء - :۱۷۲)

" نہ مسیح نے کبھی اس کو اپنے لیے عار سمجھا کہ وہ اللہ کا بندہ ہو اور نہ مقرب فرشتوں نے۔اور جو کوئی اس کی بندگی و غلامی میں عار سمجھے اور تکبر کرے ( وہ بھاگ کر جا کہاں سکتا ہے ) ایسے سب لوگوں کو اللہ اپنے حضور کھینچ لائے گا۔“

الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ، وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَان. (الرحمن: ۵-۶)

“سورج اور چاند سب گردش میں لگے ہیں اور تارے اور درخت خدا کے آگے سر اطاعت جھکائے ہوئے ہیں۔“

تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَنْ فِيهِنَّ وَ إِنْ مِنْ شَيْيٍّ الْايُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ (بنی اسرائیل: ۳۴)

“ساتوں آسمان اور زمین اور جس قدر موجودات آسمان وزمین میں ہیں سب کے سب اللہ کی تسبیح کر رہے ہیں، کوئی چیز ایسی نہیں جوحمد وثنا کے ساتھ اس کی تشبیح نہ کرتی ہو ۔ مگرتم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ہو۔“

وَلَهُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ كُلٌّ لَّهُ قَانِعُونَ: (الروم : ٣٦)

“آسمانوں اور زمین کی کل موجودات اس کی ملک ہے اور ساری چیزیں اس کے فرمان کی تابع ہیں۔“

مَا مِن دَآبَّةٍ إِلَّا هُوَ اخِذْ بِنَاصِيَتِهَا. (هور: ۵۶)

"کوئی جاندار ایسا نہیں جو اللہ کے قبضہ قدرت میں جکڑا ہوا نہ ہو۔"

إن كُلُّ مَنْ فِى السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ إِلَّا ابي الرَّحْمَن عَبْدًا لَقَدْ أَحْصَهُمُ وَعَدَّهُمْ عَدًّا وَكُلَّهُم اتِيهِ يَوْمَ الْقِيمَةِ فَرْدًا . (مریم:۹۳-۹۵ )

“زمین اور آسمانوں کے باشندوں میں سے کوئی نہیں جو رحمن کے سامنے غلام کی حیثیت سے پیش ہونے والا نہ ہو۔ اس نے سب کا شمار کر رکھا ہے اور قیامت کے روز سب اس کے حضور فردا فردا پیش ہوں گے۔“

قل اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ نشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلى كُلّ شَيْء قَدِيرٌ. ( آل عمران: ۲۶)

"کیو! خدایا! ملک کے مالک! تو جسے چاہے ملک دے اور جس سے چاہے چھین لے، جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کر دے بھلائی تیرے اختیار میں ہے، یقینا تو ہر چیز پر قادر ہے۔“

اس طرح ان سب کو جن کی عبادت کسی شکل میں کی گئی ہے، اللہ کا غلام اور بے اختیار ثابت کر دینے کے بعد قرآن تمام جن و انس سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہر مفہوم کے لحاظ سے عبادت صرف اللہ کی ہونی چاہیے۔ غلامی ہو تو اس کی اطاعت ہو تو اُس کی پرستش ہو تو اس کی ، ان میں سے کسی نوع کی عبادت کا شائبہ تک بھی غیر اللہ کے لیے نہ ہو۔

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُوْلًا أَنِ اعْبُدُو اللهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ. (النحل: ٣٦)

“ہم نے ہر قوم میں ایک رسول یہی پیغام دے کر بھیجا ہے کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت کی عبادت سے پرهیز کرو۔“

والَّذِينَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ أَن يُعْبُدُوهَا وَآتَابُوا إلى اللهِ لَهُمُ البشرى. (الزمر: ۱۷)

“خوشخبری ہے ان کے لیے جنہوں نے طاغوت کی عبادت سے پرهیز کیا اور اللہ کی طرف رجوع کرلیا۔“

الم أعهد إليكم يبنى آدَمَ أَن لا تَعْبُدُوا الشَّيْطَنَ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ وان اعْبُدُونِي هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ. (يس: ٦٠ - ٦١)

“اے بنی آدم ! کیا میں نے تم کو تاکید نہ کی تھی کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور میری عبادت کرنا ، یہی سیدھا راستہ ہے۔“

اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللهِ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَهَا وَاحِدًا . (التوبة: ٣١)

"انہوں نے اللہ کے بجائے اپنے علماء اور مشائخ کو اپنا رب بنا لیا، حالانکہ انہیں حکم دیا گیا تھا کہ ایک اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔"

بايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبت مارزقنكُمْ وَاذْكُرُو لِلَّهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ (بقره: ۱۷۲)

”اے ایمان لانے والو! اگر تم نے واقعی ہماری عبادت اختیار کی ہے تو جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں انہیں بے تکلف کھاؤ اور خدا کا شکر ادا کرو۔“

ان آیات میں اللہ کے لیے اس عبادت کو مخصوص کرنے کا حکم دیا گیا ہے جو بندگی وغلامی اور اطاعت و فرمانبرداری کے معنی میں ہے۔ اور اس کے لیے صاف قرینہ موجود ہے کہ طاغوت اور شیطان اور احبارور بیان اور آباؤ اجداد کی اطاعت و بندگی سے پر ہیز کر کے اللہ کی اطاعت و بندگی اختیار کرنے کی ہدایت کی جارہی ہے۔

قل إني نهيت أن أعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ لَمَّا جَاءَ فِي الْبَيِّنَاتُ مِنْ ربى وأمرت أن أسْلِم لِرَبِّ الْعَالَمِينَ (المؤمن ٢٦)

" کہو، مجھے اس سے منع کیا گیا ہے کہ میں اپنے رب کو چھوڑ کر ان کی عبادت کروں جنہیں تم اللہ کے بجائے پکارتے ہو، جبکہ میرے رب کی طرف سے میرے پاس بینات بھی آچکی ہیں۔ اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں رب العلمین کے آگے سر تسلیم خم کروں۔"

وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ (المومن ٢٠)

اور تمہارے رب نے فرمایا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری پکار کا جواب دوں گا۔ اور جولوگ میری عبادت سے سرتابی کرتے ہیں وہ یقینا جہنم میں جھونکے جائیں گے۔"

ذَالِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِنْ قطمير إن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَ كُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُو الكُمْ وَيَوْمَ الْقِيمَةِ اسْتَجَابُوالَكُمْ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ. (فاطر:۱۳-۱۴)

“ وہی اللہ تمہارا رب ہے، بادشاہی اس کی ہے، اس کے سوا تم جن کو پکارتے ہو ان کے اختیار میں ذرہ برابر کچھ نہیں۔ تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار سن نہیں سن سکتے اور سن بھی لیں تو جواب نہیں دے سکتے ۔ اور قیامت کے روز وہ تمہارے اس شرک کا انکار کریں گے ۔“

قل العبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَالَا يَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا ولا نفعا والله هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيم. (المائده: ۷۶)

" کہو، کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہیں نقصان پہنچانے کی طاقت رکھتے ہیں ، نہ نفع پہنچانے کی سب کچھ سنے اور جانے والا تو اللہ ہی ہے۔"

ان آیات میں اس عبادت کو اللہ کے لیے مختص کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جو پرستش کے معنی میں ہے۔ اور اس کے لیے بھی صاف قرینہ موجود ہے کہ عبادت کو دعا کے مترادف کی حیثیت سے استعمال کیا گیا ہے اور ماقبل و مابعد کی آیات میں ان معبودوں کا ذکر پایا جاتا ہے جنہیں فوق الطبیعی ربوبیت میں اللہ کا شریک قرار دیا جاتا ہے۔

اب کسی صاحب بصیرت آدمی کے لیے یہ سمجھ لینا کچھ بھی مشکل نہیں کہ جہاں جہاں قرآن میں اللہ کی عبادت کا ذکر ہے اور آس پاس کوئی ایسا قرینہ موجود نہیں ہے جو لفظ عبادت کو اس کے مختلف مفہومات میں سے کسی ایک مفہوم کے لیے خاص کرتا ہو، ایسے تمام مقامات میں عبادت سے مراد، غلامی، اطاعت اور پرستش، تینوں مفہوم ہوں گے۔ مثال کے طور پر حسب ذیل آیات کو دیکھیے :

التي أنا الله لا إِلَهَ إِلَّا انَا فَاعْبُدُونِي. (۱۳)

"میں اللہ ہوں، میرے سوا کوئی الہ نہیں، لہذا میری ہی عبادت کر" ۔

الكُمُ الله رَبُّكُمْ لَا إِله إِلَّا هُوَ خَالِقُ كُلّ شَى فَاعْبُدُوهُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْى وكيل (انعام: ١٠٣)

"وہی اللہ تمہارا رب ہے۔ اس کے سوا کوئی الہ نہیں، ہر چیز کا خالق، لہذا تم اس کی عبادت کرو اور وہ ہر شے کی خبر گیری کا متکفل ہے۔ "

قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنْ كُنْتُمْ فِي شَكٍّ مِنْ دِينِي فَلَا أَعْبُدُ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِنْ دون الله ولكن اعْبُدُو الله الَّذِي يَتَوَفكُم وأمرت أن أكون مِنَ الْمُؤْمِنِينَ. (یونس : ۱۰۴)

" کہو، کہ اے لوگو! اگر تمہیں ابھی تک معلوم نہیں ہے کہ میرا دین کیا ہے تو تمہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا بلکہ میں اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہاری روحیں قبض کرتا ہے۔ اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ایمان لانے والوں میں شامل ہو جاؤں۔ "

مَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِةٍ إِلَّا أَسماء سَمَّيْتُمُوهَا انْتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا أَنزَلَ اللهُ بِهَا مِنْ سُلْطَان ، إِنْ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ أَمَرَ إِلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ، ذَالِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ (يوسف: ٤٠)

"اللہ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو ان کی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں۔ اللہ نے ان کے لیے کوئی دلیل معبودیت نازل نہیں کی ہے۔ اقتدار صرف اللہ کے لیے خاص ہے۔ اس نے حکم دیا ہے کہ خود اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے یہی سیدھا طریقہ ہے۔“

ولله غَيْبُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الأمرُ كُلُّه فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ. (ہود: ۱۲۳)

"آسمانوں اور زمین کی جس قدر حقیقتیں بندوں سے پوشیدہ ہیں ان کا علم اللہ ہی کو ہے اور سارے معاملات اس کی سرکار میں پیش ہوتے ہیں۔ لہذا تو اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ رکھے"

لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَيْنَ ذَلِكَ، وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا، رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا فَاعْبُدُهُ وَاصْطَبِرُ لِعِبَادَتِهِ. (مریم: ۶۴-۶۵)

,, جو کچھ ہمارے سامنے ہے اور جو کچھ ہم سے پوشیدہ ہے اور جو کچھ ان دونوں حالتوں کے درمیان ہے، سب کا مالک وہی ہے، اور تیرا رب بھولنے والا نہیں ہے۔ وہ مالک ہے آسمان اور زمین کا اور ان ساری چیزوں کا جو زمین و آسمان کے درمیان ہیں لہذا تو اسی کی عبادت کر اور اس کی عبادت پر ثابت قدم رہ ۔“

فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أحَدًا (كيف: ١١٠)

“پس جو اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو وہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کی عبادت شریک نہ کرے۔“

کوئی وجہ نہیں کہ ان آیات اور ایسی ہی دوسری تمام آیات میں عبادت کے لفظ کو حض پرستش یا محض بندگی واطاعت کے لیے مخصوص ٹھہر الیا جائے۔ اس طرح کی آیات میں دراصل قرآن اپنی دعوت پیش کرتا ہے اور ظاہر ہے کہ قرآن کی دعوت یہی ہے کہ بندگی ، اطاعت، پرستش جو کچھ بھی ہو اللہ کی ہو۔ لہذا ان مقامات پر عبادت کے معنی کو کسی ایک مفہوم میں محدود کر نا حقیقت میں قرآن کی دعوت کو محدود کرنا ہے اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ جو لوگ قرآن کی دعوت کا ایک محدود تصور لے کر ایمان لائیں گے وہ اس کی ناقص و نا تمام پیروی کریں گے۔

دین

دین لغوی تحقیق: کلام عرب میں لفظ دین مختلف معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔

(۱) غلبه و اقتدار، حکمرانی و فرمانروائی ، دوسرے کو اطاعت پر مجبور کرنا ، اس پر اپنی قوت قاہرہ (Sovereignty) استعمال کرنا ، اس کو اپنا غلام اور تابع امر بنانا ۔ مثلاً کہتے ہیں دَانَ النَّاسَ، أى فَهَرَهُمْ عَلَى الطَّاعَةِ (یعنی لوگوں کو اطاعت پر مجبور کیا ) دِنتَهُمْ قَدَانُوا أَي قَهَرْتُهُمُ فَأَطَاعُوا (یعنی میں نے ان کو مغلوب کیا اور وہ مطیع ہو گئے ) دِنْتُ الْقَوْمَ أَيْ ذَلَّلْتُهُم وَاسْتَعْبَدُتُهُمْ ( میں نے فلاں گروہ کو مسخر کر لیا اور غلام بنالیا ) دان الرجل اذا عز (فلان شخص عزت اور طاقت والا ہو گیا) دنت الرجل حملته على مايكره. (میں نے اس کو اپنے کام پر مجبور کیا جس کے لیے وہ راضی نہ تھا) ۔ دِینَ فَلانٌ إِذَا حَمَلَ عَلَى مَكْرَوُهِ (فلاں شخص اس کام کے لیے بزور مجبور کیا گیا)۔ ذنته ای سُسْتُهُ وَمَلَكْتُهُ (یعنی میں نے اس پر حکم چلایا اور فرمانروائی کی ) دَيَّنَتُهُ الْقَوْمَ وَلَّيْتُهُ سَيَاسَتَهُمُ (یعنی میں نے لوگوں کی سیاست و حکمرانی فلاں شخص کے سپردکردی) اسی معنی میں حلیہ اپنی ماں کو خطاب کر کے کہتا ہے:۔

لَقَدْ دَيَّنَتِ امْرَ بَيْك حَتَّى تَركُتِهِمُ ادْقَ مِنَ الطَّحِين


حدیث میں آتا ہے اَلْكَيْسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمُوتِ یعنی عقل مندوه ہے جس نے اپنے نفس کو مغلوب کر لیا اور وہ کام کیا جور اس کی آخرت کے لیے نافع ہو۔ اسی معنی کے لحاظ سے دیان اس کو کہتے ہیں جو کسی ملک یا قوم یا قبیلے پر غالب و قاہر ہو اور اس پر فرماں روائی کرے۔ چنانچہ انشی الحرمازی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے کہتا ہے یا سید الناس و دیان العرب اور اس لحاظ سے مدین کے معنی غلام اور مدینہ کے معنی لونڈی ، اور ابن مدینہ کے معنی لونڈی زادے کے آتے ہیں۔ افضل کہتا ہے ربت و ربانی حجرها ابن مدينة اور قرآن کہتا ہے۔

فَلَوْلَا إِنْ كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِيْنَ . تَرْجِعُونَهَا إِنْ كُنتُمْ صَدِقِينَ. (الواقعہ: ۸۶،۸۵)

یعنی اگر تم کسی کے مملوک ، تابع ، ماتحت نہیں ہو تو مرنے والے کوموت سے بچا کیوں نہیں لیتے ؟ جان کو واپس کیوں نہیں پلٹا لا تے ؟

(۲) اطاعت ، بندگی خدمت کسی کے لیے مسخر ہو جانا، کسی کے تحت امر ہونا ، کسی کے غلبہ و قہر سے دب کر اس کے مقابلہ میں ذلت قبول کر لینا۔ چنانچہ کہتے ہیں دنتهم فدانُوا انى فَهَرْتُهُمْ فَاطَاعُوا (یعنی میں نے ان کو مغلوب کر لیا اور و دلوگ مطیع ہو گئے ) دنتُ الرجل، ای خدمته (یعنی میں نے فلاں شخص کی خدمت کی ) حدیث میں آتا ہے کہ حضور نے فرمایا: اريد من قريش كَلِمَةً تَدين لهم بها العرب أى تُطِيعُهم وتخضع لهم " میں قریش کو ایک ایسے کلمہ کا ہیرو بنانا چاہتا ہوں کہ اگر وہ اسے مان لے تو تمام عرب اس کا بابع فرمان بن جائے اور اس کے آگے جھک جائے) اسی معنی کے لحاظ سے اطاعت شعار قوم کو قوم دین کہتے ہیں۔ اور اسی معنی میں دین کا لفظ حدیث خوارج میں استعمال کیا گیا ، يمرقون من الدين مروق السهم من الرمية -(1)

(۳) شریعت قانون ، طریقه ، کیش، دلت ، رسم و عادت ، مثلا کہتے ہیں ماذال ذالک دينِي وَوَيُدَنِي یعنی یہ ہمیشہ سے میرا طریقہ رہا ہے۔ يُقَالُ دَانَ، إِذَا أَعْدَادَ خَيْرًا وَشَرا يعنى آدمی خواہ برے طریقہ کا پابند ہو یا بھلے طریقہ کا، دونوں صورتوں میں اس طریقہ کو جس کا وہ پابند ہے دین کہیں گے ۔ حدیث میں ہے كَانَتْ قُرَيْسٌ وَمَنْ دَانَ بِدِيْنِهِمْ . " قریش اور وہ لوگ جو اُن کے مسلک کے پیرو تھے ۔ اور حدیث میں ہے انهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ عَلَى دِينِ قَوْمِهِ فی صلی اللہ علیہ وسلم نبوت سے پہلے اپنی قوم کے دین پر تھے۔ یعنی نکاح ، طلاق میراث اور دوسرے تمدنی و معاشرتی امور میں انہی قاعدوں اور ضابطوں کے پابند تھے جو اپنی قوم میں رائج تھے۔

(۴) اجراء عمل، بدلہ مکانات، فیصلہ محاسبہ، چنانچہ عربی میں مثل ہے کما ندین تدان، یعنی جیسا تو کرے گا ویسا بھرے گا، قرآن میں کفار کا یہ قول نقل فرمایا گیا ہے او نا لَمَدِينُونَ " کیا مرنے کے بعد ہم سے حساب لیا جانے والا ہے اور ہمیں بدلہ ملنے والا ہے"۔

عبد اللہ ابن عمر کی حدیث میں آتا ہے لَا تَسُبُّوا السلطنَ فِإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَقُولُوا اللَّهُمَّ دِنْهُمْ كما يدينون. اپنے حکمرانوں کو گالیاں نہ دو۔ اگر کچھ کہنا ہی ہو تو یوں کہو کہ خدایا جیسا یہ ہمارے ساتھ کر رہے ہیں ویسا ہی تو ان کے ساتھ کر ۔“ اسی معنی میں لفظ دیان بمعنی قاضی و حاکم عدالت آتا ہے۔ چنانچہ کسی بزرگ سے جب حضرت علی کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا کان دیان هذه الامة بعد نبيها یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وہ امت کے سب سے بڑے قاضی تھے ۔“

(1) اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ خوارج دین بمعنی ملت سے نکل جائیں گے۔ کیونکہ حضرت علی سے جب ان کے متعلق پوچھا گیا ۔ اَكْفَّارُهُمْ کیا یہ لوگ کافر ہیں؟ تو آپ نے فرمایا من الكفر فروا، کفر ہی سے تو وہ بھاگے ہیں۔ پھر پوچھا گیا المنافقون هم، کیا یہ منافق ہیں؟ آپ نے فرمایا منافق تو خدا کو کم یاد کرتے ہیں اور ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ شب و روز اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ اس پر یہ تعین ہوتا ہے کہ اس حدیث میں دین سے مراد اطاعت امام ہے۔ چنانچہ ابن اثیر نے نہایہ میں اس کے یہی معنی بیان کیے ہیں۔ اراد بالدین الطاعة، اى انهم يخرجون من طاعة الامام المفترض الطاعة وينسلخون منها. (جلد ۲ صفحه: ۴۱-۴۲)

قرآن میں لفظ دین:

"ان تفصیلات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ لفظ دین کی بنیاد میں چار تصورات ہیں، یا بالفاظ دیگر یہ لفظ عربی ذہن میں چار بنیادی تصورات کی ترجمانی کرتا ہے"۔




انہی تصورات میں سے بھی ایک کے لیے اور بھی دوسرے کے لیے اہل عرب مختلف طور پر اس لفظ کو استعمال کرتے تھے مگر چونکہ ان چاروں امور کے متعلق عرب کے تصورات پوری طرح صاف نہ تھے اور کچھ بہت زیادہ بلند بھی نہ تھے اس لیے اس لفظ کے استعمال میں ابہام پایا جاتا تھا۔ اور یہ کسی با قاعدہ نظام فکر کا اصطلاحی لفظ نہ بن سکا۔ قرآن آیا تو اس نے اس لفظ کو اپنے منشا کے لیے مناسب پا کر بالکل واضح ومتعین مفہومات کے لیے استعمال کیا اور اس کو اپنی مخصوص اصطلاح بنا لیا۔ قرآنی زبان میں لفظ دین ایک پورے نظام کی نمائندگی کرتا ہے جس کی ترکیب چارا اجزاء سے ہوتی ہے۔

1-ان حاکمیت واقتدار اعلی 2 ۔ حاکمیت کے مقابلہ میں تسلیم واطاعت۔ 3- دو نظام فکر و عمل جو اس حاکمیت کے زیر اثر ہے ۔۔۔ مکافات جو اقتدار اعلیٰ کی طرف سے اس نظام کی وفاداری و اطاعت کے صلے میں یا سرکشی و بغاوت کی پاداش میں دی جائے۔

قرآن بھی لفظ دین کا اطلاق معنی اول و دوم پر کرتا ہے، بھی معنی سوم پر بھی معنی چہارم پر اور کہیں الدین بول کر یہ پورا نظام اپنے چاروں اجزاء سمیت مراد لیتا ہے۔ اس کی وضاحت کے لیے حسب ذیل آیات قرآنی ملاحظہ ہوں ۔

دین معنی اول و دوم :

الله الذي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فَرَارًا وَالسَّمَاءَ بناء وصَوَّرَكُمْ فَاحْسَن صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُمْ مَنْ الطَّيِّبَتِ الكُمُ اللهُ رَبُّكُمْ فَتَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَلَمِينَ: هُوَ الْحَيُّ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَا فَادْعُوَهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ. (المومن: ۶۵:۶۴)

"وہ اللہ جس نے تمہارے لیے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس پر آسمان کا قبہ چھایا ، جس نے تمہاری صورتیں بنائیں، جس نے پاکیزہ چیزوں سے تم کو رزق بہم پہنچایا، وہی اللہ تمہارا رب ہےاور بڑی برکتوں والا ہے دو رب العلمین ہے۔ وہی زندہ ہے۔ اس کے سوا کوئی الہ نہیں۔ لہذا تم اسی کو پکارو دین کو اسی کے لیے خالص کر کے تعریف اللہ رب العلمین کے لیے ہے۔"

قل اتي أمرت أن أعبد الله مُخْلِصًا لهُ الدِّينَ وَ أُمِرْتُ لأن أكون أول الْمُسْلِمَيْنَ ..... قُلِ اللهَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهُ دِينِي فَاعْبُدُوا مَا شِئْتُمْ مِنْ دُونِهِ.... وَالَّذِيْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوتَ أَنْ يَعْبُدُوهَا وَاَنَابُوا إِلَى اللَّهِ لَهُمُ الْبُشْرَى. (الزمر: ۱۱-۱۷)

"کہو، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ دین کو اللہ کے لیے خاص کر کے اس کی بندگی کروں اور مجھے حکم دیا گیا۔ ہے کہ سب سے پہلے میں خود سر اطاعت جھکاؤں کہو میں تو دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اس کی بندگی کروں گا۔ تم کو اختیار ہے اس کے سوا جس کی چاہو بندگی اختیار کرتے پھرو اور جولوگ طاغوت کی بندگی کرنے سے پر ہیز کریں اور اللہ کی ہی طرف رجوع کریں۔ ان کے لیے خوشخبری ہے۔"

إِنَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللَّهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّينَ آلَا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ. (الزمر : ٢-٣)

"ہم نے تمہاری طرف کتاب برحق نازل کر دی ہے لہذا تم دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے صرف اس کی بندگی کرو ۔ خبردار! دین خالصہ اللہ ہی کے لیے ہے۔"

وَلَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَهُ الدِّينُ وَاصِبًا أَفَغَيْرَ اللهِ تَعقُونَ . (نحل:۵۳)

"زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے اللہ کے لیے ہے اور دین خالصہ اسی کے لیے ہے۔پھر کیا اللہ کے سوا تم کسی اور سے تقویٰ کرو گے؟ (یعنی کیا اللہ کے سوا کوئی اور ہے جس کے حکم کی پھر کیا اللہ کے سوا تم کسی اور سے تقویٰ کرو گے؟ (یعنی کیا اللہ کے سوا کوئی اور ہے جس کے حکم کی خلاف ورزی سے تم بچھ گے اور جس کی ناراضی سے تم ڈرو گے؟)

أفغير دين الله يَبْغُونَ وَلَهُ أسْلَمَ مَن فِى السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرُهَا وَّالَيْهِ يُرْجَعُونَ (آل عمران : ۸۳)

"کیا یہ لوگ اللہ کے سوا کسی اور کا دین چاہتے ہیں؟ حالانکہ آسمان وزمین کی ساری چیزیں چارونا چار اللہ ہی کی مطیع فرماں ہیں اور اُسی کی طرف ان کو پلٹ کر جاتا ہے۔"

وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ. (اللَّه :۵)

"اور ان کو اس کے سوا کوئی اور حکم نہیں دیا گیا تھا کہ یکسو ہو کر دین کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے صرف اسی کی بندگی کریں۔ "

ان تمام آیات میں دین کا لفظ اقتدار اعلیٰ اور اُس اقتدار کو تسلیم کر کے اُس کی اطاعت و بندگی قبول کرنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اللہ کے لیے دین کو خالص کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی حاکمیت، فرمانروائی ، حکمرانی اللہ کے سوا کسی کی تسلیم نہ کرے، اور اپنی اطاعت و بندگی کو اللہ کے لیے اس طرح خالص کر دے کہ کسی دوسرے کی مستقل بالذات بندگی واطاعت اللہ کی اطاعت کے ساتھ شریک نہ کرے ۔

دین بمعنی سوم :

قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنْ كُنتُمْ فِي شَبٍ مِنْ دِيتِي فَلَا أَعْبُدُ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلكِنْ أَعْبُدُ اللَّهَ الَّذِى يَتَوَفَّكُمْ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَأَنْ أَقِمُ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا وَّلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ. (يونس:۱۰۴-۱۰۵)

" کہو کہ اے لوگو! اگر تم کو میرے دین کے بارے میں کچھ شک ہے (یعنی اگر تم کو صاف معلوم نہیں ہے کہ میرا دین کیا ہے ) تو لوسنو! میں ان کی بندگی و عبادت نہیں کرتا جن کی بندگی واطاعت تم اللہ کو چھوڑ کر کر رہے ہو، بلکہ میں اس کی بندگی کرتا ہوں جو تمہاری روحیں قبض کرتا ہے۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ان لوگوں میں شامل ہو جاؤں جو اس اللہ کے مانے والے ہیں، اور یہ ہدایت فرمائی گئی ہے کہ تو یکسو ہو کر اسی دین پر اپنے آپ کو قائم کر دے اور شرک کرنے والوں میں شامل نہ ہو۔“

إِن الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ ذَالِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ. (يوسف:۴۰)

“ حکمرانی اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے اس کا فرمان ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو یہی ٹھیک ٹھیک صحیح دین ہے۔"

1- یعنی اللہ کے سوا جس کی اطاعت بھی ہو اللہ کی اطاعت کے تحت اور اُس کے مقرر کر دہ حدود کے اندر ہو ۔ بیٹے کا باپ کی اطاعت کرنا، بیوی کا شوہر کی اطاعت کرنا ، غلام یا نوکر کا آقا کی اطاعت کرنا اور اسی نوع کی دوسری تمام اطاعتیں اگر اللہ کے حکم کی بنا پر ہوں اور ان حدود کے اندر ہوں جو اللہ نے مقرر کر دی ہیں تو یہ عین اطاعت الہی ہیں۔ اور اگر وہ اس سے آزاد ہوں، یا بالفاظ دیگر بجائے خود مستقل اطاعتیں ہوں، تو یہی عین بغاوت ہیں۔ حکومت اگر اللہ کے قانون پر مبنی ہے اور اس کا حکم جاری کرتی ہے تو اس کی اطاعت فرض ہے اور اگر ایسی نہیں ہے تو اس کی اطاعت جرم ۔

وَلَهُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ كُلٌّ لَّهُ قَانِتُونَ .... ضَرَب لَكُمْ مَّثَلَا مَنْ أنْفُسِكُمْ هَلْ لَّكُمْ مِنْ مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْ شُرَكَاءَ فِي مَا رَزَقْنَكُمْ فَانْتُمْ فِيهِ سَوَاءٌ تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمُ انْفُسَكُمْ بَلِ اتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَهْوَاءَ هُم بِغَيْرِ عِلْمٍ. فاقمُ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَةَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذلك الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ. (الروم:٢٦-٣٠)

“ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے سب اُسی کے مطیع فرمان ہیں وہ تمہیں سمجھانے کے لیے خود تمہارے اپنے معاملہ سے ایک مثال پیش کرتا ہے۔ بتاؤ یہ غلام تمہارے مملوک ہیں؟ کیا ان میں سے کوئی ان چیزوں میں جو ہم نے تمہیں دی ہیں تمہارا شریک ہے؟ کیا تم انہیں اس مال کی ملکیت میں اپنے برابر حصہ دار بناتے ہو ۔ کیا تم ان سے اپنے ہم چشموں کی طرح ڈرتے ہو؟ سچی بات یہ ہے کہ یہ ظالم لوگ علم کے بغیر محض اپنے تخیلات کے پیچھے چلے جارہے ہیں پس تم یکسو ہو کر اپنے آپ کو اس دین پر قائم کر دو۔ اللہ نے جس فطرت پر انسانوں کو پیدا کیا ہے اسی کو اختیار کرلو۔ اللہ کی بنائی ہوئی ساخت کو بدلا نہ جائے۔ یہی ٹھیک ٹھیک صحیح دین ہے۔ مگر اکثر لوگ نادانی میں پڑے ہوئے ہیں۔“

اَلزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ وَّلَا تَأْخُذُكُمُ بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللهِ. (النور :٢)

“زانی اور زانیہ دونوں کو سوسو کوڑے مارو اور اللہ کے دین کے معاملہ میں تم کو ان پر رحم نہ آئے۔“

إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ والْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ، ذَالِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ (التوبه (۳۹)

"اللہ کے نوشتے میں تو اس وقت سے مہینوں کی تعداد ۱۲ ہی چلی آتی ہے۔ جب سے اس نے آسمانوں اورزمین کو پیدا کیا ہے۔ ان بارہ مہینوں میں سے مہینے حرام ہیں۔ یہی ٹھیک ٹھیک صحیح دین ہے۔"

گذالِکَ كِدْنَا لِيُوْسُفَ مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِي دِينِ الْمَلِكِ. (يوسف: ۷۲)

“اس طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیر نکالی۔ اس کے لیے جائز نہ تھا کہ اس بادشاہ کے دین میں اپنے بھائی کو پکڑتا ۔“

1- یعنی اللہ نے جس ساخت پر انسان کو پیدا کیا ہے وہ تو یہی ہے کہ انسان کی تخلیق میں ، اس کی رزق رسانی میں، اس کی ربوبیت میں خود اللہ کے سوا کوئی دوسرا شریک نہیں ہے نہ اللہ کے سوا کوئی اس کا خدا ہے نہ مالک اور نہ مطاع حقیقی ۔ پس خالص فطری طریقہ یہ ہے کہ آدمی بس اللہ کا بندہ ہو اور کسی کا بندہ نہ ہو۔

وکذالک زيّن لكثيرِ مَنَ الْمُشْرِكِينَ قَتَلَ أَوْلَادِهِمْ شُرَكَاؤُهُمْ لِيُرْدُوهُمْ وَلِيَلْبَسُوا عَلَيْهم دينهم. (انعام: ۱۳۸)

"اور اس طرح بہت سے مشرکین کے لیے ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں نے اپنی اولاد کے قتل کو ایک خوش آیند فضل بنادیا تا کہ انہیں ہلاکت میں ڈالیں اور ان کے لیے ان کے دین کو مشتبہ بنائیں" ?

أَمْ لَهُمْ شُرَكَاؤُ شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَالَمْ يَأْذَنُ بِهِ اللَّهُ. (الشوری: ۲۱)

“کیا انہوں نے کچھ شریک ٹھہرا ر کھے ہیں جو ان کے لیے دین کی قسم سے ایسے قوانین بناتے ہیں جن کا اللہ نے اذن نہیں دیا ہے؟“

لَكُمْ دِيْتُكُمْ وَلَيَ دِينِ (الکافرون)

" تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے مہرادین"-

ان سب آیات میں دین سے مراد قانون، ضابطہ، شریعت، طریقہ اور وہ نظام فکر و عمل ہے جس کی پابندی میں انسان زندگی بسر کرتا ہے۔ اگر وہ اقتدار جس کی سند پر کسی ضابطہ ونظام کی پابندی کی جاتی ہے۔ خدا کا اقتدار ہے تو آدمی درمان خدا میں ہے۔ اگر وہ کسی بادشاہ کا اقتدار ہے تو آدمی دین بادشاہ میں ہے۔ اگر وہ پنڈتوں اور پروہتوں کا اقتدار ہے تو آدمی ان کے دین میں ہے۔ اور اگر وہ خاندان، برادری، یا جمہور قوم کا اقتدار ہے تو آدمی ان کے دین میں ہے۔ غرض جس کی سند کو آخری سند اور جس کے فیصلے کو منتہائے کلام مان کر آدمی کسی طریقے پر چلتا ہے اسی کے دین کا وہ پیرو ہے۔“

دین بمعنی چهارم:

إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَصَادِق وَإِنَّ الدِّينَ لَوَاقِع (الذاريات ٢)

"و خبر جس سے تمہیں آگاہ کیا جاتا ہے۔ (یعنی زندگی بعد موت) یقینا کچی ہے اور دین یقینا ہو نے والا ہے۔"

أرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بالدَيْنِ فَذَالِكَ الَّذِي يَدْعُ الْيَتِيمَ وَلَا يَحْضُ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ. (الماعون: ١-٣)

" تم نے دیکھا اس شخص کو جو دین کو جھٹلاتا ہے؟ وہی ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے پر نہیں اکتاتا ۔"



وَمَا أَدْرَاكَ مَايَوُمُ الدِّينِ. ثُمَّ مَا أَدْرَكَ مَا يَوْمُ الدَيْنِ. يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِنَفْسٍ شَيْئًا وَّالْأَمْرُ يَوْمَئِذٍ لِلَّهِ. (انفطار : ۱۹۱۷)

“تمہیں کیا خبر کہ یوم الدین کیا ہے۔ ہاں تم کیا جانو کیا ہے یوم الدین۔ وہ دن ہے کہ جب کسی متنفس کے اختیار میں کچھ نہ ہوگا کہ دوسرے کے کام آسکے، اس روز سب اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہوگا۔“


دین ایک جامع اصطلاح:

یہاں تک تو قرآن اس لفظ کو قریب قریب انہی مفہومات میں استعمال کرتا ہے جن میں یہ اہل عرب کی بول چال میں مستعمل تھا۔ لیکن اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ وہ لفظ دین کو ایک جامع اصطلاح کی حیثیت سے استعمال کرتا اور اس سے ایک ایسا نظام زندگی مراد لیتا ہے جس میں انسان کسی کا اقتدار اعلیٰ تسلیم کر کے اس کی اطاعت و فرمانبرداری قبول کر لے، اس کے حدود وضوابط اور قوانین کے تحت زندگی بسر کرے، اس کی فرمانبرداری پر عزت ، ترقی اور انعام کا امیدوار ہو اور اس کی نافرمانی پر کے تحت زندگی بسر کرے، اس کی فرمانبرداری پر عزت ، ترقی اور انعام کا امیدوار ہو اور اس کی نافرمانی پر پورے نظام پر حاوی ہو۔ موجودہ زمانہ کا لفظ ” اسٹیٹ کسی حد تک اس کے قریب پہنچ گیا ہے۔ لیکن ابھی اس کو دین کے پورے معنوی حدود پر حاوی ہونے کے لیے مزید وسعت درکار ہے۔


قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أوتُوا الْكِتب حتى يُعْطُو الجزية عن يد رَّهُمْ صَاغِرُونَ (توبه: ۲۹ )

“اہل کتاب میں سے جو لوگ نہ اللہ کو مانتے ہیں (یعنی اس کو واحد مقتدر اعلی تسلیم نہیں کرتے ) نہ یوم آخرت (یعنی یوم الحساب اور یوم الجزاء) کو مانتے ہیں نہ ان چیزوں کو حرام سے مانتے ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے، اور دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ وہ ہاتھ سے جزیہ ادا کریں اور چھوٹے بن کر رہیں۔“

اس آیت میں دین حق اصطلاحی لفظ ہے جس کے مفہوم کی تشریح واضع اصطلاح جل شانہ نے پہلے تین فقروں میں خود کر دی ہے۔ ہم نے ترجمہ میں نمبر لگا کر واضح کر دیا ہے کہ لفظ دین کے چاروں مفہوم ان فقروں میں بیان کیے گئے ہیں اور پھر ان کے مجموعے کو دین حق سے تعبیر کیا گیا ہے۔

وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُونِي أَقْتُلْ مُوسَى وَلْيَدْعُ رَبَّهُ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُبَدِّلَ دِينَكُمْ أو أن يُظْهِرَ فِي الْأَرْضِ الْفَسَادَ (المومن (٣٦)

“فرعون نے کہا چھوڑو مجھے، میں اس موسیٰ کو قتل ہی کیے دیتا ہوں اور اب پکارے وہ اپنے رب کو مجھے خوف ہے کہ کہیں یہ تمہارا دین نہ د بدل دے، یا ملک میں فساد نہ کھڑا کر دے۔“

قرآن میں قصہ فرعون و موسیٰ کی جتنی تفصیلات آئی ہیں، ان کو نظر میں رکھنے کے بعد اس امر میں کوئی شبہ نہیں رہتا کہ یہاں دین مجرد "مذہب" کے معنی میں نہیں آیا ہے بلکہ ریاست اور نظام تمدن کے معنی میں آیا ہے۔ فرعون کا کہنا یہ تھا کہ اگر موسیٰ اپنے مشن میں کامیاب ہو گئے تو اسٹیٹ بدل جائے گا۔ جو نظام زندگی اس وقت فراعنہ کی حاکمیت اور رائج الوقت قوانین و رسوم کی بنیادوں پر چل رہا ہے وہ جڑ سے اکھڑ جائے گا اور اس کی جگہ یا تو دوسر انظام بالکل دوسری ہی بنیادوں پر قائم ہوگا یا نہیں تو سرے سے کوئی نظام قائم ہی نہ ہو سکے گا بلکہ تمام ملک میں بدنظمی پھیل جائے گی ۔ إن الدين عِندَ اللهِ الْإِسْلَامُ (آل عمران (۱۹)




هُوَ الَّذِي أَرْسَلُ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُله وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (التوب:۳۳)

“وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسولوں کو صحیح رہنمائی اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا ہے تا کہ وہ اس کو پوری جنس دین پر غالب کر دے اگر چہ شرک کرنے والوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو ۔ "

وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الذِيْنَ كُلُّهُ لِلهِ. (انقال:۳۹)

“اور تم ان سے لڑے جاؤ یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین بالکلیہ اللہ ہی کا ہو جائے۔“

إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا. فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا. (النصر)

" جب اللہ کی مدد آ گئی اور فتح نصیب ہو چکی اور تم نے دیکھ لیا کہ لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں تو اب اپنے رب کی حمد وثنا اور اس سے درگزر کی درخواست کرو ، وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔"


پہلی دو آیتوں میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ کے نزدیک انسان کے لیے صحیح نظام زندگی صرف وہ ہے جو خود اللہ ہی کی اطاعت و بندگی (اسلام) پر چینی ہو۔ اس کے سوا کوئی دوسرا نظام، جس کی بنیاد کسی دوسرے مفروضہ اقتدار کی اطاعت پر ہو، مالک کائنات کے ہاں ہرگز مقبول نہیں ہے، اور فطرہ نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کہ انسان جس کا مخلوق ہملوک اور پروردہ ہے، اور جس کے ملک میں رعیت کی حیثیت سے رہتا ہے، وہ تو کبھی یہ نہیں مان سکتا کہ انسان خود اس کے سوا کسی دوسرے اقتدار کی بندگی واطاعت میں زندگی گزارنے اور کسی دوسرے کی ہدایات میں چلنے کا حق رکھتا ہے۔

تیسری آیت میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو اسی صحیح و بر حق نظام زندگی یعنی اسلام کے ساتھ بھیجا ہے اور اس کے مشن کی غایت یہ ہے کہ اس نظام کو تمام دوسرے نظاموں پر غالب کر کے دہے۔

چوتھی آیت میں دین اسلام کے پیروؤں کو حکم دیا گیا ہے کہ دنیا سے لڑو اور اس وقت تک دم نہ لو جب تک فتنہ یعنی ان نظامات کا وجود دنیا سے مٹ نہ جائے جن کی بنیاد خدا سے بغاوت پر قائم ہے۔ اور پورانظام اطاعت و بندگی اللہ کے لیے خالص نہ ہو جائے۔

پانچویں آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس موقع پر خطاب کیا گیا ہے جب کہ ۲۳ سال کی مسلسل جدوجہد سے عرب میں انقلاب کی تکمیل ہو چکی تھی، اسلام اپنی پوری تفصیلی صورت میں ایک اعتقادی وفکری، اخلاقی تعلیمی، تمدنی و معاشرتی اور معاشی و سیاسی نظام کی حیثیت سے عملاً قائم ہو گیا تھا، اور عرب کے مختلف گوشوں سے وفد پر وفد آ کر اس نظام کے دائرے میں داخل ہونے لگے تھے۔ اس طرح جب وہ کام تکمیل کو پہنچ گیا جس پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مامور کیا گیا تھا تو آپ سے ارشاد ہوتا ہے کہ اس کارنامے کو اپنا کارنامہ سمجھ کر فخر نہ کرنے لگنا، نقص سے پاک بے عیب ذات اور کامل ذات صرف تمہارے رب ہی کی ہے، لہذا اس کار عظیم کی انجام دہی پر اس کی تسبیح اور حمد وثنا کرو اور اس ذات سے درخواست کرد که مالک! اس ۲۳ سال کے زمانہ میں خدمت میں اپنے فرائض ادا کرنے میں جو خامیاں اور کوتاہیاں مجھ سے سرزد ہو گئی ہوں انہیں معاف فرمادے۔

کتاب قرآن کی چار بنیادی اصطلا حیں
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Quran