قرآن کی چار بنیادی اصطلا حیں

مقدمه

بسم اللہ الرحمن الرحیم مقدمه اله، رب، دین اور عبادت، یہ چار لفظ قرآن کی اصطلاحی زبان میں بنیادی اہمیت رکھتےہیں۔ قرآن کی ساری دعوت یہی ہے کہ اللہ تعالی ہی اکیلا رب والہ ہے،اس کے سوانہ کوئی اللہ ہےنہ رب، اور نہ الوہیت در بوبیت میں کوئی اس کا شریک ہے،لہذا اُسی کو اپنا الہ اور رب تسلیم کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی الہیت و ربوبیت سے انکار کر دو، اس کی عبادت اختیار کرو اور اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، اس کے لیے اپنے دین کو خالص کر لو اور ہر دوسرے دین کو رد کر دو-

وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لا إِله إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُون.(الانبیاء۔۲۵)

"ہم نے تم سے پہلے جو رسول بھی بھیجا ہے اس کی طرف یہی وحی کی ہے، کہ " میرے سوا کوئی الہ نہیں ہے لہذا میری عبادت کرو ۔"

وَمَا أُمِرُوْ إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَهَا وَاحِدًا لَا إِلَهُ إِلَّا هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ. (التوبہ ۳۱)

"اور ان کو کوئی حکم نہیں دیا گیا بجز اس کے کہ ایک ہی اللہ کی عبادت کریں۔ اس کے سوا کوئی الہ نہیں ہے، وہ پاک ہے اس شرک سے جو وہ کرتے ہیں“۔

إِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَاةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ (الانبياء -۹۲)

"یقینا تمہارا (یعنی تمام انبیاء کا) یہ گروہ ایک ہی گروہ ہے، اور میں تمہارا رب ہوں لہذا میری عبادت کرو۔“

قُلْ أَغَيْرَ اللهِ ابْغِى رَبًّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ. (انعام - ۱۶۵)

" کہو، کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں؟ حالانکہ وہی ہر چیز کا رب ہے۔“

فَمَن كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعَبَادَةِ رَبِّهِ اَحَدًا (كيف ۱۱۰)

"تو جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہے اُسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنےرب کی عبادت میں کسی اور کی عبادت شریک نہ کرے۔"

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أن اعْبُدُوا اللهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ . (نحل(٣٦)

"ہم نے ہر قوم میں ایک رسول اس پیغام کے ساتھ بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت کی عبادت سے پرهیز کرو"

افَغَيْرَ دینِ اللهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِى السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ (آل عمران (۸۳)

"تو کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں ، حالانکہ جتنی چیزیں آسمانوں اور زمین میں ہیں سب چارونا چار اُسی کی مطیع ہیں اور اسی کی طرف انہیں پلٹ کر جاتا ہے۔“

قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدُ اللهَ مُخْلِصًا له الدين. (زمر)

"اے نبی کہو کہ مجھے حکم دیا گیا ہےکہ اللہ کی عبادت کروں اپنے دین کو اس کےلیےخالص کرتےہوئے ۔“

إنَّ اللهَ رَبّى وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ هذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمَ (آل عمران (۵۱)

"اللہ ہی میرا رب بھی ہے اور تم سب کا بھی۔ لہذا اُسی کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے۔“

یہ چند آیات محض نمونہ کے طور پر ہیں۔ ورنہ جو شخص قرآن کو پڑھے گا وہ اول نظر میں محسوس کر لے گا کہ قرآن کا سارابیان انہی چار اصطلاحوں کے گرد گھوم رہا ہے۔ اس کتاب کا مرکزی خیال (Gentraldea) یہی ہے کہ:۔

اللہ رب اور الہ ہے۔ اور ربوبیت و البیت اللہ کے سوا کسی کی نہیں ہے۔ لہذا عبادت اُس کی ہونی چاہیے۔ اور دین خالصتہ اُسی کے لیے ہونا چاہیے۔

اصطلاحات اربعہ کی اہمیت: اب یہ ظاہر بات ہے کہ قرآن کی تعلیم کو سمجھنے کے لیے ان چاروں اصطلاحوں کا صحیح اور مکمل مفہوم سمجھنا بالکل نا گزیر ہے۔ اگر کوئی شخص نہ جانتا ہو کہ الہ اور رب کا مطلب کیا ہے؟ عبادت کی کیا تعریف ہے؟ اور دین کسے کہتے ہیں؟ تو دراصل اس کے لیے پورا قرآن بے معنی ہو جائے گا۔وہ نہ تو حید کو جان سکے گا، نہ شرک کو سمجھ سکے گا، نہ عبادت کو اللہ کے لیے مخصوص کر سکے گا، اور نہ دین ہی اللہ کے لیے خالص کر سکے گا۔ اسی طرح اگر کسی کے ذہن میں ان اصلاحوں کا مفہوم غیر واضح اور نا مکمل ہو تو اُس کے لیے قرآن کی پوری تعلیم غیر واضح ہوگی اور قرآن پر ایمان رکھنے کے باوجود اس کا عقیدہ اور عمل دونوں نامکمل رہ جائیں گے۔ وہ لا الہ الا اللہ کہتا رہے گا اور اس کے باوجود بہت سے ارباب من دون اللہ اس کے رب بنے رہیں گے۔ وہ پوری نیک نیتی کے ساتھ کہے گا کہ میں اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتا، اور پھر بھی بہت سے معبودوں کی عبادت میں مشغول رہے گا۔ وہ پورے زور کے ساتھ کہے گا کہ میں اللہ کے دین میں ہوں، اور اگر کسی دوسرے دین کی طرف اسے منسوب کیا جائے تو لڑنے پر آمادہ ہو جائے گا۔ مگر اس کے باوجود بہت سے دینوں کا قلاوہ اسکی گردن میں ہزار ہے گا۔ اس کی زبان سے کسی غیر اللہ کے لیے "الہ" اور "رب" کے الفاظ تو کبھی نہ نکلیں گے ہمگر یہ الفاظ جن معافی کے لیے وضع کیے گئے ہیں ان کے لحاظ سے اس کے بہت سے الہ اور ب ہوں گے اور اس بیچارے کو خبر تک نہ ہوگی کہ میں نے واقعی اللہ کے سوا دوسرے ارباب والہ بنارکھے ہیں۔ اس کے سامنے اگر آپ کہہ دیں کہ تو دوسروں کی عبادت کر رہا ہےاور دین میں شرک کا مرتکب ہو رہا ہے تو وہ پتھر مارنے اور منہ نوچنے کو دوڑے گا مگر عبادت اور دین کی جو حقیقت ہے اس کے لحاظ سے واقعی وہ دوسروں کا عابد اور دوسروں کے دین میں داخل ہوگا۔اور نہ جانے گا کہ یہ جو کچھ میں کر رہا ہوں یہ حقیقت میں دوسروں کی عیادت ہے اور یہ حالت جس میں مبتلا ہوں یہ حقیقت میں غیر اللہ کا دین ہے۔

غلط فہمی کا اصل سبب: عرب میں جب قرآن پیش کیا گیا اس وقت ہر شخص جانتا تھا کہ اللہ کے کیا معنی ہیں اور رب کسے کہتےہیں،کیونکہ یہ دونوں لفظ ان کی بول چال میں پہلےسےمستعمل تھےانہیں معلوم تھا کہ ان الفاظ کا اطلاق کس مفہوم پر ہوتا ہے،اس لیے جب ان سے کہا گیا کہ اللہ ہی اکیلا الہ اور رب ہےاور الوہیت در بوبیت میں کسی کا قطعاً کوئی حصہ نہیں، تو وہ پوری بات کو پا گئے۔ انہیں بلا کسی التباس داشتباہ کےمعلوم ہو گیا کہ دوسروں کے لیےکس چیز کی نفی کی جارہی ہے اور اللہ کے لیے کس چیز کو خاص کیا جارہا ہے۔جنہوں نےمخالفت کی یہ جان کرکہ غیر اللہ کی الوهیت و ربوبیت کےانکارسےکہاں کہاں ضرب پڑتی ہے، اور جو ایمان لائے وہ یہ سمجھ کر ایمان لائے کہ اس عقیدہ کو قبول کر کے ہمیں کیا چھوڑنا اور کیا اختیار کرنا ہوگا۔ اسی طرح عبادت اور دین کے الفاظ بھی ان کی بولی میں پہلے سے رائج تھے۔ ان کو معلوم تھا کہ عبد کسے کہتے ہیں، عبودیت کس حالت کا نام ہے، عبادت سے کونسا رویہ مراد ہے، اور دین کا کیا مفہوم ہے، اس لیے جب ان سے کہا گیا کہ سب کی عبادت چھوڑ کر صرف اللہ کی عبادت کرو، اور ہر دین سے الگ ہو کر اللہ کے دین میں داخل ہو جاؤ ، تو انہیں قرآن کی دعوت سمجھنے میں کوئی نام نہی پیش نہ آئی ۔ وہ سنتے ہی سمجھ گئے کہ یہ تعلیم ہماری زندگی کےنظام میں کس نوعیت کے تغیر کی طالب ہے۔

لیکن بعد کی صدیوں میں رفتہ رفتہ ان سب الفاظ کے وہ اصل معنی جونزول قرآن کے وقت سمجھے جاتے تھے، بدلتے چلے گئے یہاں تک کہ ہر ایک اپنی پوری وسعتوں سے ہٹ کر نہایت محدود بلکہ مہم مفہومات کے لیے خاص ہو گیا۔ اس کی ایک وجہ تو خالص عربیت کے ذوق کی کمی تھی ، اور دوسری وجہ یہ تھی کہ اسلام کی سوسائٹی میں جو لوگ پیدا ہوئےتھےان کےلیےالہ اور رب اور دین اور عبادت کےوہ معانی باقی نہ رہےتھےجو نزول قرآن کے وقت غیر مسلم سوسائٹی میں رائج تھےانہی دونوں وجوہ سےدور اخیر کی کتب لغت و تفسیر میں اکثر قرآن الفاظ کی تشریح اصل معانی لغوی کےبجائےان معانی سے کی جانے لگی جو بعد کے مسلمان سمجھتے تھے۔ مثلاً :-

لفظ الہ کہ قریب قریب بتوں اور دیوتاؤں کا ہم معنی بنا دیا گیا،رب کو پالنے اور پوسنے والےیا پروردگار کا مترادف ٹھہرایا گیا ، عبادت کے معنی ہو جا اور پرستش کے کیے گئے ،

دین کو دھرم اور مذہب اور (Religion) مقابلہ کا لفظ قرار دیا گیا۔

طاغوت کا ترجمہ بت یا شیطان کیا جائے گا۔

نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن کا اصل مدعا ہی بجھنا لوگوں کے لیے مشکل ہو گیا۔ قرآن کہتا ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو الہ نہ بناؤ، لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم نے بتوں اور دیوتاؤں کو چھوڑ دیا ہے لہذا قرآن کا منشا پورا کر دیا ، حالانکہ الہ کا مفہوم اور جن جن چیزوں پر عائد ہوتا ہے ان سب کو وہ اچھی طرح پکڑے ہوئے ہیں اور انہیں خبر نہیں کہ ہم غیر اللہ کو الہ بنارہے ہیں ۔ قرآن کہتا ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو رب تعلیم نہ کرو۔ لوگ کہتے ہیں کہ بے شک ہم اللہ کے سوا کسی کو پروردگار نہیں مانتے لہذا ہماری توحید مکمل ہو گئی، حالانکہ رب کا اطلاق اور جن مفہومات پر ہوتا ہے ان کے لحاظ سے اکثر لوگوں نے خدا کے بجائے دوسروں کی ربوبیت تسلیم کر رکھی ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ طاغوت کی عبادت چھوڑ دو اور صرف اللہ کی عبادت کرو ۔لوگ کہتے ہیں کہ ہم بتوں کو نہیں پوجتے ، شیطان پر لعنت بھیجتے ہیں،اور صرف اللہ کو سجدہ کرتےہیں،لہذا ہم نےقرآن کی یہ بات بھی پوری کر دی،حالانکہ پتھر کےبتوں کےسوا دوسرے طاغوتوں سےوہ چھٹےہوئےہیں اور پرستش کےسوا دوسری قسم کی تمام عبادتیں انہوں نےاللہ کے بجائے غیر اللہ کے لیے خاص کر رکھی ہیں۔ یہی حال دین کا ہے کہ اللہ کے دین کو خالص کرنے کا مطلب صرف یہ سمجھا جاتا ہے کہ آدمی مذہب اسلام قبول کر لے اور ہند و یا عیسائی یا یہودی نہر ہے۔ اس بنا پر ہر وہ شخص جو مذہب اسلام میں ہےیہ سمجھ رہا ہےکہ میں نےاللہ کےدین کو خالص کر رکھا ہے ، حالانکہ دین کےوسیع تر مفہوم کے لحاظ سےاکثریت ایسے لوگوں کی ہے جن کا دین اللہ کے لیے خالص نہیں ہے۔

غلط فہمی کے نتائج: بس یہ حقیقت ہےکہ محض ان چار بنیادی اصطلاحوں کےمفہوم پر پردہ پڑ جانےکی بدولت قرآن کی تین چوتھائی سے زیادہ تعلیم ، بلکہ اس کی روح نگاہوں سے مستور ہو گئی ہے، اور اسلام قبول کرنے کے باوجود لوگوں کے عقائد و عمال میں جو نقائص نظر آ رہے ہیں ان کا ایک بڑا سبب یہی ہے۔ لہذا قرآن مجید کی مرکزی تعلیم اور اس کے حقیقی مدعا کو واضح کرنے کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ ان اصطلاحوں کی پوری پوری تشریح کی جائے۔

اگر چہ میں اس سے پہلے اپنے متعدد مضامین میں ان کے مفہوم پر روشنی ڈالنے کی کوشش کر چکا ہوں لیکن جو کچھ اب تک میں نے بیان کیا ہے وہ نہ تو بجائے خود تمام غلط فہمیوں کو صاف کرنےکے لیے کافی ہے، اور نہ اس سے لوگوں کو پوری طرح اطمینان حاصل ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس مضمون میں میں کوشش کروں گا کہ ان چار اصطلاحوں کا مکمل مفہوم واضح کر دوں، اور کوئی ایسی بات بیان نہ کروں جس کا ثبوت لغت اور قرآن سے نہ ملتا ہو۔

کتاب قرآن کی چار بنیادی اصطلا حیں
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Quran