رَبّ لغوی تحقیق: اس لفظ کا مادہ سر تب تب ہے جس کا ابتدائی واساسی مفہوم پرورش ہے۔ پھر اسی سےتصرف خبر گیری، اصلاح حال اور اتمام و تکمیل کا مفہوم پیدا ہوا۔ پھر اسی بنیاد پر فوقیت ، سیادت،مالکیت اور آقائی کے مفہومات اس میں پیدا ہو گئے۔ لغت میں اس کے استعمالات کی چند مثالیں یہ ہیں:۔
١- پرورش کرنا، نشو و نما دینا ، بڑھانا ، مثلا ربیب اور رہیہ پرورده لڑکے اور لڑکی کو کہتے ہیں۔نیز اس بچے کو بھی ربیب کہتے ہیں جو سوتیلے باپ کے گھر پرورش پائے ۔ پالنے والی دوائی کو بھی رہیہ کہتے ہیں۔ را بہ سوتیلی ماں کو کہتے ہیں، کیونکہ وہ ماں تو نہیں ہوتی مگر بچے کو پرورش کرتی ہے۔ اسی مناسبت سے راب سوتیلے باپ کو کہتے ہیں۔ مرتب یا مرتی اسی دوا کو کہتے ہیں جو محفوظ کر کے رکھی جائے۔ رَبِّ يُرَبُّ رَبِّاً کے معنی اضافہ کرنے بڑھانے اور تکمیل کو پہنچانے کے ہیں۔ جیسےرَبَّ النِّعْمَةَ، یعنی احسان میں اضافہ کیا یا احسان کی حد کر دی۔
٢- سمیٹنا ، جمع کرنا، فراہم کرنا ۔ مثلاً کہیں گے فلانٌ يَرُبُّ النَّاسَ یعنی فلاں شخص لوگوں کو جمع کرتا ہے، یا سب لوگ اس شخص پر مجتمع ہوتے ہیں۔ جمع ہونے کی جگہ کو مزب کہیں گے ۔ سمٹنے اور فراہم ہو جانے کو تریب کہیں گے۔
٣- خبر گیری کرنا، اصلاح حال کرنا ، دیکھ بھال اور کفالت کرنا، مثلا رَبَّ ضَيْعَتَهُ کے معنی ہوں گے فلاں شخص نے اپنی جائیداد کی دیکھ بھال اور عمرانی کی۔ابوسفیان سے صفوان نے کہا تھا لان يَرْبُنِي رَجُلٌ مِنْ قَرِيشٍ أَحَبُّ إِلَى مِنْ أَنْ يَرُبَّنِي رَجُلٌ مِنْ هَوَازِنُ یعنی قریش میں سے کوئی شخص مجھے اپنی ربوبیت (سرپرستی) میں لے لے یہ مجھے زیادہ پسند ہے یہ نسبت اس کے کہ ہوازن کا کوئی آدمی ایسا کرے۔ علقمہ بن عبیدہ کا شعر ہے:۔ ؎
۵۔ مالک ہونا، مثلاً حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا أَرَبُّ غَنَم اَمَ رَبُّ ابل؟ تو بکریوں کا مالک ہے یا اونٹوں کا ؟ اس معنی میں گھر کے مالک کو رَبُّ الدار اونٹنی کے مالک کو رَبُّ الناله ، جائیداد کے مالک کو رب الضبعہ کہتے ہیں۔ آقا کے معنی میں بھی رب کا لفظ آتا ہے اور عبد ، یعنی غلام کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے۔
غلطی سے رب کے لفظ کو محض پروردگار کے مفہوم تک محدود کر کے رکھ دیا گیا ہے اور ربوبیت کی تعریف میں یہ فقرہ چل پڑا ہے کہ هُوَ اَنْشَاَ الشَّى حَالًا فَحَالًا إِلَى حَةِ السَّمَامِ (یعنی ایک چیز کو درجہ بدرجہ ترقی دے کر پایۂ کمال کو پہنچانا )۔ حالا نکہ یہ اس لفظ کے وسیع معانی میں سے صرف ایک معنی ہے۔ اس کی پوری وسعتوں کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ حسب ذیل مفہومات پر حاوی ہے:۔
قرآن میں لفظ "رب" کے استعمالات: قرآن مجید میں یہ لفظ ان سب معانی میں آتا ہے۔ کہیں ان میں سے کوئی ایک یا دو معنی مراد ہیں، کہیں اس سے زائدہ اور کہیں پانچوں معنی۔ اس بات کو ہم آیات قرآنی سے مختلف مثالیں دے کر واضح کریں گے۔
"تمہیں جو نعمت بھی حاصل ہے اللہ ہی سے حاصل ہوئی ہے، پھر جب تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو اس کی طرف تم گھبرا کر رجوع کرتے ہو مگر جب وہ تم پر مصیبت ٹال دیتا ہے تو کچھ لوگ تم میں ایسے ہیں جو اپنے رب کے ساتھ (اس نعمت کی بخشش اور اس مشکل کشائی میں ) دوسروں کو شریک ٹھہرانے لگتے ہیں۔"
(1) کسی کو یہ خیال نہ ہو کہ حضرت یوسف عزیز مصر کو اپنا رب فرمارہے ہیں، جیسا کہ بعض مفسرین کو شبہ ہوا ہے، بلکہ در اصل وہ “ کا اشارہ خدا کی طرف ہے جس کی پناہ انہوں نے مانگی ہے ۔ مَعَادَ اللَّهِ إِنَّهُ رَبّنی جب مشار الیہ قریب ہی مذکور ہے تو کوئی غیر مذکور مشار الیہ تلاش کرنے کی کیا ضرورت؟
تیسرے معنی میں :۔ هُوَ رَبُّكُمْ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (هود:۳۴)
”زمین میں چلنے والا کوئی جاندار اور ہوا میں اڑنے والا کوئی پرندہ ایسا نہیں ہےجو تمہاری ہی طرح ایک امت نہ ہو، اور ہم نے اپنے دفتر میں کسی کے اندراج سے کوتا ہی نہیں کی ہے۔پھر وہ کے اندراج سے سب اپنے رب کی طرف سمیٹے جائیں گے۔"
چوتھے معنی میں جس کے ساتھ کم و بیش تیسرے معنی کا تصور بھی موجود ہے:۔ اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّنْ دُونِ اللَّهِ. (التوبہ: ۳۱)
دونوں آیتوں میں ارباب سےمراد وہ لوگ ہیں جن کو قوموں اور گروہوں نےمطلقاً اپنا رہنما و پیشوا مان لیا ہو ۔جن کے امر و نہی،ضابطہ و قانون اور تحلیل تحریم کو بلا کسی سند کےتسلیم کیا جاتا ہو۔ جنہیں بجائے خود حکم دینے اور منع کرنے کا حق دار سمجھا جاتا ہو۔
"یوسف (علیہ السلام) نے کہا کہ تم میں سے ایک تو اپنے رب کو شراب پلائے گا - - - اور ان دونوں میں سے جس کے متعلق یوسف کا خیال تھا کہ رہا ہو جائے گا اس سے یوسف نے کہا کہ اپنے رب سے میرا ذکر کرنا، مگر شیطان نے اسے بھلاوے میں ڈال دیا اور اس کو اپنے رب سےیوست کا ذکر کرنے کا خیال نہ رہا"۔
"جب پیغام لانے والا یوسف کے پاس آیا تو یوسف نے اس سے کہا کہ اپنے رب کےپاس واپس جاؤ اور اس سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیےتھے۔ میرا رب تو ان کی چال سے باخبر ہے ہی۔“
ان آیات میں حضرت یوسف نے مصریوں سے خطاب کرتے ہوئے بار بار فرعون مصر کو ان کا رب قرار دیا ہے، اس لیےکہ جب وہ اس کی مرکزیت اور اس کا اقتدار اعلیٰ اور اس کو امر و نہی کا مالک تسلیم کرتے تھے، تو وہی ان کا رب تھا، برعکس اس کے خود حضرت یوسف اپنا رب اللہ کو قرار دیتے ہیں، کیونکہ وہ فرعون کو نہیں ، صرف اللہ کو مقتدر اعلیٰ اور صاحب امر و نہی مانتے تھے۔
پانچویں معنی ہیں:۔ فَلَيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا البَيْتِ الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعِ وَامَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ . ( قریش ۴۳)
ربوبیت کے باب میں گمراہ قوموں کے تخیلات: ان شواہد سے لفظ رب کے معانی بالکل غیر مشتبہ طور پر معین ہو جاتے ہیں۔ اب ہمیں دیکھنا چاہیے کہ ربوبیت کے متعلق گمراہ قوموں کے وہ کیا تخیلات تھے جن کی تردید کرنے کے لیے قرآن آیا، اور کیا چیز ہےجس کی طرف قرآن بلاتا ہے۔اس سلسلہ میں زیادہ مناسب یہ معلوم ہوتا ہےکہ جن گمراہ قوموں کا ذکر قرآن نے کیا ہے ان کو الگ الگ لے کر ان کے خیالات سے بحث کی جائے تا کہ بات بالکل متفتح ہو جائے ۔
قوم نوح : سب سے پہلی قوم جس کا ذکر قرآن کرتا ہے، حضرت نوح کی قوم ہے۔ قرآن کے بیان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اللہ کی ہستی کے منکر نہ تھے۔ حضرت نوح کی دعوت کے جواب میں ان کا یہ قول خود قرآن نے نقل کیا ہے:۔
"یہ شخص کچھ نہیں ہے مگر تم جیسا ایک انسان، یہ در اصل تم پر اپنی فضیلت جمانا چاہتا ہے۔ور نہ اگر اللہ کوئی رسول بھیجنا چاہتا تو فرشتوں کو بھیجتا۔“
انہیں اللہ کے خالق ہونے اور پہلے دوسرے معنی میں اس کے رب ہونے سے بھی انکار نہ تھا۔ چنانچہ حضرت نوح جب ان سے کہتے ہیں کہ هُوَ رَبُّكُمْ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (١)(هود:۳۳) ۔
اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا (٢) ( نوح: ١٠) أَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللهُ سَبْعَ سَمَوَاتٍ طِبَاقًا وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا وَاللَّهُ اثْبَتَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ نَباتاً (٣) الخ ( نوح: ۱۵-۱۶) "تو ان میں سے کوئی یہ نہیں کہتا کہ اللہ ہمارا اب نہیں ہے،یا زمین و آسمان کو اور ہم کو اس نے پیدا نہیں کیا ہے، یا زمین و آسمان کا یہ سارا انتظام وہ نہیں کر رہا ہے۔“
پھر ان کو اب اس بات سے بھی انکار نہ تھا کہ اللہ ان کا الہ ہے۔ اسی لیے تو حضرت نوح نےاپنی دعوت ان کے سامنے ان الفاظ میں پیش کی کہ مالكُمُ مِنْ اللَّهِ غَيْرُهُ (ان کے سوا تمہارےلیے کوئی دوسرا اللہ نہیں ہے ) اور نہ وہ اگر اللہ کے الہ ہونے سے منکر ہوتے تو دعوت کے الفاظ یہ ہوتے اتَّخَذُوا اللَّهَ الَهَا (اللہ کو اپنا الہ بنالو ) ۔
ایک یہ کہ حضرت نوح کی تعلیم یہ تھی کہ جو رب العالمین ہے، جسے تم بھی مانتے ہو کہ تمہیں اور تمام کائنات کو اسی نے وجود بخشا ہے اور وہی تمہاری ضروریات کا نفیل ہے، دراصل وہی اکیلا تمہارا اللہ ہے، اس کے سوا کوئی دوسرا الہ نہیں ہے۔ کوئی اور ہستی نہیں ہے جو تمہاری حاجتیں پوری کرنے والی،مشکلیں آسان کرنے والی، دعائیں سنے اور مدد کو پہنچنے والی ہو۔ لہذا تم اس کے آگے سر نیاز جھکاؤ۔
برعکس اس کے وہ لوگ اس بات پر مصر تھے کہ رب العلمین تو اللہ ہی ہے مگر دوسرے بھی خدائی کے انتظام میں تھوڑا بہت دخل رکھتے ہیں، اور ان سے بھی ہماری حاجتیں وابستہ ہیں، لہذا اللہ کے ساتھ ہم دوسروں کو الہ مانیں گے۔“
دوسرے یہ کہ وہ لوگ صرف اس معنی میں اللہ کو رب مانتے تھے کہ وہ ان کا خالق، زمین و آسمان کا مالک اور کائنات کا مدبر اعلیٰ ہے۔لیکن اس بات کےقائل نہ تھےکہ اخلاق، معاشرت،تمدن، سیاست اور تمام معاملات زندگی میں بھی حاکمیت واقتدار اعلیٰ اس کا حق ہےوہی رہنما،وہی قانون ساز،وہی صاحب امر و نہی بھی ہےاور اس کی اطاعت بھی ہونی چاہیےان سب معاملات میں انہوں نےاپنے سرداروں اور مذہبی پیشواؤں کو رب بنارکھا تھا۔ برعکس اس کے حضرت نوح کا مطالبہ یہ تھا کہ ربوبیت کے ٹکڑے نہ کرو۔ تمام مفہومات کے اعتبار سے صرف اللہ ہی کو رب تسلیم کرو،اور اس کا نمائندہ ہونے کی حیثیت سے جو قوانین اور احکام میں تمہیں پہنچا تا ہوں ان کی پیروی کرو۔
قوم عاد: قوم نوح کے بعد قرآن عاد کا ذکر کرتا ہے۔ یہ قوم بھی اللہ کی ہستی سے منکر نہ تھی۔ اس کے الہ ہونے سے بھی اس کو انکار نہ تھا۔ جس معنی میں حضرت نوح کی قوم اللہ کو رب تسلیم کرتی تھی اس معنی میں یہ قوم بھی اللہ کو رب مان رہی تھی البتہ بنائے نزاع دہی دو امور تھے جو او پر قوم نوح کے سلسلہ میں بیان ہو چکے ہیں۔ چنانچہ قرآن کی حسب ذیل تصریحات اس پر صاف دلالت کرتی ہیں:۔
"عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ اس نے کہا، اے برادر ان قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی الہ نہیں۔ انہوں نےجواب دیا کیا تو اس لیےآیا ہےکہ ہم بس اکیلے اللہ ہی کی عبادت کریں اور ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کے وقتوں سے ہوتی آرہی ہے۔"
قوم نمود: اب ثمود کو لیجیے جو عاد کے بعد سب سے بڑی سرکش قوم تھی ۔ اصولاً اس کی گمراہی بھی اس قسم کی تھی جو قوم نوح اور قوم عاد کی بیان ہوئی ہے ان لوگوں کو اللہ کے وجود اور اس کے الہ اور رب ہونے سے انکار نہ تھا، اس کی عبادت سے بھی انکار نہ تھا۔ بلکہ انکار اس بات سے تھا کہ اللہ ہی الہ واحد ہے ، صرف وہی عبادت کا مستحق ہے، اور ربوبیت اپنے تمام معانی کے ساتھ اکیلے اللہ ہی کے لیے خاص ہے وہ اللہ کے سوا دوسروں کو بھی فریاد رس، حاجت روا ، اور مشکل کشا ماننے پر اصرار کرتے تھے۔ اور اپنی اخلاقی و تمدنی زندگی میں اللہ کے بجائے اپنے سرداروں اور پیشواؤں کی اطاعت کرنے اور ان سے اپنی زندگی کا قانون لینے پر مصر تھے۔ یہ چیز بالآخر ان کے ایک فسادی قوم بن جانے اور مبتلائے عذاب ہونے کی موجب ہوئی۔ اس کی توضیح حسب ذیل آیات سےہوتی ہے:۔
"اے محمد ! اگر یہ لوگ تمہاری پیروی سے منہ موڑتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ عاد اور ثمود کو جو سزا ملی تھی ویسی ہی ایک ہولناک سزا سے میں تم کو ڈراتا ہوں۔ جب ان قوموں کے پاس ان کےپیغمبر آگے اور پیچھے سے آئے اور کہا کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو تو انہوں نے کہا ہمارا رب چاہتا تو فرشتے بھیجتا ، لہذا تم جو کچھ لے کر آئے ہو اسے ہم نہیں مانتے۔"
"اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح (علیہ السلام ) کو بھیجا۔ اس نے کہا اےبرادرانِ قوم ! اللہ کی پرستش و بندگی کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی الہ نہیں ہے- - - انہوں نے کہا صالح ! اس سے پہلے تو ہماری بڑی امیدیں تم سے تھیں، کیا تم ہمیں ان کی عبادت سے روکتے ہو جن کی عبادت باپ دادا سے ہوتی چلی آرہی ہے۔“
"جب ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ کیا تمہیں اپنے بچاؤ کی کوئی فکر نہیں؟ دیکھو میں تمہارے اللہ کا معتبر رسول ہوں لہذا اللہ کی ناراضی سےبچو اور میری اطاعت قبول کرد....اور ان سے حد سے گزرنے والوں کی اطاعت نہ کرو جو زمین میں فساد برپا کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے ۔“
قومِ ابراهیم و نمرود: اس کے بعد حضرت ابراہیم کی قوم کا نمبر آتا ہے۔ اس قوم کا معاملہ خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ اس کے بادشاہ نمرود کے متعلق یہ عام غلط فہمی ہے کہ وہ اللہ کا منکر اور خود خدا ہونے کا مدعی تھا۔ حالانکہ وہ اللہ کی ہستی کا قائل تھا،اس کے خالق ومدبر کا ئنات ہونےکا معتقد تھا، اور صرف تیسرے، چوتھے اور پانچویں معنی کے اعتبار سے اپنی ربوبیت کا دعویٰ کرتا تھا۔ نیز یہ بھی عام غلام نہی ہے کہ یہ قوم اللہ سے بالکل نا واقف تھی اور اس کے الہ اور رب ہونے کی سرے سے قائل ہی نہ تھی۔ حالانکہ فی الواقع اس قوم کا معاملہ قوم نوح اور عاد اور محمود سے کچھ بھی مختلف نہ تھا۔وہ اللہ کےوجود کو بھی مانتی تھی ،اس کا رب ہوتا اور خالق ارض و سما اور مدبر کا ئنات ہونا بھی اسےمعلوم تھا، اس کی عبادت سے بھی وہ منکر نہ تھی ۔ البتہ اس کی گمراہی یہ تھی کہ ربوبیت بمعنی اول و دوم میں اجرام فلکی کو حصہ دار بجھتی تھی۔ اور اس بناء پر اللہ کے ساتھ ان کو بھی معبود قرار دیتی تھی۔ اور ربوبیت بمعنی سوم و چهارم و پنجم کے اعتبار سے اس نے اپنے بادشاہوں کو رب بنا رکھا تھا۔ قرآن کی تصریحات اس بارے میں اتنی واضح ہیں کہ تعجب ہوتا ہے کہ کس طرح لوگ اصل معاملہ کو سمجھنے سے قاصر رہ گئے. سب سے پہلے حضرت ابراہیم کے آغاز ہوش کا وہ واقعہ لیجئے جس میں نبوت سے پہلے ان کی تلاش حق کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔
فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَأى كَوْكَبًا قَالَ هَذَا رَبِّي فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَا أُحِبُّ الأفِلِينَ، فَلَمَّا رَى الْقَمَرَ بَازِغَا قَالَ هَذَا رَبِّي فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَئِن لَّمْ يَهْدِنِي رَبِّي لا كونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّالّين، فَلَمَّا وَالشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هَذَا رَبِّي هَذَا اكْبَرُ فَلَمَّا أقلَتْ قَالَ يقوم إنّي بَرَى مِمَّا تُشْرِكُونَ، إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السمواتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ (انعام: ۷۷-۸۰)
"جب اس پر رات طاری ہوئی تو اس نے ایک تارا دیکھا، کہنے لگا یہ میرا رب ہے۔ مگر جب وہ تارا ڈوب گیا تو اس نے کہا ڈوبنے والوں کو تو میں پسند نہیں کرتا، پھر جب چاند چمکتا ہوا دیکھا تو کہا، یہ میرا رب ہے مگر وہ بھی غروب ہو گیا تو کہا ،اگر میرےرب نےمیری رہنمائی نہ فرمائی تو یہ خطرہ ہےکہ کہیں میں بھی گمراہ لوگوں میں شامل نہ ہو جاؤں۔ پھر جب سورج کو روشن دیکھا تو کہا یہ میرا رب ہے، یہ سب سے بڑا ہے۔مگر جب وہ بھی چھپ گیا تو وہ پکار اٹھا کہ اسےبرادر ان قوم جو شرک تم کرتے ہو اس سے میرا کوئی تعلق نہیں میں نے تو سب طرف سے منہ موڑ کر اپنا رُخ اس کی طرف پھیر دیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔“
خط کشیدہ فقروں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جس سوسائٹی میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے آنکھ کھولی تھی اس میں آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے کا تصور، اور اس ذات کے رب ہونے کا تصور، ان سیاروں کی ربوبیت کے تصور سے الگ موجود تھا۔ اور آخر کیوں نہ موجود ہوتا جبکہ یہ لوگ ان مسلمانوں کی نسل سے تھے جو حضرت نوح (علیہ السلام) پر ایمان لائےتھے، اور ان کی قریبی رشتہ دار ہمسایہ اقوام ( عاد و شور ) میں پے در پے انبیاء علیہم السلام کےذریعہ سے دین اسلام کی تجدید بھی ہوتی چلی آرہی تھی (جاء لَهُمُ الرُّسُلُ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ) پس حضرت ابراہیم کو اللہ کے فاطر السمواتِ وَالْأَرْضِ اور رب ہونے کا تصور تو اپنےماحول سے مل چکا تھا، البتہ جو سوالات ان کے دل میں کھٹکتے تھے وہ یہ تھے کہ نظام ربوبیت میں اللہ کے ساتھ چاند سورج، اور سیاروں کے شریک ہونے کا جو خیل ان کی قوم میں پایا جاتا ہے، اور جس کی بنا پر یہ لوگ عبادت میں بھی اللہ کے ساتھ ان کو شریک ٹھہرا رہے ہیں، یہ کہاں تک منی بر حقیقت(١) ہے۔ چنانچہ نبوت سے پہلے اس کی جستجو انہوں نے کی اور طلوع و غروب کا انتظام ان کے لیے اس امر واقعی تک پہنچنے میں دلیل راہ بن گیا کہ فاطر السموات والارض کے سوا کوئی رب نہیں ہے۔ اسی بنا پر چاند کو غروب ہوتے دیکھ کر وہ فرماتے ہیں کہ اگر میرے رب، یعنی اللہ نے میری رہنمائی نہ فرمائی تو خوف ہے کہ کہیں میں بھی حقیقت تک رسائی پانے سے نہ رہ جاؤں، اور ان مظاہر سے دھوکا نہ کھا جاؤں جن سے میرے گرد و پیش لاکھوں انسان دھوکا کھا رہے ہیں۔
پھر جب حضرت ابراہیم نبوت کے منصب پر سرفراز ہوئے اور انہوں نے دعوت الی اللہ کا کام شروع کیا تو جن الفاظ میں وہ اپنی دعوت پیش فرماتے تھے ان پر غور کرنے سے وہ بات اور زیادہ واضح ہو جاتی ہے جو ہم نے اوپر بیان کی ہے۔ فرماتے ہیں:۔
١- یہاں اس امر کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ حضرت ابراہیم کے وطن آر کے متعلق آثار قدیمہ کی کھدائیوں میں جو انکشافات ہوئےہیں ان سےمعلوم ہوتا ہےکہ وہاں چندر ماں دیوتا کی پرستش ہوتی تھی جسےان کی زبان میں تار کہا جاتا تھا۔اور اس کےہمسایہ علاقہ میں جس کا مرکز کر سہ تھا سورج دیوتا کی عبادت ہوتی تھی جس کا نام ان کی زبان میں شماس تھا۔اس ملک کےفرماں روا خاندان کا بانی ارتمو تھا جو عرب میں جا کر نمرود ہو گیا اور اسی کےنام پر وہاں کےفرماں رواں کا لقب ہی نمرود قرار پایا، جیسے نظام الملک کے جانشین نظام کہلاتے ہیں۔
"اور آخر میں ان سے کس طرح ڈر سکتا ہوں جنہیں تم اللہ کا شریک ٹھہراتے ہو، جبکہ تم اللہ کے ساتھ ان کو شریک بناتے ہوئے نہیں ڈرتے جن کے البیت اور ربوبیت میں شریک ہونے پر اللہ نے تمہارے پاس کوئی سند نہیں بھیجی ہے۔“
( ابراہیم علیہ السلام اور اس کے ساتھی مسلمانوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے صاف کہہ دیا ) کہ ہمارا تم سے اور اللہ کے سوا جن جن کی عبادت تم کرتے ہو ان سب سے کوئی تعلق نہیں ، ہم تمہارے طریقے کو ماننے سے انکار کر چکے ہیں اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے بغض و عداوت کی بنا پڑ گئی ہے جب تک کہ تم اکیلے اللہ پر ایمان نہ لاؤ-
حضرت ابراہیم کے ان تمام ارشادات کو دیکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کے مخاطب وہ لوگ نہ تھے جو اللہ سے بالکل ناواقف اور اس کے رب العلمین اور معبود ہونے سے منکر یا خالی الذہن ہوتے۔ بلکہ وہ لوگ تھے جو اللہ کے ساتھ ربوبیت ) بمعنی اول و دوم) اور الہیت میں دوسروں کو شریک قرار دیتے تھے۔ اس لیے تمام قرآن میں کسی ایک جگہ بھی حضرت ابراہیم کا کوئی ایسا قول موجود نہیں ہے جس میں انہوں نے اپنی قوم کو اللہ کی ہستی اور اس کے الہ اور رب ہونے کا قائل کرنے کی کوشش کی ہوگی ، بلکہ ہر جگہ وہ دعوت اس چیز کی دیتے ہیں کہ اللہ ہی رب اور الہ ہے۔
" تم نے اس شخص کو بھی دیکھا جس نے ابراہیم سے اس کے رب کے بارے میں بحث کی،اس بنا پر کہ اللہ نےاسےحکومت دےرکھی تھی۔جب ابراہیم نےکہا کہ میرا رب وہ ہےجس کےہاتھ میں زندگی اور موت ہے،تو اس نےکہا زندگی اور موت میرےاختیار میں ہے۔ ابراہیم نےکہا، اچھا تو حقیقت یہ ہے کہ اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے اب تو ذرا اُ سے مغرب سے نکال لا۔یہ سن کر وہ کافر مبہوت ہو کر رہ گیا۔
اس گفتگو سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ جھگڑا اللہ کے ہونےیا نہ ہونے پر نہ تھا بلکہ اس بات پر تھا کہ ابراہیم علیہ السلام "رب" کے تسلیم کرتے ہیں۔ نمرود اول تو اُس قوم سے تعلق رکھتا تھا جو اللہ کی ہستی کو مانتی تھی۔ دوسرے جب تک کہ وہ بالکل ہی پاگل نہ ہو جاتا وہ ایسی صریح احمقانہ بات کبھی نہ کہہ سکتا تھا کہ زمین و آسمان کا خالق اور سورج اور چاند کو گرش دینے والا وہ خود ہے۔پس دراصل اس کا دعوی یہ نہ تھا کہ میں اللہ ہوں، یا رب السموت والارض ہوں،بلکہ اس کا دعویٰ صرف یہ تھاکہ میں اس کا مملکت کارب ہوں جس کی رعیت کا ایک فردا برا بینم ہے۔اور یہ رب ہونےکا دعوی بھی اسےربوبیت کےپہلےاور دوسرے مفہوم کے اعتبار سے نہ تھا، کیونکہ اس اعتبار سے تو وہ خود چاند اور سورج اور سیاروں کی ربوبیت کا قائل تھا، البتہ وہ تیرے، چوتھے اور پانچویں مفہوم کے اعتبار سے اپنی مملکت کا رب بنتا تھا۔ یعنی اس کا دھوئی یہ تھا کہ میں اس ملک کا مالک ہوں، اس کے سارے باشندے میرے بندے، میرا مرکزی اقتدار ان کے اجتماع کی بنیاد ہے، اور میرا فرمان اُن کے لیے قانون ہے۔ ان انهُ اللهُ الْمُلک کےالفاظ صریحا اس بات کی طرف اشارہ کر رہےکہ اس دعوائےربوبیت کی بنیاد بادشاہی کے زعم پر تھی۔ جب اسے معلوم ہوا کہ اس کی رعیت میں سے ابراہیم نامی ایک نو جوان اٹھا ہےجو نہ چاند اور سورج اور سیاروں کی فوق الفطری ربوبیت کا قائل ہےاور نہ بادشاہ وقت کی سیاسی و تمدنی ربوبیت تسلیم کرتا ہے، تو اسے تعجب ہوا اور اس نے حضرت ابراہیم کو بلا کر دریافت کیا کہ آخر تم کے رب مانتے ہو؟ حضرت ابراہیم نے پہلے فرمایا کہ میرا رب وہ ہے جس کے قبضہ قدرت میں زندگی اور موت کے اختیارات ہیں۔مگر اس جواب سے وہ بات کی تہ کو نہ پہنچ سکا اور یہ کہہ کر اس نے اپنی ربوبیت ثابت کرنی چاہی کہ زندگی اور موت کے اختیارات تو مجھے حاصل ہیں جسے چاہوں قتل کرادوں اور جس کی چاہوں جان بخشی کر دوں۔ تب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے بتایا کہ میں صرف اللہ کو رب مانتا ہوں، ربوبیت کے جملہ مفہومات کے اعتبار سے میرے نزدیک تنہا اللہ ہی رب ہے، اس نظام کائنات میں کسی دوسرے کی ربوبیت کے لیے گنجائش ہی کہاں ہو سکتی ہے جبکہ سورج کے طلوع و غروب پر وہ ذرہ برابر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ نمرود آدمی ذی ہوش تھا۔ اس دلیل کو سن کر اس پر یہ حقیقت کھل گئی کہ فی الواقع اللہ کی سلطنت میں اس کا دعوائے ربوبیت بجز ایک زعم باطل کے اور کچھ نہیں ہے، اسی لیے وہ دم بخود ہو کر رہ گیا، مگر نفس پرستی اور شخصی و خاندانی اغراض کی بندگی ایسی دامنگیر ہوئی کہ حق کے ظہور کے باوجود وہ خود مختارانہ حکمرانی کے منصب سے اتر کر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر آمادہ نہ ہوا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس گفتگو کو نقل کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَاللَّهُ لَا يَهْدِى القَوْمَ الظَّلِمِینَ ( مگر اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا ) یعنی اس ظہور حق کے بعد جو رویہ اسےاختیار کرنا چاہیے تھا اسے اختیار کرنے کے لیے جب وہ تیار نہ ہوا اور اس نے غاصبانہ فرماں روائی کر کے دنیا پر اور خود اپنے نفس پر ظلم کرنا ہی پسند کیا تو اللہ نے بھی اسے ہدایت کی روشنی عطا نہ کی، کیونکہ اللہ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ جو خود ہدایت کا طالب نہ ہو اس پر زبردستی اپنی ہدایت مسلط کردے۔
قوم لوط : قوم ابراہیم کےبعد ہمارے سامنےوہ قوم آتی ہے جس کی اصلاح پر حضرت ابراہیم کےبھیجے حضرت لوڈ مامور کیے گئے تھے۔اس قوم کےمتعلق بھی قرآن سے ہم کو یہ معلوم ہوتا ہےکہ وہ نہ تو اللہ کے وجود کی منکر تھی نہ اس بات کی منکر تھی کہ اللہ خالق اور رب بمعنی اول و دوم ہے۔البتہ اسے انکار اس سے تھا کہ اللہ ہی کو تیسرے، چوتھے اور پانچویں معنی میں بھی رب مانے اور اس کےمعتمد علیہ نمائندے کی حیثیت سے رسول کے اقتدار کو تسلیم کرے وہ چاہتی تھی کہ اپنی خواہش نفس کے مطابق خود جس طرح چاہے کام کرے۔ یہی اس کا اصلی جرم تھا اور اسی بنا پر وہ عذاب میں مبتلا ہوئی۔ قرآن کی حسب ذیل تصریحات اس پر شاہد ہیں:۔
” جب ان کےبھائی لوط علیہ السلام نےان سےکہا کہ تم تقویٰ اختیار کرو؟ دیکھو میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں۔لہذا اللہ کے غضب سےبچو اور میری اطاعت کرو۔اس کام پر میں تم سےکوئی معاوضہ نہیں مانگا،میرا معاوضہ تو صرف رب العلمین کےذمہ ہے۔کیا دنیا کےلوگوں میں سےتم لڑکوں کی طرف جاتے ہو اور تمہارے رب نے تمہارے لیے جو بیویاں پیدا کی ہیں انہیں چھوڑ دیتے ہو؟ تم بڑے ہی حد سے گزرنے والے لوگ ہو ۔ “
ظاہر ہے کہ یہ خطاب ایسے ہی لوگوں سے ہو سکتا تھا جو اللہ کے وجود اور اس کے خالق اور پروردگار ہونے کے منکر نہ ہوں۔ چنانچہ جواب میں وہ بھی یہ نہیں کہتے کہ اللہ کیا چیز ہے؟ یادہ پیدا کرنے والا کون ہوتا ہے؟ یاوہ کہاں سے ہمارا رب ہو گیا ؟ بلکہ کہتے ہیں کہ :۔
"اور ہم نے لوط کو بھیجا۔ جب اس نے قوم سے کہا کہ تم لوگ وہ فعل شنیع کرتے ہو جو تم سےپہلے دنیا میں کسی نےنہ کیا تھا،کیا تم مردوں سےشہوت رانی کرتےہو،راستوں پر ڈاکےمارتےہو، اور اپنی مجلسوں میں علانیہ ایک دوسرے کے سامنے بدکاریاں کرتے ہو؟ تو اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ لے آؤ ہم پر اللہ کا عذاب اگر تم سچے ہو۔"
کیا یہ جواب کسی منکرِ خدا قوم کا ہو سکتا تھا ؟ پس معلوم ہوا کہ ان کا اصلی جرم انگار الوہیت ور بوبیت نہ تھا، بلکہ یہ تھا کہ وہ فوق الفطری معنی میں اللہ کہ الہ اور رب مانتے تھے۔ لیکن اپنےاخلاق تمدن اور معاشرت میں اللہ کی اطاعت اور اس کے قانون کی پیروی کرنے سے انکار کرتےتھے اور اس کے رسول کی ہدایت پر چلنے کے لیے تیار نہ تھے۔
قوم شعیب : اس کے بعد اہل مدین اور اصحاب الا یکہ کو لیجیے جن میں حضرت شعیب علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے ۔ ان لوگوں کے متعلق ہمیں معلوم ہے کہ یہ حضرت ابراہیم کی اولاد سے تھے۔ اس لیےیہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا کہ وہ اللہ کے وجود اور اس کے الہ اور رب ہونے کے قائل تھے یا نہ تھے۔ان کی حیثیت در اصل ایک ایسی قوم کی تھی جس کی ابتدا اسلام سے ہوئی اور بعد میں وہ عقائد واعمال کی خرابیوں میں مبتلا ہو کر بگڑتی چلی گئی۔ بلکہ قرآن سےتو کچھ ایسا معلوم ہوتا ہےکہ وہ لوگ مومن ہونےکے بھی مدعی تھے۔چنانچہ بار بار حضرت شعیب ان سےفرماتےہیں کہ ”اگر تم مومن ہو تو تمہیں یہ کرنا چاہیے۔ حضرت شعیب کی ساری تقریروں اور ان کےجوابات کو دیکھنےسے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسی قوم تھی جواللہ کو مانتی تھی۔اسےمعبود اور پر ور دگار بھی تسلیم کرتی تھی مگر دوطرح کی گمرازیوں میں مبتلا ہو گئی تھی۔ ایک یہ کہ وہ فوق الفطری معنی میں اللہ کے سوا دوسروں کو بھی الہ اور رب سمجھنے لگی تھی ، اس لیے اس کی عبادت صرف اللہ کے لیے مختص نہ رہی تھی ۔دوسرے یہ کہ اس کےنزدیک اللہ کی ربوبیت کو انسان کےاخلاق، معاشرت،معیشت اور تمدن و سیاست سےکوئی سروکار نہ تھا، اس بنا پر وہ کہتی تھی کہ اپنی تمدنی زندگی میں ہم مختار ہیں، اپنے معاملات کو جس طرح چاہیں چلائیں۔
وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا قَالَ يَقَوْمِ اعْبُدُو الله مَالَكُمْ مِنْ اللَّهِ غَيْرُهُ قَدْ جَاءَ تُكُمْ بَيِّنَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ فَاوْفُوْ الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَ هُمُ . وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلاحِهَا، ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِن كُنتُمْ مُؤْمِنِينَ وَإِنْ كَانَ طَائِفَةٌ مِّنكُمُ امَنُوا بِالَّذِى أُرْسِلْتُ بِهِ وَطَائِفَةٌ لَمْ يُؤْمِنُوا فَاصْبِرُوا حَتَّى يَحْكُمَ الله بَيْنَنا وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ. (اعراف: ۸۵-۸۷)
"اور مدین کی طرف ہم نےان کےبھائی شعیب کو بھیجا۔ اس نے کہا اے برادر ان قوم! اللہ کی بندگی کرو کہ اس کےسوا تمہارا کوئی الہ نہیں ہے۔تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس روشن ہدایت آچکی ہے۔ پس تم ناپ تول ٹھیک کرو، لوگوں کو ان کی چیزوں میں گھانا نہ دیا کرو، اور زمین میں فساد نہ کرو جبکہ اس کی اصلاح کی جا چکی تھی۔اس میں تمہاری بھلائی ہے اگر تم مومن ہو۔ اگر تم میں سے ایک گروہ اس ہدایت پر جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں ایمان لاتا ہے اور دوسرا ایمان نہیں لاتا تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے اور وہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔“
ويقومُ اَوْفُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَ هُمْ وَلَا تَعْثَوْفِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ ، بَقِيَّتُ اللهِ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنتُمْ مُؤْمِنِينَ، وَمَا أَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيظ. قَالُو يَشُعَيْبُ اَصَلوتُكَ تَأمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا أَوْ أَنْ نَفْعَلَ فِي أَمْوَالِنَا مَا نَشُوءُ إِنَّكَ لَأَنْتَ الْحَلِيمُ الرَّشِيدُ. (هود: ۸۵-۸۷)
"اے برادرانِ قوم ! پیمانےاور تراز و انصاف کےساتھ پورے پورے ناپو اور تو لو ، لوگوں کو ان چیزوں میں گھاٹا نہ دو،اور زمین میں فساد نہ برپا کرتےپھرو،اللہ کی عنایت سےکاروبار میں جو بچت ہو وہی تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم مومن ہو۔ اور میں تمہارے اوپر کوئی نگہبان نہیں ہوں۔ انہوں نے جواب دیا اے شعیب ! کیا تمہاری نماز تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہم ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا سے ہوتی چلی آرہی ہے، یا یہ کہ ہم اپنے مال میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کرنا ترک کردیں؟ تم ہی تو ایک بردبار اور راست باز رہ گئے ہو؟“
فرعون اور آل فرعون : اب ہمیں فرعون اور اس کی قوم کو دیکھنا چاہیےجس کےباب میں نمرود اور اس کی قوم سےبھی زیادہ غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔عام خیال یہ ہےکہ فرعون نہ صرف خدا کی ہستی کا منکر تھا بلکہ خود خدا ہونے کا مدعی تھا۔ یعنی اس کا دماغ اتنا خراب ہو گیا تھا کہ دنیا کے سامنے کھل کھلا یہ دعوی کرتا تھا کہ میں خالق ارض و سما ہوں ، اور اس کی قوم اتنی پاگل تھی کہ اس کے دعوے پر ایمان لاتی تھی۔ حالانکہ قرآن اور تاریخ کی شہادت سےاصل حقیقت یہ معلوم ہوتی ہےکہ الوہیت ور بوبیت کےباب میں اس کی گمراہی نمرود کی گواہی سے، اور اس کی قوم کی گمراہی قوم نمرود کی گمراہی سے کچھ زیادہ مختلف نہ تھی ۔ فرق جو کچھ تھا وہ صرف اس بناء پر تھا کہ یہاں سیاسی اسباب سے بنی اسرائیل کےساتھ ایک قوم پرستانه ضد اور متعصبانہ ہٹ دھرمی پیدا ہو گئی تھی اس لیے محض عناد کی بنا پر اللہ کو الہ اور رب ماننے سے انکار کیا جاتا تھا اگر چہ دلوں میں اس کا اعتراف چھپا ہوا تھا۔ جیسا کہ آج کل بھی اکثر دہریوں کا حال ہے۔
اصل واقعات یہ ہیں کہ حضرت یوسف کو جب مصریوں میں اقتدار حاصل ہوا تو انہوں اپنی پوری قوت اسلام کی تعلیم پھیلانےمیں صرف کردی۔اور سرزمین مصر پر اتنا گہرا نقش مرتسم کیا کہ صدیوں تک کسی کے منائے نہ مٹ سکا ۔ اُس وقت چاہے تمام اہل مصر نے دین حق قبول نہ کر لیا ہو ۔ مگر یہ ناممکن تھا کہ مصر میں کوئی شخص اللہ سےناواقف رہ گیا ہو اور یہ نہ جان گیا ہو کہ وہی خالق ارض وسما ہے ۔ یہی نہیں بلکہ ان کی تعلیمات کا کم سے کم اتنا اثر ہر مصری پر ضرور ہو گیا تھا کہ وہ فوق الفطری معنوں میں اللہ کو الہ اللہ اور رب الارباب تسلیم کرتا تھا اور کوئی مصری اللہ کی الوہیت کا منکر نہ رہا تھا۔البتہ جو ان میں کفر پر قائم رہ گئےتھےوہ الوہیت در بوبیت میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے تھے۔ یہ اثرات حضرت موسیٰ کی بعثت کےوقت تک باقی تھے۔ چنانچہ اس کا صریح ثبوت وہ تقریر ہےجو فرعون کےدربار میں ایک قبلی سردار نے کی تھی۔ جب فرعون نےحضرت موسیٰ سےقتل کا ارادہ ظاہر کیا تو اس کےدربار کا یہ امیر جو مسلمان ہو چکا تھا مگر اپنا اسلام چھپائے تھا،بے قرار ہو کر بول اٹھا:۔
" کیا تم ایک شخص کو اس لیے قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔ حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سےتمہارے سامنے کھلی کھلی نشانیاں لایا ہے؟ اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کےجھوٹ کا وبال اس پر ضرور پڑے گا۔ لیکن اگر وہ سچا ہے تو جس انجام سے وہ تمہیں ڈرا رہا ہےاس میں سے کچھ نہ کچھ تو تم پر نازل ہو کے رہے گا۔ یقین جانو کہ اللہ کی حد سے بڑھے ہوئے جھوٹےآدمی کو فلاح کا راستہ نہیں دکھاتا۔ اے برادر ان قوم! آج تمہارےہاتھ میں حکومت ہے،زمین میں تم غالب ہو، مگر کل اللہ کا عذاب ہم پر آجائےتو کون ہماری مدد کرے گا؟- - - اے برادران قوم! میں ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر وہ دن نہ آجائے جو بڑی بڑی قوموں پر آچکا ہےاور وہی انجام تمہارا نہ ہو، جو قوم نوح اور عاد اور ثمود اور بعد کی قوموں کا ہوا۔ اس سےپہلے یوسف (علیہ السلام ) تمہارے پاس روشن نشانیاں لے کر آئے تو تم اس چیز کے متعلق شک میں پڑے رہےجیسے وہ لائے تھے ۔ پھر جب ان کا انتقال ہو گیا تو تم نے کہا کہ اللہ ان کے بعد کوئی رسول نہ بھیجےگا اور رائے برادر ان قوم یہ عجیب معاملہ ہے کہ میں تمہیں نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھےآگ کی طرف دعوت دیتے ہو تم مجھے اس طرف بلاتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ ان کو شریک ٹھہراؤں جن کے شریک ہونے پر میرے پاس کوئی علمی ثبوت نہیں ہے، اور میں تمہیں اس کی طرف بلاتا ہوں جو سب سے زبردست ہے اور بخشنے والا ہے۔“
١- اگر تو راہ کے تاریخی بیان پر اعتماد کیا جائے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مصر کی آبادی کا تقریبا پانچواں حصہ مسلمان ہو چکا تھا۔ توراۃ میں بنی اسرائیل کی جو مردم شماری درج کی گئی ہے اس کی رُو سے وہ لوگ جو حضرت موسیٰ کے ساتھ مصر سے نکلے تھے تقریباً ۱۲۰ کھ تھے۔ اور مصر کی آبادی اس زمانہ میں ایک کروڑ سےزیادہ نہ ہوگی۔تو راہ میں ان سب لوگوں کو بنی اسرائیل کی حیثیت سےپیش کیا گیا ہےلیکن کسی حساب سےیہ ممکن نظر نہیں آتا کہ حضرت یعقوب کے١٢ بیٹوں کی اولاد سوسال کےاندر بڑھ کر ۲۰لاکھ ہوگئی ہو ۔لہذا قیاس یہی چاہتا ہے کہ مصر کےلوگوں میں سے ایک بہت بڑی تعداد مسلمان ہو کر بنی اسرائیل میں شامل ہو گئی ہو گی اور ہجرت کے موقع پر ان مصری مسلمانوں نے بھی اسرائیلی مسلمانوں کا ساتھ دیا ہوگا، اس سے اس تبلیغی کام کا اندازہ ہو سکتا ہے جو حضرت یوسف اور ان کے خلفاء نے مصر میں کیا۔
یہ پوری تقریر اس بات پر شاہد ہےکہ حضرت یوسف علیہ السلام کی عظیم الشان شخصیت کا اثر کئی صدیاں گزر جانے کے بعد بھی اس وقت تک باقی تھا اور اس جلیل القدر نبی کی تعلیم سے متاثر ہونے کے باعث یہ قوم جہالت کے اس مرتبے پر نہ تھی کہ اللہ کی ہستی سے بالکل ہی نا واقف ہوتی یا یہ نہ جانتی کہ اللہ رب اور الہ ہے اور قوائے فطرت پر اس کا غلبہ وقہر قائم ہے اور اس کا غضب کوئی ڈرنے کی چیز ہے۔ اس کے آخری فقرے سے یہ بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم اللہ کی الوہیت اور ربوبیت کی قطعی منکر نہ تھی بلکہ ان کی گمراہی وہی تھی جو دوسری قوموں کی بیان ہو چکی ہے۔ یعنی ان دونوں حیثیتوں میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرانا ۔
شبہ جس وجہ سے واقع ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ فرعون حضرت موسیٰ کی زبان سے إِنَّا رَسُولُ رَبِّ الْعَلَمِينَ (ہم رب العلمین کےرسول ہیں ) سن کر پوچھتا ہے وَمَا رَبُّ الْعَلَمِينَ (رَبِّ العلمین کیا چیز ہے؟) اپنے وزیر ہاماں سے کہتا ہے کہ میرےلیےایک اونچی عمارت بنا کہ میں موسیٰ کے اللہ کو دیکھوں۔حضرت موسیٰ کو دھمکی دیتا ہے کہ میرے سوا کسی اور کو تم نے اللہ بنایا تو میں تمہیں قید کر دوں گا۔ ملک بھر میں اعلان کرتا ہے کہ میں تمہارا رب اعلیٰ ہوں ۔ اپنے درباریوں سے کہتا ہے کہ میں اپنے سوا تمہارے کسی الہ کو نہیں جانتا۔ اس قسم کے فقرات دیکھ کر لوگوں کو گمان ہوا ہے کہ شاید وہ اللہ کی ہستی ہی کا منکر تھا،رب العالمین کے تصور سےبالکل خالی الذہن تھا اور اپنےآپ ہی کو واحد معبود سمجھتا تھا۔مگر اصل واقعہ یہ ہےکہ اس کی یہ تمام باتیں قوم پرستانہ ضد کی وجہ سے تھیں۔ حضرت یوسف کے زمانہ میں صرف یہی نہیں ہوا تھا کہ آنجناب کی زبر دست شخصیت کے اثر سےاسلام کی تعلیمات مصر میں پھیل گئی تھیں،بلکہ حکومت میں جو اقتدار ان کو حاصل ہوا تھاان کی بدولت بنی اسرائیل مصر میں بہت بااثر ہو گئےتھے۔تین چار سو سال تک یہ اسرائیلی اقتدار مصر پرچھایا رہا۔ پھر وہاں اسرائیلیوں کے خلاف قوم پرستانہ جذبات پیدا ہونے شروع ہوئے۔ یہاں تک کہ ان کے اقتدار کو الٹ پھینکا گیا اور ایک مصری قوم پرست خاندان فرماں روا ہو گیا۔ان نئےفرماں رواؤں نےمحض اسرائیلیوں کو دبانےاور کچلنےہی پر اکتفا نہ کیا بلکہ دور یوسفی کےایک ایک اثر کو منانےاور اپنے قدیم جاہلی مذہب کی روایات کو تازہ کرنےکی کوشش کی۔ اس حالت میں جب حضرت موسیٰ تشریف لائے تو ان لوگوں کو خطرہ ہوا کہ کہیں اقتدار پھر ہمارے ہاتھ سے نکل کر اسرائیلیوں کے ہاتھ میں نہ چلا جائے۔ یہی عناد اور ہٹ دھرمی کا جذبہ تھا جس کی بنا پر فرعون چند را چند را کر حضرت موسیٰ سے پوچھتا تھا کہ رب العلمین کیا ہوتا ہے؟ میرے سوا اور الہ کون ہو سکتا ہے؟ سے پوچھتا تھا کہ ور نہ در اصل اصل وہ رب العلمین سے بے خبر نہ تھا۔ اس کی اور اس کے اہل در یاد کی گفتگوئیں اور حضرت موسیٰ کی جو تقریریں قرآن میں آئی ہیں، ان سب سے یہ حقیقت بین طور پر ثابت ہوتی ہے۔مثلاً ایک موقع پر فرعون اپنی قوم کو یہ یقین دلانے کے لیے کہ موسیٰ خدا کے پیغمبر نہیں ہیں، کہتا ہے:۔
"پس فرعون نے اس سے کہا کہ اے موسیٰ میں تو سمجھتا ہوں کہ تیری عقل خبط ہوگئی ہے۔موسیٰ نے جواب دیا تو خوب جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں رب زمین و آسمان کے سوا کسی ور کی نازل کی ہوئی نہیں ہیں ۔ مگر میرا خیال ہے کہ اے فرعون تیری شامت ہی آگئی ہے۔"
"موسی نےان سے کہا تم پر افسوس ہے۔ اللہ پر جھوٹ افتراء نہ باندھو ورنہ وہ سخت عذاب سے تمہیں تباہ کر دے گا۔ اور افتراء جس نے بھی باندھا ہے وہ نامراد ہو کر ہی رہا ہے۔ یہ سن کر لوگ آپس میں ردو کر کرنےلگے اور خفیہ مشورہ ہوا جس میں کہنے والوں نے کہا یہ دونوں (موسیٰ دہارون) تو جادو گر ہیں۔ چاہتےہیں کہ اپنےجادو کےزور سےتمہیں تمہاری سرزمین سے بےدخل کر دیں اور تمہارے مثالی ( آئیڈل ) طریق زندگی کو مناد ہیں ۔"
ظاہر ہے کہ اللہ کے عذاب سے ڈرانے اور افتراء کے انجام سے خبر دار کرنے پر ان کےدر میان رق و کراسی لیے شروع ہو گئی تھی کہ ان لوگوں کے دلوں میں کہیں تھوڑا بہت اثر خدا کی عظمت اور اس کے خوف کا موجود تھا۔ لیکن جب ان کے قوم پرست حکمران طبقہ نے سیاسی انقلاب کا خطرہ پیش کیا ، اور کہا کہ موسیٰ اور ہارون کی بات مانے کا انجام یہ ہو گا کہ مصریت پھر اسرائیلیت سےمغلوب ہو جائے گی تو ان کے دل پھر سخت ہو گئےاور سب نےبالا تفاق رسولوں کا مقابلہ کرنےکی ٹھان لی۔
اس حقیقت کےواضح ہو جانےکےبعد ہم بآسانی یہ تحقیق کر سکتےہیں که حضرت موسیٰ اور فرعون کے درمیان اصل جھگڑا کس بات پر تھا،فرعون اوراس کی قوم کی حقیقی گمراهی کس نوعیت کی تھی،اور فرعون کس معنی میں الوهیت در ربوبیت کا مدعی تھا۔ اس غرض کے لیے قرآن کی حسب ذیل آیات ترتیب وار ملاحظه کیجئے۔
ان دونوں آیتوں کو جب ہم ان معلومات کے ساتھ ملا کر دیکھتے ہیں جو تاریخ و آثار قدیمہ کے ذریعہ سے ہمیں اس زمانہ کے اہل مصر کے متعلق حاصل ہوئی ہیں تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ فرعون خود بھی اور اس کی قوم کے لوگ بھی ربوبیت کے پہلے اور دوسرے معنی کے اعتبار سے بعض دیوتاؤں کو خدائی میں شریک ٹھہراتے تھے اور ان کی عیادت کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ اگر فرعون فوق الفطری معنوں میں خدا ہونے کا مدعی ہوتا، یعنی اگر اس کا دعویٰ نہیں ہوتا کہ سلسلہ اسباب پر وہ خود حکمران ہے اور اس کےسوازمین و آسمان کا الہ ورب کوئی نہیں ہے،تو وہ دوسرےانہوں کی پرستش نہ کرتا ہے(١)
١- بعض مفسرین نے محض اس مفروضه پر کہ فرعون خود الہ العالمین ہونے کا دعوئی رکھتا تھا،سورہ اعراف کی مذکورہ متن آیت میں اٹھنگ کی قرآت اختیار کی ہے اور اللہ بمعنی عبادت لیا ہے۔ یعنی ان کی قرآت کے مطابق آیت کا ترجمہ یوں ہوگا کہ آپ کو اور آپ کی عبادت کو چھوڑ دے ۔ لیکن اول تو یہ قرآت شاذ ہے اور معروف قرآت کے خلاف ہے، دوسرے وہ مفروضہ ہی سرے سے بے بنیاد ہے جس پر یہ قرآت اختیار کی گئی ہے۔ تیسرے اللہ کے معنی عبادت کے علاوہ معبودہ یا دیوی کے بھی ہو سکتے ہیں۔ سورج کے لیے عرب جاہلیت میں الهة بی کا لفظ استعمال ہوتا تھا اور یہ معلوم ہے کہ بالعموم
ان الفاظ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ فرعون اپنے سوا دوسرے تمام انہوں کی نفی کرتا تھا، بلکہ اس کی اصل غرض حضرت موسیٰ کی دعوت کو رد کرنا تھا۔ چونکہ حضرت موسیٰ ایک ایسے اللہ کی طرف بلا رہے تھے جو صرف فوق الفطری معنی ہی میں معبود نہیں ہے بلکہ سیاسی و تمدنی معنی میں امر و نہی کا مالک اور اقتدار اعلیٰ کا حامل بھی ہے، اس لیے اس نے اپنی قوم سے کہا کہ تمہارا ایسا الہ تو میرے سوا کوئی نہیں ہے، اور حضرت موسیٰ کو دھمکی دی کہ اس معنی میں میرے سوا کسی کو الہ بناؤ گے تو جیل کی ہوا کھاؤ گے۔
نیز قرآن کی ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے، اور تاریخ و آثار قدیمہ سے اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ فراعنه مصر محض حاکیت مطلقه (Absolute Sovereignty) ہی کےمدعی نہ تھےبلکہ دیوتاؤں سے اپنا رشتہ جوڑ کر ایک طرح کی قدوسیت کا بھی دعویٰ رکھتےتھے تا کہ رعایا کےقلب و روح پر ان کی گرفت خوب مضبوط ہو جائے۔ اس معاملہ میں تنہا فراعنہ ہی منفرد نہیں ہیں،دنیا کے اکثر ملکوں میں شاہی خاندانوں نے سیاسی حاکمیت کے علاوہ فوق الفطری الوهیت در بوتیت میں بھی کم و بیش حصہ بٹانے کی کوشش کی ہے اور رعیت کےلیےلازم کیا ہے کہ وہ ان کےآگے عبودیت کے کچھ نہ کچھ مراسم ادا کرے۔ لیکن دراصل یہ محض ایک ضمنی چیز ہے۔ اصل مقصد سیاسی حاکمیت کا استحکام ہوتا ہے اور اس کےلیےفوق الفطری الوهیت کا دعویٰ محض ایک تدبیر کےطور پر استعمال کیا جاتا ہےاسی لیےمصر میں اور دوسرےجاہلیت پرست ملکوں میں بھی ہمیشہ سیاسی زوال کےساتھ ہی شاہی خاندانوں کی الوہیت بھی ختم ہوتی رہی ہے۔ اور تخت جس جس کے پاس گیا ہے الوہیت بھی اسی کی طرف منتقل ہوتی چلی گئی ہے۔
٣۔ فرعون کا اصلی دعوی فوق الفطری خدائی کا نہیں بلکہ سیاسی خدائی کا تھا۔وہ ربوبیت کےتیسرے چوتھےاور پانچویں معنی کےلحاظ سےکہتا تھا کہ میں سرزمین مصر اور اس کےباشندوں کا رت اعلی (Over-Lord) ہوں۔اس ملک اور اس کےتمام وسائل و ذرایع کا مالک میں ہوں۔یہاں کی حاکمیت مطلقہ کا حق مجھ ہی کو پہنچتا ہے یہاں کے تمدن و اجتماع کی اساس میری ہی مرکزی شخصیت ہے۔ یہاں قانون میرے سوا کسی اور کا نہ چلے گا۔ قرآن کے الفاظ میں اس کےدعوی کی بنیاد یہ تھی:-
٤- حضرت موسیٰ کی دعوت جس پر فرعون اور آل فرعون سے ان کا جھگڑا تھا، دراصل یہ تھی کہ رب العلمین کےسوا کسی معنی میں بھی کوئی دوسرا اللہ اوررب نہیں ہےوہی تنہا فوق الفطری معنی میں بھی اللہ اور رب ہے،اور سیاسی و اجتماعی معنی میں بھی۔پرستش بھی اسی کی ہو، بندگی واطاعت بھی اسی کی،اور پیروی قانون بھی اسی کی۔نیز یہ کہ صریح نشانیوں کےساتھ اس نےمجھے اپنا نمائندہ مقرر کیا ہے،میرے ذریعہ سےوہ اپنےامر و نہی کےاحکام دےگا،لہذا اس کےبندوں کی عنان اقتدار تمہارے ہاتھ میں نہیں،میرےہاتھ میں ہونی چاہیے۔اسی بنا پر فرعون اور اس کے اعیان حکومت بار بار کہتے تھے کہ یہ دونوں بھائی ہمیں زمین سےبےدخل کر کےخود قابض ہونا چاہتےہیں اور ہمارےملک کےنظام مذہب و تمدن کو مٹا کر اپنا نظام قائم کرنے کے درپے ہیں۔
"اور ہم نے ان سے پہلے فرعون کی قوم کو آزمائش میں ڈالا تھا۔ ایک معزز رسول ان کےپاس آیا اور اس نے کہا کہ اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کرو۔ میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں۔ اور اللہ کے مقابلہ میں سرکشی نہ کرو، میں تمہارے سامنے صریح نشان ماموریت پیش کرتا ہوں "۔
"(اے اہل مکہ!) ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے جو تم پر گواہی دینے والا ہے،اسی طرح جیسے ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا۔ پھر فرعون نے اس رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے اسے سختی کے ساتھ پکڑا۔“
"فرعون نےکہا اے موسیٰ (اگر تم نہ دیوتاؤں کو رب مانتےہو نہ شاہی خاندان کو ) تو آخر تمہارا رب کون ہے؟ موسی نے جواب دیا، ہمارا رب وہی ہے جس نے ہر چیز کو اس کی مخصوص ساخت عطا کی پھر اسے اس کے کام کرنے کا طریقہ بتایا۔“
"فرعون نے کہا اور یہ رب العالمین کیا ہے؟ موسیٰ نے جواب دیازمین و آسمان اور ہر اس چیز کا رب جو ان کے درمیان ہے اگر تم یقین کرنے والے ہو۔ فرعون اپنے گردو پیش کے لوگوں سےبولا ، سنتے ہو؟ موسٹی نے کہا تمہارا رب بھی اور تمہارے آباؤ اجداد کا رب بھی۔ فرعون بولا تمہارےیہ رسول صاحب جو تمہارے طرف بھیجےگئےہیں، بالکل ہی پاگل ہیں۔ موسٹی نےکہا مشرق اور مغرب اور ہر اس چیز کا رب جو ان کےدرمیان ہے اگر تم کچھ عقل رکھتے ہو۔ اس پر فرعون بول اٹھا کہ اگر میرے سوا تو نے کسی اور کوالہ بنایا تو میں تجھے قیدیوں میں شامل کر دوں گا۔"
"اور فرعون نے کہا چھوڑو مجھے کہ میں موسی کو قتل کردوں اور وہ اپنے رب کو مدد کے لیے پکارہ دیکھے۔ مجھے خطرہ ہے کہ وہ تمہارے دین کو بدل ڈالے گا یا ملک میں فساد برپا کرے گا۔“
ان تمام آیات کو ترتیب وارد یکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ربوبیت کے باب میں وہی ایک گمراہی جو ابتدا سے دنیا کی مختلف قوموں میں چلی آرہی تھی ارضِ نیل میں بھی ساری ظلمت اسی کی تھی اور وہی ایک دعوت جو ابتدا سے تمام انبیاء دیتے چلے آرہے تھے، موسیٰ و ہارون علیہما السلام بھی اسی کی طرف بلاتے تھے۔
یہود و نصاری: قوم فرعون کے بعد ہمارے سامنے بنی اسرائیل اور وہ دوسری قومیں آتی ہیں جنہوں نےیہودیت اور عیسائیت اختیار کی۔ ان کےمتعلق یہ تو گمان بھی نہیں کیا جا سکتا کہ یہ لوگ اللہ کی ہستی کے منکر ہوں گے یا اس کو الہ اور رب نہ مانتے ہوں گے۔ اس لیے خود قرآن نے ان کے اہل کتاب ہونے کی تصدیق کی ہے پھر سوال یہ ہے کہ ربوبیت کے باب میں ان کے عقیدے اور طرز عمل کی وہ کونسی خاص غلطی ہے جس کی بنا پر قرآن نے ان لوگوں کو گمراہ قرار دیا ہے؟ اس کا مجمل جواب خود قرآن ہی سے ملتا ہے:۔
"کہو اے اہلِ کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو، اور ان قوموں کے فاسد خیالات کی پیروی نہ کرو جو تم سے پہلے گمراہ ہو چکی ہیں، جنہوں نے بہتوں کو گمراہی میں مبتلا کیا اور خود بھی راہِ راست سے بھٹک گئیں۔"
اس سے معلوم ہوا کہ یہودی اور عیسائی قوموں کی گمراہی بھی اصلا اسی نوعیت کی ہے جس میں ان سے پہلےکی قو میں ابتداء سےمبتلا ہوتی چلی آئی ہیں۔ نیز اس سے یہ بھی پتہ چل گیا کہ یہ گمراہی ان کے اندر خلوفی الدین کے راستہ سے آئی ہے۔ اب دیکھیے کہ اس اجمال کی تفصیل قرآن کس طرح کرتا ہے۔
"اور جب اللہ پوچھے گا کہ اے مریم کے بیٹے عیسی ! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کےسوا مجھے اور میری ماں کو بھی اللہ بنالو، تو وہ جواب میں عرض کریں گے کہ سبحان اللہ میری کیا مجال تھی کہ میں وہ بات کہتا کہ جس کے کہنے کا مجھے کوئی حق نہ تھا۔“
کسی انسان کا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ تو اسےکتاب اور حکم اور نبوت سے سرفراز کرے اور پھر وہ لوگوں سےیہ کہےکہ تم اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ، بلکہ وہ تو یہی کہے گا کہ ربانی (خداپرست ) بنو ۔ جس طرح تم خدا کی کتاب میں پڑھتے پڑھاتے ہو اور جس کے درس دیا کرتےہو۔ اور نہ نبی کا یہ کام ہے کہ وہ تم کو یہ حکم دے کہ ملائکہ اور پیغمبروں کو رب بنالو۔ کیا وہ تمہیں کفر کی تعلیم دے گا جبکہ تم مسلمان ہو چکے ہو۔“
ان آیات کی رُو سے اہل کتاب کی پہلی گمراہی یہ تھی کہ جو بزرگ ہستیاں انبیاء اولیا،ملائکه و غیره. دینی حیثیت سے قدر و منزلت کی مستحق تھیں، ان کو انہوں نے ان کے حقیقی مرتبہ سے بڑھا کر خدائی کے مرتبہ میں پہنچا دیا ، کاروبار خداوندی میں انہیں دخیل و شریک ٹھہرایا، ان کی پرستش کی، ان سے دعائیں مانگیں۔ انہیں فوق الفطری ربوبیت اور الوہیت میں حصہ دار سمجھا، اور یہ گمان کیا کہ وہ بخشش اور مددگاری اور نگہبانی کے اختیارات رکھتی ہیں۔
یعنی نظام دینی میں جن لوگوں کی حیثیت صرف یہ تھی کہ خدا کی شریعت کےاحکام بتا ئیں اور خدا کی مرضی کے مطابق اخلاق کی اصلاح کریں، انہیں رفتہ رفتہ یہ حیثیت دے دی که باختیار خود جس چیز کو چاہیں حرام اور جسےچاہیں حلال ٹھہرا دیں اور کتاب الہی کی سند کےبغیر جو حکم چاہیں دیں، جس چیز سےچاہیں منع کر دیں اور جو سنت چاہیں جاری کریں۔اس طرح یہ لوگ انہی دو عظیم الشان بنیادی گمراہیوں میں مبتلا ہو گئےجن میں قوم نوح ، قوم ابراهیم،عاد نمود،اصلِ مدین اور دوسری قو میں مبتلا ہوئی تھیں۔ ان کی طرح انہوں نے بھی فوق الطبیعی ربوبیت میں فرشتوں اور بزرگوں کو اللہ کا شریک بنایا۔اور انہی کی طرح انہوں نےتمدنی و سیاسی ربوبیت اللہ کے بجائےانسانوں کو دی اور اپنے تمدن، معاشرت، اخلاق اور سیاست کے اصول واحکام اللہ کی سند سے بےنیاز ہو کر انسانوں سے لینے شروع کر دیے حتی کہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ :
" کہو! میں تمہیں بتاؤں اللہ کے نزدیک فاسقین سے بھی زیادہ بدتر انجام کس کا ہے؟ وہ جن پر اللہ نے لعنت کی جن پر اُس کا غضب ٹوٹا، جن میں بہت سے لوگ اس کے حکم سے بندر اور سور تک بنائے گئے اور انہوں نے طاغوت کی بندگی کی ، وہ سب سے بدتر درجہ کے لوگ ہیں اور راہِ راست سے بہت زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔“
"جبت" کا لفظ تمام اوہام و خرافات کے لیےجامع لفظ ہے جس میں جادو ٹونے ٹوٹکے،کہانت،فال گیری ، سعد دنس کے تصورات،غیر فطری تاثیرات،غرض جملہ اقسام کے توهمات شامل ہیں۔ اور "طاغوت" سے مراد ہر وہ شخص یا گروہ یا ادارہ ہے جس نے خدا کے مقابلہ میں سرکشی اختیار کی ہو، اور بندگی کی حد سے تجاوز کر کے خداوندی کا علم بند کیا ہو۔ پس یہود و نصاری جب مذکورہ بالا دوقسم کی گمراہیوں میں پڑ گئے تو پہلی قسم کی گمراہی کا نتیجہ یہ ہوا کہ رفتہ رفتہ ہر قسم کے توہمات نے ان کےدلوں اور دماغوں پر قبضہ کر لیا ، اور دوسری گمراهی نے ان کو علماء ومشایخ اور زهاد و صوفیہ کی بندگی سے بڑھا کر ان جباروں اور ظالموں کی بندگی واطاعت تک پہنچا دیا جو کھلم کھلا خدا سےباغی تھے۔
مشرکین عرب: اب دیکھنا چاہیے کہ وہ عرب کے مشرکین جن کی طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے،اور جو قرآن کے اولین مخاطب تھے، اس باب میں ان کی گمراہی کس نوعیت کی تھی۔ کیا وہ اللہ سےنا واقف تھے یا اس کی ہستی کے منکر تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس لیے بھیجے گئے تھے کہ انہیں وجود باری کا معترف بنا ئیں؟ کیا وہ اللہ کو الہ اور رب نہیں مانتے تھے اور قرآن اس لیے نازل ہوا تھا کہ انہیں حق جل شانه کی الهیت و ربوبیت کا قائل کرے؟ کیا انہیں اللہ کی عبادت و پرستش سے انکار تھا؟ یا وہ اللہ کو دعائیں سنےوالا اور حاجتیں پوری کرنے والا نہیں سمجھتے تھے؟ کیا ان کا خیال یہ تھا کہ لات اور منات اور عزتی اور بیل اور دوسرے معبود ہی اصل میں کائنات کے خالق، مالک، رازق،اور مدبر و منتظم ہیں؟یا وہ اپنے ان معبودوں کو قانون کا منبع اور اخلاق و تمدن کےمسائل میں ہدایت ور ہنمائی کا سرچشمه مانتے تھے؟ ان میں سے ایک ایک سوال کا جواب ہم کو قرآن سےنفی کی صورت میں ملتا ہے۔وہ ہمیں بتاتا ہےکہ عرب کے مشرکین نہ صرف یہ کہ اللہ کی ہستی کےقائل تھےبلکہ اسےتمام کائنات کا اور خود اپنے معبودوں تک کا خالق، مالک اور خداوند اعلیٰ مانتے تھے اس کو رب اور الہ تسلیم کرتے تھے۔ مشکلات اور مصائب میں آخری اپیل وہ جس سرکار میں کرتے تھے وہ اللہ ہی کی سرکار تھی۔ انہیں الہ کی عبادت و پرستش سے بھی انکار نہ تھا۔ ان کا عقیدہ اپنے دیوتاؤں اور معبودوں کے بارے میں نہ تو یہ تھا کہ وہ ان کے اور کائنات کے خالق و رازق ہیں اور نہ یہ کہ یہ معبود زندگی کے تمدنی واخلاقی مسائل میں ہدایت ورہنمائی کرتے ہیں۔ چنانچہ ذیل کی آیات اس پر شاہد ہیں:۔
"اے نبی ! ان سےکہو،زمین اور جو کچھ زمین میں ہےوہ کس کی ملک ہے؟ بتاؤ اگر تم جانتےہو؟ وہ کہیں گےکہ اللہ کی ملک ہے۔کہو پھر بھی تم نصیحت قبول نہیں کرتے ۔ کہو، ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا رب کون ہے؟ وہ کہیں گے اللہ ۔ کہو پھر بھی تم نہیں ڈرتے ؟ کبو ہر چیز کے شاہانہ اختیارات کس کے ہاتھ میں ہیں؟ اور وہ کون ہے جو پناہ دیتا ہے مگر اس کے مقابلہ میں پناہ دینے کی طاقت کسی میں نہیں بتاؤ اگر تم جانتے ہو؟ وہ کہیں گے یہ صفت اللہ ہی کی ہے۔ کہو پھر کہاں سے تم کو دھوکا لگتا ہے؟ حق یہ ہے کہ ہم نے صداقت ان کے سامنے پیش کر دی ہے اور یہ لوگ یقیناً جھوٹے ہیں“-
"وہ اللہ ہی ہے جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے حتی کہ جس وقت تم کشتی میں سوار ہو کر باد موافق پر فرحال و شاداں سفر کر رہے ہوتے ہو اور پھر یکا یک بادِ مخالف کا زور ہوتا ہے اور ہر طرف سے موجوں کےتھپیڑےلگتےہیں اور تم سمجھتے ہو کہ طوفان میں گھر گئے اس وقت سب اللہ ہی کو پکارتے ہیں اور اس کے لیے اپنے دین کو خالص کر کے دعائیں مانگتے ہیں کہ اگر تو نے اس بلا سےہم کو بچالیا تو ہم تیرے شکر گزار بندے بنیں گے ، مگر جب وہ ان کو بچا لیتا ہے تو پھر وہی لوگ حق سے منحرف ہو کر زمین میں بغاوت کرنے لگتے ہیں۔“
" کہو، مگر اللہ حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے، پھر بتاؤ کون اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے؟ وہ جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے، یاوہ جو خود ہدایت نہیں پا تا الا یہ کہ اس کی رہنمائی کی جائے ؟ تمہیں کیا ہو گیا ہے، کیسے فیصلے کر رہے ہو؟“
ان تصریحات کے بعد اب یہ سوال حل طلب رہ جاتا ہے کہ ربوبیت کے باب میں ان کی وہ اصل گمراہی کیا تھی جس کی اصلاح کرنےکےلیے اللہ نے اپنے نبی کو بھیجا اور کتاب نازل کی؟ اس سوال کی تحقیق کےلیے جب ہم قرآن میں نظر کرتے ہیں تو ان کے عقائد واعمال میں بھی ہم کو انہی دو بنیادی گمراہیوں کا سراغ ملتا ہے جو قدیم سے تمام گمراہ قوموں میں پائی جاتی رہی ہیں ، یعنی:
ایک طرف فوق الطبیعی ربوبیت والہیت میں وہ اللہ کےساتھ دوسرےانہوں اور ارباب کو شریک ٹھہراتے تھے،اور یہ سمجھتےتھےکہ سلسلہ اسباب پر جو حکومت کارفرما ہےاس کے اختیارات واقتدارات میں کسی نہ کسی طور پر ملائکہ اور بزرگ انسان اور اجرام فلکی وغیرہ بھی دخل رکھتے ہیں اسی اور بنا پر دعا اور استعانت اور مراسم عبودیت میں وہ صرف اللہ کی طرف رجوع نہیں کرتے تھے بلکہ ان بناوٹی خداؤں کی طرف بھی رجوع کیا کرتے تھے۔
دوسری طرف تمدنی وسیاسی ربوبیت کے باب میں ان کا ذہن اس تصور سے بالکل خالی تھا کہ اللہ اس معنی میں بھی رب ہے، اس معنی میں وہ اپنے مذہبی پیشواؤں، اپنے سرداروں اور اپنےخاندان کے بزرگوں کو رب بنائے ہوئے تھے اور انہی سے اپنی زندگی کے قوانین لیتے تھے۔
"انسانوں میں سےکوئی ایسا بھی ہےجو خدا پرستی کی سرحد پر کھڑا ہو کر اللہ کی عبادت کرت ہے۔ فائدہ ہوا تو مطمئن ہو گیا اور جو کوئی تکلیف پہنچ گئی تو الٹا پھر گیا۔یہ شخص دنیا اور آخرت دونوں میں خسارہ اٹھانے والا ہے۔ وہ اللہ سے پھر کر ان کو پکارنے لگتا ہے جو نہ اسے نقصان پہنچانے کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ فائدہ پہنچانے کی۔ یہی بڑی گمراہی ہے۔ وہ مدد کے لیے ان کو پکارتا ہےجنہیں پکارنے کا نقصان بہ نسبت نفع کے زیادہ قریب ہے کیا بر امولی ہے اور کیسا بر اساتھی ہے۔“
"یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہیں جو نہ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان اور کہتے ہیں کہ وہ اللہ کےحضور ہمارےسفارشی ہیں،کہو (اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ) کیا تم اللہ کو اس بات کی خبر دیتے ہو جو اس کے علم میں نہ آسمانوں میں ہے نہ زمین(١) میں؟ اللہ پاک ہے اس شرک سے جو یہ کرتے ہیں۔
"کہو، کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہارے لیے نقصان کا کچھ اختیاررکھتے ہیں نہ فائدے کا ؟ حالا کہ سننے اور جاننے والا تو اللہ ہی ہے۔“
"اور جب انسان پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو یکسو ہوکر اپنےرب ہی کو پکارتا ہےمگر جب وہ اپنی نعمت سے اس کو سرفراز کرتا ہے تو یہ اس مصیبت کو بھول جاتا ہے جس میں مدد کے لیے اس سے پہلے اللہ کو پکار رہا تھا اور اللہ کے ہمسر ٹھہرانے لگتا ہے(١)۔ تاکہ یہ حرکت اسے اللہ کے راستہ سے بھٹکا دے۔“
"تمہیں جو نعمت بھی حاصل ہے اللہ کی بخشش سے حاصل ہے۔ جب تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو اللہ ہی کی طرف فریاد لے کر تم جاتے ہو، مگر جب وہ اس مصیبت کو تم پر سے ٹال دیتا ہے تو تم میں سے کچھ لوگ ہیں جو (اس مشکل کشائی میں ) دوسروں کو شریک ٹھہرانے لگتے ہیں تا کہ ہمارےاحسان کا جواب احسان فراموشی سے دیں۔ اچھا مزے کر لو۔ عنقریب تمہیں اس کا انجام معلوم ہو جائے گا۔ یہ لوگ جن کو نہیں جانتے ان کے لیے ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے حصے(١) مقرر کرتے ہیں۔ خدا کی قسم جو افتراء پردازیاں تم کرتے ہو ان کی باز پرس تم سے هوکر رہے گی۔“
(بقیہ حواشی گزشتہ صفحہ) جو سفارش یہ مجھ سے کر دیں وہ بس قبول ہو کر رہتی ہے، اور اس لیے تم ان کے آستانوں پر پیشانیاں رگڑتے اور نذریں چڑھاتے ہو۔ مگر میں تو آسمانوں اور زمین کسی ایسی ہستی کو نہیں جانتا جو میرے دربار میں اتنی زور آور ہو یا مجھے ایسی محبوب ہو کہ میں اس کی سفارش قبول کرنے پر مجبور ہو جاؤں پھر کیا تم مجھے ان سفارشیوں کی خبر دے رہے ہو جنہیں میں خود نہیں جانتا؟ ظاہر ہے کسی چیز کا اللہ کےعلم میں نہ ہوتا یہ معنی رکھتا ہے کہ اس چیز کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے
"اور اسی طرح بہت سےمشرکین کےلیےان کے بنائے ہوئے شریکوں نے اپنی اولاد کا قتل پسندیدہ بنا دیا تا کہ انہیں ہلاکت میں مبتلا کریں اور ان کے دین کو ان کے لیےمشتبہ بنا دیں۔
ظاہر ہےکہ یہاں "شریکوں" سے مراد بت اور دیوتا نہیں ہیں بلکہ وہ پیشوا اور رہنما ہیں جنہوں نے قتل اولاد کو اہلِ عرب کی نگاہ میں ایک بھلائی اور خوبی کا کام بنایا اور حضرت ابراہیم و اسماعیل کے دین میں اس رسم قبیح کی آمیزش کر دی۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ خدا کے "شریک" اس معنی میں قرار نہیں دیے گئے تھے کہ اہلِ عرب ان کو سلسلہ اسباب پر حکمران سمجھتےتھےیا ان کی پرستش کرتے اور ان سےدعائیں مانگتےتھے، بلکه ان کو ربوبیت والہیت میں شریک اس لحاظ سےٹھہرایا گیا تھا کہ اہل عرب ان کے اس حق کو تسلیم کرتے تھے کہ تمدنی و معاشرتی مسائل اور اخلاقی و مذہبی امور میں وہ جیسے چاہیں قوانین مقرر کر دیں۔
لفظ "دین" کی تشریح آگے چل کر بیان ہوگی اور وہیں اس آیت کے مفہوم کی وسعت بھی پوری طرح واضح ہو سکے گی لیکن یہاں کم از کم یہ بات تو صاف معلوم ہو جاتی ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر ان کے پیشواؤں اور سرداروں کا ایسے ضابطے اور قاعدے مقرر کرنا جو دین کی نوعیت رکھتے ہوں اور اھلِ عرب کا ان ضابطوں اور قاعدوں کو واجب التقلید مان لینا یہی ربوبیت والہیت میں ان کا خدا کے ساتھ شریک بنا اور یہی اہلِ عرب کا ان کی شرکت کو تسلیم کر لینا تھا۔
١- یعنی جن کے متعلق انہیں ہرگز کسی ذریعہ علم سے یہ تحقیق نہیں ہوا ہے کہ مصیبت کے ٹالنےوالے اور مشکل کو آسان کرنے والے وہ تھے،ان کے لیے شکرانے کے طور پر چڑھاوے اور نذریں اور نیازیں نکالتے ہیں اور لطف یہ ہے کہ ہمارے دیےہوئے رزق سے نکالتے ہیں۔
قرآن کی دعوت : گمراہ قوموں کےتخیلات کی یہ تحقیق جو پچھلےصفحات میں کی گئی ہےاس حقیقت کو بالکل بےنقاب کر دیتی ہے کہ قدیم ترین زمانہ سے لے کر زمانہ نزول قرآن تک جتنی قوموں کا ذکر قرآن نے ظالم، فاسد العقیدہ اور بد راہ ہونے کی حیثیت سے کیا ہے،ان میں سے کوئی بھی خدا کی بستی کی منکر نہ تھی،نہ کسی کو اللہ کے مطلقا رب اور الہ ہونے سے انکار تھا،البتہ ان سب کی اصل گمراہی اورمشترک گمراہی یہ تھی کہ انہوں نےربوبیت کےاُن پانچ مفہومات کو جو ہم ابتداء میں لغت اور قرآن کی شہادتوں سے متعین کر چکے ہیں، دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔
رب کا یہ مفہوم کہ وہ فوق الفطری طور پر مخلوقات کی پرورش خبرگیری ، حاجت روائی اور نگهبانی کا کفیل ہوتا ہے، ان کی نگاہ میں ایک الگ نوعیت رکھتا تھا، اور اس مفہوم کے اعتبار سے وہ اگر چہ رب اعلیٰ تو اللہ ہی کو مانتے تھے،مگر اس کےساتھ فرشتوں اور دیوتاؤں کو ، جنوں کو، غیر مرئی قوتوں کو،ستاروں اور سیاروں کو ، انبیاء اور اولیا اور روحانی پیشواؤں کو بھی ربوبیت میں شریک ٹھہراتے تھے۔
اور رب کا یہ مفہوم کہ وہ امر و نہی کا متحار، اقتدار اعلیٰ کا مالک ، هدایت ورهنمائی کا منبع ، قانون کا ماخذ مملکت کا رئیس اور اجتماع کا مرکز ہوتا ہےان کے نزدیک بالکل ہی ایک دوسری حیثیت رکھتا تھا، اور اس مفہوم کے اعتبار سے وہ یا تو اللہ کے بجائے صرف انسانوں کو رب مانتے تھے یا نظریے کی حد تک اللہ کو رب ماننے کے بعد عملاً انسانوں کی اخلاقی و تمدنی اور سیاسی ربوبیت کےآگے سر اطاعت خم کیے دیتے تھے۔
اسی گمراہی کو دور کرنے کے لیے ابتداء سے انبیاء علیہم السلام آتے رہے ہیں اور اسی کےلیے آخر کار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی۔ ان سب کی دعوت یہ تھی کہ ان تمام مفهومات کےاعتبار سے رب ایک ہی ہے اور وہ اللہ جل شانہ ہے۔ ربوبیت نا قابل تقسیم ہے۔ اس کا کوئی جزء کسی معنی میں بھی کسی دوسرے کو حاصل نہیں ہے۔ کائنات کا نظام ایک کامل مرکزی نظام ہے جس کو ایک ہی خدا نے پیدا کیا۔ جس پر ایک خدا فرماں روائی کر رہا ہے، جس کے سارے اختیارات واقتدارات کا مالک ہی خدا ہے۔ نہ اس نظام کے پیدا کرنے میں کسی دوسرے کا کچھ دخل ہے، نہ اس کی تدبیر و انتظام میں کوئی شریک ہے، اور نہ اس کی فرماں روائی میں کوئی حصہ دار ہے۔ مرکزی اقتدار کا مالک ہونے کی حیثیت سے وہی اکیلا خدا تمہارا فوق الفطری رب بھی ہے اور اخلاقی و تمدنی اور سیاسی رب بھی۔ وہی تمہارا معبود ہے۔ وہی تمہارے سجدوں اور رکوعوں کا مرجع ہے۔ وہی تمہاری دعاؤں کا ملجا و ماوی ہے۔ وہی تمہارے تو کل و اعتماد کا سہارا ہے۔ وہی تمہاری ضرورتوں کا کفیل ہے۔ اور اسی طرح وہی بادشاہ ہے۔ وہی مالک الملک ہے۔وہی شارع و قانون ساز اور امر ونہی کا مختار بھی ہے۔ ربوبیت کی یہ دونوں حیثیتیں جن کو جاہلیت کی وجہ سے تم نے ایک دوسرےسے الگ ٹھہرالیا ہے، حقیقت میں خدائی لازمہ اور خدا کے خدا ہونے کا خاصہ ہیں۔ انہیں نہ ایک دوسرے سے منفک کیا جاسکتا ہے، اور نہ ان میں سے کسی حیثیت میں بھی مخلوقات کو خدا کا شریک ٹھہر نا درست ہے۔
"حقیقت میں تمہارا رب تو اللہ ہے جس نے آسمان وزمین کو چھ دن میں پیدا کیا اور پھر اپنے تخت سلطنت پر جلوہ افروز ہو گیا، جو دن کو رات کا لباس اڑھاتا ہے اور پھر رات کے تعاقب میں دن تیزی کے ساتھ دوڑ آتا ہے، سورج اور چاند اور تارے سب کے سب جس کے تابع فرماں ہیں۔ سنو ! خلق اسی کی ہے اور فرماں روائی بھی اسی کی ۔ بڑا بابرکت ہے وہ کائنات کا رب ۔
"ان سے پوچھو، کون تم کو آسمان وزمین سے رزق دیتا ہے؟ کانوں کی شنوائی اور آنکھوں کی بینائی کس کے قبضہ واختیار میں ہے؟ کون ہے جو بے جان کو جاندار میں سے اور جاندار کو بے جان میں سے نکالتا ہے؟ اور کون اس کارگاہ عالم کا انتظام چلا رہا ہے؟ وہ ضرور کہیں گے اللہ ، کہو، پھر تم ڈرتے نہیں ہو؟ جب یہ سارے کام اس کے ہیں تو تمہارا حقیقی رب اللہ ہی ہے۔ حقیقت کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا رہ جاتا ہے؟ آخر کہاں سےتمہیں یہ ٹھوکر لگتی ہے کہ حقیقت سے پھرے جاتے ہو؟“
"اس نے زمین و آسمان کو برحق پیدا کیا ہے۔ رات کو دن پر اور دن کو رات پر وہی لپیٹتا ہے۔ چاند اور سورج کو اس نے ایسے ضابطے کا پابند بنایا ہے کہ ہر ایک اپنے مقررہ وقت تک چلے جا رہا ہے۔ یہی اللہ تمہارا رب ہے۔ بادشاہی اسی کی ہے۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ۔ آخر یہ تم کہاں سے ٹھو کر کھا کر پھرے جاتے ہو؟“
الله الّذِي جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ لِتَسْكُنُوا فِيهِ وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا ذَالِكُمُ الله رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلَّ شَيْ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، فَانَّى تُؤْفَكُونَ اللهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فَرَارًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَصَوَّرَكُمْ فَاحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّب ذلِكُمُ اللهُ رَبُّكُمْ فَتَرَكَ اللهُ رَبُّ العلمين هُوَ الْحَيُّ لا إله إِلَّا هُوَ فَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ. (المومن: ۶۱-۶۵)
"اللہ جس نے تمہارے لیے رات بنائی کہ اس میں تم سکون حاصل کرو ۔ اور دن کو روشن کیا۔ وہی تمہارا اللہ تمہارا رب ہے، ہر چیز کا خالق کوئی اور معبود اس کے سوا نہیں، پھر یہ کہاں سے دھوکا کھا کر تم بھٹک جاتے ہو؟ اللہ جس نے تمہارے لیے زمین کو جائے قرار بنایا، آسمان کی چھت تم پر چھائی تمہاری صورتیں بنا ئیں اور خوب ہی صورتیں بنا ئیں، اور تمہاری غذا کے لیےپاکیزہ چیزیں مہیا کیں، وہی اللہ تمہارا رب ہے، بڑا یا برکت ہے وہ کائنات کا رب۔ وہی زندہ ہے۔ کوئی اور معبود اس کے سوا نہیں۔ اس کو تم پکارو اپنے دین کو اس کے لیے خالص کر کے ۔“
وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ مِنْ تُرَاب..... يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيَوْلِجُ النَّهَارِ فِي اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَكُلُّ يُجْرِى لَاَجَلٍ مُسَمًّى ذَالِكُمُ الله رَبُّكُمُ لَهُ المُلكوَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ ، إِنْ تَدْعُوهُ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَ كُمُ وَلَوْ سَمِعُوا مَاسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيمَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ. (فاطر :۱۴۱۳)
"اللہ نے تم کو مٹی سے پیدا کیا وہ رات کو دن میں پرو دیتا ہے اور دن کو رات میں، اس نے چاند اور سورج کو ایسے ضابطہ کا پابند بنایا ہے کہ ہر ایک اپنے مقرر وقت تک چلے جا رہا ہے۔یہی اللہ تمہارا رب ہے۔ بادشاہی اسی کی ہے۔ اس کے سوا جن دوسری ہستیوں کو تم پکارتے ہو ان کے ہاتھ میں ایک ذرہ کا اختیار بھی نہیں ہے۔ تم پکارو تو وہ تمہاری پکاریں سن نہیں سکتے ، اور سن بھی لیں تو تمہاری درخواست کا جواب دینا اس کے بس میں نہیں۔ تم جو انہیں شریک خدا بناتے ہواس کی تردید وہ خود قیامت کے دن کر دیں گے۔“
"آسمانوں کےرہنےوالےہوں یا زمین کے،سب اس کےغلام اور اس کے تابع فرمان ہیں اللہ خود تمہاری اپنی ذات سے ایک مثال تمہارے سامنے بیان کرتا۔ کیا تمہارے غلاموں میں سے کوئی اُن چیزوں کی ملکیت میں تمہارا شریک ہوتا ہےجو ہم نے تمہیں بخشی ہیں؟ کیا ان چیزوں کے اختیارات و تصرفات میں تم اور تمہارے غلام مساوی ہوتے ہیں؟ کیا تم ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح اپنے برابر والوں سے ڈرا کرتے ہو؟ جولوگ عقل سے کام لینے والے ہیں ان کے لیے تو ہم حقیقت تک پہنچا دینے والی دلیلیں اس طرح کھول کر بیان کر دیتے ہیں مگر ظالم لوگ علم کے بغیر اپنے بے بنیاد خیالات کے پیچھے چلے جارہے ہیں لہذا تم بالکل یکسو ہو کر حقیقی دین کے راستہ پر اپنے آپ کو ثابت قدم کر دو اللہ کی فطرت پر قائم ہو جاؤ۔ جس پر اس نےسب انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی خلقت کو بدلا نہ جائے۔ یہی ٹھیک سیدھا طریقہ ہے، مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔“
"کہو ، اے اہل کتاب آؤ اس بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے یہ کہ ہم نہ تو اللہ کے سوا کسی کی بندگی کریں، نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک قرار دیں اور نہ ہم میں سےکوئی انسان کسی دوسرے انسان کو اللہ کے سوا اپنا رب بنائے ۔“
ان آیات کو سلسلہ وار پڑھنے سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ قرآن ربوبیت کو بالکل حاکمیت اور سلطانی (Sovcreignty) کا ہم معنی قرار دیتا ہے اور رب کا یہ تصور ہمارےسامنے پیش کرتا ہے کہ وہ کائنات کا سلطان مطلق اور لاشریک مالک و حاکم ہے۔
اسی حیثیت سے اس کی وفاداری وہ قدرتی بنیاد ہے جس پر ہماری اجتماعی زندگی کی عمارت صحیح طور پر قائم ہوتی ہے۔ اور اس کی مرکزی شخصیت سے وابستگی تمام متفرق افراد اور گروہوں کےدرمیان ایک امت کا رشتہ پیدا کرتی ہے۔
اہل عرب اور دنیا کے تمام جاہل لوگ ہر زمانہ میں اس غلطی میں مبتلا تھے اور اب تک ہیں کہ ربوبیت کے اس جامع تصور کو انہوں نے پانچ مختلف النوع ربوبیتوں میں تقسیم کر دیا۔ اور اپنےقیاس و گمان سے یہ رائے قائم کی کہ مختلف قسم کی ربو میتیں مختلف ہستیوں سے متعلق ہو سکتی ہیں اور متعلق میں قرآن اپنے طاقتور استدلال سے ثابت کرتا ہے کہ کائنات کے اس مکمل مرکزی نظام میں اس بات کی مطلق گنجائش نہیں ہے کہ اقتدار اعلیٰ جس کے ہاتھ میں ہے اس کے سوار بو بیت کا کوئی کام کسی دوسری ہستی سے کسی درجہ میں بھی متعلق ہو۔ اس نظام کی مرکزیت خود گواہ ہے کہ ہر طرح کی ربوبیت اُس خدا کے لیے مختص ہے جو اس نظام کو وجود میں لایا ۔ لہذا جو شخص اس نظام کےاندر رہتے ہوئے ربوبیت کا کوئی جزء کسی معنی میں بھی خدا کے سوا کسی اور سے متعلق سمجھتا ہے یا متعلق کرتا ہے، وہ دراصل حقیقت سے لڑتا ہے ، صداقت سے منہ موڑتا ہے، حق کے خلاف بغاوت کرتا ہے اور امر واقعی کے خلاف کام کر کے اپنے آپ کو خود نقصان اور ہلاکت میں مبتلا کرتا ہے۔
| کتاب | قرآن کی چار بنیادی اصطلا حیں |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |