عبادت لغوی تحقیق: عربی زبان میں عبودة ، عبودیہ اور عبدیہ کے اصل معنی خضوع اور تذلیل کے ہیں۔ یعنی تابع ہو جاتا ، رام ہو جاتا، کسی کے سامنے اس طرح سپر ڈال دینا کہ اس کے مقابلہ میں کوئی مزاحمت یا انحراف وسرتابی نہ ہو، اور وہ اپنے منشا کے مطابق جس طرح چاہے خدمت لے۔ اسی اعتبار سے اصل عرب اُس اونٹ کو بغیر معبد کہتے ہیں جو سواری کے لیے پوری طرح رام ہو چکا ہو، اور اس راستے کو طریق معبد جو کثرت سے پامال ہو کر ہموار ہو گیا ہو۔ پھر اسی اصل سے اس مادہ میں غلامی، اطاعت ہو جا، ملازمت اور قید یا رکاوٹ کے مفہومات پیدا ہوئے ہیں۔ چنانچہ عربی لغت کی سب سے بڑی کتاب "السان العرب میں اس کی جو تشریح کی گئی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے:
1- العبد المملوک، خلاف الحُر . عبدوہ ہے جو کسی کی ملک ہو اور یہ لفظ 7 ( آزاد ) کی ضد ہے۔ تعبد الرجل " آدمی کو غلام بنا لیا اس کے ساتھ غلام جیسا معاملہ کیا۔ یہی معنی عَبَّدَهُ، أَعْبَدَ اور اعتبَدَہ کے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے۔ ثَلقَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ، رَجُلٌ اعْتَبَدَ مُحرّرًا، وفي رواية اعبد محررًا) تین آدمی ہیں جن کے خلاف قیامت کے دن میں مستغیث بنوں گا۔ من جملہ ان کے ایک وہ شخص ہے جو کسی آزاد کو غلام بنانے یا غلام کو آزاد کرنے کے بعد پھر اس سے غلام کا سا معاملہ کرے۔ حضرت موسیٰ نے فرعون سے کہا تھا: وَتِلْكَ نِعُمَّةٌ تَمُتُهَا عَلَيَّ اَنْ عَبَّدُكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ ” اور تیرا وہ احسان جس کا طعنہ تو مجھے دے رہا ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنالیا ۔“
2-العبادَةُ الطَّاعَةُ مَعَ الخُضُوع ” عبادت اس طاعت کو کہتے ہیں، جو پوری فرماں برداری کے ساتھ ہو ۔ عَبَدَ الطَّاغُوتَ أَى أَطَاعَهُ، ” طاغوت کی عبادت کی ، یعنی اس کا فرماں بردار ہو گیا۔ إِيَّاكَ نَعْبُدُ، أَى نُطِيعُ الطَّاعَةَ الَّتِي يَخْضَعُ مَعَهَا "ہم تیری عبادت کرتے ہیں یعنی ہم تیری اطاعت پوری فرمانبرداری کے ساتھ کرتے ہیں۔“ اَعْبُدُوا رَبَّكُمُ اى أَطِيعُوا رَبَّكُمُ اپنے رب کی عبادت کرو، یعنی اس کی اطاعت کرو۔ قَوْمُهُمَا لَنَا عَابِدُونَ اى دَائِنُونَ وكل من دان لملك فهو عابد له وقال ابن الانبارى فلان عابد وهو الخاضع لربه المستسلم المنقاد لامرہ یعنی فرعون نے جو یہ کہا تھا کہ موسی اور ہارون کی قوم ہماری عابد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہماری تابع فرمان ہے۔ جو شخص کسی بادشاہ کا مطیع ہے وہ آپ کا عابد ہے۔ اور ابن الانباری کہتا ہے فلان عابد کے معنی ہیں " وہ اپنے مالک کا فرمانبردار اور اس کے علم کا مطیع ہے۔
3- عبده عبادة ومعبدًا ومعبدة تألَّعه له، ” اس کی عبادت کی یعنی اس کی پوجا کی۔“ التعبد التنسك تعبد سے مراد ہے کسی کا پرستار اور پجاری بن جانا۔ شاعر کہتا ہے ارى المال عند الباخلين معبدًا. ” میں دیکھتا ہوں کہ بخیلوں کے ہاں روپیہ بچتا ہے۔“
4- عبده وعبد به لزمة فلم يفارقه ، عَبَدَهُ اور عَبَدَبِہ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کے ساتھ وابستہ ہو گیا اور جدا نہ ہوا، اس کا دامن تھام لیا اور چھوڑ نہیں “۔
5-ماعبدک عنی ای ما حبسک. جب کوئی شخص کسی کے پاس آنے سے رک جائے تو وہ یوں کہے گا کہ ما عبدک عنی یعنی کس چیز نے تجھے میرے پاس آنے سے روک دیا۔“
اس تشریح سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مادہ عبد کا اساسی مفہوم کسی کی بالا دستی و برتری تسلیم کر کے اس کے مقابلہ میں اپنی آزادی و خود مختاری سے دست بردار ہو جانا ، سرتابی و مزاحمت چھوڑ دینا اور اس کے لیے رام ہو جاتا ہے یہی حقیقت بندگی و غلامی کی ہے۔ لہذا اس لفظ سے اولین تصور جو ایک عرب کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے وہ بندگی و غلامی (1)ہی کا تصور ہے۔ پھر چونکہ غلام کا اصلی کام اپنے آقا کی اطاعت و فرمانبرداری ہے، اس لیے لازما اس کے ساتھ ہی اطاعت (2)کا تصور پیدا ہوتا ہے۔ اور جب کہ ایک غلام اپنے آقا کی بندگی واطاعت میں محض اپنے آپ کو سپرد ہی نہ کر چکا ہو بلکہ اعتقاد ا اس کی برتری کا قائل اور اس کی بزرگی کا معترف بھی ہو، اور اس کی مہربانیوں پر شکر و احسان مندی کے جذبہ سے بھی سرشار ہو، تو وہ اس کی تعظیم و تکریم میں مبالغہ کرتا ہے، مختلف طریقوں سے اعتراف نعمت کا اظہار کرتا ہے اور طرح طرح سے مراسم بندگی بجالاتا ہے۔ اس کا نام پرستش (3)ہے اور یہ تصور عبدیت کے مفہوم میں صرف اس وقت شامل ہوتا ہے جبکہ غلام کا محض سری آقا کے سامنے جھکا ہوا نہ ہو بلکہ اس کا دل بھی جھکا ہوا ہو ۔ رہے باقی دو تصورات تو وہ دراصل وہ دراصل عبدیت کے ضمنی تصورات ہیں، اصلی اور بنیادی نہیں ہیں۔
لفظ عبادت کا استعمال قرآن میں : اس اغوی تحقیق کے بعد جب ہم قرآن کی طرف رجوع کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس کتاب پاک میں یہ لفظ تمام تر پہلے تین معنوں میں استعمال ہوا ہے کہیں معنی اول و دوم ایک ساتھ مراد ہیں کہیں معنی دوم اور کہیں صرف معنی کسوم مراد لیے گئے ہیں، اور کہیں تینوں معنی بیک وقت مقصود ہیں۔
عبادت بمعنی غلامی واطاعت: پہلے اور دوسرے معنی کی مثالیں حسب ذیل ہیں:۔ ثُمَّ أَرْسَلْنَا مُوسَى وَأَخَاهُ هَرُونَ بِايْتِنَا وَسُلْطَنٍ مُّبِينٍ. إِلَى فِرْعَوْنَ وَمَلَائِهِ فَاسْتَكْبَرُوا وَكَانُوا قَوْمًا عَالِيْنَ، فَقَالُوا أَنُؤْمِنُ لِبَشَرَيْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُهُمَا لَنَا عَابِدُونَ. (مومنون: ۴۵-۴۷)
پھر ہم نے موسی اور اس کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور صریح دلیل ماموریت کے ساتھ فرعون اور اس کے اعیان سلطنت کی طرف بھیجا۔ مگر وہ تکبر سے پیش آئے ، کیونکہ وہ با اقتدار لوگ تھے۔ انہوں نے کہا کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں کا کہا مان لیں اور آدمی بھی وہ جن کی قوم ہماری عابد ہے،،۔
دونوں آیتوں میں عبادت سے مراد غلامی اور اطاعت وفرماں برداری ہے۔ فرعون نے کہا موسی اور ہارون کی قوم ہماری عابد ہے، یعنی ہماری غلام ہے اور ہمارے فرمان کی تابع ہے۔ اور حضرت موسی نے کہا کہ تو نے بنی اسرائیل کو اپنا عبد بنالیا ہے، یعنی ان کو غلام بنالیا ہے اور ان سے من مانی خدمت لیتا ہے۔
اس آیت کا موقع محل یہ ہے کہ اسلام سے پہلے عرب کے لوگ اپنے مذہبی پیشواؤں کےاحکام اور اپنے آباؤ اجداد کے اوہام کی پیروی میں کھانے پینے کی چیزوں کے متعلق طرح طرح کی قیود کی پابندی کرتے تھے۔ جب ان لوگوں نے اسلام قبول کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم ہماری عبادت کرتے ہو، تو ان ساری پابندیوں کو ختم کرو اور جو کچھ ہم نے حلال کیا ہے اسے حلال سمجھ کر بے تکلف کھاؤ پیو ۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اگر تم اپنے پنڈتوں اور بزرگوں کے نہیں بلکہ ہمارے بندے ہو، اور اگر تم نے واقعی ان کی اطاعت و فرمانبرداری چھوڑ کر ہماری اطاعت و فرمانبرداری قبول کی ہے تو اب تمہیں حلت و حرمت اور جواز و عدم جواز کے معاملہ میں ان کے بنائے ہوئے ضابطوں کے بجائے ہمارے ضابطہ کی پیروی کرنی ہوگی۔ لہذا یہاں بھی عبادت کا لفظ غلامی اور اطاعت ہی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
تینوں آیتوں میں طاغوت کی عبادت سے مراد طاغوت کی غلامی اور اطاعت ہے، جیسا کہ اس سے پہلے ہم اشارہ کر چکے ہیں، قرآن کی اصطلاح میں طاغوت سے مراد ہر وہ ریاست واقتدار اور ہر وہ رہنمائی و پیشوائی ہے جو خدا سے باغی ہو کر خدا کی زمیں میں اپنا حکم چلائے اور اکھی کے بندوں کو زور و جبر سے یا تحریص و اطماع سے یا گمراہ کن تعلیمات سے اپنے تابع امر بنائے۔ایسے ہر اقتدار اور ایسی ہر پیشوائی کے آگے سر تسلیم خم کرنا اور اس کی بندگی اختیار کر کے اس کا حکم بجا لانا طانخوت کی عبادت ہے۔
عبادت بمعنی اطاعت : اب ان آیات کو لیجیے جن میں عبادت کا لفظ صرف معنی دوم میں استعمال ہوا ہے۔
ظاہر ہے کہ شیطان کی پرستش تو دنیا میں کوئی بھی نہیں کرتا۔ بلکہ ہر طرف سے اس پر لعنت اور پھٹکار ہی پڑتی ہے۔ لہذا بنی آدم پر جو فرد جرم اللہ تعالی کی طرف سے قیامت کے روز لگائی جائے گی ، وہ اس بات کی نہ ہوگی کہ انہوں نے شیطان کی پوجا کی بلکہ اس بات کی ہوگی کہ وہ شیطان کے کہنے پر چلے اور اس کے احکام کی اطاعت کی اور جس جس راستہ کی طرف وہ اشارہ کرتا گیا اس پر دوڑے چلے گئے۔
" (جب قیامت برپا ہوگی تو اللہ فرمائے گا) تمام ظالموں اور ان کے ساتھیوں کو اور معبودان غیر اللہ کو جن کی وہ عبادت کرتے تھے جمع کرو اور انہیں جہنم کا راستہ دکھاؤ پھر وہ آپس میں ایک دوسرے سے رڈو کہ کرنے لگیں گے۔ عبادت کرنے والے کہیں گے کہ تم وہی لوگ تو ہو جو خبر کی راہ سے ہمارے پاس آتے تھے۔ ان کے معبود جواب دیں گے کہ اصل میں تم خود ایمان لانے پر تیار نہ تھے ہمارا کوئی زور تم پر نہ تھا۔ تم آپ ہی نا فرمان لوگ تھے۔“
اس آیت میں عابدوں اور معبودوں کے درمیان جو سوال و جواب نقل کیا گیا ہے اس پر غور کرنے سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ یہاں معبودوں سے مراد یت اور دیوتا نہیں ہیں جن کی پوجا کی جاتی تھی، بلکہ وہ پیشوا اور رہنما ہیں جنہوں نے سجادوں اور تسبیحوں اور جنتوں اور گلیموں سے بندگان خدا کو دھوکا دے دے کر اپنا معتقد بنایا جنہوں نے اصلاح اور خیر خواہی کے دعوے کر کے کر کے شر اور فساد پھیلائے۔ ایسے لوگوں کی اندھی تقلید اور ان کے احکام کی بے چون و چرا اطاعت کرنے ہی کو یہاں عبادت سے تعبیر کیا گیا ہے۔
یہاں علماء اور مشائخ کو رب بنا کر عبادت کرنے سے مراد ان کو امر و نہی کا مختار اور خدا و پیغمبر کی سند کے بغیر ان کے احکام کی اطاعت بجالانا ہے۔ اسی معنی کی تصریح روایات صحیحہ میں خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادی ہے۔ جب آپ سے عرض کیا گیا کہ ہم نے علماء اور مشائخ کی پرستش تو کبھی نہیں کی۔ تو آپ نے جواب دیا کہ جس چیز کو انہوں نے حلال ٹھہرایا، کیا تم نے اسے حلال نہیں سمجھ لیا؟ اور جسے انہوں نے حرام قرار دیا کیا تم نے اسے حرام نہیں بنالیا ؟۔
عبادت بمعنی پرستش; اب تیسرے معنی کی آیات کو لیجئے۔ اس سلسلہ میں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ قرآن کی رو سے عبادت بمعنی پرستش میں دو چیزیں شامل ہیں۔
ایک یہ کہ کسی کے لیے سجدہ ورکوع اور دست بستہ قیام اور طواف اور آستانہ بوی اور نذرونیاز اور قربانی وغیرہ کے وہ مراسم ادا کیے جائیں جو بالعموم پرستش کی غرض سے ادا کیے جاتے ہیں قطع نظر اس سے کہ اسے مستقل بالذات معبود سمجھا جائے یا بڑے معبود کے ہاں تقرب اور سفارش کا ذریعہ سمجھ کر ایسے کیا جائے، یا بڑے معبود کے ماتحت خدائی کے انتظام میں شریک سمجھتے ہوئے یہ حرکت کی جائے۔
"(ابراہیم نے کہا ) میں تم کو اور اللہ کے ماسوا جنہیں تم پکارتے ہو ، ان سب کو چھوڑتا ہوں۔ اور اپنے رب کو پکارتا ہوں پس جب وہ ان سے اور ان کے سوا جن کی وہ عبادت کرتے تھے۔ ان سب سے الگ ہو گیا تو ہم نے اسے اسحاق جیسا بیٹا دیا - - -"
"اور اس سے زیادہ بہکا ہوا انسان اور کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر انہیں پکارے جو قیامت تک اُس کی پکار کا جواب نہیں دے سکتے ، جنہیں خبر تک نہیں کہ ان کو پکارا جا رہا ہے۔ اور جو روز حشر میں ( جب کہ لوگ جمع کیے جائیں گے ) اپنے ان پکارنے والوں کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت کا انکار کریں گے۔“۔
اس سے معلوم ہوا کہ جوں کی عبادت سے مراد ان کی پناہ ڈھونڈنا ہے اور خطرات ونقصانات کے مقابلہ میں ان سے حفاظت طلب کرنا ہے اور ان پر ایمان لانے سے مراد ان کے متعلق یہ اعتقاد رکھنا ہے کہ وہ پناہ دینے اور حفاظت کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔
“جس روز اللہ ان کو اور ان کے معبودوں کو جمع کرے گا جن کی یہ خدا کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے تو وہ ان سے پوچھے گا کہ میرے ان بندوں کو تم نے بہکایا تھایا خود راہ راست سے بہک گئے؟ وہ عرض کریں گے سبحان اللہ ! ہم کو کب زیبا تھا کہ حضور کو چھوڑ کر کسی کو ولی ورفیق بنا ئیں ۔“
یہاں انداز بیان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ معبودوں سے مراد اولیاء اور صلحاء ہیں اور ان کی عبادت سے مراد ان کو بندگی کی صفات سے بالاتر اور خدائی کی صفات سے متصف سمجھنا، ان کو غیبی امداد اور مشکل کشائی و فریا دری پر قادر خیال کرنا اور ان کے لیے تعظیم کے وہ مراسم ادا کرنا جو پرستش کی حد تک پہنچے ہوئے ہوں۔
یہاں فرشتوں کی عبادت سے مراد ان کی پرستش ہے جو ان کے استھان اور بیکل اور خیالی مجسمے بنا کر کی جاتی تھی اور اس پو جا سے مقصود یہ ہوتا تھا کہ ان کو خوش کر کے ان کی نظر عنایت اپنے حال پر مبذول کرائی جائے ، اور اپنے دنیوی معاملات میں ان سے مدد حاصل کی جائے۔
عبادت بمعنی بندگی واطاعت و پرستش : اوپر کی مثالوں سے یہ بات اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن میں عبادت کا لفظ کہیں غلامی واطاعت کے معنی میں استعمال ہوا ہے، کہیں مجر واطاعت کے معنی میں ۔ اب قبل اس کے کہ ہم وہ مثالیں پیش کریں جن میں یہ لفظ عبادت کے ان تینوں مفہومات کا جامع ہے، ایک مقدمہ ذہن نشین کر لینا ضروری ہے۔
او پر جتنی مثالیں پیش کی گئی ہیں ان سب میں اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کا ذکر ہے۔ جہاں عبادت سے مراد غلامی واطاعت ہے وہاں معبود یا تو شیطان ہے یادہ باغی انسان ہیں جنہیں نے طاغوت بن کر خدا کے بندوں سے خدا کے بجائے اپنی بندگی واطاعت کرائی ، یاوہ رہنما و پیشوا ہیں جنہوں نے کتاب اللہ سے بے نیاز ہو کر اپنے خود ساختہ طریقوں پر لوگوں کو چلایا۔ اور جہاں عبادت سے مراد پرستش ہے وہاں معبود یا تو اولیاء ، انبیاء اور صلحا ہیں جنہیں ان کی تعلیم و ہدایت کے خلاف معبود بنایا گیا، یا فرشتے اور جن ہیں جن کو محض غلام نبی کی بنا پر فوق الطبیعی ربوبیت میں شریک سمجھ لیا گیا، یہ خیالی طاقتوں کے بت اور تماثیل ہیں جو محض شیطانی اغوا سے مرکز پرستش بن گئے۔ قرآن ان تمام اقسام کے معبودوں کو باطل اور ان کی عبادت کو غلہ ٹھہراتا ہے ، خواہ ان کی غلامی کی گئی ہو یا اطاعت یا پرستش ، وہ کہتا ہے کہ تمہارے یہ سب معبود جن کی تم عبادت کرتے رہے ہو، اللہ کے بندے اور غلام ہیں۔ نہ انہیں یہ حق پہنچتا ہے کہ ان کی عبادت کی جائے اور نہ ان کی عبادت سے بجز نامرادی اور ذلت ورسوائی کے تم کو کچھ حاصل ہو سکتا ہے۔ حقیقت میں ان کا اورساری کائنات کا مالک اللہ ہی ہے، اس کے ہاتھ میں تمام اختیارات ہیں لہذا عبادت کا اکیلے اللہ کے سوا کوئی نہیں۔
“اللہ کو چھوڑ کر جنہیں تم پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں، جیسے تم خود بندے ہو، انہیں پکار کردیکھ لو۔ اگر تمہارا عقیدہ ان کے بارے میں صحیح ہے تو وہ تمہاری پکار کا جواب دیں.! - - اللہ کے سوا جنہیں تم پکارتے ہو وہ نہ تو تمہاری کوئی مدد کر سکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد پر قادر ہیں۔"
"یہ لوگ کہتے ہیں کہ رحمان نے کسی کو بیٹا بنایا۔ بالاتر ہے وہ اس سے کہ کوئی اس کا بیٹا ہو۔ جنہیں یہ اس کی اولاد کہتے ہیں وہ در اصل اس کے بندے ہیں جن کو عزت دی گئی ہے ان کی اتنی مجال نہیں کہ وہ خود سبقت کر کے اللہ کے حضور کچھ عرض کر سکیں بلکہ جیسا وہ حکم دیتا ہے اس کے مطابق وہ عمل کرتے ہیں۔ جو کچھ ان پر ظاہر ہے اسے بھی اللہ جانتا ہے اور جو کچھ ان سے پوشیدہ ہے اس کی بھی اللہ کو خبر ہے۔ وہ اللہ کے حضور کسی کی سفارش نہیں کر سکتے بجز اس کے کہ جس کی سفارش خود اللہ ہی قبول کرنا چا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ اللہ کے خوف سے سہمے رہتے ہیں ۔
" نہ مسیح نے کبھی اس کو اپنے لیے عار سمجھا کہ وہ اللہ کا بندہ ہو اور نہ مقرب فرشتوں نے۔اور جو کوئی اس کی بندگی و غلامی میں عار سمجھے اور تکبر کرے ( وہ بھاگ کر جا کہاں سکتا ہے ) ایسے سب لوگوں کو اللہ اپنے حضور کھینچ لائے گا۔“
اس طرح ان سب کو جن کی عبادت کسی شکل میں کی گئی ہے، اللہ کا غلام اور بے اختیار ثابت کر دینے کے بعد قرآن تمام جن و انس سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہر مفہوم کے لحاظ سے عبادت صرف اللہ کی ہونی چاہیے۔ غلامی ہو تو اس کی اطاعت ہو تو اُس کی پرستش ہو تو اس کی ، ان میں سے کسی نوع کی عبادت کا شائبہ تک بھی غیر اللہ کے لیے نہ ہو۔
ان آیات میں اللہ کے لیے اس عبادت کو مخصوص کرنے کا حکم دیا گیا ہے جو بندگی وغلامی اور اطاعت و فرمانبرداری کے معنی میں ہے۔ اور اس کے لیے صاف قرینہ موجود ہے کہ طاغوت اور شیطان اور احبارور بیان اور آباؤ اجداد کی اطاعت و بندگی سے پر ہیز کر کے اللہ کی اطاعت و بندگی اختیار کرنے کی ہدایت کی جارہی ہے۔
ان آیات میں اس عبادت کو اللہ کے لیے مختص کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جو پرستش کے معنی میں ہے۔ اور اس کے لیے بھی صاف قرینہ موجود ہے کہ عبادت کو دعا کے مترادف کی حیثیت سے استعمال کیا گیا ہے اور ماقبل و مابعد کی آیات میں ان معبودوں کا ذکر پایا جاتا ہے جنہیں فوق الطبیعی ربوبیت میں اللہ کا شریک قرار دیا جاتا ہے۔
اب کسی صاحب بصیرت آدمی کے لیے یہ سمجھ لینا کچھ بھی مشکل نہیں کہ جہاں جہاں قرآن میں اللہ کی عبادت کا ذکر ہے اور آس پاس کوئی ایسا قرینہ موجود نہیں ہے جو لفظ عبادت کو اس کے مختلف مفہومات میں سے کسی ایک مفہوم کے لیے خاص کرتا ہو، ایسے تمام مقامات میں عبادت سے مراد، غلامی، اطاعت اور پرستش، تینوں مفہوم ہوں گے۔ مثال کے طور پر حسب ذیل آیات کو دیکھیے :
,, جو کچھ ہمارے سامنے ہے اور جو کچھ ہم سے پوشیدہ ہے اور جو کچھ ان دونوں حالتوں کے درمیان ہے، سب کا مالک وہی ہے، اور تیرا رب بھولنے والا نہیں ہے۔ وہ مالک ہے آسمان اور زمین کا اور ان ساری چیزوں کا جو زمین و آسمان کے درمیان ہیں لہذا تو اسی کی عبادت کر اور اس کی عبادت پر ثابت قدم رہ ۔“
کوئی وجہ نہیں کہ ان آیات اور ایسی ہی دوسری تمام آیات میں عبادت کے لفظ کو حض پرستش یا محض بندگی واطاعت کے لیے مخصوص ٹھہر الیا جائے۔ اس طرح کی آیات میں دراصل قرآن اپنی دعوت پیش کرتا ہے اور ظاہر ہے کہ قرآن کی دعوت یہی ہے کہ بندگی ، اطاعت، پرستش جو کچھ بھی ہو اللہ کی ہو۔ لہذا ان مقامات پر عبادت کے معنی کو کسی ایک مفہوم میں محدود کر نا حقیقت میں قرآن کی دعوت کو محدود کرنا ہے اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ جو لوگ قرآن کی دعوت کا ایک محدود تصور لے کر ایمان لائیں گے وہ اس کی ناقص و نا تمام پیروی کریں گے۔
| کتاب | قرآن کی چار بنیادی اصطلا حیں |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |