الہ لغوی تحقیق: اس لفظ کا مادہ ال ہ ہے۔ اس مادہ سے جو الفاظ لغت میں آئے ہیں ان کی تفصیل یہ ہے:۔ آلِهَ اذا تحیّر ، حیران وسرگشتہ ہوا۔
ان تمام معانی مصدر پر غور کرنےسے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ آلِهَ يَالَهُ الهَةً کےمعنی عبادت ( پرستش ) اور اللہ کے معنی معبود کس مناسبت سے پیدا ہوئے:۔
ا۔ انسان کےذہن میں عبادت کےلیےاولین تحریک اپنی حاجت مندی سےپیدا ہوتی ہےوہ کسی کی عبادت کا خیال تک نہیں کر سکتا جب تک اسےیہ گمان نہ ہو کہ وہ اس کی حاجتیں پوری کر سکتا ہے خطرات اور مصائب میں اسے پناہ دے سکتا ہے ، اضطراب کی حالت میں اسے سکون بخش سکتا ہے۔
٢- پھر یہ بات کہ آدمی کسی کو حاجت روا سمجھے اس تصور کے ساتھ لازم و ملزوم کا تعلق رکھتی ہے کہ وہ اسےاپنےسےبالاتر سمجھےاور نہ صرف مرتبہ کے اعتبار سے اس کی برتری تسلیم کرے،بلکہ طاقت اور زور کے اعتبار سے بھی اس کی بالا دستی کا قائل ہو ۔
٣- پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سلسلہ اسباب و علل کے تحت جن چیزوں سے بالعموم انسان کی ضروریات پوری ہوتی ہیں، اور جن کی حاجت روائی کا سارا عمل انسان کی آنکھوں کےسامنے یا اس کے حدود علم کے اندر واقع ہوتا ہے ان کے متعلق پرستش کا کوئی جذ بہ اس میں پیدا نہیں ہوتا مثلاً مجھے خرچ کے لیے روپے کی ضرورت ہوتی ہے، میں جا کر ایک شخص سےنوکری یا مزدوری کی درخواست کرتا ہوں، وہ میری درخواست کو قبول کر کے مجھے کوئی کام دیتا ہے اور اس کام کا معاوضہ مجھے دے دیتا ہے۔ یہ سارا عمل چونکہ میرے حواس اور علم کےدائرے کے اندر پیش آیا ہے اور میں جانتا ہوں کہ اس نے میری یہ حاجت کس طرح پوری کی ہے، اس لیے میرے ذہن میں اس کے لائق پرستش ہونے کا وہم تک نہیں گزرتا،پرستش کا تصور میرے ذہن میں صرف اسی حالت میں پیدا ہو سکتا ہے جبکہ کسی کی شخصیت یا اُس کی طاقت یا اس کی حاجت روائی واثر اندازی کی کیفیت پر راز کا پردہ پڑا ہوا ہو۔ اسی لیے معبود کے معنی میں وہ لفظ اختیار کیا گیا جس کے اندر رفعت کے ساتھ پوشیدگی اور حیرانی و سرگشتگی کا مفہوم بھی شامل ہے۔
٤- پھر جس کے متعلق بھی انسان یہ گمان رکھتا ہو کہ وہ احتیاج کی حالت میں حاجت روائی کر سکتا ہے، خطرات میں پناہ دے سکتا ہےاضطراب میں سکون بخش سکتا ہے،اس کی طرف انسان کا اشتیاق کے ساتھ توجہ کرنا ایک امر نا گزیر ہے۔
پس معلوم ہوا کہ معبود کے لیے الہ کا لفظ جن تصورات کی بنا پر بولا گیا وہ یہ ہیں۔ حاجت روائی، پناہ دہندگی ، سکون بخشی،بالاتری و بالا دستی ان اختیارات اور ان طاقتوں کا مالک ہونا جن کی وجہ سے یہ توقع کی جائےکہ معبود قاضی الحاجات اور پناہ دہندہ ہو سکتا ہے۔ اس کی شخصیت کا پر اسرار ہوتا یا منظر عام پر نہ ہوتا ۔ انسان کا اس کی طرف مشتاق ہوتا۔
اہل جاہلیت کا تصور الہ : اس لغوی تحقیق کے بعد ہمیں دیکھنا چاہیے کہ الوہیت کے متعلق اہلِ عرب اور اہم قدیمہ کےوہ کیا تصورات تھے جن کی تردید قرآن کرنا چاہتا ہے۔
ان دونوں آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ جاہلیت جن کو الہ کہتےتھے ان کے متعلق وہ یہ سمجھتے تھے کہ وہ ان کے پشتیبان ہیں ، مشکلات اور مصائب میں ان کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کی حمایت میں وہ خوف اور نقصان سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔
” جب تیرے رب کے فیصلہ کا وقت آ گیا تو ان کے وہ الہ جنہیں وہ اللہ کے بجائے پکارا کرتے تھے ، ان کے کچھ بھی کام نہ آ سکے اور وہ ان کے لیے تباہی و ہلاکت کے سوا کسی اور چیز میں اضافہ کا سبب نہ بنے۔“
" اور اللہ کے بجائے جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کسی چیز کے بھی خالق نہیں ہیں بلکہ وہ خود مخلوق ہیں، مردہ ہیں نہ کہ زندہ، اور انہیں یہ بھی خبر نہیں ہے کہ انہیں کب دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔ تمہارا الہ تو ایک ہی الہ ہے۔"
ان آیات سے چند امور پر روشنی پڑتی ہے۔ایک یہ کہ اہلِ جاہلیت جن کو الہ کہتے تھے،انہیں مشکل کشائی و حاجت روائی کے لیے پکارتے یا بالفاظ دیگر ان سے دُعا مانگتے تھے۔ دوسرے یہ کہ ان کے یہ الہ صرف جن یا فرشتے یا دیوتا ہی نہ تھے بلکہ وفات یافتہ انسان بھی تھے ، جیسا کہ اموات غَيْرُ أَحْيَاء وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُعْدُونَ سے صاف ظاہر ہوتا ہے۔ تیسرے یہ کہ ان انہوں کے متعلق وہ یہ گمان رکھتے تھے کہ وہ ان کی دعاؤں کو سنتے ہیں اور ان کی مدد کو پہنچنے پر قادر ہیں۔
یہاں دعا کے مفہوم اور اس امداد کی نوعیت کو ذہن نشین کر لینا ضروری ہے جس کی اللہ سےتوقع کی جاتی ہے۔ اگر مجھے پیاس لگتی ہے اور میں اپنے خادم کو پانی لانے کے لیے پکارتا ہوں، یا اگر میں بیمار ہوتا ہوں اور علاج کےلیےڈاکٹر بلاتا ہوں، تو اس پر نہ دعا کا اطلاق ہوتا ہے اور نہ اس کےمعنی خادم یا ڈاکٹر کوالہ بنانےکے ہیں۔ کیونکہ یہ سب کچھ سلسلہ اسباب کے تحت ہے نہ کہ اس سے مافوق لیکن اگر میں پیاس کی حالت میں یا بیماری میں خادم یا ڈاکٹر کو پکارنےکےبجائے ولی یا کسی دیوتا کوپکارتا ہوں تو یہ ضرور اس کو الہ بناتا ہےاور اس سے دعا مانگنا ہے،کیونکہ جو ولی صاحب مجھ سے سینکڑوں میل دور کسی قبر میں آرام فرما رہےہیں،ان کو پکارنےکےمعنی یہ ہیں کہ میں ان کو سمیع و بصیر سمجھتا ہوں اور یہ خیال رکھتا ہوں کہ عالم اسباب پر ان کی فرمانروائی قائم ہےجس کی وجہ سےوہ مجھ تک پانی پہنچانے یا میری بیماری کو دور کر دینے کا انتظام کر سکتے ہیں علی ہذا القیاس ایسی حالت میں کسی دیوتا کو پکارنے کے معنی یہ ہیں کہ پانی یا صحت یا مرض پر اس کی حکومت ہے اور وہ الطبعی طور پر میری حاجت پوری کرنے کے لیے اسباب کو حرکت دے سکتا ہے۔ پس اللہ کا وہ تصور جس کی بنا پر دعا مانگی جاتی ہے،لامحالہ ایک فوق الطبیعی اقتدار ( Supeinatural Authority) اور اس کے ساتھ ہی فوق الطبیعی قوتوں کے مالک ہونے کا تصور ہے۔
"تمہارے ارد گرد جن بستیوں کے آثار ہیں ان کو ہم ہلاک کر چکے ہیں ۔ انہیں ہم نے بار بار بدل کر اپنی نشانیاں دکھائی تھیں تا کہ وہ رجوع کریں تو جن کو انہوں نے تقرب کا ذریعہ سمجھ کر اللہ کے سوا اپنا اللہ بنایا تھا۔ انہوں نے نزول عذاب کے وقت کیوں نہ ان کی مدد کی؟ مد دتو در کنار وہ تو انہیں چھوڑ کر غائب ہو گئے۔ یہ تھی حقیقت ان کے جھوٹ اور ان کی من گھڑت باتوں کی ۔"
" کیوں نہ میں اس کی عبادت کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور جن کی طرف تم سب کو پلٹنا ہے؟ کیا اس کے سوا میں ان کو الہ بناؤں جن کا حال یہ ہے کہ اگر رحمن مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو ان کی سفارش میرے کچھ کام نہیں آسکتی اور وہ مجھے چھڑا نہیں سکتے ۔
"اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے حامی و کارساز بنارکھے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو ان کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ ہمیں وہ اللہ سے قریب کر دیں، اللہ ان کے درمیان اس معاملہ کا فیصلہ (قیامت کے روز ) کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔“
ان آیات سےچند مزید باتوں پر روشنی پڑتی ہے۔ان سےمعلوم ہوتا ہےکہ اہل جاہلیت اپنےانہوں سےمتعلق یہ نہیں سمجھتےتھےکہ ساری خدائی انہی کےدرمیان تقسیم ہوگئی ہےاور ان کےاوپر کوئی خداوند اعلیٰ نہیں ہے۔وہ واضح طور پر ایک خداوند اعلیٰ کا تصور رکھتے تھےجس کے لیے ان کی زبان میں اللہ کا لفظ تھا،اور دوسرے انہوں کے متعلق ان کا اصل عقیدہ یہ تھا کہ اس خداوند اعلیٰ کی خدائی میں ان انہوں کا کچھ دخل اور اثر ہے، ان کی بات مانی جاتی ہے، ان کے ذریعہ سےہمارے کام بن سکتے ہیں، ان کی سفارش سے ہم نفع حاصل کر سکتے ہیں اور نقصانات سے بچ سکتےہیں۔ انہی خیالات کی بنا پر وہ اللہ کےساتھ ان کو بھی الہ قرار دیتے تھے۔ لہذا ان کی اصطلاح کےمطابق کسی کو خدا کے ہاں سفارشی قرار دے کر اس سے مدد کی التجا کرنا اور اس کے آگے مراسم تعظیم و تکریم بجالانا اور نذرو نیاز پیش کرنا اس کو الہ بناتا ہے۔
ان آیات سے معلوم ہوا کہ اہلِ جاہلیت اپنے انہوں سے یہ خوف رکھتے تھے کہ اگر ہم نےان کو کسی طرح ناراض کردیا، یا ان کی تو جہات و عنایات سے محروم ہو گئے تو ہم پر بیماری قحط ، نقصان جان و مال اور دوسری قسم کی آفات نازل ہو جائیں گی۔
١- یہاں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ سفارشیں دو قسم کی ہیں ۔ ایک وہ جو کسی نہ کسی نوع کے زور واثر پر بنی ہو اور بہر حال منوا کر ہی چھوڑی جائے ۔ دوسری وہ جو محض ایک انتجا اور درخواست کی حیثیت میں ہو اور جس کےپیچھے کوئی منوا لینے کا زور نہ ہو پہلے مفہوم کے لحاظ سےکسی کو شفیع یا سفارشی سمجھنا اسے الہ بنانا اور خدائی میں اللہ کا شریک ٹھہراتا ہے۔اور قرآن اسی شفاعت کی تردید کرتا ہے۔ رہا دوسرا مفہوم،تو اس لحاظ سے انبیاء ملائکہ صلحا ،، اہل ایمان اور سب بندے دوسرے بندوں کے حق میں شفاعت کر سکتے ہیں اور خدا کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ کسی کی شفاعت قبول کرے یا نہ کرے ۔ قرآن اس شفاعت کا اثبات کرتا ہے۔
ان آیات میں اللہ کا ایک اور مفہوم ملتا ہے جو پہلے مفہومات سے بالکل مختلف ہے۔ یہاں فوق الطبعی اقتدار کا کوئی تصور نہیں ہےجس کو الہ بنایا گیا ہے وہ یا تو کوئی انسان ہےیا انسان کا اپنا نفس ہے۔ اور الہ اس کو اس معنی میں نہیں بنایا گیا ہےکہ اس سےدعا مانگی جاتی ہو یا اسے نفع و نقصان کا مالک سمجھا جاتا ہو،اور اس سےپناہ ڈھونڈی جاتی ہو۔بلکہ وہ الہ اس معنی میں بنایا گیا ہے کہ اس کے حکم کو قانون تسلیم کیا گیا، اس کے امر و نہی کی اطاعت کی گئی ، اس کے حلال کو حلال اور اس کےحرام کو حرام مان لیا گیا،اور یہ خیال کر لیا گیا ہےکہ اس کو بجائےخود حکم دینےاور منع کرنے کا اختیار حاصل ہے، کوئی اور اقتدار اس سے بالا تر نہیں ہے جس کی سند لینے اور جس سے رجوع کرنے کی ضرورت ہو۔
پہلی آیت میں علماء اور راہبوں کو الہ بنانے کا ذکر ہے۔ اس کی واضح تشریح ہم کو حدیث میں ملتی ہے۔حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نےجب اس آیت کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےسوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ جس چیز کو تمہارے علماء اور راہیوں نے حلال کیا اسے تم لوگ حلال مان لیتے تھے، اور جسے حرام قرار دیا اسے تم حرام تسلیم کر لیتے تھے اور اس بات کی کچھ پروانہ کرتےتھے کہ اللہ کا اس بارے میں کیا حکم ہے۔
اُلوہیت کے باب میں ملاک آمر الہ کے یہ جتنے مفہومات او پر بیان ہوئے ہیں ان سب کے درمیان ایک منطقی ربط ہے۔ جو شخص فوق الطبعی معنی میں کسی کو اپنا حامی و مددگار مشکل کشا اور حاجت روا، دعاؤں کا سنے والا اور نفع یا نقصان پہنچانے والا سمجھتا ہے۔اس کے ایسا سمجھنےکی وجہ یہ ہےکہ اس کے نزدیک وہ ہستی نظام کائنات میں کسی نہ کسی نوعیت کا اقتدار رکھتی ہے۔ اس طرح جو شخص کسی سے تقویٰ اور خوف کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ اس کی ناراضی میرے لیے نقصان کی اور رضامندی میرے لیے فائدے کی موجب ہےاس کےاس اعتقاد اور اس عمل کی وجہ بھی اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اپنے ذہن میں اس بستی کےمتعلق ایک طرح کے اقتدار کا تصور رکھتا ہے۔ پھر جو شخص خداوند اعلیٰ کے ماننے کے باوجود اس کے سوا دوسروں کی طرف اپنی حاجات کے لیے رجوع کرتا ہے اس کے اس فعل کی علت بھی صرف یہی ہے کہ خداوندی کے اقتدار میں وہ ان کو کسی نہ کسی طرح کا حصہ دار سمجھ رہا ہے۔ اور علی ہذا القیاس وہ شخص جو کسی کے حکم کو قانون اور کسی کے امر و نہی کو اپنے لیے واجب الاطاعت قرار بتا ہے وہ بھی اس کو مقتدر اعلیٰ تسلیم کرتا ہے۔ پس الوہیت کی اصل روح اقتدار ہے، خواہ وہ اقتدار اس معنی میں سمجھا جائے کہ نظام کائنات پر اس کی فرماں روائی فوق الطبیعی نوعیت کی ہے، یا وہ اس معنی میں تسلیم کیا جائے کہ دنیوی زندگی میں انسان اس کے تحت امر ہے اور اس کا حکم بذات خود واجب الاطاعت ہے۔
قرآن کا استدلال یہی اقتدار کا تصور ہے جس کی بنیاد پر قرآن اپنا سارا زور غیر اللہ کی البیت کے انکار اور صرف اللہ کی اہمیت کے اثبات پر صرف کرتا ہے۔ اس کا استدلال یہ ہے کہ زمین اور آسمان میں ایک ہی ہستی تمام اختیارات واقتدارات کی مالک ہے۔مطلق اس کی ہے نعمت اس کی ہے، امرای کا ہے، قوت اور زور بالکل اس کے ہاتھ میں ہے۔ ہر چیز چاروناچار اسی کی اطاعت کر رہی ہے،اس کے سوا نہ کسی کے پاس کوئی اقتدار ہے، نہ کسی کا حکم چلتا ہے، نہ کوئی خلق اور تدبیر اور انتظام کےرازوں سے واقف ہے اور نہ کوئی اختیارات حکومت میں ذرہ برابر شریک وحصہ دار ہے۔ لہذا اس کے سوا حقیقت میں کوئی الہ نہیں ہے، اور جب حقیقت میں کوئی دوسرا اللہ نہیں ہےتو تمہارا ہر وہ فعل جو تم دوسروں کو الہ سمجھتے ہوئے کرتے ہو، اصلا غلط ہے،خواہ وہ دعا مانگنے یا پناہ ڈھونڈنےکا فعل ہو،یا سفارشی بنانے کا فعل ہو، یا حکم ماننے اور اطاعت کرنے کا فعل ہو۔ یہ تمام تعلقات جو تم نےدوسروں سے قائم کر رکھے ہیں صرف اللہ کے لیے مخصوص ہونے چاہئیں، کیونکہ وہی اکیلا صاحب اقتدار ہے۔
"تو کیا وہ جو پیدا کرتا ہے اور جو پیدا نہیں کرتا دونوں یکساں ہو سکتے ہیں؟ کیا تمہاری سمجھ میں اتنی بات نہیں آتی ؟ خدا کو چھوڑ کر یہ جن دوسروں کو پکارتے ہیں وہ تو کسی چیز کو بھی پیدا نہیں کرتے، بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں تمہارا اللہ تو ایک ہی الہ ہے۔“
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللَّهِ يَرْزُقُكُمْ مِنْ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ لَا إِله إِلَّا هُوَ فَاتَّى تُؤْفَكُونَ. (قاطر- ۳) "لوگو! تم پر اللہ کا جو احسان ہے اس کا دھیان کرو۔ کیا اللہ کے سوا کوئی دوسرا خالق ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہو؟ اس کے سوا کوئی الہ نہیں ہے۔ پھر تم کدھر بھٹکائے جارہے ہو؟“
وَهُوَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَلَهُ الْحَمْدُنِي الأولى وَالْآخِرَةِ وَلَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ. قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ جَعَلَ اللهُ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَ سَرُمَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَهِ مَنْ إِلهُ غَيْرُ اللهِ يَأْتِيكُمْ بِصِيَاءٍ أَفَلَا تَسْمَعُوْنَ. قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ جَعَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ مَنْ إِلهُ غَيْرُ اللَّهِ يَأْتِيْكُمْ بِلَيْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِيْهِ أَفَلَا تُبْصِرُونَ. (قصص:۷۲۷۰)
"’اور وہی اللہ ہےجس کےسوا کوئی دوسراالہ نہیں ہے۔ اس کے لیے تعریف ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔اور وہی اکیلا صاحب حکم واقتدار ہے اور اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والےہو۔ کہو تم نے کبھی غور کیا کہ اگر اللہ تم پر ہمیشہ کے لیے روز قیامت تک رات طاری کر دے تو اس کے سوا کون سادوسرا اللہ ہے جو تمہیں روشنی لادے گا ؟ کیا تم سنتے نہیں ہو؟ کہو تم نے کبھی اس پر غور کیا کہ اگر تمہارے اوپر ہمیشہ کے لیے دن طاری کر دے تو اس کے سوا اور کونسا الہ ہے جو تمہیں رات لا دے گا کہ اس میں تم سکون حاصل کرو؟ کیا تمہیں نظر نہیں آتا؟"
"کہو کہ اللہ کے سوا تم نے جن کو کچھ سمجھ رکھا ہے انہیں پکار دیکھو، وہ نہ آسمانوں میں ذرہ برابر کسی چیز کے مالک ہیں اور نہ زمین میں، نہ آسمان وزمین کے انتظام میں ان کی کوئی شرکت ہے، نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے، اور نہ اللہ کےہاں کوئی سفارش کام آتی ہے بجز اس کے جس کےحق میں اللہ خود ہی سفارش کی اجازت دے۔“
خَلَقَ السَّمواتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِ يُكَوِّرُ اللَّيْلَ عَلَى النَّهَارِ وَيُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى اللَّيْل وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلَّ يُجرى لأجل مُّسَمًّى خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسِ واحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَأَنْزَلَ لَكُمْ مِنَ الأنْعَام ثَمَنِيَةَ أَزْوَاجِ، يَخْلُقُكُم فِى بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ خَلْقًا مِنْ بَعْدِ خَلْقٍ فِي ظُلُمَةٍ ثَلاثِ ذَلِكُمُ اللهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ لا إله إلا هو فاتى تُصْرَفُونَ.
"اس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ دورات کو دن پر اور دن کو رات پر چڑھا کر لاتا ہے،اس نے سورج اور چاند کو تابع کر رکھا ہےاور ہر ایک اپنی مدت مقررہ تک چل رہا ہےاس نے ایک نفس سے تمہاری پیدائش کی ابتدا کی (یعنی انسانی زندگی کا آغاز کیا) پھر اسی نفس سے اس کا جوڑا بنایا اور تمہارے لیے مویشیوں کے آٹھ جوڑے اتارے۔ وہ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ میں اسی طرح پیدا کرتا ہے کہ تین کے پردوں کے اندر تمہاری تخلیق کے یکے بعد دیگرے کئی مدارج طے ہوتے ہیں۔ یہی اللہ تمہارا رب ہے۔ اقتدار حکومت اسی کا ہے۔ اس کے سوا کوئی الہ نہیں ۔ پھر تم کدھر پھیرے جارہے ہو؟“ (الزمر:۶۵)
أَمَّنْ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَنْبَتْنَا بِهِ حَدَائِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَا كَانَ لَكُمْ أَن تُنبِتُوا شَجَرَهَا، وَ الهُ معَ اللهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يُعْدِلُونَ، أَمَّنْ جَعَلَ الْأَرْضَ قَرَارًا وَجَعَلَ خِللَهَا أَنْهَارًا وَجَعَلَ لَهَا رَوَاسِيَ وَجَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِراءَ إِلَه مَّعَ اللهِ، بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الأَرْضِ ، وَ اللَّهُ مَّعَ اللهِ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ. أَمْن يُهْدِيكُمْ فِي ظُلمتِ البَرَ وَالْبَحْرِ وَمَن يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَى رَحْمَتِهِ ، إِلهُ معَ اللهِ تَعَالَى اللهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ. أمن يُبدو الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَمَنْ يُرْزُقُكُم مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ءَ إِلهُ مَّعَ اللهِ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنتُمْ صَدِقِينَ. (النمل: ۶۰ ۶۴)
"کون ہےجس نےآسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمہارےلیےآسمان سےپانی برسایا پھر وہ خوش منتظر باغ اگائےجن کےدرخت اگانا تمہارےبس میں نہ تھا ؟کیا اللہ کےساتھ کوئی اور الہ ان کاموں میں شریک ہے ؟ مگر یہ لوگ حقیقت سےمنہ موڑتے ہیں۔پھر وہ کون ہے جس نےزمین کو جائے قرار بنایا اور اس میں دریا جاری کیے اور اس کے لیے پہاڑوں کو لنگر بنایا اور دو سمندروں کے درمیان پردہ حائل کیا؟ کیا اللہ کےساتھ کوئی اور انہ ان کاموں میں شریک ہے۔مگر اکثر مشرکین بے علم ہیں۔ پھر وہ کون ہے جو اضطرار کی حالت میں آدمی کی دعا سنتا ہے اور تکلیف دور کرتا ہے؟ اور وہ کون ہے جو تم کو زمین میں خلیفہ بناتا ہے؟ ( تصرف کے اختیارات دیتا ہے) کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الہ ان کاموں میں بھی شریک ہے؟ مگر تم کم ہی دھیان کرتے ہو۔ پھر وہ کون ہے جو تم کو خشکی اور تری کے اندھیاروں میں راستہ دکھاتا ہےاور اپنی رحمت (یعنی بارش ) سےپہلے خوشخبری لانے والی ہوا میں بھیجتا ہے؟ کیا اللہ کے سوا کوئی اور الہ ان کاموں میں بھی شریک ہے؟ اللہ بالا تر ہے ان کے اس شریک سے جو یہ کرتے ہیں۔ پھر وہ کون ہے جو تخلیق کی ابتدا کرتا اور اس کا اعادہ کرتا ہے؟ اور کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الہ ان کاموں میں بھی شریک ہے؟ کہوا اگر تم اپنے شرک میں بچے ہو تو اس پر دلیل لاو٠" (١)
الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَمْ يَتَّخِذُ وَلَدًا وَلَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكَ فِي الْمُلْكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَى فَقَدْرَةً تَقْدِيرًا ، وَالْخَلُوا مِنْ دُونِهِ آلِهَةً لا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وهُمْ يُخْلَقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ، وَلَا يَمْلِكُونَ لأَنفُسِهِمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا وَلَا يَمْلِكُونَ مَوْنًا وَلَا حَيْوَةً وَّلَا نُشُورًا (الفرقان: ۲-۳)
"وہ جو آسمانوں اور زمین کی حکومت کا مالک ہےاور جس نےکسی کو بیٹا نہیں بنایا اور اقدار حکومت میں جس کا کوئی شریک نہیں ہے اور جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور ہر چیز کے لیے پورا پورا اندازہ مقرر کیا۔ لوگوں نے اسے چھوڑ کر ایسے الہ بنا لیے ہیں جو کسی کو پیدا نہیں کرتےبلکہ خود پیدا کیےجاتے ہیں، جو خود اپنی ذات کے لیے بھی نفع یا نقصان کا اختیار نہیں رکھتے اور جن کو موت اور زندگی اور دوبارہ پیدائش پر کسی قسم کا اقتدار حاصل نہیں ہے۔"
١- یعنی اگر تم مانتے ہو کہ یہ سب کام اللہ ہی کے ہیں اور ان کاموں میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے تو آخر کس دلیل سے تم البیت میں اس کے ساتھ دوسروں کو شریک بناتے ہو؟ جن کے پاس اقتدار نہیں اور زمین و آسمان میں جن کا کوئی خود مختارانہ کام نہیں وہ الہ کیسے ہو گئے ۔
"آسمان وزمین کو عدم سے وجود میں لانے والا ۔ اس کا کوئی بیٹا کیسے ہو سکتا ہےجبکہ اس کی کوئی بیوی نہیں ہے۔ اس نے تو ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ یہ ہے اللہ تمہارا رب کوئی اس کے سوا اللہ نہیں ہے، ہر چیز کا خالق، لہذا تم اسی کی عبادت کرو اور وہی ہر چیز کی حفاظت و خبر گیری کا کفیل ہے۔"
"بعض لوگ ایسےہیں جو اللہ کےسوا دوسروں کو خدائی کا شریک و مماثل قرار دیتےہیں اور اللہ کی طرح ان کو بھی محبوب رکھتے ہیں، حالانکہ جو ایمان لانے والے ہیں وہ سب سے بڑھ کر اللہ سے محبت کرتےہیں۔کاش یہ ظالم اس حقیقت کو جسے نزول عذاب کے وقت محسوس کریں گے۔ آج ہی محسوس کر لیتے کہ قوت ساری کی ساری اللہ ہی کے پاس ہے۔“
" کہو تم نے اپنے معبودوں کی حالت پر کبھی غور بھی کیا جنہیں تم خدا کے بجائے حاجت روائی کے لیے پکارتے ہو؟ مجھے دکھاؤ تو سہی کہ زمین کا کتنا حصہ ان کا بنایا ہوا ہے، یا آسمان کی پیدائش میں ان کی کس قدر شرکت ہے؟ اس سے بڑھ کر اور کون گمراہ ہو گا جو اللہ کو چھوڑ کر کسی ایسے کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتا ۔(١)
"اگر زمین و آسمان میں اللہ کے سوا اور بھی اللہ ہوتے تو نظام عالم درہم برہم ہو جاتا ہیں اللہ جو عرش ( یعنی کائنات کے تخت سلطنت ) کا مالک ہے ان تمام باتوں سے پاک ہے جو یہ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ وہ اپنے کسی فعل کے لیے جواب دہ نہیں ہے اور سب جواب دہ ہیں۔"
"اے نبی ! کہو اگر اللہ کے ساتھ دوسرے الہ ہوتے جیسا کہ لوگوں کا بیان ہے، تو وہ مالک عرش کی حکومت پر قبضہ کرنے کے لیے ضرور تدبیریں تلاش کرتے۔ پاک ہے وہ اور بہت بالاتر ہے اُن باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔“
ان آیات میں اوّل سےآخر یک ایک ہی مرکزی خیال پایا جاتا ہےاور وہ یہ ہےکہ البیت واقتدار لازم و ملزوم ہیں اور اپنی روح و معنی کےاعتبار سےدونوں ایک ہی چیز ہیں۔جو اقتدار نہیں رکھتا وہ الہ نہیں ہو سکتا اور اسےالہ نہ ہونا چاہیے۔کیونکہ الہ سےتمہاری جس قدر ضروریات متعلق ہیں یا جن ضروریات کی خاطر تمہیں کسی کو الہ ماننے کی حاجت پیش آتی ہے، ان میں سے کوئی ضرورت بھی اقتدار کے بغیر پوری نہیں ہو سکتی۔لہذا غیر مقتدر کا الہ ہونا بےمعنی ہے،حقیقت کےخلاف ہے، اور اس کی طرف رجوع کرنا لا حاصل ہے۔
ا۔ حاجت روائی،مشکل کشائی،پناہ دہندگی،امداد و اعانت،خبر گیری و حفاظت اور استجابت دعوات ، جن کو تم نےمعمولی کام سمجھ رکھا ہےدراصل یہ معمولی کام نہیں ہیں بلکہ ان کا سررشتہ پورےنظام کائنات کی تخلیقی اور انتظامی قوتوں سےجاملتا ہے۔تمہاری ذرا ذراسی ضرورتیں جس طرح پوری ہوتی ہیں اس پر غور کرو تو معلوم ہو کہ زمین و آسمان کےعظیم الشان کارخانہ میں بے شمار اسباب کی مجموعی حرکت کےبغیر ان کا پورا ہونا محال ہے۔ پانی کا ایک گلاس جو تم پیتےہو،اور گیہوں کا ایک دانہ جو تم کھاتے ہو اس کو مہیا کرنے کے لیے سورج اور زمین اور ہواؤں اور سمندروں کو خدا جانےکتنا کام کرنا پڑتا ہے تب کہیں یہ چیزیں تم کو بہم پہنچتی ہیں۔ پس تمہاری دعائیں سننے اور تمہاری حاجتیں رفع کرنے کے لیے کوئی معمولی اقتدار نہیں بلکہ وہ اقتدار درکار ہے جو زمین و آسمان پیداکرنے کے لیے ، سیاروں کو حرکت دینے کے لیے ، ہواؤں کو گردش دینے اور بارش برسانے کےلیے ، غرض پوری کائنات کا انتظام کرنے کے لیے درکار ہے۔
٢- یہ اقتدار نا قابل تقسیم ہے۔ یہ ممکن نہیں ہےکہ خلق کا اقتدار کسی کےپاس ہو، اور رزق کا کسی اور کےپاس، سورج کسی کے قبضہ میں ہو اور زمین کسی اور کے قبضہ میں، پیدا کرنا کسی کے اختیار میں ہو، بیماری و صحت کسی اور کےاختیار میں اور موت اور زندگی کسی تیسرے کے اختیار میں، اگر ایسا ہوتا تو یہ نظام کا ئنات بھی چل ہی نہ سکتا۔ لہذا تمام اقتدارات و اختیارات کا ایک ہی مرکزی فرمانروا کے قبضہ میں ہونا ضروری ہے۔ کائنات کا انتظام چاہتا ہے کہ ایسا ہو ، اور فی الواقع ایسا ہی ہے۔
٣- جب تمام اقتدار ایک ہی فرماں روا کےہاتھ میں ہے اور اقتدار میں کسی کا ذرہ برابر کوئی حصہ نہیں ہے، تو لامحالہ الوہیت بھی بالکلیہ اسی فرمانروا کے لیے خاص ہے اور اس میں بھی کوئی حصہ دار نہیں ہےکسی میں یہ طاقت نہیں کہ تمہاری فریاد رسی کر سکے،دعائیں قبول کر سکے،پناہ دےسکے، حامی و ناصر اور ولی و کار ساز بن سکےنفع یا نقصان پہنچا سکےلہذا اللہ کا جو مفہوم بھی تمہارےذہن میں ہےاس کےلحاظ سے کوئی دوسرا الہ نہیں ہے ۔ حتیٰ کہ کوئی اس معنی میں بھی اللہ نہیں کہ فرمانروائے کائنات کے ہاں مقرب بارگاہ ہونے کی حیثیت ہی سے اس کا کچھ زور چلتا ہو اور اس کی سفارش مانی جاتی ہو۔اس کےانتظام سلطنت میں کسی کو دم مارنےکی مجال نہیں۔کوئی اس کےمعاملات میں دخل نہیں دے سکتا، اور سفارش قبول کرنا یا نہ کرنا بالکل اس کے اختیار میں ہے۔ کوئی زور کسی کے پاس نہیں ہے کہ اس کے بل پر وہ اپنی سفارش قبول کر اسکے ۔
٤- اقتدار اعلیٰ کی وحدانیت کا اقتضا یہ ہے کہ حاکمیت وفرمانروائی کی جتنی قسمیں ہیں سب ایک ہی مقتدر اعلیٰ کی ذات میں مرکوز ہوں اور حاکمیت کا کوئی جز بھی کسی دوسرے کی طرف منتقل نہ ہو ۔ جب خالق وہ ہے اور خلق میں کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں، جب رزاق وہ ہے اور رزق رسانی میں کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں، جب پورے نظام کائنات کا مد برو منتظم وہ ہے اور تدبیر و انتظام میں کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں،تو یقینا حاکم و آمر اور شارع بھی اسی کو ہونا چاہیےاور اقتدار کی اس شق میں بھی کسی کےشریک ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ جس طرح اس کی سلطنت کےدائرے میں اس کےسوا کسی دوسرےکا فریاد رس اورحاجت روا اور پناہ دہندہ ہونا غلط ہےاسی طرح کسی دوسرے کامستقل بالذات حاکم اورخود مختار فرماںروا اور آزاد قانون سازہونا بھی غلط ہےتخلیق اوررزق رسانی،احیاء اور امانت تسخیر شمس و قمر اور تکویر لیل ونہار،قضا اور قدر،حکم اور بادشاہی،امر اور تشریع سب ایک ہی کلی اقتدار و حاکمیت کےمختلف پہلو ہیں اور یہ اقتدار و حاکمیت ناقابل تقسیم ہےاگر کوئی شخص اللہ کےحکم کی سند کےبغیر کسی کےحکم کو واجب الاطاعت سمجھتا ہےتو وہ ویسا ہی شرک کرتاہےجیسا کہ ایک غیر اللہ سےدعا مانگنےوالا شرک کرتا ہےاوراگر کوئی شخص سیاسی معنی میں مالک الملک اور مقتدر اعلیٰ اور حاکم علی الاطلاق ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کا یہ دعوی بالکل اسی طرح خدائی کادعوی ہےجس طرح فوق الطبیعی معنی میں کسی کایہ کہناکہ تمہارا ولی و کار ساز اور مددگار ومحافظ میں ہوں۔اسی لیےجہاں خلق اور تقدیر اشیاء اور تدبیر کائنات میں اللہ کے لاشریک ہونےکا ذکر کیا گیا ہےوہیں لہ الحکم اور للَهُ الْمُلْكُ اور لَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكَ فِی المُلک بھی کہا گیا ہے جو اس بات پر صاف دلالت کرتا ہے کہ الوہیت کے مفہوم میں بادشاہی و حکمرانی کا مفہوم بھی شامل ہے اور توحید اللہ کے لیے لازم ہے کہ اس مفہوم کے اعتبار سےبھی اللہ کے ساتھ کسی کی شرکت نہ تسلیم کی جائے اس کو اور زیادہ کھول کر حسب ذیل آیات میں بیان کیا گیا ہے:۔
یعنی جس روز سب لوگ بے نقاب ہوں گے، کسی کا کوئی راز اللہ سے چھپا نہ ہوگا، اس وقت پکارا جائے گا کہ آج بادشاہی کس کی ہے؟ اور جواب اس کے سوا کچھ نہ ہوگا کہ اس اکیلے اللہ کی جس کا اقتدار سب پر غالب ہے۔“
إِنَّهُ تَعَالَى يَطْوِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ بِيَدِهِ ثُمَّ يَقُولُ اَنَا الْمَلِكُ اَنَا الْجَبَّارُ اَنَا المتكبر أين مُلُوكَ الْأَرْضِ ؟ اَيْنَ الْجَبَّارُونَ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبَرُونَ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو اپنی مٹھی میں لے کر پکارے گا میں ہوں بادشاہ، میں ہوں بتبار، میں ہوں متکبر، کہاں ہیں وہ جو زمین میں بادشاہ بنتے تھے ؟ کہاں میں جبار؟ کہاں ہیں متکبر ، عبداللہ بن عمر مفر ماتے ہیں کہ جس وقت حضور خطبہ میں یہ الفاظ فرمارہے تھے اس وقت آپ پر ایسا لرزہ طاری تھا کہ ہم ڈر رہے تھےکہ کہیں آپ ممبر سے گر نہ پڑیں۔
| کتاب | قرآن کی چار بنیادی اصطلا حیں |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |