کرنےکےکام

یکسوہوجائیے

اسی طرح اگرآپ چاہیں کہ موجودہ نظام توان ہی بنیادوں پرقائم رہے' مگراخلاق ، یا معاشرت، یامعیشت،یانظم ونسق، یاسیاست کی موجودہ خرابیوں میں سےکسی کی اصلاح ہوجائے،تویہ بھی کسی تدبیرسےممکن نہیں ہے- کیونکہ ان میں سےہرچیزموجودہ نظام زندگی کی بنیادی خرابیوں کی آفریدہ اورپروردہ ہے، اورہرخرابی کودوسری بہت سی خرابیوں سےسہارا مل رہاہے- ایسےحالات میں ایک جامع فساد کورفع کرنےکےلیےایک جامع پروگرام ناگزیرہے، جوجڑ سےلےکرشاخوں تک پورےتواذن کےساتھ اصلاح کاعمل جاری کرے

وہ پروگرام ہمارےنزدیک کیا ہے؟ اس پرگفتگو شروع کرنےسےپہلےایک سوال کا جواب ملنا ضروری ہے- وہ سوال یہ ہے،کہ آپ فی الواقع چاہتےکیا ہیں؟

مسلسل تجربےنےیہ بات ثابت کردی ہےکہ اسلام اورجاہلیت کایہ ملا جلا مرکب' جواب تک ہمارا نظام حیات بنا رہا ہے،زیادہ دیرتک نہیں چل سکتا- یہ اگرچلتا رہاتودنیا میں بھی ہماری کامل تباہی کاموجب ہوگا اورآخرت میں بھی-اس لیےکہ اسی کی وجہ سےہم اس حالت میں مبتلا ہیں کہ

ایماں مجھےروکےہےتو کھینچےہےمجھےکفر

نہ ہم امریکا اورروس اوربرطانیہ کی طرح پوری یک سوئی کےساتھ اپنی دنیا ہی بنا سکتےہیں، کیونکہ ایمان واسلام سےہمارا جوتعلق قائم ہےوہ ہمیں اس راستے پربےمحابا نہیں چلنےدیتا، اورنہ ہم ایک سچی مسلمان قوم کی طرح اپنی آخرت ہی بنا سکتےہیں، کیونکہ یہ کام ہمیں وہ جاہلیت نہیں کرنےدیتی، جس کےبےشمار فتنےہم نےاپنےاندرپال رکھےہیں

اس دودلی کی وجہ سےہم کسی چیز کاحق بھی پوری طرح ادا نہیں کرسکتے- نہ دنیا پرستی کا، نہ خدا پرستی کا، اس کی وجہ سےہمارا ہرکام ، خواہ دینی ہویا دنیوی ، دومتضاد افکار اوررجحانات کی رزم گاہ بنا رہتا ہے-جن میں سےہرایک دوسرےکاتوڑ کرتاہےاورکسی فکر ورجحان کےمطالبےبھی کما حقہ پورےنہیں ہونےپاتے- یہ حالت بہت جلد ختم کردینےکےلائق ہے- اگرہم اپنےدشمن نہیں ہیں تو ہمیں بہرحال یکسو ہوجانا چاہیے

کتاب کرنےکےکام
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Responsibility