کرنےکےکام

ادھورانہیں' جامع حل

ہمارےپیش نظر، پاکستان کےمسلمانوں کی پرانی قومی تہذیب کااحیا نہیں، بلکہ اسلام کا احیاہے- ہم علوم جدیدہ اور ان کی پیدا کی ہوئی ترقیات کےمخالف نہیں، بلکہ اس نظام تہذیب وتمدن کےباغی ہیں جومغربی فلسفہ زندگی اورفلسفہ اخلاق کاپیدا کردہ ہے

ہم دودواورچارچار[روپے] والےممبربھرتی کرکےکوئی سیاسی کھیل کھیلنا نہیں چاہتےبلکہ اپنی قوم میں سےچھانٹ چھانٹ کرایسےلوگوں کومنظم کرنا چاہتےہیں، جوقرآن و سنت کےحقیقی اسلام کویہاں کاغالب نظام زندگی بنانےکےلیےقدامت اورجدت دونوں سےلڑنےپرتیارہوں- ہم زندگی کےکسی ایک جزیابعض اجزامیں کچھ اسلامی رنگ پیدا کردینےکےقائل نہیں ہیں، بلکہ اس بات کےدرپےہیں کہ پورا اسلام پوری زندگی پرحکمران ہو، انفرادی سیرتوں اورگھرکی معاشرت پرحکمراں ہو، تعلیم کےاداروں پرحکمران ہو، قانون کی عدالتوں پرحکمراں ہو، سیاست کےایوانوں پر حکمران ہو، نظم و نسق کےمحکموں پرحکمران ہواورمعاشی دولت کی پیدا واراورتقسیم پر حکمران ہو

اسلام کےاس ہمہ گیرتسلط ہی سےیہ ممکن ہوسکتاہےکہ پاکستان یک سوہوکران روحانی ، اخلاقی، اورمادی فوائد سےپوری طرح متمتع ہو، جورب العالمین کی دی ہوئی ہدایت پرچلنےکالازمی اورفطری نتیجہ ہیں، اورپھراسی سےیہ امید کی جاسکتی ہےکہ یہ ملک تمام مسلم ممالک کےلیے دعوت الی الخیر کااورتمام دنیا کےلیےہدایت کامرکزبن جائے

ہمارا لائحہ عمل ہمارےاس مقصد کوسمجھ لینےکےبعد کسی کو ہمارےلائحہ عمل کےسمجھنےمیں دشواری پیش نہیں آ سکتی – اس کےچار بڑےبڑےاجزا ہیں

کتاب کرنےکےکام
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Responsibility