اس لائحہ عمل کاچوتھا جزنظام حکومت کی اصلاح ہے- ہم یہ سمجھتےہیں کہ زندگی کےموجودہ بگاڑ کودورکرنےکی کوئی تدبیر بھی کامیاب نہیں ہوسکتی- جب تک کہ اصلاح کی دوسری کوششوں کےساتھ ساتھ نظام حکومت کو درست کرنےکی کوشش بھی نہ کی جائے- اس لیےکہ تعلیم ، قانون، نظم ونسق اورتقسیم رزق کی طاقتوں کےبل پرجوبگاڑاپنےاثرات پھیلا رہا ہو، اس کےمقابلےمیں بناؤ اورسنوارکی وہ تدبیریں جوصرف وعظ اورتلقین کےذرائع پرمنحصرہوں، کبھی کارگرنہیں ہوسکتیں
لہذا ، اگرہم فی الواقع اپنےملک کےنظام زندگی کو فسق وضلالت کی راہ سےہٹا کردین حق کی صراط مستقیم پرچلانا چاہتےہیں توہمارےلیےناگزیر ہےکہ[ بگاڑ کو] مسند اقتدار سےہٹانےاوربناؤ کو اس کی جگہ متمکن کرنےکی براہ راست کوشش کریں- ظاہرہےکہ اگر اہل خیروصلاح کےہاتھ میں اقتدار ہوتووہ تعلیم- اورقانون اورنظم ونسق کی پالیسی کوتبدیل کرکےچند سال کےاندروہ کچھ کرڈالیں گے، جوغیر سیاسی تدبیروں سےایک صدی میں بھی نہیں ہوسکتا
جمھوری اورانتخابی راستہ یہ تبدیلی کس طرح ہوسکتی ہے؟ ایک جمہوری نظام میں اس کا راستہ صرف ایک ہے، اوروہ ہےانتخابات کاراستہ- رائےعام کی تربیت کی جائے، عوام کےمعیار انتخاب کوبدلا جائے-انتخاب کےطریقوں کی اصلاح کی جائے، اورپھرایسےصالح لوگوں کواقتدارکےمقام پرپہنچایا جائے، جو ملک کےنظام کو خالص اسلام کی بنیادوں پرتعمیر کرنےکا ارادہ بھی رکھتےہوں اورقابلیت بھی- ہماری تشخیص یہ ہےکہ اس ملک کےسیاسی نظام کی خرابیوں کابنیادی سبب یہاں کےطریق انتخاب کی خرابی ہے- جب انتخاب کا موسم آتاہےتومنصب وجاہ کےخواہش مند لوگ اٹھ کھڑےہوتےہیں اوردوڑ دھوپ کرکےیا توکسی پارٹی کاٹکٹ حاصل کرتےہیں یا آزاد امیدوار کی حیثیت سےاپنےلیےکوشش شروع کردیتےہیں- اس کوشش میں وہ کسی اخلاق اورکسی ضابطےکےپابندنہیں ہوتے-کسی جھوٹ ، کسی فریب، کسی چال،کسی دباؤاورکسی ناجائزسےناجائز ہتھکنڈےکےاستعمال میں بھی ان کےدریغ نہیں ہوتا- جسےلالچ دیا جاسکتاہے، اس کاووٹ لالچ سےخریدتےہیں- جسےدھمکی سےمرعوب کیا جاسکتاہے، اس کا ووٹ دھمکی سےلیتےہیں اور جس کوکسی تعصب کی بنا پراپیل کیا جا سکتاہے، اس کا ووٹ تعصب کےنام پرمانگتےہیں
گندا سیاسی عمل اوراصلاح کا راستہ اس گندے کھیل کےمیدان میں قوم کےشریف عناصر اول تواترتےہی نہیں ، اوربھولےبھٹکےاگروہ کبھی اترآتےہیں توپہلےہی قدم پرانھیں میدان چھوڑدینا پڑتاہے- مقابلہ صرف ان لوگوں کےدرمیان رہ جاتاہے، جنہیں نہ خدا کاخوف ہو، نہ خلق کی شرم، اورنہ کوئی بازی کھیل جانےمیں کسی طرح کاباک – پھران میں سےکامیاب ہوکروہ نکلتا ہے، جوسب جھوٹوں کوجھوٹ میں اور سب چال بازوں کو چال بازی میں شکست دے رائےدینےوالی عوام جس کےووٹوں سےیہ لوگ کامیاب ہوتےہیں، نہ اصولوں کو جانچتی ہے، نہ پروگراموں کوپرکھتی ہے، نہ سیرتوں اورصلاحیتوں کودیکھتی ہے- اس سےجو بھی زیادہ ووٹ جھپٹ لےجائے، وہ بازی جیت لیتا ہے- بلکہ اب تواس کےحقیقی ووٹوں کی اکثریت بھی کوئی چیزنہیں رہی ہے- کرائےپرووٹ دینےوالےجعلی ووٹر، اوربددیانت پولنگ افسراپنےہاتھوں کےکرتب سےبارہا ان لوگوں کوشکست دےدیتےہیں، جن کواصل رائےدہندوں کی اکثریت کااعتماد حاصل ہوتاہے- بسا اوقات انتخاب کی نوبت بھی نہیں آنےپاتی- ایک بےضمیر مجسٹریٹ کسی ذاتی دلچپسی کی بنا پریاکسی کااشارہ پاکرتمام امیدواروں کوبیک جنبش قلم میدان سےہٹا دیتاہے اورمنظورنظرآدمی بلامقابلہ پورےحلقہ انتخاب کانمائندہ بن جاتاہے خواہ وہ واقعی نمائندہ ہویا نہ ہو
طریق انتخاب کی اصلاح ہرشخص جوکچھ بھی عقل رکھتاہے، ان حالات کودیکھ کرخود یہ اندازہ کرسکتاہے' کہ جب تک یہ طریق انتخاب جاری ہے، کبھی قوم کےشریف اورنیک اورایمان دارآدمیوں کےابھرنےکاامکان ہی نہیں ہے- اس طریقے کا تو مزاج ہی ایسا ہےکہ قوم کےبدتر سےبدترعناصر چھٹ کرسطح پرآئیں اورجس بد اخلاقی وبدکرداری سےوہ انتخاب جیتتےہیں، اسی کی بنیاد پروہ ملک کاانتظام چلائیں- یہ طریقےیک سربدل دینےکےلائق ہیں- ان کےبجائےدوسرےکیا طریقےہو سکتےہیں، جن کےذریعےسےبہترآدمی اوپرآسکیں؟ ان کی ایک مختصر سی تشریح میں آپ کےسامنےکرتاہوں- آپ خود دیکھ لیں کہ آیا ان طریقوں سےنظام حکومت کی اصلاح کی توقع کی جاسکتی ہےیا نہیں؟
دوم ،یہ کہ لوگوں کوایسی تربیت دی جائےجس سےوہ یہ سمجھنےکےقابل ہوسکیں کہ ایک اصلاحی پروگرام کونافذ کرنےکےلیےکس قسم کےآدمی موزوں ہوسکتےہیں اوران میں کیا اخلاقی صفات اورذہنی- صلاحیتیں ہونی چاہییں
سوم' یہ کہ لوگوں کےخود امید وار بن کرکھڑےہونےاورخود روپیہ صرف کرکےووٹ حاصل کرنےکاطریقہ بندہونا چاہیے- کیونکہ اس طرح بالعموم صرف خود غرض لوگ ہی منتخب ہوکرآئیں گے- اس کےبجائے کوئی ایسا طریقہ ہوناچاہیےجس سےہر حلقہ انتخاب کےشریف ومعقول لوگ سوجوڑ کربیٹھیں- کسی موزوں آدمی کو تلاش کرکےاس سےدرخواست کریں کہ وہ ان کی نمائندگی کےلیےتیارہو- اورپھرخود دوڑ دھوپ کرکےاوراپنا مال صرف کرکےاسےکامیاب کرنےکی کوشش کریں- اس طرح جولوگ منتخب ہوں گےوہی بےغرض ہوکراپنےنفس کےلیےنہیں بلکہ ملک کی بہتری کےلیےکام کریں گے
چہارم' یہ کہ جوکارکن اس شخص کوکامیاب کرانےکی جدوجہد کریں، ان سےقسم لی جائےکہ وہ اخلاق کےحدود اورانتخابی ضوابط کی پوری پابندی کریں گے- کسی تعصب کےنام پراپیل نہ کریں گے- کسی کےجواب میں بھی جھوٹ اوربہتان تراشی اورچال بازیوں سےکام نہ لیں گے- کسی کی رائےروپےسےخرید نےیا دباؤ سےحاصل کرنےکی کوشش نہ کریں گے- کوئی جعلی ووٹ نہ بھگتا ئیں گے- خواہ جیتیں یا ہاریں، بہر حال شروع سےآخر تک پوری انتخابی جنگ صداقت اوردیانت کےساتھ با اصول طریقہ سےلڑیں گے- اگراس ملک کےانتخابات میں ان طریقوں کوآزمایاجائےتوجمہوریت کو قریب قریب بالکل پاک کیا جاسکتاہے- اوربدکردارلوگوں کےلیےبرسراقتدارآنےکےدروازےبند کیےجاسکتےہیں- یہ ضروری نہیں کہ ان کےبہترنتائج پہلےہی قدم پر ظاہرہوجائیں- لیکن اگراس رخ پرایک دفعہ انتخابات کو ڈال دیاجائے توجمہوریت کامزاج یکسر تبدیل کیا جاسکتاہے- ممکن ہےکہ ان طریقوں سےنظام حکومت کی واقعی تبدیلی میں پچیس تیس سال صرف ہوجائیں، یا اس سےبھی زیادہ- مگر میں سمجھتا ہوں کہ تبدیلی کاصحیح راستہ یہی ہےاورجوتبدیلی س طریقےسےہوگی وہ ان شاء اللہ پائے دارو مستحکم ہو گی-ا
| کتاب | کرنےکےکام |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |