کرنےکےکام

سوچ کی درستی اوراعلی مقصد زندگی کاشعور

اس کا پہلا جزتطہیرافکار وتعمیرافکارہے- یہ تطہیروتعمیراس مقصد کوسامنےرکھ کرہونی چائی کہ ایک طرف غیراسلامی قدامت کےجنگل کوصاف کرکےاصلی اورحقیقی اسلام کی شاہراہ مستقیم کو نمایاں کیا جائے- دوسری طرف مغربی علوم وفنون اورنظام تہذیب وتمدن پرتنقید کرکےبتایاجائےکہ اس میں کیا کچھ غلط اورقابل ترک ہےاورکیا کچھ صحیح اورقابل اخذ- تیسری طرف وضاحت کےساتھ یہ دکھایا جائےکہ اسلام کےاصولوں کوزمانہ حال کےمسائل ومعاملات پرمنطبق کرکےایک صالح تمدن کی تعمیرکس طرح ہوسکتی ہے اوراس میں ایک ایک شعبہ زندگی کا نقشہ کیا ہوگا؟ اس طریقے سےخیالات بدلیں گےاوران کی تبدیلی سےزندگیوں کا رخ پھرنا شروع ہوگا اورذہنوں کوتعمیر نوکےلیےفکری غذا بہم پہنچےگی

پاکیزہ سیرت وکردار کی تلاش اس کا دوسرا جزوصالح افراد کی تلاش ، تنظیم اورتربیت ہے- اس غرض کےلیےضروری ہےکہ ان آبادیوں سےان مردوں اورعورتوں کوڈھونڈ ڈھونڈکر[ منظم کیا] جائےجوپرانی اورنئی خرابیوں سےپاک ہوں یا اب [ ان خرابیوں سے] پاک ہونےکےلیےتیار ہوں- جن کےاندراصلاح کاجذبہ موجود ہو- جو حق کو حق مان کر اس کےلیےوقت، مال اورمحنت کی کچھ قربانی کرنےپرآمادہ ہوں، خواہ وہ نئےتعلیم یا فتہ ہوں یاپرانے- خواہ وہ عوام میں سےہوں یا خواص میں سےاورخواہ وہ غریب ہوں یا امیر، یا متوسط- ایسےلوگ جہاں کہیں بھی ہوں انھیں گوشہ عافیت سےنکال کرمیدان سعی وعمل میں لانا چاہیے، تاکہ ہمارےمعاشرےمیں جوایک صالح عنصربچا کھچا موجود ہے- مگر منتشرہونےکی وجہ سے، یا جزوی اصلاح کی پراگندہ کوششیں کرنےکی وجہ سےکوئی مفید نتیجہ پیدا نہیں کررہا ہے، وہ ایک مرکزپرجمع ہو اورایک حکیمانہ پروگرام کےمطابق اصلاح و تعمیر کےلیےمنظم کوشش کرسکے

پھرضرورت ہےکہ اس طرح کاایک گروہ بنانےہی پراکتفانہ کیا جائے، بلکہ ساتھ ساتھ ان لوگوں کی ذہنی واخلاقی تربیت بھی کی جائے، تاکہ ان کی فکرزیادہ سےزیادہ ،سلجھی ہوئی-اوران کی سیرت زیادہ سےزیادہ پاکیزہ ، مضبوط اورقابل اعتماد ہو

ہمیں یہ حقیقت کبھی نہ بھولنی چاہیےکہ اسلامی نظام محض کاغذی نقشوں اورزبانی دعووں کےبل پرقائم نہیں ہوسکتا- اس کےقیام اورنفاذ کاسارا انحصار اس پرہےکہ آیا اس کی پشت پرتعمیری صلاحیتیں اورصالح انفرادی سیرتیں موجود ہیں یا نہیں- کاغذی نقشوں کی خامی تواللہ کی توفیق سےعلم اورتجربہ ہروقت رفع کرسکتاہے، لیکن صلاحیت اورصالحیت کافقدان سرےسےکوئی عمارت اٹھا ہی نہیں سکتا اوراٹھا بھی لےتوسہارنہیں سکتا

منظم اورمشترکہ جدوجھد اس کا تیسرا جزہےاجتماعی اصلاح کی سعی- اس میں سوسائٹی کےہرطبقےکی اس کےحالات کےلحاظ سےاصلاح شامل ہے، اوراس کا دائرہ اتنا ہی وسیع ہوسکتاہے، جتنےکام کرنےوالوں کےذرائع وسیع ہوں- اس غرض کےلیےکارکنوں کو ان کی صلاحتیوں کےلحاظ سےمختلف حلقوں میں تقسیم کرناچاہیےاورہرایک کےسپرد وہ کام کرنا چاہیےجس کےلیےوہ اہل ترہو- ان میں سےکوئی، شہری عوام میں کام کرےاورکوئی دیہاتی عوام میں- کوئی کسانوں کی طرف متوجہ ہواورکوئی مزدوروں کی طرف- کوئی متوسط طبقے کوخطاب کرےاورکوئی اونچےطبقےکو- کوئی ملازمین کی اصلاح کےلیےکوشاں ہو اورکوئی تجارت پیشہ اورصنعت پیشہ لوگوں کی اصلاح کےلیے- کسی کی توجہ پرانی درس گاہوں کی طرف ہو اورکسی کی نئے کالجوں کی طرف- کوئی جمود کےقلعوں کوتوڑنےمیں لگ جائےاورکوئی الحاد وفسق کےسیلاب کوروکنےمیں- کوئی شعروادب کےمیدان میں کام کرےاورکوئی علم وتحقیق کےمیدان میں- اگرچہ ان سب کےحلقہ ہائےکارالگ ہوں، مگرسب کےسامنےایک ہی مقصد اورایک ہی اسکیم ہو، جس کی طرف وہ قوم کےسارےطبقوں کوگھیرکرلانےکی کوشش کریں- ان کا متعین نصب العین یہ ہونا چاہیےکہ اس ذہنی ، اخلاقی اورعملی انارکی کو ختم کیا جائے،جو پرانےجمودی اورنئےانفعالی رجحانات کی وجہ سےساری قوم میں پھیلی ہوئی ہے، اورعوام سےلےکرخواص تک ، سب میں صحیح اسلامی فکر،اسلامی سیرت، اورسچےمسلمانوں کی سی عملی زندگی پیدا کی جائے

یہ کام صرف وعظ و تلقین اورنشرواشاعت اورشخصی ربط ومکالمےہی سےنہیں ہونا چاہیے-بلکہ مختلف سمتوں میں باقاعدہ تعمیری پروگرام بناکرپیش قدمی کرنی چاہیے- مثلا: یہ عاملین اصلاح جہاں کہیں اپنی تبلیغ سےچند آدمیوں کوہم خیال بنانےمیں کامیاب ہوجائیں، وہاں وہ انھیں ملا کرایک مقامی تنظیم قائم کردیں اورپھر ان کی مدد سےایک پروگرام کو عمل میں لانےکی کوشش شروع کردیں جس کےچند اجزایہ ہیں

بستی کی مسجدوں کی اصلاح حال- عام باشندوں کو اسلام کی بنیادی تعلیمات سےروشناس کرانا- تعلیم بالغاں کا انتظام – کم ازکم ایک دارالمطالعےکاقیام-لوگوں کوظلم وستم سےبچانےکےلیےاجتماعی جدوجہد – باشندوں کےتعاون سےصفائی اورحفظان صحت کی کوشش – بستی کےیتیموں ،بیواؤں، معذوروں اورغریب طالب علموں کی فہرستیں مرتب کرنا اورجن جن طریقوں سےممکن ہوان کی مدد کاانتظام کرنا-اوراگرذرائع فراہم ہوجائیں توکوئی پرائمری اسکول، یا ہائی اسکول یا دینی تعلیم کاایسا مدرسہ قائم کرنا، جس میں تعلیم کےساتھ اخلاقی تربیت کابھی انتظام ہو

اسی طرح مثلا جولوگ مزدوروں میں کام کریں، وہ عملا ان کےمسائل کوحل کرنےکی

سعی بھی کریں- انہیں ایسی مزدورتنظیمات قائم کرنی چاہییں جن کا مقصد انصاف کاقیام ہو، نہ کہ ذرائع پیداوار کوقومی مللکیت بنانا-ان کامسلک جائزاورمعقول حقوق کےحصول کی جدوجہد ہو، نہ کہ طبقاتی کشمکش- ان کا طریق کاراخلاقی اورآئینی ہو، نہ کہ توڑپھوڑاورتخریب- ان کےپیش نظرصرف اپنےحقوق ہی نہ ہوں، بلکہ اپنےفرائض بھی ہوں- جومزدوریا کارکن بھی ان میں شامل ہوں، ان پریہ شرط عائد ہونی چاہیےکہ وہ ایمان داری کےساتھ اپنےحصےکافرض ضرورادا کریں گے- پھران کادائرہ عمل صرفاپنےطبقے سےبھی تعلق رکھتی ہوں اس کی دینی ،اخلاقی اورمعاشرتی حالت کوبھی درست کرنےکی کوشش کرتی رہیں

اس عمومی اصلاح کےپورےلائحہ عمل کابنیادی اصول یہ ہےکہ جوشخص، جس حلقےاورطبقے میں بھی کام کرے، مسلسل اورمنظم طریقےسےکرےاوراپنی سعی کوایک نتیجےتک پہنچائےبغیرنہ چھوڑے- ہمارا طریقہ یہ نہ ہونا چاہیےکہ ہوا کےپرندوں اورآندھی کےجھکڑوں کی طرح بیج پھینکتےچلےجائیں- اس کےبرعکس ہمیں کسان کی طرح کام کرنا چاہیے،جوایک متعین رقبےکولیتا ہے، پھرزمین کی تیاری سےلےکرفصل کی کٹائی تک مسلسل کام کرکےاپنی محنتوں کو ایک نتیجےتک پہنچا کردم لیتا ہے- پہلےطریقےسےجنگل پیدا ہوتےہیں اوردوسرےطریقے سےباقاعدہ کھیتیاں تیارہواکرتی ہیں

کتاب کرنےکےکام
مصنف مولاناابوالاعلی مودودی
تاریخ اشاعت None
پبلشرز ادارہ
ٹیگ

Responsibility