خرابی کادائرہماری قومی زندگی کےہرشعبےمیں پھیلاہواہے- جوخرابیاں بھی آج پائی جاتی ہیں' ان میں سےہرایک [متعدد] اسباب سےنشوونما پاتی ہوئی اس حالت تک پہنچی ہےکہ اس کی جڑہماری تاریخ اورروایات اورنظام تعلیم وتمدن وسیاست میں[ نہایت] گہری ہے۔ اورمختلف شعبوں کی یہ ساری خرابیاں مل جل کرایک دوسرےکوسہارا دےرہی ہیں- میں نہیں سمجھتا کہ کسی صاحب بصیرت آدمی کویہ تسلیم کرنےمیں کچھ بھی تامل ہوگا کہ ان حالات میں جزوی اصلاح کی کوئی تدبیرنتیجہ خیزنہیں ہوسکتی
اسی طرح اگرآپ چاہیں کہ موجودہ نظام توان ہی بنیادوں پرقائم رہے' مگراخلاق ، یا معاشرت، یامعیشت،یانظم ونسق، یاسیاست کی موجودہ خرابیوں میں سےکسی کی اصلاح ہوجائے،تویہ بھی کسی تدبیرسےممکن نہیں ہے- کیونکہ ان میں سےہرچیزموجودہ نظام زندگی کی بنیادی خرابیوں کی آفریدہ اورپروردہ ہے، اورہرخرابی کودوسری بہت سی خرابیوں سےسہارا مل رہاہے- ایسےحالات میں ایک جامع فساد کورفع کرنےکےلیےایک جامع پروگرام ناگزیرہے، جوجڑ سےلےکرشاخوں تک پورےتواذن کےساتھ اصلاح کاعمل جاری کرے
مسلسل تجربےنےیہ بات ثابت کردی ہےکہ اسلام اورجاہلیت کایہ ملا جلا مرکب' جواب تک ہمارا نظام حیات بنا رہا ہے،زیادہ دیرتک نہیں چل سکتا- یہ اگرچلتا رہاتودنیا میں بھی ہماری کامل تباہی کاموجب ہوگا اورآخرت میں بھی-اس لیےکہ اسی کی وجہ سےہم اس حالت میں مبتلا ہیں کہ
نہ ہم امریکا اورروس اوربرطانیہ کی طرح پوری یک سوئی کےساتھ اپنی دنیا ہی بنا سکتےہیں، کیونکہ ایمان واسلام سےہمارا جوتعلق قائم ہےوہ ہمیں اس راستے پربےمحابا نہیں چلنےدیتا، اورنہ ہم ایک سچی مسلمان قوم کی طرح اپنی آخرت ہی بنا سکتےہیں، کیونکہ یہ کام ہمیں وہ جاہلیت نہیں کرنےدیتی، جس کےبےشمار فتنےہم نےاپنےاندرپال رکھےہیں
اس دودلی کی وجہ سےہم کسی چیز کاحق بھی پوری طرح ادا نہیں کرسکتے- نہ دنیا پرستی کا، نہ خدا پرستی کا، اس کی وجہ سےہمارا ہرکام ، خواہ دینی ہویا دنیوی ، دومتضاد افکار اوررجحانات کی رزم گاہ بنا رہتا ہے-جن میں سےہرایک دوسرےکاتوڑ کرتاہےاورکسی فکر ورجحان کےمطالبےبھی کما حقہ پورےنہیں ہونےپاتے- یہ حالت بہت جلد ختم کردینےکےلائق ہے- اگرہم اپنےدشمن نہیں ہیں تو ہمیں بہرحال یکسو ہوجانا چاہیے
اس یک سوئی کی صرف دوہی صورتیں ممکن ہیں- ہم کودیکھنا ہےکہ ہم میں سےکون کس صورت کوپسند کرتاہے؟
اس کی ایک صورت یہ ہےکہ ہمارےسابق [مغربی] حکمرانوں نےاوران کی غالب تہذیب نےجس راستےپر اس ملک کوڈالا تھا ، اسی کو اختیار کرلیا جائے اورپھرخدا اورآخرت اوردین اوردینی تہذیب واخلاق کاخیال چھوڑ کرایک خالص مادہ پرستانہ تہذیب کونشوونما دیا جائے، تاکہ یہ ملک بھی ایک دوسرا روس یا امریکا بن سکے- مگرعلاوہ اس کےکہ یہ راہ غلط ہے، خلاف حق ہےاورتباہ کن ہے، میں کہوں گا کہ پاکستان میں اس کا کامیاب ہونا ممکن بھی نہیں ہے- اس لیے کہ یہاں کی نفسیات اورروایات میں اسلام کی محبت اورعقیدت اتنی گہری جڑیں رکھتی ہے، کہ انہیں اکھاڑ پھینکنا کسی انسانی طاقت کےبس کاکام نہیں ہے- تاہم جولوگ اس راستےپرجانا چاہتےہیں وہ اس گفتگو کےمخاطب نہیں ہیں
یکسوئی کی دوسری صورت یہ ہے کہ ہم اپنی انفرادی اورقومی زندگی کےلیےاس راہ کا انتخاب کرلیں، جوقرآن اورسنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےہم کودکھائی ہے- یہی ہم چاہتےہیں، اور یہی ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی مسلم آبادی کےکم ازکم 999فی ہزار باشندےچاہتےہیں، اوریہی ہراس شخص کو چاہنا چاہیےجوخدا اوررسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتا ہواورموت کےبعد کی زندگی کاقائل ہو- مگر جولوگ بھی اس راہ کےپسند کرنےوالےہوں، انہیں یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیےکہ جن حالات سےہم گزرتےہوئے آرہےہیں، اورجن میں اس وقت ہم گھرےہوئے ہیں، ان میں تنہا اسلام اورخالص اسلام کوپاکستان کا رہنما فلسفہ حیات اورغالب نظام زندگی بنانا کوئی آسان کام نہیں ہے
اس کےلیے ضروری ہےکہ ہم اسلام اورغیراسلامی قدامت کی اس آمیزش کو، جسےصدیوں کی روایات نےپختہ کررکھا ہے، تحلیل کریں اورقدامت کےاجزاء کوالگ کرکے خالص اسلام کےاس جوہرکولےلیں، جوقرآن اورسنت کےمعیار پرجوہراسلام ثابت ہو- ظاہرہےکہ یہ کام ہمارےان گروہوں کی مزاحمت ، اورسخت مزاحمت کےبغیر نہیں ہوسکتا جوقدامت کےکسی نہ کسی جزکے ساتھ گہری وابستگی رکھتےہیں
اس کےلیےیہ بھی ضروری ہے کہ ہم مغرب کی حقیقی تمدنی و علمی ترقیات کو اس کے فلسفہ حیات اورانداز فکر اوراخلاق ومعاشرت کی گمراہیوں سےالگ کریں اورپہلی چیز کولےکر دوسری چیز کو بالکلیہ اپنےہاں سےخارج کردیں- ظاہرہےکہ اسےہمارےوہ گروہ برادشت نہیں کرسکتے، جہنوں نےخالص مغربیت کو، اسلام کےکسی نہ کسی مغربی ایڈیشن کو اپنا دین بنا رکھاہے
اس کےلیےیہ بھی ضروری ہےکہ ایسےلوگ فراہم ہوں اورمنظم طریقے سےکام کریں، جواسلامی ذہنیت کےساتھ تعمیری صلاحیتیں بھی رکھتےہوں- پھرمضبوط سیرت اورصالح اخلاق اورمستحکم ارادےکےمالک بھی ہوں- ظاہرہےکہ یہ جنس ہمارےہاں ویسےہی کم یاب ہے، پھراس دل گردےکےلوگ آخرکہاں آسانی سےملا کرتےہیں جوسیاسی اورمعاشی چوٹ بھی سہیں، فتووں کی مار بھی برداشت کریں، اورجھوٹےالزامات کی چوطرفہ بارش کامقابلہ بھی پورے صبروسکون کےساتھ کرتےچلےجائیں
ان سب شرطوں کےبعد یہ بھی ضروری ہے کہ اسلام کونظام غالب بنانےکی تحریک اسی طرح ایک ہمہ گیرسیلاب کےمانند اٹھے، جس طرح مغربی تہذیب یہاں سیلاب کےمانند آئی اورزندگی کےہرشعبےپرچھا گئی- اس ہمہ گیری اورسیلابیت کےبغیرنہ یہ ممکن ہےکہ مغربی تہذیب کوغلبہ واقتدار سےبےدخل کیا جاسکے، اورنہ یہ ہی ممکن ہےکہ نظام تعلیم ، نظام قانون، نظام معیشت اورنظام سیاست کوبدل کرایک دوسرا تمدن خالص اسلامی بنیادوں پرتعمیرکیا جا سکے- یہی کچھ ہم چاہتےہیں
ہمارےپیش نظر، پاکستان کےمسلمانوں کی پرانی قومی تہذیب کااحیا نہیں، بلکہ اسلام کا احیاہے- ہم علوم جدیدہ اور ان کی پیدا کی ہوئی ترقیات کےمخالف نہیں، بلکہ اس نظام تہذیب وتمدن کےباغی ہیں جومغربی فلسفہ زندگی اورفلسفہ اخلاق کاپیدا کردہ ہے
ہم دودواورچارچار[روپے] والےممبربھرتی کرکےکوئی سیاسی کھیل کھیلنا نہیں چاہتےبلکہ اپنی قوم میں سےچھانٹ چھانٹ کرایسےلوگوں کومنظم کرنا چاہتےہیں، جوقرآن و سنت کےحقیقی اسلام کویہاں کاغالب نظام زندگی بنانےکےلیےقدامت اورجدت دونوں سےلڑنےپرتیارہوں- ہم زندگی کےکسی ایک جزیابعض اجزامیں کچھ اسلامی رنگ پیدا کردینےکےقائل نہیں ہیں، بلکہ اس بات کےدرپےہیں کہ پورا اسلام پوری زندگی پرحکمران ہو، انفرادی سیرتوں اورگھرکی معاشرت پرحکمراں ہو، تعلیم کےاداروں پرحکمران ہو، قانون کی عدالتوں پرحکمراں ہو، سیاست کےایوانوں پر حکمران ہو، نظم و نسق کےمحکموں پرحکمران ہواورمعاشی دولت کی پیدا واراورتقسیم پر حکمران ہو
اسلام کےاس ہمہ گیرتسلط ہی سےیہ ممکن ہوسکتاہےکہ پاکستان یک سوہوکران روحانی ، اخلاقی، اورمادی فوائد سےپوری طرح متمتع ہو، جورب العالمین کی دی ہوئی ہدایت پرچلنےکالازمی اورفطری نتیجہ ہیں، اورپھراسی سےیہ امید کی جاسکتی ہےکہ یہ ملک تمام مسلم ممالک کےلیے دعوت الی الخیر کااورتمام دنیا کےلیےہدایت کامرکزبن جائے
اس کا پہلا جزتطہیرافکار وتعمیرافکارہے- یہ تطہیروتعمیراس مقصد کوسامنےرکھ کرہونی چائی کہ ایک طرف غیراسلامی قدامت کےجنگل کوصاف کرکےاصلی اورحقیقی اسلام کی شاہراہ مستقیم کو نمایاں کیا جائے- دوسری طرف مغربی علوم وفنون اورنظام تہذیب وتمدن پرتنقید کرکےبتایاجائےکہ اس میں کیا کچھ غلط اورقابل ترک ہےاورکیا کچھ صحیح اورقابل اخذ- تیسری طرف وضاحت کےساتھ یہ دکھایا جائےکہ اسلام کےاصولوں کوزمانہ حال کےمسائل ومعاملات پرمنطبق کرکےایک صالح تمدن کی تعمیرکس طرح ہوسکتی ہے اوراس میں ایک ایک شعبہ زندگی کا نقشہ کیا ہوگا؟ اس طریقے سےخیالات بدلیں گےاوران کی تبدیلی سےزندگیوں کا رخ پھرنا شروع ہوگا اورذہنوں کوتعمیر نوکےلیےفکری غذا بہم پہنچےگی
پاکیزہ سیرت وکردار کی تلاش اس کا دوسرا جزوصالح افراد کی تلاش ، تنظیم اورتربیت ہے- اس غرض کےلیےضروری ہےکہ ان آبادیوں سےان مردوں اورعورتوں کوڈھونڈ ڈھونڈکر[ منظم کیا] جائےجوپرانی اورنئی خرابیوں سےپاک ہوں یا اب [ ان خرابیوں سے] پاک ہونےکےلیےتیار ہوں- جن کےاندراصلاح کاجذبہ موجود ہو- جو حق کو حق مان کر اس کےلیےوقت، مال اورمحنت کی کچھ قربانی کرنےپرآمادہ ہوں، خواہ وہ نئےتعلیم یا فتہ ہوں یاپرانے- خواہ وہ عوام میں سےہوں یا خواص میں سےاورخواہ وہ غریب ہوں یا امیر، یا متوسط- ایسےلوگ جہاں کہیں بھی ہوں انھیں گوشہ عافیت سےنکال کرمیدان سعی وعمل میں لانا چاہیے، تاکہ ہمارےمعاشرےمیں جوایک صالح عنصربچا کھچا موجود ہے- مگر منتشرہونےکی وجہ سے، یا جزوی اصلاح کی پراگندہ کوششیں کرنےکی وجہ سےکوئی مفید نتیجہ پیدا نہیں کررہا ہے، وہ ایک مرکزپرجمع ہو اورایک حکیمانہ پروگرام کےمطابق اصلاح و تعمیر کےلیےمنظم کوشش کرسکے
پھرضرورت ہےکہ اس طرح کاایک گروہ بنانےہی پراکتفانہ کیا جائے، بلکہ ساتھ ساتھ ان لوگوں کی ذہنی واخلاقی تربیت بھی کی جائے، تاکہ ان کی فکرزیادہ سےزیادہ ،سلجھی ہوئی-اوران کی سیرت زیادہ سےزیادہ پاکیزہ ، مضبوط اورقابل اعتماد ہو
ہمیں یہ حقیقت کبھی نہ بھولنی چاہیےکہ اسلامی نظام محض کاغذی نقشوں اورزبانی دعووں کےبل پرقائم نہیں ہوسکتا- اس کےقیام اورنفاذ کاسارا انحصار اس پرہےکہ آیا اس کی پشت پرتعمیری صلاحیتیں اورصالح انفرادی سیرتیں موجود ہیں یا نہیں- کاغذی نقشوں کی خامی تواللہ کی توفیق سےعلم اورتجربہ ہروقت رفع کرسکتاہے، لیکن صلاحیت اورصالحیت کافقدان سرےسےکوئی عمارت اٹھا ہی نہیں سکتا اوراٹھا بھی لےتوسہارنہیں سکتا
منظم اورمشترکہ جدوجھد اس کا تیسرا جزہےاجتماعی اصلاح کی سعی- اس میں سوسائٹی کےہرطبقےکی اس کےحالات کےلحاظ سےاصلاح شامل ہے، اوراس کا دائرہ اتنا ہی وسیع ہوسکتاہے، جتنےکام کرنےوالوں کےذرائع وسیع ہوں- اس غرض کےلیےکارکنوں کو ان کی صلاحتیوں کےلحاظ سےمختلف حلقوں میں تقسیم کرناچاہیےاورہرایک کےسپرد وہ کام کرنا چاہیےجس کےلیےوہ اہل ترہو- ان میں سےکوئی، شہری عوام میں کام کرےاورکوئی دیہاتی عوام میں- کوئی کسانوں کی طرف متوجہ ہواورکوئی مزدوروں کی طرف- کوئی متوسط طبقے کوخطاب کرےاورکوئی اونچےطبقےکو- کوئی ملازمین کی اصلاح کےلیےکوشاں ہو اورکوئی تجارت پیشہ اورصنعت پیشہ لوگوں کی اصلاح کےلیے- کسی کی توجہ پرانی درس گاہوں کی طرف ہو اورکسی کی نئے کالجوں کی طرف- کوئی جمود کےقلعوں کوتوڑنےمیں لگ جائےاورکوئی الحاد وفسق کےسیلاب کوروکنےمیں- کوئی شعروادب کےمیدان میں کام کرےاورکوئی علم وتحقیق کےمیدان میں- اگرچہ ان سب کےحلقہ ہائےکارالگ ہوں، مگرسب کےسامنےایک ہی مقصد اورایک ہی اسکیم ہو، جس کی طرف وہ قوم کےسارےطبقوں کوگھیرکرلانےکی کوشش کریں- ان کا متعین نصب العین یہ ہونا چاہیےکہ اس ذہنی ، اخلاقی اورعملی انارکی کو ختم کیا جائے،جو پرانےجمودی اورنئےانفعالی رجحانات کی وجہ سےساری قوم میں پھیلی ہوئی ہے، اورعوام سےلےکرخواص تک ، سب میں صحیح اسلامی فکر،اسلامی سیرت، اورسچےمسلمانوں کی سی عملی زندگی پیدا کی جائے
یہ کام صرف وعظ و تلقین اورنشرواشاعت اورشخصی ربط ومکالمےہی سےنہیں ہونا چاہیے-بلکہ مختلف سمتوں میں باقاعدہ تعمیری پروگرام بناکرپیش قدمی کرنی چاہیے- مثلا: یہ عاملین اصلاح جہاں کہیں اپنی تبلیغ سےچند آدمیوں کوہم خیال بنانےمیں کامیاب ہوجائیں، وہاں وہ انھیں ملا کرایک مقامی تنظیم قائم کردیں اورپھر ان کی مدد سےایک پروگرام کو عمل میں لانےکی کوشش شروع کردیں جس کےچند اجزایہ ہیں
بستی کی مسجدوں کی اصلاح حال- عام باشندوں کو اسلام کی بنیادی تعلیمات سےروشناس کرانا- تعلیم بالغاں کا انتظام – کم ازکم ایک دارالمطالعےکاقیام-لوگوں کوظلم وستم سےبچانےکےلیےاجتماعی جدوجہد – باشندوں کےتعاون سےصفائی اورحفظان صحت کی کوشش – بستی کےیتیموں ،بیواؤں، معذوروں اورغریب طالب علموں کی فہرستیں مرتب کرنا اورجن جن طریقوں سےممکن ہوان کی مدد کاانتظام کرنا-اوراگرذرائع فراہم ہوجائیں توکوئی پرائمری اسکول، یا ہائی اسکول یا دینی تعلیم کاایسا مدرسہ قائم کرنا، جس میں تعلیم کےساتھ اخلاقی تربیت کابھی انتظام ہو
سعی بھی کریں- انہیں ایسی مزدورتنظیمات قائم کرنی چاہییں جن کا مقصد انصاف کاقیام ہو، نہ کہ ذرائع پیداوار کوقومی مللکیت بنانا-ان کامسلک جائزاورمعقول حقوق کےحصول کی جدوجہد ہو، نہ کہ طبقاتی کشمکش- ان کا طریق کاراخلاقی اورآئینی ہو، نہ کہ توڑپھوڑاورتخریب- ان کےپیش نظرصرف اپنےحقوق ہی نہ ہوں، بلکہ اپنےفرائض بھی ہوں- جومزدوریا کارکن بھی ان میں شامل ہوں، ان پریہ شرط عائد ہونی چاہیےکہ وہ ایمان داری کےساتھ اپنےحصےکافرض ضرورادا کریں گے- پھران کادائرہ عمل صرفاپنےطبقے سےبھی تعلق رکھتی ہوں اس کی دینی ،اخلاقی اورمعاشرتی حالت کوبھی درست کرنےکی کوشش کرتی رہیں
اس عمومی اصلاح کےپورےلائحہ عمل کابنیادی اصول یہ ہےکہ جوشخص، جس حلقےاورطبقے میں بھی کام کرے، مسلسل اورمنظم طریقےسےکرےاوراپنی سعی کوایک نتیجےتک پہنچائےبغیرنہ چھوڑے- ہمارا طریقہ یہ نہ ہونا چاہیےکہ ہوا کےپرندوں اورآندھی کےجھکڑوں کی طرح بیج پھینکتےچلےجائیں- اس کےبرعکس ہمیں کسان کی طرح کام کرنا چاہیے،جوایک متعین رقبےکولیتا ہے، پھرزمین کی تیاری سےلےکرفصل کی کٹائی تک مسلسل کام کرکےاپنی محنتوں کو ایک نتیجےتک پہنچا کردم لیتا ہے- پہلےطریقےسےجنگل پیدا ہوتےہیں اوردوسرےطریقے سےباقاعدہ کھیتیاں تیارہواکرتی ہیں
اس لائحہ عمل کاچوتھا جزنظام حکومت کی اصلاح ہے- ہم یہ سمجھتےہیں کہ زندگی کےموجودہ بگاڑ کودورکرنےکی کوئی تدبیر بھی کامیاب نہیں ہوسکتی- جب تک کہ اصلاح کی دوسری کوششوں کےساتھ ساتھ نظام حکومت کو درست کرنےکی کوشش بھی نہ کی جائے- اس لیےکہ تعلیم ، قانون، نظم ونسق اورتقسیم رزق کی طاقتوں کےبل پرجوبگاڑاپنےاثرات پھیلا رہا ہو، اس کےمقابلےمیں بناؤ اورسنوارکی وہ تدبیریں جوصرف وعظ اورتلقین کےذرائع پرمنحصرہوں، کبھی کارگرنہیں ہوسکتیں
لہذا ، اگرہم فی الواقع اپنےملک کےنظام زندگی کو فسق وضلالت کی راہ سےہٹا کردین حق کی صراط مستقیم پرچلانا چاہتےہیں توہمارےلیےناگزیر ہےکہ[ بگاڑ کو] مسند اقتدار سےہٹانےاوربناؤ کو اس کی جگہ متمکن کرنےکی براہ راست کوشش کریں- ظاہرہےکہ اگر اہل خیروصلاح کےہاتھ میں اقتدار ہوتووہ تعلیم- اورقانون اورنظم ونسق کی پالیسی کوتبدیل کرکےچند سال کےاندروہ کچھ کرڈالیں گے، جوغیر سیاسی تدبیروں سےایک صدی میں بھی نہیں ہوسکتا
جمھوری اورانتخابی راستہ یہ تبدیلی کس طرح ہوسکتی ہے؟ ایک جمہوری نظام میں اس کا راستہ صرف ایک ہے، اوروہ ہےانتخابات کاراستہ- رائےعام کی تربیت کی جائے، عوام کےمعیار انتخاب کوبدلا جائے-انتخاب کےطریقوں کی اصلاح کی جائے، اورپھرایسےصالح لوگوں کواقتدارکےمقام پرپہنچایا جائے، جو ملک کےنظام کو خالص اسلام کی بنیادوں پرتعمیر کرنےکا ارادہ بھی رکھتےہوں اورقابلیت بھی- ہماری تشخیص یہ ہےکہ اس ملک کےسیاسی نظام کی خرابیوں کابنیادی سبب یہاں کےطریق انتخاب کی خرابی ہے- جب انتخاب کا موسم آتاہےتومنصب وجاہ کےخواہش مند لوگ اٹھ کھڑےہوتےہیں اوردوڑ دھوپ کرکےیا توکسی پارٹی کاٹکٹ حاصل کرتےہیں یا آزاد امیدوار کی حیثیت سےاپنےلیےکوشش شروع کردیتےہیں- اس کوشش میں وہ کسی اخلاق اورکسی ضابطےکےپابندنہیں ہوتے-کسی جھوٹ ، کسی فریب، کسی چال،کسی دباؤاورکسی ناجائزسےناجائز ہتھکنڈےکےاستعمال میں بھی ان کےدریغ نہیں ہوتا- جسےلالچ دیا جاسکتاہے، اس کاووٹ لالچ سےخریدتےہیں- جسےدھمکی سےمرعوب کیا جاسکتاہے، اس کا ووٹ دھمکی سےلیتےہیں اور جس کوکسی تعصب کی بنا پراپیل کیا جا سکتاہے، اس کا ووٹ تعصب کےنام پرمانگتےہیں
گندا سیاسی عمل اوراصلاح کا راستہ اس گندے کھیل کےمیدان میں قوم کےشریف عناصر اول تواترتےہی نہیں ، اوربھولےبھٹکےاگروہ کبھی اترآتےہیں توپہلےہی قدم پرانھیں میدان چھوڑدینا پڑتاہے- مقابلہ صرف ان لوگوں کےدرمیان رہ جاتاہے، جنہیں نہ خدا کاخوف ہو، نہ خلق کی شرم، اورنہ کوئی بازی کھیل جانےمیں کسی طرح کاباک – پھران میں سےکامیاب ہوکروہ نکلتا ہے، جوسب جھوٹوں کوجھوٹ میں اور سب چال بازوں کو چال بازی میں شکست دے رائےدینےوالی عوام جس کےووٹوں سےیہ لوگ کامیاب ہوتےہیں، نہ اصولوں کو جانچتی ہے، نہ پروگراموں کوپرکھتی ہے، نہ سیرتوں اورصلاحیتوں کودیکھتی ہے- اس سےجو بھی زیادہ ووٹ جھپٹ لےجائے، وہ بازی جیت لیتا ہے- بلکہ اب تواس کےحقیقی ووٹوں کی اکثریت بھی کوئی چیزنہیں رہی ہے- کرائےپرووٹ دینےوالےجعلی ووٹر، اوربددیانت پولنگ افسراپنےہاتھوں کےکرتب سےبارہا ان لوگوں کوشکست دےدیتےہیں، جن کواصل رائےدہندوں کی اکثریت کااعتماد حاصل ہوتاہے- بسا اوقات انتخاب کی نوبت بھی نہیں آنےپاتی- ایک بےضمیر مجسٹریٹ کسی ذاتی دلچپسی کی بنا پریاکسی کااشارہ پاکرتمام امیدواروں کوبیک جنبش قلم میدان سےہٹا دیتاہے اورمنظورنظرآدمی بلامقابلہ پورےحلقہ انتخاب کانمائندہ بن جاتاہے خواہ وہ واقعی نمائندہ ہویا نہ ہو
طریق انتخاب کی اصلاح ہرشخص جوکچھ بھی عقل رکھتاہے، ان حالات کودیکھ کرخود یہ اندازہ کرسکتاہے' کہ جب تک یہ طریق انتخاب جاری ہے، کبھی قوم کےشریف اورنیک اورایمان دارآدمیوں کےابھرنےکاامکان ہی نہیں ہے- اس طریقے کا تو مزاج ہی ایسا ہےکہ قوم کےبدتر سےبدترعناصر چھٹ کرسطح پرآئیں اورجس بد اخلاقی وبدکرداری سےوہ انتخاب جیتتےہیں، اسی کی بنیاد پروہ ملک کاانتظام چلائیں- یہ طریقےیک سربدل دینےکےلائق ہیں- ان کےبجائےدوسرےکیا طریقےہو سکتےہیں، جن کےذریعےسےبہترآدمی اوپرآسکیں؟ ان کی ایک مختصر سی تشریح میں آپ کےسامنےکرتاہوں- آپ خود دیکھ لیں کہ آیا ان طریقوں سےنظام حکومت کی اصلاح کی توقع کی جاسکتی ہےیا نہیں؟
دوم ،یہ کہ لوگوں کوایسی تربیت دی جائےجس سےوہ یہ سمجھنےکےقابل ہوسکیں کہ ایک اصلاحی پروگرام کونافذ کرنےکےلیےکس قسم کےآدمی موزوں ہوسکتےہیں اوران میں کیا اخلاقی صفات اورذہنی- صلاحیتیں ہونی چاہییں
سوم' یہ کہ لوگوں کےخود امید وار بن کرکھڑےہونےاورخود روپیہ صرف کرکےووٹ حاصل کرنےکاطریقہ بندہونا چاہیے- کیونکہ اس طرح بالعموم صرف خود غرض لوگ ہی منتخب ہوکرآئیں گے- اس کےبجائے کوئی ایسا طریقہ ہوناچاہیےجس سےہر حلقہ انتخاب کےشریف ومعقول لوگ سوجوڑ کربیٹھیں- کسی موزوں آدمی کو تلاش کرکےاس سےدرخواست کریں کہ وہ ان کی نمائندگی کےلیےتیارہو- اورپھرخود دوڑ دھوپ کرکےاوراپنا مال صرف کرکےاسےکامیاب کرنےکی کوشش کریں- اس طرح جولوگ منتخب ہوں گےوہی بےغرض ہوکراپنےنفس کےلیےنہیں بلکہ ملک کی بہتری کےلیےکام کریں گے
چہارم' یہ کہ جوکارکن اس شخص کوکامیاب کرانےکی جدوجہد کریں، ان سےقسم لی جائےکہ وہ اخلاق کےحدود اورانتخابی ضوابط کی پوری پابندی کریں گے- کسی تعصب کےنام پراپیل نہ کریں گے- کسی کےجواب میں بھی جھوٹ اوربہتان تراشی اورچال بازیوں سےکام نہ لیں گے- کسی کی رائےروپےسےخرید نےیا دباؤ سےحاصل کرنےکی کوشش نہ کریں گے- کوئی جعلی ووٹ نہ بھگتا ئیں گے- خواہ جیتیں یا ہاریں، بہر حال شروع سےآخر تک پوری انتخابی جنگ صداقت اوردیانت کےساتھ با اصول طریقہ سےلڑیں گے- اگراس ملک کےانتخابات میں ان طریقوں کوآزمایاجائےتوجمہوریت کو قریب قریب بالکل پاک کیا جاسکتاہے- اوربدکردارلوگوں کےلیےبرسراقتدارآنےکےدروازےبند کیےجاسکتےہیں- یہ ضروری نہیں کہ ان کےبہترنتائج پہلےہی قدم پر ظاہرہوجائیں- لیکن اگراس رخ پرایک دفعہ انتخابات کو ڈال دیاجائے توجمہوریت کامزاج یکسر تبدیل کیا جاسکتاہے- ممکن ہےکہ ان طریقوں سےنظام حکومت کی واقعی تبدیلی میں پچیس تیس سال صرف ہوجائیں، یا اس سےبھی زیادہ- مگر میں سمجھتا ہوں کہ تبدیلی کاصحیح راستہ یہی ہےاورجوتبدیلی س طریقےسےہوگی وہ ان شاء اللہ پائے دارو مستحکم ہو گی-ا
| کتاب | کرنےکےکام |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |