سید احمد بریلوی اور شاہ اسمعیل شہید یہی وجہ ہے کہ شاہ ولی اللہ صاحب کی وفات پر پوری نصف صدی بھی نہ گزری تھی کہ ہندوستان میں ایک تحریک اٹھ کھڑی ہوئی جس کا نصب العین وہی تھا جو شاہ صاحب نگاہوں کےسامنے روشن کر کے رکھ گئے تھے۔ سید صاحب کے خطوط اور ملفوظات‘ اور شاہ اسمعیل شہید کی منصب امامت، عبقات تقویۃ الایمان اور دوسری تحریریں دیکھئے۔ دونوں جگہ وہی شاہ ولی اللہ صاحب کی زبان بولتی نظر آتی ہے۔ شاہ صاحب نے عملاً جو کچھ کیا وہ یہ تھا کہ حدیث اور قرآن کی تعلیم اور اپنی شخصیت کی تاثیر سے صحیح الخیال اور صالح لوگوں کی ایک کثیر تعداد پیدا کر دی۔ پھر ان کے چاروں صاحبزادوں نے، خصوصاً شاہ عبدالعزیز صاحب نے اس حلقہ کو بہت زیادہ وسیع کیا یہاں تک کہ ہزار ہا ایسے آدمی ہندوستان کے گوشے گوشے میں پھیل گئے جن کے اندرشاہ صاحب کے خیالات نفوذ کئے ہوئے تھے، جن کے دماغوں میں اسلام کی صحیح تصویر اتر چکی تھی۔ اور جو اپنےعلم وفضل اور اپنی عمدہ سیرت کی وجہ سے عام لوگوں میں شاہ صاحب اور ان کے حلقے کا اثر قائم ہونے کا ذریعہ بن گئے تھے۔ اس چیز نے اس تحریک کے لیے گویا زمین تیار کر دی، جو بالآخر شاہ صاحب ہی کے حلقے سے بلکہ یوں کہیے کہ ان کے گھر سے اٹھنے والی تھی۔
سید صاحب اور شاہ اسمعیل صاحب دونوں روحا و معنی ایک وجود رکھتے ہیں، اور اس وجود متحد کو میں مستقل بالذات مجدد نہیں سمجھتا بلکہ شاہ ولی اللہ صاحب کی تجدید کا تمہ سمجھتا ہوں۔ ان حضرات کے کارنامے کا خلاصہ یہ ہے۔
١- سید صاحب ۲۰۱ ھ (۱۷۸۶ء) میں پیدا ہوئے اور ۱۲۴۶ھ (۱۸۳۱ء) میں شہادت پائی۔ شاہ اسمعیل صاحب ۱۱۹۳ھ (۱۷۷۹ء) میں پیدا ہوئے ۔ ۱۲۴۶ھ (۱۸۳۱ء) میں شہادت پائی۔ انقلابی تحریک کی چنگاری سید صاحب کے دل میں غالباً ، ۱۸۱ ھ کے لگ بھگ زمانے ہی میں بھڑک اٹھی تھی۔
(۱) انہوں نے عامہ خلائق کے دین اخلاق اور معاملات کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا اور جہاں جہاں ان کے اثرات پہنچ سکے وہاں زندگیوں میں ایسا زبردست انقلاب رونما ہوا کہ صحابہ کرام کے دور کی یاد تازہ ہوگئی۔
(۲) انہوں نے اتنے وسیع پیمانے پر جو انیسویں صدی کے ابتدائی دور میں ہندوستان جیسے برسر تنزل ملک میں بمشکل ہی ممکن ہو سکتا تھا، جہاد کی تیاری کی اور اس تیاری میں اپنی تنظیمی قابلیت کا کمال ظاہر کر دیا۔ پھر غایت تدبر کے ساتھ آغاز کار کے لیے شمال مغربی ہندوستان کو منتخب کیا جو ظاہر ہے کہ جغرافی و سیاسی حیثیت سے اس کام کے لیے موزوں ترین خطہ ہو سکتا تھا۔پھر اس جہاد میں ٹھیک وہی اصول اخلاق اور قوانین جنگ استعمال کیے جن سے ایک دنیا پرست جنگ آزما کے مقابلہ میں ایک مجاہد فی سبیل اللہ ممتاز ہوتا ہے، اور اس طرح انہوں نے دنیا کےسامنے پھر ایک مرتبہ صیح معنوں میں روح اسلامی کا مظاہرہ کر دیا۔ ان کی جنگ ملک و مال یا قومی عصبیت، یا کسی دنیوی غرض کے لیے نہ تھی بلکہ خالص فی سبیل اللہ تھی ۔ ان کے سامنے کوئی مقصد اس کے سوا نہ تھا کہ خلق اللہ کو جاہلیت کی حکومت سے نکالیں اور وہ نظامت حکومت قائم کریں جو خالق اور مالک الملک کے منشاء کے مطابق ہے۔ اس غرض کے لیے جب وہ لڑے تو حسب قاعدہ اسلام یا جزیہ کی طرف پہلے دعوت دی اور پھر اتمام حجت کر کے تلوار اٹھائی اور جب تلوار اٹھائی تو جنگ کے اس مہذب قانون کی پوری پابندی کی جو اسلام نے سکھایا ہے کوئی ظالمانہ اور وحشیانہ فعل ان سے سرزد نہیں ہوا۔ جس بستی میں داخل ہوئے مصلح کی حیثیت سے داخل ہوئے نہ کہ مفسد کی حیثیت سے۔ ان کی فوج کے ساتھ نہ شراب تھی، نہ بینڈ بجتا تھا، نہ ہیسواؤں کی پلٹن ہوتی تھی، نہ ان کی چھاؤنی بدکاریوں کا اڈہ بنتی تھی اور نہ ایسی کوئی مثال ملتی ہے کہ ان کی فوج کسی علاقے سےگزری ہو اور اس علاقہ کے لوگ اپنے مال اور اپنی عورتوں کی عصمتیں لٹنے پر ماتم کناں ہوں۔ان کے سپاہی دن کو گھوڑے کی پیٹھ پر اور رات کو جانماز پر ہوتے تھے۔ خدا سے ڈرنے والے آخرت کے حساب کو یادرکھنے والے اور ہر حال میں راستی پر قائم رہنے والے تھے خواہ اس پر قائم رہنےمیں ان کو فائدہ پہنچے یا نقصان ۔ انہوں نے کہیں شکست کھائی تو بزدل ثابت نہ ہوئے اور کہیں فتح پائی تو جبار اور متکبر نہ پائے گئے ۔ اس شان کے ساتھ خالص اسلامی جہاد ہندوستان کی سرزمین میں نہ ان سے پہلے ہوا تھا اور نہ ان کے بعد ہوا۔
(۳) ان کو ایک چھوٹے سے علاقہ میں حکومت کرنےکا جو تھوڑا سا موقع ملا انہوں نےٹھیک اس طرز کی حکومت قائم کی جس کو خلافت علی منہاج النبوۃ کہا گیا ہے۔ وہی فقیرانہ امارت۔ وہی مساوات و ہی شوری۔ وہی عدل وہی انصاف۔ وہی حدود شرعیہ۔ وہی مال کو حق کے ساتھ لینا اور حق کے مطابق صرف کرنا۔ وہی مظلوم کی حمایت اگر چہ ضعیف ہوا اور ظالم کی مخالفت اگر چہ قوی ہو۔ وہی خدا سے ڈر کر حکومت کرنا اور اخلاق صالحہ کی بنیاد پر سیاست چلانا۔ غرض ہر پہلو میں انہوں نے اس حکمرانی کا نمونہ ایک مرتبہ پھر تازہ کر دیا جو صدیق و فاروق نے کی تھی۔
یہ لوگ بعض طبعی اسباب کی وجہ سے، جن کا ذکر آگے آتا ہے نا کام ہوئے مگر خیالات میں جو حرکت وہ پیدا کر گئے تھے اس کے اثرات ایک صدی سے زیادہ مدت گزر جانے کے باوجود اب تک ہندوستان میں موجود ہیں۔
اسباب ناکامی: اس آخری مجددا نہ تحریک کی ناکامی کے اسباب پر بحث کرنا عموماً ان حضرات کے مذاق کے خلاف ہے جو بزرگوں کا ذکر عقیدت ہی کے ساتھ کرنا پسند کرتے ہیں۔ اس لیےمجھے اندیشہ ہے کہ جو کچھ میں اس عنوان کے تحت عرض کروں گا وہ میرے بہت سے بھائیوں کےلیے تکلیف کا موجب ہوگا۔ لیکن اگر ہمارا مقصد اس تمام ذکر اذکار سے محض سابقین بالایمان کو خراج تحسین ہی پیش کرنا نہیں ہے، بلکہ آئندہ تجدید دین کے لیے ان کے کام سے سبق حاصل کرنا بھی ہے تو ہمارے لیے اس کے سوا چارہ نہیں ہے کہ تاریخ پر تنقیدی نگاہ ڈالیں اور ان بزرگوں کےکارناموں کا سراغ لگانے کے ساتھ ان اسباب کا کھوج بھی لگا ئیں جن کی وجہ سے یہ اپنے مقصد کو پہنچنے میں ناکام ہوئے۔ شاہ ولی اللہ صاحب اور ان کے صاحبزادوں نے علماء حق اور صالحین کی جو عظیم القدر جماعت پیا کی اور پھر سید صاحب اور شاہ شہید نے صلحا و اتقیاء کا جولشکر فراہم کیا، اس کے حالات پڑھ کر ہم دنگ رہ جاتے ہیں۔ ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قرنِ اوّل کے صحابہ وتابعین کی سیرتیں پڑھ رہے ہیں۔ اور یہ خیال کر کے ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ ہم سے اس قدرقریب زمانہ میں اس پایہ کے لوگ ہو گزرے ہیں۔ مگر ساتھ ہی ہمارے دل میں قدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اتنی زبر دست اصلاحی و انقلابی تحریک، جس کے لیڈر اور کارکن ایسے صالح و متقی اور ایسے سرگرم مجاہد لوگ تھے انتہائی ممکن سعی و عمل کے باوجود ہندوستان پر اسلامی حکومت قائم کرنے میں کامیاب نہ ہوئی اور اس کے برعکس کئی ہزار میل سے آئے ہوئے انگریز یہاں خالص جاہلی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے، اس سوال کو عقیدت مندی کے جوش میں لاجواب چھوڑ دینے کے معنی یہ ہیں کہ لوگ صلاح و تقویٰ اور جہاد کو اس دنیا کی اصلاح کے معاملہ میں ضعیف الاثر سمجھنے لگیں اور یہ خیال کر کے مایوس ہو جائیں کہ جب ایسے زبر دست متقیانہ جہاد سے بھی کچھ نہ بنا تو آئندہ کیا بن سکے گا۔ میں اس قسم کے شبہات فی الواقع لوگوں کی زبان سے سن چکا ہوں بلکہ حال میں جب مجھے علی گڑھ جانے کا اتفاق ہوا تو اسٹریچی ہال کے بھرے جسے میں میرےسامنے یہی شبہ پیش کیا گیا تھا اور اسے رفع کرنے کے لیے مجھے ایک مختصر تقریر کرنی پڑی تھی۔ نیز مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ اس وقت علماء صالحین کی جو جماعت ہمارے درمیان موجود ہے وہ بالعموم اس مسئلہ میں بالکل خالی الذہن ہے حالانکہ اگر اس کی تحقیق کی جائے تو بہت سے ایسے سبق ہمیں مل سکتے ہیں جن سے استفادہ کر کے آئندہ زیادہ بہتر اور زیادہ صحیح کام ہوسکتا ہے۔
١- ناکام بلحاظ ظاہر نہ کہ بلحاظ حقیقت حقیقی کامیابی تو مسلمان کے نزدیک بس یہ ہے کہ وہ اللہ کی رضا کے لئےاقامت دین کی سعی کرئے جیسا کہ سعی کرنے کا حق ہے۔ اس لحاظ سے یہ حضرات یقینا کامیاب رہے۔ البته ان کی ناکامی دنیوی نتائج کے اعتبار سے ہے کہ وہ عملاً جاہلیت کا اقتدار ختم کر کے اسلام کا غلبہ قائم نہ کر سکے۔ اسی کےاسباب کا ہمیں جائزہ لیتا ہے تا کہ اقامت دین کی سعی میں ان اسباب ناکامی سے احتراز کیا جاسکے۔
پہلا سبب: پہلی چیز جو مجھ کو حضرت مجدد الف ثانی کے وقت سے شاہ صاحب اور ان کے خلفاء تک کے تجدیدی کام میں کھٹکی ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے تصوف کے بارے میں مسلمانوں کی بیماری کا پورا اندازہ نہیں لگایا اور نادانسته ان کو پھر وہی غذادے دی جس سے مکمل پر ہیز کرانے کی ضرورت تھی۔ حاشا کہ مجھے فی نفسہ اس تصوف پر اعتراض نہیں ہے جو ان حضرات نے پیش کیا۔ وہ بجائے خود اپنی روح کے اعتبار سے اسلام کا اصلی تصوف ہے اور اس کی نوعیت احسان‘ سے کچھ مختلف نہیں ہے۔ لیکن جس چیز کو میں لائق پر ہیز کہہ رہا ہوں وہ متصوفانہ رموز و اشارات اور متصوفانه زبان کا استعمال اور متصوفانہ طریقہ سے مشابہت رکھنے والے طریقوں کو جاری رکھنا ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ حقیقی اسلامی تصوف اس خاص قالب کا محتاج نہیں ہے۔ اس کے لیے دوسرا قالب بھی ممکن ہے۔ اس کے لیے زبان بھی دوسری اختیار کی جاسکتی ہے۔ رموز واشارات سے بھی اجتناب کیا جا سکتا ہے۔ پیری مریدی اور اس سلسلے کی تمام عملی شکلوں کو بھی چھوڑ کر دوسری شکلیں اختیار کی جاسکتی ہیں۔ پھر کیا ضرورت ہے کہ اسی پرانے قالب کو اختیار کرنے پر اصرار کیا جائےجس میں مدتہائے دراز سے جاہلی تصوف کی گرم بازاری ہورہی ہے۔ اس کی کثرتِ اشاعت نےمسلمانوں کو جن سخت اعتقادی و اخلاقی بیماریوں میں مبتلا کیا ہے وہ کسی صاحب نظر سے پوشیدہ نہیں ہیں ۔ اب حال یہ ہو چکا ہے کہ ایک شخص خواہ کتنی ہی صحیح تعلیم دے، بہر حال یہ قالب استعمال کرتےہی وہ تمام بیماریاں پھر عود کر آتی ہیں جو صدیوں کے رواج عام سے اس کے ساتھ وابستہ ہوگئی ہیں۔
پس جس طرح پانی جیسی حلال چیز بھی اس وقت ممنوع ہو جاتی ہے جب وہ مریض کےلیے نقصان دہ ہو اسی طرح یہ قالب بھی مباح ہونے کے باوجود اس بناء پر قطعی چھوڑ دینے کےقابل ہو گیا ہے کہ اسی کے لباس میں مسلمانوں کو افیون کا چسکا لگایا گیا ہے اور اس کے قریب جاتےہی ان مزمن مریضوں کو پھر وہی چینیا بیگم یاد آجاتی ہیں جو صدیوں ان کو تھپک تھپک کر سلاتی رہی ہیں۔ بیعت کا معاملہ پیش آنے کے بعد کچھ دیر نہیں لگتی کہ مریدوں میں وہ ذهنیت پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے جو مریدی کے ساتھ مختص ہو چکی ہے یعنی " بے سجادہ رنگین کن گرت پیر مغاں گویڈ والی ذهنیت، جس کے بعد پیر صاحب میں اور ارباب مِنْ دُونِ اللہ میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔ فکر و نظر مفلوج، قوت تنقید ماؤف، علم و عقل کا استعمال موقوف اور دل و دماغ پر بندگي شیخ کا ایسا مکمل تسلط که گویا شیخ ان کا رب ہے اور یہ اس کے مربوب۔ پھر جہاں کشف والہام کی بات چیت شروع ہوئی، معتقدین کی ذہنی غلامی کے بند اور زیادہ مضبوط ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد صوفیانہ رموز و اشارات کی باری آتی ہے جس سے مریدوں کی قوت واہمہ کو گو یا تازیانہ لگ جاتا ہےاور وہ انہیں لے کر ایسی اڑتی ہے کہ بے چارے ہر وقت عجائبات وطلسمات ہی کے عالم میں سیر کرتے رہتے ہیں، واقعات کی دنیا میں ٹھہر نے کا موقع غریبوں کو کم ملتا ہے۔
مسلمانوں کے اس مرض سے نہ حضرت مجدد صاحب نا واقف تھے نہ شاہ صاحب۔ دونوں کے کلام میں اس پر تنقید موجود ہے۔ مگر غالبا اس مرض کی شدت کا انہیں پورا اندازہ نہ تھا۔یہی وجہ ہے کہ دونوں بزرگوں نے ان بیماروں کو پھر وہی غذا دے دی جو اس مرض میں مہلک ثابت ہو چکی تھی، اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رفتہ رفتہ دونوں کا حلقہ پھر اسی پرانے مرض سے متاثر ہوتا چلا گیا_١ اگر چہ مولانا اسمعیل شہید رحمتہ اللہ علیہ نے اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ کر ٹھیک وہی روش اختیار کی جوابن تیمیہ کی تھی لیکن شاہ ولی اللہ صاحب کے لٹریچر میں تو یہ سامان موجود ہی تھا جس کا کچھ اثر شاہ اسمعیل شہید کی تحریروں میں بھی باقی رہا اور پیری مریدی کا سلسلہ بھی سید صاحب کی تحریک میں چل رہا تھا۔ اس لیے مرض صوفیت کے جراثیم سے یہ تحریک پاک نہ رہ سکی۔ حتی کہ سید صاحب کی شہادت کے بعد ہی ایک گروہ ان کے حلقہ میں ایسا پیدا ہو گیا جو شیعوں کی طرح ان کی غیبوبت کا قائل ہوا اور اب تک ان کے ظہور ثانی کا منتظر ہے!
اب جس کسی کو تجدید دین کے لیے کوئی کام کرنا ہو اس کے لیے لازم ہے کہ متصوفین کی زبان و اصطلاحات سے رموز و اشارات سے لباس و اطوار سے پیری مریدی سے اور ہر اس چیز سے جو اس طریقہ کی یاد تازہ کرنے والی ہو، مسلمانوں کو اس طرح پر ہیز کرائے جیسے ذیا بطیس کےمریض کو شکر سے پرهیز کرایا جاتا ہے۔
دوسرا سبب : دوسری چیز جو مجھے تنقیدی مطالعہ کے دوران میں محسوس ہوئی وہ یہ ہے کہ سید صاحب اور شاہ شہید نے جس علاقہ میں جا کر جہاد کیا اور جہاں اسلامی حکومت قائم کی اس علاقہ کو اس انقلاب کے لیے پہلے اچھی طرح تیار نہیں کیا تھا، ان کا لشکر تو یقیناً بہترین اخلاقی و روحانی تربیت پائے ہوئے لوگوں پر مشتمل تھا، مگر یہ لوگ ہندوستان کے مختلف گوشوں سے جمع ہوئے تھےاور شمال مغربی ہندوستان میں ان کی حیثیت مہاجرین کی سی تھی ۔ اس علاقہ میں سیاسی انقلاب برپا کرنے کے لیے ضروری تھا کہ خود اس علاقہ ہی کی آبادی میں پہلے اخلاقی و ذہنی انقلاب بر پا کر دیا جاتا تا کہ مقامی لوگ اسلامی نظام حکومت کو سمجھنے اور اس کے انصار بننے کے قابل ہو جاتے۔دونوں لیڈ ر غالباً اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے کہ سرحد کے لوگ چونکہ مسلمان ہیں اور غیر مسلم اقتدار کے ستائے ہوئے بھی ہیں، اس لیے وہ اسلامی حکومت کا خیر مقدم کریں گے۔ اسی وجہ سے انہوں نے جاتے ہی وہاں جہاد شروع کر دیا اور جتنا ملک قابو میں آیا اس پر اسلامی خلافت قائم کر دی۔ لیکن بالآخر تجربہ سے ثابت ہو گیا کہ نام کے مسلمانوں کو اصلی مسلمان سمجھنا اور ان سے وہ توقعات رکھنا جو اصلی مسلمانوں ہی سے پوری ہو سکتی ہیں، محض ایک دھوکا تھا۔ وہ خلافت کا بوجھ سہارنے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ جب ان پر یہ بوجھ رکھا گیا تو وہ خود بھی گرے اور اس پاکیزہ عمارت کو بھی لےگرے۔
١- حضرت مجددصاحب کی وفات پر کچھ زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ ان کے حلقہ کے لوگوں نے ان کو قیوم اول کا اور ان کے خلفاء کو قیوم ثانی کا خطاب عطا کر دیا، معاذ اللہ !
تاریخ کا یہ سبق بھی ایسا ہے جسے آئندہ ہر تجدیدی تحریک میں ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔اس حقیقت کو اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ جس سیاسی انقلاب کی جڑیں اجتماعی ذہنیت اخلاق اور تمدن میں گہری جھی ہوئی نہ ہوں وہ نقش بر آب کی طرح ہوتا ہے۔ کسی عارضی طاقت سےایسا انقلاب واقع ہو بھی جائے تو قائم نہیں رہ سکتا، اور جب مٹتا ہے تو اس طرح مٹتا ہے کہ اپنا کوئی اثر چھوڑ کر نہیں جاتا_١
تیسرا سبب: اب یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ ان بزرگوں کے مقابلہ میں کئی ہزار میل دور سےآئے ہوئے انگریزوں کو کس قسم کی فوقیت حاصل تھی جس کی وجہ سے وہ تو یہاں جاہلی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے اور یہ خود اپنے گھر میں اسلامی حکومت قائم نہ کر سکے؟ اس کا صحیح جواب آپ نہیں پاسکتے جب تک کہ اٹھارہویں اور انیسویں صدی عیسوی کے یورپ کی تاریخ آپ کےسامنے نہ ہو ۔ شاہ صاحب اور ان کے خلفاء نے اسلام کی تجدید کے لیے جو کام کیا، اس کی طاقت کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھیے اور دوسرے پلڑے میں اس طاقت کو رکھیے جس کے ساتھ ان کی ہم عصر جاہلیت اٹھی تھی، تب آپ کو پورا اندازہ ہو گا اس عالم اسباب میں جو قوانین کارفرما ہیں ان کے لحاظ سے دونوں طاقتوں میں کیا تناسب تھا۔ میں مبالغہ نہ کروں گا اگر یہ کہوں کہ ان دونوں قوتوں میں ایک تو لے اور من کی نسبت تھی۔ اس لیے جو نتیجہ فی الواقع رونما ہوا اس کے سوا اور کچھ نہ ہو سکتا تھا۔
١- یہی وجہ ہے کہ آج صوبہ سرحد میں ان دونوں شہیدوں کا اور ان کے کام کا کوئی اثر ڈھونڈےنہیں ملتا ، حتی کہ وہاں کے لوگ ان کے ناموں سے اب کچھ اردو لٹریچر کی بدولت واقف ہونے لگے ہیں۔
جس دور میں ہمارے ہاں شاہ ولی اللہ صاحب شاہ عبدالعزیز صاحب اور شاہ اسمعیل شہید پیدا ہوئے اس دور میں یورپ قرون وسطی کی نیند سے بیدار ہو کرنئی طاقت کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا تھا اور وہاں علم دفن کے محققین، مکتشفین اور موجدین اس کثرت سے پیدا ہوئے تھے کہ انہوں نے ایک دنیا کی دنیا بدل ڈالی۔ وہی دور تھا جس میں ہیوم، کانٹ فشتے (Fishte) هیگل، کومت (Comte) شلا ئر ماشر (Schlier Macher) اور مل جیسے فلاسفہ پیدا ہوئےجنہوں نےمنطق و فلسفه اخلاقیات و نفسیات اور تمام علوم عقلیہ میں انقلاب برپا کیا۔ وہی دور تھا جب طبیعیات میں گیلوینی (Galvani) اور دولٹا (Volta) علم الکیمیا میں لاوویزیر (La-Voisier) پریسٹلے (Priestley)، ڈیوی (Dayy) ہالیوی اور برزیلیس، حیاتیات میں لینے (Linne) ہالر (Haller) ، بیشات (Bichat) اور دولف (Wolff) جیسے محققین اٹھے جن کی تحقیقات نے صرف سائنس ہی کو ترقی نہیں دی بلکہ کائنات اور انسان کےمتعلق بھی ایک نیا نظریہ پیدا کر دیا۔اسی دور میں کوئسینسے (Quisney) ٹرگوٹ (Turgot) آدم سمتھ اور ماتھس کی دماغی کاوشوں سے سے معاشیات کا نیا علم مرتب ہوا۔ وہی دور تھا جب فرانس میں روسو، والٹیر، مونٹسیکو، ڈیفنس ڈائڈیرو (Denis Diderot) لامیٹری (La-Mattrie) کیپائیں (Cabartis) بفون (Butfen) روبینہ (Robinea) انگلستان میں ٹامس پین (Thomas Poune) ولیم گوڈون (William Godwin) ڈیوڈ ہارٹلے جوزف پریسٹلے ، ارائمس ڈارون اور جرمنی میں گویتھے ، ہر ڈر ، شیلر ، و کلمان (WinckImann) لسنگ (lessing) اور بیرن ڈی ہولباش (Baronde ) (Holbach جیسے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے اخلاقیات ادب، قانون، مذہب، سیاسیات اور تمام علوم عمران پر زبر دست اثر ڈالا اور انتہائی جرات و بے باکی کے ساتھ دنیائے قدیم پر تنقید کر کے نظریات و افکار کی ایک نئی دنیا بنا ڈالی۔
پریس کے استعمال اشاعت کی کثرت اسالیب بیان کی ندرت اور مشکل اصطلاحی زبان کے بجائے عام فہم زبان کو ذریعہ اظہار خیال بنانے کی وجہ سے ان لوگوں کے خیالات نہایت وسیع پیمانے پر پھیلے۔ انہوں نے محدود افراد کو نہیں بلکہ قوموں کو بحیثیت مجموعی متاثر کیا۔ ذہنتیں بدل دیں، اخلاق بدل دیئے، نظام تعلیم بدل دیا، نظریۂ حیات اور مقصد زندگی بدل دیا اور تمدن و سیاست کا پورا نظام بدل دیا۔
اسی زمانہ میں انقلاب فرانس رونما ہوا جس سے ایک نئی تہذیب پیدا ہوئی۔ اسی زمانہ میں مشین کی ایجاد نے صنعتی انقلاب برپا کیا جس نے ایک نیا تمدن، نئی طاقت اور نئے مسائل زندگی کے ساتھ پیدا کیا۔ اسی زمانہ میں انجینئر نگ کو غیر معمولی ترقی ہوئی جس سے یورپ کو وہ قوتیں حاصل ہوئیں کہ پہلے دنیا کی کسی قوم کو حاصل نہ ہوئی تھیں ۔ اسی زمانہ میں قدیم فن جنگ کی جگہ نیا فن جنگ نئے آلات اور نئی تدابیر کے ساتھ پیدا ہوا۔ با قاعدہ ڈرل کے ذریعہ سے فوجوں کو منظم کرنے کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ جس کی وجہ سے میدانِ جنگ میں پلٹنیں مشین کی طرح حرکت کرنے لگیں اور پرانے طرز کی فوجوں کا ان کے مقابلہ میں ٹھیر نا مشکل ہو گیا۔ فوجوں کی ترتیب اور عساکر کی تقسیم اور جنگی چالوں میں بھی پیہم تغیرات ہوئے اور ہر جنگ کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر اس فن کو برابر ترقی دی جاتی رہی۔ آلات حرب میں بھی مسلسل نئی ایجاد یں ہوتی چلی گئیں ۔ رائفل ایجاد ہوئی۔ ہلکی اور سریع الحرکت میدانی تو ہیں بنائی گئیں ۔ قلعہ شکن تو میں پہلے سے بہت زیادہ طاقت ور تیار کی گئیں اور کارتوس کی ایجاد نے نئی بندوقوں کے مقابلہ میں پرانی توڑے دار بندوقوں کو بے کار کر کے رکھ دیا۔ اس کا نتیجہ تھا کہ یورپ میں ترکوں کو اور ہندوستان میں دیسی ریاستوں کو جدید طرز کی فوجوں کے مقابلہ میں مسلسل شکستیں اٹھانی پڑیں اور عالم اسلام کے عین قلب پر حملہ کر کے نپولین نے مٹھی بھر فوج سے مصر پر قبضہ کر لیا۔
معاصر تاریخ کے اس سرسری خاکہ پر نظر ڈالنے سے بآسانی یہ بات معلوم ہو جاتی ہےکہ ہمارے ہاں تو چند اشخاص ہی بیدار ہوئے تھے مگر وہاں تو میں کی تو میں جاگ اٹھی تھیں ۔ یہاں صرف ایک جہت میں تھوڑا سا کام ہوا اور وہاں ہر جہت میں ہزاروں گنا زیادہ کام کر ڈالا گیا۔ بلکہ کوئی شعبہ زندگی ایسا نہ تھا جس میں تیز رفتار پیش قدمی نہ کی گئی ہو۔ یہاں شاہ ولی اللہ صاحب اور ان کی اولاد نے چند کتابیں خاص خاص علوم پر لکھیں جو ایک نہایت محدود حلقے تک پہنچ کر رہ گئیں،اور وہاں لائبریریوں کی لائبریریاں ہر علم و فن پر تیار ہوئیں جو تمام دنیا پر چھا گئیں اور آخر کار دماغوں اور ذہنیتوں پر قابض ہو گئیں۔ یہاں فلسفہ اخلاقیات، اجتماعیات، سیاسیات اور معاشیات وغیرہ علوم پر طرح نو کی بات چیت محض ابتدائی اور سرسری حد تک ہی رہی جس پر آگے کچھ کام نہ ہوا اور وہاں اس دوران میں ان مسائل پر پورے پورے نظام فکر مرتب ہو گئے ۔ جنہوں نے دنیا کا نقشہ بدل ڈالا ۔ یہاں علوم طبیعیہ اور قوائے مادیہ کا علم وہی رہا جو پانچ سو سال پہلے تھا، اور وہاں اس میدان میں اتنی ترقی ہوئی اور اس ترقی کی بدولت اہل مغرب کی طاقت اتنی بڑھ گئی کہ ان کے مقابلہ میں پرانے آلات و وسائل کے زور سے کامیاب ہونا قطعاً محال تھا۔
حیرت تو یہ ہے کہ شاہ ولی اللہ صاحب کے زمانہ میں انگریز بنگال پر چھا گئے تھے اور الہ آباد تک ان کا اقتدار پہنچ چکا تھا مگر انہوں نے اس نئی ابھرنے والی طاقت کا کوئی نوٹس نہ لیا' شاہ عبد العزیز صاحب کے زمانہ میں دہلی کا بادشاہ انگریزوں کا پیشن خوار ہو چکا تھا اور قریب قریب سارے ہی ہندوستان پر انگریزوں کے پنجے جم چکے تھے مگر ان کے ذہن میں بھی یہ سوال پیدا نہ ہوا کہ آخر کیا چیز اس قوم کو اس طرح بڑھا رہی ہے اور اسی نئی طاقت کے پیچھے اسباب طاقت کیا ہیں۔ سید صاحب اور شاہ اسمعیل شہید جوعملاً اسلامی انقلاب بر پا کرنے کے لیے اٹھے تھے انہوں نےسارے انتظامات کیے مگر اتنا نہ کیا کہ اہل نظرعلماء کا ایک وفد یورپ بھیجتے اور یہ تحقیق کراتے کہ یہ قوم جو طوفان کی طرح چھاتی چلی جارہی ہے اور نئے آلات نئے وسائل نئے طریقوں اور نئے علوم و فنون سے کام لے رہی ہے، اس کی اتنی قوت اور اتنی ترقی کا کیا راز ہے۔ اس کے گھر میں کس نوعیت کے ادارات قائم ہیں، اس کے علوم کس قسم کے ہیں ۔ اس کے تمدن کی اساس کن چیزوں پر ہے۔ اور اس کے مقابلہ میں ہمارے پاس کس چیز کی کمی ہے۔ جس وقت یہ حضرت جہاد کے لیےاٹھے ہیں، اس وقت یہ بات کسی سے چھپی ہوئی نہ تھی کہ ہندوستان میں اصل طاقت سکھوں کی نہیں، انگریزوں کی ہے اور اسلامی انقلاب کی راہ میں سب سے بڑی مخالفت اگر ہوسکتی ہے تو انگریز ہی کی ہو سکتی ہے۔ پھر سمجھ میں نہیں آتا کہ کس طرح ان بزرگوں کی نگاہ دور رس سے معاملہ کا یہ پہلو بالکل ہی اوجھل رہ گیا کہ اسلام و جاہلیت کی کشمکش کا آخری فیصلہ کرنے کے لیے جس حریف سےنمٹنا تھا اس کے مقابلہ میں اپنی قوت کا اندازہ کرتے اور اپنی کمزوری کو سمجھ کر اسے دور کرنے کی فکر کرتے۔ بہر حال جب ان سے یہ چوک ہوئی تو اس عالم اسباب میں ایسی چوک کے نتائج سے وہ نہ بچ سکتے تھے۔
خاتما : مغربی جاہلیت کے مقابلہ میں اسلامی تجدید کی اس تحریک کو جو نا کامی ہوئی اس سے پہلا سبق تو ہمیں یہ ملتا ہے کہ تجدید دین کےلیے صرف علوم دینیہ کا احیاء اور اتباع شریعت کی روح کو تازہ کر دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ایک جامع اور ہمہ گیر اسلامی تحریک کی ضرورت ہےجو تمام علوم و افکار تمام فنون وصناعات اور تمام شعبہ ہائےزندگی پر اپنا اثر پھیلا دےاور تمام امکانی قوتوں سےاسلام کی خدمت لےاور دوسرا سبق جو اسی سے قریب الما خذ ہے یہ ہے کہ اب تجدید کا کام نئی اجتہادی قوت کا طالب ہے۔ محض وہ اجتہادی بصیرت جو شاہ ولی اللہ صاحب یا ان سے پہلے کے مجتهدین ومجددین کے کارناموں میں پائی جاتی ہے، اس وقت کے کام سے عہدہ برآ ہونے کے لیےکافی نہیں ہے۔ جاہلیت جدیدہ بے شمار نئے وسائل کے ساتھ آئی ہے اور اس نے بے حساب نئےمسائل زندگی پیدا کر دیئے ہیں جن کا وہم تک شاہ صاحب اور دوسرے قدماء کے ذہن میں نہ گزرا تھا۔ صرف اللہ جل جلالہ کے علم اور اس کی بخشش سے رسول اللہ ﷺ کی بصیرت ہی پر یہ حالات روشن تھے۔ لہذا کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ہی وہ تنہاما خذ ہےجس سےاس دور میں تجدید ملت کا کام کرنےکے لیے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہےاور اس رہنمائی کو اخذ کر کے اس وقت کےحالات میں شاہراہ عمل تعمیر کرنے کے لیے ایسی مستقل قوت اجتہاد یہ درکار ہے جو مجہتدین سلف میں سے کسی ایک کے علوم اور منہاج کی پابند نہ ہو اگر چہ استفادہ ہر ایک سے کرے اور پر ہیز کسی سے بھی نہ کرے۔
| کتاب | تجدید و احیائے دین |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |