تاریخی ترتیب کو چھوڑ کر مستقبل کے مجد داعظم کا ذکر میں نے پہلے اس لیے کر دیا کہ لوگ پہلے مجد د کامل کے مرتبہ و مقام سے واقف ہو جائیں تا کہ کمال مطلوب کے مقابلے میں ان کے لیےجزوی تجدیدوں کے مرتبہ و مقام کا اندازہ کرنا آسان ہو جائے۔ اب میں ایک مختصر نقشہ اس تجدیدی کام کا پیش کروں گا جواب تک انجام پا چکا۔
تخت شاہی انہیں خاندانی طریق پر ملا تھا مگر بیعت لیتے وقت مجمع عام میں صاف کہہ دیا کہ میں اپنی بیعت سے تمہیں آزاد کرتا ہوں، تم لوگ جس کو چاہو خلیفہ منتخب کر لو۔ اور جب لوگوں نے برضاور غبت کہا کہ ہم آپ ہی کو منتخب کرتے ہیں، تب انہوں نے خلافت کی عنان اپنے ہاتھ میں لی۔
پھر شاہانہ کروفر فرعونی انداز قیصر و کسریٰ کے درباری طریقے سب رخصت کیے اور پہلے ہی روز لوازم شاہی کو ترک کر کے وہ طرز اختیار کیا جو مسلمانوں کے درمیان ان کے خلیفہ کا ہونا چاہیے۔
اس کے بعد ان امتیازات کی طرف توجہ کی جو شاہی خاندان کے لوگوں کو حاصل تھے اور ان کو تمام حیثیتوں سے عام مسلمانوں کے برابر کر دیا۔ وہ تمام جاگیر میں جو شاہی خاندان کے قبضہ میں تھیں، اپنی جاگیر سمیت بیت المال کو واپس کیں۔ جن جن کی زمینوں اور جائدادوں پر نا جائز قبضہ کیا گیا تھا وہ سب ان کو واپس دیں۔ ان کی اپنی ذات کو اس تغیر سے جو نقصان پہنچا اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ پچاس ہزار کی جگہ صرف دوسو اشرفی سالانہ کی آمدنی رہ گئی۔ بیت المال کے روپے کو اپنی ذات پر اور اپنے خاندان والوں پر حرام کر دیا، حتیٰ کہ خلیفہ ہونے کی حیثیت سےتنخواہ تک نہ لی۔ اپنی زندگی کا سارا نقشہ بدل دیا۔ یا تو خلیفہ ہونے سے پہلے شاہانہ شان کے ساتھ رہتے تھے یا خلیفہ ہوتے ہی فقیر بن گئے_١
گھر اور خاندان کی اس اصلاح کے بعد نظام حکومت کی طرف توجہ کی۔ ظالم گورنروں کو الگ کیا اور ڈھونڈ ڈھونڈ کر صالح آدمی تلاش کیے کہ گورنری کی خدمت انجام دیں۔ عاملین حکومت جو قانون اور ضابطہ سے آزاد ہو کر رعایا کی جان، مال اور آبرو پر غیر محدود اختیارات کے مالک ہو گئے تھے ان کو پھر ضابطہ کا پابند بنایا اور قانون کی حکومت قائم کی ٹیکس عائد کرنے کی پوری پالیسی بدل دی اور وہ تمام نا جائز ٹیکس جو شاہانِ بنی امیہ نے عائد کر دیئے تھے، جن میں آبکاری تک کا محصول شامل تھا، یک قلم موقوف کیے۔ زکوۃ کی تحصیل کا انتظام از سرنو درست کیا اور بیت المال کی دولت کو پھر سے عام مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر دیا۔ غیر مسلم رعایا کے ساتھ جونا انصافیاں کی گئی تھیں ان سب کی تلافی کی ان کے معاہد جن پر نا جائز قبضہ کیا گیا تھا انہیں واپس دلائے ان کی زمینیں جو غصب کر لی گئی تھیں پھر وا گذاشت کیں اور ان کے تمام وہ حقوق بحال کیےجو شریعت کی رو سے انہیں حاصل تھے ۔ عدالت کو انتظامی حکومت کے دخل سے آزاد کیا اور حکم بین الناس کے ضابطے اور اسپرٹ دونوں کو شاہی نظام کے اثرات سے پاک کر کے اسلامی اصول پر قائم کر دیا۔ اس طرح حضرت عمر ابن عبد العزیز کے ہاتھوں سے اسلامی نظام حکومت دوبارہ زندہ ہوا۔
پھر انہوں نے سیاسی اقتدار سے کام لے کر لوگوں کی ذہنی اخلاقی اور معاشرتی زندگیوں سےجاہلیت کے ان اثرات کو نکالنا شروع کیا جو نصف صدی کی جاہلی حکومت کے سبب سے اجتماعی زندگی میں پھیل گئے تھے۔ فاسد عقیدوں کی اشاعت کو روکا۔ عوام کی تعلیم کا وسیع پیمانہ پر انتظام کیا۔قرآن، حدیث اور فقہ کےعلوم کی طرف اہل دماغ طبقوں کی تو جہات کو دوبارہ منعطف کیا اور ایک ایسی علمی تحریک پیدا کر دی جس کے اثر سے اسلام کو ابوحنیفہ مالک، شافعی اور احمد بن حنبل رحمہم اللہ جیسے مجہتدین میسر آئے۔ اتباع شریعت کی روح کو تازہ کیا۔ شراب نوشی تصویر کشی اور عیش و تم کی بیماریاں جو شاہی نظام کی بدولت پیدا ہو چکی تھیں، ان کا انسداد کیا او فی الجملہ وہ مقصد پورا کیا جس کے لیے اسلام اپنی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے یعنی الَّذِينَ إِنْ مَّكْتَهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلوةَ وَاتَوُ الزَّكَوةَ بِالْمَعْرُوْفِ وَنَهَوا عَنِ الْمُنْكَرِ-
بہت ہی قلیل مدت میں اس انقلاب حکومت کے اثرات عوام کی زندگی پر اور بین الاقوامی حالات پر مترتب ہونے شروع ہو گئے۔ ایک راوی کہتا ہے کہ ولیڈ کے زمانہ میں لوگ جب آپس میں بیٹھتے تو عمارات اور باغوں کے متعلق گفتگو کرتے ۔ سلیمان بن عبد الملک کا زمانہ آیا تو عوام کا مذاق شہوانیت کی طرف متوجہ ہوا۔ مگر عمر ابن عبد العزیز حکمران ہوئے تو حالت یہ تھی کہ جہاں چار آدمی جمع ہوتے نماز اور روزہ اور قرآن کا ذکر چھڑ جاتا تھا۔ غیر مسلم رعایا پر اس حکومت کا اتنا اثر ہوا کہ ہزار در ہزار آدمی اس مختصر سی مدت میں مسلمان ہو گئے اور جزیہ کی آمدنی دفعتہ اتنی گھٹ گئی کہ سلطنت کے مالیات اس سے متاثر ہونے لگے۔مملکت اسلامی کے اطراف میں جو غیر مسلم ریاستیں موجود تھیں، حضرت عمر ابن عبد العزیز نے ان کو اسلام کی طرف دعوت دی اور ان میں سے متعدد ریاستوں نے اس دین کو قبول کر لیا۔ اسلامی حکومت کی سب سے بڑی حریف سلطنت اس وقت روم کی سلطنت تھی جس کے ساتھ ایک صدی سے لڑائیوں کا سلسلہ جاری تھا اور اس وقت بھی سیاسی کشمکش چل رہی تھی۔ مگر عمر ابن عبد العزیز کا جو اخلاقی اثر روم پر قائم ہوا اس کا اندازہ ان الفاظ سے کیا جا سکتا ہے جو ان کے انتقال کی خبر سن کر خود قیصر روم نے کہے تھے۔ اس نے کہا کہ:
اسلام کے مجدد اوّل کو صرف ڈھائی سال کام کرنے کا موقع ملا اور اس مختصری مدت میں اس نے یہ انقلاب عظیم بر پا کر کے دکھا دیا۔ مگر بنی امیہ سب کے سب اس بندہ خدا کے دشمن ہو گئے۔ اسلام کی زندگی میں ان کی موت تھی۔ وہ اس تجدید کے کام کو کس طرح برداشت کر سکتےتھے۔ آخر کار انہوں نے سازش کر کے اسے زہر دے دیا اور صرف ۳۹ سال کی عمر میں یہ خادمِ دین وملت دنیا سے رخصت ہو گیا۔ جس کار تجدید کو اس نے شروع کیا تھا اس کی تکمیل میں اب صرف اتنی کسر باقی رہ گئی تھی کہ خاندانی حکومت کو ختم کر کے انتخابی خلافت کا سلسلہ پھر سےقائم کر دیا جاتا۔یہ اصلاح اس کے پیش نظر تھی، اور اس نے اپنے عندیہ کا اظہار بھی کر دیا تھا، مگر اموی اقتدار کی جڑوں کو اجتماعی زندگی سے اکھاڑنا اور عام مسلمانوں کی اخلاقی و ذہنی حالت کو خلافت کا بار سنبھالنےکے لیے تیار کرنا آسان کام نہ تھا کہ ڈھائی برس کے اندر انجام پا سکتا۔
ائمہ اربعہ : عمر ثانی کی وفات کے بعد اگر چہ سیاسی اقتدار کی کنجیاں پھر اسلام سےجاہلیت کی طرف منتقل ہو گئیں اور سیاسی پہلو میں اس پورے کام پر پانی پھر گیا جو انہوں نے انجام دیا تھا مگر اسلامی ذہنیت میں جو بیداری انہوں نے پیدا کر دی تھی اور جس علمی حرکت کو اکسا گئے تھے اسےکوئی طاقت بار آور ہونے سے نہ روک سکی۔ بنی امیہ اور بنی عباس کے کوڑے اور اشرفیوں کےتوڑے دونوں ہی اس تحریک کے راستے میں حائل ہوئے، مگر کسی کی بھی اس کے آگے پیش نہ چلی۔ اس کے اثر سے قرآن و حدیث کے علوم میں تحقیق اجتہاد اور تدوین کا بہت بڑا کام ہوا اصول دین سے اسلام کے قوانین کی تفصیلی شکل مرتب کی گئی اور ایک وسیع نظام تمدن کو اسلام کےطرز پر چلانے کے لیے جس قد رضوابط و منابع عمل کی ضرورت تھی وہ تقریبا سارے کے سارے اپنی تمام جزئیات کے ساتھ مدون کر ڈالے گئے ۔ دوسری صدی کے آغاز سے تقریباً چوتھی صدی تک یہ کام پوری قوت کے ساتھ چلتا رہا۔
اس دور کے مجددین میں وہ چار بزرگ ہیں جن کی طرف آج فقہ کے چاروں مذاہب منسوب ہیں۔ اگر چہ مجتہد اُن کے سوا اور بھی کثیر التعداد اصحاب تھے۔ مگر جس لحاظ سے ان حضرات کا مقام مجہتدین سے بلند ہو کر مجددین کے مرتبے تک پہنچتا ہے وہ یہ ہے:
اولاً ان حضرات نے اپنی گہری بصیرت اور غیر معمولی ذکاوت و ذہانت سے ایسےمذاہب فکر پیدا کیے جن کی زبردست طاقت سات آٹھ صدیوں تک مجتہدین پیدا کرتی رہی۔ انہوں نے کلیات دین سے جزئیات مستنبط کرنے اور اصولِ شرع کو زندگی کے عملی مسائل پر منطبق کرنے کے ایسے وسیع و ہمہ گیر طریقے قائم کر دیئے کہ آگے چل کر جس قدر اجتہادی کام ہوا انہی کے طریقوں پر ہوا اور آئندہ بھی جب کبھی اس سلسلہ میں کوئی کام ہو گا ان کی رہنمائی سے انسان بے نیاز نہ ہو سکے گا۔
ثانیاً ان لوگوں نے یہ سارا کام شاہی نظام حکومت کی امداد کے بغیر اس کی مداخلت سے بالکل آزاد ہو کر، بلکہ اس کی دراندازیوں کا سخت مقابلہ کر کے انجام دیا اور اس سلسلہ میں وہ تکلیفیں اٹھا ئیں جن کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ امام ابوحنیفہ نے بنی امیہ اور بنی عباس دونوں کے زمانہ میں کوڑوں کی مار اور قید کی سزائیں بھگتیں۔ یہاں تک کہ زہر سے ان کا خاتمہ ہی کر دیا گیا ۔ امام مالک کو منصور عباسی کے زمانے میں ۷۰ کوڑوں کی سزا دی گئی اور اس بُری طرح ان کی مشکیں کسی گئیں کہ ہاتھ بازو سے اکھڑ گیا۔امام احمد بن حنبل پر مامون، معتصم اور واثق مینوں کے زمانے میں مسلسل مصائب و شدائد کے پہاڑ ٹوٹتے رہے اتنا مارا گیا کہ شاید اونٹ اور ہاتھی بھی اس مار کی تاب نہ لاسکیں اور پھر ۔متوکل کے زمانے میں شاہی انعام و اکرام اور عقیدت و تعظیم کی وہ بارش ان پر کی گئی کہ گھبرا کر پکارا تھے هذا أمرٌ أَشَدُّ عَلَيَّ مِنْ ذاك " یہ مجھ پر اس مار اور قید سے زیادہ سخت مصیبت ہے ۔ مگر ان سب باتوں کے باوجود ان اللہ کے بندوں نے علم دین کی ترتیب و تدوین میں نہ صرف خودشاہی نفوذ واثر کو گھنے کا راستہ نہ دیا بلکہ کچھ ایسی طرح ڈال گئے کہ ان کے بعد بھی سارا اجتہادی و تدوینی کام درباروں کے دخل سے بالکل آزاد ہی رہا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج اسلامی قوانین اور علومِ حدیث و قرآن کا جتنا معتبر ومستند ذخیرہ ہم تک پہنچا ہے وہ جاہلیت کے ادنی شائبہ سے بھی ملوث نہیں ہوا۔ یہ چیزیں ایسی پاک صاف صورت میں نسلاً بعد نسل منتقل ہوئی ہیں کہ صدیوں تک پادشا ہوں اور امراء کی نفس پرستیوں اور عوام کے اخلاقی تنزل اور اعتقادی و تمدنی گمراہیوں کا جو دور دورہ رہا وہ گویا ان علوم کے لیے معدوم محض تھا، اس کا کوئی اثر ان علوم پر نہیں پایا جاتا۔
١- امام ابوحنیفہ ۸ھ (۱۹۹ ء ) میں پیدا ہوئے۔ ۱۵۰ (۷۶۷ء) میں وفات پائی۔ امام مالک ۹۵ ھ (۷۱۴ء) میں پیدا ہوئے ۱۷۹ھ ( ۸۸ ) میں وفات پائی۔ امام شافعی ۱۵۰ ( ۷۶۷ء) میں پیدا ہوئے ۲۴۰ ۵ (۶۸۵۴) میں وفات پائی۔ امام احمد بن فضیل ۱۶۴ ( ۸۰ ) میں پیدا ہوئے ۲۴۱ھ (۸۵۵ء) میں وفات پائی۔
امام غزالی " : عمر ابن عبد العزیز کے بعد سیاست و حکومت کی باگیں مستقل طور پر جاہلیت کےہاتھوں میں چلی گئیں اور بنی امیہ بنی عباس اور پھر ترکی النسل پادشاہوں کا اقتدار قائم ہوا۔ ان حکومتوں نے جو خدمات انجام دیں ان کا خلاصه یہ ہےکہ ایک طرف یونان، روم اور عجم کےجاہلی فلسفوں کو جوں کا توں لےکر مسلمانوں میں پھیلا دیا اور دوسری طرف علوم و فنون اور تمدن و معاشرت میں جاہلیت اولیٰ کی تمام گمراہیوں کو اپنی دولت اور طاقت کے زور سے شائع و ذائع کیا۔عباسی خاندان کے تنزل نےمزید نقصان یہ پہنچایا کہ ابتدائی عباسی خلفاء کے بعد دنیوی اقتدار کی باگیں جن لوگوں کے ہاتھوں میں آئیں وہ علوم دینی سے بالکل ہی کورے تھے۔ ان میں اتنی صلاحیت بھی نہ تھی کہ قضاء اور افتاء کےعہدوں کےلیے ہل آدمیوں کو منتخب کر سکتے۔اپنی جہالت اور سہولت پسندی کی وجہ سے وہ احکام شرعیہ کی تنفیذ کا کام ایسے لگے بندھے طریقوں پر کرنا چاہتےتھے جن میں کسی کدو کاوش کی ضرورت نہ ہو اور اس کے لیے تقلید جامد ہی کا راستہ موزوں تھا۔ مزید بر آن دنیا پرست علماء نے ان کو مذہبی مناظروں کی چاٹ بھی لگا دی اور پھر شاہی سرپرستی میں یہ مرض اتنا پھیلا کہ اس نےتمام مسلم ممالک میں فرقہ بندی اختلاف اور سر پھٹول کی وبا پھیلا دی۔امراء وسلاطین کےلیےتو مذہبی مناظرے مرغ بازی اور بیٹر بازی کی طرح محض ایک تفریح تھےمگر عام مسلمانوں کے لیے یہ وہ قینچیاں تھیں جنہوں نے ان کی دینی وحدت کو پارہ پارہ کر دیا۔ پانچویں صدی تک پہنچتے پہنچتے یہ حال ہو گیا کہ:
(١) یونان فلسفے کی اشاعت سے عقائد کی بنیادیں ہل گئیں۔ محدثین وفقہا، علوم عقلیہ سے ناواقف تھے اس لیے نظام دین کو مقتضائے زمانہ کے مطابق معقولی انداز سے نہ سمجھا سکتے تھےاور زجر و توبیخ سے اعتقادی گمراہیوں کو دبانے کی کوشش کرتے تھے۔ علوم عقلیہ میں جن لوگوں کےکمال کا شہرہ تھا وہ نہ صرف یہ کہ علوم دینیہ میں کوئی بصیرت نہ رکھتے تھے بلکہ خود علوم عقلیہ میں بھی انہیں کوئی مجتہدانہ نظر حاصل نہ تھی۔ وہ فلاسفہ یونان کے بالکل غلام تھے ان میں کوئی ایسا بالغ النظر ! آدمی نہ تھا جو تنقید کی نگاہ سے اس یونانی لٹریچر کا جائزہ لیتا۔ انہوں نے وحی یونانی کوائل سمجھ کر جوں کا توں تسلیم کر لیا اور وحی آسمانی کو توڑ نا مروڑ نا شروع کیا تا کہ وہ وحی یونانی کے مطابق ڈھل جائے۔ان حالات کا عام مسلمانوں پر یہ اثر ہوا کہ وہ دین کو ایک غیر معقول چیز سمجھنے لگے اس کی ہر چیز انہیں مشکوک نظر آنے لگی اور ان میں یہ خیال جاگزیں ہوتا چلا گیا کہ ہمارا دین ایک چھوٹی موٹی کا درخت ہے جو عقلی امتحان کی ایک ذراسی ٹھیس ہی سے مرجھا جاتا ہے۔ امام ابوالحسن اشعری اور ان کی متبعین نے اس رو کو بدلنے کی کوشش کی مگر یہ گروہ متکلمین کے علوم سے تو واقف تھا لیکن معقولات کے گھر کا بھیدی نہ تھا، اس لیے وہ اس عام بے اعتقادی کی رفتار کو بدلنے میں پوری طرح کامیاب نہ ہو سکا، بلکہ معتزلہ کی ضد میں اس نے بعض ایسی باتوں کا التزام کر لیا جو فی الواقع عقائد دین میں سے نہ تھیں۔
(٢) جاہل فرمانرواؤں کے اثر سے اور علوم دینی کو مادی وسائل کی تائید ہم نہ پہنچنے کےسبب سے اجتہاد کے چشمے خشک ہو گئے، تقلید جامد کی بیماری پھیل گئی، مذہبی اختلافات نے ترقی کر کے ذراذرا سے جزئیات پر نئے نئے فرقے پیدا کر دیئے اور ان فرقوں کی باہمی لڑائیوں سےمسلمانوں کی یہ حالت ہوگی کہ گویا عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ ہیں۔
(۳) مشرق سے مغرب تک مسلم ممالک میں ہر طرف اخلاقی انحطاط رونما ہو گیا جس کے اثر سے کوئی طبقہ خالی نہ رہا۔ قرآن اور نبوت کی روشنی سے مسلمانوں کی اجتماعی زندگی بڑی حد تک خالی ہو گئی۔ علماء امراء عوام سب بھول گئے کہ خدا کی کتاب اور رسول کی سنت بھی کوئی چیز ہے جس کی طرف ہدایت ورہنمائی کے لیے کبھی رجوع کرنا چاہیے۔
(۴) شاہی درباروں، خاندانوں اور حکمران طبقوں کی عیاشانہ زندگی اور خودغرضانہ لڑائیوں کی وجہ سے عمومار عایا تا حال ہورہی تھی۔نا جائز ٹیکسوں کےبار نے معاشی زندگی کو نہایت خراب کر دیا تھا۔ تمدن کو حقیقی فائدہ پہنچانےوالےعلوم و صنائع رو بہ تنزل تھےاور ان فنون کا زور تھا جوشاہی درباروں میں قدر و منزلت رکھتےتھےمگر اخلاق و تمدن کے لیے غارت گر تھے ۔ آثار سےصاف معلوم ہورہا تھا کہ عام تباہی کا وقت قریب آلگا ہے۔
یہ حالات تھے جب پانچویں صدی کے وسط میں امام غزالی پیدا ہوئے ۔ انہوں نےابتداء اس طرز کی تعلیم حاصل کی جو اس زمانہ میں دنیوی ترقی کا ذریعہ ہوسکتی تھی ۔ انہی علوم میں کمال پیدا کیا جن کی بازار میں مانگ تھی۔ پھر اس جنس کو لے کر وہیں پہنچے جہاں کے لیے تیار ہوئے تھےاوران بلند ترین مراتب تک ترقی کی جن کا تصور اس زمانہ میں کوئی عالم کر سکتا تھا۔ دنیا کی سب سےبڑی یونیورسٹی ... نظامیہ بغداد کے ریکٹر مقرر ہوئے ۔ نظام الملک طوسی، ملک شاہ سلجوقی اور خلیفہ بغداد کے درباروں میں اعتماد حاصل کیا۔ وقت کے سیاسیات میں یہاں تک دخیل ہوئےکہ سلجوقی فرمانروا اور عباسی خلیفہ کے درمیان جو اختلافات پیدا ہوتے تھے ان کو سلجھانے کےلیے ان کی خدمات حاصل کی جاتی تھیں۔ دنیوی عروج کے اس نقطہ پر پہنچ جانے کے بعد ان کی زندگی میں انقلاب رونما ہوا۔ اپنے زمانہ کی علمی اخلاقی، مذہبی، سیاسی اور تمدنی زندگی کو جتنی گہری نظر سے دیکھتے گئے اس قدر ان کے اندر بغاوت کا جذبہ ابھرتا چلا گیا اور اسی قدران کے ضمیر نے زیادہ زور سے صدالگانی شروع کی کہ تم اس گندے سمندر کی شناوری کے لیے نہیں ہو بلکہ تمہارا فرض کچھ اور ہے۔ آخر کار ان تمام اعزازات فوائد و منافع اور مشاغل پر لات مار دی جن کے جنجال میں پھنسے ہوئے تھے ۔ فقیر بن کر سیاحت کے لیے نکل کھڑے ہوئے ۔ گوشوں اور ویرانوں میں غورو خوض کیا۔ چل پھر کر عام مسلمانوں کی زندگی کا گہرا مشاہدہ کیا۔ مدتوں تک مجاہدات وریاضات سےاپنی روح کو صاف کرتے رہے۔ ۳۸ سال کی عمر میں نکلے تھے پورے دس برس کے بعد ۴۸ سال کی عمر میں واپس ہوئے۔ اس طویل غور وفکر و مشاہدہ کے بعد جو کام کیا وہ یہ تھا کہ بادشاہوں کے تعلق اور ان کی وظیفہ خواری سے تو بہ کی جدال و تعصب سے پر ہیز کرنے کا دائی عہد کیا ان تعلیمی ادارات میں کام کرنے سے انکار کر دیا جو سرکاری اثر میں ہوں اور طوس میں خود اپنا ایک آزاد ادارہ قائم کیا۔ اس ادارہ میں وہ چیدہ افراد کو اپنے خاص طرز پر تعلیم و تربیت دے کر تیار کرنا چاہتے تھے مگر غالبا ان کی یہ کوشش کوئی بڑا انقلاب انگیز کام نہ کرسکی کیونکہ پانچ چھ سال سے زیادہ ان کو اس طرز خاص پر کام کرنے کی اجل ہی نے مہلت نہ دی۔
اولاً انہوں نے فلسفہ یونان کا نہایت گہرا مطالعہ کر کے اس پر تنقید کی اور اتنی زبر دست تنقید کی کہ اس کا وہ رعب جو مسلمانوں پر چھا گیا تھا، کم ہو گیا اور لوگ جن نظریات کو حقائق سمجھےبیٹھے تھے، جن پر قرآن وحدیث کی تعلیمات کو منطبق کرنےکےسوا دین کےبچاؤ کی کوئی صورت انہیں نظر نہ آتی تھی، ان کی اصلیت سے بڑی حد تک آگاہ ہو گئے ۔ امام کی اس تنقید کا اثر مسلم ممالک ہی تک محدود نہ رہا بلکہ یورپ تک پہنچا اور وہاں بھی اس نےفلسفه یونان کےتسلط کو مٹانےاور جدید دور تنقید و تحقیق کا فتح باب کرنےمیں حصہ لیا۔
ثانیاً انہوں نے ان غلطیوں کی اصلاح کی جو فلاسفه اور متکلمین کی ضد میں اسلام کے وہ حمایتی کر رہے تھے جو علوم عقلیہ میں گہری بصیرت نہ رکھتے تھے ۔ یہ لوگ اسی قسم کی حماقتیں کر رہے۔تھے جو بعد میں یورپ کے پادریوں نے کیں، یعنی مذہبی عقائد کے عقلی ثبوت کو بعض صریح غیر معقول باتوں پر موقوف سمجھ کر خواہ مخواہ ان کو اصول موضوعه قرار دے لینا، پھر ان اصول موضوعه کو بھی عقائد دین میں داخل کر کے ہر اس شخص کی تکفیر کرنا جو ان کا قائل نہ ہو اور ہر اس بُرہان یا تجربے یا مشاہدہ کو دین کے لیے خطرہ سمجھنا جس سے ان خود ساختہ اصول موضوعہ کی غلطی ثابت ہوتی ہو۔ اسی چیز نے یورپ کو بالآخر دہریت کی طرف دھکیل دیا اور یہی مسلم ممالک میں بھی شدت کے ساتھ کارفرما تھی اور لوگوں میں بے اعتقادی پیدا کر رہی تھی ۔ مگر امام غزالی نے بروقت اس کی اصلاح کی اور مسلمانوں کو بتایا کہ تمہارے عقائد دینی کا اثبات ان غیر معقولات کے التزام پر منحص نہیں ہے بلکہ اس کے لیے معقول دلائل موجود ہیں ۔ لہذا ان چیزوں پر اصرار فضول ہے۔
ثالثاً ، انہوں نے اسلام کے عقائد اور اساسیات (Fundamentals) کی ایسی معقول تعبیر پیش کی جس پر کم از کم اس زمانہ کئے اور بعد کی کئی صدیوں تک کے معقولات کی بناء پر کوئی اعتراض نہ ہو سکتا تھا۔ اس کے ساتھ انہوں نے احکام شریعت اور عبادات و مناسک کےاسرار و مصالح بھی بیان کیے اور دین کا ایک ایسا تصور لوگوں کے سامنے رکھا جس سے وہ غلط فہمیاں دور ہو گئیں جن کی بناء پر یہ گمان ہونے لگا تھا کہ اسلام عقلی امتحان کا بوجھ نہیں سہار سکتا۔
رابعا ، انہوں نے اپنے وقت کے تمام مذہبی فرقوں اور ان کے اختلافات پر نظر ڈالی اور پوری تحقیق کے ساتھ بتایا کہ اسلام اور کفر کی امتیازی سرحدیں کیا ہیں، کن حدود کے اندر انسان کےلیے رائے و تاویل کی آزادی ہے اور کن حدود سے تجاوز کرنے کے معنی اسلام سے نکل جانے کےہیں اسلام کے اصلی عقائد کون سے ہیں اور وہ کیا چیزیں ہیں جن کو خواہ مخواہ عقائد دین میں داخل کر لیا گیا ہے۔ اس تحقیقات نے ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے اور تکفیر بازی کرنے والے فرقوں کی سرنگوں میں سے بہت سی بارود نکال دی اور لوگوں کے زاویہ نظر میں وسعت پیدا کی۔
خامسا انہوں نے دین کےفہم کو تازہ کیا۔بےشعور مذهبیت کو فضول ٹھہرایا۔تقلید جامد کی سخت مخالفت کی۔ لوگوں کو کتاب الله وسنت رسول اللہ کےچشمہ فیض کی طرف پھر سے توجہ دلائی اجتہاد کی روح کو تازہ کرنے کی کوشش کی اور اپنے عہد کے تقریبا ہر گروہ کی گمراہیوں اور کمزوریوں پر تنقید کر کے اصلاح کی طرف عام دعوت دی۔
سادساً ، انہوں نے اس نظام تعلیم پر تنقید کی جو بالکل فرسودہ ہو چکا تھا اورتعلیم کا ایک نیا نظام تجویز کیا۔ اس وقت تک مسلمانوں میں جو نظام تعلیم قائم تھا اس میں دو قسم کی خرابیاں پائی جاتی تھیں۔ ایک یہ کہ علوم دنیا و علوم دین الگ الگ تھے اور اس کا نتیجہ لامحالہ تفریق دنیا و دین کی صورت میں ظاہر ہوتا تھا جو اسلامی نقطہ نظر سے بنیادی طور پر غلط ہے۔ دوسرے یہ کہ شرعی علوم کی حیثیت سے بعض ایسی چیزیں داخل درس تھیں جو شرعی اہمیت نہ رکھتی تھیں ۔اور اس کا نتیجہ یہ تھا کہ دین کےمتعلق لوگوں کے تصورات غلط ہو رہےتھےاور بعض غیر جنس کی چیزوں کو اہمیت حاصل ہو جانے کی وجہ سےفرقہ بندیاں پیدا ہورہی تھیں ۔ امام غزائی نے ان خرابیوں کو دور کر کے ایک سمویا ہوا نظام بنایا جس کی ان کے ہم عصروں نے سخت مخالفت کی مگر بالآخر تمام مسلم ممالک میں اس کےاصول تسلیم کر لیے گئے اور بعد میں جتنے نئے نظامات تعلیم بنے وہ تمام تر انہی خطوط پر بنے جو امام نے کھینچ دیئے تھے۔ اس وقت تک مدارس عربیہ میں جو نصاب پڑھایا جا رہا ہے اس کی ابتدائی خط کشی امام غزالی ہی کی رہین منت ہے۔
سابعا انہوں نے اخلاق عامہ کا پورا جائزہ لیا۔ انہیں علماء مشائخ امراء سلاطین، عوام سب کی زندگی کا مطالعہ کرنے کے خوب مواقع ملے تھے۔ خود چل پھر کر وہ مشرقی دنیا کا ایک بڑا حصہ دیکھ چکے تھے ۔ اس مطالعے کا نتیجہ ان کی کتاب احیاء العلوم ہے جس میں انہوں نے ہر طبقہ کی اخلاقی حالت پر تنقید کی ہے ایک ایک برائی کی جڑ اور اس کے نفسیاتی اور تمدنی اسباب کا کھوج لگایا ہے اور اسلام کا صحیح اخلاقی معیار پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
ثامنا ، انہوں نے اپنے عہد کے نظام حکومت پر بھی پوری آزادی کے ساتھ تنقید کی۔براه راست حکام وقت کو بھی اصلاح کی طرف توجہ دلاتے رہے اور عوام میں بھی یہ روح پھونکنے کی کوشش کرتے رہے کہ منفعلانہ انداز سے جبر و ظلم کے آگے سرتسلیم خم نہ کریں بلکہ آزاد نکتہ چینی کریں۔ احیاء میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ہمارے زمانہ میں سلاطین کے تمام یا اکثر اموال حرام ہیں ۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ ان سلاطین کو نہ اپنی صورت دکھانی چاہیے نہ ان کی دیکھنی چاہیے۔انسان کے لیے لازم ہے کہ ان کے ظلم سے بغض رکھنے ان کے بقاء کو پسند نہ کرئے ان کی تعریف نہ کرئے ان کے حالات سے کوئی واسطہ نہ رکھے اور ان کے ہاں رسائی رکھنے والوں سے بھی دور رہے۔ایک اور جگہ ان آداب پرستش و عبودیت پر نکتہ چینی کرتےہیں جو در باروں میں رائج تھےاس معاشرت کی مذمت کرتے ہیں جو بادشاہوں اور امراء نے اختیار کر رکھی تھی، حتی کہ ان کےمحلات ان کے لباس ان کی آرائش ہر چیز کو نجس بتلاتے ہیں ۔ اسی پر بس نہیں بلکہ انہوں نے اپنےعہد کے بادشاہ کو ایک مفصل خط لکھا جس میں اس کو اسلامی طرز حکومت کی طرف دعوت دی حکمرانی کی ذمہ داریاں سمجھا ئیں۔ اور اسے بتایا کہ تیرے ملک میں جو ظلم ہو رہا ہے، خواہ تو خود کرے یا تیرے عمال کریں، بہر حال اس کی ذمہ داری تجھ پر ہے۔ ایک دفعہ مجبور در بارشاہی میں جانا پڑا تو دورانِ گفتگو میں بادشاہ کے منہ درمنہ کہا کہ :
ابن خلدون کے بیان سے یہاں تک معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسی سلطنت کے قیام کے خواہاں تھے جو خالص اسلامی اصول پر ہو خواہ دنیا کے کسی گوشے میں ہو ۔ چنانچہ مغرب اقصیٰ میں موحدین کی سلطنت انہی کے اشارہ سےان کےایک شاگرد نے قائم کی ۔مگر امام موصوف کےکارنامے میں یہ سیاسی رنگ محض ضمنی حیثیت رکھتا تھا۔ سیاسی انقلاب کے لیے انہوں نے کوئی با قاعدہ تحریک نہیں اٹھائی نہ حکومت کےنظام پر کوئی خفیف سے خفیف اثر ڈال سکے۔ ان کے بعد جاہلیت کی حکمرانی میں مسلمان قوموں کی حالت خراب سے خراب تر ہوتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ ایک صدی بعد تا تاری طوفان کے دروازے ممالک اسلامیہ پر ٹوٹ پڑنے اور اس نے ان کےپورے تمدن کو تباہ کر کے رکھ دیا۔
امام غزائی کے تجدیدی کام میں علمی و فکری حیثیت سے چند نقائص بھی تھے اور وہ تین عنوانات پر تقسیم کیے جاسکتے ہیں۔ ایک قسم ان نقائص کی جو حدیث کے علم میں کمزور ہونے کی وجہ سے ان کے کام میں پیدا ہوئے_١ دوسری قسم ان نقائص کی جو ان کے ذہن پر عقلیات کے غلبہ کی وجہ سے تھے۔ اور تیسری قسم ان نقائص کی جو ان کے ذہن پر عقلیات کے غلبہ کی وجہ سے تھے۔اور تیسری قسم ان نقائص کی جو تصوف کی طرف ضرورت سے زیادہ مائل ہونےکی وجہ سےتھے
١- تاج الدین سکی نے طبقات الشافعیہ میں ایسی تمام احادیث کو جمع کر دیا ہے جنہیں امام غزائی نے احیاء العلوم میں درج کیا ہے اور جن کی کوئی سند نہیں ملتی (ملاحظہ ہو طبقات حصہ چہارم ص ۱۴۵ تاص۱۸۲)
ان کمزوریوں سے بیچ کر امام موصوف کے اصل کام یعنی اسلام کی ذہنی واخلاقی روح کو زندہ کرنے اور بدعت و ضلالت کی آلائشوں کو نظام فکر ونظام تمدن سے چھانٹ چھانٹ کر نکالنےکے کام کو جس شخص نے آگے بڑھایا وہ ابن تیمیہ تھا۔
ابن تیمیه : امام غزائی کے ڈیڑھ سو برس بعد ساتویں صدی کے نصف آخر میں امام ابن تیمیہ پیدا ہوئے ۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ دریائے سندھ سے فرات کے کناروں تک تمام مسلمان قوموں کو تا تاری غارت گر پامال کر چکے تھے اور شام کی طرف بڑھ رہے تھے۔ مسلسل پچاس برس کی ان شکستوں نے دائی خوف اور بدامنی کی حالت نے اور علم و تہذیب کے تمام مرکزوں کی تباہی نے مسلمانوں کو اس مرتبہ پستی سے بھی بہت زیادہ نیچے گرادیا تھا جس پر امام غزالی نے انہیں پایا تھا۔ نئے تاتاری حملہ آور اگر چہ اسلام قبول کرتے جا رہے تھے، مگر جاہلیت میں نیہ حکمران اپنے پیش رو تر کی فرمانرواؤں سے بھی کئی قدم آگے تھے۔ ان کے زیر اثر آکر عوام اور علماء ومشائخ اور فقہاء وقضاة کے اخلاق اور بھی زیادہ گرنے لگے_٢ تقلید جامد ا حد کو پہنچ گئی کہ مختلف فقہی و کلامی مذاہب گویا مستقل دین بن گئے_١ اجتہاد معصیت بن کر رہ گیا۔ بدعات وخرافات نے شرعی حیثیت اختیار کر لی۔ کتاب وسنت کی طرف رجوع کرنا ایسا گناہ ہو گیا جو کسی طرح معاف نہیں کیا جاسکتا۔ اس دور میں جاہل و گمراہ عوام دنیا پرست یا تنگ نظر علماء اور جاہل و ظالم حکمرانوں کی ایسی سنگت بن گئی تھی کہ اس اتحاد ثلاثہ کے خلاف کسی کا اصلاح کے لیے اٹھنا اپنی گردن کو قصاب کی چھری کےسامنے پیش کرنے سے کم نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ گو اس وقت صحیح الخیال وسیع النظر، حقیقت شناس علماء نا پید نہ تھے نہ ان کچے اور اصلی صوفیوں کی کمی تھی جو جادہ حق پر گامزن تھے مگر جس نے اس تاریک زمانہ میں اصلاح کا علم اٹھانے کی جرات کی وہ ایک ہی اللہ کا بندہ تھا۔
٢- اس وقت کے علماء کی حالت یہ تھی کہ ہلاکو خاں نے بغداد پر تسلط جمانے کے بعد علماء سےفتوئی طلب کیا کہ سلطان کا فر عادل اور سلطان مسلم ظالم میں سے کون افضل ہے؟ تو علمائے کرام نے بلا تکلف فیصلہ صادر فرمایا کہ سلطان کا فر عادل افضل ہے۔ اس وقت کے امراء کا حال یہ تھا کہ دنیائے اسلام میں تاتاریوں کی چیرہ دستی سےبچ بچا کر مسلمانوں کی جو سب سے بڑی سلطنت رہ گئی تھی وہ مصر و شام کے ممالک کی سلطنت تھی، اور انہوں نےاپنی سلطنت کے قانون کو دوحصوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ ایک شخصی قانون، جس کا دائرہ اثر صرف نکاح و طلاق و وراثت وغیرہ امور مذہبی تک محدود تھا، اور ان معاملات میں فیصلے شریعت کے مطابق ہوتے تھے۔ دوسرا ملکی قانون جو تمام دیوانی و فوجداری معاملات اور پورے نظام سلطنت پر حاوی تھا اور یہ سراسر چنگیز خانی دستور پرمبنی تھا۔ مزید برآں شریعت کا شخصی قانون جو کچھ بھی ملک میں رائج تھا صرف عوام الناس کے لیے تھا۔ رہے حکمران، تو وہ مسلمان ہونے کے باوجود اکثر و بیشتر اپنے شخصی معاملات تک میں تو رہ چنگیزی کی پیروی کرتے تھے نہ کہ شریعت محمدی کی ۔ ان کے غیر اسلامی رویے کا اندازہ کرنے کے لیے صرف اتنی بات کافی ہے کہ مقریزی کےبیان کے مطابق انہوں نے اپنی سلطنت میں تجبہ خانوں کی کھلی چھٹی دے رکھی تھی اور زنان بازاری پر ایک ٹیکس لگا دیا گیا تھا جس کی آمدنی "دولت اسلامیہ" کے خزانہ عامرہ میں داخل کی جاتی تھی ۔ ابن تیمیہ کے ہم عصر علماء اور صوفیہ اکثر و بیشتر اس سلطنت کے وظیفہ خوار تھے ۔ انہیں خدا کے دین کی یہ مظلومی تو ایک لمحہ کے لیے بھی نہ کھٹکی۔ انہیں خدا کے دین کی یہ مظلومی تو ایک لمحہ کے لیے بھی نہ کھٹکی ۔البتہ جب ابن تیمیہ نے اٹھ کر اصلاح کی کوشش کی تو ان لوگوں کی رگ حمیت یکا یک پھڑک اٹھی اور انہوں نے فتوے دینے شروع کر دیئے کہ یہ شخص ضال اور مفضل ہے تجسیم وتشبیہ کا قائل ہے طریق سلف سے منحرف ہے، تصوف کا اور اہل تصوف کا دشمن ہے صحابہ اور آئمہ تک کے منہ آتا ہے دین میں نئی نئی باتیں نکالتا ہے اس کے پیچھے نماز جائز نہیں اور اس کی کتابیں جلا دینے کے لائق ہیں۔
(١) اس حالت کا اندازہ کرنے کے لیے بھی صرف ایک نمونہ کافی ہے۔ دمشق میں ایک مدر سے (مدرسہ رواحیہ ) کے بانی نے اپنے وقف نامے میں لکھ رکھا تھا کہ اس مدرسے میں یہودی، عیسائی اور حنبلی داخل نہیں ہو سکتے ۔اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ فقہ وکلام کے جزئیات پر مناظرہ بازیاں کرتے ہوئے نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ ایک شافعی اور اشعری حضرت امام احمد بن حنبل کے پیروؤں کو یہود و نصاری کے ساتھ شامل کرنے میں بھی تامل نہ کرتا تھا۔
ابن تیمیہ قرآن میں گہری بصیرت رکھتے تھے، حتی کہ حافظ ذہبی نے شہادت دی کہ اما التفسیر فمسلّم اليه: تفسیر تو ابن تیمیہ کا حصہ ہے حدیث کے امام تھے۔ یہاں تک کہا گیا کہ کل حدیث لا يعرفه ابن تيمية فليس بحدیث ( جس حدیث کو ابن تیمیہ نہ جانتےہوں وہ حدیث نہیں ہے)۔ تفقہ کی شان یہ تھی کہ بلا شبہ ان کو مجتہد مطلق کا مرتبہ حاصل تھا۔ علوم عقلیہ، منطق، فلسفہ اور کلام میں اتنی گہری نظر تھی کہ ان کے معاصرین میں سے جن لوگوں کا سرمایہ ناز یہی علوم تھے وہ ان کے سامنے بچوں کی حیثیت رکھتے تھے۔ یہود اور نصاری کے لٹریچر اور ان کے مذہبی فرقوں کے اختلافات پر ان کی نظر اتنی وسیع تھی کہ گولڈ زیہر کے بقول کوئی شخص جو تورات کی شخصیتوں سے بحث کرنا چاہے وہ ابن تیمیہ کی تحقیقات سے بے نیاز نہیں ہوسکتا۔ اور ان سب علمی کمالات کے ساتھ اس شخص کی جرات و ہمت کا یہ حال تھا کہ اظہار حق میں کبھی کسی بڑی سےبڑی طاقت سے بھی نہ ڈرا حتی کہ متعدد مرتبہ جیل بھیجا گیا اور آخر کار جیل ہی میں جان دے دی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ امام غزائی کے چھوڑے ہوئے کام کو ان سے زیادہ خوبی کے ساتھ آگے بڑھانے میں کامیاب ہوا۔
(١) انہوں نے یونانی منطق و فلسفہ پر امام غزائی سے زیادہ گہری اور زبردست تنقید کی اور اس کی کمزوریوں کو اس طرح نمایاں کر کے دکھایا کہ عقلیات کے میدان پر اس کا تسلط ہمیشہ کے لیے ڈھیلا ہو گیا۔ ان دونوں اماموں کی تنقید کے اثرات مشرق ہی تک محدود نہ رہے بلکہ مغرب تک بھی پہنچے۔ چنانچہ یورپ میں ارسطو کی منطق اور مسیحی متکلمین کے یونان زدہ فلسفیانہ نظام کےخلاف پہلی تنقیدی آواز امام ابن تیمیہ کےڈھائی سو برس بعد اٹھی۔
(۲) انہوں نے اسلام کے عقائد احکام اور قوانین کی تائید میں ایسے زبر دست دلائل قائم کیے جو امام غزائی کے دلائل سے زیادہ معقول بھی تھے اور اسلام کی اصل روح کے حامل ہونےمیں بھی ان سے بڑھے ہوئے تھے۔ امام غزائی کے بیان واستدلال پر اصطلاحی معقولات کا اثر چھایا ہوا تھا۔ ابن تیمیہ نے اس راہ کو چھوڑ کر عقلِ عام (Common Sense) پرت تعیین کی بناء رکھی جو زیادہ فطری زیادہ مؤثر اور زیادہ قرآن وسنت کے قریب تھی۔ یہ نئی راہ پچھلی راہ سے بالکل الگ تھی۔ جولوگ دین کے علم بردار تھے وہ فقط احکام نقل کر دیتے تھے تفہیم نہ کر سکتےتھے اور جو کلام میں پھنس گئے تھے وہ تفلسف اور اصطلاحی معقولات کو ذریعہ تفہیم بنانے کی وجہ سےکتاب وسنت کی اعلیٰ اسپرٹ کو کم و بیش کھو دیتے تھے ۔ ابن تیمیہ نے عقائد واحکام کو ان کی اصل اسپرٹ کے ساتھ بے کم و کاست بیان بھی کیا اور پھر تفہیم کا وہ سیدھا سادہ فطری ڈھنگ اختیار کیا بس کے سامنے عقل کے لیے سر جھکا دینے کے سوا چارہ نہ تھا۔ اسی زبردست کارنامے کی تعریف امام حدیث علامہ ذہبی نے ان الفاظ میں کی ہے ولقد نصر السنة المحصنة والطريقة السلفية واحتج لها ببراهين و مقدمات و امور لم يسبق اليها ۔ یعنی ابن تیمیہ نےخالص سنت اور طریقہ سلف کی حمایت کی اور اس کی تائید میں ایسے دلائل اور ایسے طریقوں سے کام لیا جن کی طرف ان سے پہلے کسی کی نظر نہ گئی تھی۔
(۳) انہوں نے تقلید جامد کے خلاف صرف آواز ہی نہیں اٹھائی بلکہ قرونِ اولیٰ کےمجتہدین کے طریقہ پر اجتہاد کر کے دکھایا۔ براہِ راست کتاب و سنت اور آثار صحابہ سے استنباط کر کے اور مختلف مذاہب فقہ کے درمیان آزاد محاکمہ کر کےکثیر التعداد مسائل میں کلام کیا۔ جس سے راہ اجتہاد از سرنو باز ہوئی اور قوت اجتہادیہ کا طریق استعمال لوگوں پر واضح ہوا۔ اس کے ساتھ انہوں نے اور ان کے جلیل القدر شاگرد ابن قیم نے حکمت تشریع اور شارع کے طر ز قانون سازی پر اتنا نفیس کام کیا جس کی مثال ان سے پہلے کے شرعی لٹریچر میں نہیں ملتی ۔ یہ وہ مواد ہے جس سےان کے بعد اجتہادی کام کرنے والوں کو بہترین رہنمائی حاصل ہوئی اور آئندہ ہوتی رہے گی۔
(۴) انہوں نے بدعات اور مشرکانہ رسوم اور اعتقادی و اخلاقی گمراہیوں کےخلاف سخت جہاد کیا اور اس سلسلہ میں بڑی مصیبتیں اٹھا ئیں۔ اسلام کے چشمہ صافی میں اس وقت تک جتنی آمیزشیں ہوئی تھیں، اس اللہ کے بندے نےان میں سے ایک کو بھی نہ چھوڑا ایک ایک کی خبر لی اور ان سب سےچھانٹ کر ٹھیٹھ اسلام کے طریقہ کو الگ روشن کر کے دنیا کے سامنے رکھ دیا۔ اس تنقید و تنقیح میں اس شخص نے کسی کی رورعایت نہ کی۔ بڑے بڑےآدمی جن کےفضل و کمال اور تقدس کا سکہ مسلمانوں کی ساری دنیا پر بیٹھا ہوا تھا، جن کے نام سن کر لوگوں کی گردنیں جھک جاتی تھیں، ان تیمیہ کی تنقید سے نہ بچ سکے۔ وہ طریقے اور اعمال جو صدیوں سے مذہبی حیثیت اختیار کیے ہوئے تھے، جن کے جواز بلکہ استحباب کی دلیلیں نکال لی گئی تھیں اور علماء حق بھی جن سےمداہنت کر رہے تھے ابن تیمیہ نے ان کو ٹھیٹھ اسلام کے منافی پایا اور ان کی پر زور مخالفت کی۔اس آزاد خیالی اور صاف گوئی کی وجہ سے ایک دنیا ان کی دشمن ہو گئی اور آج تک دشمن چلی آتی ہے۔ جو لوگ ان کے عہد میں تھے انہوں نے مقدمات قائم کر کے انہیں کئی بار جیل بھجوایا۔ اور جو بعد میں آئے انہوں نے تکفیر و تضلیل کر کے اپنا دل ٹھنڈا کیا ۔ مگر اسلام خالص و محض کے اتباع کا جوصور اس شخص نے پھونکا تھا' اس کی بدولت ایک مستقل حرکت دنیا میں پیدا ہو گئی جس کی آواز بازگشت اب تک بلند ہو رہی ہے۔
اس تجدیدی کام کے ساتھ انہوں نے تاتاری وحشت و بربریت کے مقابلہ میں تلوار سے بھی جہاد کیا۔ اس وقت مصر و شام اس سیلاب سے بچے ہوئے تھے۔ امام نے وہاں کے عام مسلمانوں اور رئیسوں میں غیرت وحمیت کی آگ پھونکی اور انہیں مقابلہ پر آمادہ کیا۔ ان کے ہم عصر شہادت دیتے ہیں کہ مسلمان تاتاریوں سے اتنے مرعوب ہو چکے تھے کہ ان کا نام سن کر کانپ اٹھتے تھے اور ان کے مقابلہ میں جاتے ہوئے ڈرتے تھے ۔ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى الْمَوْتِ مَگر ابن تیمیہ نے ان میں جہاد کا جوش پھونک کر شجاعت کی سوئی ہوئی روح کو بیدار کر دیا۔ تاہم یہ واقعہ ہے کہ وہ کوئی ایسی سیاسی تحریک نہ اٹھا سکے جس سے نظام حکومت میں انقلاب بر پا ہوتا اور اقتدار کی کنجیاں جاہلیت کے قبضہ سے نکل کر اسلام کے ہاتھ میں آجاتیں۔
شیخ احمد سر ہندی : ساتویں صدی میں فتنہ تاتار نے ہندوکش سے اُس پار کی دنیا کو تو بالکل تاخت و تاراج کر دیا، مگر ہندوستان اس کی دست برد سے بچ گیا تھا۔ اس ڈھیل نے یہاں کےمترفین کو اسی غلط فہمی میں ڈال دیا جو ہمیشہ فریفتگان زینت دنیا کو لاحق ہوتی ہے۔ یہاں وہ تمام خرابیاں پرورش پاتی رہیں جو خراسان و عراق میں تھیں ۔ وہی پادشاہوں کی خداوندی وہی امراء و اہل دولت کی عیش پسندی، وہی باطل طریقوں سے مال لینا اور باطل راستوں میں خرچ کرنا، وہی جبر و ظلم کی حکومت، وہی خدا سے غفلت اور دین کی صراط مستقیم سے بعد ۔ رفتہ رفتہ نوبت اکبر بادشاہ کے دور حکومت تک پہنچی جس میں گمراہیاں اپنی حد کو پہنچ گئیں ۔
اکبر کے دربار میں یہ رائے عام تھی کہ ملت اسلام جاہل بدؤوں میں پیدا ہوئی تھی۔ کسی مہذب و شائستہ قوم کے لیے وہ موزوں نہیں ۔ نبوت وحی حشر و نشر دوزخ و جنت ہر چیز کا مذاق اڑایا جانے لگا۔ قرآن کا کلام الہی ہونا مشتبہ وحی کا نزول عقلاً مستبعد مرنے کے بعد ثواب و عذاب غیر یقینی البتہ تاریخ ہر آئینہ ممکن واقرب الی الصواب ۔ معراج کو علانیہ محال قرار دیا جاتا۔ ذات نبوی پر اعتراضات کیے جاتے۔ خصوصاً آپ کی ازواج کے تعدد اور آپ کے غزوات و سرایا پر کھلم کھلا حرف گیریاں کی جاتیں۔ یہاں تک کہ لفظ احمد اور محمد سے بھی بیزاری ہوگئی اور جن کے ناموں میں یہ لفظ شامل تھا ان کے نام بدلے جانے لگے۔ دنیا پرست علماء نے اپنی کتابوں کے خطبوں میں نعت لکھنی چھوڑ دی ۔ بعض ظالم اس حد تک بڑھے کہ دقبال کی نشانیاں ہادی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم پر چسپاں کرنے لگے العیاذ باللہ العیاذ باللہ۔ دیوانخانہ شاہی میں کسی کی مجال نہ تھی کہ نماز ادا کر سکے۔ابوالفضل نے نماز روزہ حج اور دوسرے شعائر دینی پر سخت اعتراضات کیے اور ان کا مذاق اڑایا۔ شعراء نے ان شعائر کی جو لکھی جو عوام کی زبانوں تک بھی پہنچی ۔
بہائی نظریہ کی بناء بھی دراصل اکبری عہد ہی میں پڑی تھی۔ اس وقت یہ نظریہ قائم کیا گیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پر ایک ہزار سال گزرچکے ہیں اور اس دین کی مدت ایک ہزار سال ہی تھی، اس لیے اب وہ منسوخ ہو گیا اور اس کی جگہ نئے دین کی ضرورت ہے۔ اس نظریہ کو سکوں کے ذریعہ سے پھیلایا گیا کیونکہ اس زمانہ میں نشر واشاعت کا سب سے زیادہ قوی ذریعہ یہی تھا۔ اس کے بعد ایک نئے دین اور نئی شریعت کی طرح ڈالی گئی جس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ہندؤوں اور مسلمانوں کے مذہب کو ملا کر ایک مخلوط مذہب بنایا جائے تا کہ شاہی حکومت مستحکم ہو۔ دربار کے خوشامدی ہندؤوں نے اپنے بزرگوں کی طرف سے پیشین گوئیاں سنانی شروع کر دیں کہ فلاں زمانہ میں ایک گنور کھشک مہاتما بادشاہ پیدا ہو گا۔ اور اسی طرح بندۂ زر علماء نے بھی اکبر کو مہدی اور صاحب زماں اور امام مجتہد وغیرہ ثابت کرنے کی کوشش کی ۔ ایک "تاج العارفین“صاحب یہاں تک بڑھے کہ اکبر کو انسان کامل اور خلیفتہ الزمان ہونےکی حیثیت سے خدا کا عکس ہی ٹھہرا دیا۔ عوام کو سمجھانے کے لیے کہا گیا کہ حق اور صدق ( عالمگیر سچائیاں ) تمام مذاہب میں موجود ہیں، کوئی ایک ہی دین حق کا اجارہ دار نہیں ہے لہذا سب مذہبوں میں جو جو باتیں حق ہیں انہیں لے کر ایک جامع طریقہ بنانا چاہیے اور اس کی طرف لوگوں کو دعوتِ عام دینی چاہیے تا کہ ملتوں کے سب اختلافات مٹ جائیں۔ اسی طریق جامع کا نام دین الہی ہے اس نئے دین کا کلمہ لا الہ الا اللہ اکبر خلیفتہ اللہ تجویز کیا گیا۔ جو لوگ اس دین میں داخل ہوتے ان کو دین اسلام مجازی و تقلیدی که از پدراں دیدہ و شنیده ام سے تو بہ کر کے دین الہی اکبر شاہی میں داخل ہونا پڑتا تھا اور داخل ہونے کے بعد ان کو لفظ ” چیلہ سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ سلام کا طریقہ بدل کر یوں کر دیا گیا کہ سلام کرنے والا اللہ اکبر اور جواب دینے والا’ جل جلالہ“ کہتا۔ یادر ہے کہ بادشاہ کا نام جلال الدین اور لقب اکبر تھا۔ چیلوں کو بادشاہ کی تصویر دی جاتی اور وہ اسے پگڑی میں لگاتے ۔ بادشاہ پرستی اس دین کے ارکان میں سے ایک رکن تھی ۔ ہر روز صبح کو بادشاہ کا درشن کیا جاتا اور بادشاہ کے سامنے جب حاضری کا شرف عطا ہوتا تو اس کے سامنے سجدہ بالایا جاتا۔ علماء کرام اور صوفیائے باصفا دونوں اپنے اس قبلہ حاجات اور کعبہ مرادات کو بے تکلف سجدہ فرماتےتھےاور صریح شرک کو سجدہ تحیہ اور ز میں بوسی جیسے الفاظ کے پردے میں چھپاتے تھے۔ یہ وہی ملعون حیلہ بازی تھی جس کی پیشین گوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا جب لوگ حرام چیز کا نام بدل کر اس کو حلال کر لیا کریں گے۔
اس نئے دین کی بنا تو یہ کہہ کر رکھی گئی تھی کہ اس میں بلا کسی تعصب کے ہر مذہب کی اچھی باتیں لی جائیں گی، مگر دراصل اس میں اسلام کے سوا ہر مذہب کی پذیرائی تھی اور نفرت و عداوت کے لیے صرف اسلام اور اس کے احکام و قوانین ہی کو مختص کر لیا گیا تھا۔ پارسیوں سےآتش پرستی لی گئی اکبری محل میں دائی آگ کا الاؤ روشن کیا گیا اور چراغ روشن کرنے کے وقت قیامِ تعظیمی کیا جانے لگا۔ عیسائیوں سے ناقوس نوازی اور تماشائے صورتِ ثالث ثلثہ اور اسی قسم کی چند چیزیں لی گئیں۔ سب سے زیادہ نظر عنایت ہندویت پر تھی، کیونکہ یہ ملک کی اکثریت کا مذہب تھا اور پادشاہی کی جڑیں مضبوط کرنے کے لیے اس کی استمالت ضروری تھی۔ چنانچہ گائے کا گوشت حرام کیا گیا۔ ہندو تہوار دیوالی، دسہرہ، راکھی، پونم شیوراتری وغیرہ پوری ہندوانہ رسوم کےساتھ منائے جانے لگے۔ شاہی محل میں ہون کی رسم ادا کی جانے لگی۔ دن میں چار وقت آفتاب کی عبادت کی جاتی۔ اور آفتاب کے ایک ہزار ناموں کا جاپ کیا جاتا۔ آفتاب کا نام جب زبان پر آتا جلت قدرتہ کے الفاظ کہے جاتے، پیشانی پر قشقہ لگایا جاتا۔ دوش دو کمر پر جنیو ڈالا جاتا اور گائے کی تعظیم کی جاتی۔ معاد کے متعلق عقیدہ تناسخ تسلیم کر لیا گیا اور برہمنوں سے ان کےدوسرے بہت سے اعتقادات سیکھے گئے ۔ یہ سارا معاملہ تو تھا دوسرے مذاہب کے ساتھ ۔ رہا اسلام تو اس کے معاملہ میں بادشاہ اور درباریوں کی ایک ایک حرکت سے ظاہر ہوتا تھا کہ ان کو اس سے ضد اور چڑ ہوگئی ہے۔ اسلامی تعلیمات کے خلاف دوسرے مذاہب والوں کی طرف سے جو بات در بار کا رنگ دیکھ کر فلسفیانہ و صوفیانہ انداز میں پیش کر دی جاتی اسے وحی آسمانی سمجھ لیا جاتا اور اس کے مقابلہ میں اسلامی تعلیم رد کر دی جاتی ۔ علماء اسلام اگر اسلام کی طرف سے کوئی بات کہتے، یا کسی گمراہی کی مخالفت کرتے تو انہیں فقیہ" کے نام سے موسوم کیا جاتا جس کے معنی ان کی اصطلاح خاص میں احمق اور ناقابل التفات آدمی کے ہو گئے تھے ۔ چالیس آدمیوں کی ایک کمیٹی مذاہب کی تحقیق کے لیے مقرر کی گئی تھی جس میں تمام مذاہب کا مطالعہ بڑی رواداری بلکہ عقیدت مندی کے ساتھ کیا جاتا تھا، مگر اسلام کا نام آتے ہی اس کا مذاق اڑایا جانے لگتا تھا، اور اگر اسلام کا کوئی حامی جواب دینا چاہتا تو اس کی زبان بند کر دی جاتی تھی۔ یہ برتاؤ اسی حد تک نہ رہا بلکہ عملاً اسلام کے احکام کی دل کھول کر ترمیم و تنسیخ کی گئی۔ سوڈ جوئے اور شراب کو حلال کیا گیا۔ شاہی مجلس میں نو روز کے موقع پر شراب کا استعمال ضروری تھا۔ حتی کہ قاضی و مفتی تک پی جاتے تھے۔ ڈاڑھی منڈوانے کا فیشن عام کیا گیا اور اس کے جواز پر دلائل قائم کیے گئے۔ چا زاد اور ماموں زاد بہن سے نکاح کو ممنوع قرار دیا گیا۔ لڑکے کے لیے ۶ سال اور لڑکی کے لیے ۱۴ سال عمر نکاح مقرر کی گئی۔ ایک بیوی سے زیادہ بیویاں رکھنے کی ممانعت کی گئی۔ ریشم اور سونے کے استعمال کو حلال کیا گیا۔ شیر اور بھیڑیے کو حلال کیا گیا۔ سور کو اسلام کی ضد میں نہ صرف پاک بلکہ ایک مقدس جانور قرار دیا گیا۔ حتی کہ صبح آنکھ کھولتے ہی اسے دیکھنا مبارک خیال کیا جاتا تھا۔ مُردوں کو دفن کرنے کے بجائے جلانا یا پانی میں بہانا احسن بخبر ایا گیا اور اگر کوئی دفن ہی کرنا چاہے تو سفارش کی گئی کہ پاؤں قبلہ کی طرف رکھے جائیں۔ اکبر خود اسلام کی ضد میں قبلہ ہی کی طرف پاؤں کر کے سونے کا التزام کرتا تھا۔ حکومت کی تعلیمی پالیسی بھی سراسر اسلام کی مخالف تھی۔ عربی زبان کی تعلیم اور فقہ و حدیث کے درس کو نا پسندیدہ سمجھا جاتا اور جو لوگ ان علوم کو حاصل کرتے وہ حقیر خیال کیے جاتے۔ علوم دینی کے بجائے حکمت و فلسفہ ریاضی و تاریخ اور اس نوع کے علوم کو سرکاری سر پرستی حاصل تھی۔ زبان میں ہندیت پیدا کرنے کی طرف خاص میلان تھا اور عربی حروف کو زبان سے خارج کرنے کی بھی تجویز میں تھیں یہ ان حالات کی وجہ سے دینی مدر سے ویران ہونے لگے اور اکثر اہلِ علم ملک چھوڑ چھوڑ کر نکلنے لگے۔
یہ تو تھا حکومت کا حال۔ اور عوام کا حال یہ تھا کہ جو لوگ باہر سے آئے تھے وہ ایران و خراسان کی اخلاقی و اعتقادی بیماریاں ساتھ لائے تھے، اور جولوگ ہندوستان ہی میں مسلمان ہوئے تھے ان کی اسلامی تعلیم وتربیت کا کوئی خاص انتظام نہ تھا اس لیے وہ پرانی جاہلیت کی بہت سی باتیں اپنے خیالات اور اپنی عملی زندگی میں لیے ہوئے تھے۔ ان دونوں قسم کے مسلمانوں نے مل جل کر ایک عجیب مرکب تیار کیا تھا جس کا نام اسلامی تمدن تھا۔ اس میں شرک بھی تھا۔ نسلی اور طبقاتی امتیازات بھی تھے اوہام و خرافات بھی تھے اور نو ایجا درسموں کی ایک نئی شریعت بھی تھی۔ دنیا پرست علماء و مشائخ نے نہ صرف اس مخلوطہ سے موافقت کر لی تھی بلکہ وہ اس نئے ”مت“ کے پروہت بن گئے تھے۔ لوگوں کی طرف سے ان کو نذرانے پہنچتے اور ان کی طرف سے لوگوں کو فرقہ بندی کا تحفہ ملتا۔
پیران طریقت کے ہاتھوں سے ایک اور بیماری پھیل رہی تھی۔ اشراقیت، رواقیت (Stoicism) مانویت اور وید انتنزم کی آمیزش سے ایک عجیب قسم کا فلسفیانہ تصوف پیدا ہو گیا تھا، جسے اسلام کے نظام اعتقادی و اخلاقی میں ٹھونس دیا گیا تھا۔ طریقت وحقیقت، شرع اسلامی سے الگ اور اس سے بے نیاز قرار دی گئی تھیں ۔ باطن کا کوچہ ظاہر سے جدا بنالیا گیا تھا اور اس کوچہ کا قانون یہ تھا کہ حدود حلال و حرام رخصت احکام دین عملاً منسوخ اور ہوائے نفس کے ہاتھ میں کلی اختیارات۔ جس فرض کو چاہے ساقط کرے اور جس چیز کو چاہے فرض بلکہ فرض الفرض بنا دے۔ جس حلال کو چاہے حرام کر دے اور جس حرام کو چاہے حلال کر دے۔ ان عام پیروں سے بہتر جس کی حالت تھی ان پر کم و بیش فلسفیانہ تصوف کے اثرات پڑے ہوئے تھے اور وحدۃ الوجود کے ایک غلط تصور نے خصوصیت کے ساتھ تمام قوائے عمل کو بے کار کر دیا تھا۔
یہ حالات تھے جب اکبری سلطنت کے ابتدائی ایام میں شیخ احمد سر ہندی_١ پیدا ہوئے۔ان کی تعلیم وتربیت ایسے لوگوں میں ہوئی تھی جو اس دور کے صالح ترین لوگ تھے گو اپنے گرد و پیش کے فساد کا مقابلہ نہ کر سکتے تھے مگر کم از کم اپنے ایمان اور عمل کو بچائے ہوئے تھے اور جہاں تک ہو سکتا تھا دوسروں کی اصلاح بھی کر رہے تھے۔ خصوصیت کے ساتھ شیخ کو سب سے زیادہ فیض حضرت باقی باللہ صاحب سے پہنچا تھا جو اپنے وقت کے ایک بڑے صالح بزرگ تھے ۔ مگر خود شیخ کی ذاتی صلاحیتوں کا حال یہ تھا کہ جب حضرت موصوف کے ساتھ راہ و رسم کی ابتدا ہوئی تھی اسی وقت انہوں نے شیخ کے متعلق اپنے یہ خیالات ایک دوست کو لکھ کر بھیجے تھے:
"حال میں سرہند سے ایک شخص شیخ احمد نامی آیا ہے۔ نہایت ذی علم ہے۔ بڑی عملی طاقت رکھتا ہے۔ چند روز فقیر کے ساتھ ہی اس کی نشست و برخاست ہوئی ہے۔ اس دوران میں اس کے حالات کا جو مشاہدہ ہوا اس کی بنا پر توقع ہے کہ آگے چل کر یہ ایک چراغ ہوگا جو دنیا کو روشن کر دے گا۔“
یہ پیشین گوئی پوری ہوئی۔ ہندوستان کے گوشوں میں بہت سےحق پرست علماء اور کچےصوفیہ بھی اس وقت موجود تھےمگر ان سب کے درمیان وہ ایک اکیلا شخص تھا جو وقت کےان فتوں کی اصلاح اور شریعت محمدی کی حمایت کےلیےاٹھا اور جس نے شاہی قوت کے مقابلہ میں یکہ و تنہا احیاء دین کی جدو جہد کی۔ اس بے سرو سامان فقیر نےعلی الاعلان اٹھ کر ان گمراہیوں کی مخالفت کی جنہیں حکومت کی حمایت حاصل تھی اور اس شریعت کی تائید کی جو حکومت کی نگاہ میں مبغوض تھی۔ حکومت نے اس کو ہر طرح دبانے کی کوشش کی، حتی کہ جیل بھی بھیجا، مگر بالآخر وہ فتنہ کا منہ پھیرنے میں کامیاب ہو گیا۔ جہانگیر جس نے سجدہ تحیہ نہ کرنے پر شیخ کو گوالیار کے قید خانہ میں بھیج دیا تھا، آخر کار شیخ کا معتقد ہو گیا اور اپنے بیٹے خرم کو جو بعد میں شاہجہان کے لقب سے تخت نشین ہوا ان کے حلقہ بیعت میں داخل کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام کے متعلق حکومت کی معاندانہ روش احترام سے بدل گئی۔ دین الہی اکبر شاہی“ ان تمام بدعتوں کے ساتھ ختم ہوا جو درباری شریعت سازوں نے گھڑی تھیں ۔ اسلامی احکام کی جوتر میم و تنسیخ کی گئی تھی وہ خود منسوخ ہو درباری شریعت سازوں نے گھڑی تھیں ۔ اسلامی احکام کی جوتر میم و تنسیخ کی گئی تھی وہ خود منسوخ ہو گئی۔ حکومت اگر چہ شاہی حکومت ہی رہی۔ مگر کم از کم اتنا ہوا کہ علوم دینی اور احکام شرعی کی طرف اس کا رویہ کا فرانہ ہونے کے بجائے عقیدتمندانہ ہو گیا۔ شیخ کی وفات کے تین چار سال بعد عالمگیر پیدا ہوا اور غالبا وہ شیخ ہی کے پھیلائے ہوئے اصلاحی اثرات تھے جن کی بدولت تیموری خاندان کے اس شہزادے کو وہ علمی اور اخلاقی تربیت مل سکی کہ اکبر جیسے ہادم شریعت کا پر پوتا خادم شریعت ہوا۔
شیخ کا کارنامہ اتنا ہی نہیں ہے کہ انہوں نے ہندوستان میں حکومت کو بالکل ہی کفر کی گود میں چلے جانے سے روکا اور اس فتنہ عظیم کے سیلاب کا منہ پھیرا جواب سے تین چار سو برس پہلے ہی یہاں اسلام کا نام و نشان مٹادیتا۔ اس کے علاوہ انہوں نے دو عظیم الشان کام اور بھی انجام دیئے۔ ایک یہ کہ تصوف کے چشمہ صافی کو ان آلائشوں سے جو فلسفیانہ اور راہبانہ گمراہیوں سے اس میں سرایت کر گئی تھیں پاک کرکے اسلام کا اصلی اور صبح تصوف پیش کیا۔ دوسرے یہ کہ ان تمام رسوم جاہلیت کی شدید مخالفت کی جو اس وقت عوام میں پھیلی ہوئی تھیں اور سلسلہ بیعت وارشاد کےذریعہ سے اتباع شریعت کی ایک ایسی تحریک پھیلائی جس کے ہزار ہا تربیت یافتہ کارکنوں نے نہ صرف ہندوستان کے مختلف گوشوں میں بلکہ وسط ایشیا تک پہنچ کر عوام کے اخلاق و عقائد کی اصلاح کی کوشش کی۔ یہی کام ہے جس کی وجہ سے شیخ سرہندی کا شمار مجد دین ملت میں ہوتا ہے۔
| کتاب | تجدید و احیائے دین |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |