حضرت مجددالف ثانی” کی وفات کے بعد اور عالمگیر بادشاہ کی وفات سے چارسال پہلے نواح دہلی میں شاہ ولی اللہ صاحب پیدا ہوئے ۔ ایک طرف ان کے زمانہ اور ماحول کو اور دوسری طرف ان کے کام کو جب آدمی بالمقابل رکھ کر دیکھتا ہے تو عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ اس دور میں اس نظر“ ان خیالات اس ذہنیت کا آدمی کیسے پیدا ہو گیا۔ فرخ سیر، محمد شاہ رنگیلے اور شاہ عالم کے ہندوستان کو کون نہیں جانتا۔ اس تاریک زمانہ میں نشو ونما پا کر ایسا آزاد خیال مفکر و مبصر منظر عام پر آتا ہے جو زمانہ اور ماحول کی ساری بندشوں سے آزاد ہو کر سوچتا ہے، تقلیدی علم اور صدیوں کےجمے ہوئے تعصبات کے بند تو ڑ کر ہر مسئلہ زندگی پر محققانہ ومجتہدانہ نگاہ ڈالتا ہے اور ایسا لٹریچر چھوڑ جاتا ہے جس کی زبان انداز بیان، خیالات، نظریات مواد تحقیق اور نتائج مستخرجہ کسی چیز پر بھی ماحول کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا حتی کہ اس کے اوراق کی سیر کرتے ہوئے یہ گمان تک نہیں ہوتا کہ یہ چیزیں اس جگہ لکھی گئی تھیں جس کے گرد و پیش عیاشی، نفس پرستی قتل و غارت، جبر و ظلم اور بدامنی و طوائف الملو کی کا طوفان برپا تھا۔
شاہ صاحب تاریخ انسانی کے ان لیڈروں میں سے ہیں جو خیالات کے الجھے ہوئےجنگل کو صاف کر کے فکر و نظر کی ایک صاف سیدھی شاہراہ بناتے ہیں، اور ذہن کی دنیا میں حالاتِ موجودہ کے خلاف ایسی بےچینی اور تعمیر نو کا ایسا دلآویز نقشہ پیدا کرتے چلےجاتےہیں جس کی وجہ سے ناگزیر طور پر تخریب فاسد و تعمیر صالح کے لیے ایک تحریک اٹھتی ہے۔شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا ہے کہ اس قسم کے لیڈرا اپنے خیالات کے مطابق خود کوئی تحر یک اٹھاتےہوں اور بگڑی ہوئی دنیا کو توڑ پھوڑ کر اپنے ہاتھوں سے نئی دنیا بنانے کے لیے میدان میں نکل آتے ہوں۔ تاریخ میں اس کی مثالیں بہت ہی کم ملتی ہیں۔اس طرز کےلیڈروں کا اصلی کارنامہ یہی ہوتا ہےکہ وہ تنقید سے صدہا برس کی جمی ہوئی غلط فہمیوں کا غبار چھانٹ دیتےہیں، اذہان میں نئی روشنی پیدا کرتےہیں، زندگی کے بگڑے ہوئے مگر پختہ بنے ہوئے سانچے کو عالم ذہنی میں توڑتے ہیں اور اس کے ملبے میں سےاصلی پائیدار حقیقتوں کو نکال کر دنیا کے سامنے رکھ جاتے ہیں ۔ یہ کام بجائے خود اتنا بڑا ہوتا ہے کہ اس کی مشغولیتوں سے آدمی کو اتنی فرصت مشکل ہی سے مل سکتی ہےکہ خود میدان میں آکر تعمیر کا عملی کام بھی کر سکے۔اگر چہ شاہ صاحب تفہیمات الہیہ میں ایک جگہ اشارہ کرتے ہیں کہ اگر موقع ومحل کا اقتضا ہوتا تو میں جنگ کر کےعملاً اصلاح کرنے کی قابلیت بھی رکھتا تھا۔ مگر واقعہ یہی ہے کہ انہوں نے اس طرز کا کوئی کام نہیں کیا۔ ان کی ساری قوتوں کو تنقید وتعمیر افکار کے بھاری کام نے بالکل اپنے اندر جذب کر رکھا تھا اور ان کو اس کار عظیم سے اتنی مہلت بھی نہ تھی کہ اپنے قریب ترین ماحول کی طرف ہی توجہ کر سکتے ۔ جیسا کہ آگے چل کر عرض کیا جائے گا ان کے صاف کیے ہوئے راستےپر عملی جدو جہد کرنے کے لیے کچھ دوسرے لوگوں کی ضرورت تھی، اور وہ نصف صدی کے اندر خود انہی کے حلقہ تعلیم و تربیت سے نشو ونما پا کر اٹھے۔
شاہ صاحب کے تجدیدی کارنامے کو ہم دو بڑے عنوانات پر تقسیم کر سکتے ہیں۔ ایک عنوان تنقید و تنقیح کا اور دوسرا عنوان تعمیر کا۔ میں ان دونوں کو الگ الگ بیان کروں گا۔
تنقیدی کام: پہلے عنوان کے سلسلہ میں شاہ صاحب نے پوری تاریخ اسلام پر تنقیدی نگاہ ڈالی ہے۔ جہاں تک مجھے علم ہے، شاہ صاحب پہلے شخص ہیں جس کی نظر تاریخ اسلام اور تاریخ مسلمین کے اصولی فرق اور باریک فرق تک پہنچی اور جس نے تاریخ مسلمین پر تاریخ اسلام کے نقطہ نظر سےنقد و تبصرہ کر کے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ ان بہت کی صدیوں میں اسلام قبول کرنے والی اقوام کے درمیان فی الواقع اسلام کا کیا حال رہا ہے یہ ایک ایسا نازک مضمون ہےجس کی پیچیدگیوں میں پہلے بھی لوگ اٹھے رہے ہیں اور اب تک الجھے ہوئےہیں۔ چنانچہ شاہ صاحب کےبعد کوئی ایسا صاحب نظر نہ اٹھا جس کےذہن میں حقیقی تاریخ اسلام کا تاریخ مسلمین سےالگ کوئی واضح تصور ہوتا۔شاہ صاحب کےکلام میں مختلف مقامات پر اس کےمتعلق اشارات موجود ہیں۔ مگر خصوصیت کے ساتھ ازالہ اٹھا کی فصل خشم میں انہوں نے صفحه ۱۳۳ سے صفی ۱۵۸_١ تک مسلسل تاریخ مسلمین پر تبصرہ کیا ہےاور کمال یہ کیا ہے کہ ایک ایک دور کی خصوصیات اور ایک ایک زمانہ کےفتنوں کو بیان کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کو بھی نقل کرتے گئے ہیں جن میں ان حالات کی طرف صریح اشارات پائےجاتے ہیں۔ اس تبصرہ میں قریب قریب ان تمام جاہلی آمیزشوں کی نشاندہی ہوگئی ہے جو مسلمانوں کے عقائد علوم اخلاق تمدن اور سیاست میں ہوتی رہیں۔
تقسیمات جلد اول ص ۱۰۱ فلو فرض ان يكون هذا الرجل في زمان واقتضت الاسباب ان يكون اصلاح النـــاس بـــاقــــامـة الــحـــروب و نـفـت فـي قلبــه اصلاحهم لقام هذا الرجل بامر الحرب اتم قيام وكان اما مافى الحرب لا يقاس بالرستم و الاسفند يار بل الرستم والاسفندیار وغيرهما طفيليون مستمدون منه مقتدون به.
پھر شاہ صاحب نے خرابیوں کے اس ہجوم میں کھوج لگا کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان میں بنیادی خرابیاں کون سی ہیں جن سے باقی تمام خرابیوں کا شجرہ نسب ملتا ہو اور آخر کار دو چیزوں پر انگلی رکھ دی ہے۔ ایک اقتدار سیاسی کا خلافت سے بادشاہت کی طرف منتقل ہونا۔
پہلی خرابی پر انہوں نے ازالہ میں پوری تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے۔ خلافت اور بادشاہی کے اصولی و اصطلاحی فرق کو جس قدر واضح صورت میں انہوں نے بیان کیا ہے اور جس طرح احادیث سے اس کی تشریح کی ہے اس کی مثال ان سے پہلے کے مصنفین کی تحریروں میں نہیں ملتی۔ اسی طرح اس انقلاب کے نتائج کو بھی جس صراحت کے ساتھ انہوں نے پیش کیا ہے وہ انگوں کے کلام میں مفقود ہے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:
"پہلے وعظ اور فتویٰ دونوں خلیفہ کی رائے پر موقوف تھے۔ خلیفہ کے بغیر نہ وعظ کہا جا سکتا تھا اور نہ کوئی فتویٰ دینے کا مجاز تھا مگر اس انقلاب کے بعد وعظ اور فتویٰ دونوں اس نگرانی سے آزاد ہو گئے بلکہ بعد میں تو فتوی دینے کے لیے جماعت صالحین کےمشورے کی قید بھی نہ رہی ہے_٢"
"ان لوگوں کی حکومت مجوسیوں کی حکومت کے مانند ہی ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ نماز پڑھتے اور کلمہ شہادت زبان سے ادا کرتے رہے ہیں۔ ہم اس تغیر کے دامن میں پیدا ہوئے ہیں، معلوم نہیں آگے چل کر خدا تعالیٰ کیا دکھانا چاہتا ہے_٣"
رہی دوسری خرابی تو شاہ صاحب نے ازالہ میں، حجت میں بدور بازنہ میں، تفهیمات میں مسوئی اور مصفی میں اور قریب قریب اپنی ہر تصنیف میں اس پر ماتم کیا ہے۔
"دولت شام ( اموی سلطنت ) کے خاتمہ تک کوئی اپنےآپ کو حقی یا شافعی نہ کہتا تھا بلکہ سب اپنے اپنے ائمہ اور اساتذہ کے طریقہ پر دلائل شرعی سے استنباط کرتے تھےدولت عراق ( عباسی سلطنت ) کے زمانہ میں ہر ایک نے اپنا ایک نام معین کیا اور یہ کیفیت ہو گئی کہ جب تک اپنے مذہب کے بڑوں کے نص نہ پاتے کتاب وسنت کی دلیل پر فیصلہ نہ کرتے۔ اس طرح وہ اختلافات جو تاویل کتاب وسنت کےمقتضیات سے ناگزیر طور پر پیدا ہوتے تھے، مستقل بنیادوں پر جم کر رہ گئے۔_٤ پھر جب دولت عرب کا خاتمہ ہو گیا یعنی ترکی اقتدار کا زمانہ آیا اور لوگ مختلف ممالک میں منتشر ہوئے تو ہر ایک نے جو کچھ اپنے مذہب فقہی سے یاد کیا تھا اسی کو اصل بنا لیا۔ پہلے جو چیز مذہب مستقبل تھی اب وہ سنت مستقر و بن گئی۔ اب ان کے علم کا مدار اس پر رہ گیا کہ تخریج پر تخریج کریں اور تفریح پر تفریح_١
”ہمارے زمانے کے سادہ لوح اجتہاد سے بالکل برگشتہ ہیں۔ اونٹ کی طرح ناک میں نکیل پڑی ہے۔ اور کچھ نہیں جانتے کہ کدھر جا رہے ہیں۔ ان کا کاروبار ہی دوسرا ہے۔ یہ بے چارے ان امور کی سمجھ بوجھ کے لیے مکلف ہی نہیں ہیں_٢
حجت کے مبحث ہفتم میں اور انصاف میں شاہ صاحب نے اس مرض کی پوری تاریخ بیان کی ہے اور ان خرابیوں کی نشان دہی کی ہے جو اس کی بدولت پیدا ہوتی ہیں۔
(۱) دلیل بازی اور یہ یونانی علوم کے اختلاط کی بدولت ہے۔ لوگ کلامی مباحث میں مشغول ہو گئے ہیں۔ یہاں تک کہ عقائد میں کوئی گفتگو ایسی نہیں ہوتی جو استدلالی مناظرات سے خالی ہو۔
(۲) وجدان پرستی اور یہ صوفیوں کی مقبولیت اور ان کی حلقه بگوشی کی وجہ سےہےجس نےمشرق سےمغرب تک لوگوں کو گھیر رکھا ہے، یہاں تک کہ ان حضرات کے اقوال و احوال لوگوں کے دلوں پر کتاب وسنت اور ہر چیز سے زیادہ تسلط رکھتےہیں۔ان کے رموز و اشارات اس قدر دخل پاگئےہیں کہ جو شخص ان رموز واشارات کا انکار کرے یا ان سےخالی ہو وہ نہ مقبول ہوتا ہے نہ صالحین میں شمار ہوتا ہے۔ منبروں پر کوئی واعظ ایسا نہیں جس کی تقریر اشارات صوفیہ سے پاک ہو اور درس کی مسندوں پر کوئی عالم ایسا نہیں جو ان کے کلام میں اعتقاد اور خوض کا اظہار نہ کرے۔ ورنہ اس کا شمار گدھوں میں ہونےلگتا ہے۔ پھر امراء و روساء وغیرہ کی کوئی مجلس ایسی نہیں جن کےہاں لطف کلام اور بذله سنجی اور تفن کےلیےصوفیہ کے اشعار اور نکات کھلونا بنےہوئے نہ ہوں۔
"پھر اس زمانہ کی ایک بیماری یہ ہے کہ ہر ایک اپنی رائے پر چلتا ہے اور بگٹٹ چلا جا رہا ہے نہ متشابہات پر جا کر رکھتا ہے نہ کسی ایسے امر میں دخل دینے سے باز رہتا ہےجو اس کے علم سے بالا تر ہو۔ احکام کے معانی اور اسرار پر ہر ایک اپنی عقل سے کلام کر رہا ہے اور جو کچھ جس نے سمجھ لیا ہے اس پر دوسروں سے مناظرہ ومباحثہ کر رہا ہے۔ دوسری بیماری یہ ہے کہ فقہ میں حنبلی اور شافعی وغیرہ کے سخت اختلافات پائے جاتے ہیں، ہر ایک اپنے طریقہ میں تعصب برتا ہے اور دوسروں کے طریقہ پر اعتراض کرتا ہے۔ ہر مذہب میں تخریجات کی کثرت ہے اور حق اس غبار میں چھپ گیا ہے۔“
"میں ان پیرزادوں سے جو کسی استحقاق کے بغیر باپ دادا کی گدیوں پر بیٹھے ہیں، کہتا ہوں کہ یہ کیا دھڑے بندیاں تم نے کر رکھی ہیں؟ کیوں تم میں سے ہر ایک اپنےطریقہ پر چل رہا ہے اور کیوں اس طریقہ کو سب نے چھوڑ رکھا ہے جسے اللہ تعالیٰ نےمحمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا تھا؟ تم میں سے ہر ایک امام بن بیٹھا ہے اپنی طرف لوگوں کو بلا رہا ہے اور اپنی آپ کو ہادی دمہدی سمجھتا ہے حالانکہ وہ ضال مضل ہےہم ہرگز ان لوگوں سے راضی نہیں جو دنیا کےفوائد کی خاطر لوگوں سےبیعت لیتےہیں یا اس لیےعلم حاصل کرتے ہیں کہ اغراض دنیوی حاصل کریں، یا لوگوں کو اپنی طرف دعوت دیتے ہیں اور اپنی خواہشات نفس کی اطاعت ان سے کراتے ہیں۔ یہ سب راہزن ہیں، دجال ہیں، کذاب ہیں، خود بھی دھوکے میں ہیں اور دوسروں کو بھی دھوکہ دے رہے ہیں.....
میں ان طالبان علم سے کہتا ہوں جو اپنے آپ کو علماء کہتے ہیں کہ بے وقوفوا تم یونانیوں کے علوم اور صرف ونحو و معانی میں پھنس گئے اور سمجھے کہ علم اس کا نام ہےحالانکہ علم تو کتاب اللہ کی آیت محکمہ ہے یا پھر وہ سنت ہے جو رسول سے ثابت ہو تم پچھلے فقہاء کے استحسانات اور تفریعات میں ڈوب گئے، کیا تمہیں خبر نہیں کہ حکم صرف وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے فرمایا ہو؟ تم میں سے اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب کسی کو نبی کی کوئی حدیث پہنچتی ہے تو وہ اس پر عمل نہیں کرتا اور کہتا ہے کہ میرا عمل تو فلاں کے مذہب پر ہے نہ کہ حدیث پر ۔ پھر وہ حیلہ یہ پیش کرتا ہےکہ صاحب حدیث کا فہم اور اس کے مطابق فیصلہ تو کاملین و ماہرین کا کام ہےاور یہ حدیث ائمہ سلف سے چھپی تو رہی نہ ہوگی پھر کوئی وجہ تو ہو گی کہ انہوں نےاسے ترک کر دیا جان رکھو یہ ہرگز دین کا طریقہ نہیں ہے۔ اگر تم اپنے نبی پر ایمانلائے ہو تو اس کا اتباع کرو خواہ کسی مذہب کے موافق ہو یا مخالف ......
میں ان متقشف واعظوں، عابدوں اور خانقاہ نشینوں سے کہتا ہوں کہ اے زہد کےمد عیوا تم ہر وادی میں بھنک نکلے اور ہر رطب و یا بس کو لے بیٹھے ۔ تم نے لوگوں کو موضوعات اور اباطیل کی طرف بلایا۔ تم نے خلق خدا پر زندگی کا دائرہ تنگ کر دیا حالانکہ تم فراخی کے لیے مامور تھے نہ کہ تنگی کے لیے۔ تم نے مغلوب الحال عشاق کی باتوں کو مدارالیہ بنالیا ہے حالانکہ یہ چیزیں پھیلانے کی نہیں لپیٹ کر رکھ دینے کی ہیں۔- - - -
میں امراء سےکہتا ہوں کہ تمہیں خدا کا خوف نہیں آتا؟ تم فانی لذتوں کی طلب میں مستغرق ہو گئے اور رعیت کو چھوڑ دیا کہ ایک دوسرے کو کھا جائے ۔علانیہ شرابیں پی جارہی ہیں اور تم نہیں روکتےزنا کاری، شراب خواری اور قمار بازی کے اڈےبر سر عام بن گئے ہیں اور تم ان کا انسداد نہیں کرتے۔ اس عظیم الشان ملک میں مدت ہائے دراز سے کوئی حد شرعی نہیں لگائی گئی۔ جس کو تم ضعیف پاتے ہو اسے کھا جاتےہو اور جسے قوی پاتے ہو اسے چھوڑ دیتے ہو۔ کھانوں کی لذت، عورتوں کے ناز و انداز کپڑوں اور مکانوں کی لطافت، بس یہ چیزیں ہیں جن میں تم ڈوب گئے ہو کبھی خدا کا خیال تمہیں نہیں آتا - - - -
میں ان فوجی آدمیوں سے کہتا ہوں کہ تم کو اللہ نے جہاد کے لیئے اعلائے کلمہ حق کے لیئے شرک واہل شرک کا زور توڑنے کے لیے فوجی بنایا تھا۔ اس کو چھوڑ کر تم نےگھوڑ سواری اور ہتھیار بندی کو پیشہ بنالیا۔ اب جہاد کی نیت اور مقصد سے تمہارےدل خالی ہیں، پیسہ کمانے کے لیے سپاہی گرمی کا پیشہ کرتے ہو بھنگ اور شراب پیتےہو ڈاڑھیاں منڈاتے ہو اور مونچھیں بڑھاتے ہو بندگان خدا پر ظلم ڈھاتے ہو اور تمہیں کبھی اس بات کی پروا نہیں ہوتی کہ حرام کی روٹی کمارہے ہو یا حلال کی۔ خدا کی قسم تمہیں ایک روز دنیا سے جانا ہے پھر اللہ تمہیں بتائے گا کہ کیا کر کے آئےہے - - - -
میں ان اہل حرفہ اور عوام سے کہتا ہوں کہ تم میں سے امانت و دیانت رخصت ہو گئی ہے۔ اپنے رب کی عبادت سے تم غافل ہو گئے ہو اور اللہ کے ساتھ شرک کرنے لگے ہو۔ تم غیر اللہ کے لیے قربانیاں کرتے ہو اور مدار صاحب اور سالار صاحب کی قبروں کاج کرتے ہو۔ یہ تمہارے بدترین افعال ہیں۔ تم میں سے جو کوئی شخص خوشحال ہو جاتا ہے وہ اپنے لباس اور کھانے پر اتنا خرچ کرتا ہے کہ اس کی آمدنی اس کے لیے کافی نہیں ہوتی اور اہل و عیال کی حق تلفی کرنی پڑتی ہے یا پھر وہ شراب نوشی اور کرایہ کی عورتوں میں اپنی معاش اور معاد دونوں کو ضائع کرتا ہے۔ - - -
پھر میں مسلمانوں کی تمام جماعتوں کو عام خطاب کر کے کہتا ہوں۔ کہ اے بنی آدم ! تم نے اپنے اخلاق کھو دیے، تم پر تنگ دلی چھا گئی اور شیطان تمہارا محافظ بن گیا۔ عورتیں مردوں پر حاوی ہوگئی ہیں اور مردوں نے عورتوں کو ذلیل بنا رکھا ہے اور حلال تمہارے لیے بدمزہ بن گیا ہے .....
اے بنی آدم ! تم نےایسی فاسد رسمیں اختیار کر لی ہیں جن سےدین متغیر ہو گیا ہےمثلا روز عاشوراء کو تم جمع ہو کر باطل حرکات کرتےہو۔ ایک جماعت نے اس دن کو ماتم کا دن بنا رکھا ہے۔ کیا تم نہیں جانتے کہ سب دن اللہ کےہیں اور سارےحوادث اللہ کی مشیت سے ہوتےہیں؟ اگر حضرت حسین رضی اللہ عنہ اس روز شہید کیےگئےتو اور کونسا دن ہےجس میں کسی محبوب خدا کی موت واقع نہ ہوئی ہو؟ کچھ لوگوں نےاس دن کو کھیل تماشوں کا دن بنا رکھا ہے۔ پھر تم شب برات میں جاہل قوموں کی طرح کھیل تماشے کرتے ہو اور تم میں ایک گروہ کا یہ خیال ہےکہ اس روز مردوں کو کثرت سے کھانا بھیجنا چاہیے۔اگر تم بچے ہو تو اپنے اس خیال اور ان حرکات کے لیے کوئی دلیل لاؤ۔ پھر تم نے ایسی رسمیں بنا رکھی ہیں جن سے تمہاری زندگی تنگ ہو رہی ہے۔ مثلاً شادیوں میں فضول خرچی طلاق کو ممنوع بنا لینا بیوہ عورت کو بٹھائے رکھنا۔ اس قسم کی رسموں میں تم اپنے مال اور اپنی زندگیوں کو خراب کر رہے ہو اور ہدایات صالح کو تم نے چھوڑ دیا ہے، حالانکہ بہتر یہ تھا کہ ان رسموں کو چھوڑ کر اس طریق پر چلتے جس میں سہولت تھی نہ کہ تنگی ۔ پھر تم نے موت اور غمی کو عید بنا رکھا ہے گویا تم پر کسی نے فرض کر دیا ہے کہ جب کوئی مرے تو اس کے اقربا خوب کھانے کھلائیں۔ تم نمازوں سے غافل ہوا کوئی اپنے کاروبار میں اتنا مشغول ہوتا ہے کہ نماز کے لیے وقت نہیں پاتا اور کوئی اپنی تفریحوں اور خوش گپیوں میں اتنا منہمک ہوتا ہے کہ نماز فراموش ہو جاتی ہے۔ تم زکوۃ سے بھی غافل ہوا تم میں کوئی مالدار ایسا نہیں جس کے ساتھ بہت سے کھانے والے لگے ہوئے نہ ہوں وہ ان کو کھلاتا اور پہناتا ہے مگر ز کوۃ اور عبادت کی نیت نہیں کرتا۔ تم رمضان کے روزےبھی ضائع کرتے ہو اور اس کے لیے طرح طرح کے بہانے بناتے ہو ۔ تم لوگ سخت بے تدبیر ہو گئے ہو۔ تم نے اپنی بسر اوقات کا انحصار سلاطین کے وظائف و مناصب پر کر رکھا ہے اور جب تمہارا بار سنبھالنے کے لیے سلاطین کے خزانے کافی نہیں ہوتے تو وہ رعیت کو تنگ کرنے لگتے ہیں_١- - - "
”جو لوگ حاجتیں طلب کرنے کے لیے اجمیر یا سالار مسعود کی قبر یا ایسے ہی دوسرے مقامات پر جاتے ہیں وہ اتنا بڑا گناہ کرتے ہیں کہ قتل اور زنا کا گناہ اس سے کمتر ہے۔ آخر اس میں اور خود ساختہ معبودوں کی پرستش میں فرق کیا ہے؟ جو لوگ لات اور غمر مٹی سےحاجتیں طلب کرتےتھے اُن کا فعل ان لوگوں کے فعل سےآخر کس طرح مختلف تھا؟ ہاں یہ ضرور ہے کہ ہم اُن کے برعکس ان لوگوں کو صاف الفاظ میں کافر کہنے سے احتراز کرتے ہیں کیونکہ خاص ان کے معاملہ میں شارع کی نص موجود نہیں ہے مگر اصولا ہر وہ شخص جو کسی مردے کو زندہ ٹھیرا کر اس سے حاجتیں طلب کرتا ہے اس کا دل گناہ میں مبتلا ہے _٢ “
یہ اقتباسات بہت طویل ہو گئے ہیں، مگر تفہیمات جلد دوم کے چند فقرے اور تقاضا کر رہے ہیں کہ ان کو بھی اس سلسلہ میں ناظرین تک پہنچادیا جائے ۔ فرماتے ہیں:
"نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ ” تم بھی آخر کار اپنے سے پہلے کی اُمتوں کے طریقے اختیار کرلو گے۔ اور جہاں جہاں انہوں نے قدم رکھا ہے وہاں تم بھی رکھو گے حتی کہ اگر وہ کسی گوہ کے بل میں گھسے ہیں تو تم بھی ان کے پیچھے جاؤ گے۔صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ پہلی امتوں سے آپ کی مراد یہود و نصاریٰ ہیں، فرمایا اور کون ؟‘ اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔
"سچ فرمایا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے وہ ضعیف الایمان مسلمان دیکھتے ہیں جنہوں نے صلحاء کو أَرْبَابٌ مِنْ دُونِ اللَّہ تالیا ہے اور یہود و نصاری کی طرح اپنے اولیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا ہے، ہم نے ایسےلوگ بھی دیکھے ہیں جو کلام شارع میں تحریف کرتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف یہ قول منسوب کرتے ہیں کہ نیک لوگ اللہ کے لیے ہیں اور گناہ گار میرے لیےیہ اسی قسم کی بات ہے جیسی کہ یہودی کہتے ہیں کہ لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّامًا مَّعْدُودَةً (ہم دوزخ میں نہ جائیں گے اور گئے بھی تو بس چند روز کے لیے ) بھی پوچھو تو آج ہر گروہ میں دین کی تحریف پھیلی ہوئی ہے۔ صوفیہ کو دیکھو تو ان میں ایسے اقوال زبان زد ہیں جو کتاب وسنت سے مطابقت نہیں رکھتے خصوصاً مسئلہ توحید میں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شروع کی انہیں بالکل پروا نہیں ہے۔ فقہاء کی فقہ کو دیکھو تو اس میں اکٹر وہ باتیں ملتی ہیں جن کے ماخذ کا پتہ ہی نہیں۔ مثلا وہ روزہ کا مسئلہ _١ اور کنوؤں کی طہارت کا مسئلہ_٢ رہے اصحاب معقول اور شعراء اور اصحاب ثروت اور عوام تو ان کی تحریفات کا ذکر کہاں تک کیا جائے" _٣
ان اقتباسات ہے اک دھندلا سا اندازہ کیاجاسکتاہے کہ شاہ صاحب نے مسلمانوں کے ماضی اور حال کا کس قدر تفصیلی جائزہ لیا ہے اور کس قدر جامعیت کے ساتھ ان پر تنقید کی ہے۔
اس قسم کی تنقید کا لازمی نتیجه یہ ہوتا ہےکہ سوسائٹی میں جتنےصالح عناصر موجود ہوتےہیں، جن کے ضمیر و ایمان میں زندگی اور جن کے قلب میں بھلےاور بُرے کی تمیز ہوتی ہے ان کو حالات کی خرابی کا احساس تخت مضطرب کر دیتا ہے۔ ان کی اسلامی جس اتنی تیز ہو جاتی ہے کہ اپنےگردو پیش کی زندگی میں جاہلیت کا ہر اثر انہیں کھٹنے لگتا ہے۔ ان کی قوت امتیاز اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ زندگی کے ہر پہلو میں اسلام اور جاہلیت کی آمیزشوں کا تجزیہ کرنے لگتے ہیں اور ان کی قوتِ ایمانی اس قدر بیدار ہو جاتی ہے کہ خارزار جاہلیت کی ہر کھنک انہیں اصلاح کے لیے بے چین کر دیتی ہے۔ اس کے بعد مجدد کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ ان کے سامنے تعمیر نو کا ایک نقشہ واضح صورت میں پیش کرے تا کہ حالت موجود کو جس حالت میں بدلنا مطلوب ہے اس پر وہ اپنی نظر جما سکیں اور تمام سعی و عمل اسی سمت میں مرکوز کر دیں۔ یہ تمیری کام بھی شاہ صاحب نے اسی خوبی اور جامعیت کے ساتھ انجام دیا جو ان کے تنقیدی کام میں آپ دیکھ چکے ہیں۔
تعمیری کام: تعمیر کے سلسلہ میں ان کا پہلا اہم کام یہ ہے کہ وہ فقہ میں ایک نہایت معتدل مسلک پیش کرتے ہیں جس میں ایک مذہب کی جانبداری اور دوسرے مذاہب پر نکتہ چینی نہیں پائی جاتی۔ ایک محقق کی طرح انہوں نے تمام مذاہب فقہیہ کےاصول اور طریق استنباط کا مطالعہ کیا ہے اور بالکل آزادانہ رائے قائم کی ہے۔ جس مذہب کی کسی مسئلہ میں تائید کی اس بنا پر کی کہ دلیل اس کے حق میں پائی نہ اس بنا پر کہ وہ اس مذہب کی وکالت کا عہد کر چکے ہیں۔ اور جس سے اختلاف کیا اس بنا پر کیا کہ دلیل اس کے خلاف پائی نہ اس بنا پر کہ انہیں اس سے عناد ہے۔ اسی وجہ سےکہیں وہ حفی نظر آتے ہیں۔ کہیں شافعی کہیں مالکی اور کہیں منیلی۔ انہوں نے ان لوگوں سے بھی اختلاف کیا ہے جو ایک مذہب کی پیروی کا قلادہ اپنی گردن میں ڈال لیتے ہیں اور قسم کھا لیتے ہیں کہ تمام مسائل میں اس کا اتباع کریں گے اور اسی طرح وہ ان لوگوں سے بھی سخت اختلاف کرتےہیں جنہوں نے ائمہ مذاہب میں سے کسی کی مخالفت کا عہد کر لیا ہے۔ ان دونوں کے بین بین وہ ایک ایسے معتدل راستہ پر چلتے ہیں جس میں ہر غیر متعصب طالب حق کو اطمینان حاصل ہو سکتا ہے۔ ان کا رسالہ انصاف اس مسلک کا آئینہ ہے۔ یہی رنگ معلمی اور ان کی دوسری کتابوں میں پایا جاتا ہے۔ تفہیمات میں ایک جگہ فرماتے ہیں:
”میرے دل میں ایک خیال ڈالا گیا ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ ابوحنیفہ اور شافعی کے مذہب امت میں سب سے زیادہ مشہور ہیں۔ سب سے زیادہ پیرو بھی انہی دونوں کے پائے جاتے ہیں اور تصنیفات بھی انہی مذاہب کی زیادہ ہیں۔ فقہاء محدثین، مفسرین، متکلمین اور صوفیہ زیادہ تر مذہب شافعی کے پیرو ہیں۔ اور حکومتیں اور عوام زیادہ تر مذہب حنفی کے متبع ہیں۔ اس وقت جو امر حق ملاء اعلیٰ کے علوم سےمطابقت رکھتا ہے وہ یہ ہے کہ ان دونوں کو ایک مذہب کی طرح کر دیا جائے۔ ان دونوں کے مسائل کو حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مجموعوں سے مقابلہ کر کے دیکھا جائے۔ جو کچھ ان کے موافق ہو وہ باقی رکھا جائے اور جس کی کوئی اصل نہ ملے اسےساقط کر دیا جائے۔ پھر جو چیزیں تنقید کے بعد ثابت نکلیں، وہ دونوں مذہبوں میں متفق علیہ ہوں تو وہ اس لائق ہیں کہ انہیں دانتوں سے پکڑ لیا جائے اور اگر ان میں دونوں کے درمیان اختلاف ہو تو مسئلے میں دونوں قول تسلیم کیے جائیں اور دونوں پر عمل کرنے کو صحیح قرار دیا جائے ۔ یا تو ان کی حیثیت ایسی ہوگی جیسی قرآن میں اختلاف قرات کی حیثیت ہے یا رخصت اور عزیمت کا فرق ہوگا، یا کسی مخمصہ سےنکلنے کے دو راستوں کی سی نوعیت ہوگی جیسے تعدد کفارات_١ یا دو برابر کے مباح طریقوں کا سا حال ہوگا۔ ان چار پہلوؤں کے باہر کوئی پہلو انشاء اللہ تعالیٰ نہ پایا جائے گا"_٢
انصاف میں انہوں نے اپنی رائے اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ دی ہے۔ چنانچہ باب سوم میں واعلم ان التخريج على كلام الفقهاء سے لے کر آخر باب تک جو کچھ لکھا ہے وہ اس لائق ہے کہ اہل حدیث اور اہل تخریج دونوں اس کو غور کی نگاہ سے دیکھیں۔ اس بحث میں انہوں نے جس طریقہ کو ترجیح دی ہے وہ یہ ہے کہ طریق اہل حدیث اور طریق اہل تخریج دونوں کو جمع کیا جائے۔ اس طرح حجت کے مبحث ہشتم میں فصل ومما يناسب هذا المقام التنبيه على مسائل ضلت في بواديها الافها کے تحت جو بحث کی ہے وہ بھی دیکھنے کے لائق ہے۔
یہ مسلک معتدل اختیار کرنے سے فائدہ یہ ہے کہ تعصب اور تنگ نظری اور تقلید جامد اور لا طائل بحثوں میں تضییع اوقات کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور وسعت نظر کےساتھ تحقیق و اجتہاد کا راستہ کھلتا ہےچنانچہ اس کے ساتھ ہی شاہ صاحب اجتہاد کی ضرورت پر زور دیتےہیں، اور قریب قریب ان کی تمام کتابوں میں ایسی عبارتیں موجود ہیں جن میں کسی نہ کسی طرح تحقیق و اجتهاد پر اکسایا گیا ہے مثال کے طور پر مصفی کے مقدمہ سے چند فقرے انہی کے الفاظ میں نقل کرتا ہوں:
"اجتهاد در هر عصر فرض بالکفایه است و مراد از اجتهاد و اینجا معرفت احکام شرعیه از الہ تفصیلی و تفریح وترتیب مجتہدانہ اگر چہ بادشاہ صاحب مذ ہے باشد و آنکه گفتیم اجتهاد در هر عصر فرض است بجهت آنست که مسائل كثيرة الوقوع غیر محصور اند و معرفت احکام الہی در آنها واجب و آنچه مسطور و مدون شده است غیر کافی و در آنها اختلاف بسیار که بدوں رجوع بادله حل اختلاف آں نتواں کرو و طرق آن تا مجتہدین غالبا منقطع، پس بغیر عرض بر قواعد اجتها در است نیاید_١"
یہی نہیں کہ شاہ صاحب نے اجتہاد پر محض زور ہی دیا ہو، بلکہ انہوں نے پوری تفصیل کے ساتھ اجتہاد کے اصول و قواعد اور اس کی شرائط کو بیان بھی کیا ہے۔ ازالہ حجت، عقد الجید انصاف بدور باز نہ مصطفی وغیرہ میں اس مسئلہ پر کہیں اشارات اور کہیں مفصل تقریریں موجود ہیں۔ نیز اپنی کتابوں میں جہاں بھی انہوں نے کسی مسئلہ پر گفتگو کی ہے ایک محقق اور مجتہد کی حیثیت سے کی ہے، گویا کہ ان کی کتابوں کے مطالعہ سے آدمی کو نہ صرف اجتہاد کے اصول معلوم ہو سکتےہیں، بلکہ ساتھ ساتھ اس کی تربیت بھی ملتی جاتی ہے۔
مذکورہ بالا دو کام تو ایسے ہیں جو شاہ صاحب سے پہلے بھی لوگوں نے کیے ہیں۔ مگر جو کام ان سے پہلے کسی نے نہ کیا تھاوہ یہ ہے کہ انہوں نے اسلام کے پورے فکری اخلاقی، شرعی اور تمدنی نظام کو ایک مرتب صورت میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ وہ کارنامہ ہے جس میں وہ اپنے تمام پیش رووں سے بازی لے گئے ہیں۔ اگر چہ ابتدائی تین چار صدیوں میں بکثرت ائمہ گزرے ہیں جن کے کام کو دیکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے ذہن میں اسلام کے نظامِ حیات کا مکمل تصور رکھتے تھے اور اسی طرح بعد کی صدیوں میں بھی ایسے محققین ملتے ہیں جن کے متعلق یہ گمان نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اس تصور سے خالی تھے۔ لیکن ان میں سے کسی نے بھی جامعیت اور منطقی ترتیب کے ساتھ اسلامی نظام کو بحیثیت ایک نظام کے مرتب کرنے کی طرف توجہ نہیں کی۔ یہ شرف شاہ ولی اللہ ہی کے لیے مقدر ہو چکا تھا کہ اس راہ میں پیش قدمی کریں۔ ان کی کتابوں میں سے حجۃ اللہ اور البدور البازغہ دونوں کا موضوع یہی ہے۔ پہلی کتاب زیادہ مفصل ہے اور دوسری زیادہ فلسفیانہ۔
ان کتابوں میں انہوں نے مابعد الطبیعی مسائل سے ابتدا کی ہے اور تاریخ میں پہلی مرتبہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص فلسفہ اسلام کو مدون کرنے کی بنا ڈال رہا ہے۔ اس سے پہلے مسلمان فلسفہ میں جو کچھ لکھتے اور کہتے رہے اس کو محض نادانی سے لوگوں نے فلسفہ اسلام کے نام سے موسوم کر رکھا ہے حالانکہ وہ فلسفہ اسلام نہیں، فلسفہ مسلمین ہے جس کا شجرہ نسب یونان و روم اور ایران و ہندوستان سے ملتا ہے۔ فی الواقع جو چیز اس نام سے موسوم کرنے کے لائق ہے اس کی داغ بیل سب سے پہلے اسی دہلوی شیخ نے ڈالی ہے۔ اگر چہ اصطلاحات وہی قدیم فلسفه و کلام یا فلسفیانہ تصوف کی زبان سے لی ہیں، اور غیر شعوری طور پر بہت سے تخیلات بھی وہیں سے لے لیےہیں، جیسا کہ اوّل اوّل ہر نئی راہ نکالنے کے لیے طبعا نا گزیر ہے، مگر پھر بھی تحقیق کا ایک نیا دروازہ کھولنے کی یہ ایک بڑی زبر دست کوشش ہے۔ خصوصاً ایسے شدید انحطاط کے دور میں اتنی طاقت ور عقلیت کے آدمی کا ظاہر ہونا بالکل حیرت انگیز ہے۔
اس فلسفہ میں شاہ صاحب کا ئنات اور کائنات میں انسان کا ایک ایسا تصور قائم کرنےکی سعی کرتے ہیں جو اسلام کےنظامِ اخلاق و تمدن کے ساتھ ہم آہنگ و متحدالمزاج ہو سکتا ہو یا دوسرےالفاظ میں جس کو اگر شجرہ اسلام کی جڑ قرار دیا جائے تو جڑ میں اور اس درخت میں جو اس سےپھوٹا، عقلاً کوئی فطری مبانیت محسوس نہ کی جاسکتی ہو۔ میں حیران رہ جاتا ہوں جب بعض لوگوں کی یہ رائے سنتا ہوں کہ شاہ صاحب نے ” ویدانتی فلسفے اور اسلامی فلسفے کا جوڑ لگا کر نئی ہندی قومیت کے لیے فکری اساس فراہم کرنے کی کوشش کی تھی ۔ مجھے ان کی کتابوں میں اس کوشش کا کہیں سراغ نہ ملا۔ اور اگرمل جاتا تو باللہ العظیم کہ میں شاہ صاحب کو مجددین کی فہرست سے خارج کر کے متجددین کی صف میں لے جا کر بٹھاتا۔
نظام اخلاق پر وہ ایک اجتماعی فلسفے (Social Philosophy) کی عمارت اٹھاتے ہیں جس کے لیے انہوں نے ارتفاقات کا عنوان تجویز کیا ہے، اور اس سلسلہ میں تدبیر منزل، آداب معاشرت، سیاست مدن عدالت، ضرب محاصل (Taxation) انتظام ملکی اور تنظیم عسکری وغیرہ کی تفصیلات بیان کی ہیں اور ساتھ ہی ان اسباب پر بھی روشنی ڈالی ہے جن سے تمدن میں فساد پیدا ہوتا ہے۔
پھر وہ نظامِ شریعت، عبادات، احکام اور قوانین کو پیش کرتے ہیں اور ہر ایک چیز کی حکمتیں سمجھاتے چلے جاتے ہیں۔ اس خاص مضمون پر جو کام انہوں نے کیا ہے وہ اسی نوعیت کا ہے جو ان سے پہلے امام غزائی نے کیا تھا اور قدرتی بات ہے کہ وہ اس راہ میں امام موصوف سےآگے بڑھ گئے ہیں۔
آخر میں انہوں نے تاریخ ملل و شرائع پر بھی نظر ڈالی ہے اور کم از کم میرے علم کی حد تک وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اسلام و جاہلیت کی تاریخی کشمکش کا ایک دھندلا سا تصور پیش کیا ہے۔
١- جو فلسفہ مسلمانوں میں رائج تھا وہ اسلام کےعملی اخلاقی اعتقادی نظام سے کوئی ربط نہ رکھتا تھا اس وجہ سے اس کا رواج جتنا جتنا بڑھا اسی قدر مسلمانوں کی زندگی بگڑتی چلی گئی۔ عقیدہ بھی کمزور ہوا۔ اخلاق بھی ڈھیلے ہوئے اور قوائے عمل بھی سرد ہو گئے ۔ ذہن میں متصادم خیالات کی کشمکش کا یہ طبعی نتیجہ ہے اور یہی اثر اب موجودہ مغربی فلسفہ کے رواج سے بھی رونما ہورہا ہے کیونکہ وہ بھی کسی طرح نظام اسلامی کی فکری اساس نہیں بن سکتا۔
نتائج : نظام اسلامی کے اس قدر معقول اور اتنے مرتب خاکے کا پیش ہو جانا بجائے خود اس امر کی پوری ضمانت ہےکہ وہ تمام صحیح الفطرت اور سلیم الطبع لوگوں کا نصب العین بن جائے اور جولوگ ان میں سے زیادہ قوت عمل رکھتے ہوں وہ اس نصب العین کے لیے جان و تن کی بازی لگادیں، خواہ اس نصب العین کو سامنےرکھنےوالا خود عملاً ایسی کسی تحریک کی رہنمائی کرے یا نہ کرے۔مگر جو چیز اس سےبھی زیادہ متحرک ثابت ہوئی وہ یہ تھی کہ شاہ صاحب نےجاہلی حکومت اور اسلامی حکومت کےفرق کو بالکل نمایاں کر کے لوگوں کے سامنے رکھ دیا اور نہ صرف اسلامی حکومت کی خصوصیات صاف صاف بیان کیں، بلکہ اس مبحث کو بتکرار ایسے طریقوں سے پیش کیا جن کی وجہ سے اصحاب ایمان کے لیے جاہلی حکومت کو اسلامی حکومت سےبدلنےکی جدو جہد کیے بغیر چین سے بیٹھنا محال ہو گیا۔یہ مضمون ”حجت میں بھی کافی تفصیل کے ساتھ آیا ہے، مگر ازالہ تو گویا ہے ہی اسی موضوع پر۔ اس کتاب میں وہ احادیث سے ثابت کرتے ہیں کہ خلافت اسلامی اور پادشاہی دو بالکل مختلف الاصل چیزیں ہیں۔ پھر ایک طرف پادشاہی کو اور ان تمام فتنوں کو رکھتے ہیں جو پادشاہی کے ساتھ مسلمان کی حیات اجتماعی میں از روئے تاریخ پیدا ہوئے،اور دوسری طرف اسلامی خلافت کی خصوصیات اور شرائط کو اور ان رحمتوں کو پیش کر دیتے ہیں جو خلافت اسلامی میں فی الواقع مسلمانوں پر نازل ہو چکی ہیں۔ اس کے بعد کس طرح ممکن تھا کہ لوگ چین سے بیٹھ جاتے۔
| کتاب | تجدید و احیائے دین |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |