عموما لفظ "جہاد" کا ترجمہ انگریزی زبان میں (Holy War) "مقدس جنگ" کیا جاتا ہے اور اس کی تشریح و تفسیر مدتہائے دراز سے کچھ اس انداز میں کی جاتی رہی ہے کہ اب یہ لفظ جوش جنوں کا ہم معنی ہو کر رہ گیا ہے۔ اس کے سنتے ہی آدمی کی آنکھوں میں کچھ اس طرح کا نقشہ پھرنے لگتا ہےکہ مذہبی دیوانوں کا ایک گروہ ننگی تلواریں ہاتھ میں لیے،ڈاڑھیاں چڑھاتے ، خونخوار آنکھوں کے ساتھ اللہ اکبر کے نعرے لگاتا ہوا چلا آرہا ہے، جہاں کسی کافر کہ پاتا ہے پکڑ لیتا ہے اور تلوار اس کی گردن پڑھ کر کہتا ہےکہ بول لا الہ الا اللہ ورنہ ابھی سرتن سےجدا کر دیا جاتا ہے۔ماہرین نےہماری یہ تصویر برمی قلمکاریوں کے ساتھ بناتی ہے اور اس کے نیچے موٹے حرفوں میں لکھ دیا ہے کہ
بوتے خوں آتی ہے اس قوم کے افسانوں سے لطف یہ ہے کہ اس تصویر کے بنانے والے ہمارے وہ مہربان ہیں جو خود کئی صدیوں سے انتہا درجہ کی غیر مقدس جنگ (UNHOLY WAR) میں مشغول ہیں۔ان کی اپنی تصویر یہ ہے کہ دولت و اقتدار کے بھو کے ہر قسم کے اسلحہ سے مسلح ہو کر قزاقوں کی طرح ساری دنیا پر پل پڑے ہیں اور ہر طرف تجارت کی منڈیاں ، خام پیداوار کے ذخیرے، نو آبادیاں بہانے کے قابل زمینیں اور معدنیات کی کانیں ڈھونڈتے پھرتےہیں تا کہ اپنے نفس کی کبھی نہ بجھنےوالی آگ کےلیےایندھن فراہم کریں ان کی جنگ خدا کی راہ میں نہیں بلکہ پیٹ کی راہ میں ہے، ہو یں اور نفس امارہ کی کی جنگ خدا کی راہ میں نہیں بلکہ پیٹ کی راہ میں ہے،ہو یں اور نفس امارہ کی راہ میں ہے۔ ان کے نزدیک کسی قوم پر حملہ کرنے کے لیے بس یہ کافی وجہ جواز ہے کہ اس کی زمین میں کانیں ہیں ، یا اجناس کافی پیدا ہوتی ہیں ،یا ان کے کارخانوں کا مال وہاں اچھی طرح کھپایا جا سکتا ہے،یا اپنی زائد آبادی کو وہاں آسانی کےساتھ کیسا یا جا سکتا ہے، یا اور کچھ نہیں تو اس قوم کا یہ نا بھی کوئی معمولی گناہ نہیں کہ وہ کسی ایسے ملا کےراستہ میں رہتی ہےجس پر یہ پہلےقبضہ کر چکےہیں یا اب قبضہ کرنا چاہتے ہیں ہم نےتو جو کچھ کیا وہ زمانہ ماضی کا قصہ ہے ، اور ان کے کارنامے حال کے واقعات ہیں جو شب و روز دنیا کی آنکھوں کے سامنے گزررہے ہیں۔ ایشیا، افریقہ، یورپ، امریکہ عرض کرہ زمین کا کونسا حصہ ایسا بجا رہ گیا ہے جو ان کی اس غیر مقدس جنگ سے لالہ زنابر نہیں ہو چکا ؟ مگر ان کی مہارت قابل داد ہے۔ انہوں نے ہماری تصویر اتنی بھیانک اور اتنی بڑی بنائی کہ خود ان کی تصویر اس کے پیچھے چھپ گئی ۔ اور ہماری سادہ لوحی بھی قابل داد ہے۔ جب ہم نے غیروں کی بنائی ہوئی اپنی یہ تصویر دیکھی تو ایسےدہشت زدہ ہوتےکہ ہمیں اس تصویر کے پیچھے جھانک کر خود مصوروں کی صورت دیکھنے کا ہوش ہی نہ آیا اور لگے معذرت کرنے کہ حضور بھلا ہم جنگ و قتال کیا جانیں، ہم تو بھکشوں اور پادریوں کی طرح میرا من مبلغ لوگ ہیں ، چند مذہبی عقائد کی تردید کرنا اور ان کی جگہ کچھ دوسرے عقائد تسلیم کر لینا ہیں یہ ہمارا کام ہے، ہمیں تلوار سے کیا واسطہ؟ البتہ اتنا قصور کبھی کبھار ہم س ضرور ہوا ہےکہ جب کوئی مارنےآیا تو ہم نے بھی بواب میں ہاتھ اٹھا دیا۔سو اب ہم اس سےبھی تو بہ کر چکےہیں حضور کی طمانیت کےلیےتلوار والے جہاد کو سرکاری طور پہ منسوخ کر دیا گیا ہے ۔اب تو جہاد فقط زبان و فلم کی کوشش کا نام ہے۔توپ اور بندوق چلانا سرکار کا کام ہےاور زبان و کا قلم چلانا ہمارا کام ۔ جہاد کےمتعلق غلط فہمی کے اسباب:خیر یہ تو سیاسی چالوں کی بات ہےمگر خاص علمی حیثیت سےجب ہم ان اسباب کا تجزیہ کرتے ہیں جن کی وجہ سےجہاد نی بالاتر کی کوشش کو سمجھنا غیر مسلموں اور خود مسلمانوں کےلیےدشوار ہو گیا ہےتو ہمیں دو بڑی اور بنیادی غلط فہمیوں کا سراغ ملتا ہے:-
مذہب کے معنی عام اصطلاح کے اعتبار سےبجز اس کے اور کیا ہیں کہ وہ چید عقائد اور چند عبادات اور مراسم کا مجموعہ ہوتا ہے۔اس معنی کے لحاظ سے مذہب کو ابھی ایک برائیویٹ معاملہ ہی ہونا چاہیے ۔آپ کو اختیار ہے کہ جو عقیدہ چاہیں رکھیں، اور آپ کا ضمیر جس کی عبادت کرنے پر راضی ہو اس کو جس طرح چاہیں پکاریں زیادہ سے زیادہ اگر کوئی جوش اور سرگرمی آپ کے اندر اس مذہب کےلیےموجود ہے و آپ دنیا بھر میں اپنے عقائد کی تبلیغ کرتے پھرتے،اور دوسرے عقائد والوں سے مناظرے کیجیے۔ اس کے لیے تلوار ہاتھ میں پڑنے کا کونسا موقع ہے یا کیا آپ لوگوں کو امارگیر اپنا ہم عقیدہ بنانا چاہتے ہیں ؟ یہ سوال لازمی طور پر پیدا ہوتا ہے جبکہ آپ اسلام کو عام اصطلاح کی رو سے ایک مذہب قرار دے لیں، اور یہ پوزیشن اگر واقعی اسلام کی ہو تو جہاد کے لیے حقیقت میں کوئی وجہ جواز ثابت نہیں کی جا سکتی۔
اسی طرح قوم کے معنی اس کے سوا کیا ہیں کہ وہ ایک متجانس گرورہ اشخاص (Homogeneous Group of Men) کا نام ہے جو چند بنیادی امور میں مشترک ہونے کی وجہ سے باهم متجمع اور دوسرے گروہوں سے ممتاز ہوگیا ہو۔ اس معنی میں جو گروہ ایک قوم ہر وہ دو ہی وجوہ سے تلوار اٹھانا ہے اورا تھا سکتا ہے کتاب، با نو اس کے جائز حقوق چھیننے کے لیے کوئی اس پر حملہ کرے ، یا وہ خود دوسروں کے جائز حقوق چھینے کے لیے حملہ آور ہو۔ پہلی صورت میں تو خیر تلوار اٹھانے کے لیے کچھ نہ کچھ اخلاقی جواز موجود بھی ہے (اگرچہ بعض دھرماتماؤں کے نزدیک یہ بھی ناجائز ہے)، لیکن دوسری صورت کو تو بعض ڈکٹیٹروں کے سوا کوئی بھی جائز نہیں کہہ سکتا حتی کہ برطانیہ اور فرانس جیسی وسیع سلطنتوں کے مدبرین بھی اس کو جائز کہنے کی جرات نہیں کر سکتے۔
جہاد کی حقیقت پس:اگر اسلام ایک "مذہب" اور مسلمان ایک "قوم" ہےتو جہاد کی ساری معنویت جس کی بنا پر اسےافضل العبادات کہا گیا ہے،سرےسےختم ہو جاتی ہے لیکن حقیقت یہ ہےکہ اسلام کسی"مذہب" کا اور مسلمان کسی "قوم" کا نام نہیں ہےبلکہ در اصل اسلام ایک انقلابی نظریہ و مسلک ہے جو تمام دنیا کے اجتماعی نظم (Social Order) کو بدل کر اپنے نظریہ و مسلک کے مطابق تعمیر کرنا چاہتا ہے اور مسلمان اس بین الاقوامی انقلابی جماعت (International Revolutionary Party) کا نام ہے جسے اسلام اپنے مطلوبہ انقلابی پروگرام کو عمل میں لانے کے لیے منظم کرتا ہے، اور جہاد اس انقلابی جدوجہد (Revolutionary struggle) اس انتہائی صرف طاقت کا نام ہے تو اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے عمل میں لائی اس انتہائی صرف طاقت کا نام ہے تو اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے عمل میں لائی جائے۔
تمام انقلابی مسلکوں کی طرح اسلام بھی عام مروج الفاظ کو چھورکراپنی ایک خاص اصطلاحی زبان (Terminology) : اختیار کرتا ہے تاکہ اس کے انقلابی تصوارت عام تصورات سے ممتاز ہو سکیں۔ لفظ جہاد بھی اسی مخصوص اصطلاحی زبان سے تعلق رکھتا ہے۔ اسلام نے حرب اور سی نوعیت کے دوسرے عربی الفاظ جو جنگ (ware) کے مفہوم کو ادا کرتے ہیں،قصدا ترک کر دیتے اور ان کی جگہ "جہاد" کا لفظ استعمال کیا جو (Struggle) کا ہم معنی ہے بلکہ اس سے زیادہ مبالغہ رکھتا ہے۔ انگریزی میں اس کا صحیح مفہوم یوں ادا کیا جا سکتا ہے : ("To exert one's utmost Endavour in furthering a cause") "اپنی تمام طاقتیں کسی مقصد کی تحصیل میں صرف کر دیا" ۔
سوال یہ ہے کہ پرانے الفاظ کو چھوڑ کر یہ نیا لفظ کیوں اختیار کیاگیا ؟ اس کا جواب بجزاں کے اور کچھ نہیں کہ " جنگ" کا لفظ قوموں اور سلطنتوں کی ان لڑائیوں کے لیےاسنعمال ہوتا تھا اور آج تک ہوتا رہا ہے، جو اشخاص یا جماعتوں کی نفسانی اغراض کےلیے کی جاتی ہیں۔ ان لڑائیوں کے مقاصد محض ایسے شخصی یا اجتماعی مقاصد ہوتے ہیں جن کے اندر کسی نظریہ اور کسی اصول کی حمایت کا شائبہ نہیں ہوتا۔اسلام کی لڑائی چونکہ اس نوعیت کی نہیں ہےاس لیےوہ سرے سے اس لفظ کو ہی ترک کر دیتا ہے۔اس کےپیش نظر ایک قوم کا مفاد یا دوسری قوم کا نقصان نہیں ہے وہ اس سے کوٹی دلچسپی نہیں رکھتا کہ زمین پر ایک سلطنت کا قبضہ رہےیا دوسری سلطنت کا۔ اس کو دلچسپی جس چیز سےہےوہ محض انسانیت کی فلاح ہے۔ اس فلاح کے لیےوہ اپنا ایک خاص نظریہ اور ایک عملی مسلک رکھتا ہے۔اس نظریہ اور مسلک کےخلاف جہاں جس چیز کی حکومت بھی ہےاسلام اس کو مٹانا چاہتا ہے،قطع نظر اس سےکہ وہ کوئی قوم ہو اور کوئی ملک ہو۔اس کا مدعا اپنےنظریہ اور مسلک کی حکومت قائم کرنا ہےبلالحاظ اس کے کہ کون اس کا جھنڈا لے کر اٹھتا ہے اور کس کی حکمرانی پر اس کی ضرب پڑتی ہے۔ وہ زمین مانگتا ہے—--- زمین کا ایک حصہ نہیں بلکہ پورا کرہ زمین —----اس لیےنہیں کہ ایک قوم یا بہت سی قوموں کے ہاتھ سے نکل کر زمین کی حکومت کسی خاص قوم کے ہاتھ میں آجائے،بلکہ صرف اس لیےکہ انسانیت کی فلاح کا جو نظریہ اور پیروگرام اس کےپاس ہے اس سےتمام نوع انسانی متمتع ہو۔ اس غرض کےلیےوہ تمام ان طاقتوں سےکام لینا چاہتا ہےجو انقلاب بر پا کرنےکےلیے کارگر ہو سکتی ہیں اور ان سب طاقتوں کے استعمال کا ایک جامع نام " جہاد" رکھتا ہے۔زبان و ظلم کے زور سے لوگوں کے نقطہ نظر کو بدلنا اور ان کے اندر ذہنی انقلاب پیدا کرنا بھی جہاد ہے۔ تلوار کے زور سےپڑانے ظالمانہ نظام زندگی کو بدل دینا اور نیا عادلانہ نظام مرتب کرنا بھی جہاد ہے اوراس راہ میں مال صرف کرنا اور جسم سے دوڑ دھوپ کرنا بھی جہاد ہے -
فی سبیل اللہ کی لازمی قید: لیکن اسلام کا جہاد نرا "جہاد" نہیں ہے بلکہ "جہاد فی سبیل اللہ" ہے اور "فی سبیل اللہ" کی قید اس کے ساتھ ایک لازمی قید ہے۔ یہ "فی سبیل اللہ" کا لفظ بھی اسلام کی اسی مخصوص اصطلاحی زبان سے تعلق رکھتا ہے جس کی طرف ابھی میں اشارہ کر چکا ہوں۔ اس کا لفظی ترجمہ ہے "راہ خدا میں"۔اس ترجمہ سے لوگ غلط فہمی میں پڑ گئے۔اور سمجھ بیٹھے کہ زبردستی لوگوں کو اسلام کے مذہبی عقائد کا پیروبنانا " جہاد فی سبیل اللہ" ہے، کیونکہ لوگوں کےتنگ دماغوں میں "راہ خدا" کا کوئی مفہوم اس کے سوا نہیں سما سکتا مگر اسلام کی زبان میں اس کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ہر وہ کام جو اجتماعی فلاح و بہبود کےلیےکیا جائےاور میں کے کرنے والے کا مقصد اس سےکوئی دنیوی فائدہ اٹھانا نہ ہو،بلکہ محض خدا کی خوشنودی حاصل کرتا ہو، اسلام ایسے کام کو "فی سبیل اللہ" قرار دیتا ہے مثال کے طور پر اگر آپ خیرات دیتے ہیں اس نیت سے کہ اسی دنیا میں مادی یا اخلاقی طور پر اس خیرات کا کوئی فائدہ آپ کی طرف پلٹ کر آتے تو یہ فی سبیل اللہ نہیں ہے۔ اور اگر خیرات سے آپ کی نیت یہ ہے کہ ایک غریب انسان کی مدد کر کے آپ خدا کی خوشنودی حاصل کریں تو یہ فی سبیل اللہ ہے۔ پس یہ اصطلاح مخصوص ہے ایسے نیک کاموں کے لیے جو کامل خلوص کے ساتھ ہر قسم کی نفسانی اغراض سے پاک ہو کر اس نظریہ پر کیسے جانتیں کہ انسان کا دوسرے انسانوں کی فلاح کے لیے کام کرنا خدا کی خوشنودی کا موجب ہے اور انسان کی زندگی کا نصب العین مالک کائنات کی خوشنودی حاصل کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔
جہاد کے لیے بھی "فی سبیل اللہ" کی قید اسی غرض کے لیے لگائی گئی ہے۔ اس مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص یا گروہ جب نظام حکومت میں انقلاب برپا کرنے اور اسلامی نظریہ کےمطابق نیا نظام مرتب کرنے کے لیے جدو جہد کرنے اُٹھے، تو اس قیام اور اس سربازی وجاں نثاری میں اس کی اپنی کوئی نفسانی غرض نہ ہونی چاہیئےاس کا یہ مقصد ہر گز نہ ہونا چاہیےکہ قیصر کو ہٹا کر خود قیصر بن جاتے، اپنی ذات کے لیے مال و دولت یا شہرت و ناموری یا عزت و جاہ حاصل کرنے کا شائبہ تک اس کی جدو جہد کے مقاصد میں شامل نہ ہونا چاہیے۔اس کی تمام قربانیوں اور ساری محنتوں کا تعاصرف یہ ہونا چاہیےکہ بندگان خدا کےدرمیان ایک عادلان نظام زندگی قائم کیا جائےاوراس کے معاوضہ میں خدائی خوشنودی کے سوا اور کچھ اس کو مطلوب نہ ہو ۔ قرآن کہتا ہے :-
طاغوت کا مصدر لعیان ہے جس کے معنی حد سے گزر جانے کے ہیں۔ دریا جب اپنی حد سے گزر جاتا ہے تو آپ کہتے ہیں طغیانی آگئی ہے۔ اسی طرح جب آدمی اپنی جائز حد سے گزر کر اس غرض کے لیے اپنی طاقت استعمال کرتا ہے کہ انسانوں کا خدا بن جاتے یا اپنے مناسب حصّہ سے زیادہ فوائد حاصل کرے تو یہ طاغوت کی راہ میں لڑنا ہے۔ اور اس کے مقابلہ میں راہ خدا کی جنگ وہ ہے جس کا مقصد صرف یہ ہو کہ خدا کا قانون عدل دنیا میں قائم ہو، لڑنے والا خود بھی اس کی پابندی کرے اور دوسروں سے بھی اس کی پابندی کراتے چنانچہ قرآن کہتا ہے :
حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےدریافت کیا "راہ خدا کی جنگ سےکیا مراد ہے ؟ ایک شخص مال کے لیے جنگ کرتا ہے۔دوسرا شخص بہادری کی شہرت حاصل کرنے کے لیے جنگ کرتا ہے تیسرے شخص کو کسی سےعدادت ہوتی ہے یا قومی حمیت کا جوش ہوتا ہے اس لیے جنگ کرتا ہے۔ ان میں سےکس کی جنگ فی سبیل اللہ ہے ؟ آن حضرت نے جواب دیا۔ کسی کی بھی نہیں۔ فی سبیل اللہ تو صرف اس شخص کی جنگ ہے جو خدا کا بول بالا کرنے کے سوا کوئی مقصد نہیں رکھتا۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ اگر کسی شخص نے جنگ کی اور اس کے دل میں اونٹ باندھنےکی ایک رسی حاصل کرنے کی نیت ہوتی تو اس کا اجر ضائع ہو گیا"- اللہ صرف اس عمل کو قبول کرتا ہے جو محض اس کی خوشنودی کےلیے ہو، کسی شخصی یا جماعتی غرض کےلیےنہ ہو۔ پس جہاد کے لیے فی سبیل اللہ کی قید اسلامی نقطہ نظر سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔مجرو جہاد تو دنیا میں سب ہی جاندار کرتے ہیں۔ ہر ایک اپنے مقصد کی تحصیل کےلیےاپنا پورا زور صرف کر رہا ہے۔ لیکن مسلمان" جس انقلابی جماعت کا نام ہے اس کےانقلابی نظریات میں سے ایک اہم ترین نظر یہ ملکہ بنیادی نظریہ یہ ہے کہ اپنی جاج مال کھپاؤ ، دنیا کی ساری سرکش طاقتوں سےلڑو، اپنےجسم و روح کی ساری طاقتیں خرچ کر دو،نہ اس لیےکہ دوسرے سرکشوں کو ہٹا کر تم ان کی جگہ لےلو، بلکہ صرف اس لیےکہ دنیا سے سرکشی و طغیان مٹ جائے اور خدا کا قانون دنیا میں نافذ ہو۔
جہاد کے اس مفہوم اور فی سبیل اللہ کی اصلی معنویت کو مختصر بیان کر دینے کے بعد اس دعوت انقلاب کی تھوڑی سی تشریح کرنا چاہتا ہوں جو اسلام لے کر آیا ہےتا کہ آسانی کے ساتھ یہ سمجھا جاسکے کہ اس دعوت کے لیے جہاد کی حاجت کیا ہے اور اس کی غایت ( (Objective) کیا ہے ۔
اسلام مرد دوروں ، یا زمینداروں یا کانتکاروں یا کارخانہ داروں کو نہیں پکارتا بلکہ تمام انسانوں کو پکارتا ہے ۔ اس کا خطاب انسان سے حیثیت انسان ہے اور وہ صرف یہ کہتا ہے کہ اگر تم خدا کے سوا کسی کی بندگی، اطاعت، فرمانبرداری کرتے ہو تو اسے چھوڑ دو، اور اگر خود تمہارے اندر خدائی کا داعیہ ہے تو اسے بھی نکال دو کہ دوسروں سے اپنی بندگی کرانے اور دوسروں کا سر اپنے آگے جھکوانے کاحق بھی تم ہی سےکسی کو حاصل نہیں ہے ، تم سب کو ایک خدا کی بندگی قبول کرنی چاہیے اور اس بندگی میں سب کو ایک سطح پر آجانا چاہیے ۔
١- یہ ایک اور مقام ہے جہاں لوگوں نے عظیم الشان ٹھوکر کھائی ہے۔ انہوں نےمجرد جہاد اور جہاد فی سبیل اللہ کے فرق کو نظر انداز کر دیا جس کی وجہ سے قومی استعلاء و استکبار کی کوشش اور اعلاء کلمتہ اللہ کی کوشش میں کوئی وجہ امتیاز باقی نہ رہی۔
آو ہم اور تم ایک ایسی بات پر جمع ہو جائیں جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے وہ یہ ہے کہ ہم خدا کے سوا کس کی بندگی نہ کرین اور خداوندی میں کسی کو خدا کا شریک نہ ٹھری میں اور ہم میں سے کوئی کسی کو خدا کے بجائے امرد نہی کا مالک بھی نہ بناتے ۔( ال عمراں ؛ ٦٤)
یہ عالمگیر اور کلی انقلاب کی دعوت تھی ۔ اس نے پکار کر کہا کہ ان الحكم الا لله حصلت سواتے خدا کے اور کسی کی نہیں ہے کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ بذات خود انسانوں کا شکریہ بن جاتے اور اپنے اختیار سے جس چیز کا چاہے حکم دے اور جس چیز سے چاہیے روک دے کیسی انسان کو بالذات امر و نہی کا مالک سمجھنا دراصل خدائی میں اسے شریک کرنا ہے اور یہی بنائے فساد ہے۔ اللہ نےانسان کو حسن صحیح فطرت پر پیدا کیا ہےاور زندگی بسر کرنےکا جو سیدھا راستہ بتایا ہے اس سےانسان کے ہٹنے کی وجہ صرف یہ ہےکہ لوگ خدا کو بھول جائیں اور نتیجہ خود اپنی حقیقت کو بھی فراموش کر دیں۔اس کا نتیجہ لازمی طور پر یہی ہوتا ہےکہ ایک طرف بعض اشخاص یا خاندان یا طبقے خدائی کا کھلا یا چھپا داعیہ لے کر اٹھتے ہیں اور اپنی طاقت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر لوگوں کو اپنا بنڈ بنا لیتےہیں اور دوسری طرف اسی خدا فراموشی و خود فراموشی کا نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ لوگوں کا ایک حصہ ان طاقتوروں کی خداوندی مان لیتا ہے اور ان کے اس حق کو تسلیم کر لیتا ہے کہ یہ حکم کریں اور وہ اس حکم کے آگے سر جھکا دیں یہی دنیا میں ظلم فساد اور ناجائز انتفاع کی (Exploitation)، بنیاد ہے، اور اسلام پہلی ضرب اسی پر لگاتا ہے ۔ وہ ہانکے پکارے کہتا ہے :
وہ لوگوں سے پوچھتا ہے کہ ؟ یہ بہت سے چھوٹے بڑے خدا جن کی بندگی میں تم پے جارہے ہو ان کی بندگی قبول ہے ، یا اس ایک خدا کی جو اسے زبر دست ہے ؟ اگر اس خدائے واحد کی بندگی قبول نہ کرو گے تو ان چھوٹے اور چھوٹے خداؤں کی آقائی سے تمہیں کبھی نجات نہ مل سکے گی، یہ کسی نہ کسی طور سے تم پر تسلط پائیں گے، اور فساد برپا کر کے رہیں گے :-
یہاں پوری تفصیل کا موقع نہیں مختصر ائیں یہ بات آپ کے ذہن نشین کرنا چاہتا ہوں کہ اسلام کی دعوت توحید و خدا پرستی محض اس معنی میں ایک مذہبی عقیدہ کی دعوت نہ تھی جس میں اور دوسرے مذہبی عقائد کی دعوت ہوا کرتی ہے، بلکہ حقیقت میں یہ ایک اجتماعی انقلاب (Social Revolution) کی دعوت تھی ۔ اس کی ضرب بلاواسطہ ان طبقوں پر پڑتی ہے جنہوں نے مذہبی رنگ میں پروہت بن کر دیا سیاسی رنگ میں بادشاہ اور رئیس اور حکمران گروہ بن کر یا معاشی رنگ میں مہاجن اور زمیندار اور اجارہ دار بن کر عامتہ الناس کو اپنا بندہ بنا لیا تھا۔ یہ کہیں علانیہ ارباب من دُونِ اللہ بنے ہوئےتھے،دنیا سےاپنےپیدائشی المتفاقی حقوق کی بنا پر اطاعت و بندگی کا مطالبہ کرتےتھےاور صاف کہتےتھے کہ مالک مِنَ اللهِ غَبُری اور انار تكُم الأعلى اور آنا اخي وَأُمِيتُ اور مَنْ أَشَدُّ مِنَّا نُوةٌ- اور کسی جگہ انہوں نےعامتہ الناس کی جہالت کو استعمال ______ کرنے کے لیے بیتوں اور ہیکلوں کی شکل میں مصنوعی خدا بنا رکھے تھے جن کی آڑپکڑ کر یہ اپنے خداوندی حقوق بندگان خدا سے تسلیم کراتے تھے ہیں کفر شرک اور بت پرستی کے خلاف اسلام کی دعوت،اور خدائے واحد کی بندگی و عبودیت کےلیےاسلام کی تبلیغ براہ راست حکومت اور اس کو سہارا دینے والے یا اس کے بہانےچلنے والے طبقوں کی اغراض سے متصادم ہوتی تھی۔ اسی وجہ سے جب کبھی کسی نبی نےيَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنَ اللَّهِ غَيْرة کی صدا بلند کی،حکومت وقت فوراً اس کےمقابلے میں آن کھڑی ہوئی، اور تمام ناجائز انتفاع کرنے والے طبقے اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے ، کیونکہ یہ محض ایک مابعد الطبیعی قضیه (Metaphysical Proposition) کا بیان نہ تھا، بلکہ ایک اجتماعی انقلاب کا اعلان تھا، اور اس میں پہلی آواز سنتے ہی سیاسی شورش کی بو سونگھ لی جاتی تھی۔
اسلامی دعوت انقلاب کی خصوصیت:اس میں شک نہیں کہ انبیاء علیہم السلام سب کے انقلابی لیڈ رتھے،اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑےانقلابی لیڈر ہیں لیکن جو چیز دنیا کے عام انقلابیوں اور ان خدا پرست انقلابی لیڈروں کے درمیان واضح خط امتیاز کھینچتی ہے وہ یہ ہے کہ دوسرے انقلابی لوگ خواہ کتنے ہی نیک نیت کیوں نہ ہوں، عدل اور توسط کے صحیح مقام کو نہیں پاسکتے ۔ وہ یا تو خود مظلوم طبقوں میں سے اُٹھتے ہیں ، یا ان کی حمایت کا جذبہ لے کر اُٹھتے ہیں، اور پھر سارے معاملات کو انہی طبقوں کے نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی نظر غیر جانبدارانہ اور خالص انسانیت کی نظر نہیں ہوتی بلکہ ایک طبقہ کی طرف غصہ و نفرت کا اور دوسرے طبقہ کی طرف حمایت کا جذبہ لیے ہوتے ہوتی ہے۔ وہ ظلم کا ایسا علاج سونچتے ہیں جو نتیجہ ایک جوابی ظلم ہوتا ہے۔ ان کے لیے انتقام عہد اور عداوت کے جذبات سے پاک ہو کر ایک ایسا معتدل اور متوازن اجتماعی نظام تجویز کرنا ممکن نہیں ہوتا جس میں مجموعی طور پر تمام انسانوں کی فلاح ہو۔ بخلاف اس کے انبیاء علیہم السلام خواہ کتنے ہی سنائے گئے ہوں اور کتنا ہی ان پر اور ان کے ساتھیوں پر ظلم کیا گیا ہو، ان کی انقلابی تحریک میں کبھی ان کے شخصی جذبات کا اثر آنے نہیں پایا ۔ وہ براہ راست خدا کی ہدایت کے تحت کام کرتے تھے ، اور خدا چونکہ انسانی جذبات سےمنزہ ہے کسی انسانی طبقہ سے اس کا مخصوص رشتہ نہیں، نہ کسی دوسرے انسانی طبقہ سے اس کو کوئی شکایت یا عداوت ہے، اس لیے خدا کی ہدایت کے تحت انبیاء علیہم السلام تمام معاملات کو بے لاگ انصاف کے ساتھ اس نظر سے دیکھتے تھےکہ تمام انسانوں کی مجموعی فلاح و بہبود کس چیز میں ہے اور کس طرح ایک ایسا نظام بنا یا جائے جس میں ہر شخص اپنی جائز حدود کے اندر رہ سکے ، اپنے جائز حقوق سے متع ہو سکے، اور افراد کے باہمی روابط نیز فرد اور جماعت کے باہمی تعلق میں کامل نو ازن قائم ہو سکے یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی انقلابی تحریک کبھی طبقاتی نزاع (Class War) میں تبدیل نہ ہونے پائی ۔ انہوں نے اجتماعی تعمیر نو Social Reconstruction) اس طرز پر نہیں کی کہ ایک طبقہ کو دوسرے طبقہ پر مسلط کر دیں، بلکہ اس کے لیے عدل کا ایسا طریقہ اختیار کیا جس میں تمام انسانوں کےلیے ترقی اور مادی و روحانی سعادت کے یکساں امکانات رکھے گئے تھے ۔
جہاد کی ضرورت اور اس کی غایت: اس مختصر مقالہ میں میرے لیے اس اجتماعی نظام Social Order کی تفصیلات پیش کرنا مشکل ہے جو اسلام نے تجویز کیا ہے ۔تفصیل کا موقعہ انشاء اللہ عنقریب آئے گا۔ یہاں اپنے موضوع کی حد میں رہتے ہوتےجس بات کو مجھے واضح کرنا تھا وہ صرف یہ تھی کہ اسلام محض ایک مذہبی عقیدہ اور چند عبادات کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ وہ ایک جامع سسٹم ہے جو دنیا سے زندگی کےتمام ظالمانہ اور مفسدانہ نظامات کو مٹانا چاہتا ہے اور ان کی جگہ اپنا ایک اصلاحی پروگرام نافذ کرنا چاہتا ہے جس کو وہ انسانیت کی فلاح وبہبود کے لیے سب سے بہتر سمجھتا ہے۔
اس تخریب و تعمیر اور انقلاب و اصلاح کے لیے وہ کسی ایک قوم با گرد کو نہیں بلکہ تمام انسانوں کو دعوت دیتا ہے۔ وہ خود ان ظالم طبقوں اور نا جائز انتفاعی کرنے والے گرو ہوں، حتی کہ بادشاہوں اور رہنمیوں کو بھی پکارتا ہےکہ آؤ اس جائز حد کے اندر رہنا قبول کر لو جو تمہارے خالق نے تمہارے لیے مقرر کی ہے ۔اگر تم عدل اور حق کے نظام کو قبول کر لو گے تو تمہارے لیے امن اور سلامتی ہے یہاں کسی انسان سے دشمنی نہیں ہے بلکہ دشمنی جو کچھ بھی ہے ظلم سے ہے ، فاسد ہے ، بد اخلاقی سے ہے ، اس بات سے ہے کہ کوئی شخص اپنی فطری حد سے تجاو کر کے وہ کچھ حاصل کرنا چاہیے جو فطرت اللہ کے لحاظ سے اس کا نہیں ہے۔
یہ دعوت جو لوگ بھی قبول کر لیں وہ خواہ کسی طبقہ کسی نسل کسی قوم اور کسی ملک کے ہوں، یکساں حقوق اور مساویانہ حیثیت سے اسلامی جماعت کے رکن بن جاتے ہیں ، اور اس طرح وہ بین الاقوامی انقلابی پارٹی تیار ہوتی ہے جسے قرآن حزب اللہ کے نام سے یاد کرتا ہے، اور جن کا دوسرا نام اسلامی جماعت یا امت مسلمہ ہے ۔
یہ پارٹی وجود میں آتے ہی اپنے مقصد وجود کی تحصیل کے لیے جہاد شروع کر دیتی ہے ۔ اس کے عین وجود کا اقتضا یہی ہے کہ یہ غیر اسلامی نظام کی حکمرانی کو مٹانے کی کوشش کرے اور اس کے مقابلہ میں تمدن و اجتماع کے اس معتدل می توان ضابطہ کی حکومت قائم کرے جسے قرآن ایک صابع لفظ کلمہ اللہ سے تعبیر کرتا ہے۔اگر یہ پارٹی حکومت کو بدلنے اور اسلامی نظام حکومت قائم کرنے کی کوشش نہ کرےتور اس کے وجود میں آنے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے کیونکہ یہ کسی اور مقصد کےلیے بنائی ہی نہیں گئی ہے ، اور اس جہاد کے سوا اس کی مستی کا اور کوئی مصرف نہی نہیں۔ قرآن اس کی پیدائش کا ایک ہی مقصد بیان کرتا ہے اور وہ یہ ہے :
یہ مذہبی تبلیغ کرنے والے واعظین (Preachers) اور مبشرین (Missionaries) کی جماعت نہیں ہے بلکہ خدائی فوجداروں کی جماعت ہے لِتَكُونُوا شُهَدَاء عَلَى النَّاسِ) (البقره ۱۴۳ ) اوراس کا کام یہ ہے دنیا سے ظلم، فتنہ فساد بد اخلاقی طغیان اور ناجائز انتفاع کو بزور مٹادے، ارباب من دون اللہ کی خدائی کو ختم کر دے، اور بدی کی جگہ نیکی قائم کرے۔ قَاتِلُوهُمُ حَتَّى لَا تَكُونَ فِقْنَهُ وَتَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ البقره ١٢ إِلَّا تَفْعَلُوهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الأَرْضِ وَفَسَادُ كَبيرُ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ المشرِكُونَ ۔ لہذا اس پارٹی کے لیے حکومت کے اقتدار پر قبضہ کیسے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے، کیونکہ مفسدانہ نظام تمدن ایک فاسد حکومت کے بل پر ہی قائم ہوتا ہےاور ایک صالح نظام تمدن اس وقت تک کسی طرح قائم میں نہیں ہو سکتا جب تک کہ حکومت مفسدین سے منسوب ہو کر مصلحین کے ہاتھ میں نہ آجاتے۔
________________________________________________________________ ١- "ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور اطاعت صرف خدا کے لیے ہو جائے" ۔ ٢- "اگر تم ایسا نہ کرو گے توزمین میں فتنہ ہوگا اور بر فساد برپا ر ہے گا" ۔ ٣- "وہ خدا ہی ہے جس نے اپنے رسول کو دنیا میں زندگی بسر کرنے کا سیدھا راستہ اور حق کی وہ اطاعت کا صحیح ضابطہ دیکر بھیجا ہے تا کہ تمام اطاعتوں کو مٹا کر اسی ایک اطلاعت کو سب پر غالب کر دے خواہ وہ لوگ اس پر راضی نہ ہوں جو خداوندی میں دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں ۔
دنیا کی اصلاح سے قطع نظر اس جماعت کےلیےخود اپنےمسلک پر عامل ہونا بھی غیر ممکن ہے اگر حکومت کا نظام کسی دوسرےمسلک پر قائم ہو-کوئی پارٹی جو کسی سسٹم کو برحق سمجھتی ہو کسی دوسرے سسٹم کی حکومت میں اپنےمسلک کےمطابق زندگی بسر نہیں کر سکتی۔ایک اشترا کی مسلک کا آدمی اگر انگلستان یا امریکہ میں رہ کر اشتراکیت کے مطابق زندگی بسر کرنا چاہیے تو کسی طرح اپنےاس ارادےمیں کامیاب نہیں ہوسکتا، کیونکہ سرمایہ دارانہ نظام کا ضابطہ حیات حکومت کی طاقت سےبجبر اس پر مسلط ہوگا اور وہ اس کی قہرمانی سےکسی طرح بیچ نہ سکے گا ۔اسی طور پر ایک مسلمان بھی اگر کسی غیر اسلامی حکومت میں رہ کر اسلامی اصول پر زندگی بسر کرنا چاہے تو اس کا کامیاب ہونا بھی محال ہے۔ جن قوانین کو وہ باطل سمجھتا ہے، جن ٹیکسوں کو وہ حرام سمجھتا ہے،جن معاملات کو وہ ناجائز سمجھتا ہے،جس طرز زندگی کو وہ فاسد سمجھتا ہےجس طرق تعلیم کو وہ مہلک سمجھتا ہےوہ سب کے سب اس پر، اس کے گھر بار پر اس کی اولاد پر اس طرح مسلط ہو جائیں گےکہ وہ کسی طرح ان کی گرفت سےبچ کر نہ نکل سکےگا۔لہذا جو شخص یا گروہ کسی مسلک پر اعتقاد رکھتا ہو وہ اپنےاعتقاد کےفطری اختصار ہی سے اس امر پر مجبور ہوتا ہے کہ مسلک مخالف کی حکومت کو مٹانے اور خود اپنے مسلک کی حکومت قائم کرنے کی کوشش کرے کیونکہ اس کے بغیر وہ اپنے مسلک پر عمل کر ہی نہیں سکتا۔ اگر وہ اس کوشش سے غفلت برتا ہے تو اس کا صریح مطلب یہ ہے کہ وہ در حقیقت اپنے عقائد ہی میں چھوٹا ہے۔
ان الفاظ میں قرآن نے صاف اور صریح فتویٰ دے دیا ہے کہ اپنے اقتصاد (Convictions) میں کسی جماعت کے صادق ہونے کا واحد معیار ہی ہےکہ وہ جس مسلک پر اعتقاد رکھتی ہو اس کو حکمران بنانے کے لیے جان ومال سےجہاد کرے۔ اگر تم اپنے اوپر مسلک مخالف کی حکومت کو گوارا کرتے ہو تو یہ اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ تم اپنے اعتماد میں جھوٹے ہو، اور اس کا فطری نتیجہ ہی ہے۔ اور یہی ہو سکتا ہے کہ آخر کار اسلام کے مسلک پر ہارا نام نہاد عقیدہ بھی باقی نہ رہے گا۔ ابتداء میں تم مسلک مخالف کی حکومت کو بکراہت گوارا کرو گے، پھر رفتہ رفتہ تمہارےدل اس سے مانوس ہوتے چلے جائیں گے یہاں تک کہ کراہت رغبت سے بدل جائے گی اور آخر میں نوبت اس حد تک پہنچے گی کہ مسلک مخالف کی حکومت قائم ہونے اور قائم رہنے میں تم خود مددگار ہو گے ، اپنی جان و مال سے جہاد اس لیے کرو گے کہ مسلک اسلام کے بجائے ملک غیر اسلام قائم ہو یا قائم رہے، تمہاری اپنی طاقتیں مسلک اسلام کے قیام کی فرائت میں صرف ہونے لگیں گی، اور یہاں پہنچ کر تم میں اور کافروں میں اسلام کے منافقانہ دعوی ، ایک بدترین جھوٹ ، ایک پر فریب نام کے سوا کوئی فرق نہ رہے گا۔ حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نتیجہ کو صاف صاف بیان فرما دیا ہے :
عالمگیر انقلاب: اس بحث سے آپ پر یہ بات واضح ہو گئی ہوگی کہ اسلامی جہاد کا مقصود (Objective) غیر اسلامی نظام کی حکومت کو مٹاکر اسلامی حکومت قائم کرنا ہے۔اسلام یہ انقلاب صرف ایک ملک یا چند ملکوں میں نہیں بلکہ تمام دنیا میں برپا کرنا چاہتا ہے۔ اگر چہ ابتداء مسلم پارٹی کے ارکان کا فرض یہی ہے کہ جہاں جہاں پہنتے ہوں وہاں کے نظام حکومت میں انقلاب پیدا کریں لیکن ان کی آخری منزل مقصود ایک عالمگیر انقلاب (World Revolution) کے سوا کچھ نہیں ہے کوئی انقلابی مسلک جو قومیت کے بجائے انسانیت کی فلاح کے اصول لے کر اٹھا ہو، اپنے انقلابی مطمح نظر کو کبھی ایک ملک یا ایک قوم کے دائرے میں محدود نہیں کر سکتا، بلکہ وہ اپنی فطرت کے عین اقتضا یہیں سے مجبور ہے کہ عالمگیر انقلاب کو اپنا مطمح نظر بنائے حق جغرانی حدود کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔ اس کا مطالبہ یہ ہے کہ میں اگر کسی دریا یا پہاڑ کے اس پار بھی حق ہی ہوں تو اس بار بھی حق سی ہوں۔ نوع انسانی کے کسی حصہ کو بھی مجھ سے محروم نہ رہنا چاہیے۔ انسان جہاں بھی ظلم وستم کا اور افراط و تفریط کا تختہ مشق بنا ہوا ہے وہاں اس کی مدد کے لیے پہنچنا میرا فرض ہے۔اسی تخیل کو قرآن ان الفاظ میں بیان کرتا ہے ۔
علاوہ بریں قومی وملکی تقسیمات کے باوجود انسانی تعلقات و روابط کچھ ایسی عالمگیری اپنے اندر رکھتے ہیں کہ کوئی ایک مملکت اپنے اصول و مسلک کے مطابق پوری طرح عمل نہیں کر سکتی جب تک کہ ہمسایہ ممالک میں بھی وہی اصول و مسلک رائج نہ ہو جائے ۔ ہند اسلم پارٹی کے لیے اصلاح عمومی اور تحفیظ خودی ، دونوں کی خاطر یہ ناگزیر ہے کہ کسی ایک خطہ میں اسلامی نظام کی حکومت قائم کرنے پر اکتفا نہ کرے بلکہ جہاں تک اس کی قوتیں ساتھ دیں، اس نظام کو تمام اطراف عالم میں وسیع کرنے کی کوشش کرے ۔ وہ ایک طرف اپنے افکار و نظریات کو دنیا میں پھیلائے گی اور تمام ممالک کے باشندوں کو دعوت دیگی کہ اس مسلک کو قبول کریں جس میں ان کے لیے حقیقی فلاح مضمر ہے۔ دوسری طرف اگر اس میں طاقت ہو گی تو وہ لڑ کر غیر اسلامی حکومتوں کو مٹادے گی اور ان کی جگہ اسلامی حکومت قائم کریگی۔
یہی پالیسی تھی جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے بعد خلفائےراشدین نے عمل کیا۔ عرب، جہانی مسلم پارٹی پیدا ہوئی تھی ، سرسے پہلے اسی کو اسلامی حکومت کے زیر نگیں کیا گیا۔ اس کے بعد سول الی اللہ علیہ وسلم نے اطراف کے ممالک کو اپنے اصول و مسلک کی طرف دعوت دی ، مگر اس کا انتظار نہ کیا کہ یہ دعوت قبول کی جاتی ہے یا نہیں، بلکہ قوت حاصل کرتے ہی رومی سلطنت سے تصادم شروع کر دیا۔ آنحضرت کے بعد جب حضرت ابو بکر پارٹی کے لیڈر ہوئے تو انہوں نے روم اور ایران دونوں کی غیر اسلامی حکومت پر حملہ کر دیا اور پھر حضرت عمر نے اس حملہ کو کامیابی کے آخری مراحل تک پہنچا دیا۔ مصر و شام اور روم و ایران کے عوام اول اول اس کو عرب کی امپیرٹیسٹ پالیسی سمجھے ۔ انہوں نے خیال کیا کہ جس طرح پہلے ایک قوم دوسری قوموں کو غلام بنانے کے لیے نکلا کرتی تھی اسی طرح اب بھی ایک قوم اسی غرض کےلیےنکلی ہے۔اس غلط فہمی کی بنا پر لوگ قیصر و کسری کے جھنڈےتھے مسلمانوں سے لڑنے کے لیے نکلے مگر جب ان پر سلم پارٹی کے انقلابی مسلک کا حال کھلا، جب انہیں معلوم ہوا کہ یہ جفا کارانہ قوم پرستی (Aggressive Nationatim) کے علمبردار نہیں ہیں بلکہ قومی اغراض سے پاک ہیں اور محض ایک عادلانہ نظام قائم کئے آتے ہیں، اور ان کا مقصد ان ظالم طبقوں کی خدا وندی کو ختم کرتا ہے جو قیصریت و کسرویت کی پناہ میں ہم کو تباہ وبرباد کر رہے ہیں ، توان کی اخلاقی ہمدردیاں مسلم پارٹی کی طرف جھک گئیں، وہ قیصر و کسری کے جھنڈے سے الگ ہوتے چلےگئے اور اگر مارے بندھے سے فوج میں بھرتی ہو کر لڑنے آئے بھی تو بے دلی سےلڑے یہی سبب ہے اُن حیرت انگیز فتوحات کا جو ابتدائی دور میں مسلمانوں کو حاصل ہوئیں، اور یہی سبب ہے اس کا کہ اسلامی حکومت قائم ہونے کے بعد جب ان ممالک کے باشندوں نے اسلامی نظام اجتماعی کو عملا کام کرتے ہوئے دیکھا تو وہ خود فوج در فوج اس بین الاقوامی پارٹی میں شریک ہوتے چلے گئے اور خود اس مسلک کے علمبردار بن کر آگے بڑھے تاکہ دوسرے ملکوں میں بھی اس کو پھیلا دیں ۔
جارحانہ اور مدافعانه کی تقسیم غیر متعلق ہے: یہ جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس پر جب آپ غور کریں گے تو یہ بات باآسانی آپ کی سمجھ میں آجائے گی کہ جنگ کی جو تقسیم جارجانہ"(Offensive) اور مدافعانہ (Defensive). کی اصطلاحوں میں کی گئی ہے اس کا اطلاق سرے سے اسلامی جہاد یہ ہوتا ہی نہیں۔ نی نیستیم حرف قومی اور ملکی لڑائیوں پر ہی منطبق ہو سکتی ہے کیونکہ اسطلاحات حملہ اور مدافعت کے الفاظ ایک ملک یا ایک قوم کی نسبت سے ہی بولے جاتے ہیں۔ مگر جب ایک بین الاقوامی پارٹی ایک جہانی نظریہ و مسلک کو لے کر اٹھے ، اور تمام قوموں کو انسانی حیثیت سے اس ملک کی طرف بلائے اور ہر قوم کے آدمیوں کو مساویانہ حیثیت سے اپنی پارٹی میں شریک کرے ، اور محسن مسلک مخالفت کی حکومت کو مٹا کر اپنے مسلک کی حکومت قائم کرنے کے لیے جدو جہد کرے ، تو ایسی حالت میں اصطلاحی حملہ اور اصطلاحی مدافعت کا قطعا کوئی سوال پیدا ہی نہیں ہوتا ۔ بلکہ اگر اصطلاح سے قطع نظر کر لی جائے تب بھی اسلامی جہاد پر جارحانہ اور مدافعانہ کی تقسیم منطبق نہیں ہوتی۔ اسلامی جہاد یک وقت جارحانہ بھی ہے اور مدافعانہ بھی ۔ جارحانہ اس لیے کہ مسلم پارٹی مسلک مخالف کی حکمرانی پر حملہ کرتی ہے اور مدافعانہ اس لیے ہے کہ وہ خود اپنے مسلک پر عامل ہونے کے لیے حکومت کی طاقت حاصل کرنے پر مجبور ہے۔ پارٹی ہونے کی حیثیت سے اس کا کوئی گھر نہیں کہ وہ اس کی مدافعت کرے ۔ اس کے پاس محض اپنے اصول نہیں جن کی وہ حمایت کرتی ہے۔ اسی طرح مخالف پارٹی کے بھی گھر پہ وہ حملہ نہیں کرتی بلکہ اس کے اصولوں پر حملہ کرتی ہے اور اس حملہ کا مدعا یہ نہیں ہےکہ اس سے زبر دستی اس کے اصول چھڑائے جائیں ، بلکہ مدعا صرف یہ ہے کہ اس کے اصولوں سے حکومت کی طاقت چھین لی جائے۔
ذتمیوں کی حیثیت: یہیں سے یہ سوال بھی حل ہو جاتا ہے کہ اسلامی نظام حکومت ہیں ان لوگوں کی کیا حیثیت ہے جو کسی دوسرے عقیدہ و مسلک کے متبع ہوں اسلام کا جہاد لوگوں کے عقیدہ و مسلک اور ان کے طریق عبادت یا قوانین معاشرت سےتعرض نہیں کرتا ۔ وہ ان کو پوری آزادی دیتا ہے کہ جس عقیدہ پر چاہیں قائم نہیں اور میں مسلک پر چاہیں چلیں۔ البتہ وہ ان کے اس حق کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے کہ ایسے کسی طریقہ پر حکومت کا نظام چلائیں جو اسلام کی نگاہ میں فاسد ہے۔ نیز وہ ان کے اس حق کو بھی نہیں مانتا کہ وہ معاملات کے ان طریقوں کو اسلامی نظام حکومت میں جاری رکھیں جو اسلام کے نزدیک اجتماعی فلاح کےلیے مہلک ہیں۔ مثلاً وہ حکومت کا نظام ہاتھ میں لیتے ہی سودی کاروبار کی تمام صورتوں کو مسدود کر دے گا۔ جوئے کی ہرگز اجازت نہ دیگا۔ خرید و فروخت اور مالی لین دین کی ان تمام شکلوں کو روک دیگا جو اسلامی قانون میں حرام ہیں قحبہ خانوں اور فواحش کے اڈو کی کلیتہ بند کر دے گا بغیرمسلم عورتوں کو ستر کے کم ہے کم حدود کی پابندی کرنے پر مجبور کرے گا اور انہیں برین جامعیت کے ساتھ پھرنے سے روک دے گا سینیما پر احتساب قائم کرے گا اور تمام غیر اخلاقی عناصر کو اس سےنکال دے گا کسی گروہ کو مخلوط تعلیم کی اجازت نہ دیگا۔ اس قسم کے اور بہت سے امور ہیں جن میں ایک اسلامی نظام حکومت نہ صرف اجتماعی فلاح و بہبود کی خاطر بلکہ اپنے تحفظ (Defence) کی خاطر بھی ان تمدنی معاملات کی اجازت نہ دیگا جو غیر مسلموں کے مسلک میں چاہیے ناجائز نہ ہوں ، مگر اسلام کی نگا ہیں موجب فساد و ہلاکت ہیں ۔
اس باب میں اگر کوئی شخص اسلام پر نارواداری کا الزام عائد کرے تو اسے دیکھنا چاہیے کہ دنیا کے کسی انقلابی و اصلاحی مسلک نے دوسرے مسلک اہوں کے ساتھ اتنی رواداری نہیں برتی ہے جتنی اسلام برتا ہے۔ دوسری جگہ تو آپ کھیں گے کہ غیر مسلک والوں کے لیے زندگی دو بھر کر دی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ وہ وطن چھوڑ کر نکل جانے پر مجبور ہوتے ہیں لیکن اسلام غیر مسلک والوں کو پورے امن کے ساتھہر قسم کی ترقی کرنے کا موقع دیتا ہے ، اور ان کے ساتھ ایسی فیاضی کا برتاؤ کرتا ہے جس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی ۔
امپیر یلز م کا شبہ: یہاں پہنچ کر مجھے پھر اس بات کا اعادہ کرنا چاہیے کہ اسلام کی نظر میں جہاد صرف وہی ہے جو محض فی سبیل اللہ ہو، اور اس جہاد کے نتیجہ میں جب اسلامی حکومت قائم ہو تو مسلمانوں کے لیے یہ ہرگز جائز نہیں ہے کہ وہ قیصر و کسریٰ کو ہٹا کر خود ان کی جگہ لے لیں مسلمان اس لیے نہیں لڑتا اور مسلمان ہونے کی حیثیت سے نہیں لڑسکتا کہ اس کی ذاتی حکومت قائم ہو جائے ، اور وہ خدا کے بندوں کو اپنا بندہ بنائے اور نا جائز طور پر لوگوں کی گاڑھی محنتوں کا روپیہ وصول کرکے اپنے لیے زمین میں جنتیں بنانے لگے۔ یہ جہاد فی سبیل اللہ نہیں بلکہ جہاد فی سبیل الطاغوت ہے، اور ایسی حکومت کو اسلام سےکوئی واسطہ نہیں ۔اسلام کا جہاد تو ایک نخشک اور بے مرہ محنت ہےجس میں جان۔ مال اور خواہشات نفس کی قربانی کے سوا اور کچھ نہیں۔ اگر یہ جہاد کا میاب ہو اور نتیجہ میں حکومت مل جائے تو بچے مسلمان حکمران پر ذمہ داریوں کا اس قدر بھاری بوجھ عائد ہو جاتا ہے کہ اس غریب کے لیے راتوں کی نیند اور دن کی آسائش تک حرام ہو جاتی ہے ۔ مگر اس کے معاوضہ میں وہ حکومت و اقتدار کی ان لذتوں میں سے کوئی عزت بھی حاصل نہیں کر سکتا جن کی خاطر دنیا میں عموماً حکومت حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اسلام کا فرمانروانہ تو رعیت کے عام افراد سےممتاز کوئی بالاتر مستی ہے،نہ وہ عظمت و رفعت کے تخت پر بیٹھ سکتا ہے، یہ اپنے آگے کسی سے گردن جھکو اسکتا ہے ، نہ قانون شریعت کے خلاف ایک پتہ ہلا سکتا ہے ، نہ اسے یہ اختیار حاصل ہے کہ اپنے کسی عزیز یا دوست یا خود اپنی ذات کو کسی ادنیٰ سے ادنی ہستی کے جائز مطالبہ سے بچا سکے ، نہ وہ حق کےخلاف ایک حبہ لے سکتا ہےاور نہ چیہ بھر زمین پر قبضہ کر سکتا ہے ، ایک متوسط درجہ کے مسلمان کو زندگی بسر کرنے کے لیے جتنی تنخواہ کافی ہوسکتی ہے اس سے زیادہ بیت المال سے ایک پائی لینا بھی اس کے لیے حرام ہے۔ وہ غریب نہ عالیشان قصر بنوا سکتا ہے ، نہ خدم و حشم رکھ سکتا ہے، نہ عیش و عشرت کے سامان فراہم کر سکتا ہے۔ اس پر ہر وقت یہ خوف غالب رہتا ہے کہ ایک دن اس کے اعمال کا سخت حساب لیا جائے گا اور اگر حرام کا ایک پیسہ ، جبر سے لی ہوئی زمین کا ایک چیہ تکبر و فرعونیت کا ایک شمہ،ظلم و بے انصافی کا ایک دھبہ اور خواہشات نفسانی کی بندگی کا ایک شائبہ بھی اس کے حساب میں نکل آیا تو اسے سخت سزا بھگتنی ہوگی۔ اگر کوئی شخص حقیقت میں دنیا کا لالچی ہو تواس سے بڑا کوئی بے وقوف نہ ہوگا اگر اسلامی قانون کے مطابق حکومت کا بار سنبھالنے پر آمادہ ہو، کیونکہ اسلامی حکومت کے فرمانروا سےبازار کے ایک معمولی دوکاندار کی پوزیشن زیادہ اچھی ہوتی ہے۔ وہ دن کو خلیفہ سے زیادہ کماتا ہے اور رات کو آرام سے پاؤں پھیلا کر سوتا ہے ، خلیفہ بیچارے کو نہ اس کے برابر آمدنی نصیب اور نہ رات کو بلین سے سونا ہی نصیب ۔
بہ بنیادی فرق ہے اسلامی حکومت اور غیر اسلامی حکومت میں غیر اسلامی حکومت میں حکمران گروہ اپنی خداوندی قائم کرتا ہے اور اپنی ذات کے لیے ملک کے وسائل و ذرائع استعمال کرتا ہے۔ بخلاف اس کے اسلامی حکومت میں حکمراں گروہ مجرد خدمت کرتا ہے اور عام باشندوں سے بڑھ کر اپنی ذات کے لیے کچھ حاصل نہیں کرتا۔ اسلامی حکومت کی سول سروس کو جو نخواہیں ملتی تھیں، ان کا تقابل آج کل کی یا خود اس دور کی امپیریلیٹ طاقتوں کی سول سروس کے مشاہروں سے کر کے دیکھیے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اسلام کی جہاں کشائی اور امیر عزیم کی عالمگیری میں ہوگی وہ جوہری فرق ہے۔ اسلامی حکومت میں خراسان ، عراق ، شام اور مصر کے گورنروں کی تنخوا میں آپ کے معمولی انسپکٹروں کی تنخواہوں سے بھی کم تھیں خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق صرف سوروپے مہینہ پر اتنی بڑی سلطنت کا انتظام کرتے تھے۔ حضرت عمرے کی تنخواہ ڈیڑھ سو روپے سے زیادہ نہ تھی دراں حالیکہ بیت المال دنیا کی دو عظیم الشان سلطنتوں کے چھوڑے ہوئے خزانوں سے بھر پور ہو رہا تھا ۔ اگرچہ ظاہر میں امیر معزم بھی ملک فتح کرتا ہے اور اسلام بھی ۔ مگر دونوں کے جو ہر میں زمین و آسمان کابل ہے ۔
یہ ہے اس جہاد کی حقیقیت جس کے متعلق آپ بہت کچھ سنتے رہے ہیں۔ اب اگر آپ مجھ سے دریافت کر س کہ آج اسلام اور مسلم جماعت اور جہاد کا وہ تصور جو تم پیش کر رہے ہو کہاں غائب ہو گیا ، اور کیوں دنیا بھر کے مسلمانوں میں کہیں بھی اس کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا ، تو میں عرض کرونگا کہ یہ سوال محمد سےنہ کیجیے بلکہ ان لوگوں سے کیجیے جنہوں نے مسلمانوں کی توجہ ان کے اصلی مشن سےہٹا کر تعویز گنڈوں اور عملیات اور مراقبوں اور ریاضتوں کی طرف پھیر دی۔ جنہوں نے نجات اور فلاح اور حصول مقاصد کے لیے شارٹ کٹ تجویز کیے تا کہ مجاہد ہے اور جانفشانی کے بغیر سب کچھ تسبیح پھرانے یا کسی صاحب قبر کی عنایات حاصل کر لینےہی سے میسر آجاتے جنہوں نے اسلام کے کلیات اور اصول اور مقاصد سب کو پیٹ کر تاریک گوشوں میں پھینک دیا اور مسلمانوں کےزمین کو آمین بالجہر اور رفع یدین اور ایصال ثواب و زیارت قبور اور اسی قسم کے بیشمار جزیات میں ایسا پھنسایا کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے مقصد تخلیق کو اور اسلام کی حقیقت کو قطعی بھول گئے۔ اگر اس سےبھی آپ کی تشفی نہ ہو تو پھر یہ سوال ان امراء اور اصحاب اقتدار کے سامنے پیش کیجیےجو قرآن او محمد صل اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا دعوے تو کرتے ہیں مگر قرآن کے قانون اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کا اس سے زیادہ کوئی حق اپنے اوپر تسلیم نہیں کرتےکہ کبھی ختم قرآن کر دیں اور کبھی عید میلاد کےجلسےکرا دیں اور کبھی اللہ یاں کو نعوذ باللہ ان کی شاعری کی داد دےدیا کریں۔رہا اس قانون اور ہدایت کو عملا نا فذ کرنا،تو یہ حضرات اپنے آپ کو اس سے بری الذمہ سمجھتے ہیں، کیونکہ در حقیقت ان کا نفس ان پابندیوں کو قبول کرنےاور ان ذمہ داریوں کا بوجھ سنبھالنےکےلیے ہر گز تیار نہیں ہے جو اسلام ان پر عائد کرتا ہے۔ یہ بڑی سستی نجات کے طالب ہیں ۔ ( تر جمان القرآن ربیع الاول ٥٨ ھ متی ٣٩ )
| کتاب | الجهاد في الاسلام |
|---|---|
| مصنف | مولاناابوالاعلی مودودی |
| تاریخ اشاعت | None |
| پبلشرز | ادارہ |
| ٹیگ |