Maulana Syed Fazal Mabood (1918 - 2008), Ameer Jamaat Islami Peshawar,

Quote

مولانا سید فضل معبود مرحوم


اٹھارہ جنوری دوہزارسات بھی اب تحریکی زندگی کی یادوں میں ایک گراں لمحہ بن گیا ہے۔ لیجیے محترم بھائی سید فضل معبود بھی رخصت ہوئے۔اَِنا للہ واِنا الیہ راجعون

یہ خبر بجلی کی کوندکی طرح دل پرپڑی اور میں ایک لمحے کے لیے سکتے میں آگیا۔ جانتا ہوں کہ موت سب سے بڑی حقیقت ہے۔ بلاشبہ ہر انسان فانی ہے اور ہم سب اس قافلے کے شریک ہیں۔ منزل تو وہی ہے ، دنیا تو بس ایک درمیانی مرحلہ ہے لیکن اس سب سے بڑی حقیقت اور تقدیر سے اس ناگزیر ملاقات کو ہم بھولے رہتے ہیں۔

برادرمحترم مولانا سید فضل معبود کے لیے فوری دعائے مغفرت کے بعد جو خیال دل و دماغ پر چھایا رہا وہ رفیق اعلیٰ سے ملاقات کے بارے میں اپنی غفلت کا احساس تھا۔ نہ معلوم کیوں ان کے انتقال کی خبر غیر متوقع لگی اور اس کو اپنی بھول جان کر دل بے چین ہوگیا۔

فضل معبود صاحب سے میری پہلی ملاقات اسلامی جمعیت طلبہ کی نظامت اعلٰی کے زمانے میں ہوئی۔ سرحد کے دورے پر آیا تو وہ پشاور کی جماعت کے امیر تھے اور جس محبت ، شفقت اور بے تکلفی سے ملے وہ آج تک دل پر نقش ہے۔میں نے جن استاد سے قرآن پاک پڑھا ان کا تعلق بھی صوبہ سرحد سے تھا۔ پھر سرحد کے متعدد افراد سے مختلف حیثیتوں سے ملاقات رہی اور تعلقات استوار ہوتے رہے۔ لیکن میں اپنے حقیقی احساسات کے اظہار میں بخل کا مرتکب ہوں گا اگر یہ نہ کہوں کہ وہ پہلے پشتون تھے جن کے بارے میں مجھے یہ احساس ہوا کہ وہ پشتون تہذیب اور روایت کا نمونہ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے اندر یوپی اور دلی کی ثقافت کے بھی بہت سے پہلو لیے ہوئے ہں۔ ڈاکٹر خورشید الاسلام کا ایک معرکہ آرا مقالہ شبلی نعمانی پر ہے جس کا پہلا جملہ ہے"شبلی وہ پہلے یونانی ہیں جو ہندوستان میں پیدا ہوئے میں " ۔میں کوئی ایسی بات کہنے کی جسارت تو نہں کرسکتا لیکن اپنے اس حساس کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ سید فضل معبود پشتون اور گنگا جمنا کی ثقافت کا سنگم تھے۔، زبان و بیان اور اظہار ادا میں وہ دونوں ثقافتوں کا مرقع تھے اور کبھی ان کی زبان سے شین قاف اور تذکیر و تانیث میں کوئی لغزش محسوس نہیں کی۔ گفتگو میں نرمی اور مٹھاس، اردو زبان کے اسرارو رموز کا ادراک، نکھراادبی ذوق،علمی بالیدگی اور ان سب کے ساتھ خلوص اور سادگی۔ فضل معبود کی شخصیت میں بلا کی کشش تھی۔ چھوٹوں کے ساتھ برابری کا معاملہ کرنااور ان کوعزت دینا کوئی ان سے سیکھے۔

مولانا فضل معبود یکم اپریل انیس سو اٹھارہ کو ضلع مردان کے قریب ایک دیہات تہامت پور میں پیدا ہوئے۔ ایم اے تک تعلیم حاصل کی۔ اردو سے خصوصی شغف تھا اور اس زبان میں ایم اے کیا۔ ترجمان القرآن کے ذریعے مولانا سید ابوالاعلٰی مودودی سے واقفیت ہوئی اور یہ رشتہ 1938ء میں قائم ہوا۔1945 ء میں جماعت اسلامی کے دوسرے کل ہند اجتماع میں جو پٹھان کوٹ میں منعقد ہوا، شرکت کی اور اپریل 1945 ء میں جماعت کی رکنیت اختیار کرلی۔ جو عہد اپنے رب سے تجدید ایمان کے ساتھ کیا اسے آخری لمحے تک نبھایا اور 18جنوری 2007 ء کو جان جانِ آفریں کے سپرد کی۔

جماعت اسلامی میں مختلف ذمہ داریوں پر فائز رہے۔ 1946 ء سے 1967 ء تک پشاور شہر کے امیر رہے۔ ۔1950 ء میں مرکزی شوریٰ کے رکن بنے اور 2000 ء تک شوریٰ میں اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ کچھ عرصہ ریلوے کے محکمے میں ملازمت کی۔ 1958 ء سے 1964 ء تک روزنامہ "انجام" پشاور کے سب ایڈیٹر رہے۔ تین بار سنت یوسفی پر عمل کرتے ہوئے تحریک اسلامی کی خدمت کے صلے میں قیدو بند کی صعوبتیں ہنسی خوشی برداشت کیں۔ اس طرح دو سال سے زیادہ مدت جیل میں گزاری ۔ کچھ عرصے مرکزی اردو سائنس بارڈ کے ڈائریکٹر رہے۔ بی ڈی ممبر بھی بنے اور الخدمت کے محاذ سے مریضوں کی دیکھ بھال بھی کی۔ریڈیوں پاکستان سے پشتو اور اردو میں دینی اور سماجی موضوعات پر تقاریر کا سلسلہ بھی 1960 ء سے 2001 ء تک جاری رہا۔ غرض اجتماعی زندگی کے ہر شعبے اور میدان میں کچھ نہ کچھ کردار اداکیا۔

الحمد للہ آج صوبہ سرحد تحریک اسلامی کابڑا گہوارہ ہے اور صوبے کے طول عرض میں دعوتی ساتھیوں میں فصل بہار ہے۔ لیکن ایک مدت تک میرے لیے صوبہ سرحد نام تھا محترم خان سردار علی خان کا ، محترم تاج الملوک اور سید فضل معبود کا۔ ہر ایک اپنا اپنا مقام اور انداز کار۔ گویا

ہرگلے رارنگ و بوئے دیگر است

علمی اور ادبی ذوق ، تحریکی اخوت اور ہمہ جہت ثقافتی دل چسپی کے اعتبار سے میرا سب سے زیادہ قرب برادرم فضل معبود ہی سے رہا۔ چراغ راہ کی وجہ سے ایک خصوصی تعلق قائم ہوگیا۔ پھر شوراوں میں ہمیں مل بیٹھنے اور ایک دوسرے کو سمجھنے اور باہمی استفادہ کرنے کا موقع ملا۔ 1964 ء میں لاہور کی جیل میں ایک ہی بیرک میں ہم ساتھ رہے۔ میرے بزرگ ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی مجھ سے خوردوں والا معاملہ نہیں کیا۔ محبت کے ساتھ جو احترام انہوں نے دیا، اس نے مجھے ان کا گرویدہ کردیا۔ اسلام سے وفاداری ، مولانا مودودی سے محبت ، تحریک کے منہج کے باب میں مکمل یک سوئی، دعوت اور تنظیم دونوں میں سلیقہ،طبیعت میں بلا کی نفاست ، معاملات میں کھرا ہونا اور تعلقات میں خلوص کے ساتھ مٹھاس، ان کی شخصیت کے ناقابل فراموش پہلو تھے۔ تحریک کے سچے مزاج شناس تھے اور 1957 ء کے ماچھی گوٹ کے معرکے میں ان کی یک سوئی اور پھر کوٹ لکھپت میں دستور جماعت کی تدوین میں ان کی معاونت میں کبھی بھول نہیں سکتا۔

مولانا فضل معبوود کو رسائل کے پورے پورے ریکارڈ رکھنے کا شوق تھا۔ مجھے ان کی ذاتی لائبریری دیکھنے کا موقع نہیں ملا لیکن مجھے یقین ہے کہ ان کے پاس کتب ورسائل کا بڑا قیمتی ذخیرہ ہوگا۔ فضل معبود صاحب کا حافظہ بھی بہت اچھا تھا اور جب بھی ہمیں وقت ساتھ گزارنے کا موقع ملا ہے احساس ہوا کہ انہیں چھوٹی چھوٹی باتیں بھی خوب یاد رہتی تھی۔صحت کی خرابی کے باعث آخری زمانے میں مجھے ان سے ملنے کا موقع نہیں ملا جس کا افسوس رہے گا۔

الحمدللہ انہوں نے بھرپور تحریکی زندگی گزاری اور اس پورے عرصے میں پائے استقامت میں کوئی کمزوری نہیں آئی۔نئے لوگوں کی حوصلہ افزائی بھی کی اور اپنے رب اورتحریکی ساتھیوں سے وفاداری کا معاملہ کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں اور خدمات کو قبول فرمائے، بشری کمزوریوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرمائے اور انہیں جنت کے اعلٰ مقامات پر جگہ دے۔

آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے۔



تحریر: پروفیسر خورشید احمد

ترجمان القرآن ، فروری دوہزارسات