مولانا خلیل احمدحامدی
مظلوم انسانیت کے بے لوث سفیر
غم کی چادر:۔
خالق کائنات نے اس دنیا کو امتحان گاہ قراردیا ہے۔بندہ اس امتحان گاہ میں اپنا مقررہ وقت گزار کریہاں سے چلا جاتا ہے۔آنے اور جانے کا اختیار اور علم بندے کے پاس نہیں بلکہ خالقِ موت وحیات کے پاس ہے۔ہر چیز پہلے سے مقرر ہے۔قضا و قدر کے فیصلے ٹلتے نہیں۔دنیا میں ہر رز لاتعداد انسان آتے ہیں اور کم و بیش اتنے ہی رخصت ہوتے ہیں۔آنے والے تو سبھی بظاہر ایک جیسے ہوتے ہیں مگر جانے والوں میں زمین و آسمان کا تفاوت ہوتا ہے۔کوئی محض اپنے خاندان کو سوگوار کرکے چلا جاتا ہے،تو کسی کا مرنا گاؤں ،محلے یا شہر کی حد تک محسوس کیا جاتا ہے،کوئی ملکی سطح پر خلا چھوڑ جاتا ہے تو کسی کی موت پورے کرہ ارض پر غم و حزن کی چادر تان جاتی ہے۔کسی پر محض انسان روتے ہیں تو کسی پر زمین و آسمان بھی آنسو بہاتے ہیں۔ جس شخص کا ان سطور میں تذکرہ کیا جا رہا ہے،اس کی وفات پر تو خامہ و صریر اور قلم و قرطاس، منبر و محراب اور شرق و غرب سبھی اداس ہیں۔ مرحوم کبھی کبھاریہ شعر پڑھا کرتے تھے جو آج انہی پر منطبق ہو رہا ہے۔
فما کان قیس ھلکہ ھلکُ واحدٍ
ولکنّ بنیانُ قومٍ قد تھدّما
عظیم انسان:۔
پچیس نومبر انیس سوچورانوے کو ایک ایسا شخص اچانک داغِ مفارقت دے گیا جس کے بغیر زندگی بے کیف اور پھیکی ہو گئی ہے۔ حق مغفرت کرے وہ ایک انسان نہیں ایک امت تھا۔دبلا پتلا،نحیف و نزار ،گورا چٹا ،چاک و چوبند ،علم کا دریا،عمل کا پہاڑ ،رقیق القلب ،شب زندہ دار،مظلوم انسانیت کا بے مزد سفیر ،مسلمانان عالم کا بے باک ترجمان،سید مودودی کا تلمیذِ رشید ،میاں طفیل محمد کا معتمد ساتھی ،قاضی حسین احمد کا دست راست! یہ انسان بہت عظیم تھا،بڑا پیارا تھا!مشرقی پنجاب کے چھوٹے سے گاؤں حامد میں 1925ءمیں پیدا ہونے والا یہ بچہ افق عالم پر مولانا خلیل احمد الحامدی کے نام سے ابھرا ،جو ہمیشہ تاریخ میں جگمگاتا رہے گا۔
مولانا خلیل حامدی مرحوم و مغفور کے پاسپورٹ کے مطابق ان کا سال پیدائش 1929ءہے۔اس حساب سے انہوں نے65سال عمر پائی۔اُن کے بڑے بھائی مقصود صاحب کے بقول اُن کی عمر سترسال تھی۔جب کہ ان کے کلاس فیلو جو مجھے پتوکی میں ملے،اُن کی عمرارسٹھ سال بتاتے تھے۔مولانا کی اپنی یادداشتوں میں کسی ڈائری میں1925ءلکھا گیا ہے،ہم نے اسی کو مستند قرار دیا ہے۔بہرحال مولانا خلیل حامدی صاحب نے حےات مستعارکا ےہ پورا عرصہ بھرپور انداز میں گزارا، کوئی لمحہ ضائع کیا،نہ ضرورت سےزیادہ جسم کو آرام و راحت کا خوگر بننے دیا۔جہد مسلسل کا دوسرا نام خلیل حامدی تھا۔
پرکشش شخصیت:۔
میں نے غالباً 1965ءمیں مولانا خلیل حامدی مرحوم کو پہلی مرتبہ دیکھاتھا۔میں اس وقت گورنمنٹ کالج لاہور میں بی اے کا طالبعلم تھااور مولانا اچھرہ میں دارالعروبہ میں مصروف عمل ہوتے تھے۔وہیں فیض الرحمن ہمدانی صاحب سے بھی ملاقات ہوتی تھی۔مولانا حامدی صاحب کی شخصیت پرکشش اور جاذب نظر تھی پہلی ہی ملاقات میں،میں ان سے متاثر ہو گیا تھا۔اس زمانہ میں”ایشیا“اور”ترجمان القرآن “میں جن لوگوں کی تحریریں مجھے بہت پسند تھیں اُن میں محترم مولانا خلیل حامدی صاحب کا نام سرفہرست تھا۔مجھےیادہے کہ میں نے ان کے بعض مضامین کے حوالے سے ان کی تعریف کی تو انکساری سے فرمانے لگے”یہ تحریک اسلامی ہی کا کمال اور سید مودودی کا فیضان ہے۔
محترم مولانا خلیل حامدی صاحب کو جاننے والے ملک اور بیرون ملک میں لاکھوں نہیں کروڑوں انسان ہیں۔بے شمار لوگوں نےدنیا کی مختلف زبانوں میں ان کے بارے میں اپنے مضامین میں اظہار خیال کیا ہے اور کرتے رہیں گے۔سچی بات ہے کہ عرب دنیا میں تو ان کے لاتعداد چاہنے والے ان کی اچانک موت پر اس قدرغمزدہ ہیں کہ ایک دوسرے سے لپٹ کر باہمی تعزیت کرتے نظر آتے ہیں۔انسانوں کی سوانح عمریاں لکھنے کا ایک لگا بندھاانداز ہوتا ہے اور ان کی جدوجہد میں بلا شبہ سن و سال اور شخصی پس منظر کو کلیدی حیثیت حاصل ہوتی ہے،اصل اور قابل لحاظ چیز تو انسان کے کارنامے ہوتے ہیں۔میں بھی ان سطورمیں مرحوم کی کاوشوں پر اپنی توجہ مرکوز کرنا چاہتا ہوں۔اس ضمن میں ان کے بعض منفرداوصاف اور مثالی کردار کی جھلکیاں زیادہ مفید ہوں گی۔
نماز میں خشوع وخضوع:۔
مولانا خلیل حامدی کی جس صفت نے مجھے سب سےزیادہ متاثر کیا وہ ان کا نمازوں میں شغف ، خشوع وخضوع اور تکبیر اولیٰ پانے کا شوق تھا۔منصورہ مسجد میں اگر ان کو امام کے پیچھے کھڑا ہوا نہ پاتے تو ہم یقین کرلیتے کہ مولانا منصورہ میں موجود نہیں ہیں۔جناب سید منور حسن اور عبدالرحمن صابر قرنی (اب وہ بھی مرحوم ہو چکے ہیں،اللہ تعالیٰ ان کے درجات بھی بلند فرمائے۔)بھی اس صفت سے متصف ہیں۔مولانا مرحوم کو عربی زبان پر عبور تو حاصل تھا ہی،قرآنی اور مسنون دعاؤں کا ذخیرہ بھی ان کے پاس قابل رشک تھا۔پھر دعا مانگتے وقت وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو جاتے تھے۔کبھی آنکھوں سے آنسو بھی نکل آتے تھے۔حرم مکہ اور مسجد نبوی میں،میں نے مولانا مرحوم کو ماہی بے آب کی طرح تڑپتے بھی دیکھا ہے اورامید و رجا سے انہیں خوش وخرم حالت میں بھی پایاہے ۔وہ اب ہمارےدرمیان نہیں ہیں مگر ان کی یادیں ہمیشہ چراغوں کی طرح دلوں کے طاقوں میں روشن رہیں گی اور مسافران راہ وفا کو ان کی منزل کا پتہ دیتی رہیں گی۔
صحت کا راز:۔
کئی سال قبل میں مشرق وسطیٰ کے سفر کے دوران مرحوم کےساتھ کویت گیااورایک اعلیٰ درجے کے ہوٹل میں مقیم تھا۔رات کو ہم لوگ ایک پروگرام سے واپس دیر سے پہنچے۔ مولانا فرمانے لگے”اب تھک جاتا ہوں،بس کوچ کا وقت قریب ہے. .. .....“میں نے عرض کیا”آپ تو بہت نشیط اور تندرست ہیں،جوانوں سےزیادہ پھرتیلے اور بھاگ دوڑ کرنے والے ہیں۔آپ کی صحت کا راز کیا ہے!“مولانا نے ٹھنڈی آہ بھری اور کہا”میں نے بڑے مشکل وقت دیکھے ہیں،میرا یہ اصول رہا ہے کہ کھانا خواہ کتنا ہی لذیذ کیوں نہ ہو ،سنت کے مطابق پیٹ کا ایک حصہ ضرور خالی رکھا جائے، یہی میری صحت کا واحد راز ہے۔“جن لوگوں کی نظریں اعلیٰ مقاصد اور توجہ حقیقی منزل پر ہو وہ لذت کام و دہن سے کہاں دل لگاتے ہیں۔
حدیثِ دل کسی درویش بے کلیم سے پوچھ
خدا کرے تجھے تیرے مقام سے آگاہ!
امیدوں کے چراغ جلانے والا:۔
انسان کی صحت کادورومدار اس کے جسم اور ڈیل ڈول،بھاری بھرکم وزن اور لحم وشحم کی فراوانی پر نہیں بلکہ اس کی توانائی،پھرتی،تحرک پر منحصر ہوتا ہے۔ مولاناخلیل حامدی صاحب کے دبلے پتلے جسم میں بلا کی قوت تھی۔وہ کبھی تھک ہار کر بیٹھ رہنے کے قائل نہ تھے۔اعلیٰ پائے کا دماغ،بلا کا حافظہ،نہایت قوی و جری دل اور بے پناہ قوت ارادی سے مالامال یہ شخص زندگی بھر پر امید رہا۔ مایوسی انسان کا سب سے بڑا مرض ہے جو اس کی تمام قوتوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔مایوس انسان کبھی کوئی میدان نہیں مار سکتا۔ مولانا خلیل حامدی ہمیشہ دلوں میں امیدوں کے چراغ جلایا کرتے تھے۔ہم نے بارہا دیکھا کہ کسی وقتی صدمے سے لوگ نڈھال ہیں،کارکن پریشان اور قائدین فکر مند ہیں،سوچا جا رہا ہے کہ اب کیا کریں کہ اچانک مولانا خلیل حامدی صاحب نمودار ہوئے،انہوں نے ایسی حوصلہ افزا تصویر پیش کی کہ لوگوں کی مایوسیاں امید میں بدل گئیں۔
قائد تحریک کا خراج تحسین:۔
مولانا خلیل احمد حامدی کی پوری دنیا کے حالات پر گہری نظر رہتی تھی۔وہ مشرق و مغرب میں بذات خود سفر بھی کرتے اور مواصلاتی رابطوں،اخبارات و رسائل اور خطوط کے ذریعے تازہ بتازہ احوال سے با خبر رہنے کی مسلسل کوشش کرتے۔بقول قاضی حسین احمد صاحب”مولانا خلیل احمد حامدی صاحب دنیابھر سے روشنی کی کرنیں جمع کرتے اور کارکنان جماعت کے سامنے پیش کر دیتے تھے۔“ حقیقت یہ ہے کہ اس ایک مختصر سے فقرے میں قائد تحریک نے اپنے مرحوم ساتھی کو جو خراج تحسین پیش کیا ہے،وہ طویل مضمون پر بھاری ہے۔میں پوری ذمہ داری کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ امیر جماعت کے الفاظ میں کوئی مبالغہ نہیں۔ مرحوم کی یہ صفت ان کا ہر قریبی ساتھی تسلیم کرتا ہے۔
شیریں مقال،خوش خصال:۔
ہماری مجالس میں جو امور زیر بحث آتے ہیں ان کی نوعیت مقامی،قومی اور عالمی ہوتی ہے۔ بعض اوقات ذاتی اور شخصی امور بھی موضوع گفتگو بن جاتے ہیں۔بحث کے دوران اختلاف رائے فطری بات ہے۔اختلاف رائے کا اظہار ہر شخص اپنی طبع ،مزاج اورصلاحیت کے مطابق کرتا ہے۔کوئی شخص بات نرم الفاظ میں کہنے کا حوصلہ رکھتا ہے تو کسی کو نرم بات کےلیے بھی سخت الفاظ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔مولانا خلیل احمد حامدی مرحوم کا اپنا منفرد انداز تھا۔وہ تمام معاملات کے نوٹس تیار کرتے ،بحث میں حصہ لینے والوں کے دلائل پر غور کرتے ،اپنا نقطہ نظر پیش کرتے وقت تاریخی حوالوں سے اپنی بات کو مضبوط بناتے اور جہاں ضرورت پڑتی لوگوں سے جذباتی اپیل بھی کرتے۔ان کا لب و لہجہ بڑا نستعلیق اور شیریں ہوتا تھا۔شخصی اور ذاتی امور میں وہ بہت زیادہ رکھ رکھاؤ اوراحتیاط برتتے،تمام دوستوں کےلیےنرم اور میٹھے الفاظ استعمال کرتے،تاہم اجتماعی معاملات میں کبھی شدت اور زورِ خطابت بھی اختیار کر لیتے تھے۔ قرآن و سنت اور اقوال اٰئمہ پر مرحوم کی گہری نظر تھی۔ تقریر اور گفتگو میں موتیوں کی طرح تاریخی واقعات جڑتے چلے جاتے اور سامعین کو مسحور کر دیتےتھے۔
معلومات و معمولات:۔
میں نے مولانا کے ساتھ کویت ،سعودی عرب، سوڈان، کینیا،عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کا سفر کیا ہے۔مولانا کو عربی زبان پر جو دسترس حاصل تھی اس پر عرب بھائی بھی رشک کرتے تھے۔مولانا کا حافظہ بڑا تیز تھا،نام یادرکھنے اور احباب کے شخصی احوال تک سے باخبر رہنے کا ملکہ خداداد تھا،جوکہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔سفر میں،میں نے دیکھا کہ مولانا بہت کم کھاتے اور بہت کم سوتے تھے۔رات کو چار پانچ گھنٹے اور دن کو آدھ گھنٹہ ان کی نیند کا معمول تھا۔ وہ ہر وقت تروتازہ اور ہشاش بشاش رہتے تھے۔رات کو دن بھر کی یادداشتوں کے نوٹس تیار کر لیتے تھے اور صبح انہیں باقاعدہ مرتب صورت میں تحریر کر لیتے تھے۔سفر کے پیچیدہ معاملات سے بھی مولانا پوری طرح باخبر رہتے تھے۔اکثر و بیشتر ٹریول ایجنسیوں کے مالکوں کو بھی وہ معلومات نہ ہوتی تھیں جو مولانا کے پاس سے مل جاتی تھیں۔مولانا خلیل احمد حامدی کا شعری ذوق بھی بہت بلند تھا۔عربی،فارسی اور اردو کے ہزاروں اشعار یاد تھے جن سے ہر موقع پر برجستہ استفادہ فرمایا کرتے تھے۔لطیفے،چٹکلے اور مزاحیہ فقرات میں مولانا اپنا ثانی نہ رکھتے تھے۔دوستوں کی محفل میں ان کی گفتگو سے دلوں کی بند کلیاں کھل جاتی تھیں۔وہ محفل کو کشت زعفران بنادینے کے ماہر تھے۔اپنے ذاتی واقعات اوریادگار حادثات اس انداز میں سناتے کہ سامعین پر ایک عجیب وجدوکیفیت طاری ہو جاتی تھی۔مرحوم بے پناہ خوبیوں کے مالک تھے۔
منکسر،سربلند:۔
مولانا خلیل احمد حامدی اپنے بچپن اور عسرت کے واقعات بھی بے تکلف دوستوں اور بالخصوص مشکل حالات سے دوچار احباب کو سنایاکرتے تھے۔وہ منہ میں سونے کا چمچہ لے کر نہیں پیدا ہوئے تھے۔انہوں نے جوشہرت پائی ،اپنی ذاتی خوبیوں کی بدولت پائی اور ذاتی محنت سے اپنا مقامِ بلند حاصل کیا۔دنیا کے حکمرانوں اور VIPشخصیات سے ان کے ذاتی مراسم تھے،مگر ان چیزوں سے نہ تو ان میں احساس برتری پیدا ہوا اور نہ کبھی وہ بہکے۔اپنےروایتی انکسار اور درویشی کو آخری دم تک نبھایا۔جماعت کے تینوں امرا،مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ،میاں طفیل محمد اور قاضی حسین احمد کے قریبی اور معتمد ساتھی رہے مگر عام کارکنوں سے ہمیشہ برادرانہ اور مشفقانہ سلوک روا رکھتے تھے۔اپنے بچپن کے واقعات سناتے تو اپنی غربت اور مشکلات کو کبھی نہ چھپاتے۔ان کو اللہ نے عظیم قلب وجگردیاتھا۔وہ بڑا انسان بننے کے باوجود احساس برتری کے مرض سے محفوظ رہے۔اسی طرح اپنے دور افلاس و حرمان سے انہیں کبھی احساس کمتری لاحق نہ ہوا تھا۔مدرسوں میں تعلیم اور اس کے بعد تدریس کا تذکرہ ان کے اکثر سوانح نگاروں نے کیا ہے۔وہ خود بھی اس دور کے قصہ ہائے پارینہ کویاد کرکے محظوظ ہوا کرتے تھے۔مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے والے ایک طالب علم کو اللہ نےیہ مقام و مرتبہ بخشا کہ اس نے عالمی سطح کے اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کیے، دنیابھر میں مدارس و مساجد کا جال پھیلا دیااور علم کے چشمے جاری کردیے۔یہ اللہ کی دین ہے وہ جسے چاہے اور جتنا چاہے عطا فرمائے۔
کرم تیرا کہ بے جوہر نہیں میں
غلامِ طغرل و سنجر نہیں میں
صاحب کتب:۔
جب بھی میری کوئی کتاب چھپ کر آتی تو میں مولانا کی خدمت میں ہدیہ پیش کرتا وہ بہت خوش ہوتے اور حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔ان کا اپنا معمول بھی یہ تھا کہ اپنی اور ادارہ معارف اسلامی کے زیر اہتمام چھپنے والی دیگر اہل قلم کی کتب مجھے تحفتاً عطا فرماتے تھے۔ہماری حیثیت ان کے سامنے مبتدی کی تھی مگر وہ ہمیشہ حوصلہ افزائی فرمایا کرتے تھے۔وہ خود تو صاحبِ علم اور صاحبِ کتاب تھے۔
مولانا کی کتب متنوع اور مقبول عام ہیں۔انہوں نے مختلف موضوعات پر لکھا اور ہر موضوع کا حق ادا کیا۔عربی سے اردو اور اردو سے عربی میں تراجم بھی کیے اور مولانا مودودی کے مضامین اور تحریروں کو مدون و مرتب بھی کیا۔ابھی ان کی بہت سی کاوشیں منظرِ عام پر نہیں آسکیں البتہ جو اب تک چھپ چکی ہیں ان کا مختصر جائزہ ہفت روزہ”ایشیا“ میں ان کے معتمد ساتھی اور معاون برادر عزیز قاری منہاج الدین صاحب نے پیش کردیا تھا۔اس کے مطابق:
تصنیفات: اردومیں
- ۔ عالم اسلام اور اس کے افکار و مسائل۔
- ۔ ترکی قدیم و جدید۔
- ۔ سرخ اندھیروں میں۔
- ۔ جہاد اسلامی۔
- ۔ اخوان المسلون تاریخ اور دعوت۔
- ۔ آفاق دعوت - دس ممالک کے سفروں کی روداد۔
- ۔تحریکی سفر کی داستان بیرونی سفروں کی روداد۔
- ۔ تحریک اسلامی کے عالمی اثرات۔
- ۔ بوسنیا جغرافیہ،تاریخ اور داستان جہاد۔
- ۔ حج کی تےاری سے واپسی تک۔
تراجم عربی سے اردو
-
جادہ و منزل:سید قطب کی کتاب،”معالم فی الطریق “کا ترجمہ
-
حسن البنا کی ڈائری: امام حسن البنا کی کتاب ”مذاکرات الدعوة و الداعی “کا ترجمہ
-
اسرائیل کی تعمیر میں اشتراکی ممالک کا کردار:ڈاکٹر حمد الشریفی کی کتاب کا ترجمہ
-
نظام اسلامی ،مشاہیر کی نظر میں:دور حاضر کے مختلف اہل علم کے مقالات کا ترجمہ
-
اذکار مسنونہ:ابن قیم کی کتاب ”الوابل الصیب“کے ایک حصے کا ترجمہ حواشی وتخریج مترجم کی طرف سے ہے
-
روداد ابتلا:مصر کے احمد رائف کی کتاب ”البوبۃ السودائی“ کا ترجمہ یہ کتاب ان کی جیل کی روداد ہے
-
روداد قفس:زینب الغزالی کی کتاب”ایام من حیاتی“کا ترجمہ۔اس میں بھی موصوفہ نے اپنی جیل کی کہانی بیان کی ہے۔
-
جدیدنظریات کی ناکامی اور اسلامی نظام کی ضرورت: الجزائر کے اسلامک سالویشن فرنٹ کے صدر ڈاکٹر عباسی مدنی کی کتاب ”ازمۃ الفکر الحدیث و ضرورة الحل الاسلامی“ کا ترجمہ۔
۔بدیع الزمان سعیدنورسی:شام کے ایک عالم دین شیخ محمد سعید رمضان البوطی کی کتاب”حیاۃبدیع الزمان“ کا ترجمہ۔
ترتیب و تدوین اردو میں
-
تحریک اور کارکن : مولانا مودودی کے متفرق مضامین کارکنوں کی سہولت کےلیے مرتب کیےگئے۔اس کی نگرانی خود مرحوم نے کی۔
-
عصر حاضر میں امت مسلمہ کے مسائل اور ان کا حل : عالم اسلام کے مختلف مسائل پر مولانا مودودی کی تحریریں تاریخ و ترتیب کےساتھ یکجا کر دی گئیں ہیں۔
- :صدائے رستاخیز
مولانا مودودی کے سہہ روزہ”الجمیعت“دہلی میں1952ءمیں تحریرکیے گئے اداریئے و مقالات وتجزیے۔
-
بانگ سحر
مولانا مودودی کے سہ روزہ ”الجمعیت“ دہلی میں1926ءمیں تحریرکیے گئے اداریے، مقالے اور تجزیے۔:
-
آفتاب تازہ
1927 میں ”الجمعیت“ دہلی میں چھپنے والے مولانا مرحوم کے اداریے اور مضامین۔
-
جلوہ نور
1928میں ”الجمعیت“ دہلی میں شائع ہونے والے مولانا مودودی کے اداریےاور مضامین۔
۔تراجم عربی میں
مولانا مودودی کی متعدد کتابوں اور مقالات کا اردو سے عربی ترجمہ کیا۔
مولانا مرحوم کے پیش نظر بہت سے علمی کام تھے مگر قدرت نے ان کو موقع نہ دیا۔ جتنا عرصہ ان کو مہلت ملی اسے انہوں نے بہترین انداز میں استعمال کیا۔اس قدر سفر کرنے والا اور مشغول رہنے والا کوئی شخص اتنا علمی ،تحقیقی اور ادبی کام نہیں کرسکتا جتنا اللہ تعالیٰ نے مولانا حامدی مرحوم و مغفور سے لیا ہے۔ انہیں تحریک ا سلامی اور اس کے تعارف کو عام کرنے کا جنون تھا۔وہ عاشق صادق تھے۔اقبال کے بقول۔
مجھے عشق کے پر لگا کر اڑا
میری خاک جگنو بنا کر اڑا
معطریادیں:۔
مولانا حامدی مرحوم ہم سے بچھڑ کر چلے گئے مگر ان کی یادیں کبھی دلوں سے محو نہیں ہو سکتیں۔ہر مجلس اور ہر محفل میں ان کا تذکرہ آتا ہے،دلوں میں اداسی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں اور زبانوں پہ دعائے مغفرت کے الفاظ جاری ہوجاتے ہیں۔ مولانا کی وفات کے بعد ہم جس مجلس میں بھی بیٹھے مختلف حوالوں سے ان کا ذکر خیر ہوتا رہا۔ 19دسمبر1994ءکو مرکزی مجلس عاملہ اور20تا23 دسمبر مجلس شوریٰ کے اجلاس میں بارہا ان کا اسم گرامی رونق محفل رہا۔ان کی تقاریر اوراظہار خیال کے ضمن میں شوریٰ کی رودادوں میں باربار ان کا ذکر آتا رہا۔ہر مرتبہ ان کا نام سننے پر اکثر ارکان مجلس کی زبانوں پر مغفرت کی دعائیں آجاتیں۔میں تو بارہا اشکبار ہوا۔ بچھڑنے والے میں بے پناہ خوبیاں تھیں۔وہ ایسا خلا چھوڑ گیا ہے کہ اسے پر کرنے والا کوئی ہمارےدرمیان موجود نہیں ہے۔
مولانا مرحوم عربی زبان کےمایہ ناز ادیب اور شعلہ نوا خطیب تھے۔اردو میں بھی وہ اتنا اچھا لکھتے تھے کہ ان کے چاہنے والے ان کی تحریروں کو شوق و محبت سے پڑھتے ہیں۔مجھے جن ادیبوں اور مصنفوں کی تحریریں مرغوب و محبوب ہیں ان میں مولانا حامدی کا نام نامی سرفہرست لوگوں میں شامل ہے۔مجھےیہ شرف بھی حاصل ہوا کہ مولانا حامدی صاحب کے ساتھ بعض کتب کے بارے میں تبادلہ خیال کے نتیجے میں باہم طےپایا کہ کس کتاب کا عربی سے میں ترجمہ کروں اور کس کتاب کا وہ ترجمہ کریں ۔سید عمر تلمسانی کی دو کتابوں کا میں نے ترجمہ کیا۔ان کے بارے میں مولانا فرمایا کرتے تھے کہ وہ خود ان کتب کا ترجمہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے مگر میں نے اس کام کا آغاز کیا اور ان کے علم میں آیاتو میری حوصلہ افزائی فرمائی اور کہا”مجھے خوشی ہے کہ آپ نے اس کام کا بیڑہ اٹھایاہے۔“
صدقاتِ جاریہ:۔
حدیث پاک کے مطابق ہر انسان کی موت کے بعد اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے مگر تین قسم کے اعمال موت کے بعد بھی انسان کےلیے نافع ہوتے ہیں۔علم دین جو لوجہ اللہ پھیلایا،صدقہ جاریہ جو مخلوق خدا کےلیےاپنے پیچھے چھوڑا، اولاد صالح جو نیک عمل کرے اور والدین کےلیےدعا کرے۔مولانا خلیل احمد حامدی صاحب کو ان تینوں مدات میں نیکیاں حاصل ہو رہی ہیں۔انہوں نے زندگی بھر خود بھی دین کا علم لوگوں تک پہنچایا اور پاکستان و بیرون ملک ایسے تعلیمی ادارے قائم کرائے جو کتاب و سنت کی روشنی پھیلا رہے ہیں۔انہوں نےدنیا بھرکے مظلوم مسلمانوں کےلیےمخیر حضرات کی مدد سےرہائش،پانی،بجلی اور دیگر سہولیات ،ہر قسم کے رفاہی اداروں، ہسپتال و کلینک کا اہتمام کیا۔انہوں نے اپنے پیچھے کثیر اولاد چھوڑی ہے جن کے نیک اعمال ان کے حق میں نافع ہیں۔ان کے بیٹوں اور بیٹیوں میں کئی ایک حفاظ ہیں اور کئی ایک اس وقت حفظ میں مشغول ہیں۔ مساجد کی تعمیر و آباد کاری مولانا حامدی مرحوم کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ان کی تعمیر کردہ مساجددنیا کے مختلف حصوں میں آج بھی انکی یادتازہ کر دیتی ہیں۔
مسجد منصورہ اور مرحوم:۔
جامع مسجد منصورہ کی تعمیر و تزئین میں انہوں نے خصوصی شغف اور دلچسپی کااظہار کیا،مسجد میں ہر نماز کے وقت وہ سب سے پہلے آنے والے نمازیوں میں سے ہوتے تھے۔جیسا کہ پہلے لکھا گیا ہے کہ جماعت میں امام کے پیچھے مولانا حامدی صاحب لازماً نظر آتے۔اگر کبھی نظر نہ آتے تو معلوم ہوتا کہ وہ منصورہ میں موجود نہیں ہیں۔ایسے شاید کبھی نہ ہوا ہو کہ منصورہ میں موجود ہونے کے باوجود وہ پہلی صف میں کھڑے نہ ہوں۔اس مسجد کے دو دیگر نمازی جناب سید منور حسن اور محترم صابر قرنی صاحب ہیں جو صف اول میں امام کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں۔میں اب ان دونوں بزرگوں کو دیکھتا ہوں تو بچھڑ جانے والے بزرگ مجھے بے تحاشا یاد آتے ہیں۔اللہ ان دونوں کو سلامت رکھے۔
مولاناحامدی صاحب کی وفات کے بعد بے شمار احباب نے ان کی تعزیت کے لیے خط لکھے،فون کیے،تار بھیجےیا خود تشریف لائے۔ہر شخص کی تعزیت کا اپنا انداز ہوتا ہے۔بعض دیہاتی اور سادہ لوح کارکنان نے بہت ہی موثر انداز میں اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ایک دوست صوبہ سرحد سے تشریف لائے اور مجھ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئےفرمایا:یارااس کے بغیر بھی مسجدویران اور اداس نظر آرہی ہے۔“ یہ حقیقت ہے کہ مسجد میں ان کی عدم موجودگی ہر نماز میں شدت سے محسوس ہوتی ہے۔
مولانا خلیل حامدی صاحب بہت رقیق القلب انسان تھے۔ہر نماز کے بعد اس قدر عجز و الحاح کے ساتھ دعا کرتے کہ پاس بیٹھا ہوا انسان بھی اس کی اثر آفرینی سے حصہ پالیتا۔میں نے مرحوم کے ساتھ کئی عمرےکیے۔طواف کے دوران وہ ایسی دعائیں پڑھتے کہ ان کی قبولیت کایقین ہو جاتا۔کعبہ کے غلاف سے چمٹ کر اس قدر روتے اور اتنی دعائیں مانگتے کہ ایک ناقابل فراموش کیفیت دلوں پر طاری ہو جاتی۔میں نے ان کی زندگی میں کئی باریہ منظر دیکھے ہیں اور آج تک دل ودماغ میں تازہ ہیں۔
مولانا سے آخری ملاقات ان کی وفات سے چند گھنٹے قبل ہوئی۔میں نماز عصر پڑ ھ کر مسجد سے نکلا تو ضلع خانیوال کے دو ساتھیوں نے کہا کہ مولانا خلیل حامدی صاحب سے کام ہے۔میں ان کو ساتھ لے کر دفاتر کی طرف آرہا تھا کہ مین دروازے کے باہر مولانا کھڑے تھے۔مجھے دیکھ کر فرمانے لگے”آپ ہی کے انتظار میں کھڑا تھا۔“ میں نے عرض کیا”ارشاد فرمایئے“ کہنے لگے”اخبارات میں جماعت کے خلاف خبریں آرہی ہیں کہ لوگ جماعت کو چھوڑ کر نئی جماعت (تحریک اسلامی)میں جا رہے ہیں۔اس کی حقیقت کیا ہے؟“میں نے ان کوبتایا کہ اس میں حقیقت تو کچھ زیادہ نہیں البتہ صحافتی کمال ضرور ہے۔پھر میں نے مختلف مقامات کے تفصیلی احوال عرض کیےتو مطمئن ہو گئے۔اسی رات عشاءکی نماز کے بعد اپنے گاؤں گئے جہاں سے واپسی پر ٹریفک کے حادثے میں زخمی ہوئے اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔
حافظ محمد ادریس